فَصْلٌ، اَلْقِيَاسُ الشَّرْعِيُّ هُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ فِي غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ عَلَى مَعْنًى هُوَ عِلَّةٌ لِذَالِكَ الْحُكْمِ فِي الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّمَا يُعْرَفُ كَوْنُ الْمَعْنَى عِلَّةً بِالْكِتَابِ وَبِالسُّنَّةِ وَبِالْإِجْمَاعِ وَبِالْإِجْتِهَادِ وَابِالِاسْتِنْبَاطِ۔
مصنف نے گزشتہ فصل میں قیاس کی شرائط ذکر کر دیں بھئی۔ اب قیاسِ شرعی کی وہ تعریف کریں گے اور تعریف جو میں آپ کو پہلے بتلا چکا ہوں۔ تعریف کریں گے اور اس کا رکن کے بارے میں بحث کریں گے۔ یاد رکھو قیاس کا رکن صرف علتِ متحدہ ہے بھئی۔ قیاس کا رکن کیا ہے؟ علتِ متحدہ ہے، اس کے بارے میں بحث کریں گے۔
تو سب سے پہلے تعریف کرنے لگے ہیں مصنف قیاس کی۔ تو وہ فرماتے ہیں "اَلْقِيَاسُ الشَّرْعِيُّ هُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ فِي غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ" قیاسِ شرعی جو ہے وہ حکم کا مرتب ہونا ہے غیر منصوص علیہ میں "عَلَى مَعْنًى" معنیٰ کا ترجمہ کریں وصف سے بھئی۔ معنیٰ سے کیا معنیٰ ہے بھئی؟ وصف بھئی۔ وہ حکم کا مرتب ہونا ہے غیر منصوص علیہ میں "عَلَى مَعْنًى" ایسے وصف کی بنا پر، آگے "هُوَ عِلَّةٌ" آ رہا ہے، یہ صفت ہے جملہ مولانا۔ کیونکہ جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں۔ اور "مَعْنًى" موصوف یہ بھی نکرہ، آگے جملہ آیا وہ بھی نکرہ، یہ موصوف صفت بنیں گے بھئی۔ اس لیے میں نے موصوف سے پہلے "ایسے" کا لفظ کہا بھئی۔ تو وہ حکم کا مرتب ہونا ہے غیر منصوص علیہ میں "عَلَى مَعْنًى" ایسے وصف کی بنا پر "هُوَ عِلَّةٌ" کہ وہ علت ہو "لِذَالِكَ الْحُكْمِ" اس حکم کی "فِي الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ" کس کے اندر؟ منصوص علیہ میں بھئی، منصوص علیہ میں۔
کیا تعریف کی بھئی انہوں نے قیاس کی؟ کہ غیر منصوص علیہ میں حکم کا مرتب ہونا۔ منصوص علیہ جس کے بارے میں نص آئی ہو۔ غیر منصوص علیہ جس کے بارے میں نص نہ آئی ہو۔ تو منصوص علیہ کیا ہوا؟ وہ اصل ہے۔ کیا ہے؟ اصل، اور غیر منصوص علیہ کیا ہے؟ فرع۔ یا یوں کہیں منصوص علیہ جو ہے وہ ہے مقیس علیہ بھئی۔ کیا ہے؟ مقیس علیہ، اس پر قیاس کرتے ہیں۔ اور غیر منصوص علیہ وہ کیا ہے؟ مقیس ہے، یعنی اس کو کیا کرتے ہیں؟ قیاس کرتے ہیں بھئی۔
تو قیاس کی مصنف نے تعریف کی بھئی، وہ حکم کا مرتب ہونا ہے غیر منصوص علیہ میں "عَلَى مَعْنًى" ای علی وصفٍ ایسے وصف کی بنا پر جو کہ علت تھا اسی حکم کی کس کے اندر؟ منصوص علیہ میں۔ یعنی منصوص علیہ میں یعنی اصل، اصل کے اندر جو وصف حکم کی علت تھا، کیا تھا؟ اصل کے اندر جو وصف حکم کی علت تھا، اسی وصف کی بنا پر غیر منصوص علیہ میں یعنی فرع کے اندر بھی وہی حکم مرتب کرنا بھئی۔ وہی حکم کیا کرنا؟ مرتب کرنا۔ بھئی منصوص علیہ اصل پر ایک حکم لگایا گیا ہے اور اس حکم کی علت کوئی وصف ہے۔ وہی وصف غیر منصوص علیہ یعنی فرع کے اندر بھی پایا گیا، تو فرع پر بھی ہم نے کون سا حکم لگا دیا؟ وہی منصوص علیہ یعنی اصل والا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
مثلاً بھئی شراب جو ہے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ شراب کو کیا قرار دیا گیا ہے؟ حرام قرار دیا گیا ہے، یہ منصوص علیہ ہے بھئی۔ اور حکم اس پر کیا ہے؟ حرام ہونے کا۔ وہ کیا وصف ہے جس کی بنا پر اس پر حرام ہونے کا حکم لگا ہے؟ نشہ آور ہونا۔ تو شراب کے اندر نشہ آور ہونے کا وصف پایا گیا۔ اس وصف کی بنا پر اس پر کیا حکم لگایا گیا؟ حرام ہونے کا حکم لگایا گیا۔ تو نشہ آور ہونا ایک وصف ہے اصل کے اندر جس کی بنا پر اس پر کیا حکم لگایا گیا ہے؟ تو گویا یہ وصف، یہ جو نشہ آور ہونا، یہ علت ہے کس چیز کی؟ حرام ہونے کی۔ کس چیز کی؟ حرام ہونے کی۔ اب اسی وصف کی بنا پر غیر منصوص علیہ میں بھی یہی حکم لگانا۔ یعنی ایک غیر منصوص علیہ، ایک دوسری چیز ہے، اس میں بھی یہی وصف پایا گیا۔ کس چیز کا؟ کہ وہ بھی کیا ہے؟ نشہ آور ہے۔ اور نشہ آور ہونے کا وصف یہ تو علت تھا کس چیز کی؟ حرام ہونے کی۔ تو اس فرع پر بھی کیا حکم لگا دیا جائے گا؟ حرام ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔
بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ بھئی قیاس کی ایک تعریف میں نے آپ کو پہلے بھی لکھوائی تھی، باب کے ابتداء کے اندر بھئی، کہ "تَعْدِيَةُ الْحُكْمِ مِنَ الْأَصْلِ إِلَى الْفَرْعِ بِعِلَّةٍ مُتَّحِدَةٍ بَيْنَهُمَا" بھئی۔ تو قیاس کی یہ بھی تعریف، یہ یاد کر لیں چاہے یا وہ یاد کر لیں۔
اس تعریف کے ذریعے مصنف نے اپنے مختار مذہب کی طرف اشارہ کر دیا۔ کس کی جانب اشارہ کر دیا؟ دراصل علماء کے دو گروہ ہیں، علماء میں اختلاف ہے بھئی، دو گروہ ہیں۔ اختلاف اس چیز میں ہے کہ منصوص علیہ میں حکم کیوں ثابت ہوا؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں منصوص علیہ میں حکم نص کی وجہ سے ثابت ہوا ہے۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ نص کی وجہ سے نہیں ثابت ہوا بلکہ علت کی وجہ سے ثابت ہوا ہے۔ کس کی وجہ سے؟ مثلاً شراب ہے، شراب پر کیا حکم لگایا گیا ہے؟ حرام ہونے کا۔ تو بعض علماء کہتے ہیں اس پر یہ جو حرام ہونے کا حکم لگا ہے یہ نص کی وجہ سے ہے، قرآن و حدیث میں چونکہ اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اس لیے یہ کیا ہے؟ حرام ہے۔ اس کے وجہ کیا ہے؟ نص۔ اور بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ شراب جو اصل ہے اس پر جو حرام ہونے کا حکم لگا ہے، وہ نص کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کس کی وجہ سے ہے؟ علت کی بنا پر ہے، نشہ آور ہونے کی بنا پر۔ سمجھ میں آیا؟
تو جو علماء فرماتے ہیں کہ منصوص علیہ میں حکم ثابت ہوتا ہے نص کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ نص کی وجہ سے، تو ان کے نزدیک یہ جو علت ہے یہ صرف فرع میں ثبوتِ حکم پر دلالت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ علت کس لیے ہے؟ علت کی وجہ سے منصوص علیہ میں حکم ثابت نہیں ہوا بلکہ کس کی وجہ سے ثابت ہوا ہے؟ جی؟ نص کی وجہ سے منصوص علیہ میں کیا ہے؟ حرمت کا حکم ثابت ہوا ہے، ثابت ہوا ہے۔
اور جب کہ علت کس لیے وضع ہے؟ وہ کہتے ہیں علت اس لیے وضع ہے تاکہ یہ دلالت کرے فرع میں ثبوتِ حکم پر۔ تاکہ یہ کس چیز پر دلالت کرے؟ تو یہ جو نشہ آور ہونے کی علت ہے اس لیے کس لیے وضع ہے؟ تاکہ کوئی غیر منصوص علیہ میں بھی یہ وصف پایا جائے تو اس پر بھی کیا کیا جا سکے؟ یہی حکم لگایا جا سکے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو منصوص علیہ میں کہتے ہیں یہ علماء کہ حکم نص کی وجہ سے ثابت ہوا ہے اور علت صرف اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ فرع میں بھی یہ حکم ثابت ہے۔ فرع میں بھی یہ حکم ثابت ہے۔
جب کہ وہ علماء جو یہ کہتے ہیں کہ حکم منصوص علیہ میں علت کی بنا پر ثابت ہوا ہے۔ دوسرا گروہ کیا کہتا تھا بھئی علماء کا؟ منصوص علیہ یعنی شراب کے اندر حرام ہونے کا حکم یہ نص کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کس بنا پر ہے؟ علت کی بنا پر ہے یعنی اس کے نشہ آور ہونے کی بنا پر ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ نص جو ہے وہ صرف پہچان کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ اس نے اس علت کی پہچان کروائی ہے، دراصل اس کے اندر حکم کس کی وجہ سے ثابت ہے؟ علت کی بنا پر۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو بس آپ یہ یاد رکھیں کہ علماء کے دو گروہ ہیں، بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ منصوص علیہ میں حکم کس کی بنا پر ثابت ہوتا ہے؟ نص کی وجہ سے، اور علت تو صرف کس لیے وضع کس لیے وضع کی گئی ہے تاکہ وہ دلالت کرے کہ فرع میں بھی یہ حکم ثابت ہے۔ جب کہ علماء کا دوسرا گروہ کیا کہتا ہے کہ منصوص علیہ میں حکم کس کی وجہ سے ثابت ہے؟ دراصل تو علت کی وجہ سے ثابت ہے اور یہ نص جو ہے وہ صرف اس علت کی پہچان کے لیے ہے، پہچان کے لیے اس سے اس نے بتلایا ہمیں کہ یہ علت ہے بھئی اس کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو مصنف نے بتلا دیا کہ ان کے نزدیک یہ دوسرے گروہ جو ہیں علماء کا ان کا مذہب پسندیدہ ہے، انہوں نے اس کے ان کے مذہب کو اختیار کیا، دیکھا؟ کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ دیکھیے تعریف سے پتہ چل رہا ہے "هُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ فِي غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ" وہ حکم کا مرتب ہونا ہے غیر منصوص علیہ میں "عَلَى مَعْنًى" ایسے وصف کی بنا پر "هُوَ عِلَّةٌ لِذَالِكَ الْحُكْمِ" کہ وہ علت ہے اس حکم کی کس میں؟ "فِي الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ" تو منصوص علیہ میں بھی یہی وصف کیا ہے؟ حکم کی علت ہے۔ تو معلوم ہوا ان کے نزدیک کون سے علماء کا مذہب پسندیدہ ہے؟ دوسرے کا۔
"ثُمَّ إِنَّمَا يُعْرَفُ كَوْنُ الْمَعْنَى عِلَّةً بِالْكِتَابِ وَبِالسُّنَّةِ وَبِالْإِجْمَاعِ وَبِالْإِجْتِهَادِ وَابِالِاسْتِنْبَاطِ" پھر پہچانا جائے گا اس وصف کا علت ہونا "بِالْكِتَابِ" کس کے ذریعے؟ کتاب اللہ کے ذریعے "وَبِالسُّنَّةِ" اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے "وَبِالْإِجْمَاعِ" اور اجماع کے ذریعے "وَبِالْإِجْتِهَادِ وَابِالِاسْتِنْبَاطِ" اور اجتہاد و استنباط کے ذریعے۔ اجتہاد و استنباط کا ایک معنیٰ ہے بھئی، عطفِ تفسیری ہے بھئی۔
تو قیاس کا رکن میں نے آپ کو بتلایا وہ علتِ متحدہ ہے۔ صرف ایک ہی رکن ہے اور وہ کیا علتِ متحدہ۔ اب اس علتِ متحدہ کا پتہ یا تو کتاب اللہ سے چلے گا یا حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے چلے گا یا اس کا پتہ اجماع سے چلے گا یا اس کا پتہ اجتہاد و استنباط سے چلے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کسی کوئی کسی حکم کی علت کیا چیز ہے؟ اس کا پتہ ہمیں علت کا پتہ ہمیں کس سے چلے گا؟ یا تو کتاب اللہ سے پتہ چلے گا یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پتہ چلے گا یا اجماع کے ذریعے اس کا پتہ چلے گا یا اجتہاد کے ذریعے۔ تو یہ جو علت ہوتی ہے حکم کی اس کا پتہ ان چار میں سے کسی ایک کے ذریعے چلتا ہے بھئی۔ اب ان سب کی مثالیں ذکر کریں گے مصنف بھئی۔
"فَمِثَالُ الْعِلَّةِ الْمَعْلُومَةِ بِالْكِتَابِ كَثْرَةُ الطَّوَافِ" پس مثال اس علت کی جو معلوم ہو کتاب اللہ جو معلوم ہوئی کتاب اللہ کے ذریعے وہ کثرتِ طواف ہے۔ وہ کیا ہے؟ کثرتِ طواف ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں بھئی سورہ نور کے اندر: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" یا ایہا الذین آمَنوا اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو "لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ" چاہیے کہ تم سے اجازت طلب کریں وہ جو کہ "مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ سورہ نور میں بھئی آیت نمبر 58 میں اللہ فرما رہے ہیں بھئی۔ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو "لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" چاہیے کہ تم سے اجازت طلب کریں وہ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں یعنی تمہارے غلام اور تمہاری باندیاں۔ "وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ" اور وہ لوگ جو تم میں سے حدِ بلوغ کو نہیں پہنچے یعنی جو ابھی بالغ نہیں ہوئے "ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" تین مرتبہ یعنی تین اوقات میں، تین اوقات۔ اے ایمان والو چاہیے کہ تم سے اجازت طلب کریں تمہارے غلام اور باندیاں اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تین اوقات میں بھئی اجازت طلب کریں۔ "مِن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ" صلاۃِ فجر سے فجر کی نماز سے پہلے ایک وقت تو یہ ہوا بھئی۔ "وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ" اور جس وقت تم اتار دیتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں، کیا کرتے ہو جس وقت دوپہر میں اپنے کپڑے؟ یہ دوسرا وقت ہوا جس میں اجازت لینا ضروری۔ "وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ" اور نمازِ عشاء کے بعد، نمازِ عشاء کے بعد۔ "ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ" یہ تین وقت تمہارے پردے کے ہیں، "ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ" یہ تین وقت کیا ہیں تمہارے پردے کے ہیں۔ "لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ" اور نہ ہی تم پر اور نہ ان پر کوئی حرج ہے ان تین اوقات کے بعد، "بَعْدَهُنَّ" ان تین اوقات۔ ان تین اوقات کے بعد تم پر اور ان پر کوئی حرج نہیں، کوئی گناہ نہیں ہے۔ "طَوَّافُونَ عَلَيْكُم" ای لانہم طوافون علیکم، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ وہ کیا ہیں تم پر؟ کثرت سے آنے جانے، تمہارے پاس کثرت سے آنے جانے والے ہیں۔ کثرت سے طواف کا کیا معنیٰ ہے؟ کثرت سے آنے جانے والا بھئی۔ اس لیے کہ وہ کثرت سے تمہارے پاس آنے جانے والے ہیں "بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ" کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس، یعنی ایک دوسرے کے پاس کثرت سے تم آنے جانے والے ہو۔ یہ آنے جانے۔
"كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ" اسی طرح اللہ تمہارے لیے بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں یا اپنے احکام "وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ" اور اللہ خوب جاننے والے اور حکمت والے ہیں۔
تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اے ایمان والو! اگر تمہارے غلام اور باندیاں اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے، وہ تمہارے پاس گھروں میں آتے ہوئے اجازت طلب نہ کریں تو ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ تو ان پر گھر اور جب وہ تمہارے پاس گھروں پر آتے جاتے ہیں تو وہ اگر اجازت طلب نہ کریں تو ان پر کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ وہ کثرت سے تمہارے پاس آنے جانے والے ہیں، بار بار آنا جانا پڑتا ہے ان کو۔ تو اب اگر وہ ہر مرتبہ اجازت طلب کریں تو اس میں حرج لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ حرج لازم آئے گا، بڑی مشکل ہو جائے گی بات تو پھر بھئی۔ صورت سمجھ، لہٰذا ان کے لیے ان کو اجازت ہے، وہ بغیر اجازت کے بھی آ جا سکتے ہیں۔ لیکن تین وقت ایسے ہیں کہ ان کے اندر، ان اوقات میں
انہیں بھی اجازت لینی چاہیے بھئی۔ انہیں بھی کیا؟ اجازت۔ بغیر اجازت کے نہیں آ سکتے۔ انہیں اجازت لینی چاہیے اس وقت بھئی۔ اور وہ تین اوقات کون سے بیان کیے اللہ تعالیٰ نے؟ ایک نماز فجر سے پہلے کا وقت ہے اور ایک دوپہر کا وقت ہے اور ایک عشاء کی نماز کے بعد کا وقت ہے بھئی۔
وجہ اس کی یہ مولانا کہ یہ تین اوقات انسان کے آرام کے ہیں۔ ان اوقات کے اندر انسان اپنے عام کپڑے اتار کر سونے والے کپڑے پہن لیتا ہے، نیند کے جن میں سوئے گا بھئی، وہ کپڑے پہن لیتا ہے اور اس حالت میں وہ کسی کے سامنے آنے کو کیا سمجھتا ہے؟ برا سمجھتا ہے، اچھا نہیں سمجھتا، کسی کے سامنے اس حالت میں نہیں آتا۔ تو یہ وقت ہیں انسان کے آرام کے، لہذا ان تین اوقات کے اندر اگر غلام یا باندھیاں یا نابالغ بچے بھی اگر داخل ہونا چاہیں، آنا چاہیں تو ان کو کیا کرنی چاہیے؟ اجازت لینی چاہیے۔ جبکہ باقی اوقات کے اندر ان سے اجازت کو کیا کر دیا گیا؟ ساقط کر دیا گیا کس لیے؟ دفع حرج کے لیے، کس لیے؟ دفع حرج کے لیے، حرج کو دور کرنے کے لیے بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ یہ مسئلہ بیان ہوا بھئی، یہ مسئلہ۔
تو یہاں پر دیکھیے علت کثرت طواف، کثرت سے آنے جانے کی وجہ سے کیا حکم لگایا گیا؟ دفع حرج والا۔ کس چیز کا؟ معلوم ہوا کثرت طواف علت ہے دفع حرج کی۔
کثرت طواف کیا ہے؟ علت ہے دفع حرج کی، جہاں بھی کثرت طواف پایا جائے گا، کثرت سے آنا جانا پایا جائے گا، وہاں کیا حکم لگایا جائے گا؟ دفع حرج کا، حرج کو دور کرنے کا حکم لگایا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب اسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیاس فرمایا۔ اب بلی ایک درندہ ہے مولانا، بلی کیا ہے؟ ایک درندہ ہے، درندہ۔ اور جب درندہ ہے تو یہ نجس ہے مولانا، جب یہ نجس ہے تو اس کا لعاب بھی کیا ہوا؟ نجس ہوا، کیونکہ لعاب بنتا ہے گوشت سے اور گوشت ہے نجس، تو لعاب بھی کیا ہوا؟ نجس۔ جب لعاب بھی نجس ہوا، تو اب لازمی بات ہے بلی اگر کسی برتن میں منہ ڈال دے، کوئی چیز پڑی ہو اس کو منہ لگا دے، پانی وغیرہ ہے یا کوئی، تو اس میں اس کے لعاب کا اثر پہنچے گا اور لعاب تو ہے نجس، لہذا اس چیز پانی وغیرہ پر بھی کیا حکم لگانا چاہیے؟ نجس ہونے کا حکم لگانا چاہیے۔ کیا حکم لگانا چاہیے؟ نجس ہونے کا حکم لگانا چاہیے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، حدیث میں ہے "الهرة ليست بنجسة" بلی نجس نہیں ہے۔ بلی نجس نہیں ہے "فإنها من الطوافين عليكم والطوافات" اس لیے کہ یہ تم پر بار بار آنے جانے والے، طوافين بار بار آنے جانے والے یعنی غلام، اور یہ بار بار آنے جانے والوں میں سے ہے یعنی انہی کی طرح ہے، غلام جو ہیں، والطوافات اور تمہارے پاس جو بار بار آنے جانے والیاں ہیں یعنی باندھیاں، کیا مراد ہیں؟ جیسے غلام اور باندھیاں کثرت سے آنے جانے والے ہیں، اسی طرح یہ بلی بھی کیا ہے؟ کثرت سے آنے جانے والی، تو کثرت طواف اس میں بھی پایا گیا، بلی میں بھی کیا پایا گیا؟ کثرت طواف کی علت پائی گئی بھئی۔
اس وجہ سے حضور علیہ السلام نے اس کے جھوٹے کو نجس قرار نہیں دیا۔ اس لیے کہ کثرت طواف کتاب اللہ سے ثابت ہوا کہ کثرت طواف علت ہے کس چیز کی؟ دفع حرج کی، جہاں بھی کثرت طواف پایا جائے وہاں کیا حکم لگایا جائے گا؟ دفع حرج والا حکم لگایا جائے گا۔ یہی علت بلی کے اندر بھی پائی گئی کثرت طواف والی، یہ بھی گھروں میں کثرت سے آنے جانے والی ہے بھئی۔
بلی کیا ہے؟ کثرت سے گھروں میں آنے جانے والی ہے، چیزوں میں کثرت سے منہ ڈال دیتی ہے بھئی، تو کثرت طواف کی علت کی بنا پر اب وہی حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کے لیے ثابت کر دیا؟ بلی کے لیے بھی اور اس کے جھوٹے کو نجس قرار نہیں دیا۔
اس لیے کہ بلی کے جھوٹے کو اگر نجس قرار دیا جاتا تو بڑا حرج لازم آتا مولانا، بڑا حرج لازم آتا بھئی، بلی تو ہر جگہ پہنچ جاتی ہے، کمروں میں گھس جاتی ہے، برتنوں میں منہ ڈالتی ہے مولانا، ہر ہر برتن میں منہ ڈال دیتی ہے، تو کس کس برتن کو انسان بچا کر رکھتا بلی سے؟
صورت سمجھ میں آئی؟ تو بلی کے جھوٹے کو اگر نجس قرار دیا جاتا تو پھر بڑا حرج لازم آتا، لہذا نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے حرج کو دفع فرمایا اور حرج کو ساقط کیا اس علت کی وجہ سے جو قرآن سے معلوم ہوئی تھی اور وہ کیا ہے؟ کثرت طواف۔ تو اس بلی کے اندر بھی چونکہ کثرت طواف والا وصف پایا گیا تو اس پر بھی وہی حکم لگایا گیا، کیا حکم؟ دفع حرج والا، کون سا حکم لگایا گیا؟ دفع حرج والا، تو لہذا اب اس کے جھوٹے کو نجس قرار نہیں دیا کیونکہ اس کے جھوٹے کو نجس قرار دیا جاتا تو بڑا حرج لازم آتا، تو اس حرج کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دفع فرمایا، اس کو ساقط فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت طواف کی علت پر کہ یہ گھروں میں کثرت سے آنے جانے والی ہے، لہذا اس کا جھوٹا نجس نہیں ہے، جھوٹا نجس نہیں ہے۔
صورت سمجھ میں آئی؟ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
دیکھیے اب کتاب کے اندر۔
فمثال العلة المعلومة بالكتاب، پس مثال اس علت کی جو معلوم ہوئی ہے کتاب اللہ سے، كثرة الطواف، وہ کیا ہے؟ کثرت طواف ہے، یعنی کثرت سے آنا جانا ہے، کثرت سے آمد و رفت ہے۔ فإنها جعلت علة لسقوط الحرج، اس لیے کہ اس کو علت بنایا گیا، کس چیز کے لیے؟ لسقوط الحرج في الاستئذان، استئذان کا کیا معنی؟ اجازت طلب کرنا، اذن سے ہے، اذن، باب استفعال۔ لسقوط الحرج في الاستئذان، استئذان کا کیا معنی؟ اجازت طلب کرنا۔ اب یہاں سے ترجمہ آخر سے میں کروں گا، اجازت طلب کرنے میں حرج کو ساقط کرنے کے لیے، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اجازت طلب کرنے میں جو حرج ہے، اس کو ساقط کرنے کے لیے اس کو علت بنایا گیا، فإنها جعلت علة، اس لیے کہ کثرت طواف کو کیا کیا گیا؟ علت بنایا گیا، اجازت طلب کرنے میں حرج کے ساقط کرنے کے لیے، اگر بار بار اجازت طلب کریں گے تو اس سے تو کیا لازم آئے گا؟ حرج لازم آئے گا، تو اس حرج کو ساقط کرنے کے لیے کس چیز کو علت بنایا گیا؟ کثرت طواف کو علت، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
