Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-102

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 02 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 40
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وکذا لو اثبتنا ان ترتب الحكم على اسم موصوف بصفة لا يوجب تعليق الحكم به قلنا: طول الحرة لا يمنع جواز نكاح الامة، اذ صح بنقل السلف ان الشافعي رحمه الله تعالى فرع مسالة طول الحرة على هذا الاصل. اجماع مرکب کی قسم، عدم القائل بالفصل کی بحث چل رہی ہے بھئی۔ تو مصنف نے اپ کو گزشتہ سبق میں اپ نے پڑھا بھئی، کہ عدم القائل بالفصل جو ہے اجماع کی ایک عجیب قسم ہے۔ اور یہ کسے کہتے ہیں؟ کہ دو اختلافی مسئلے ہوں، اور ان میں سے ایک مسئلہ جب کسی امام کے نزدیک ثابت ہوگا، تو یقیناً دوسرا مسئلہ بھی ثابت ہوگا۔ اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں۔ اور اگر ایک امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں ہوگا، تو دوسرا مسئلہ بھی ثابت نہیں ہوگا، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کا قائل کوئی بھی نہیں ہے کہ ایک امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت ہو اور دوسرا مسئلہ ثابت نہ ہو۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ دو قسم پر ہے۔ ایک قسم وہ جس میں اختلاف کا منشا، اختلاف کی بنیاد ایک ہی ہو بھئی۔ یعنی ایک ہی اصول میں اختلاف جو ہے اس کی بنیاد ہو۔ تو دونوں مسئلے ایک ہی اصول پر متفرع ہو رہے ہیں، تو اس ایک ضابطے اور اس ایک قانون میں اختلاف کی وجہ سے ان دونوں مسئلوں میں بھی اختلاف ایا، کیونکہ یہ دونوں مسئلے کس سے متفرع ہو رہے ہیں؟ اسی ایک ضابطے سے، اور اس ضابطے میں دونوں کا ائمہ کا اختلاف ہے۔ تو جو امام اس ضابطے کا قائل ہوگا اس کے نزدیک دونوں مسئلے ثابت ہوں گے، اور جو امام اس ضابطے کا قائل نہیں، اس کو تسلیم نہیں کرتا، اس کے نزدیک دونوں مسئلے ثابت نہیں ہوں گے، تو اختلاف کی بنیاد دیکھا ایک ہی ہے، ایک ہی ضابطے میں اختلاف اس کی بنیاد بنا بھئی، اس کی وجہ بنا۔ اور کبھی منشائے اختلاف مختلف ہوگا، یعنی دونوں مسئلے دو الگ الگ اصولوں پر متفرع ہو رہے ہیں، اور ان دونوں اصولوں میں دونوں ائمہ کا اختلاف ہے بھئی۔ ان دونوں ائمہ کا، ایک امام ان دونوں اصولوں کو تسلیم کرتا ہے، ان دونوں اصولوں کا قائل ہے، تو اس کے نزدیک یہ دونوں مسئلے جو ایک ایک الگ الگ اصولوں پر متفرع ہو رہے ہیں، یہ دونوں بھی اس کے نزدیک ثابت ہوں گے بھئی، کیونکہ وہ کیا ہے؟ دونوں اصولوں کا قائل ہے، تو دونوں مسئلے جو ان پر متفرع ہو رہے ہیں، ان کا بھی قائل ہوگا، اور دوسرا امام ان دونوں ضابطوں کا قائل نہیں ہوگا، تو اس کے نزدیک دونوں مسئلے بھی ثابت نہیں ہوں گے بھئی۔ تو منشائے اختلاف دیکھو مختلف ہیں، دو الگ الگ اصول ہیں، ان میں اختلاف کی وجہ سے ان دو مسئلوں میں بھی ان دونوں کے درمیان کیا آیا ہے؟ اختلاف آیا ہے۔ کچھ مثالیں کل گزر گئی تھیں، آج کہہ رہے، آج اور مثالیں کچھ ذکر کریں گے بھئی۔ بھئی، آپ نے بیانِ تغییر کی بحث کے اندر پڑھا تھا بھئی، کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جب کوئی حکم، جب کسی حکم کو معلق کیا جائے شرط کے ساتھ، تو شرط پائی جائے گی تو حکم بھی پایا جائے گا، شرط نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا۔ یہ تو ان کے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع ہے۔ عدمِ شرط کیا ہے حکم سے؟ یعنی جب شرط نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں، شرط نہ پائی جائے تو یہ ضروری نہیں کہ حکم بھی نہ ہو، حکم بلکہ ہو سکتا ہے حکم کسی اور دلیل سے ثابت ہو جائے، حکم کسی اور دلیل سے ثابت ہو جائے۔ اس کی مثال گزری تھی بھئی، قرآن میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: "ومن لم يستطع منكم طولا ان ينكح المحصنات المؤمنات فمن ما ملكت ايمانكم من فتياتكم المؤمنات" بھئی۔ بھئی، بیانِ تغییر میں آپ نے یہ بحث پڑھی تھی بھئی، کہ قرآن، یہ بحث ہوئی تھی، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں کہ جو تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا، قدرت نہیں رکھتا کہ وہ نکاح کر لے محسناتِ مؤمنات سے محسناتِ کہ وہ با عفت مؤمنہ عورتوں سے نکاح کر لے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تو فمن ما ملكت ايمانكم، تو ان میں سے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، یعنی اپنی باندیوں سے نکاح، من فتياتكم المؤمنات، یعنی کہ جو تمہاری مؤمنہ باندیاں ہیں۔ یعنی کہ جو تمہاری، تو جو مؤمنہ باندیاں ہیں ان سے نکاح کر لو۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ جو تم میں سے آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا، وہ مؤمنہ باندیوں سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے۔ تو یہاں پر باندیوں کے ساتھ نکاح کو معلق کیا گیا آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہونے پر، کہ آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہو تو پھر کس سے نکاح کر سکتے ہو؟ باندیوں سے۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شرط پائی جائے گی تو حکم بھی پایا جائے گا، شرط نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں، باندیوں سے نکاح کرنا اسی وقت جائز ہوگا جب آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہو، اور اگر آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہے تو باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوگا۔ جبکہ ہمارے نزدیک تو عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں، لہٰذا اگر شرط نہ پائی گئی، یعنی آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہوئی، تو بھی باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، بحث وہاں گزر چکی مفصل بھئی، باندی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اور پھر اسی پر آگے مزید آپ نے پڑھا تھا کہ اگر کوئی حکم مرتب ہو کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ، کوئی حکم کیا ہو؟ جب کوئی اسم مرتب، کوئی حکم مرتب ہو کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ، تو یہ جو صفت جو ہے یہ بھی شرط کے درجے میں ہوگی، یہ صفت پائی جائے گی تو وہ حکم بھی پایا جائے گا، یہ صفت نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا، جیسے اللہ نے قرآن میں ذکر کیا "من فتياتكم المؤمنات" بھئی، تو باندیوں کے ساتھ جوازِ نکاح، نکاح کے جائز ہونے کو مرتب کیا کس پر؟ فتياتكم، ذکر ہے اسم اور آگے کیا ذکر ہو رہی ہے اس کی صفت؟ کہ باندیاں کس قسم کی ہوں؟ مؤمن ہوں، مؤمنہ ہوں۔ باندیاں کیا ہوں؟ مؤمنہ ہوں۔ تو باندیوں کے ساتھ جوازِ نکاح مولانا مرتب ہو رہا ہے ایسے اسم پر جو کسی صفت کے ساتھ موصوف ہے بھئی، صفت کے ساتھ موصوف ہے، اور صفت کس کے درجے میں ہے ان کے نزدیک؟ شرط کے درجے میں، تو جیسے عدمِ شرط حکم سے مانع ہے، اسی طرح عدمِ صفت بھی کیا ہوگی؟ حکم سے مانع، تو باندیوں سے نکاح اسی وقت جائز ہوگا جبکہ وہ مؤمنہ ہوں، اگر وہ مؤمنہ نہیں تو ان کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ صفت کیا ذکر ہوئی ہے فتيات کی؟ مؤمنات ذکر ہوئی ہے، تو وہ مؤمنات ہوں گی تو نکاح بھی جائز ہوگا، وہ مؤمنات نہیں تو نکاح بھی جائز نہیں، تو عدم، جیسے عدمِ شرط حکم سے مانع ہے، یعنی جب انتفائے شرط ہوتا ہے تو انتفائے حکم، اسی طرح عدمِ صفت بھی ان کے نزدیک حکم سے مانع، یعنی جب انتفائے صفت ہوگا تو انتفائے حکم بھی، جب صفت منتفی ہو جائے گی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ تو باندیاں مؤمنہ ہوئیں تو نکاح جائز ہوگا، باندیاں مؤمنہ نہ ہوئیں تو ان کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک جیسے عدمِ شرط حکم سے مانع نہیں، اسی طرح عدمِ صفت بھی حکم سے مانع نہیں، حکم سے مانع نہیں، تو لہٰذا باندیوں سے نکاح جائز ہے، چاہے مؤمنہ ہوں یا کس میں سے ہوں؟ اہلِ کتاب، یعنی مؤمنہ نہ ہوں، اہل کتَاب میں سے ہوں، ان سے بھی نکاح جائز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جیسے اس ضابطے پر یہ مسئلہ متفرع ہوا، کہ ہمارے نزد، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا مسئلے متفرع ہوئے؟ کہ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے، اسی کی طرح ہے عدمِ صفت بھی حکم سے مانع ہے، یہ ضابطہ ہے، ان کے نزدیک کیا ضابطہ ہے کہ عدمِ صفت بھی حکم سے مانع ہے۔ اور جیسے کہ دوسرا ضابطہ کیا تھا؟ عدمِ شرط حکم سے مانع، تو جب عدمِ شرط حکم سے مانع ہے تو ان کے نزدیک آزاد عورت سے نکاح کی قدرت ہوتے ہوئے باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں، باندی کے ساتھ نکاح جائز نہیں، اسی طرح اسی ضابطے سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی، یہ مسئلہ بھی ثابت ہو گیا، کہ اہل کتاب باندیوں کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ عدمِ شرط کیا ہے؟ حکم سے مانع، یا یوں دو، اسی طرح عدمِ صفت بھی حکم سے مانع ہے، کیونکہ صفت بھی کس کے درجے میں ہوتی ہے؟ شرط، تو ضابطہ یہ ہے کہ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے، جب عدمِ شرط، یعنی شرط نہیں ہوگی تو حکم بھی نہیں، تو جب نکاح کی قدرت ہو کسی کو تو پھر اس کے لیے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح کتاب اللہ میں مؤمنات کا ذکر آیا ہے، تو لہٰذا ایسی باندیوں کے ساتھ نکاح جائز ہوگا جو کیا ہوں؟ مؤمنہ ہوں، جو مؤمنہ نہیں ان کے ساتھ نکاح بھی جائز نہیں، تو جو امام آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندیوں سے نکاح کا قائل ہے، آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندیوں سے نکاح کا قائل ہے، وہ اس بات کا بھی قائل ہوگا کہ اہلِ کتاب باندیوں سے بھی نکاح جائز ہے، بھئی ہمارے نزدیک کیا ہے؟ اہلِ کتاب باندیوں سے نکاح بھی جائز، وہ بھی اسی مسئلے پر متفرع ہوا ہے، اسی اصول پہ متفرع ہوا ہے یہ مسئلہ، اور دوسرا کیا ہے؟ آزاد عورت سے نکاح، قدرت، نکاح کی قدرت کے باوجود باندی سے نکاح کرنا جائز ہے، تو یہ دو مسئلے پکڑو بھئی۔ جس امام کے نزدیک آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندی سے نکاح کرنا جائز ہے، اس امام کے نزدیک اہلِ کتاب باندیوں سے نکاح کرنا بھی جائز ہوگا، اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں، اور جس امام کے نزدیک آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح جائز نہیں، اسی امام کے نزدیک اہلِ کتاب باندیوں سے نکاح بھی جائز نہیں، کیونکہ ان دونوں میں فرق کا قائل، قائل کوئی بھی نہیں ہے، تو ان دونوں مسئلوں میں سے ایک مسئلہ جس امام کے نزدیک ثابت ہوگا تو دوسرا مسئلہ بھی، اور جس امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں ہے تو دوسرا مسئلہ بھی اس کے نزدیک ثابت نہیں ہوگا، اس لیے کہ ان دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں ہے۔ بحث سمجھ میں آئی اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی۔ وکذا لو اثبتنا، اسی طرح اگر یہ ہم ثابت کر دیں، ان ترتب الحكم على اسم موصوف بصفة لا يوجب تعليق الحكم به، اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ حکم کا مرتب ہونا کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ، لا يوجب، یہ ثابت نہیں کرتا، تعليق الحكم به، کہ حکم معلق ہوگا اس صفت کے ساتھ۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کہ جب کیا ہوگا؟ کوئی حکم مرتب ہو کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کس کے ساتھ؟ کسی صفت کے ساتھ، یہ اس حکم کو اس صفت کے ساتھ معلق نہیں کرتا، اس حکم کو اس صفت کے ساتھ معلق نہیں کرتا۔ دیکھو بھئی، وہ حکم، یہ بات ذرا وہ آیت جو ہے، "من فتياتكم المؤمنات"، بھئی جوازِ نکاح کو کس کے ساتھ معلق کیا گیا ہے؟ جوازِ نکاح کو کس پر مرتب کیا گیا ہے؟ باندیوں پر، کس پر؟ باندیوں پر، اور "فتياتكم" یہ موصوف ہے، اس کی صفت کیا آ رہی ہے؟ "المؤمنات"، تو فتيات ایک اسم ہے جس پر جوازِ نکاح مرتب ہو رہا ہے، کیا حکم مرتب ہو رہا ہے؟ تو دیکھو، یہ ایک حکم ہے جو مرتب ہو رہا ہے ایسے اسم پر جس کی آگے کیا آ رہی ہے؟ صفت آ رہی ہے، اور جب حکم مرتب ہو کسی ایسے اسم پر جو، جس کے آگے صفت آ رہی ہو، تو یہ حکم اس صفت کے ساتھ معلق ہو جائے گا، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، یہ حکم کیا ہو جائے گا اس صفت کے ساتھ؟ کیونکہ وہ صفت شرط کے درجے میں ہے، تو یہ صفت ہوگی تو حکم ہوگا، صفت نہیں تو حکم بھی نہیں۔ وکذا لو اثبتنا، اگر ہم یہ ثابت کر دیں، ان ترتب الحكم على اسم موصوف بصفة، کہ حکم کا مرتب ہونا کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ، لا يوجب تعليق الحكم به، اي لا يثبت، یہ ثابت نہیں کرتا حکم کے معلق کرنے کو بہ، اي بذلك الصفت، اس صفت، اس صفت کے ساتھ حکم کے معلق ہونے کو ثابت نہیں کرتا، یعنی وہ حکم اس صفت کے ساتھ معلق نہیں ہوگا، اگر ہم یہ ثابت کر دیں، قلنا، تو ہم کہیں گے، قول الحرة لا يمنع جواز نكاح الامة، کہ طول کا معنی قدرت بھئی نکاح کی، آزاد عورت سے نکاح کی قدرت یہ منع کرنے والی نہیں ہے باندی سے نکاح کے جواز کو، آزاد عورت سے نکاح کی قدرت یہ منع کرنے والی نہیں ہے جواز نكاح الامة، باندی سے نکاح کے جواز کو، اذ صح بنقل السلف، اي صح اي ثبت، صح کس معنی میں ہے؟ ثبت، اس لیے کہ یہ بات ثابت ہوئی ہے سلف کے نقل کرنے سے، گزشتہ پچھلے علماء کے سلف کے نقل کرنے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے، ان الشافعي رحمه الله فرع مسالة طول الحرة على هذا الاصل، کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے تفریع کی ہے، یعنی نکاح، متفرع کیا، نکالا ہے، مسئلہٴ طولِ حرة کو، یعنی آزاد عورت سے نکاح کی قدرت والے مسئلے کو، علی هذا الاصل، اسی قانون پر، اس کو متفرع کیا ہے اسی قانون پر، کہ ان کے نزدیک جب حکم مرتب ہو کسی ایسے اسم پر جو موصوف ہو رہا ہو کسی صفت کے ساتھ، تو وہ حکم اس صفت کے ساتھ معلق ہو جائے گا، وہ صفت ہوگی تو حکم ہوگا، صفت نہیں تو حکم بھی نہیں۔ تو سمجھ میں آیا؟ اس سے سلف کی یعنی پچھلے علماء کے نقل کرنے سے کیا بات ثابت ہوئی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے آزاد عورت سے نکاح کے قدرت والا جو مسئلہ ہے، اس کو اسی ضابطے پر کیا کیا ہے؟ نکالا ہے اسی ضابطے پر۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ پہلے تو آپ نے کہا تھا وہ دوسرے مسئلے، دوسرے ضابطے پر متفرع ہے۔ کس ضابطے پر؟ کہ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے۔ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے اور یہ کون سا ضابطہ ہے؟ کہ عدمِ صفت حکم سے مانع ہے۔ عدمِ حکم کیا ہے صفت سے؟ مانع ہے۔ تو پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے طول الحرة والا مسئلہ کس پر نکالا ہے، کس ضابطے پر؟ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ سلف سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسئلہ ثابت ہے کس سے؟ کہ عدمِ صفت کس سے مانع ہے؟ حکم سے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ تو آپ کے کلام میں تناقض آیا۔ پہلے کوئی اور بات کی تھی، اب آپ نے کوئی اور بات کی۔ تو جواب اس کا یہ مولانا کہ بھئی وہ صفت بھی تو شرط کے درجے میں ہے۔ صفت کس کے درجے میں ہے ان کے نزدیک؟ شرط کے درجے میں ہے۔ تو دونوں میں کوئی تناقض نہیں۔ عدمِ شرط حکم سے مانع ہے یا عدمِ صفت حکم سے مانع ہے، اس لیے کہ صفت بھی کس کے درجے میں ہے؟ شرط ہی کے درجے میں ہے۔ تو گویا یہاں بھی وہی ضابطہ لگ گیا کہ عدمِ شرط کیا ہے؟ حکم سے مانع ہے۔ ایک ہی بات ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ولو اثبتنا اور اگر ہم ثابت کر دیں جواز نکاح الامة المؤمنة مع الطول کہ جائز ہے مومنہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا باوجود قدرت کے، آزاد عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، اگر ہم یہ ثابت کر دیں جاز نکاح الامة الكتابية بهذا الاصل تو جائز ہوگا کتابیہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا اسی ضابطے کے مطابق، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں۔ جب ایک مسئلہ ہمارے نزدیک ثابت ہے تو دوسرا مسئلہ بھی ثابت۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت نہیں تو دوسرا مسئلہ بھی ثابت نہیں ہوگا، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی امام ایک مسئلے کو تو مانتا ہو اور دوسرے کو نہ مانے۔ جو امام مانتا ہے، قائل ہے، وہ ان دونوں مسئلوں کا قائل ہے اور جو قائل نہیں تو ان دونوں مسئلوں کا قائل نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وعلى هذا مثاله اور اسی پر مثال ہے، ھذا کی ضمیر راجع ہے اجماع کو، اسی پر مثال ہے اجماعِ عدمِ قائل بالفصل کی ممَا ان مثالوں میں سے ذكرنا فیما سبق جو ہم نے ذکر کیں ماقبل کے اندر۔ وہ مثالیں جو ہم نے ماقبل میں ذکر کیں، انہی میں مثال ہے کس کی مولانا؟ اجماعِ عدم القائل بالفصل کی، اس اجماع کی جسے کیا کہتے ہیں؟ عدم القائل بالفصل۔ تو گزشتہ مثالوں میں اس کی اور بھی مثالیں ہیں بھئی، پہلے گزر چکی ہیں۔ بھئی کسی بھی ضابطے پر متفرع جس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہو، اس پر متفرع ہونے والے کوئی سے دو مسئلے پکڑ لیں۔ ہمارے نزدیک وہ ہمارے امام صاحب کے نزدیک وہ ضابطہ ہوگا تو وہ دونوں مسئلے جو اس قانون پر سے نکل رہے ہیں، وہ بھی دونوں ثابت ہوں گے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک مسئلہ کیا ہوگا؟ ثابت، وہ ضابطہ ہی مسلم، وہ ضابطے کو ہی تسلیم نہیں کرتے، ان کے نزدیک وہ ضابطہ مسلم نہیں، جب ضابطہ مسلم نہیں تو اس پر متفرع ہونے والے وہ دونوں مسئلوں کے قائل بھی نہیں ہوں گے، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی نہیں کہ ایک تو ثابت ہو مسئلہ اور دوسرا ثابت نہ ہو۔ ونظير الثاني اور ثانی کی نظیر مولانا اذا قلنا، ثانی کیا مولانا؟ وہ اجماع جس میں منشاِ اختلاف مختلف ہو، یعنی دونوں مسئلے کس پر مرتب ہو رہے ہوں؟ دو الگ الگ ضابطوں پر۔ اور ثانی کی نظیر اذا قلنا جب ہم نے یہ کہا کہ ان القئ ناقض کہ قے کیا ہے؟ ناقضِ وضو ہے، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ فيكون البيع الفاسد مفيدا للملك تو بیعِ فاسد جو ہے، وہ فائدہ دے گی ملکیت کا، لعدم القائل بالفصل اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں ہے۔ دونوں میں فرق کا قائل... جی، اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ قے ناقضِ وضو نہیں ہے، قے ناقضِ وضو ہے۔ بھئی ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے ناقضِ وضو نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو اس لیے ہے کہ اس میں خروجِ نجاست ہے مولانا، اور خروجِ نجاست ہو بدن سے تو اس سے وضو کیا ہو جائے گا؟ ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بدن سے خروجِ نجاست سے وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ احد السبيلين سے خروجِ نجاست ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹے گا ورنہ وضو... تو قے کی صورت میں خروجِ نجاست تو ہے لیکن احد السبيلين سے نہیں، لہٰذا ان کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو جب قے ناقض، ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے۔ اسی طرح ہمارے نزدیک بیعِ فاسد کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، اس لیے کہ بیعِ فاسد سے نہی آئی ہے اور بیع ہے افعالِ شرعیہ میں سے، اور افعالِ شرعیہ میں جب نہی آ جائے تو وہ اس فعل کے ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ تو نہی جب افعالِ شرعیہ میں آ جائے تو وہ فعلِ شرعی ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، تو لہٰذا بیع بھی افعالِ شرعیہ میں سے ہے، اس کے بارے میں جب نہی آ گئی تو یہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوا؟ مشروع اور وصف کے اعتبار سے... تو جب یہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہے تو قبضے کے بعد مشتری اس مبیع کا کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بیعِ فاسد مفید للملک نہیں، اس لیے کہ وہ اس ضابطے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہاں تو ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے، اسی طرح بیعِ فاسد مفید للملک، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے ناقضِ وضو نہیں، اسی طرح بیعِ فاسد مفید للملک بھی نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو اور ان دونوں، یہ دونوں مسئلے ایک ہی اصول پہ متفرع ہو رہے ہیں یا الگ الگ اصولوں پر بھئی؟ الگ الگ اصولوں پر متفرع ہو رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو اختلاف کا منشا دونوں میں مختلف ہے۔ تو یہ اجماع آپ کو مصنف نے بتلایا تھا حجت نہیں ہے، اجماع کی یہ قسم حجت نہیں ہے۔ جی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں دیکھیے، دوبارہ دیکھیے، اب مسئلہ سمجھیں۔ کہتے ہیں ثانی کی نظیر یہ ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ قے ناقض ہے تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ بیعِ فاسد مفید للملک ہے۔ جب قے ناقض ہے تو بیعِ فاسد بھی مفید للملک ہے، اور جب قے ناقض امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، قے جب ناقض نہیں تو بیعِ فاسد مفید للملک بھی نہیں، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل... جس امام کے نزدیک ایک مسئلہ ہے، دوسرا مسئلہ بھی اسی طرح ہے، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی نہیں، اور جس امام کے نزدیک قے ناقضِ وضو نہیں تو ان کے نزدیک بیعِ فاسد مفید للملک بھی نہیں ہے، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل نہیں۔ او يكون موجب العمد القود لعدم القائل بالفصل. جی، او يكون، اس کا عطف ہے فيكون پر، کس پر عطف ہے؟ اذا قلنا ان القئ ناقض فيكون، اس پر عطف ہے۔ یہ دوسری مثال اسی طرح بنا لیں کہ ہمارے نزدیک جب قے ناقض... یاد رکھو مولانا، قتلِ عمد کے بارے میں پہلے سن لو بھئی، جان بوجھ کر قتل کیا جائے کسی آلہِ قتل کے ساتھ بھئی۔ تو ہمارے نزدیک اس میں صرف قصاص آئے گا۔ کیا آئے گا؟ صرف قصاص آئے گا۔ اور دلیل اس کی کیا ہے؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص في القتلى. اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے اوپر فرض کر دیا گیا ہے قصاص کو فی القتلیٰ، قتلیٰ قتیل کی جمع ہے، قتیل بمعنی مقتول کے ہے بھئی، مقتولین کے بارے میں۔ مقتولین کے بارے میں تمہارے اوپر کیا فرض کر دیا گیا ہے؟ قصاص کو فرض کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے گا تو پھر صرف کیا کیا جائے گا اس سے؟ قصاص لیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ یا وہ معاف کر دیں وہ الگ بات ہے، یا صلح کر لیں کسی مال پر بھئی، یہ بھی کر سکتے ہیں، لیکن آئے گا قصاص یعنی دیت نہیں آئے گی۔ 100 اونٹ نہیں... جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قصاص یا دیت میں اختیار ہوگا۔ قصاص بھی آ سکتا ہے اور قصاص کے بجائے اگر دیت کو اختیار کریں تو دیت بھی لی جا سکتی ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس میں دیت نہیں لی جا سکتی، ہاں صلح ہو سکتی ہے۔ ایک شخص نے مثلاً دوسرے کو قتل کر دیا۔ تو اس مقتول کے ورثاء یا تو اس کو قصاصاً قتل کروا سکتے ہیں یا کیا کریں گے؟ یا معاف کر دیں بالکل، یا تیسری صورت کیا ہے کہ صلح کر لیں گے کہ ہمیں اتنا مال دے دو، ہم تمہیں... ہم تم سے قصاص نہیں لیں گے۔ اور وہ جو صلح والا مال ہے، وہ دیت سے چاہے زیادہ ہو چاہے کم ہو، جتنا بھی ہو جائے بھئی، لاکھ پر صلح کر لیں، دو لاکھ پہ، 10 پہ، 20 پہ، کروڑ پہ، جتنے بھی صلح کر لیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ جبکہ دیت تو صرف کتنی ہے؟ 100 اونٹ ہیں بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں اختیار ہے مولانا، قصاص بھی لیا جا سکتا ہے اور دیت بھی لی جا سکتی ہے بھئی، دیت بھی لی جا سکتی ہے، سمجھ میں آیا؟ ان کی دلیل بھئی، یہ آیت بھئی وہی آیت آگے کیا آتا ہے اس میں: فمن عفى له من اخيه شئ فاتباع بالمعروف، پس جس کے لیے معاف کر دیا گیا اس کے بھئی کی طرف سے کچھ، فاتباع بالمعروف تو اتباع کرنا ہے اچھے طریقے کے ساتھ، وا داء اليه باحسان اور ادائیگی کرنا ہے اس کو احسان نیکی کے ساتھ، اس کو نیکی کے ساتھ، جس کو اپنے بھئی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو اچھے طریقے سے اتباع کی پیروی کرنا ہے اور اس کو نیکی کے ساتھ ادائیگی کرنی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا اس سے معلوم کیا ہوا کہ قصاص بھی ہو سکتا ہے اور دیت بھی لی جا سکتی ہے، تو یہ ادا کرنے سے کیا مراد ہے؟ دیت کا ادا کرنا۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، دیت نہیں مراد بلکہ اس سے کیا مراد ہے؟ صلح والا مال مراد ہے دیت نہیں۔ تو ہمارے نزدیک موجبِ عمد یعنی موجبِ قتلِ عمد موجب... موجب بھئی، موجب، مقتضیٰ، موجبِ قتلِ عمد کیا ہے؟ قود ہے، یعنی صرف قصاص ہے۔ قود کسے کہتے ہیں؟ ہمارے نزدیک موجبِ قتلِ عمد صرف قصاص ہے، قتلِ عمد صرف قصاص کا تقاضا کرتا ہے، اس کی وجہ سے صرف کیا آئے گا؟ قصاص آئے گا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قصاص بھی آ سکتا ہے اور دیت بھی آ سکتی ہے، ہمارے نزدیک صرف قصاص آ سکتا ہے دیت نہیں آ سکتی۔ تو اب دو مسئلے ہیں: ہمارے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے۔ اور اسی طرح قتلِ عمد کا موجب کیا ہے؟ قصاص ہے۔ قتلِ موجب کا عمد کیا ہے؟ قصاص ہے، قتلِ عمد کا موجب قصاص۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے ناقض نہیں، اسی طرح قتلِ عمد کا موجب قصاص بھی نہیں۔ ان دونوں میں کوئی فصل کا قائل ہے؟ فصل کا قائل نہیں۔ جس جو امام قے کے جس امام کے نزدیک قے ناقضِ وضو ہے، اسی امام کے نزدیک قتلِ عمد کیا ہے؟ وہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ صرف قصاص کا تقاضا کرتا ہے، اس کا مقتضیٰ صرف اس کا موجب صرف قصاص ہے۔ تو جس امام کے نزدیک ایک مسئلہ ثابت ہے، دوسرا مسئلہ بھی اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں ہے۔ اور جس امام کے نزدیک قے ناقضِ وضو نہیں تو اس امام کے نزدیک قتلِ عمد کا موجب صرف قصاص بھی نہیں ہے۔ جب ایک مسئلہ نہیں ہے تو دوسرا مسئلہ بھی ان کے نزدیک نہیں، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا قائل کوئی بھی نہیں ہے کہ ایک مسئلہ تو اس کے نزدیک ثابت ہو اور دوسرا مسئلہ اس کے نزدیک ثابت نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور ان دونوں مسئلوں کے میں اختلاف کی بنیاد ایک ہی اصول ہے یا الگ الگ اصول ہیں؟ قے ناقضِ وضو ہے، اس میں الگ اصول میں اختلاف ہے بھئی، اسی طرح قتلِ عمد جو ہے، اس کا موجب صرف قود قصاص ہے، اس میں الگ اصول ہے، الگ دلیل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دونوں میں اختلاف کا منشا مختلف ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے دوبارہ، ونظير الثاني اور ثانی کی نظیر اذا وقلنا اگر ہم یہ کہیں کہ ان القئ ناقض کہ قے ناقض ہے فيكون البيع الفاسد مفيدا للملك تو بیعِ فاسد مفید للملک ہوگی لعدم القائل بالفصل اس لیے کہ دونوں میں فصل کا کوئی قائل نہیں، او يكون موجب العمد القود یا جیسے اگر ہم یہ کہیں کہ قے ناقض ہے تو قتلِ عمد کا موجب کیا ہوگا؟ قود یعنی قصاص ہوگا لعدم القائل بالفصل اس لیے کہ دونوں میں فصل کا قائل کوئی بھی نہیں ہے۔ وبمثل هذا اور اسی کے مثل ہے کہ القئ غير ناقض کہ قے جب غیر ناقض ہے فيكون المس ناقضا تو مسِ امرأة کیا ہوگا؟ ناقضِ وضو ہوگا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قے سے وضو ٹوٹتا ہے؟ نہیں ٹوٹتا، لیکن مسِ امرأة سے کیا ہے؟ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تو جب قے ناقض نہیں ہوگی تو مسِ امرأة، مسِ امرأة ناقض ہوگا، جب قے ناقض نہیں ہوگی تو مسِ امرأة ناقض ہوگا، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی قائل... اور جب قے ناقض ہوگی تو مسِ امرأة ناقض نہیں ہوگی، اس لیے کہ دونوں میں فرق کا کوئی بھی قائل... اور یہ دونوں مسئلے ایک ہی اصول پر متفرع ہو رہے ہیں یا الگ الگ؟ الگ الگ۔ وهذا ليس بحجة اور اجماع کی یہ قسم حجت نہیں ہے لان صحت الفرع وان دلت على صحت اصله ولكنها جی، یہ قسم حجت نہیں اجماع کی، اس لیے کہ ایک فرع کا صحیح ہونا یعنی ایک مسئلہ جو متفرع ہوا ہے ضابطے پر، اس ایک مسئلے کا صحیح ہونا وان دلت على صحت اصله وہ اگرچہ اس بات پر تو دلالت کرتا ہے کہ اس کی اصل بھی صحیح ہے یعنی اس کا ضابطہ اور قانون بھی، جب مسئلہ صحیح ہے تو معلوم ہوا جس ضابطے پر سے یہ نکلا ہے، وہ ضابطہ بھی کیا ہے؟ صحیح ہے، لیکن اس ایک اصل کے صحیح ہونے سے دوسرے اصل کے صحیح ہونا تو لازماً نہیں آتا، اور دوسرا مسئلہ تو کیا ہے؟ دوسرے اصل پر متفرع ہو رہا ہے۔ تو ایک اصل کے صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے ایک قانون کے ضابطے، قانون اور ضابطے کے صحیح ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا قانون اور ضابطہ بھی صحیح ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دونوں مسئلے تو دو مختلف ضابطوں پر متفرع ہو رہے ہیں، تو ایک کے صحیح ہونے سے دوسرے کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا، لہٰذا یہ حجت نہیں۔ وهذا ليس بحجة اور اجماع کی یہ قسم حجت نہیں ہے لان صحت الفرع اس لیے کہ ایک فرع کا صحیح ہونا وان دلت على صحت اصله اگرچہ یہ دلالت کرتا ہے اپنے قانون کے صحیح ہونے پر ولكنها لا توجب صحت اصل آخر لیکن یہ ثابت نہیں کرتا دوسرے قانون کے صحیح ہونے کو حتى تفرعت عليه المسئلة الاخرى. یہاں تک کہ اس پر متفرع کیا جائے دوسرا مسئلہ۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک کا ایک اصل صحیح ایک مسئلہ صحیح تو معلوم ہوا اس کا قانون بھی صحیح، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا قانون بھی صحیح ہو کہ اس پر ایک اس پر کسی مسئلے کو کیا کیا جائے؟ متفرع کیا جائے اور نکالا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 102 of 123