Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-105

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
البحث الرابع في القياس فصل: القياس حجة من حجج الشرع، يجب العمل به عند انعدام ما فوقه من الدليل في الحادثة. وقد ورد في ذلك الأخبار والآثار. قال عليه الصلاة والسلام لمعاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه حين بعثه إلى اليمن: قال: بم تقضي يا معاذ؟ قال: بكتاب الله، بكتاب الله تعالى. قال: فإن لم تجد؟ قال: بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: فإن لم تجد؟ قال: أجتهد برأيي. فصوبه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله على ما يحب ويرضى. جی! یہ چوتھی بحث ہے قیاس کے بارے میں—"البحث الرابع في القياس"—چوتھی بحث ہے قیاس کے بارے میں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ ادلہ شرعیہ چار ہیں بھئی: کتاب اللہ، سنت رسول صلى الله عليه وسلم، اجماع اور قیاس، بھئی۔ کتاب اللہ کی بحث بھی ختم ہوئی، سنت کی بحث بھی مکمل ہوئی، اور اجماع کی بحث بھی، بھئی۔ آج یہ آخری بحث ہم شروع کر رہے ہیں بھئی، قیاس کے بارے میں، قیاس کے بارے میں۔ یاد رکھو، قیاس لغت میں کہتے ہیں اندازہ کرنا اور برابری کرنا۔ لغت میں اس کا کیا معنی ہے؟ اندازہ کرنا، اندازہ لگانا، اور برابری کرنا، برابری کرنا۔ اور اصطلاح میں قیاس کسے کہتے ہیں؟ دیکھیے، یہ حاشیہ نمبر 6 میں انہوں نے تعریف دی ہوئی ہے بھئی: "هو تعدية الحكم من الأصل إلى الفرع بعلة متحدة بينهما". مل گئی تعریف بھئی؟ یہ تعریف ہے: "هو تعدية الحكم من الأصل إلى الفرع بعلة متحدة بينهما". جی، یہاں تک ہے تعریف، بھئی۔ اصطلاح شریعت میں قیاس کہتے ہیں: "هو تعدية الحكم"—حکم کو متعدی کرنا—"من الأصل"—اصل سے—"إلى الفرع"—فرع کی طرف۔ اصل سے حکم کو متعدی کرنا کس کی طرف بھئی؟ فرع کی طرف—"بعلة متحدة بينهما"—بسبب ایسی علت کے جو ان دونوں کے درمیان متحد ہو بھئی، بسبب ایسی علت کے جو ان دونوں میں—یعنی ایسی علت جو ان دونوں میں پائی جا رہی ہے، اس کی وجہ سے اصل سے حکم کو متعدی کرنا کس کی طرف؟ فرع کی طرف۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اصل سے حکم کو متعدی کرنا کس کی طرف؟ فرع کی طرف۔ کس وجہ سے؟ علتِ متحدہ کی وجہ سے، علتِ متحدہ کی وجہ سے۔ دیکھو بھئی، شریعت نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ شریعت نے شراب کو کیا کیا ہے؟ حرام قرار دیا ہے۔ اور شریعت نے شراب کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ نشہ آور ہونے کی وجہ سے۔ کس وجہ سے؟ نشہ آور ہونے کی وجہ سے۔ چونکہ اس کی وجہ سے نشہ ہو جاتا ہے کسی انسان کو، اس لیے شریعت نے اسے حرام قرار دیا۔ تو آپ یہی علت ہمیں ہیروئن کے اندر بھی ملی بھئی۔ ہیروئن کے استعمال سے بھی کیا ہوتا ہے آدمی کو؟ نشہ ہو جاتا ہے۔ تو شریعت نے شراب کو نشہ آور ہونے کی وجہ سے حرام قرار دے دیا۔ تو اس حرام قرار دینے کی کیا علت بتلائی میں نے بھئی؟ نشہ آور ہونا۔ تو یہی علت ہمیں ہیروئن کے اندر بھی ملی، تو وہی شراب والا حکم ہم نے ہیروئن کو بھی دے دیا کہ ہیروئن بھی کیا ہے؟ حرام ہے، جیسے شراب حرام تھی یہ ہیروئن بھی کیا ہے؟ حرام ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ شراب کو شریعت نے کیا قرار دیا حرام، کس وجہ سے؟ نشہ آور ہونے کی وجہ سے۔ تو اب یہ نشہ آور ہونے کی علت جس چیز میں بھی ہمیں ملے گی ہم اس پر وہی شراب والا حکم لگاتے جائیں گے۔ تو ہیروئن کے اندر بھی ہمیں یہی علت ملی بھئی، وہ بھی کیا ہے؟ نشہ آور ہے، تو جب وہ علت ہیروئن کے اندر پائی گئی تو وہی حکم بھی آ جائے گا جو کس کے لیے تھا؟ شراب کے لیے۔ تو ہیروئن کو بھی کیا قرار دے دیا ہم نے؟ حرام قرار دیا بھئی۔ تو یہاں آپ کو چار چیزوں کا پتہ چل گیا: ایک مقیس کا پتہ چل گیا، مقیس علیہ کا پتہ چل گیا، اور حکم کا پتہ چلا، اور حکم کا، اور علتِ متحدہ کا پتہ چلا، علتِ متحدہ کا پتہ چل گیا بھئی۔ کتنی چیزوں کا پتہ چلا؟ مقیس، مقیس علیہ، علتِ متحدہ اور حکم—چار چیزوں کا آپ کو پتہ چل گیا۔ تو دیکھو، جس چیز کے لیے قیاس کیا گیا وہ کیا کہلاتی ہے؟ مقیس۔ جس کی وجہ سے کیا کیا گیا؟ جس کے لیے قیاس کیا گیا، وہ کہلاتی ہے مقیس۔ اور جس پر قیاس کیا گیا وہ کیا کہلاتی ہے؟ مقیس علیہ۔ تو ہماری مثال کے اندر مقیس کیا تھا بھئی؟ ہیروئن تھی، کیا تھی؟ ہیروئن، جس کو قیاس کیا گیا۔ اور کس پر قیاس کیا گیا؟ شراب پر، وہ کیا کہلائے گی؟ مقیس علیہ، بھئی۔ تو ہیروئن ہوئی مقیس، شراب ہوئی مقیس علیہ۔ تو مقیس کو فرع بھی کہتے ہیں اور مقیس علیہ کو اصل بھی کہتے ہیں۔ تو شراب اصل ہے، مقیس علیہ ہے بھئی، اور ہیروئن فرع ہے اور مقیس ہے۔ اور دونوں میں بھئی، علتِ متحدہ کیا ہے؟ نشہ آور ہونا، کیا ہونا؟ نشہ آور ہونا—یہ دونوں میں علت ہے، دونوں میں پائی جا رہی ہے بھئی۔ اور تیسرا کیا ہے؟ حکم بھئی، حکم کیا تھا شراب کا؟ حرمت والا کہ وہ حرام ہے، یہی حکم متعدی ہوا کس میں بھی؟ اب یہ حکم کس پر لگ جائے گا؟ ہیروئن پر بھی لگ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے قیاس بھئی، مقیس ہو گا، مقیس علیہ ہو گا، علتِ متحدہ ہو گی اور پھر تعدیة الحكم ہو گا، یعنی حکم کا متعدی کرنا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اب کتاب پر: "البحث الرابع في القياس"—چوتھی بحث قیاس کے بارے میں۔ "فصل: القياس حجة من حجج الشرع"—قیاس حجت ہے حجج شریعت، یعنی قیاس کیا ہے؟ دلیل ہے "من حجج الشرع"—ادلہ شرعیہ میں سے۔ ادلہ شرعیہ کتنے بتلائے تھے؟ چار، ان میں سے قیاس تھا—"يجب العمل به عند انعدام ما فوقه من الدليل في الحادثة". بھئی قیاس بھی ایک دلیل ہے، ادلہ شرعیہ چار ہیں: کتاب اللہ، سنت رسول، اور اجماع اور قیاس۔ اور ان میں سب سے کمزور درجے کی دلیل ہے یہ بھئی، ان چاروں میں سب سے نچلے درجے کی دلیل ہے بھئی۔ لہٰذا قیاس کی طرف آپ نے پڑھا بھئی، کس وقت جائیں گے؟ جب اس سے اوپر کی کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو، تو پھر قیاس کریں گے، ورنہ قیاس کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "يجب العمل به"—اس پر عمل واجب ہوتا ہے—"عند انعدام"—جب نہ پائی جائے—"ما فوقه"—وہ چیز جو اس کے اوپر ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟—"من الدليل"—یعنی کہ دلیل۔ یہ "من الدليل" بیان ہے "ما" کا۔ "ما" سے کیا مراد ہے؟ جب نہ پائی جائے وہ چیز فوقہ جو اس قیاس کے اوپر ہو بھئی، وہ کیا چیز ہے؟ یعنی کہ دلیل۔ تو یہ "من الدليل" بیان ہے "ما" کا، اب ترجمہ کرنے کے لیے "ما" کو اٹھائیں اور اس کی جگہ "دلیل" رکھ دیں، کیا رکھ دیں؟ وہی اس کا بیان ہے بھئی۔ تو دیکھو، تو قیاس—اب دوبارہ ترجمہ سنو: اس پر تو عمل کرنا واجب ہے جب نہ پائی جائے اس سے اوپر کوئی دلیل، جب اس سے اوپر کوئی دلیل نہ پائی جائے—"في الحادثة"—کسی واقعہ کے اندر۔ "وقد ورد في ذلك الأخبار والآثار"—اور تحقیق وارد ہوئے ہیں اس کے بارے میں اخبار بھی وارد ہوئے ہیں اور آثار بھی۔ خبر میں نے بتلایا تھا بھئی، کس پر اطلاق ہوتا ہے اس کا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث، حدیث ہو گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ اور آثار کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ صحابی کے قول اور فعل پر۔ تو اخبار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اس میں ذکر ہو گا، اور آثار میں صحابی کا قول و فعل بھئی۔ تو اس بارے میں مولانا، احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی ہیں، اور آثار اور صحابہ کے اقوال بھی ہیں بھئی۔ انہوں نے صرف کس کو ذکر کیا؟ احادیث کو ذکر کیا، احادیث مرفوعہ یعنی حضور علیہ السلام کے اقوال کو بھی ذکر کیا، اور احادیث موقوفہ یعنی صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال کو بھی ذکر کیا۔ یاد رکھو، قیاس کا اثبات جو ہے، یہ اس کی دلیل کتاب اللہ میں بھی ہے، اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اس کی دلیل اس کے حجت ہونے کی، اور صحابہ کے اقوال بھی ہیں، اور اجماع بھی ہے بھئی۔ اجماع سے بھی اس کا ثبوت ہے مولانا، یہ قیاس ثابت ہوتا ہے، کتاب اللہ سے بھی ثابت ہوتا ہے، اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ کتاب اللہ سے کیا دلیل ہے؟ یہ صاحب کتاب نے ذکر نہیں کی بھئی، میں آپ کو بتلا دیتا ہوں بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فاعتبروا يا أولي الأبصار"، "فاعتبروا يا أولي الأبصار"—پس اعتبار کرو تم اے عقل والو! پس اعتبار کرو تم اے عقل والو، تم اعتبار کرو! جی، تو یہاں پر پہلے مولانا، ایسی اقوام کا ذکر ہوا قرآن میں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ اس کے بعد آگے اللہ فرماتے ہیں: "فاعتبروا يا أولي الأبصار"—پس اعتبار کرو، عبرت پکڑو تم، اے عقل والو! کیا کرو تم؟ عبرت پکڑو، اعتبار کرو۔ اعتبار کہتے ہیں: چیز کو اپنے ہم مثلوں کی طرف لوٹانا، چیز کو اپنی جیسی چیزوں کی طرف لوٹانا۔ سمجھ میں آیا؟ اپنی جیسی چیزوں کی طرف لوٹانا۔ تو اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں؟ تم اعتبار کرو اے عقل والو! یعنی اپنی حالت کو ان کی حالت پر قیاس کر لو۔ اگر تم میرے راستے پر چلے تو ٹھیک، اگر تم لوگ اس اسی طرح کے راستے کو تم لوگوں نے اختیار کیا جس راستے پر وہ چلے تھے، تو تمہارا بھی وہی انجام ہو گا جو ان لوگوں کا ہوا تھا۔ تو تمہارا بھی کیا ہو گا؟ وہی انجام ہو گا۔ تو اپنے حال کو قیاس کر لو ان کے حال پر بھئی، یہ مراد ہے بھئی۔ اگر تم ان کے راستے پر چلو گے، ان کی طرح کرو گے، تو جو ان کا انجام ہوا تھا وہی تمہارا بھی انجام ہو گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو "فاعتبروا يا أولي الأبصار" کا معنی کیا ہوا؟ اے ایمان والو! اے عقل والو! تم قیاس کرو، یعنی چیز کو اپنے ہم مثلوں کی طرف لوٹاؤ، اس پر اس کو قیاس کر لو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، آپ کے ذہن میں آئے گا بھئی، اس سے قیاس کیسے ثابت ہوا؟ اس میں تو کیا فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ؟ کہ گزشتہ اقوام کی طرح اگر تم نے کیا تو تم پر بھی کیا واقع ہو گا؟ عذاب آئے گا بھئی، تو اس سے قیاس کیسے ثابت ہوا؟ یہ تو واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیا تھا ان کا یہ انجام ہوا، تم ایسا کرو گے تو تمہارا بھی یہی انجام ہو گا، اس سے قیاس کیسے ثابت ہوا؟ جواب یہ مولانا، کہ یہ آیت نازل تو ٹھیک ہے اسی بارے میں ہوئی ہے۔ اس کا شانِ نزول تو یہی ہے، اسی بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان اقوام کے واقعات کو دیکھ کر اور سن کر تم اس سے کیا پکڑو؟ عبرت پکڑو، اور ان کے راستے پر نہ چلو۔ لیکن الفاظ عام ہیں مولانا، اور اعتبار عمومِ الفاظ کا ہوتا ہے نہ کہ خصوصِ نزول اور خصوصِ واقعہ کا بھئی۔ اعتبار کس کا کیا جاتا ہے؟ عمومِ الفاظ کا! عمومِ الفاظ تو عام ہیں: "فاعتبروا يا أولي الأبصار"—یہ آیا ہے "فاعتبروا هذه القصة"—اس قصے پر اعتبار کرو؟ یہ آیا ہے بھئی؟ بھئی اگر "هذه القصة" ہوتا، پھر تو بات ہی بس اسی قصے تک محدود تھی، لیکن قرآن نے تو عام الفاظ ذکر کیے: "فاعتبروا يا أولي الأبصار"—اے عقل والو! کیا کرو؟ عبرت پکڑو، قیاس کرو۔ بس، عام الفاظ ہیں مولانا، اس میں اس واقعہ جو ماقبل میں ذکر ہوئے اس کا ذکر نہیں، تو الفاظ عام ہیں اگرچہ شانِ نزول خاص ہے مولانا، لیکن اس خاص واقعہ یا خاص شانِ نزول کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا بلکہ کس کو دیکھا جائے گا؟ الفاظ، الفاظ تو عام ہیں، اور اس سے کیا ہوتا ہے، کیا ثابت ہوتا ہے؟ قیاس بھی ثابت ہو رہا ہے بھئی، کہ ایک چیز کو اس کے اسی جیسی چیزوں پر کیا کر لیا کرو؟ قیاس کر لیا کرو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ احادیث وغیرہ ہیں، وہ صاحب کتاب خود ذکر کر دیں گے بھئی، نیز اجماع وغیرہ بھی ہے مولانا کہ قیاس کیا ہے؟ حجت شرعیہ ہے۔ آج تک مولانا، جتنے مجتہدین گزرے ہیں، صحابہ بھی کیا کرتے تھے مولانا قیاس کیا کرتے تھے، صحابہ کے بعد تابعین، تبع تابعین مولانا، مجتہدین، ائمہ، فقہاء، محدثین—سارے کیا کرتے آئے ہیں بھئی؟ قیاس کرتے آئے ہیں، جس چیز کا حکم کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع وغیرہ سے معلوم نہ ہو اس میں کیا کرتے رہے ہیں؟ قیاس کرتے رہے ہیں، معلوم ہوا اس پر امت کا کیا ہے؟ اجماع۔ دیکھیے، اب احادیث کچھ ذکر کریں گے: "قال عليه الصلاة والسلام لمعاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه"—حضور علیہ السلام نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا—"حين بعثه إلى اليمن"—جب ان کو کو یمن بھیجا۔ جب ان کو یمن بھیجنے لگے، تو اس وقت حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: "قال" حضور نے فرمایا: "بِمَ تَقْضِي يَا مُعَاذُ؟" کس چیز کے ساتھ تم فیصلہ کرو گے، اے معاذ؟ "بِمَ" اصل میں تھا "بِمَا" بھئی۔ یہ "مَا" استفہامیہ ہے، بھئی۔ یہ "مَا" کیا ہے؟ استفہامیہ ہے۔ اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ "مَا" استفہامیہ پر حروفِ جارہ میں سے کوئی جب داخل ہو جائے تو الف گر جاتا ہے۔ "مَا" استفہامیہ پر کیا داخل ہو جائے؟ حروفِ جارہ میں سے کوئی داخل ہو تو الف گر جاتا ہے۔ تو "بِمَا" تھا، "مَا" تھا، "بَ" داخل ہوئی تو "بِمَ" رہ گیا۔ جیسے "عَمَّ" بھئی، "عَمَّ"۔ "عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ"۔ یہ بھی اصل میں کیا تھا؟ "عَنْ مَا"۔ "عَنْ" حرفِ جر داخل ہوا تو الف گر گیا، بھئی۔ حضور نے فرمایا: "بِمَ تَقْضِي يَا مُعَاذُ؟" کس چیز کے ساتھ فیصلہ کرو گے، اے معاذ؟ "قَالَ: بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى" اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ، بھئی، اس کے ذریعے فیصلہ کروں گا۔ "قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ" اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ، یعنی کوئی حکم اگر تمہیں کتاب اللہ میں نہ ملے، پھر کس، کس چیز سے فیصلہ کرو گے؟ "قَالَ: بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" کہا پھر حضور علیہ السلام کی سنت سے، اللہ کے رسول کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ "قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ" اگر پھر بھی تم نہ پائے، یعنی اگر تجھے سنت میں بھی اس کا وہ چیز نہ ملے۔ "قَالَ" پھر، کہتا "قَالَ: أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي" پھر میں اجتہاد کروں گا اپنی رائے کے ساتھ۔ میں اپنے رائے کے ساتھ کوشش کروں گا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ یہ ہے حدیث۔ آگے: "فَصَوَّبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تو حضور علیہ السلام نے ان کی تصویب فرمائی، یعنی ان کو درست قرار دیا، بھئی۔ تصویب کا کیا معنیٰ؟ درست قرار۔ حضور علیہ السلام نے ان کو درست قرار دیا۔ "فَقَالَ" پس فرمایا: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي" تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں "الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ" جس نے توفیق دی، رسولِ رسولِ اللہِ۔ اللہ کے رسول کے پیغام رساں کو، بھئی۔ اللہ کے رسول کے پیغام، بھئی، رسول کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ پیغام پہنچانے والا۔ کیونکہ رسول بھی اللہ کا پیغام امت تک پہنچاتا ہے، عام لوگوں تک پہنچاتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رسول کہتے ہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے توفیق دی "رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ" اللہ کے رسول کے پیغام رساں کو، بھئی، یا اللہ کے رسول کے رسول کو۔ "عَلَى مَا يُحِبُّ" اس چیز پر جس کو وہ کیا کرتا ہے اللہ؟ پسند کرتا ہے "وَيَرْضَاهُ" اور جس سے راضی ہوتا ہے، جس سے راضی ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی، حضور علیہ السلام ہیں اللہ کے رسول۔ اور آگے کس کو بھیج رہے ہیں؟ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ تو وہ اللہ کے رسول کے رسول ہوئے، اللہ کے رسول کے رسول ہوئے، ان کے پیغام رساں ہوئے، بھئی۔ تو حضور علیہ السلام، بھئی، حضرت معاذ سے کہا کہ وہاں جا رہے ہو فیصلہ کیسے کرو گے، بھئی؟ کہنے لگے کہ قاضی بنا کر بھیجا، کس چیز سے فیصلہ کرو گے؟ کہا کہ میں کتاب اللہ سے تلاش کروں گا اس مسئلے کو۔ اگر وہاں نہ ملا پھر؟ جواب میں: کہ میں پھر سنتِ رسول میں اسے تلاش کروں گا۔ پھر حضور نے فرمایا: اگر اس میں بھی نہ ملا پھر؟ تو انہوں نے جواب میں کیا فرمایا کہ: میں اپنی رائے کے ساتھ کیا کروں گا؟ اجتہاد کروں گا۔ تو دیکھا انہوں نے اپنی رائے کے ساتھ اجتہاد کرنے کو ذکر کیا اور حضور علیہ السلام نے ان کی تصویب فرمائی۔ اور تصویب ہی نہیں فرمائی بلکہ اس پر اتنے خوش ہوئے کہ اللہ کی حمد بیان کی۔ "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي" تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے "الَّذِي وَفَّقَ" جس نے توفیق دی "رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ" اللہ کے رسول کے رسول کو "عَلَى مَا يُحِبُّ" اس چیز کی جس کو اللہ کیا کرتے ہیں، اپنے اللہ نے اپنے پسندیدہ کام کی اسے کیا دی ہے؟ توفیق دی ہے۔ اس چیز کی توفیق دی ہے جسے اللہ پسند کرتے ہیں "وَيَرْضَاهُ" اور جس سے اللہ راضی ہوتے ہیں۔ تو اللہ نے اس کی حمد بیان کی کہ اس نے توفیق دی ہے اللہ کے رسول کے رسول کو اس بات کی، اس بات کی توفیق دی ہے جسے اللہ پسند کرتے ہیں اور جس سے اللہ راضی ہوتے ہیں۔ دیکھا، معلوم ہوا قیاس کیا ہے؟ جی، حجتِ شرعیہ ہے۔ حضور علیہ السلام نے دیکھو اس کی ممانعت نہیں فرمائی، اگر منع ہوتا تو پھر تو حضور کیا فرماتے؟ منع فرماتے۔ "وَرُوِيَ" روایت کیا گیا ہے: "أَنَّ امْرَأَةً خَثْعَمِيَّةً أَتَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دیکھیے بھئی، حدیث میں، حدیث آگے آ رہی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت حضور علیہ السلام کے پاس آئی، بھئی۔ اور کہنے لگی کہ: "میرا باپ بوڑھا ہو گیا ہے بڑا اور اس پر حج فرض ہے، بھئی۔ حج اس پر کیا ہے؟ فرض ہو گیا ہے۔ اور وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا۔ یا رسول اللہ، میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر بیٹھ نہیں سکتے۔ تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ وہ حج ہو جائے گا؟" حضور علیہ السلام نے فرمایا: "تم مجھے یہ بتلاؤ کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرضہ ہو اور تم اسے ادا کرو تو وہ قرضہ ادا ہو گا یا ادا نہیں ہو گا؟" تو وہ کہنے لگی: "کیوں نہیں ادا ہو گا، جب میں ادا کروں گی اپنے باپ کی طرف سے تو وہ قرضہ کیا ہے یقیناً ادا ہو جائے گا۔" تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: "دیکھو، جب بندوں کا قرض ادا ہو جاتا ہے تو حج تو کیا ہے، اللہ کا دین ہے، وہ تو بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ ادا ہو جائے گا، بھئی۔" سمجھ میں آیا، بھئی؟ دیکھیے اب ترجمہ: "رُوِيَ أَنَّ امْرَأَةً خَثْعَمِيَّةً أَتَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" کہ خثعمی عورت، یعنی قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی حضور علیہ السلام کے پاس۔ "فَقَالَتْ" تو اس نے کہا: "إِنَّ أَبِي كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا" میرا باپ کیا ہے؟ شیخِ کبیر ہے، یعنی بہت بوڑھا ہے۔ "أَدْرَكَهُ الْحَجُّ" اس کو کیا ہے؟ حج نے پا لیا ہے۔ اس کو کیا ہے؟ حج نے پا، یعنی حج اس پہ فرض ہو گیا ہے، مطلب کیا ہے؟ "أَدْرَكَهُ الْحَجُّ" حج اس پر فرض ہو گیا ہے۔ "وَلَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ" استمسک یستمسک کا معنیٰ آتا ہے کسی چیز پر جمنا، جمنا۔ اور وہ سواری پر جم نہیں سکتے، یعنی سواری پر ان سے بیٹھا نہیں جاتا۔ "وَلَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ" اور وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتے۔ "أَفَيُجْزِئُنِي" حمزہ استفہام کے لیے ہے۔ "أَفَيُجْزِئُنِي" کیا میرے لیے کافی ہو گا "أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟" کہ میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ "قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" حضور علیہ السلام نے فرمایا: "أَرَأَيْتِ" "أَرَأَيْتِ"، "أَرَأَيْتُ" کہتے ہیں عربی کے اندر، "أَرَأَيْتَ" تمہاری کیا رائے ہے؟ تم ذرا مجھے بتلاؤ۔ سمجھ میں آیا؟ "أَرَأَيْتَ" عربی میں استعمال ہوتا ہے، اس کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ تم مجھے خبر دو، تم مجھے بتلاؤ، تمہاری کیا رائے ہے؟ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو حضور فرمائے، حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "أَرَأَيْتِ" تیری کیا رائے ہے؟ یا تو مجھے بتلا "لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ" اگر تیرے باپ پر کوئی قرضہ ہو "فَقَضَيْتِهِ" پھر تو کیا کرے، اس قرضے کو ادا کر دے "أَمَا كَانَ يُجْزِئُكِ؟" کیا وہ تیرے لیے کافی نہیں ہو گا؟ کیا وہ تیرے لیے، یعنی کیا وہ ادا نہیں ہو جائے گا، بھئی، تمہاری طرف سے؟ "فَقَالَتْ: بَلَى" اس عورت نے کہا: کیوں نہیں؟ یعنی میری طرف سے تو وہ کیا ہو جائے گا یقیناً ادا ہو جائے گا والد صاحب کو، باپ کی طرف سے یقیناً ادا ہو جائے گا۔ "فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْلَى" تو اللہ کا دین جو ہے وہ زیادہ حق رکھتا ہے اور زیادہ لائق ہے اس کے کہ وہ ادا ہو جائے۔ کہ وہ کیا ہے؟ جب بندوں کا قرض ادا ہو جاتا ہے ادا کرنے سے تو حج تو دین اللہ ہے، اللہ کا دین ہے، وہ تو بطریقِ اولیٰ ادا ہو گا۔ تو دیکھو، یہ بھی دلیل، یہ حدیث بھی دلیل ہے۔ اس حدیث میں کیا ہے دیکھیے: "أَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" حضور علیہ السلام نے ملایا "الْحَجَّ" کس کو ملایا؟ حج کو۔ "فِي حَقِّ الشَّيْخِ الْفَانِي" شیخِ فانی، شیخِ فانی اسے کہتے ہیں جو بہت بوڑھا ہو، بھئی۔ شیخِ فانی کسے کہتے ہیں؟ بہت بوڑھا، فنا ہونے والا ہے، یعنی قریب ہے موت کے، بھئی۔ حضور علیہ السلام نے شیخِ فانی کے حق میں حج کو ملا دیا "بِالْحُقُوقِ الْمَالِيَّةِ" کس کے ساتھ؟ حقوقِ مالیہ، یعنی قرض کے ساتھ۔ "وَأَشَارَ إِلَى عِلَّةٍ مُؤَثِّرَةٍ فِي الْجَوَازِ" اور حضور علیہ السلام نے اشارہ فرما دیا اس علت کی طرف جو مؤثر ہے جواز کے اندر، اس کے جائز ہونے میں۔ وہ علت جو مؤثر ہے اس کے جائز ہونے میں "وَهِيَ الْقَضَاءُ" اور وہ کیا ہے؟ ادا ہونا ہے۔ جیسے بندوں کا قرض دینے سے ادا ہو جاتا ہے، اسی طرح کسی کی طرف سے حج بھی کیا جائے تو وہ بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ادا ہو جاتا ہے۔ علتِ جامعہ سمجھ میں آئی دونوں میں، بھئی؟ ادائیگی ہے، ادائیگی، دونوں ادا ہو جاتے ہیں۔ "وَهَذَا هُوَ الْقِيَاسُ" اور یہی تو قیاس ہے، بھئی۔ مصنف نے حدیث ذکر کی پھر اس کے اندر بتلایا، دیکھا حضور علیہ السلام نے حج کو کس پر قیاس کیا حدیث میں؟ حقوقِ مالیہ پر، قرض پر قیاس کیا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور علتِ جامعہ کیا تھی؟ جی؟ ادائیگی، علتِ جامعہ کیا تھی؟ جیسے قرض دیا جائے کسی کو، قرض کے پیسے واپس کیے جائیں تو وہ ادا ہو جاتا ہے کسی کی طرف سے۔ اسی طرح اگر شیخِ فانی کی طرف سے کوئی حج کرتا ہے تو وہ حج بھی کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا، بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَهَذَا هُوَ الْقِيَاسُ" یہی تو قیاس ہے۔ جی۔ دیکھیے احادیث، ایک اور ذکر کریں گے۔ "وَرَوَى ابْنُ الصَّبَّاغِ" اور روایت کیا ہے ابنِ صباغ نے "وَهُوَ مِنْ سَادَاتِ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى" اور وہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے سردار ساتھیوں میں سے ہیں، یعنی بڑے مراد، یعنی بڑے شاگردوں میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ یوں کر لو۔ سادات معنیٰ بڑے۔ جی۔ ویسے تو سادات، بھئی، سردار ہوتا ہے، یہاں بڑے کے معنیٰ میں کر لو کیونکہ سردار بھی بڑا ہوتا ہے۔ بڑے، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے بڑے اصحاب میں سے ہیں، یعنی ان کے بڑے تلامذہ میں سے ہیں، بڑے شاگردوں میں سے ہیں۔ "فِي كِتَابِهِ" انہوں نے ذکر کیا ہے اپنی کتاب "الْمُسَمَّى بِالشَّامِلِ" جس کا نام کیا ہے؟ شامل، اپنی کتاب شامل میں انہوں نے ذکر کیا ہے "عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ" قیس بن طلق بن علی سے "أَنَّهُ قَالَ" وہ فرماتے ہیں: "جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" کہ ایک شخص حضور علیہ السلام کے پاس آیا "كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ" گویا کہ وہ شخص کیا تھا؟ بدّیہاتی تھا، کیا تھا؟ بدوی، دیہاتی۔ "فَقَالَ" تو اس نے کہنے، اس نے کہا: "يَا نَبِيَّ اللَّهِ" اے اللہ کے نبی! "مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا تَوَضَّأَ؟" "مَا تَرَى" آپ کی کیا رائے ہے، بھئی؟ آپ کیا فرماتے ہیں "فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ" مرد کے اپنے ذکر کو چھونے کے بارے میں "بَعْدَ مَا تَوَضَّأَ" بعد اس نے کہ جب اس نے وضو کر لیا۔ یعنی کوئی شخص وضو کرنے کے بعد اگر اپنے ذکر کو ہاتھ لگا دے تو اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، کیا اس کا وضو ٹوٹے گا یا اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا؟ یہ اس نے پوچھا۔ "فَقَالَ" حضور نے جواب میں فرمایا: "هَلْ هُوَ إِلَّا بُضْعَةٌ مِنْهُ؟" "هَلْ هُوَ إِلَّا بُضْعَةٌ مِنْهُ" بھئی۔ "هَلْ" یہاں نفی کے معنیٰ میں ہو گا، بھئی۔ نہیں ہے وہ مگر ایک ٹکڑا ہی اس شخص میں سے۔ وہ، بھئی، جیسے اور جسم کے اعضاء ہیں، جسم کے حصے ہیں، اسی طرح وہ بھی جسم کا ایک حصہ ہے اور اعضاء کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو اس اور اعضاء کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو ذکر کو بھی ہاتھ لگانے سے لازمی بات ہے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو حضور نے فرمایا: "هَلْ هُوَ إِلَّا بُضْعَةٌ مِنْهُ؟" نہیں ہے مگر وہ ایک ٹکڑا ہی گوشت کا "مِنْهُ" اس شخص میں سے۔ "وَهَذَا هُوَ الْقِيَاسُ" اور یہی تو قیاس ہے۔ دیکھا حضور علیہ السلام سے اس شخص نے کیا پوچھا کہ ذکر کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ یہ بھی تو اس شخص میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے، اس کے بدن کا ایک عضو ہی تو ہے اور جیسے باقی اعضاء کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا تو اس کو بھی یقیناً ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو اس یہی دیکھا قیاس کیا باقی اعضاء پر، بھئی۔ "وَسُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ" اور یہ اب دیکھا، صحابی، آثار میں سے بھی، بھئی، دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ "سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا "عَمَّنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً" اس شخص کے بارے میں "تَزَوَّجَ امْرَأَةً" جس نے کسی عورت سے نکاح کیا "وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا" اور اس عورت کے لیے کوئی مہر متعین نہیں کیا "وَقَدْ مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ الدُّخُولِ" اور اس عورت سے اس کا خاوند مر گیا، صحبت کرنے سے پہلے ہی، بھئی۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور مہر مقرر نہیں کیا اور پھر صحبت سے پہلے ہی اس شخص کو موت آ گئی، وہ مر گیا، تو اب سوال پیدا ہوا کہ اب اس عورت کو کیا ملے گا؟ مہر تو اس نے کوئی مقرر نہیں کیا اور صحبت سے پہلے مر گیا ہے، تو عورت کو کیا ملے گا؟ "فَاسْتَمْهَلَ شَهْرًا" تو حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہلت طلب کی ایک مہینے کی۔ "فَاسْتَمْهَلَ" مہلت طلب کی۔ "شَهْرًا" ایک مہینے کی۔ سمجھ میں آیا؟ تاکہ وہ غور و فکر کریں، بھئی، جواب کے بارے میں، قرآن و حدیث سے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ "ثُمَّ قَالَ" لیکن ایک مہینے میں ان کو قرآن و حدیث سے نہیں ملا جواب، بھئی۔ "قَالَ" تو فرمایا، جب مدت گزر گئی تو فرمایا: "أَجْتَهِدُ فِيهِ بِرَأْيِي" میں اس کے جواب میں کیا کروں گا؟ اپنی رائے کے ساتھ اجتہاد کرتا ہوں۔ "فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ" اگر درست ہوا تو یہ کس کی جانب سے ہو گا؟ اللہ کی طرف سے ہو گا۔ "وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" تو یہ ابنِ امِ عبد کی طرف سے ہو گا۔ یہ ان کی کنیت ہے، بھئی۔ ابنِ امِ عبد کی طرف، یعنی میری طرف سے ہو گا۔ اگر جواب درست، میں قیاس کرتا ہوں، درست ہوا تو یہ کس کی طرف سے ہو گا؟ من جانبِ اللہ الہام ہو گا، بھئی، اس کو سمجھنا اور اگر غلطی ہوئی تو یہ میری ہی طرف اس کی نسبت کرنا کہ میں نے غلطی کی، بھئی۔ "فَقَالَ" پس فرمانے، فرمانے لگے: "أَرَى لَهَا مَهْرَ مِثْلِ نِسَائِهَا" میرا، میں گمان کرتا ہوں اس عورت کے لیے اس جیسی "نِسَائِهَا" اس جیسی عورتوں کے مثل مہر کا۔ سمجھ میں آیا؟ اس عورت کے لیے کیا میں گمان کرتا ہوں؟ مہرِ مثل کا گمان کرتا ہوں کہ اسے مہرِ مثل ملے گا۔ "لَا وَكَسَ فِيهَا وَلَا شَطَطَ" نہ تو اس میں کچھ کمی ہو "وَلَا شَطَطَ" اور نہ زیادتی۔ وکس کا معنیٰ کمی، شطط کا معنیٰ زیادتی۔ میں تو فرمایا کہ: "میرا گمان یہ ہے کہ اس عورت کو کیا ملے گا؟ مہرِ مثل ملے گا۔ نہ تو اس میں کچھ کمی کی جائے گی اور نہ اس میں کچھ زیادتی کی جائے گی۔" یہ دیکھا حضرت ابن عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں مولانا، وہ کیا کر رہے ہیں؟ قیاس کر رہے ہیں، اجتہاد کر رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بعد میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کو کسی نے بتلایا کہ حضرت آپ نے تو قیاس سے بات بتلائی اور واقعی اسی طرح حدیث میں حضور نے فرمایا ہے اسی طرح۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی اور صحابی نے کسی نے بتلایا بھئی کہ اسی طرح حضور نے فرمایا بھی ہے، تو کہتے ہیں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بڑے خوش ہوئے، بڑے خوش ہوئے کہ میری رائے حضور علیہ السلام کے قول کے موافق ہو گئی بھئی، ان کے قول کے کیا ہو گئی؟ موافق ہو گئی، بڑے خوش ہوئے۔ جی یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہاں کچھ حدیثیں ذکر کیں، اخبار اور پھر صحابہ کے آثار وغیرہ ذکر کیے، ادلہ شرعیہ، دلیلیں ذکر کیں جن کے ذریعے قیاس ثابت ہوتا ہے۔ جی آگے دیکھیے: فصلٌ، شروط صحۃ القیاس خمسۃٌ بھئی۔ قیاس کے صحیح ہونے کی شرائط پانچ ہیں بھئی۔ یہ نہیں بھئی جو بھی قیاس کر لیا جائے صحیح ہے، صحیح ہے، نہیں بھئی نہیں! قیاس کے صحیح ہونے کے لیے کیا ہیں؟ بہت سے شرائط ہیں مولانا، مجتہد ہو بھئی اور قرآن کا ماہر ہو اور حدیث کا ماہر ہو وغیرہ، صحابہ وغیرہ کے اقوال کا پتہ ہو اسے سارا کچھ، پھر جا کے کہیں قیاس کرے گا اور پھر بھی قیاس کے اندر کیا دیکھیں گے؟ پانچ شرطیں ہم دیکھیں گے پھر قیاس قابل قبول ہو گا ورنہ قیاس قابل قبول نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں شروط صحۃ القیاس خمسۃٌ، قیاس کے صحیح ہونے کی شرطیں پانچ ہیں۔ احدھا، پہلی شرط یہ ہے، ان میں سے ایک یہ ہے: ان لا یکون فی مقابلۃ النص، کہ وہ قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو بھئی۔ وہ قیاس کیا ہے؟ نص کے مقابلے میں نہ ہو بھئی۔ آگے بھئی سب کی مثالیں بھی ذکر کریں گے۔ والثانی، دوسری شرط یہ ہے: ان لا یتضمن تغییر حکمٍ من احکام النص، کہ وہ قیاس متضمن نہ ہو نص کے احکام میں سے کسی حکم کے بدلنے کو۔ لا یتضمن، وہ قیاس متضمن نہ ہو نص کے احکام میں سے کسی حکم کو بدلنے کو۔ یعنی اس قیاس کی وجہ سے نص کے احکام میں سے کسی حکم میں کوئی تبدیلی نہ آئے، اگر نص کے کسی حکم میں تبدیلی آتی ہے قیاس کی وجہ سے تو یہ قیاس پھر قابل قبول نہیںے۔ والثالث، تیسری شرط یہ ہے: ان لا یکون المعدی حکماً لا یعقل معناہ، کہ وہ جو معدی ہے یعنی جس کو متعدی کیا گیا ہے، کس کو؟ وہ جس کو متعدی کیا گیا ہے وہ ایسا حکم نہ ہو لا یعقل کہ عقل میں نہ آتی ہو معناہ یعنی علتہ، یعنی اس کی علت۔ معنا کس معنی میں ہے؟ علت بھئی۔ جی کیا کہہ رہے ہیں؟ معدی وہ حکم جس کو کیا گیا؟ متعدی کیا گیا۔ وہ حکم جس کو متعدی کیا گیا ہو وہ ایسا حکم نہ ہو کہ عقل میں نہ آتی ہو اس کی علت بھئی۔ بھئی قیاس کب کریں گے؟ جب عقل میں اس کی علت آئے گی، ہمیں سمجھ میں آئے گی تو پھر کیا کریں گے؟ پھر قیاس کیا جائے گا۔ اگر ایک چیز کی علت ہمیں عقل کے اعتبار سے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کی کیا علت ہے تو وہاں پر حکم کو متعدی کرنا صحیح نہیں ہے۔ والرابع، چوتھی قسم یہ، چوتھی شرط یہ ہے: ان یقع التعلیل لحکمٍ شرعیٍ لا لامرٍ لغویٍ، کہ تعلیل کس کے لیے ہو؟ حکم شرعی کے لیے ہو، امر لغوی کے لیے نہ ہو۔ تعلیل کا معنی علت بیان کرنا، علت نکالنا۔ کہ یہ علت کسی حکم شرعی کے نکالنے کے لیے ہو، کسی حکم لغوی کے لیے نہ ہو۔ اس لیے کہ ہماری بحث کس سے چل رہی ہے بھئی؟ احکام شرعیہ سے ہم بات کر رہے ہیں تو یہ قیاس بھی کس کے لیے ہونا چاہیے؟ حکم شرعی کے لیے ہونا چاہیے، کسی حکم لغوی کے لیے نہیں، اس لیے کہ لغت کی باتیں قیاس کے ذریعے ثابت کرنا صحیح نہیں، جی یہ بات بھی آ گیا۔ والخامس، پانچویں شرط یہ ہے: ان لا یکون الفرع منصوصاً علیہ، کہ فرع منصوص علیہ نہ ہو۔ یعنی اس کے بارے میں کوئی نص نہ آئی ہو بھئی، اگر اس کے بارے میں نص آئی ہے تو اس کا حکم تو نص سے ہی پتہ چل گیا، اب قیاس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کتنی شرطیں ہوئیں قیاس کے صحیح ہونے کے لیے؟ پانچ۔ پہلی شرط کیا ہے؟ کہ وہ قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو، دوسرا اس کی وجہ سے نص کے احکام میں سے کسی حکم کے اندر کوئی تبدیلی نہ آ رہی ہو، تیسری شرط مولانا کہ وہ حکم جس کو متعدی کیا گیا ایسا نہ ہو جو عقل میں آنے والا نہ ہو، اس کی علت ہمیں جیسے، چلیے آگے مثال بھی آ جائے گی، جیسے مولانا قہقہہ ہے اس کی وجہ سے کیا ہے؟ نماز میں اگر کسی نے قہقہہ لگایا تو اس کی نماز بھی ٹوٹ جائے گی اور وضو بھی، وضو کیوں ٹوٹے گا؟ کوئی علت آپ کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہیں، تو یہ دیکھا، لیکن شریعت، حدیث میں آ رہا ہے کہ اس سے کیا ہو جائے گا اس سے؟ وضو ٹوٹ جائے گا، تو یہ ایسی علت، اس کی علت عقل میں آنے والی نہیں بھئی، کیوں ٹوٹا؟ کیا وجہ ہے؟ خروج نجاست تو پایا نہیں گیا۔ چوتھی مولانا، شرط یہ ہے کہ وہ علت بیان کرنا کسی حکم شرعی کے لیے ہو، کسی امر لغوی کے لیے نہ ہو اس لیے کہ امر لغوی میں کو قیاس کے ذریعے ثابت کرنا صحیح نہیں اور ہماری بحث ویسے بھی یہاں پر کس میں چل رہی ہے؟ احکام شرعیہ میں چل رہی ہے، امور لغویہ کے اندر نہیں۔ پانچویں شرط یہ ہے مولانا کہ فرع منصوص علیہ نہ ہو یعنی اس کے بارے میں کوئی نص نہ آئی ہو، نص نہ آئی ہو۔ اگر نص آئی ہو پھر قیاس کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ ومثال القیاس فی، اب ہر ایک کی مثالیں ذکر کریں گے۔ پہلی شرط کیا بیان کی بھئی؟ کہ قیاس صحیح ہونے کی پہلی شرط کیا ہے کہ وہ نص کے مقابلے میں نہ ہو، تو اب کہہ رہے ہیں: ومثال القیاس فی مقابلۃ النص، اور مثال اس قیاس کی جو نص کے مقابلے میں ہو فی ما اس مسئلے میں ہے، اس روایت میں ہے، حکَی، جہاں حکایت کی گئی ہے کہ ان الحسن بن زیادٍ، کہ حسن بن زیاد جو ہیں یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بڑے تلامذہ، بڑے شاگردوں میں سے ہیں بھئی، یہ قاضی بھی تھے۔ ان سے پوچھا گیا، زیاد بن حسن جو ہیں سُئل، ان سے سوال کیا گیا عن القہقہۃ فی الصلاۃ، نماز میں قہقہہ کے بارے میں بھئی، کسی شخص نے نماز میں قہقہہ کے بارے میں سوال کیا، کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا؟ انہوں نے جواب میں کیا فرمایا کہ ہاں اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ فقال، ان سے سوال کیا گیا نماز میں قہقہہ کے بارے میں فقال، تو انہوں نے جواب میں فرمایا: انتقضت الطہارۃ بہا، طہارت اس سے ٹوٹ جائے گی یعنی وضو اس سے ٹوٹ جائے گا۔ قال السائل، تو سوال کرنے والا کہتا ہے: لو قذف محسنۃً فی الصلاۃ، اگر کسی نے تہمت لگائی پاک دامن عورت پر، محسنہ یعنی پاک دامن، اگر کسی نے تہمت لگائی پاک دامن عورت پر فی الصلاۃ، نماز کے اندر لا ینتقض بہ الوضوء، اس سے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ مع ان قذف المحسنۃ اعظم جنایۃً، باوجود اس کے کہ پاک دامن عورت پر تہمت لگانا یہ زیادہ بڑا ہے جنایۃً بااعتبار جرم کے۔ بھئی نماز میں قہقہہ لگانا بڑا جرم ہے کہ پاک دامن عورت پر تہمت لگانا بڑا جرم ہے؟ پاک دامن عورت پر تہمت لگانا بڑا جرم ہے، تو جب نماز میں کہنے والا کہہ رہا ہے کہ جب نماز میں کوئی پاک دامن عورت پر تہمت لگائے تو اس کے بارے میں یا اس سے تو وضو نہیں ٹوٹتا، صرف کیا ٹوٹتی ہے؟ نماز۔ تو جب بڑے جرم کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا تو چھوٹا جرم یعنی قہقہہ اس کی وجہ سے بھی وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، تو دیکھو یہ قیاس کر رہا ہے مولانا، کیا کر رہا ہے؟ قیاس کر رہا ہے کہ بڑے جرم کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا تو چھوٹے جرم کی وجہ سے بھی وضو قہقہہ کی وجہ سے بھی وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، تو کہتے ہیں یہ قیاس مولانا باطل ہے، کیوں باطل ہے؟ اس لیے کہ یہ نص کے مقابلے میں آ رہا ہے، نص سے تو کیا ثابت ہو رہا ہے قہقہہ کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے اس قیاس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کہ قہقہہ سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے، جیسے کہ پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، تو یہ قیاس کیا ہوا؟ کس کے مقابلے میں آیا؟ نص، اور جو قیاس نص کے مقابلے میں ہو وہ درست نہیں ہے۔ تو کہنے لگا: فکیف ینتقض بالقہقہۃ، تو کیسے وضو ٹوٹے گا قہقہہ کے سبب سے؟ وہی دونہ، حال یہ ہے کہ قہقہہ اس سے کم درجے کا ہے۔ قذف محسنہ سے کیا ہے قہقہہ؟ کم درجے کا ہے۔ فہذا قیاسٌ فی مقابلۃ النص، تو یہ قیاس، یہ وہ قیاس ہے جو نص کے مقابلہ میں ہے، وہو حدیث الاعرابی الذی فی عینہ سوءٌ، اور وہ نص کیا ہے؟ وہ حدیث اعرابی ہے، وہ اعرابی الذی فی عینہ سوءٌ جس کی آنکھ میں خرابی تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مسجد نبوی میں آئے اور کسی گڑھے میں گر گئے اور آخری صف میں کھڑے ہوئے کچھ صحابہ نے کیا کیا؟ قہقہہ لگایا، تو حضور نے فرمایا کہ جس نے قہقہہ لگایا ہے وہ وضو کو بھی لوٹائے اور نماز کو بھی لوٹائے، تو نص سے ثابت ہوا کہ قہقہہ سے کیا ہے وضو، نماز میں قہقہہ لگایا تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اس قیاس سے کیا ثابت ہو رہا ہے کہ وضو نہیں ٹوٹتا۔ وکذلک اذا قلنا جاز حج المرأۃ مع المحرم، مع المحرم فیجوز مع الامینات۔ یاد رکھو عند الاحناف بھئی، عورت حج کے لیے جاتی ہے کسی محرم کے ساتھ تو جا سکتی ہے۔ محرم یعنی وہ رشتہ دار قریبی جن کے ساتھ اس کا نکاح کیا ہے کبھی بھی جائز نہ ہو، تو عورت اگر کسی محرم کے ساتھ جائے سفر وغیرہ پر جائے، حج پر جائے تو جا سکتی ہے، لیکن اگر محرم نہیں تو عورت کا حج پر جانا درست نہیں عند الاحناف بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے محرم کے ساتھ عورت جا سکتی ہے حج کے لیے، اسی طرح امانت دار عورتوں کے ساتھ، قابل اعتماد عورتوں کے ساتھ بھی حج پر جا سکتی ہے۔ کیا کر سکتی ہے؟ وہ قیاس کرتے ہیں اس کو محرم پر جانے کے ساتھ، محرم پر جانے کی وجہ سے چونکہ عورت محفوظ و مامون ہو جاتی ہے لہٰذا اور یہی علت موجود ہے اس صورت میں بھی جبکہ عورت کس کے ساتھ جائے؟ بااعتماد عورتوں کے ساتھ جائے، جب بااعتماد عورتوں کے ساتھ جائے گی تو بھی عورت کیا ہو گی؟ محفوظ اور مامون ہو گی، اس کی عزت محفوظ ہو گی لہٰذا اب ان کے ساتھ جانا بھی جائز۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں آ رہا بھئی؟ ہمارے نزدیک محرم کے علاوہ نہیں جا سکتی کسی کے ساتھ حج کے لیے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے محرم کے ساتھ جا سکتی ہے اسی طرح بااعتماد عورتوں کے ساتھ بھی جا سکتی ہے اس لیے کہ محرم کے ساتھ جیسے اس کی عزت محفوظ ہے وہ مامون ہے اسی طرح بااعتماد عورتوں کے ساتھ بھی جائے گی تو اس کی عزت کیا ہے؟ محفوظ ہے۔ فتنے وغیرہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ درست نہیں، یہ تو آپ نے ایسا قیاس کیا ہے جو نص کے مقابلے میں ہے اور جو قیاس نص کے مقابلے میں ہو وہ قبول نہیں کیا جائے گا لہٰذا ہمارے نزدیک نہیں جا سکتی۔ جی، وکذلک اذا قلنا، اور اسی طرح جب ہم نے یہ کہا جاز حج المرأۃ مع المحرم، جب عورت کا کہ عورت کا حج کرنا جائز ہے محرم کے ساتھ فیجوز مع الامینات، اسی طرح اگر ہم یہ کہیں، یوں کرو ترجمہ، اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ عورت کا حج کرنا محرم کے ساتھ جائز ہے فیجوز مع الامینات، تو جائز ہے کس کے ساتھ؟ امانت دار عورتوں کے ساتھ، قابل اعتماد عورتوں کے ساتھ بھی حج جانا جائز ہو گا، کان ہذا قیاساً بمقابلۃ النص، تو یہ بھی قیاس ہو گا کس کے مقابلہ میں؟ نص کے مقابلہ میں، وہو قولہ علیہ السلام، اور وہ نص کیا؟ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: لا یحل لامرأۃٍ، حلال، جائز نہیں ہے کسی عورت کے لیے، حلال نہیں ہے کسی عورت کے لیے تؤمن باللہ والیوم الآخر، وہ عورت جو ایمان رکھتی ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ان تسافر فوق ثلاثۃ ایامٍ، کہ وہ سفر کرے فوق ثلاثۃ ایامٍ ولیالیہا، تین دن اور راتوں سے زیادہ، تین دن تین راتوں سے زیادہ سفر کرے الا ومعہا ابوہا او زوجہا او ذو رحمٍ محرمٍ منہ، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا خاوند ہو یا اس عورت کا کوئی ذو رحم، ذو رحم یعنی قریبی رشتہ دار، محرم جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو، کوئی یا اس کے ساتھ کوئی ایسا قریبی رشتہ دار ہو جو محرم ہو بھئی، جو کیا ہو؟ تو حدیث میں کیا آیا کہ حلال نہیں ہے کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے، اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ وہ سفر کرے تین دن تین رات سے زیادہ مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا اس کا خاوند ہو یا اس کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار، دیکھا حصر ہے، مگر یہ ہوں تو پھر جا سکتی ہے۔ تو حدیث میں کیا آیا حصر کے طریقے پر آ رہا ہے، انہی کے ساتھ جا سکتی ہے اور نہیں جا سکتی، تو اب اگر ہم قیاس کریں کہ نہیں جیسے محرم کے ساتھ کیوں یہ حکم ہے کہ محرم کے کیا ہے اس کی اس کی عزت و آبرو محفوظ رہتی ہے، فتنے کا کوئی خوف نہیں ہوتا، اسی طرح اگر امانت دار قابل اعتماد عورتوں کے ساتھ بھی جائے تو یہ بھی کیا ہو گا؟ جائز ہو گا، تو کیونکہ وہاں پر بھی کسی فتنے وغیرہ کا خطرہ اس کے لیے نہیں، کہتے ہیں بھئی یہ قیاس نص کے مقابلے میں ہے، اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے حصر کے طریقے پر، عورت نہیں جا سکتی کسی صورت میں تین دن تین رات کی مسافت کے سفر پر مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا خاوند ہو یا کوئی محرم قریبی رشتہ دار، دیکھا حصر ہے، مگر یہ ہوں تو پھر جا سکتی ہے، تو یہ تو نص میں تو حصر آ گیا، تو لہٰذا قیاس کے ذریعے کیا ہو جائے گا؟ اس حصر کے، قیاس کیا ہے اس حصر کے خلاف ہو جاتا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ قیاس ہوا نص کے مقابلہ میں لہٰذا یہ قیاس صحیح نہیں، چلیے بس مولانا، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 105 of 123