في قوله تعالى، اللہ کے اس قول میں: "ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن"، "طوافون عليكم بعضكم على بعض" نہیں ہے تمہارے اوپر نہ ان پر کوئی حرج، یعنی تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں ہے بعدهن، ان تین اوقات کے بعد، کون سے؟ ان تین اوقات کے بعد، اور وہ کون سے اوقات ہیں مولانا؟ فجر سے پہلے ہے، دوپہر کا وقت ہے اور عشاء کے بعد کا وقت ہے، عشاء کی نماز کے بعد کا وقت ہے۔
طوافون عليكم، وہ کیا ہیں؟ کثرت سے تم پر، تمہارے پاس آتے رہتے ہیں، کثرت سے تمہارے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ بعضكم على بعض، یعنی ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہو بھئی۔
ثم أسقط رسول الله، پھر ساقط، تو دیکھا ہے، کتاب اللہ سے معلوم ہوا کہ کثرت طواف علت ہے اور حکم کیا ہے؟ دفع حرج، حرج کو کیا کیا جائے گا؟ دور کیا جائے گا، ساقط کیا جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو پھر اب حضور، ثم أسقط رسول الله عليه الصلاة والسلام حرجا نجاسة سؤر الهرة بحكم هذه العلة، پھر ساقط فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سؤر الهرة، بلی کا جھوٹا، بلی کے جھوٹے کے نجس ہونے کے حرج کو۔
حرجا نجاسۃ سؤر الهرة، سؤر الهرة کے نجس ہونے کے حرج کو، تو حضور علیہ السلام نے ساقط فرمایا سؤر الهرة کے نجس ہونے کے حرج کو بحكم هذه العلة، اس علت کے حکم سے۔ فقال عليه السلام، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "الهرة ليست بنجسة إنها من الطوافين عليكم والطوافات"، بلی نجس نہیں ہے، اس لیے کہ وہ تم پر کثرت سے آنے جانے والوں میں سے ہے، وہ تم پر کثرت سے آنے جانے والوں میں سے ہے۔ میں نے بتلا دیا طوافين آنے جانے والے یعنی غلام مراد ہیں اور طوافات کثرت سے آنے جانے والیاں یعنی باندھیاں مراد ہیں، تو یہ بھی انہی میں سے ہے، کثرت سے آنے جانے والے۔
تو یہ علت معلوم ہوئی، کیا حکم معلوم ہوا؟ علت کیا معلوم ہوئی؟ کثرت طواف، اور جہاں بھی کثرت طواف ہوگا وہاں کیا حکم لگایا جائے گا؟ دفع حرج والا حکم لگایا جائے گا۔
فقاس أصحابنا، پس قیاس کیا ہمارے فقہاء نے جميع ما يسكن في البيوت، ان تمام چیزوں کو جو گھروں میں رہتی ہیں، جو گھروں میں رہنے والے جانور وغیرہ ہیں، ان سب کو کیا کیا؟ اسی پر قیاس کیا، كالفأرة والحية على الهرة، ان سب کو قیاس کیا ہرہ (بلی) پر، فأرة (چوہا) اور حية (سانپ)۔ تو قیاس کیا ہمارے فقہاء نے ان تمام چیزوں کو جو گھروں میں رہتی ہیں، جیسے چوہا ہے اور سانپ وغیرہ ہیں علی الهرة، کس پر قیاس کیا؟ بلی پر، بعلة الطواف، کس علت کی بنا پر؟ طواف کی بنا کی علت پر، طواف کی علت کی بنا پر۔
تو جیسے بلی کے اندر کثرت طواف کی علت تھی، تو اس کے جھوٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجس قرار نہیں دیا، اسی طرح یہی علت چوہے، سانپ وغیرہ کے اندر بھی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ بھی عموماً گھروں کے اندر رہتے ہیں اور کثرت طواف کی علت چونکہ ان میں بھی پائی گئی، تو لہذا ان کے جھوٹے پر بھی فقہاء نے کیا حکم لگایا؟ کہ ان کا جھوٹا بھی نجس نہیں ہے۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
وكذلك قوله تعالى: "يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر"، یہ دوسری مثال ہے۔
بھئی یاد رکھو، مسافر اور مریض کو رخصت دی گئی ہے بھئی، وہ رمضان کے روزوں کے اندر اگر وہ چاہے تو رمضان کا روزہ رکھے، اگر وہ چاہے تو رمضان کا روزہ نہ رکھے، افطار کرے، یعنی روزہ رکھے ہی نہ، روزہ نہ رکھے۔
تو یہ کس کو رخصت دی ہے اللہ تعالیٰ نے؟ مسافر کو اور مریض کو، اور اس کی علت اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں: "يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر" کہ اللہ ارادہ فرماتے ہیں آپ کے ساتھ آسانی کا اور اللہ ارادہ نہیں فرماتے آپ کے ساتھ تنگی کا۔
