Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-098

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 48
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَبِاعْتِبَارِ هٰذَا الْمَعْنٰى قُلْنَا خَبَرُ الْوَاحِدِ إِذَا خَرَجَ مُخَالِفًا لِّلظَّاهِرِ لَا يُعْمَلُ بِهٖ بحث چل رہی ہے مولانا کہ خبر واحد پر عمل کرنے کی شرط ہے کہ وہ کتاب اللہ کے بھی خلاف نہ ہو، سنت مشہورہ کے خلاف بھی نہ ہو، اور ظاہر کے بھی خلاف نہ ہو۔ تو دو تین مثالیں ذکر کیں بھئی جن میں کبھی حدیث جو ہے خبر واحد، کتاب اللہ کے مخالف تھی اور بعض میں خبر مشہور کے خلاف تھی۔ اور آج آپ کو بتلائیں گے کہ خبر مشہور ظاہر کے خلاف ہو تو بھی اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ وَبِـ یہی بات کر رہے ہیں وَبِاعْتِبَارِ هٰذَا الْمَعْنٰى اور اسی علت کے اعتبار کرنے کی وجہ سے، کون سی علت؟ کہ راویوں کے احوال کیا ہیں؟ مختلف ہیں بھئی، مختلف قسم کے راوی ہیں۔ اسی وجہ سے قُلْنَا ہم نے کہا خَبَرُ الْوَاحِدِ إِذَا خَرَجَ مُخَالِفًا لِّلظَّاهِرِ کہ خبر واحد جب نکلے ظاہر کے مخالف لَا يُعْمَلُ بِهٖ تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ وَمِنْ صُوَرِ مُخَالَفَةِ الظَّاهِرِ عَدَمُ اشْتِهَارِ الْخَبَرِ فِيْمَا يَعُمُّ بِهِ الْبَلْوٰى فِي الصَّدْرِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي اور مخالفت ظاہر کی صورتوں میں سے ایک صورت کیا ہے؟ عَدَمُ اشْتِهَارِ الْخَبَرِ خبر کا مشہور نہ ہونا ہے فِيْمَا ایسے مسئلے میں يَعُمُّ بِهِ الْبَلْوٰى جس میں کیا تھا؟ عموم بلوی تھا یعنی عام لوگ اس میں مبتلا تھے بھئی۔ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ خوب کثرت سے عام لوگوں کو درپیش آنے والا ہے اور پھر بھی خبر واحد مشہور نہیں ہوتی، یہ علامت ہے اس کے صحیح نہ ہونے کی بھئی۔ یہ علامت ہے اس کے، بھئی یہ تو ایسا مسئلہ ہے جو ہر ایک کو دن رات پیش آتا رہتا ہے، تو اس قسم کے مسئلے میں تو خبر کو کیا ہو جانا چاہیے تھا؟ مشہور ہو جانا چاہیے تھا، لیکن یہ پھر بھی خبر واحد ہے، یہ علامت ہے اس کے صحیح نہ ہونے کی۔ جی آگے مثال میں آپ کو بتلاتا ہوں بھئی۔ خبر کا مشہور نہ ہونا ہے فِيْمَا يَعُمُّ بِهِ الْبَلْوٰى ایسے مسئلے میں جس میں عموم بلوی ہو، یعنی کثرت سے عام لوگ اس میں مبتلا ہوں فِي الصَّدْرِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي پہلے اور دوسرے زمانے میں بھئی۔ صدر اول سے مراد کون سا؟ صحابہ کا زمانہ، اور صدر ثانی سے تابعین کا زمانہ، اس زمانے میں بھئی۔ اس میں اگر عام پیش آنے والا مسئلہ ہے تو مشہور ہو جانا چاہیے تھا خبر کو بھئی۔ لِأَنَّهُمْ لَا يُتَّهَمُوْنَ بِالتَّقْصِيْرِ فِيْ مُتَابَعَةِ السُّنَّةِ اس لیے کہ ان پر تہمت نہیں لگائی جا سکتی بِالتَّقْصِيْرِ کوتاہی کرنے کی فِي مُتَابَعَةِ السُّنَّةِ سنت کی پیروی کرنے میں۔ سنت کی پیروی کرنے میں ان پر کوتاہی کی تہمت بھئی ان لوگوں نے، صحابہ اور تابعین تو ایسے لوگ ہیں جنہوں نے سنت کی پیروی کرنے میں، اس کی خدمت کرنے میں، اور اس کی اشاعت کرنے میں اپنی پوری زندگیاں گزار دیں، ان پر یہ تہمت نہیں لگائی جا سکتی کہ انہوں نے کیا کیا؟ سنت کی پیروی میں کوتاہی کی ہے بھئی۔ ورنہ تو اگر یہ خبر واحد مسئلہ عام درپیش آنے والا ہے اور پھر بھی ایک دوسرے کو نہ بتا رہے ہیں اور نہ ان تک خبر پہنچ رہی ہے، معلوم ہوا انہوں نے کیا کی ہے؟ سنت کی پیروی میں کوتاہی کی ہے، اور حالانکہ یہ تہمت تو ان پر لگانا صحیح معلوم ہوا یہ خبر واحد ہی صحیح نہیں ہے، عام پیش آنے والا مسئلہ ہے اور پھر بھی ہر ایک تک یہ بات نہیں پہنچ رہی بھئی، معلوم ہوا یہ خبر واحد صحیح نہیں ہے۔ فَإِذَا لَمْ يَشْتَهِرِ الْخَبَرُ مَعَ شِدَّةِ الْحَاجَةِ وَعُمُوْمِ الْبَلْوٰى اور جب مشہور نہیں ہوئی خبر باوجود شدید حاجت کے وَعُمُوْمِ الْبَلْوٰى اور عموم بلوی کے، عام ابتلاء کے كَانَ ذٰلِكَ عَلَامَةَ عَدَمِ صِحَّتِهٖ تو یہ علامت ہوگی اس کے صحیح نہ ہونے کی بھئی۔ یہ اس کے صحیح نہ ہونے کی تو بھئی یہ ظاہر خبر واحد ہے یہ ظاہر کے مخالف ہوئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ ظاہر تو کیا تھا؟ یہ مسئلہ عام درپیش ہونے والا ہے، اس کو کیا ہو جانا چاہیے تھا صدر اول و ثانی میں؟ خبر مشہور ہو جانا چاہیے تھا، عام درپیش ہونے والا مسئلہ ہے، لیکن یہ مشہور نہیں ہوئی، معلوم ہوا یہ صحیح نہیں۔ تو ایک عام درپیش ہونے والا مسئلہ ہو اور اس میں شدید حاجت ہو لوگوں کی، اور پھر بھی خبر واحد صدر اول اور صدر ثانی میں مشہور نہ ہوئی ہو، یہ کیا کس چیز کی علامت ہے؟ اس کے صحیح نہ ہونے کی بھئی۔ علامت ہے اس کے صحیح نہ ہونے کی، یا اسی طرح اس کے مولانا منسوخ ہونے کی علامت ہے، یا اس میں اس کے مؤول ہونے کی علامت ہے، یعنی اس میں کوئی تاویل ہے مولانا۔ جیسے ظاہر حدیث ہے، وہ ظاہر وہ ظاہر مراد نہیں ہوتا، بلکہ اس میں یا تو کوئی تاویل ہوتی ہے یا یہ علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ یہ حدیث کیا ہے؟ منسوخ ہو چکی ہے بھئی۔ جیسے اس کی مثال مولانا یہ آپ کے حاشیے میں بھی انہوں نے دی ہے، ایک مثال دیکھ لیں اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ آٹھ نمبر حاشیے میں دیکھیے مولانا۔ مِثْلُ حَدِيْثِ الْجَهْرِ بِالتَّسْمِيَةِ جیسے حدیث جہر ہے، جہر بالتسمیہ کی حدیث ہے مولانا۔ یعنی بسم اللہ کو جہری پڑھا جائے گا بھئی۔ بھئی ہم جہری نمازیں پڑھتے ہیں، امام اس میں بسم اللہ بلند آواز سے پڑھتا ہے، جہراً پڑھتا ہے؟ بسم اللہ نہیں جہراً پڑھتا بھئی، قرأت شروع کرتا ہے آگے بھئی۔ لیکن حدیث ہے بھئی وَهُوَ مَا رَوَى أَبُوْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِبِسْمِ اللهِ، يَجْهَرُ ہونا چاہیے يَجْهَرُ۔ يَجْهَرُ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فِي الصَّلَاةِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام جہر فرمایا کرتے تھے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نماز میں بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہے؟ بسم اللہ بھی جو ہے نماز میں، جہری نمازوں میں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ جہراً پڑھا کرتے تھے بھئی، جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت کی جاتی ہے ان میں بسم اللہ بھی حضور علیہ السلام بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ خبر واحد ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ اب دیکھیے یہ ایسا مسئلہ ہے جس کی شدید حاجت ہے اور عام لوگ اس میں مبتلا ہیں بھئی، دن رات ان کو یہ مسئلہ درپیش آتا ہے، روزانہ تین جہری نمازیں پڑھی جاتی ہیں بھئی۔ لیکن پھر بھی یہ خبر واحد رہی بھئی۔ اس کو تو خبر مشہور ہونا چاہیے تھا اتنی کثرت سے درپیش آنے والے مسئلے کو، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ یہ اس کے صحیح نہ ہونے کی دلیل، یہ ظاہر کے خلاف ہے مولانا، ظاہر کے۔ وجہ سمجھ میں آئی بھئی؟ یا اسی طرح ظاہر کے خلاف ہونے کی اور بھئی مثال، اگر راوی کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف ہو تو یہ بھی ظاہر، یہ بھی مثال ہے اس کی مولانا۔ ظاہر کے خلاف ہونے کی۔ جیسے مولانا وہ روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی، رضی اللہ تعالی عنہا کی کل گزری بھئی۔ کیا؟ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَّكَحَتْ نَفْسَهَا بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ بَاطِلٌ بَاطِلٌ یہ حدیث ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی، اور حالانکہ ان کا اپنا عمل اس کے خلاف تھا بھئی۔ بھئی اپنی بھتیجی کا نکاح کروایا بھئی، اور ان کے والد، ان کے ولی جو تھے وہ غائب تھے، کہیں گئے ہوئے تھے، انہوں نے نکاح پڑھوا دیا۔ معلوم ہوا ولی کی اجازت کے بغیر بھی کیا ہے؟ عورت کا نکاح ہو جاتا ہے، تو دیکھو راوی نے، ثقہ راوی نے اپنی روایت کے خلاف عمل کیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ بھی مثال ہے ظاہر کے خلاف ہونے کی، معلوم ہوا یہ خبر واحد بھی کیا ہے؟ ظاہر کے خلاف ہے کہ راوی خود اس کے خلاف عمل کر رہا ہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا مؤول ہے، اس میں کوئی تاویل وغیرہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ جی، وَمِثَالُهٗ فِي الْحُكْمِيَّاتِ اور شرعی مسائل میں اس کی مثال بھئی، جبکہ خبر واحد کیا ہو؟ ظاہر کے خلاف۔ اب مثال ذکر کرنے لگے ہیں، دو تین مثالیں ذکر کریں گے بھئی۔ لیکن ان سے حدیث نہیں مراد، عام آدمی کی خبر مراد ہے، ایک عام آدمی آ کر خبر دیتا ہے تو یہ بھی کیا ہے؟ خبر واحد ہے بھئی، خبر واحد ہے۔ تو کوئی ایک عام آدمی آپ کو آ کر خبر دے تو وہ خبر بھی اگر ظاہر کے مخالف ہو تو اس پر عمل نہیں کیا، اور اگر ظاہر کے مخالف نہیں تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس پر عمل کیا جائے گا۔ وَمِثَالُهٗ فِي الْحُكْمِيَّاتِ اور اس کی مثال مولانا کس میں؟ شرعی مسائل میں إِذَا أَخْبَرَ وَاحِدٌ جب کسی ایک نے خبر دی أَنَّ امْرَأَتَهٗ حَرُمَتْ عَلَيْهِ بِالرَّضَاعِ الطَّارِئِ کہ اس کی بیوی جو ہے اس پر حرام ہو گئی ہے رضاع طاری کی وجہ سے، ایسا رضاع، ایسی رضاعت جو طاری ہوا ہے، جو پیش آیا ہے، عارض ہوا ہے مولانا، جو پیش آیا ہے۔ نکاح پر پیش آیا ہے۔ بس صورت مسئلہ یہ، ایک شخص نے ایک شیر خوار بچی سے نکاح کر لیا بھئی، چھوٹی سی بچی ہے پانچ چھ ماہ کی ہے، سال کی ہے، اس کے ساتھ کیا کیا ہے؟ نکاح، اس کے ولی نے اس کے ساتھ اس کا نکاح کروا دیا۔ تو یہ اب اس کی بیوی بن گئی۔ پھر اس کو اس کے خاوند جو ہے اس کو آ کر کوئی شخص اطلاع دیتا ہے کہ یہ جو تمہاری بیوی ہے یہ تو تمہاری رضاعی بہن بن گئی۔ بھئی وہ کیسے رضاعی؟ بھئی تمہاری والدہ نے اس کو دودھ پلا دیا۔ تمہاری والدہ نے کیا کر دیا ہے؟ دودھ، تو دیکھو اب یہ رضاعت جو ہے یہ پیش آئی ہے کس پر؟ نکاح پر، نکاح کے بعد رضاعت آئی ہے۔ تو اب یہ خبر ظاہر کے مخالف نہیں مولانا، بلکہ ظاہر کے مطابق ہے، وہ بھی کیا ہے مولانا؟ شیر خوار بچی ہے، اور چھوٹے دودھ پیتے بچوں کو عموماً عورتیں کیا کر دیا کرتی ہیں؟ دودھ پلا دیا کرتی ہیں۔ فلہذا اب اس آدمی کے لیے اس کی خبر پر اعتماد کرنا جائز ہوا، جب رضاعی بہن بن گئی تو نکاح ٹوٹ گیا، ختم ہوا، اب یہ اس کی بہن کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ نکاح کر سکتا ہے۔ ویسے تو دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا بھئی، بہن کے ساتھ اب اس کے نکاح نہیں کر سکتا جبکہ یہ بھی اس کے نکاح میں ہو۔ لیکن جب ایک شخص نے خبر دے دی اور یہ خبر ظاہر کے مخالف بھی نہیں ہے، تو لہذا اب اس پر جائز ہے کہ یہ اعتماد کرے اور اس کی بہن کے ساتھ کیا کر لے؟ نکاح کر لے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ خبر ظاہر کے مخالف نہیں۔ مثال اس کی شرعی مسائل میں إِذَا أَخْبَرَ وَاحِدٌ أَنَّ امْرَأَتَهٗ حَرُمَتْ عَلَيْهِ بِالرَّضَاعِ الطَّارِئِ جب کسی ایک نے خبر دی کہ کسی نے کسی کو خبر دی کہ اس کی بیوی اس شوہر پر حرام ہو گئی ہے ایسی رضاعت کی وجہ سے جو پیش آیا ہے جَازَ أَنْ يَّعْتَمِدَ عَلٰى خَبَرِهٖ جائز ہے خاوند کے لیے کہ وہ اعتماد کرے اس کی خبر پر، تو دیکھا یہ خبر واحد ہے، پھر بھی وہ اعتماد کر رہا ہے کیونکہ ظاہر کے مخالف نہیں۔ تو اس کی خبر پر اعتماد کرے وَيَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا اور نکاح کر لے اس کی بہن سے۔ وَلَوْ أَخْبَرَ اور اگر یہ خبر دی کسی نے دیکھیے آگے، صورت مسئلہ یہ بھئی۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے بھئی، بڑی عمر کی ہے، بالغ۔ تو اس سے نکاح کیا ہے، اور نکاح کے کچھ عرصے بعد ایک شخص آ کر اس کو کہتا ہے کہ بھئی یہ تمہاری بیوی تو تمہاری رضاعی بہن ہے۔ تمہاری بیوی تو کیا ہے تمہاری؟ رضاعی بہن ہے، تمہاری والدہ نے اسے دودھ پلایا تھا، یا مثلاً دونوں نے کیا کیا تھا؟ کسی ایک عورت کا دودھ پیا تھا، تو رضاعی بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ خبر ظاہر کے مخالف ہے، لہذا اس کی خبر کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ظاہر کے مخالف اس لیے ہے کہ ان دونوں کا جب نکاح ہوا تو ان کے عزیز و اقارب یقیناً موجود ہوں گے نکاح میں، اور لوگ بھی ہوں گے۔ اور بعد میں بھی نکاح کی شہرت ہوئی، سب لوگوں کو خبر مل گئی کہ اس کا فلاں سے نکاح ہوا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور گواہ وغیرہ سب موجود ہیں، سب کو پتہ ہے، شہرت بھی ہو گئی ہے، پھر بھی کسی نے اس کو اطلاع نہیں دی رضاعت کی، اگر ایسا کوئی مسئلہ ہوتا تو یقیناً کوئی نہ کوئی کیا کرتا ان میں سے؟ ان کو اطلاع ہوتی اور وہ ان دونوں کو خبر دیتا، لیکن اس وقت بھی کسی نے خبر نہیں دی، اب اتنے عرصے کے بعد ایک آدمی اٹھ کر آ کر کہتا ہے، معلوم ہوا یہ خبر واحد کیا ہے؟ ظاہر کے خلاف ہے، لہذا اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وَلَوْ أَخْبَرَ أَنَّ الْعَقْدَ كَانَ بَاطِلًۢا بِحُكْمِ الرَّضَاعِ لَا يُقْبَلُ خَبَرُهٗ اور اگر خبر دی کسی ایک نے کہ عقد نکاح جو ہے وہ باطل ہے رضاعت کے حکم کی وجہ سے لَا يُقْبَلُ خَبَرُهٗ تو قبول نہیں کی جائے گی اس کی خبر۔ وَكَذٰلِكَ إِذَا أُخْبِرَتِ الْمَرْأَةُ بِمَوْتِ زَوْجِهَا أَوْ طَلَاقِهٖ إِيَّاهَا جی، صورت یہ۔ ایک عورت ہے، اس کا خاوند غائب ہے مولانا۔ تو اب اس کو آ کر کوئی شخص بتلاتا ہے کہ تمہارے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے بھئی۔ تمہارا خاوند کیا ہے؟ مر چکا ہے۔ یا اس نے تمہیں طلاق دی ہے بھئی، اس نے کیا کی ہے؟ تمہیں طلاق دے دی ہے۔ تو اب یہ خبر چونکہ ظاہر کے مخالف نہیں، خاوند بھی کیا ہے؟ غائب ہے، اور یہ شخص خبر دے رہا ہے، کوئی اس کی تکذیب کرنے والا بھی نہیں ہے مولانا، تو یہ خبر ظاہر کے مطابق ہے، تو جائز ہے اس عورت کے لیے کہ وہ اس شخص کی خبر پر اعتماد کرے اور عدت گزارنے کے بعد کسی اور سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عام لوگوں کی خبر کی بات ہو رہی ہے خبر واحد سے۔ وَكَذٰلِكَ إِذَا أُخْبِرَتِ الْمَرْأَةُ بِمَوْتِ زَوْجِهَا أَوْ طَلَاقِهٖ إِيَّاهَا اسی طرح اگر خبر دی گئی عورت کو اس کے خاوند کی موت کے بارے میں أَوْ طَلَاقِهٖ یا اس کے خاوند کے طلاق دینے کے بارے میں إِيَّاهَا اس عورت کو، کہ اس کے خاوند نے طلاق دی ہے اس عورت کو وَهُوَ غَائِبٌ اس حال میں کہ خاوند غائب تھا، اس نے خبر دی اور خاوند غائب تھا جَازَ أَنْ تَعْتَمِدَ عَلٰى خَبَرِهٖ وَتَتَزَوَّجَ بِغَيْرِهٖ جائز ہے کہ وہ عورت اعتماد کرے اس شخص کی خبر پر اور نکاح کر لے اس کے علاوہ سے، کسی اور شخص سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے۔ اسی طرح وَلَوِ اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ فَأَخْبَرَهٗ وَاحِدٌ عَنْهَا وَجَبَ الْعَمَلُ بِهٖ اگر مشتبہ ہو گیا کسی شخص پر بھئی قبلہ، کسی شخص پر قبلہ مشتبہ ہو گیا، اسے پتہ ہی نہیں چل رہا قبلہ کس طرف کو ہے، پھر اس کو کسی ایک شخص نے خبر دی کہ قبلہ اس طرف ہے، تو اب اس پر اس شخص کے خبر پر عمل، اس پر عمل کرنا واجب ہے، یہ اسی سمت میں رخ کر کے نماز پڑھے بھئی۔ وَلَوِ اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِ الْقِبْلَةُ اگر مشتبہ ہو گیا اس پر قبلہ فَأَخْبَرَهٗ وَاحِدٌ تو اس کو خبر دے دی خبر دی کسی ایک نے عَنْهَا یعنی قبلہ کے بارے میں وَجَبَ الْعَمَلُ بِهٖ واجب ہے اس پر عمل کرنا۔ وَلَوْ وَجَدَ مَاءً لَّا يَعْلَمُ اسی طرح ایک شخص ہے مولانا، اس نے پانی پایا کہیں پر بھئی۔ پانی ملا، اب پتہ نہیں یہ پانی پاک ہے یا ناپاک ہے، تو اس وقت ایک شخص نے اس کو بتلایا کہ یہ پانی ناپاک ہے، تو اب اس کے لیے اس سے پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ خبر واحد ہے اور ظاہر کے مخالف نہیں، ہو سکتا ہے یہ پانی کیا ہو؟ واقعی ناپاک ہو، تو ظاہر کے مخالف نہیں ہے، لہذا اب یہ عمل کرنا واجب ہوا، یہ اس سے وضو نہیں کرے گا بلکہ تیمم کرے گا، کیونکہ پانی تو نجاست ہوا بھئی۔ وَلَوْ وَجَدَ مَاءً اور اگر پانی پایا لَا يَعْلَمُ حَالَهٗ نہیں جانتا اس کے حالت کو فَأَخْبَرَهٗ وَاحِدٌ عَنِ النَّجَاسَةِ پس ایک شخص نے اس کو خبر دے دی نجاست کے بارے میں کہ یہ پانی کیا ہے؟ نجاست ہے لَا يَتَوَضَّأُ بِهٖ بَلْ يَتَيَمَّمُ تو اس سے وضو نہیں کرے گا بلکہ تیمم کرے گا۔ فَصْلٌ ای ھذا فصل خَبَرُ الْوَاحِدِ حُجَّةٌ فِيْ أَرْبَعَةِ مَوَاضِعَ خبر واحد حجت ہے اور دلیل ہے مولانا چار جگہوں میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خبر واحد حجت ہے کتنی جگہوں میں بھئی؟ چار بھئی، یہاں خبرِ واحد سے یہ نہیں مراد کہ کسی ایک شخص کی خبر ہو۔ سمجھ میں آیا؟ ایک آدمی کی خبر، واحد سے مراد واحدِ شرعی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ واحدِ شرعی مراد ہے، اور واحدِ شرعی کسے کہتے ہیں؟ جی؟ خبرِ واحد کس کو کہیں گے؟ جو حدِ شہرت اور حدِ تواتر کو نہ پہنچی ہو، وہ کیا ہو گی؟ خبرِ واحد ہو گی، لہٰذا ایک شخص کی خبر یہ بھی خبرِ واحد میں داخل ہوئی، دو کی خبر یہ بھی کس میں داخل ہوئی؟ خبرِ، تین کی خبر یہ بھی کس میں داخل ہوئی؟ خبرِ واحد، چار کی خبر وغیرہ یہ بھی کس میں داخل ہوئی؟ خبرِ واحد میں داخل۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ جب تک حدِ شہرت تک نہیں پہنچ جاتی، یہ کیا کہلائے گی؟ خبرِ واحد کہلائے گی، لہٰذا ایک، دو، تین، چار، پانچ کی خبر بھی اسی میں داخل ہے، بھئی۔ تو کہتے ہیں خبرِ واحد جو ہے، حجت فی اربعۃ مواضع، یہ حجت ہے، دلیل ہے چار جگہوں میں۔ خالص حق اللہ تعالیٰ، خالص اللہ کا حق ہو، بندوں کا حق اس سے متعلق نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ خالص اللہ کا حق، جیسے عبادات ہیں مولانا، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ، صدقہ، عشر وغیرہ۔ خالص اللہ کا حق، ما ليس بعقوبة، جو عقوبت نہ ہو مولانا، سزاؤں میں سے نہ ہو، سزا نہ ہو، بھئی۔ بھئی، کچھ حقوق اللہ سزائیں بھی تو ہیں، اللہ نے کیا فرمایا ہے، بھئی؟ کہ جو زنا کرے اس کو کیا کیا جائے، شادی شدہ ہو تو رجم کیا جائے، اور اگر غیر شادی شدہ ہو تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں، بھئی، تو یہ بھی تو حق اللہ ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ لیکن یہ سزا کے قبیل سے ہے، کہتے ہیں خالص اللہ کا، پہلے مقام کون سا ہے جہاں خبرِ واحد حجت ہو گی؟ خالص اللہ کا حق ہو اور سزاؤں کے قبیل سے نہ ہو، بھئی، سزاؤں کے قبیل سے نہ ہو۔ اچھا، بھئی! دوسرا، وخالص حق العبد، اور خالص بندے کا حق ہو مولانا، ما فيه الزام محض، جس میں الزامِ محض ہو، غیر پر کوئی چیز لازم کرنا ہو، بھئی۔ پہلی قسم کیا تھی جس میں خبرِ واحد حجت ہو گی؟ جو کس کا حق ہو؟ خالص اللہ کا حق ہو، لیکن سزا کے قبیل سے نہ ہو، حدود و قصاص کے قبیل سے نہ ہو۔ اسی طرح دوسری قسم کون سی ہے جہاں پر خبرِ واحد حجت ہو گی؟ دوسرا مقام، جو خالص بندے کا حق ہو، اور ما فيه الزام محض، جس کے اندر کیا ہو؟ صرف الزام ہو، دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا ہو۔ مثالیں آگے آئیں گی مولانا، بات واضح ہو جائے گی۔ تیسرا، وخالص حقه ما ليس فيه الزام، اور تیسرا مقام، جو خالص بندے کا حق ہو جس میں الزام نہ ہو، دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا، پہلا تھا خالص اللہ کا حق جو سزاؤں کے قبیل سے نہ ہو، ثانی کیا ہے؟ جو خالص بندے کا حق ہو اس، جس میں کسی دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا ہو، اور تیسرا بھی وہ بندے کا حق ہے لیکن اس میں کسی دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا نہ ہو۔ اور چوتھی جگہ، وخالص حقه ما فيه الزام من وجه، خالص بندے کا حق ہو جس میں الزام ہو من وجہ، اور غیرِ الزام ہو من وجہ۔ من وجہ غیر پر چیز لازم کرنا ہو اور من وجہ غیر پر چیز یعنی کچھ اس، کسی اعتبار، ایک اعتبار سے غیر پر چیز لازم کرنا ہے اور دوسرے اعتبار سے غیر پر کچھ لازم کرنا نہیں ہے، بھئی۔ تو ان چار جگہوں میں خبرِ واحد حجت ہے مولانا، کتنی جگہیں ہوئیں؟ پہلی جگہ کون سی ہوئی؟ خالص اللہ کا حق جو سزا کے قبیل سے نہ ہو، یعنی عبادات وغیرہ ہیں نماز روزہ وغیرہ، ان میں خبرِ واحد حجت ہو گی۔ اور دوسرا کیا ہے؟ خالص بندے کا حق جس میں کیا ہو؟ صرف دوسرے پر کچھ لازم کرنا ہو۔ تیسرا وہ کہ جس میں خالص بندے کا حق جس میں اس، غیر پر کچھ لازم کرنا نہ ہو، اور چوتھا مقام جہاں من وجہ لازم کرنا ہو اور من وجہ لازم نہ، یعنی بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو دوسرے پر چیز کو لازم کرنا ہے اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو غیر پر کچھ بھی لازم کرنا نہیں ہے، بھئی۔ ایک پانچواں مقام بھی تو رہ گیا، بھئی، اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا۔ اور وہ کیا؟ وہی جس کو انہوں نے پہلے نکالا، جو خالص اللہ کا حق ہو اور عقوبت کے قبیل سے ہو۔ انہوں نے تو کیا کہا تھا؟ خالص اللہ کا حق ہو اور عقوبت کے قبیل سے، تو وہ تو رہ گیا، بھئی، تو اس کو اس لیے، تو پانچوں کہتے ہیں بھئی اس کو اس لیے ذکر نہیں کیا کہ عقوبت جو ہے سزائیں جو ہیں، حدود و قصاص جو ہیں، ان میں خبرِ واحد حجت نہیں ہے۔ حدود و قصاص کے اندر کیا ہے؟ خبرِ واحد حجت، اس لیے اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا، کیوں؟ کیونکہ آپ نے پڑھا ہے مولانا، الحدود تندرؤ بالشبهات، حدود تو کیا ہیں، شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتی ہیں، اور خبرِ واحد میں شبہات ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، بھئی؟ آپ پڑھ چکے ہیں خبرِ واحد کے اندر کیا ہوتا ہے؟ ایک نوع کا شبہ ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور لہٰذا حدود و قصاص کے اندر خبرِ واحد قبول نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، خبرِ واحد کی وجہ سے سزائیں نافذ تو کی جاتی ہیں۔ بھئی، دو آدمی گواہی دے دیں عادل، تو شراب، خمر کی حد جاری کی جائے گی یا نہیں دوسرے پر؟ جی؟ اور اسی طرح چار آدمی گواہی دے دیں، تو حدِ زنا جاری کی جائے گی یا نہیں کی جائے گی؟ تو یہ بھی تو، ابھی آپ نے بتایا کہ خبرِ واحد سے کیا مراد ہے؟ ایک کی خبر بھی خبرِ واحد ہے، دو کی بھی، تین کی بھی، چار کی بھی، پانچ کی بھی، جب تک کہ حدِ شہرت کو نہ پہنچے، تو معلوم ہوا خبرِ واحد کے ذریعے، تصدیق کے ذریعے حدود نافذ نہیں ہو سکتیں، ان کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں سزائیں حدود کیا ہوتی ہیں خبرِ واحد کی وجہ سے نافذ ہو رہی ہیں مولانا، دو آدمی گواہی دے دیتے ہیں عادل قسم کے آ کر، تو دوسرے پر کیا کی جاتی ہے؟ حد جاری کی جاتی ہے، چار آدمی گواہی دے دیتے ہیں تو حدِ زنا کیا ہے دوسرے پر جاری کر دی جاتی ہے، تو یہ خبرِ واحد کے ذریعے تو حدود تو ثابت ہو رہی ہیں اور آپ تو کیا کہتے ہیں خبرِ واحد کے ذریعے حدود ثابت نہیں ہو سکتیں۔ جواب یہ مولانا، کہ یہاں خبرِ واحد کے ذریعے حدود کو ثابت نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن نص میں چونکہ ان کا ذکر آ گیا اس لیے یہ خلافِ قیاس خبرِ واحد سے ثابت ہو گئیں۔ اللہ نے کیا فرمایا ہے، بھئی؟ زنا کے اندر کتنے گواہ قبول کرو، بھئی؟ چار گواہ، بھئی، اور باقی دیگر حدود و قصاص کے اندر کتنے گواہوں کا ذکر آتا ہے، بھئی؟ دو گواہوں کا ذکر آتا ہے، تو یہ تو نص کے ذریعے ثابت ہیں خلافِ قیاس ہے، بھئی، سمجھ میں آیا؟ ورنہ خبرِ واحد کو اس مسئلے میں حجت نہیں ہونا چاہیے تھا، اس کے ذریعے، اس کے ذریعے یہ سزائیں نافذ نہیں ہونی چاہیے تھیں، کیونکہ خبرِ واحد ہیں اور خبرِ واحد میں شبہ ہوتا ہے اور شبہ کی وجہ سے حدود و قصاص کیا ہو جائیں گے؟ ساقط ہو جائیں گے مولانا، صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ لیکن یہاں یہ ثابت ہو رہے ہیں کس وجہ سے کہ نص میں آ گیا ان کا ذکر، تو یہ خلافِ قیاس نص سے ثابت ہوا، بھئی، نص میں آیا ہے زنا میں کتنے قبول کرو گواہ؟ چار، بھئی، اسی طرح شراب وغیرہ اور باتوں کے اندر کتنے قبول کرو؟ دو، بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ اما الأول، اب دیکھیے مثالیں ذکر کریں گے، بات خوب واضح ہو جائے گی۔ پہلا مقام کون سا تھا، بھئی؟ خالص اللہ کا حق یعنی عبادات، ان میں خبرِ واحد حجت ہے۔ پہلی قسم فیقبل فيه خبر الواحد، اس میں خبرِ واحد قبول کی جائے گی جو خالص اللہ کا حق ہو، نماز، روزہ وغیرہ کے اندر، بھئی، کیوں؟ دلیل کیا ہے؟ دلیل صاحبِ کتاب خود ذکر کر رہے ہیں: فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل شهادة الأعرابي في هلال رمضان، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی دیہاتی کی گواہی رمضان کے ہلال میں۔ بھئی، رمضان کا ہلال نظر نہیں آیا، بھئی، پھر ایک دیہاتی نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ میں نے چاند دیکھا ہے، بھئی، رمضان کا، بھئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی، یہ خبرِ واحد تھی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول فرمایا اور ثبوتِ رمضان کا حکم دیا کہ رمضان کیا ہے؟ شروع ہو چکا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو دیکھو ایک ہی خبر قبول کی مولانا، اور یہ کیا ہے؟ روزے کے بارے میں، روزہ کیا ہے؟ اللہ کی عبادت ہے، خالص اللہ کا حق ہے، اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ ایک خبرِ واحد کو قبول فرمایا، معلوم ہوا عبادات کے اندر خبرِ واحد بھی کیا کی جائے گی؟ حجت ہے، قبول کی جائے گی، دلیل بھی آ گئی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ایک شخص کی گواہی اس وقت قبول کی جائے گی مولانا جب بادل وغیرہ ہوں، بھئی، مطلع صاف نہ ہو، ورنہ اگر مطلع صاف ہو تو پھر ایک بڑی جماعت کی گواہی کا ہونا ضروری ہے، بھئی۔ وأما الثاني، اور جو ثانی ہے، ثانی کیا تھا مولانا؟ جو خالص کس کا حق ہو؟ بندے کا حق ہو، اور اس میں کیا ہو؟ الزامِ محض ہو، غیر پر کسی چیز کا لازم کرنا ہو بس۔ فيشترط فيه العدد والعدالة، کہ جس ثانی کس کا حق ہو؟ بندے کا حق ہو، اور اس میں الزامِ محض ہو، غیر پر محض کوئی چیز لازم کرنا ہو، اس کے اندر مولانا فيشترط فيه العدد والعدالة، اس میں عدد کی بھی شرط لگائی جائے گی اور عدالت کی بھی شرط لگائی جائے گی۔ کس چیز کی؟ عدد کی بھی شرط لگائی جائے گی، بھئی، کم از کم کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟ دو ہونے چاہئیں۔ والعدالة، اور عادل ہونے کی بھی، کہ گواہ کس قسم کا ہو؟ عادل ہو، عادل ہو، بھئی۔ ونظيره المنازعات، اور اس کی نظیر کیا ہے؟ منازعات ہیں، آپس کے جھگڑے ہیں، مقدمات ہیں مولانا، مقدمات میں بھئی کیا شرط لگائی جائے گی، بھئی؟ آپس میں ایک شخص دوسرے پر مال وغیرہ کا دعویٰ کرتا ہے، تو اس کے لیے ہم کیا کہیں گے کہ کیا لے کر آؤ؟ دو گواہ لے کر آؤ، اور گواہ بھی کس قسم کے ہونے چاہئیں؟ عادل ہونے چاہئیں، تو دیکھا، وہ ثانی جہاں بندے خالص بندے کا حق ہو اور اس میں غیر پر کوئی چیز لازم کرنا ہو، دیکھو اب مقدمہ ہو گا تو مثلاً زید نے کہا کہ عمر نے میرے ایک لاکھ روپے دینے ہیں۔ تو یہاں پر خبرِ واحد ہیں مولانا، اس کو قبول کرنا کرنے کے لیے شرط کیا ہے؟ عدد بھی شرط ہے اور عدالت بھی، کہ دو گواہ لے کر آؤ اور گواہ بھی کس قسم کے ہوں؟ عادل ہوں، جب وہ دو گواہ لے آئے گا اور عادل گواہ ہوں گے، جب وہ گواہی دے دیں گے، تو زید پر کیا لازم ہو جائے، عمر پر کیا لازم ہو جائے گا؟ ایک لاکھ روپیہ، لازم ہو گیا یا نہیں؟ اب اس کو ادا کرنا پڑے گا، تو دیکھو یہ خالص بندے کا حق ہے، اللہ کا حق ہے اس سے متعلق، بھئی؟ نہیں، یہ زید کا ایک لاکھ روپیہ اس نے دینا ہے، اور یہ اس پر لازم ہو جائے گا، تو دیکھو ہے بھی بندے کا حق اور اس میں کیا ہے؟ غیر پر کسی چیز کا لازم کرنا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ تو اس میں عدد بھی شرط ہے، دو گواہ ہونے چاہئیں، اور عدالت بھی شرط ہے کہ گواہ بھی کس قسم کے ہوں؟ عادل ہوں، دو بھئی عدد کی شرط، دلیل کیا ہے؟ آپ نے عدد کی قید لگائی، بھئی، اور عدالت کی، عادل ہونے چاہئیں، اس کی کیا دلیل ہے مولانا؟ عدد کی دلیل یہ آیت ہے مولانا: واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان اور تم دو گواہ طلب کرو، بھئی، دو مردوں میں سے، اور اگر وہ دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک عورت، ایک مرد اور دو عورتیں، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو دیکھا، یہاں سے کیا ثابت ہوا؟ کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟ دو مرد ہونے چاہئیں یا ایک مرد اور دو عورتیں، دیکھا عدد اس آیت سے ثابت ہوا، بھئی، معلوم ہوا عدد بھی اس میں ضروری ہے۔ اور عدالت، بھئی؟ عدالت اس آیت سے، بھئی، اس اللہ کے اس قول سے ثابت ہوتی ہے: وأشهدوا ذوي عدل منكم، اور گواہ بنا لو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو، بھئی، وأشهدوا ذوي عدل منكم، اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔ تو دیکھا، عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو، بھئی، اللہ فرما رہے ہیں، معلوم ہوا اس کے، کیا ہے؟ عدالت بھی شرط ہے۔ دلیل سمجھ میں آئی، بھئی؟ بھئی، خالص اللہ کے حق میں خبرِ واحد حجت ہے، اس کی دلیل کتاب میں ہی آ گئی، اس لیے کہ حضور نے دیہاتی کی اس روایت، خبر کو کیا کیا تھا؟ قبول کیا تھا۔ پھر دوسری جس میں صرف بندے، خالص بندے کا حق ہو اور اس میں الزام ہو محض دوسرے پر، اس کے اندر عدد بھی شرط ہے اور عدالت بھی، اور اس کی کیا دلیل ہے؟ عدد کی کیا، بھئی، دلیل ہے؟ آیت ہے مولانا، اللہ کا یہ قول ہے واستشهدوا شهيدين من رجالكم، بھئی، یہ آیت ہے، اور عدالت کی کیا دلیل ہے، بھئی، اس کی؟ وہ دوسری آیت جو میں نے آپ کو بتلایا وأشهدوا ذوي عدل منكم، یہ اس کی دلیل ہے۔ جی، وأما الثالث فيقبل فيه خبر الواحد عدلاً كان أو فاسقاً، اور تیسرا مولانا، تیسرا، تیسرا مقام کون سا تھا؟ جو خالص بندے کا حق ہو اور اس میں غیر پر کوئی چیز لازم کرنا نہ ہو، کہتے ہیں وہاں پر فيقبل فيه خبر الواحد، اس میں قبول کی جائے گی خبرِ واحد، عدلاً كان أو فاسقاً، بھئی، چاہے خبر دینے والا عادل ہو یا فاسق ہو، نیز چاہے مسلمان ہو، چاہے کافر ہو، نیز چاہے سمجھ دار بچہ ہو، چاہے بالغ ہو، ہر ایک کی خبر کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ جس میں جو خالص بندے کا حق ہے اور غیر پر کچھ لازم کرنا بھی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ بھئی، مقدمات کا ذکر پیچھے ہو چکا، اس میں تو غیر پر کوئی چیز لازم ہوا کرتی تھی، ایک ویسے کوئی ایک شخص آ کر خبر دیتا ہے، مثلاً: کیا خبر دیتا ہے؟ کسی نے زید کو آ کر کہا کہ بکر نے تمہیں اپنا وکیل بنا دیا ہے۔ بکر نے کیا کیا ہے؟ تمہیں اپنا وکیل بنایا ہے۔ یا ایک غلام ہے، محجور ہے، اس کو آ کر کوئی شخص کہتا ہے کہ مالک نے تمہیں تجارت کی اجازت دے دی ہے۔ تو اب اس میں غیر پر کوئی چیز لازم کرنا ہے؟ وکیل پر کوئی چیز لازم ہوتی ہے اس کی وجہ سے؟ نہیں۔ غلام پر کوئی چیز لازم ہوتی ہے اس کی وجہ سے؟ نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس میں غیر پر کوئی چیز لازم کرنا، خالص بندے کا حق ہے اور غیر پر کسی چیز کا لازم کرنا نہیں ہے، تو اس کے اندر خبرِ واحد کو قبول کیا جائے گا۔ نہ اس کے اندر عدد کی شرط ہے، نہ عدالت کی شرط ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ عدالت کی شرط بھی نہیں ہے، عدد کی شرط بھی نہیں ہے۔ کوئی ایک آ کر خبر دے دے، چاہے وہ مومن ہو، چاہے کافر ہو، چاہے عادل ہو، چاہے فاسق ہو، چاہے سمجھدار بچہ ہو، ابھی بالغ نہیں ہوا چاہے، اور چاہے تو بالغ ہو، تو سمجھدار بچہ ہو اس کے بھی عمل کیا جائے گا، اس خبرِ واحد کو قبول کیا جائے گا اور اگر بالغ ہے تو اس کی خبر کو بھی... صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو اس میں دوسرے پر کوئی چیز لازم کرنا ہے؟ وکیل کے لیے لازم ہو گیا کہ اب وکالت کرے گا؟ جی؟ وکالت کرنا اس کے لیے کوئی لازم تو نہیں ہوئی، کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہوئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس مسئلے میں ان کے لیے اس خبرِ واحد کو قبول کرنا جائز ہے۔ لہٰذا اب وکیل بکر کے لیے اس مسئلے میں کام کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کیا ہو گیا؟ بطورِ وکیل کے اس مسئلے میں کام... جس میں اس نے وکیل بنایا ہے بھئی جس کام کے لیے، اس کے لیے بطورِ وکیل کے وہ کام کرنا اس کے لیے اجازت ہو گی۔ خبرِ واحد کو قبول کرنا جائز ہے اس مسئلے میں تو اس کے لیے اب آگے کیا کرنا، وکالت کرنا صحیح ہو گیا۔ اسی طرح غلام کو کسی نے آ کر کہا کہ آقا نے تمہیں تجارت کی اجازت دے دی ہے، تو یہ خبرِ واحد ہے۔ اس خبرِ واحد کو قبول کیا جائے گا اور اب غلام کو اجازت ہو گی، وہ آگے تجارت کرنا چاہے تو تجارت کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یہ معنی ہے خبرِ واحد کو قبول کرنے کا۔ اس کی دلیل کیا ہے مولانا؟ دلیل اس کی یہ ہے مولانا کہ حضور علیہ السلام ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے عادل سے بھی اور فاسق سے بھی، جب وہ یہ بتلاتا کہ یہ ہدیہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو حضور علیہ السلام صدقہ نہیں قبول فرماتے تھے، البتہ ہدیہ کیا ہے قبول فرما لیا کرتے تھے بھئی۔ تو ہدیے کے بارے میں جب کوئی خبر دیتا، چاہے وہ خبر دینے والا عادل ہوتا یا فاسق ہوتا، آپ اس کی خبر کو قبول کر لیا کرتے تھے اور اس سے وہ ہدیہ قبول فرما لیتے تھے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھا یہ خبرِ واحد تھی، اب اس میں حضور علیہ السلام یہ خبرِ واحد کو تسلیم کر لیتے کہ یہ صدقہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ہدیہ ہے اور پھر اس ہدیے کو قبول فرما لیتے بھئی، تو یہ اس کی دلیل ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں "واما الثالث فيقبل فيه خبر الواحد عدلا كان او فاسقا في هذا المقام" تو اس میں قبول کیا جائے گا خبرِ واحد کو، چاہے وہ عادل ہو خبر دینے والا یا فاسق ہو۔ "ونظيره المعاملات" اور اس کی نظیر جو ہے معاملات ہیں، یہ جو میں نے ابھی ذکر کر دیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی ہے اچھی طرح؟ "واما الرابع" چوتھا مقام کون سا تھا بھئی؟ جس میں من وجہ الزام ہو اور من وجہ الزام نہ ہو۔ بعض اعتبارات سے غیر پر کچھ لازم کرنا ہے اور بعض اعتبارات سے غیر پر کچھ بھی لازم نہیں کرنا۔ تو کہتے ہیں "فيشترط فيه اما العدد او العدالة" تو اس میں شرط لگائی جائے گی یا تو عدد کی یا عدالت کی۔ یا تو عدد کی شرط لگائی جائے گی یا کس کی؟ بھئی جو جس میں الزام محض تھا، اس میں تو دونوں شرطیں تھیں، کیا؟ عدالت بھی اور عدد بھی، اور جس میں الزام سرے سے تھا ہی نہیں وہاں کوئی بھی شرط نہیں، اور اس میں من وجہ الزام ہے اور من وجہ الزام نہیں، تو لہٰذا یہاں پر ان دونوں میں سے ایک شرط لگائی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "ونظيرہ" تو اس میں شرط لگائی جائے گی یا تو عدد کی یا عدالت کی، عند ابی حنیفہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "ونظيره العزل والحجر" اور اس کی نظیر کیا ہے؟ عزل ہے اور حجر ہے بھئی۔ عزل بھئی معزول کرنا۔ آپ نے ایک شخص کو وکیل بنایا ہوا ہے اپنے کسی مسئلے کے اندر بھئی، اب اس آپ کے وکیل کو آ کر اگر کوئی عادل آدمی کیا کہہ دیتا ہے؟ کوئی شخص آ کر کہتا ہے کہ بھئی زید، تم تو زید کے وکیل ہو، زید نے تمہیں وکالت سے معزول کر دیا ہے۔ اس مسئلے میں تمہیں اب اپنا وکیل اس نے نہیں رکھا، ختم کر دیا تمہاری وکالت بھئی۔ تو یہ دیکھو، اب اس میں من وجہ الزام ہے اور من وجہ الزام نہیں بھئی۔ یا اسی طرح مولانا، تفصیل میں آگے بتلاتا ہوں آپ کو۔ عبدِ محجور تھا بھئی، عبدِ ماذون تھا، ایک غلام تھا اس کو آقا نے تجارت کی اجازت دی ہوئی تھی، وہ تجارت کر رہا ہے بھئی۔ اس کو آ کر کیا کہتا ہے کوئی شخص؟ کہ آقا نے تم پر دوبارہ حجر لگا دیا ہے، تمہاری اجازت واپس لے لی ہے، ممانعت لگا دی ہے، اب تم تجارت نہیں کر سکتے۔ تو معزول کرنا اور حجر یعنی ممانعت لگا دینا، یہ مثالیں ہیں جس میں من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام نہیں۔ بھئی من وجہ الزام نہیں، الزام اس لیے نہیں کہ یہ وکیل کس نے بنایا تھا؟ زید نے، اب زید نے اس کو وکالت سے ہٹا لیا ہے، تو کسی اور کے حق میں تصرف کیا ہے یا صرف اپنے حق میں تصرف کیا ہے؟ صرف اپنے حق میں تصرف کیا ہے بھئی۔ اس کا حق تھا، یہ ایک معاملے کو خود سرانجام دے سکتا تھا، اس نے اس معاملے میں کیا کر دیا؟ غیر کو اپنا وکیل بنا دیا، اب وہ اس کو علیحدہ کر رہا ہے تو اپنے ہی حق میں تصرف کر رہا ہے، وکیل کے تو کسی حق میں وہ تصرف نہیں کر رہا۔ تو اپنے حق میں جب تصرف کر رہا ہے، تو اس لیے اس... اس میں غیر پر کچھ لازم کرنا ہے؟ غیر پر کچھ لازم کرنا... آقا نے بھئی اپنے حق میں تصرف کیا تھا، غلام کو تجارت کی اجازت دی تھی، اب اس نے وہ اجازت سلب کر لی ہے، واپس لے لی ہے، تو کیا کسی اور کے حق میں تصرف کیا ہے یا اپنے ہی حق میں تصرف کر رہا ہے؟ اپنے ہی حق میں تصرف کر رہا ہے اور اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے تو غیر پر کچھ لازم کرنا... تو دیکھو، بعینہٖ لحاظ اس میں غیر پر کچھ بھی لازم کرنا نہیں ہے بھئی، تو یہ من وجہ غیر پر الزام نہیں ہے۔ لیکن دیکھا جائے تو من وجہ غیر پر کچھ لازم کرنا ہے بھی، بعینہٖ لحاظ کہ اب اگر وکیل نے کوئی کام کیا اس معاملے میں مزید، یا عبدِ محجور نے مزید معاملات وغیرہ کیے، تو وہ مالک کی طرف سے یا مؤکل کی طرف سے نہیں ہوں گے بلکہ ان کی ذمہ داری انہی پر ہو گی۔ بھئی انہوں نے مالک نے تو کیا کر دیا؟ وکیل کو اپنے وکالت سے معزول کر دیا ہے، لیکن وکیل باز نہیں آ رہا بھئی، وہ آگے اسی معاملے کو اور کرتا ہے، تو اب اس کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟ وکیل پر ہی ہو گی مولانا، آقا نے تو کیا کر دیا ہے اس کو... مؤکل نے تو اس کو کیا کر دیا ہے؟ معزول کر دیا ہے۔ تو اب جو کچھ اب اس میں لازم ہو گا، وہ کس پہ لازم آئے گا؟ وکیل پر لازم آئے گا۔ اسی طرح اس پر ذمہ داری آئے گی۔ اسی طرح عبدِ محجور... عبدِ ماذون تھا، اب اس کو آقا نے اس سے اجازت واپس لے لی، تو اب یہ کیا بن گیا؟ عبدِ محجور، لیکن یہ پھر معاملات کرتا ہے تجارت وغیرہ کے، تو اب ذمہ داری کس پر آئے گی؟ وہ معاملات ان کی آگے ذمہ داری اسی غلام پر آئے گی مولانا، تو اسی پر وہ چیزیں لازم وغیرہ ہوں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بعینہٖ لحاظ اس میں کیا ہے؟ الزام ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو یہ جو معزول کرنا ہے اور حجر ہے، اس میں من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام نہیں۔ من وجہ الزام اس طرح کہ اس میں اب معزول کر دینے کے بعد اور ممانعت لگا دینے کے بعد اب وہ جو کچھ کریں گے ان کی ذمہ داری انہی پر ہو گی، اور بعینہٖ لحاظ اس میں الزام نہیں کہ مؤکل نے اس کو وکالت سے ہٹا کر کسی اور کے حق میں تصرف نہیں کیا، صرف کس میں کیا ہے؟ اپنے... آقا نے غلام پر تجارت کی پابندی لگا کر کسی اور کے حق میں تصرف بھی نہیں کیا بلکہ صرف اپنے... اور اپنے حق میں تصرف کرنا یہ غیر پر کوئی چیز لازم کرنا نہیں ہے، تو بعینہٖ لحاظ اس میں غیر پر الزام نہیں۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آئی؟ تو دیکھا من وجہ اس میں الزام ہے، من وجہ الزام نہیں، تو جہاں پر من کل الوجہ الزام تھا، وہاں عدد بھی شرط تھی اور عدالت بھی شرط تھی۔ جہاں کسی بھی لحاظ سے الزام نہیں تھا، نہ وہاں عدد شرط تھی اور نہ... اور یہاں پر من وجہ الزام ہے اور من وجہ الزام... لہٰذا ان دو میں سے ایک کی شرط لگائی جائے گی، یا عدد کی شرط ہو گی یا عدالت کی شرط ہو گی، یعنی یا تو دو آدمی کوئی آ کر گواہی... کہے خبر دیں، یا ایک عادل آدمی۔ یا تو دو آدمی ایسے ہوں جو مستور الحال ہوں، جن کی حالت کا پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ عادل ہیں یا عادل نہیں، تو عدد ضرور ہوا، عدالت چاہے نہ ہو، مستور الحال ہوں۔ یا ایک ہی خبر دے، لیکن وہ کس قسم کا ہو؟ عادل ہو، تو یا تو عدالت ضرور پائی جائے، پھر عدد کی شرط نہیں، یا عدد ہو تو پھر عدالت کی شرط نہیں ہے بھئی، پھر خبرِ واحد کو قبول کیا جائے گا اس کے اس قسم کے مسئلے میں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وکیل معزول نہیں ہو گا جب تک اسے کوئی عادل آدمی جا کر خبر نہ دے دے۔ عدالت پائی گئی تو اب عدد کی شرط نہیں۔ یا دو مستور الحال آدمی اسے جا کر کیا کہہ دیں... مستور الحال جن کا حال پوشیدہ ہو، مستور پوشیدہ بھئی، نہ عادل ہونے کا پتہ ہے، نہ غیرِ عادل ہونے کا، تو دو مستور الحال آدمی دے دیں خبر کہ تجھے مؤکل نے وکالت سے معزول کر دیا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں "واما الرابع فيشترط فيه اما العدد او العدالة" اور چوتھا مقام، تو اس میں شرط لگائی جائے گی یا تو عدد کی یا عدالت کی، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "ونظيره" اور اس کی نظیر جو ہے، "العزل والحجر" عزل ہے اور حجر ہے۔ سنت کی بحث ختم ہوئی مولانا۔ بھئی گواہی کی بات آئی تھی، گواہی سے متعلقہ کچھ قیمتی، مفید باتیں آپ کو ویسے بتلا دیتا ہوں بھئی، قیمتی باتیں بھئی۔ آپ سنتے آئے ہیں کہ گواہ دو ہونے چاہئیں بھئی، لیکن فقہ کی کتابوں میں آپ کو تفصیل ملے گی بھئی، ہر مسئلے میں ایسا نہیں ہے کہ دو گواہ ہونے چاہئیں یا ایک مرد، دو عورتیں۔ ہر مسئلے میں ایسا... سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھو کہ یہ جو حدود و قصاص ہیں، ان میں عورتوں کی گواہی سرے سے قبول ہی نہیں، اس میں صرف کس کی گواہی قبول کی جائے گی؟ مردوں کی۔ سمجھ میں آیا؟ عورتوں کی گواہی حدود و قصاص میں قبول نہیں کی جائے گی۔ پھر ان حدود میں زنا کا معاملہ چونکہ سب سے سخت ہے، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے شرط لگائی ہے کہ چار گواہ ہونے چاہئیں۔ سمجھ میں آیا؟ کم از کم کتنے گواہ ہوں؟ چار ہوں، زنا میں دو سے بات نہیں بنے گی بھئی، کم از کم کتنے گواہ؟ اور چاروں مرد ہوں مولانا، اس میں عورت گواہی نہیں دے سکتی کیونکہ حدود ہے۔ جبکہ باقی حدود کے اندر اور قصاص کے اندر دو مردوں کی گواہی بھئی۔ دو مردوں کی گواہی ہونی چاہیے، اس میں بھی عورتوں کی گواہی... نیز عدالت کی بھی شرط... ہاں، اچھا، بعض معاملات عورتوں کے ہیں جس پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے یا عورتوں کے عیوب ہیں مولانا، مثلاً بکارت ہے کہ باکرہ ہے یا نہیں، یا ولادت وغیرہ ہے یا اسی طرح عورتوں کے کوئی عیب وغیرہ ہے جس پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے، تو اس میں ایک عورت کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک عورت کی گواہی بھی قبول کی جائے گی۔ جبکہ ان کے علاوہ باقی معاملات جو ہیں، چاہے مالی ہوں، مال والے معاملات ہوں، زید نے عمر پر کتنا دعویٰ مثلاً کر دیا؟ پیسوں کا، تو چاہے مال والے معاملات ہوں یا غیرِ مالی معاملات ہوں بھئی، نکاح ہے، جیسے یہ غیرِ مالی ہے، طلاق ہے وغیرہ بھئی، ان کے اندر دو مرد ہونے چاہئیں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھا بعض معاملات میں عورتوں کی گواہی قبول ہی نہیں اور ہر جگہ دو ہی گواہ نہیں ہونا ضروری بھئی، زنا کے اندر کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟ اور چاروں کے چاروں کیا ہونے چاہئیں؟ مرد ہونے چاہئیں۔ باقی حدود اور قصاص میں کتنے گواہ ہونے چاہئیں؟ دو ہونے چاہئیں۔ عورتوں کے عیوب یا ایسی باتیں جن پہ عورت... جس پر عورتیں ہی مطلع ہو سکتی ہیں، اس میں ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے، جبکہ اس کے علاوہ باقی معاملات چاہے مالی ہوں، چاہے غیرِ مالی ہوں، ان کے اندر دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ نیز ان سب میں عدالت بھی شرط ہے۔ گواہ کیا ہونے چاہئیں؟ عادل ہونے چاہئیں، اور شہادت کے لفظ بھی شرط ہیں۔ یوں کہیں: "میں گواہی دیتا ہوں"، "میں شہادت دیتا ہوں"، اس کے بغیر بھی ان کی گواہی... اگر یوں جا کے کہتا ہے: "مجھے پتہ ہے، زید نے عمر کے اتنے پیسے لیے ہیں" یا "میں وہاں..." نہیں بھئی، جب تک شہادت کا لفظ نہیں کہے گا یہ قبول... شہادت کا لفظ کہنا ضروری ہے وہاں۔ یہ بات سمجھ میں آئی بھئی اچھی طرح؟ ایک اور بڑی قیمتی بات آپ کو بتلاؤں، آپ نے کیا پڑھا ابھی تک بھئی؟ گواہوں کو کیسا ہونا چاہیے؟ عادل ہونا چاہیے۔ کیا معنی؟ غیرِ عادل ہے تو اس کی گواہی قبول ہی نہیں کی جائے گی؟ نہیں بھئی، مسئلہ ایسا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے عادل ہونے کا کہ عادل ہو گا تو قاضی پر واجب ہے اس کی گواہی کو قبول کرنا۔ جب عادل ہو تو قاضی پر کیا ہے؟ واجب ہے اس کی گواہی کو قبول کرے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے بھئی، لیکن اگر غیرِ عادل ہو تو اب قاضی پر واجب نہیں، ہاں، قبول کرنا چاہے تو اب بھی قبول کر سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قاضی کے پاس دو گواہ آئے، ایک عادل ہے اور ایک غیرِ عادل ہے مولانا، تو اب ضروری نہیں کہ قاضی کہے: "جاؤ، عادل گواہ لے کر آؤ، میں گواہی نہیں قبول کرتا"، بلکہ بعض اوقات کیا کر لیا جاتا ہے؟ غیرِ عادل کی بات کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے، تو یہاں بھی قاضی کیا کر سکتا... غیر عادل کی گواہی کو بھی قبول کرسکتا ہے اور اس کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے اور وہ فیصلہ صحیح ہوگاشرعا نافذ ہوگا صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب آپ کل کو قاضی بنیں گے تو یہ معنیٰ نہیں کہ غیر عادل ہو تو آپ اس کی گواہی کو ہی رد کر دیں، نہیں بھئی۔ عادل ہو تو اس کی گواہی تو آپ پر قبول کرنا واجب، اسی کے مطابق فیصلہ کرنا پڑے گا، لیکن اگر غیر واجب ہو، غیر عادل ہو تو بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قبول کر سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے، یہ کچھ باتیں تھیں، میں نے کہا آپ کو فائدہ ہو جائے۔ چلیے بھئی، ھذا ھو المراد واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 98 of 123