Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-096

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی مسئله مصراه چل رہا ہے بھئی۔ کیا لکھا آپ نے بھئی آخر میں؟ جی لکھئے آگے لکھئے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کی کوئی چیز ہلاک کر دے، تو اس پر ضمان آتا ہے ضاد کے ساتھ بھئی۔ ضمان ضاد کے ساتھ ہے بھئی۔ تو اس پر ضمان آتا ہے۔ اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو، تو ضمان کے طور پر اسی کا مثل دینا پڑے گا۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے کی گندم تلف کر دی، تو اسے ضمان کے طور پر اتنی ہی گندم دینی پڑے گی۔ اسے مثل صوری کہتے ہیں، صاد کے ساتھ ہے صوری۔ اسے مثل صوری کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ گندم اسی گندم کی طرح ہے، صورت کے لحاظ سے۔ اور اگر وہ چیز ذوات القيم میں سے ہو، تو ضمان کے طور پر اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اور اسے مثل معنوی کہتے ہیں، کیونکہ یہ قیمت اسی چیز کے مثل ہے معنوی لحاظ سے۔ معلوم ہوا کسی بھی چیز کے ضمان کے طور پر اس کا مثل دینا پڑے گا۔ اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو، مثل صوری دینا پڑے گا۔ اور اگر وہ چیز ذوات القيم میں سے ہو، تو مثل معنوی یعنی قیمت دینی پڑے گی۔ تمہید ختم ہوئی۔ یہ تمہید آپ لکھ رہے تھے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تمہید ختم ہوئی۔ الگ سطر لکھئے مولانا، الگ سطر لکھئے بھئی۔ یہ حدیث خلاف القياس اس طرح ہے کہ اس میں استعمال شدہ دودھ کے ضمان کے طور پر ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ صاع تمر نہ تو دودھ کا مثل صوری ہے، نہ تو استعمال شدہ دودھ کا مثل صوری ہے اور نہ مثل معنوی۔ الگ سطر لکھئے بھئی۔ مثل صوری نہ ہونا تو ظاہر ہے، کیونکہ دودھ کا مثل صوری دودھ ہی ہو گا۔ نیز صاع تمر استعمال شدہ دودھ کا مثل معنوی بھی نہیں، کیونکہ مثل معنوی تو قیمت ہوتی ہے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے، کہ یہ صاع تمر دودھ کی قیمت کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی خریدار نے جتنا دودھ استعمال کیا ہو، اتنی قیمت کی کھجوریں دینی چاہئیں۔ اگر دودھ تھوڑا استعمال کیا ہے، تو کھجوریں بھی تھوڑی دینی چاہئیں۔ اور اگر زیادہ دودھ استعمال کیا ہے، تو کھجوریں بھی زیادہ دینی چاہئیں۔ مگر حدیث میں تو مطلق ایک صاع تمر دینے کا حکم ہے۔ چاہے تھوڑا دودھ استعمال کیا ہو، چاہے زیادہ۔ معلوم ہوا کہ یہ کھجوریں اس استعمال شدہ دودھ کا مثل معنوی بھی نہیں۔ الگ سطر لکھئے بھئی۔ تو جب یہ صاع تمر نہ تو دودھ کا مثل صوری ہے اور نہ مثل معنوی، تو مصراه جانور کے ساتھ ایک صاع تمر واپس کرنا خلاف القياس ہوا۔ چنانچہ غیر فقیہ صحابی کی یہ روایت خلاف القياس ہونے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اسے ترک فرمایا۔ الگ سطر لکھئے بھئی۔ یہ تھی صاحب اصول الشاشی کی تقریر مسئلہ مصراه میں۔ الگ سطر لکھئے بھئی۔ صاحب اصول الشاشی کی یہ تقریر مردود اور ظالمانہ ہے اور دیوار پر مار دینے کے قابل ہے۔ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث قرآن و سنت اور اجماع متقدمین کے خلاف ہے۔ جی یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا آپ کو بھئی؟ صاحب اصول الشاشی کی یہ تقریر ہمیں قبول نہیں بھئی، ہم اس کو رد کرتے ہیں بھئی۔ پہلی بات تو گزشتہ سبق میں ذکر ہو چکی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا کیا انہوں نے، کس میں شمار کیا؟ غیر مجتہد صحابہ میں حالانکہ وہ مجتہدین میں سے تھے، وہ مجتہد صحابہ میں سے تھے۔ دوسری بات یہ، مولانا، کہ وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب نے اس حدیث کو، فقہاء نے اس حدیث کو ہمارے کیوں ترک کیا بھئی؟ کہ یہ خلاف القياس ہے۔ معلوم ہوا ہمارے فقہاء نے قیاس کو ترجیح دی اور حدیث مرفوع کو رد کیا مولانا، یہ تو بڑا ظالمانہ فیصلہ ہے، ہمارے فقہاء ایسا نہیں کرتے بھئی۔ وہ حدیث کو ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں بھئی۔ تو امام صاحب نے کیوں رد کیا اس حدیث کو؟ کیونکہ یہ قرآن کے بھی خلاف ہے، سنت مشہورة کے بھی خلاف ہے، اور اجماع متقدمین کے بھی خلاف ہے۔ لکھیے، آگے لکھیے بھئی۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا وجزا لکھا ہے نا؟ وجزاء، واؤ لکھیں شروع میں بھئی۔ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا۔ اور برائی کا بدلہ اور برائی کا بدلہ اسی برائی کے برابر ہوگا۔ اور برائی کا بدلہ اسی برائی کے برابر ہوگا۔ نیز دوسری جگہ قرآن میں آتا ہے، نیز دوسری جگہ قرآن میں آتا ہے: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ عین کے ساتھ ہے عَاقَبْتُمْ، پھر قاف دو نقطوں والا ہے بھئی۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ۔ آیت لکھ لی بھئی؟ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ۔ اور اگر بدلہ لینے لگو، اور اگر بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے، جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا جتنا جرم ہو، معلوم ہوا جتنا جرم ہو اتنی ہی سزا ہونی چاہیے۔ معلوم ہوا جتنا جرم ہو اتنی ہی سزا ہونی چاہیے۔ تو ضمان کو نقصان کے برابر ہونا چاہیے۔ تو ضمان کو نقصان کے برابر ہونا چاہیے۔ مگر یہاں صاع تمر، مگر یہاں صاع تمر مماثل نہیں ہے، مماثل، ثا کے ساتھ ہے یہ بھی بھئی۔ مگر یہاں صاع تمر مماثل نہیں ہے اس دودھ کے اس دودھ کے جو مشتری نے استعمال کیا ہے، اس دودھ کے جو مشتری نے استعمال کیا ہے۔ مگر یہاں صاع تمر مماثل نہیں ہے اس دودھ کے جو مشتری نے استعمال کیا ہے۔ لہذا یہ حدیث ان آیتوں کے خلاف ہے۔ لہذا یہ حدیث ان آیتوں کے خلاف ہے۔ اور آیت کو ترجیح ہوتی ہے۔ اور آیت کو ترجیح ہوتی ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ نیز یہ حدیث سنت مشہورة کے بھی خلاف ہے۔ نیز یہ حدیث سنت مشہورة کے بھی خلاف ہے۔ مشہور حدیث ہے، مشہور حدیث ہے: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ضمان ضاد کے ساتھ ہے بھئی۔ یعنی کسی چیز کا نفع یعنی کسی چیز کا نفع ضمان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا نفع ضمان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ خراج سے مراد نفع ہے۔ خراج سے مراد نفع ہے۔ مطلب یہ ہے، مطلب یہ ہے کہ جو چیز آپ کی ضمانت میں ہو کہ جو چیز آپ کی ضمانت میں ہو اس کے بدلے نفع بھی آپ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے بدلے نفع بھی آپ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ نفع اس ضمان کے بدلے میں ہے۔ یہ نفع اس ضمان کے بدلے میں ہے۔ اور وہ مصراة جانور اور وہ مصراة جانور قبضے کے بعد اور وہ مصراة جانور قبضے کے بعد مشتری کے ضمان میں ہے، مشتری کے ضمان میں ہے۔ لہذا اگر مشتری کے قبضے میں ہلاک ہوا، لہذا اگر مشتری کے قبضے میں ہلاک ہوا تو بالاتفاق مشتری پر تو بالاتفاق مشتری پر پوری قیمت دینا واجب ہے۔ تو بالاتفاق مشتری پر پوری قیمت دینا واجب ہے۔ تو الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ کا تقاضا ہے، تو الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ کا تقاضا ہے کہ اس مستعمل دودھ کا کوئی ضمان نہیں ہے، کہ اس مستعمل دودھ کا کوئی ضمان نہیں ہے۔ کیونکہ ان دنوں میں، کیونکہ ان دنوں میں مصراة کے دودھ سے، کیونکہ ان دنوں میں مصراة کے دودھ سے مشتری نے اگرچہ نفع اٹھایا ہے، مشتری نے اگرچہ نفع اٹھایا ہے لیکن ان دنوں لیکن ان دنوں اس مصراة کا ضمان بھی مشتری پر تھا، اس مصراة کا ضمان بھی مشتری پر تھا۔ یعنی اگر وہ گائے مر جاتی، یعنی اگر وہ گائے مر جاتی تو اس کا سارا ضمان مشتری پر تھا۔ یعنی اگر وہ گائے مر جاتی تو اس کا سارا ضمان مشتری پر تھا۔ اور ایسی صورت میں اور ایسی صورت میں مستعمل چیز کا کوئی ضمان نہیں ہوتا، مستعمل چیز کا کوئی ضمان نہیں ہوتا۔ لہذا مشتری پر دودھ کا کوئی ضمان نہیں آنا چاہیے۔ لہذا مشتری پر دودھ کا کوئی ضمان نہیں آنا چاہیے۔ اور یہ حدیث الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ اور یہ حدیث الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ایک قانون کلی پر مشتمل ہے۔ اور یہ حدیث الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ ایک قانون کلی پر مشتمل ہے۔ لہذا اسے ترجیح ہے، لہذا اسے ترجیح ہے حدیث مصراة پر۔ لہذا اسے ترجیح ہے حدیث مصراة پر۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ نیز یہ حدیث اجماع کے بھی خلاف ہے۔ نیز یہ حدیث اجماع کے بھی خلاف ہے۔ نیز یہ حدیث اجماع کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ بالاجماع شریعت میں کیونکہ بالاجماع شریعت میں ضمان دو قسم پر ہے۔ کیونکہ بالاجماع شریعت میں ضمان دو قسم پر ہے: اول ضمان بالمثل، اول ضمان بالمثل، ثا کے ساتھ ہے، اول ضمان بالمثل۔ اگر وہ ہلاک شدہ چیز اگر وہ ہلاک شدہ چیز مثلیات میں سے ہو، اگر وہ ہلاک شدہ چیز مثلیات میں سے ہو۔ دوم، دوم ضمان بالقیمة، دوم ضمان بالقیمة۔ اگر وہ ہلاک شدہ چیز اگر وہ ہلاک شدہ چیز ذوات القیم میں سے ہو، ذوات القیم میں سے ہو۔ پس صاع تمر، پس صاع تمر دونوں قسموں میں سے دونوں قسموں میں سے ایک قسم میں بھی داخل نہیں ہے۔ پس صاع تمر دونوں قسموں میں سے ایک قسم میں بھی داخل نہیں ہے۔ کیونکہ صاع تمر کیونکہ صاع تمر نہ تو دودھ کے لیے المثل ہے، نہ تو دودھ کے لیے المثل ہے اور نہ قیمت، اور نہ قیمت۔ لہذا صاع تمر کو واجب قرار دینا، لہذا صاع تمر کو واجب قرار دینا خلافِ اجماع ہوا، اور اجماع دلیلِ قطعی ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ نیز اس حدیث کے الفاظ میں، نیز اس حدیث کے الفاظ میں اضطرابِ عظیم ہے۔ اضطراب "ض" اور "ط" کے ساتھ لکھتے ہیں بھئی، "ض" اور "ط"۔ نیز اس حدیث کے الفاظ میں اضطرابِ عظیم ہے۔ بعض روایتوں میں صاع تمر کا ذکر ہے۔ بعض روایتوں میں صاع تمر کا ذکر ہے۔ بعض روایتوں میں، بعض روایتوں میں دودھ کے برابر، بعض روایتوں میں دودھ کے برابر گندم دینے کا ذکر ہے۔ دودھ کے برابر گندم دینے کا ذکر ہے۔ اور بعض روایتوں میں، اور بعض روایتوں میں دودھ سے دگنی گندم دینے کا ذکر ہے وغیرہ۔ اور بعض روایتوں میں دودھ سے دگنی گندم دینے کا ذکر ہے وغیرہ۔ لہذا یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں۔ لہذا یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں۔ الگ سطر۔ نیز یہ حدیث، ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے۔ نیز یہ حدیث ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے، بلکہ معمول بہِ ہے۔ بلکہ معمول بہِ ہے۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ مگر دیانۃً، نہ کہ قضاءً۔ مگر دیانۃً، نہ کہ قضاءً۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کے طور پر یہ فرمایا۔ مصالحت کے طور پر یہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے، مطلب یہ ہے کہ قضاءً اگرچہ مصرۃ واپس نہیں کر سکتا، کہ قضاءً، مطلب یہ ہے کہ قضاءً اگرچہ مصرۃ واپس نہیں کر سکتا، قضاءً اگرچہ مصرۃ واپس نہیں کر سکتا، لیکن اخلاقی طور پر، اخلاقی طور پر بائع کے لیے مناسب یہ ہے، لیکن اخلاقی طور پر بائع کے لیے مناسب یہ ہے کہ اگر مشتری وہ جانور واپس کرے، کہ اگر مشتری وہ جانور واپس کرے تو بائع اسے واپس لے لے۔ تو بائع اسے واپس لے لے۔ اور چونکہ اس سے بائع کی دلشکنی بھی ہوگی، اور چونکہ اس سے بائع کی دلشکنی بھی ہوگی، تو اس کو دور کرنے کے لیے، تو اس کو دور کرنے کے لیے صاع تمر دینے کا کہا گیا ہے۔ صاع تمر دینے کا کہا گیا ہے۔ تاکہ بائع خوش ہو جائے۔ تاکہ بائع خوش ہو جائے۔ یہ صلح ہے۔ یہ صلح ہے۔ اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوا یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔ معلوم ہوا یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔ جی، بحث ختم ہوئی بھئی۔ یہ تھا مولانا مسئلہٴ مصرۃ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ صاحبِ اصول الشاشی نے کیا فرمایا بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے مسئلہٴ مصرۃ میں حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہُ کو ترک کیا ہے کیونکہ وہ کیا ہے خلاف القياس خلاف القیاس ہے اور خلاف القیاس کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس میں استعمال شدہ دودھ کے بدلے میں ایک صاع تمر دینے کا حکم دیا گیا ہے اور صاع تمر نہ تو دودھ کا مثلِ صوری ہے اور نہ مثلِ معنوی، معلوم ہوا یہ حدیث خلاف القیاس ہے اور صرف فقیہ صحابی کی روایت جب خلاف القیاس ہو تو کس کو ترجیح ہوگی؟ قیاس کو ترجیح، مگر میں نے بتلایا صاحبِ اصول الشاشی کی یہ تقریر درست نہیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تقریر درست نہیں، یہ وہ، وہ، وہ قول اس قول پر تقریر تھی جو عیسیٰ ابن ابان کی طرف منسوب ہے اور جو احناف پر مولانا عظیم داغ ہے مولانا، ان کی بدنامی کا باعث۔ احناف کا یہ مسلک نہیں ہے بھئی، احناف کے نزدیک مطلقا ً حدیثِ مرفوع کو قیاس پر ترجیح حاصل ہوگی مولانا، اور اس حدیث کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس لیے نہیں ترک کیا کہ یہ خلاف القیاس ہے، اس کے بہت سے جوابات ہم دیتے ہیں مولانا، بہت سے جوابات یہ دو تین میں نے آپ کو لکھوائے بھئی، بڑی لمبی تقریر اس میں ہو سکتی ہے، آٹھ، دس، 15 جوابات بلکہ اس سے بھی زیادہ جوابات علماء ذکر کرتے ہیں بھئی، ہاں، آیات کے بھی یہ خلاف ہے یہ حدیث مولانا، بہت سی احادیث کے بھی خلاف ہے مولانا، اور اجماع کے بھی خلاف ہے، تقریر لمبی گزر گئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اجماع کے بھی خلاف ہے۔ اور نیز ایک جواب جو بڑا پیارا جواب تھا، آخر میں میں نے آپ کو لکھوایا کہ یہ بھئی اس حدیث پر ہم بھی عمل کرتے ہیں، ہمارے نزدیک بھی متروک نہیں ہے یہ حدیث، البتہ ہم اس پر دیانۃً عمل کرتے ہیں، قضاءً نہیں، قاضی کے پاس فیصلہ جائے تو وہ تو اس پر فیصلہ نہیں کرے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، دیانۃً آپس میں صلح کے طور پر کرتے ہیں، حدیث میں یہ صلح کے طور پر ذکر آیا کہ جب مصرۃ جانور واپس کرو تو ساتھ کیا دے دو؟ ایک صاع تمر دے دو، ورنہ تو اصل ضابطے کے مطابق بیع تام ہو چکی ہے، مصرۃ واپس ہی نہیں کر سکتا، لیکن حدیث میں آیا کہ چونکہ اس میں مشتری بیچارے کا نقصان ہوا ہے، وہ واپس کرے تو بائع کو کیا کرنا چاہیے؟ لے لینا چاہیے اور بائع کی بھی چونکہ دلشکنی ہوگی تو مشتری کو چاہیے ساتھ کیا دے دے؟ ایک صاع تمر بھی دے دے، اس سے صلح ہوگی، محبت میں اضافہ ہوگا، معلوم ہوا یہ ہمارے خلاف بھی نہیں، ہمارا بھی اس حدیث پر کیا ہے؟ عمل ہے، صلح کے طور پر دے سکتا ہے ایک صاع تمر بھئی۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، اب آئیے کتاب پر بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ وَبِاعْتِبَارِ اخْتِلَافِ أَحْوَالِ الرُّوَاةِ قُلْنَا شَرْطُ الْعَمَلِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ أَنْ لَا يَكُونَ مُخَالِفًا لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ وَأَنْ لَا يَكُونَ مُخَالِفًا لِلظَّاهِرِ۔ یہاں سے مصنف خبرِ واحد پر عمل کرنے کی شرائط ذکر کر رہے ہیں بھئی، خبرِ واحد پر کب عمل کیا جائے گا؟ جبکہ وہ کتاب اللہ کے بھی خلاف نہ ہو، سنتِ مشہورہ کے بھی خلاف نہ ہو اور ظاہر کے بھی خلاف نہ ہو۔ دیکھیے بھئی، وَبِاعْتِبَارِ اخْتِلَافِ أَحْوَالِ الرُّوَاةِ اور راویوں کے احوال کے اختلاف کے اعتبار سے، راویوں کے احوال کے ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں بھئی روات سے، راویوں کے احوال کے اختلاف کے اعتبار سے، بھئی راویوں کے احوال مختلف ہیں بھئی، راویوں کے احوال کیا ہیں؟ مختلف ہیں مولانا، کوئی قوی حافظے والا ہے، کوئی ضعیف حافظے والا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی منافق ہے، کوئی کس قسم کا ہے، مختلف قسم کے لوگ حدیث روایت کرنے والے، تو لہذا اب اس پر خبرِ واحد پر عمل کرنے کی کیا شرائط ہیں؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں راویوں کے احوال کے مختلف ہونے کے اعتبار کرتے ہوئے قُلْنَا ہم کہتے ہیں شَرْطُ الْعَمَلِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ خبرِ واحد پر عمل کرنے کی شرط کیا ہے؟ أَنْ لَا يَكُونَ مُخَالِفًا لِلْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ کہ وہ خبرِ واحد کتاب اللہ کے مخالف بھی نہ ہو، سنتِ مشہورہ کے مخالف بھی نہ ہو وَأَنْ لَا يَكُونَ مُخَالِفًا لِلظَّاهِرِ اور ظاہر کے مخالف بھی نہ ہو مولانا، چنانچہ اسی پر بھئی حدیث اب ذکر کر رہے ہیں، قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تُكْثَرُ لَكُمُ الْأَحَادِيثُ بَعْدِي یا تُكْثَرُ لَكُمُ الْأَحَادِيثُ بَعْدِي، تکثر کثیر ہوں گی تمہارے لیے احادیث میرے بعد بھئی، زیادہ کثیر ہوں گی بھئی، کیا کثیر ہوں گی؟ احادیث تمہارے لیے بعدي میرے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ کہ میرے بعد تمہارے لیے احادیث یعنی تمہیں بہت سی احادیث پہنچیں گی، میرے بعد بڑی کثرت سے تمہارے پاس احادیث پہنچیں گی بھئی، یا تُكْثَرُ لَكُمُ کثر اکثر یکثر إکثاراً سے زیادہ کرنا، زیادہ کی جائیں گی تمہارے لیے احادیث میرے بعد بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث صحابہ روایت کرتے ہیں، صحابی سے پھر آگے اگلے طبقے والا روایت کرے گا، پھر اگلے طبقے والا، تو روایتیں چلتی ہیں، اب پتہ نہیں ہے یہ روایتیں راوی کے ح ا کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے یا نہیں بھئی، ہو سکتا ہے درمیان میں ایک شخص تھا، منافق تھا، اٹھا اور اس نے کہہ دیا ہو بھئی کہ مجھے فلاں نے کہا، فلاں نے کہا، اس نے صحابی سے روایت کی کہ حضور نے یہ فرمایا ہے، کوئی کہہ سکتا ہے یا نہیں کہہ سکتا بھئی؟ بلکہ بہت سے لوگوں نے احادیث اس طرح روایت کیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور ایسی حدیث کو موضوع حدیث کہتے ہیں جو کسی نے وضع کی ہو، اپنی طرف سے بنائی ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع حدیث کہتے ہیں، یاد رکھنا یہ لفظ ہمیشہ، موضوع حدیث، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حدیث ہے ہی نہیں بھئی، اس کو مجازاً حدیث کہتے ہیں کیونکہ اس نے نسبت کس کی طرف کی ہے؟ حضور کی طرف، تو بس حدیث کی ایک قسم اس کو قرار موضوع حدیث کہتے ہیں ان کو، یعنی یہ وضع کی گئی ہے، یہ حدیث سرے سے ہے ہی نہیں، حضور کا یہ قول نہیں ہے، جیسے اس کی مثال ہے مولانا، حدیث ہے لولا حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ، لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ، اے پیغمبر! اگر آپ نہ ہوتے تو ہم یہ افلاک پیدا نہ کرتے بھئی، اس نظام کو ہم نہ بناتے، محدثین فرماتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے، بعد میں کسی نے اپنی طرف سے قول کر کے حضور کی طرف منسوب کر دیا ہے، تو بہت سے شریر لوگ تھے اس قسم کے جو کیا کرتے تھے؟ باتیں کر کے حضور کی طرف منسوب کر دیا کرتے تھے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اور حدیث میں آتا ہے مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ متعمدًا بعض روایتوں میں متعمدًا بھی نہیں آتا، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، جو میرے اوپر مجھ پر جھوٹ باندھے، اسے اپنا ٹھکانہ کہاں بنانا چاہیے؟ جہنم میں بنانا چاہیے، جہنم۔ تو وہ حضور پر جھوٹ، تو چنانچہ علماءِ اسلام کو، محدثین کو اللہ جزاۓ خیر دے مولانا، انہوں نے ایسی ایسی شرائط بھئی لگا دیں حدیث کے بارے میں، ان شرائط پر پرکھ کر آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون سی حدیث حضور کا قول ہے اور کون سا حدیث، کون سی حدیث حضور کا قول نہیں ہے، چنانچہ علماء نے محنتیں کیں، اپنی عمریں لگائیں اس کام میں اور ساری موضوع احادیث کو الگ کر دیا بھئی، چنانچہ کئی کتابیں لکھیں بھئی، جس میں انہوں نے صرف بھئی، کئی کئی جلدوں میں کتابیں، جن میں صرف موضوع احادیث کا تذکرہ ہے، علماء نے الگ کی ہیں، بھئی یہ موضوع حدیث ہے، یہ حضور کا قول نہیں، ویسے کسی نے جھوٹ بولا ہے، فلاں نے جھوٹ بولا ہے، فلاں راوی نے جھوٹ بولا ہے، فلاں نے جھوٹ بولا ہے، فلاں کذاب ہے، دجال ہے، اس نے حضور کے پر جھوٹ باندھا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ شرائط، ضابطے وغیرہ ذکر کیے اور ان کے ذریعے پھر انہوں نے موضوع احادیث کو الگ کر دیا صحیح احادیث سے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ تو یہ حدیث جو میں نے ذکر کی بھئی، ”لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ“، یہ حدیث کیا ہے؟ علماء، محدثین لکھتے ہیں موضوع ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: اے پیغمبر! اگر آپ نہ ہوتے ”لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ“ تو ہم یہ افلاک پیدا نہ کرتے۔ محدثین لکھتے ہیں یہ موضوع ہے مولانا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں افلاک کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ یہ افلاک کا لفظ بتلاتا ہے کہ یہ حدیث کیا ہے، اور بھی باتیں ہیں، ان میں سے ایک بات یہ اور بھی شرائط پوری نہیں، ایک یہ بھی ہے کہ یہ احادیث میں کہیں حضور نے فلک اور افلاک کے الفاظ استعمال نہیں فرمائے بھئی۔ ہاں اس حدیث کا معنی ٹھیک ہے، محدثین لکھتے ہیں۔ معنی ٹھیک ہے، واقعۃً کائنات کو کس کے لیے بنایا گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، لیکن یہ حدیث موضوع ہے۔ تو موضوع حدیث کو روایت کرنا بھی جائز نہیں ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ ہاں، دوسرے کو یہ بتا کر کہ یہ موضوع حدیث ہے پھر روایت کرنا ٹھیک ہے، پھر بتا سکتے ہیں آپ دوسرے کو یہ بتلانے کے لیے کہ یہ موضوع حدیث ہے۔ ویسے روایت کرنا درست نہیں۔ تو لہذا خبرِ واحد پر عمل کرنے کے لیے بڑی شرائط رکھیں۔ دیکھیے بھئی، ہم کہتے ہیں خبرِ واحد پر عمل کرنے کی یہ شرط ہے کہ مخالف نہ ہو کتاب اللہ کے، سنتِ مشہورہ کے اور ظاہر کے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تُكْثَرُ لَكُمُ الْأَحَادِيثُ بَعْدِي“، تمہارے پاس کثرت سے پہنچیں گی میرے بعد احادیث بھئی۔ ”فَإِذَا رُوِيَ لَكُمْ عَنِّي حَدِيثٌ“، جب روایت کی جائے تمہارے لیے مجھ سے کوئی حدیث، ”فَاعْرِضُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ“، عرض يعرض کے معنی پیش کرنا، ”فَاعْرِضُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ“، پس اس حدیث کو تم پیش کرو کتاب اللہ پر، یعنی کتاب اللہ کے ذریعے اس کو پرکھ لو، ”فَمَا وَافَقَ فَاقْبَلُوهُ“، پس جو اس کتاب اللہ کے موافق ہو اس کو قبول کر لو، ”وَمَا خَالَفَ فَـرُدُّوهُ“ اور جو اس کے مخالف ہو مولانا اس کو رد کر دو۔ حضور فرماتے ہیں: میرے بعد تمہیں بہت سی احادیث پہنچیں گی بھئی، اس کو کتاب اللہ کے ذریعے پرکھ لینا، کتاب اللہ پر پیش کرنا، کتاب اللہ سے اس کا مقابلہ کر کے دیکھنا۔ اگر کتاب اللہ کے موافق ہو تو اس کو قبول کر لینا، اگر کتاب اللہ کے مخالف ہو تو اس کو کیا کر دینا؟ رد کر دینا۔ ”وَتَحْقِيقُ ذَالِكَ فِيمَا رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور تحقیق اس بات کی بھئی کہ بعض احادیثوں کو کیا کرنا پڑے گا؟ راویوں کے احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے قبول کیا جاتا ہے اور بعض کو کیا کیا جاتا ہے؟ رد کیا جاتا ہے۔ اس کی تحقیق وہ ہے جو حدیث ہے جو روایت کی گئی ہے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ”أَنَّهُ قَالَ“، وہ فرماتے ہیں: ”كَانَتِ الرُّوَاةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ“ کہ راوی تین قسم پر تھے بھئی۔ ”مُؤْمِنٌ مُخْلِصٌ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“، کچھ تو وہ مومن تھے جو مخلص تھے اور صحابی تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، صاحَبَ، ساتھ رہے۔ اس حدیث کو روایت کرنے والے لوگ بھئی یہ آگے حدیث آ رہی ہے، تین قسم کے حضرت علی بیان کریں گے۔ کچھ وہ لوگ جو کیا فرماتے ہیں حضرت علی؟ مومن ہیں، مومن تھے، مخلص تھے، حضور علیہ السلام کے ساتھ رہے، ”وَعَرَفَ مَعْنَى كَلَامِهِ“ اور پہچانا انہوں نے حضور کے کلام کے معنی کو۔ حضور کے کلام کے معنی کو اور مراد کو وہ کیا تھے؟ بھئی سمجھتے تھے، حضور کے ساتھ رہتے تھے، مخلص تھے، مومن تھے، حضور کے کلام کی مراد کو سمجھتے تھے کہ کسی بات کے لیے حضور کا ارادہ کس چیز کا ہے وہ سمجھتے تھے۔ ایک تو قسم، ایک یہ لوگ تھے، دوسرے ”وَ أَعْرَابِيٌّ“ اور وہ دیہاتی ”جَاءَ مِنْ قَبِيلَةٍ“، جی یہاں سے یہ بتلائیں گے کہ کچھ وہ راوی تھے، دور سے سفر کر کے آتے حضور کے پاس بھئی، دیہاتی ہوتے، ایمان میں تو سچے تھے، مومن تھے، آ کر بیٹھے، حضور علیہ السلام کوئی بات بیان فرما رہے ہیں، انہوں نے آدھی بات سنی، آدھی نہیں سنی۔ یعنی جب پہنچے تو کچھ بات گزر چکی تھی، ابھی کچھ ہو رہی تھی، جو گزر چکی وہ تو سنی نہیں، جو باقی بات تھی وہ انہوں نے سن لی اور سننے کے بعد وہ پھر جب اپنے علاقے میں گئے، اپنے گاؤں میں گئے، تو وہاں جا کر اس حدیث کو روایت کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ادھوری بات روایت ہوئی مولانا۔ اپنی طرف سے وہ بیچارے بات ٹھیک کر رہے ہیں جو انہوں نے سنا، لیکن چونکہ حضور کے پاس نہیں رہے اور بات جب پہنچے تو آدھی بات گزر چکی تھی، تو انہوں نے آدھی بات روایت کر دی۔ سمجھ میں آیا؟ جب آدھی بات روایت کی تو معلوم ہوا بات پوری نہیں ہے، تو اب یہ حدیث بھی حجت نہیں ہو گی۔ یا مولانا آدھی بات نہیں، آدھی بات روایت نہیں کی، مثلاً بات مثلاً پوری بات کی، لیکن اپنے لفظوں میں کی۔ حضور کے الفاظ نقل نہیں کیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حافظہ اتنا قوی بھی نہیں یا اتنا الفاظ کی طرف توجہ نہ کی کہ بھئی بات حضور نے یہ بات فرمائی ہے، خود سمجھ لیا ایک بات کو اور جا کر روایت کیا کہ حضور علیہ السلام نے اس بارے میں یوں فرمایا ہے۔ تو الفاظ اپنے لے آیا مولانا الفاظ، اور اس بیچارے کا یہ خیال ہے کہ شاید معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن اس کو پتہ ہی نہیں اسے کہ میرے لفظ بدلنے سے معنی کیا سے کیا ہو چکا ہے بھئی۔ وہ اپنی طرف سے کیا کر رہا ہے؟ صحیح روایت کر رہا ہے، لیکن لفظ چونکہ اس نے اپنے استعمال کر لیے تو بسا اوقات اس کی وجہ سے کیا ہو گیا؟ معنی ہی تبدیل ہو گیا۔ اب اس قسم کی حدیث جو ہو گی، وہ حجت نہیں ہو گی مولانا، سمجھ میں آیا؟ ”وَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ مِنْ قَبِيلَةٍ“ اور وہ دیہاتی جو آیا، دوسری قسم مولانا تین قسم پر ہے، ایک مومنِ مخلص ہے اور دوسرا دیہاتی ہے ”جَاءَ مِنْ قَبِيلَةٍ“ جو آیا کسی قبیلہ سے، ”فَسَمِعَ بَعْضَ مَا سَمِعَ“ تو سنا اس نے بعض وہ جو کہ اس نے سنا، یعنی پوری بات نہیں سنی، کچھ گزر چکی تھی۔ ”وَلَمْ يَعْرِفْ حَقِيقَةَ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اور نہیں پہچانا اس نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی حقیقت کو، ”فَرَجَعَ إِلَى قَبِيلَتِهِ“ پس وہ لوٹا واپس اپنے قبیلے کی طرف، ”فَرَوَى بِغَيْرِ لَفْظِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ تو اس نے روایت کیا حضور علیہ السلام کے لفظوں کے علاوہ سے، یعنی اپنے لفظوں سے کیا کیا؟ بیان کیا اس بات کو، ”فَتَغَيَّرَ الْمَعْنَى“ تو معنی کیا ہوا؟ بدل گیا، ”وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّ الْمَعْنَى لَا يَتَفَاوَتُ“ اور اس کا یہ گمان ہوا کہ معنی میں فرق نہیں پڑتا بھئی، معنی میں فرق نہیں پڑتا۔ ”وَ مُنَافِقٌ“ تیسری قسم کے راوی وہ ہیں جو منافق ہیں، ایسا منافق ”لَمْ يُعْرَفْ نِفَاقُهُ“ جس کے نفاق کو پہچانا نہیں گیا، جانا نہیں گیا، کسی کو پتہ ہی نہیں ہے یہ منافق ہیں مولانا، کسی کو پتہ ہی، بظاہر مسلمان ہیں لیکن دل میں کافر ہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو بظاہر تو مسلمان ہیں، اب یہ حضور سے یہ روایت کر رہا ہے، اور روایت بھی کیا کر رہا ہے؟ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر لوگوں کو کہتا ہے حضور نے یوں فرمایا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حضور کے انتقال کے بعد بھئی آگے انتقال کے بعد لوگوں میں اب حدیثیں بیان کر رہا ہے، لوگ بیچاروں کو کیا پتہ بھئی وہ تو سمجھ رہے ہیں کہ یہ تو واقعی کیا ہے؟ مسلمان ہے، مومن ہے، حضور کی بات نقل کر رہا ہے، لیکن وہ نہیں جانتے یہ تو منافق ہے، بظاہر اس مسلمان کا اس نے روپ دھارا ہوا ہے بھئی۔ ”وَ مُنَافِقٌ“ اور ایسا منافق ”لَمْ يُعْرَفْ نِفَاقُهُ“ کہ جانا نہیں گیا جس کے نفاق کو، یعنی لوگوں کو پتہ نہیں تھا، ”فَرَوَى“ پس اس نے روایت کیا ”مَا لَمْ يَسْمَعْ“ جو وہ چیز جو اس نے سنی نہیں تھی ”وَافْتَرَى“ اور اپنی طرف سے گھڑا اس نے، وہ چیز روایت کی جو اس نے سنی نہیں ہے حضور سے، اپنی طرف سے گھڑی ہے، ”فَسَمِعَ مِنْهُ أُنَاسٌ“ تو لوگوں نے اس سے سنا، ”فَظَنُّوهُ مُؤْمِنًا مُخْلِصًا“ پس لوگوں نے گمان کیا اس کو ایسا مومن جو مخلص ہے، ”فَرَوَوْا ذَالِكَ“ پس لوگوں نے اس سے وہ وہ روایت کی بھئی، لوگوں نے اس سے سن کر آگے، لوگوں نے اس سے اس سے سنا تو آگے آنے والوں کو بھی انہوں نے سنایا کہ بھئی فلاں صحابی نے ہمیں یوں کہا، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ تو روایت کرنے والا کون تھا؟ منافق تھا اور یہ جھوٹی روایت کر رہا ہے۔ تو ”فَرَوَوْا ذَالِكَ“ پس لوگوں نے اس روایت منافق کی روایت کو روایت کیا، ”وَاشْتَهَرَ بَيْنَ النَّاسِ“ اور وہ روایت مشہور ہو گئی لوگوں کے درمیان۔ جی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ تین قسم کے راوی ہیں بھئی۔ ”فَلِهَذَا الْمَعْنَى“ اور اسی علت کی بناء پر ”وَجَبَ عَرْضُ الْخَبَرِ عَلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ“ واجب ہے پیش کرنا خبر کو کتاب اللہ پر اور سنتِ مشہورہ پر۔ کتاب اللہ پر اور سنتِ مشہورہ پر پیش کرنا واجب ہے۔ چلیے مولانا، بس بھئی، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
123 approved lectures · 96 of 123