یعنی اس کی کیا علت ذکر کی گئی ہے؟ یہ رخصت کیوں دی گئی ہے مسافر اور مریض کو؟ ان کی آسانی کے لیے، کس کے لیے؟ ان کی آسانی کے لیے بھئی، اس لیے کہ مریض ہے تو اس کو بڑی مشقت ہوگی بھئی، تکلیف ہوگی بھئی، کمزور ہوگا، تو بدنی مصلحت کے لیے اس کو کیا دی گئی، آسانی کے لیے اس کو کیا دی گئی؟ رخصت۔ اسی طرح سفر میں ہے تو سفر بھی مشقت والا کام ہے، تو یہاں پر بھی بدنی مصلحت کے لیے، آسانی کے لیے کیا دی گئی؟ رخصت دی گئی، رخصت دی گئی، کیونکہ اگر مریض رکھے گا روزہ تو کمزور ہو جائے گا، مسافر رکھے گا تو اس کے لیے سفر کرنا کیا ہو جائے گا؟ مشکل ہو جائے گا بھئی، تو ان کو رخصت دی گئی۔
تو یہ رخصت ان کو کیوں دی گئی؟ ان کی آسانی کے لیے، کس کے لیے؟ آسانی کے لیے انہیں یہ رخصت دی گئی، یعنی ان کے مصلحت بدنی کے لیے، کس کے لیے؟ مصلحت بدنی کے لیے ان کو یہ رخصت دی گئی۔
اب اس پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اسی علت کی بنا پر آپ فرماتے ہیں کہ اگر مسافر نے رمضان کے دنوں میں کسی اور واجب روزے کی نیت کر لی تو وہ دوسرا واجب روزہ ادا ہو جائے گا۔ مسافر کو شریعت نے کیا دی ہے؟ رخصت، رخصت دی ہے، تو اور یہ رخصت کس لیے دی ہے؟ اس کے آسانی کے لیے، یعنی کہ اس کے کس چیز کی آسانی ہوگی؟ اس کے بدن کے لیے آسانی، یعنی مصلحت بدنی کے لیے اس کو آسانی کرتے ہوئے یہ حکم دیا گیا، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ حکم مصلحت بدنی کی وجہ سے اس کو دیا گیا ہے، تو مصلحت اخروی یا مصلحت دینی کی صورت میں بطریق اولیٰ اس کو رخصت حاصل ہوگی۔
مصلحت دینی کے لیے بطریق اولیٰ اس کو کیا ہوگی؟ رخصت حاصل ہوگی۔ اب ایک آدمی ہے، سفر کے اندر ہے، اس کو شریعت نے رخصت دے دی، روزہ رکھو یا روزہ نہ رکھو۔ اب اس نے کہا: مجھے تو شریعت کی طرف سے رخصت ہے، اچھا موقع ہے، میرے اوپر ایک نذر کا روزہ باقی تھا، منت میں نے مانی تھی، اس کا ایک روزہ میرے اوپر باقی تھا، میں آج وہ رکھ لیتا ہوں، تو یہ کہتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہ نذر کا روزہ اس کا واقع ہو جائے گا بھئی، نذر کا روزہ واقع ہو جائے گا۔ یا اسی طرح کفارے کا مثلاً کوئی روزہ وغیرہ ہے، کفارے کے روزے رکھنا چاہ رہا ہے تو وہ بھی کیا کر سکتا ہے؟ رکھ سکتا ہے، وہ بھی اس پر واجب تھے، یا مولانا گزشتہ رمضان کا قضا روزہ اس کے ذمہ باقی تھا بھئی، وہ اس گزشتہ رمضان کے قضا روزے کی نیت کر لیتا ہے تو یہ روزہ واقع ہو جائے گا، کیوں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ مسافر کو کیا دی گئی ہے؟ رخصت دی گئی، اور یہ رخصت کس لیے ہے؟ اس کے مصلحت بدنی کے لیے، اس میں اس کے بدن کی مصلحت تھی، فائدہ تھا، تو مصلحت، جب مصلحت بدنی کے لیے اس کو رخصت دی گئی ہے تو مصلحت دینی کی صورت میں بطریق اولیٰ اس کے لیے یہ رخصت ثابت ہوگی۔ مصلحت دینی میں کیا ہے؟ بطریق اولیٰ اس کے لیے یہ رخصت ثابت ہوگی، رخصت تھی اس کو بھئی، روزہ نہ رکھے، کس لیے؟ بدنی آسانی کے لیے، کس لیے؟ بدنی فائدہ ہوگا اس کو۔ اور جب یہ واجب روزہ رکھتا ہے اس پر، ایک روزہ واجب تھا، وہ رکھ لیتا ہے، تو اب اس کو دینی فائدہ حاصل ہوا کہ آخرت میں کیا ہوگا؟ سزا سے بچ جائے گا۔ تو جب مصلحت بدنی کی صورت میں اس کے لیے رخصت ہے، تو مصلحت دینی کی صورت میں بطریق اولیٰ اس کے لیے
یہ کیا ثابت ہو گی؟ رخصت ثابت ہو گی۔ لہٰذا اب اگر کسی اور واجب روزے کی اس نے نیت کی ہے تو وہ واجب روزہ کیا ہے؟ واقع ہو جائے گا۔
مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا؟
جی۔
فمثال العلة المعلومة بالكتاب، اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ، اللہ آپ کے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ آپ کے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں فرماتے۔
بين الشرع، شریعت نے بیان کیا، أن الإفطار للمريض والمسافر، کہ افطار مسافر اور مریض کے لیے، لتيسير الأمر عليهم، ان پر معاملے کو آسان کرنے کے لیے ہے۔ افطار کس لیے مسافر اور مریض کے لیے جو افطار کا حکم ثابت ہوا، یہ کس لیے ہے؟ تاکہ معاملہ ان پر کیا کر دیا جائے؟ آسان کر دیا جائے۔ ليتمكنوا من تحقيق ما يترجح في نظرهم، تاکہ وہ قادر ہو جائیں اس چیز کے ثابت کرنے میں، تحقیق کا کیا معنی؟ اثبات، من تحقيق ما، اس چیز کے ثابت کرنے میں، يترجح في نظرهم، جو ان کی نظر میں کیا ہو جائے؟ ترجیح پا جائے، جو ان کی نظر میں راجح ہو جائے۔
کیا معنی؟ اس سے آگے بیان ہے 'ما' کا، کیا چیز ان کی نظر میں راجح ہو جائے؟ کہتے ہیں: من الإتيان بظيفة الوقت أو تأخيره إلى أيام أخر، یعنی کہ ادا کرنا وقتی وظیفے کو، ادا کرنا یعنی وہ وقتی فرض روزہ جو ہے يا اس کو ادا کرنا، أو تأخيره إلى أيام أخر، یا اس کو مؤخر کرنا دوسرے ایام تک۔
تاکہ اس کو قدرت، ادھر دیکھو بھئی، تاکہ اسے قدرت حاصل ہو جائے، وہ چاہے تو اسی وقتی فریضے کو ادا کر لے اور روزہ رکھ لے رمضان کا۔ اور اسے رخصت ہے، مرضی ہے، روزہ چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو کیا کر لے؟ اس روزے کو مؤخر کر دے دوسرے ایام تک۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو ان کے، ان پر معاملے کو آسان کرنے کے لیے ایسا ہے ليتمكنوا من تحقيق ما، تاکہ وہ قادر ہو جائیں اس چیز کو ثابت کرنے پر، يترجح في نظرهم، جو راجح ہو ان کی نظر، یعنی ان کے خیال میں جو بہتر ہو، ان کے حق میں، وہ فیصلہ کر سکیں۔ اگر ان کو یہ بہتر لگے کہ میں روزہ رکھ سکتا ہوں، تو وہ کیا کر لیں؟ روزہ رکھ سکتے ہیں۔ اور اگر ان کو کیا راجح نظر آئے؟ کہ میں ابھی نہ رکھوں، بعد میں کروں، تو جو ان کی نظر میں، فکر میں کیا ہو؟ راجح ہو، وہ اس پر کیا کر لیں؟ عمل کرنے پر قادر ہو جائیں۔
ليتمكنوا من تحقيق ما، تاکہ وہ قادر ہو جائیں اس چیز کے ثابت کرنے پر، يترجح في نظرهم، جو ان کی نظر میں کیا ہو؟ راجح ہو۔ من الإتيان بظيفة الوقت، یعنی کہ وقتی وظیفے کو ادا کرنا، چاہے یہ کر لیں، أو تأخيره إلى أيام أخر، یا اس کو مؤخر کر دیں بعض دوسرے دنوں تک۔
وباعتبار هذا المعنى، اور اسی علت کا اعتبار کرتے ہوئے کہ مسافر اور مریض پر روزہ رکھنا لازمی نہیں ہے۔ قال أبو حنيفة رحمه الله، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المسافر إذا نوى في أيام رمضان واجباً آخر، کہ جب مسافر نے نیت کی رمضان کے دنوں میں کسی دوسرے واجب کی، کسی دوسرے واجب روزے کی۔ يقع عن واجب آخر، تو یہ روزہ واقع ہو جائے گا کس طرف سے؟ اس واجبِ آخر سے ادا ہو جائے گا۔ لأنه لما ثبت له الترخيص، اس لیے کہ جب مسافر کے لیے رخصت ثابت ہو گئی۔ بما يرجع إلى مصالح بدنه، اس چیز کے ساتھ جو لوٹنے والی ہے اس کے مصلحتِ بدنی کی طرف۔ اس لیے کہ جب مسافر کے لیے رخصت ثابت ہو گئی ایسی چیز کے ساتھ جو لوٹنے والی ہے کس کی طرف؟ اس کے مصلحتِ بدنی کی طرف، وهو الإفطار، اور وہ کیا ہے؟ افطار۔ افطار کس طرف لوٹتا ہے؟ مسافر کی مصلحتِ بدنی کی طرف، کیوں حکم دیا گیا؟ اس کی مصلحتِ بدنی کے لیے۔ فلأن يثبت له ذلك، تو پس یہ کہ ثابت ہو اس کے لیے۔ ذلك وہ رخصت بھئی۔ ذلك کس کی طرف اشارہ ہے؟ رخصت۔ تو یہ کہ ثابت ہو اس کے لیے وہ رخصت۔ بما يرجع إلى مصالح دينه، ایسی چیز جو لوٹنے والی ہو کس کی طرف؟ مصلحتِ دینی کی طرف، وهو إخراج النفس عن عهدة الواجب، اور وہ کیا ہے؟ نفس کو نکالنا ہے، عہدہ کہتے ہیں ذمہ داری کو، واجب کی ذمہ داری سے۔
واجب کی ذمہ داری، وهو إخراج النفس، اور وہ نفس کو نکالنا ہے، عن عهدة الواجب، واجب کی ذمہ داری سے۔ تو یہ اس کے لیے یہ ثابت کرنا أولىٰ، یہ کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔
اور وہ کیا ہے دینی مصلحت بھئی؟ بھئی اس پر پچھلے رمضان کا ایک قضا روزہ تھا، جب یہ اس دن روزہ نہیں رکھتا، پھر تو بدنی مصلحت ہے، لیکن اگر کیا کر لیتا ہے؟ وہ پچھلے رمضان کا روزہ رکھ لے گا، تو اب کیا ہو گا؟ اس کا نفس اس واجب کی ذمہ داری سے نکل آیا۔ اس پر وہ روزہ کیا تھا؟ واجب، یہ اس سے عہدہ برا ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ جی، اب آخرت میں سزا ملے گی اس کی؟ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
وهو إخراج النفس عن عهدة الواجب، اور وہ نفس کو واجب کی ذمہ داری سے نکالنا ہے۔ یہ مصلحتِ دینی، تو جب اس کے لیے مصلحتِ بدنی کی وجہ سے رخصت ثابت تھی، تو دینی مصلحت کے لیے اس کے لیے رخصت کا ثابت کرنا اولیٰ، یہ کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ترجمہ بھی سمجھ میں آیا؟ ترجمہ ذرا مشکل ہے، آ گیا سمجھ میں؟ چلیے، بس مولانا۔ هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