Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-116

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 61
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
چھا بھئی! مسئلہ یہ چل رہا تھا کہ کبھی کبھار علت پر مطلع ہونا مشکل ہوتا ہے یا ممکن نہیں رہتا، تو اس صورت میں شریعت سبب ہی کو علت کے قائم مقام بنا دیتی ہے اور پھر حکم کا دارومدار سبب پر ہوتا ہے، علت پر نہیں۔ علت کو پھر نہیں دیکھا جاتا بلکہ صرف کس کو دیکھا جاتا ہے؟ سبب کو دیکھا جاتا ہے بھئی۔ پہلی مثال اس کی ذکر کی نومِ کامل۔ بھئی، انسان جب سو جائے تو عموماً خروجِ نجاست ہوتا ہے، انسان کو پتہ نہیں لگتا۔ تو یہاں حدث لاحق ہوا لیکن اس پر… تو اب یہاں پر اس بات پر مطلع ہونا ممکن نہیں کہ حدث لاحق ہوا نیند میں یا حدث لاحق نہیں ہوا، تو شریعت نے اس سبب کو، یعنی نوم ہی کو کیا کر دیا؟ قائم مقام بنا دیا کس کے؟ علت کے اور حکم کا دارومدار اب اس سبب یعنی نومِ کامل پر ہوا کہ یہ جب بھی پائی جائے گی، کیا حکم لگایا جائے گا؟ وضو ٹوٹنے کا۔ وَكَذَلِكَ الْخَلْوَةُ الصَّحِيْحَةُ لَمَّا أُقِيْمَتْ مَقَامَ الْوَطْئِ سَقَطَ اعْتِبَارُ حَقِيْقَةِ الْوَطْئِ۔ بھئی دیکھو بھئی! جب اگر خاوند نے بیوی کے ساتھ صحبت کی ہو اور صحبت کرنے کے بعد طلاق دے دے، تو اس عورت کو پورا مہر ملتا ہے۔ کیا ملتا ہے؟ اور نیز اس پر عدت گزارنا بھی ضروری ہے، اس سے پہلے کسی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتی۔ تو اب دیکھیے! یہ جو پورا مہر کا ملنا ہے اور یہ جو عدت کا گزارنا ہے، یہ کس کی وجہ سے ہے؟ وہ یہ اس صحبت کی وجہ سے ہے، یہ اس وطی اور جماع کی وجہ سے ہے۔ کس کی وجہ سے ہے؟ لیکن جی، اس وطی پر مطلع ہونا متعذر ہے، ممکن نہیں، مشکل ہے بھئی۔ تو لہٰذا شریعت نے خلوتِ صحیحہ کو اس کا قائم مقام بنا دیا۔ خلوتِ صحیحہ ہے سبب، وطی ہے علت اور مہر کا پورا ہونا اور عدت کا گزارنا، یہ کیا ہے؟ حکم ہے، حکم ہے۔ تو اس وطی پر چونکہ مطلع ہونا مشکل ہے یا ممکن نہیں، اس لیے شریعت نے خلوتِ صحیحہ یعنی جو سبب ہے، اسی کو قائم مقام بنا دیا کس کے؟ وطی کے۔ کس کے قائم مقام بنا دیا؟ وطی کے قائم مقام بنا دیا بھئی۔ بھئی، خلوتِ صحیحہ اسے کہتے ہیں کہ جب میاں بیوی، یعنی مرد اور عورت نکاح کرنے کے بعد کسی ایسے مکان میں تنہا اکٹھے ہو جائیں جہاں صحبت سے کوئی مانع موجود نہ ہو بھئی۔ کسی قسم کا کوئی مانع موجود نہ ہو صحبت کرنے سے، وطی کرنے سے اور جماع کرنے سے بھئی۔ کسی قسم کا کوئی مانع نہ ہو تو اسے کیا کہتے ہیں؟ خلوتِ صحیحہ کہتے ہیں اور اگر کوئی مانع موجود ہو تو اسے پھر خلوتِ فاسدہ کہیں گے، خلوتِ صحیحہ نہیں کہیں گے بھئی۔ مانع پھر تین قسم کے ہو سکتے ہیں بھئی۔ مانعِ شرعی بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح مانع کوئی حسی بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح مانعِ طبعی بھی ہو سکتا ہے۔ مانع کتنے قسم پر ہیں؟ تین قسم پر۔ مانع یا تو شرعی ہوگا یا حسی ہوگا یا طبعی ہوگا۔ جیسے روزہ ہے روزہ۔ اب دونوں ایک مکان میں اکٹھے تو ہو گئے لیکن روزہ رکھا ہوا ہے، تو یہ روزہ کیا ہے؟ مانعِ شرعی ہے، اس لیے کہ شریعت نے روزے کی حالت میں صحبت کرنے سے منع کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہے مانعِ شرعی اور دوسرا کیا ہے؟ مانعِ حسی، جیسے مرض ہے۔ بہت زیادہ مریض، بیمار ہے، مریض ہونا، یہ کیا ہے؟ مانع ہے، مانع ہے۔ اور اسی طرح مانعِ طبعی ہے بھئی، حیض بھئی۔ مانعِ طبعی کیا ہے؟ حیض ہے۔ یہ مانعِ طبعی بھی ہے، مانعِ شرعی بھی ہے بھئی۔ مانعِ طبعی اس لیے کہ کوئی سلیم الطبع انسان حالتِ حیض میں صحبت کرنے کو پسند نہیں کرتا، تو یہ مانعِ طبعی ہے۔ نیز شریعت نے بھی حیض کی حالت میں صحبت کرنے سے منع کیا ہے، تو یہ مانعِ شرعی بھی ہوا۔ تو حاصل یہ، مولانا! کہ خلوتِ صحیحہ کسے کہتے ہیں؟ کہ نکاح کرنے کے بعد میاں بیوی کسی مکان کے اندر تنہا اکٹھے ہو جائیں اور وہاں پر نہ کوئی مانعِ حسی ہو، نہ کوئی مانعِ شرعی ہو اور نہ کوئی مانعِ طبعی ہو۔ جی، تو پھر یہ خلوتِ صحیحہ کہلاتی ہے۔ تو خلوتِ صحیحہ کو قائم مقام کر دیا ہے شریعت نے کس کے؟ وطی کے، اس لیے کہ وطی پر مطلع ہونا مشکل ہے، متعذر ہے، تو شریعت نے خلوتِ صحیحہ ہی کو اس کا قائم مقام بنا دیا۔ دیکھیے، خلوتِ صحیحہ ہے سبب اور وطی ہے علت اور کامل مہر کا ثابت ہونا عورت کے لیے، یہ کیا ہے؟ حکم ہے۔ اسی طرح عورت پر عدت کا واجب ہونا، یہ بھی کیا ہے؟ حکم ہے۔ تو سبب کیا ہوا بھئی؟ سبب خلوتِ صحیحہ ہے سبب، اور وطی کرنا؟ یہ ہے علت، اور مہر کا پورا واجب ہونا اور عدت کا واجب ہونا، یہ کیا ہیں؟ حکم ہیں۔ لیکن یہاں پر چونکہ علت پر مطلع ہونا ممکن نہ رہا یا مشکل ہو گیا، تو شریعت نے حکم کا مدار کس کو بنا دیا؟ خلوتِ صحیحہ یعنی سبب ہی کو حکم کا… سبب ہی پر حکم کا مدار کر دیا، تو جب بھی یہ سبب پایا جائے گا، حکم بھی پایا جائے گا۔ اب حکم کا مدار کس پر ہے بھئی؟ سبب پر ہے، سبب پر۔ علت کو اب نہیں دیکھا جائے گا بھئی، سبب پایا جائے گا تو حکم بھی پایا جائے گا، سبب نہیں پایا جائے گا تو حکم بھی نہیں پایا جائے گا۔ خلوتِ صحیحہ پائی جائے گی تو مہر بھی کامل ہو جائے گا عورت کے لیے اور اس پر عدت کا گزارنا بھی واجب ہو جائے گا، اچھا اب چاہے وطی نہ ہی کی ہو بھئی۔ وطی کیا ہے؟ چاہے صحبت نہ کی ہو پھر بھی، لیکن اب تو علت پر حکم کا مدار ہی نہیں بلکہ حکم کا مدار شریعت نے کس پر کر دیا؟ سبب پر کر دیا، صورت سمجھ میں آئی؟ وَكَذَلِكَ الْخَلْوَةُ الصَّحِيْحَةُ لَمَّا أُقِيْمَتْ مَقَامَ الْوَطْئِ اور اسی طرح خلوتِ صحیحہ کو جب قائم مقام کر دیا گیا وطی کے، سَقَطَ اعْتِبَارُ حَقِيْقَةِ الْوَطْئِ تو حقیقتِ وطی کا اعتبار ساقط ہو گیا، اب اس کو نہیں دیکھا جائے گا کہ وطی ہوئی ہے یا نہیں۔ فَيُدَارُ الْحُكْمُ عَلَى صِحَّةِ الْخَلْوَةِ پس حکم مرتب ہوگا خلوت کے صحیح ہونے پر، فِي حَقِّ كَمَالِ الْمَهْرِ مہر کے کامل ہونے کے حق میں، وَلُزُوْمِ الْعِدَّةِ اور عدت کے لازم ہونے… اب چاہے صحبت نہ ہوئی ہو، بس خلوتِ صحیحہ پائی جائے تو کیا حکم لگایا جائے گا؟ کہ مہر کیا ہو گیا؟ اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت کا گزارنا لازم ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، اعتراض۔ کہ بھئی، یہاں پر آپ نے کہا کہ وطی پر مطلع ہونا ممکن نہیں۔ بھئی، وطی پر مطلع ہونا ممکن بھی ہے بھئی، کیا ہے؟ ممکن بھی ہے کہ ان دونوں سے پوچھ لیا جائے بھئی، ان دونوں سے پوچھ لیا جائے اور وہ دونوں بتلا دیں کہ ہم نے تو وطی نہیں کی، دونوں اتفاق کر لیں اس بات پر کہ ہم نے وطی نہیں کی۔ تو پھر تو پتہ چل گیا، پھر تو یہ حکم، مہر کے پورا ہونے کا حکم نہیں لگانا چاہیے اور اسی طرح عدت کے گزارنے کا حکم نہیں لگانا چاہیے جب دونوں بتلا رہے ہیں کہ ہم نے وطی نہیں کی بھئی، صحبت نہیں کی بھئی۔ جواب اس کا یہ بھئی کہ ہو سکتا ہے، ٹھیک ہے کہ ان دونوں سے پوچھا جا سکتا ہے، لیکن اس میں یہ احتمال ہے بھئی کہ یہ کسی مصلحت کی وجہ سے ہو سکتا ہے دونوں اصل بات کو چھپا رہے ہوں۔ دونوں اصل بات کو کیا کر رہے ہوں؟ یہ احتمال بھی تو ہے، ہو سکتا ہے انہوں نے صحبت کی ہے لیکن کسی مصلحت کی وجہ سے اب اس کو چھپا رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں کہ صحبت نہیں ہوئی۔ مرد کے لیے کیا مصلحت ہے؟ ہاں، مرد… مثلاً بھئی! اس صورت میں دونوں طرف جھوٹ کا احتمال ہے، اگر دونوں اتفاق کر لیں کہ وطی نہیں ہوئی، تو اس صورت میں احتمال ہے کہ دونوں کیا کر لیں کسی مصلحت کی وجہ سے؟ انہوں نے جھوٹ پر اتفاق کر لیا ہو۔ مثلاً مرد بھی کہہ رہا ہے وطی اور صحبت نہیں کی، عورت بھی کیا کہہ رہی ہے؟ وطی اور صحبت نہیں ہوئی۔ مرد کس لیے کہہ رہا ہے صحبت نہیں ہوئی؟ تاکہ کہیں مجھے پورا مہر نہ دینا پڑے۔ تاکہ مجھے کہیں پورا مہر نہ دینا پڑے، اس لیے۔ اور عورت کی کیا مصلحت ہے؟ کہ عورت اپنے آپ کو باکرہ ظاہر کرنا چاہتی ہے تاکہ اب لوگوں کو میرے ساتھ نکاح میں رغبت ہو بھئی، میرے ساتھ کوئی اور کیا کر لے؟ نکاح کر لے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عورت بھی کہہ رہی ہے صحبت نہیں ہوئی کس لیے بھئی؟ ہو سکتا ہے اپنے آپ کو باکرہ ظاہر کرنے کے لیے، اور مرد بھی کہہ رہا ہے کہ وطی نہیں ہوئی، کیا مصلحت ہے اس میں اس کی؟ کہ مجھے مہر پورا نہیں دینا پڑے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اگر دونوں اس پہ کر لیں کہ ہم نے وطی کی ہے، تو اس میں بھی احتمال بھئی، پتہ نہیں کی، سچ مچ کی ہے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے مرد اس لیے کہہ رہا ہے وطی کے کرنے کا، اس لیے بتلا رہا ہے کہ کہیں کوئی مجھے نامرد ہونے کا طعنہ نہ دے، اور عورت اس لیے کہہ رہی ہے کہ وطی ہوئی ہے کہ مجھے پورا مہر ملے۔ تو ہو سکتا ہے وطی نہ ہوئی ہو اور دونوں جھوٹ اتفاق کر لیں کس بات پر؟ وطی کے ہونے پر، اور ہو سکتا ہے وطی ہوئی ہو اور دونوں اتفاق کس پر کر لیں؟ وطی کے نہ ہونے پر، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس میں چونکہ احتمال ہے کہ دونوں کسی مصلحت کی وجہ سے بھئی اصل بات کو چھپا لیں اور جھوٹ پر اتفاق کر لیں، اس لیے وطی پر مطلع ہونا کیا ہو گیا؟ ممکن نہ رہا، متعذر ہو گیا، تو لہٰذا اس وجہ سے شریعت نے اب کس کو بنا دیا ہے؟ حکم کا مدار کس کو بنایا؟ خلوتِ صحیحہ کو۔ وَكَذَلِكَ السَّفَرُ لَمَّا أُقِيْمَ مَقَامَ الْمَشَقَّةِ فِي حَقِّ الرُّخْصَةِ۔ بھئی دیکھیے بھئی! شریعت نے سفر میں مسافر کو رخصت دی ہے کہ روزہ رکھنا چاہے، رکھے، روزہ نہ رکھنا چاہے تو… رمضان کا فرض روزہ ہے بھئی، وہ سفر میں ہے کوئی شخص، تو شریعت نے رخصت دے دی کہ چاہو تو کیا کر لو؟ روزہ رکھو، اور چاہو تو کیا کر لو؟ افطار کرو، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اسی طرح نماز میں بھی رخصت دی ہے بھئی سفر کے اندر جب کوئی سفرِ شرعی ہو، کیا؟ کہ جو چار چار رکعتوں والی نمازیں ہیں فرض بھئی، ان میں دو دو رکعات پڑھنے کا حکم دیا، قصر نماز کا حکم دیا، ظہر کے بھی چار فرض کے بجائے کتنے پڑھیں گے؟ دو بھئی، عصر کے بھی چار کے بجائے کتنے پڑھیں گے؟ دو پڑھیں گے، عشاء کے بھی چار فرضوں کے بجائے دو پڑھیں گے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور اس کی وجہ دراصل مشقت ہے، کیا وجہ ہے؟ علت کیا ہے؟ مشقت ہے، اس لیے کہ سفر کے اندر چونکہ انسان کو مشقت پیش آتی ہے، تو اس مشقت کی وجہ سے شریعت نے اس کو روزوں کے اندر بھی رخصت عطا فرما دی اور نماز کے اندر بھی رخصت عطا فرما دی۔ لیکن یہ مشقت ایسی علت ہے کہ اس پر مطلع ہونا بھئی مشکل ہے۔ اس مشقت پر مطلع ہونا ممکن، مشکل ہے، اس لیے کہ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں بھئی۔ بعض انسان کیا ہوتے ہیں؟ بہت زیادہ سفر کر کے بھی انہیں مشقت نہیں ہوتی بھئی، جتنا مرضی انہیں پیدل چلا لیں، کوئی مشقت نہیں، اور بعض انسان وہ ہیں کہ تھوڑے سے سفر سے انہیں بڑی مشقت ہو جاتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ سواری پر سفر ہی کیوں نہ کر لیں، انہیں کیا ہوتی ہے؟ مشقت۔ تو بعض لوگوں کو پیدل چلنے کی وجہ سے بھی مشقت نہیں ہوتی اور بعض لوگوں کو سواری میں سفر کرنے سے بھی کیا ہو جاتی ہے؟ مشقت ہوتی ہے۔ تو یہاں پر حقیقتِ علت پر مطلع ہونا کیا ہوا؟ متعذر ہوا۔ سمجھ میں… سفر کیا تھا بھئی؟ سفر تھا سبب، اور مشقت کیا ہے؟ علت، اور حکم کیا ہے؟ روزے اور نماز میں رخصت بھئی، روزے اور نماز میں رخصت ہے، یہ حکم ہے۔ لیکن اس مشقت پر مطلع ہونا کیا ہوا؟ متعذر ہوا، تو شریعت نے سفر ہی کو اس کا قائم مقام بنا دیا، اگر مشقت پر دارومدار ہوتا، مشقت ہی پر دارومدار رکھا جاتا، پھر تو فیصلہ کرنا مشکل ہوتا کہ کس شخص کے لیے پتہ نہیں رخصت ہے اور کس کے لیے رخصت… کس کو مشقت زیادہ ہوئی ہے اور کس کو زیادہ مشقت نہیں ہوئی، لہٰذا شریعت نے حکم کو دارومدار کس پر کر دیا؟ سفر یعنی سبب ہی پر کر دیا، تو اب حکم کا مدار سفر پر ہوگا، سفرِ شرعی ہوگا تو حکم بھی ہوگا۔ سفرِ شرعی نہیں تو حکم بھی نہیں، مشقت کو اب نہیں دیکھا جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کیونکہ مشقت کے اندر انسان کی طبیعت کیا ہے؟ مختلف ہے، مختلف ہے بھئی مختلف۔ سمجھ میں آیا؟ بعض لوگ تو اتنے نازک ہوتے ہیں، اتنے نازک ہوتے ہیں، جیسے کہتے ہیں بھئی: کیلا کھانے سے دانت جن کے ہلے جاتے ہیں، فرشِ مخمل پر پاؤں جن کے چھلے جاتے ہیں۔ تو فرشِ مخمل پر بھی پاؤں چھلے جاتے ہیں اور کیلا کھانے سے بھی دانت ہلے جاتے ہیں بھئی، اتنے نازک ہوتے ہیں۔ یا جیسے ایک شاعر کہتا ہے بھئی: یارِ من از نازکی زیرِ گل خوابیدہ بود گل مبادا بیش گوید خوابش بیدار کند نزاکت کے اندر بتلا رہا ہے کہ میرا محبوب و معشوق جو ہے، بہت نازک ہے، بہت نازک ہے۔ اتنا نازک ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا، اور نازک چیز نازک چیز ہی کے پاس ہوا کرتی ہے، چنانچہ وہ ایک پھول کے پاس سو رہا ہے بھئی، پھول کے پاس سو رہا ہے، لیکن وہ اتنا نازک ہے کہ مجھے ڈر ہے کہیں وہ پھول، وہ کلی کے کھلنے کی آواز سن کر کہیں جاگ نہ جائے بھئی۔ اتنا نازک ہے کہ کہیں کلی کے کھلنے کی آواز سن کر جاگ نہ جائے بھئی۔ وَكَذَلِكَ السَّفَرُ لَمَّا أُقِيْمَ مَقَامَ الْمَشَقَّةِ اسی طرح سفر کو جب قائم مقام کر دیا گیا مشقت کے، فِي حَقِّ الرُّخْصَةِ رخصت کے حق میں، سَقَطَ اعْتِبَارُ حَقِيْقَةِ الْمَشَقَّةِ تو حقیقتِ مشقت کا اعتبار ساقط ہو جائے گا، وَيُدَارُ الْحُكْمُ عَلَى نَفْسِ السَّفَرِ اور حکم مرتب ہوگا نفسِ سفر میں، حَتَّى أَنَّ السُّلْطَانَ لَوْ طَافَ فِي أَطْرَافِ مَمْلَكَتِهِ یہاں تک کہ اگر بادشاہ بھی چکر لگائے اپنے مملکت کے اطراف میں، اپنے مملکت کے اطراف میں بھئی، کناروں میں، یعنی مملکت میں گھومے، يَقْصِدُ بِهِ مِقْدَارَ السَّفَرِ اور ارادہ کرتا ہے اس طواف کے ذریعے وہ مقدارِ سفر کا، یہ جو چکر لگا رہا ہے اس میں اس نے کتنی مقدار کا ارادہ کیا ہے؟ سفر کے شرعی کی مقدار کا بھئی، یعنی تین دن تین رات کی مسافت کے سفر کا ارادہ کیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اتنے فاصلے دور تک وہ جا رہا ہے یا اس سے زیادہ جا رہا ہے، كَانَ لَهُ الرُّخْصَةُ فِي الإِفْطَارِ وَالْقَصْرِ تو اس کے لیے بھی رخصت ثابت ہوگی افطار اور قصر میں، ۔اگرچہ دیکھو یہاں بادشاہ ہے، اس کو ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں، اس کے لیے بے انتہا کم مشقت ہوگی سفر کے اندر، لیکن پھر بھی جب مشقت پر تو حکم کا دارومدار رہا ہی نہیں بھئی، شریعت نے تو کس پر دارومدار کر دیا حکم کا؟ سفر پر، تو بس اب سفر شرعی جب اس کا ہے تو اس کے لیے بھی کیا ثابت ہو جائے گی؟ اگرچہ اس کے لیے مشقت نہایت کم ہے۔ وقد يسمى غير السبب سببا مجازا، جی یہاں سے اب اپ کو یہ بتلا رہا ہے، کبھی غیر سبب کو بھی سبب کہہ دیا جاتا ہے مجازاً بھئی، کس طریقے پر؟ مجاز کے طریقے پر غير سبب کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ سبب کہہ دیا جاتا ہے، سبب کہہ دیا جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے مولانا کسی بہادر آدمی کو ہم شیر کہہ دیتے ہیں، بہادر آدمی زید بڑا بہادر ہے، وہ آیا، اپ نے کہا شیر اگیا۔ بھئی شیر آیا ہے یا زید آیا ہے بھئی؟ تو یہ مجازاً اپ نے اس کو بہادری کی وجہ سے اس کو شیر کہا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں کبھی غیر سبب کو بھی سبب مجازاً کہہ دیا جاتا ہے، كاليمين يسمى سببا للكفارة، جیسے قسم ہے اس کو سبب کہا جاتا ہے کفارے کا۔ قسم کو کیا کہا جاتا ہے؟ یہ کفارے کا سبب ہے، ایک شخص نے قسم اٹھائی میں یہ کام نہیں کروں گا، اس نے وہ کام کر لیا تو اس پر کفارہ ائے گا۔ کیا ائے گا؟ کفارہ ائے گا، اور کیا کہتے ہیں؟ کیا آیا اس پہ؟ کفارہ یمین آیا، کفارہ یمین آیا، قسم کا کفارہ آیا، تو دیکھو کفارے کی نسبت کس کی طرف کر رہے ہیں؟ یمین کی طرف کر رہے ہیں، قسم کی طرف کر رہے ہیں، کہ قسم اس کا سبب ہے تو، سبب ہے۔ حالانکہ قسم تو سبب نہیں ہے کفارے کا، کفارے کا سبب تو قسم کو توڑنا ہے بھئی، حانث ہونا ہے۔ کفارے کا سبب تو کیا ہے؟ قسم کو توڑنا اور حانث ہونا ہے، لیکن کیا کیا جاتا ہے؟ مجازاً قسم ہی کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ کفارے کا سبب۔ تو قسم کفارے کا سبب نہیں اس لیے کہ یاد رکھو سبب اور مسبب کے اندر منافات نہیں ہوتی، جبکہ یہاں یمین اور کفارے میں منافات ہے بھئی۔ یمین کفارے کا سبب نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ سبب اور مسبب کے درمیان یا یوں کہو سبب اور حکم کے درمیان منافات نہیں ہوتی، جبکہ یہاں قسم اور کفارے کے اندر کیا ہے؟ منافات ہے، منافات ہے۔ وہ اس طرح کہ جب تک قسم ہے، کفارہ نہیں، اور جب قسم ٹوٹ گئی تو کفارہ اگیا۔ جب تک قسم ہے، کفارہ ہے؟ نہیں، اور جب قسم توڑ دی تو اب قسم ہے؟ اب تو قسم ختم ہو گئی، اب کیا اگیا؟ کفارہ، تو جب تک قسم تھی کفارہ نہیں تھا، اور جب کفارہ آیا تو قسم نہیں، تو یہ تو ایک دوسرے کے منافی ہیں، یہ دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے، تو معلوم ہوا یہ یمین کیا ہے؟ کفارے کا سبب نہیں، کفارے کا اگر یہ سبب ہوتی تو ان دونوں کے درمیان منافات نہ ہوتی، لیکن ان دونوں میں تو منافات ہے، معلوم ہوا یہ کفارے کا سبب نہیں، تو اس کو جو سبب کہا جاتا ہے وہ کس طرح، کس طریقے پر کہا جاتا ہے؟ مجاز کے طریقے پر بھئی۔ وقد يسمى غير السبب سببا مجازا، اور کبھی غیر سبب کو سبب کہہ دیتے ہیں مجازاً بھئی، كاليمين يسمى سببا للكفارة، جیسے یمین کو کفارے کا سبب کہا جاتا ہے، وانها، جی، وانها ليست بسبپ في الحقيقة، اور یہ سبب نہیں ہے حقیقت میں بھئی، حقیقت میں یہ سبب نہیں ہے، فإن السبب لا ينافي وجود المسبب، اس لیے کہ سبب منافی نہیں ہوتا وجود مسبب کے، مسبب سے کیا مراد ہے؟ حکم بھئی، کیا مراد ہے؟ حکم، اس لیے کہ سبب مسبب کے پائے جانے کے منافی نہیں ہوتا، واليمين ينافي وجوب الكفارة، اور یمین قسم تو جو ہے وہ منافی ہے کس کے؟ وجوب کفارہ کے، فإن الكفارة إنما تجب بالحنث، اس لیے کہ کفارہ تو واجب ہوتا ہے حنث کی وجہ سے، حانث ہونے کی وجہ سے، و به، و به کے بعد واؤ ہے بھئی؟ یہ واؤ نہیں ہونا چاہیے، یہ بھئی کتابت کی غلطی ہے، وبه ينتهي اليمين، اور اس حنث کی وجہ سے، اس حانث ہونے کی سبب سے تو ينتهي اليمين، یمین کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فإن الكفارة، اس لیے کہ کفارہ تو واجب ہوتا ہے حانث ہونے کی وجہ سے، اور اس حانث ہونے کی وجہ سے ينتهي اليمين قسم کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے، وكذلك تعليق الحكم بالشرط۔ دیکھئے بھئی ایک آدمی ہے اس نے اپنی بیوی سے کہا "إن دخلت الدار فأنت طالق" اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، وہ عورت گھر میں داخل ہو گئی، کیا حکم لگائیں گے بھئی؟ کہ اس کو طلاق ہو گئی، اب اس طلاق کہتے ہیں اس طلاق کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں اس طلاق کا سبب تعلیق تھی، اس طلاق کا سبب کیا تھی؟ تعلیق تھی، وہ جو اس نے طلاق کو معلق کیا تھا دخول دار پر وہ تعلیق کیا تھی؟ سبب ہے۔ تو حالانکہ تعلیق تو طلاق کا سبب نہیں ہے، یہ مجازاً کہا، یہ کس لیے کہا؟ مجازاً کہا، اس لیے کہ سبب اور حکم میں منافات نہیں ہوتی بھئی، اور جبکہ یہاں پر تعلیق اور حکم کے اندر کیا ہے؟ منافات ہے، اس لیے کہ جب تک تعلیق ہے طلاق نہیں، اور جب طلاق آئی تو تعلیق ختم ہو گئی۔ تعلیق کیا ہوئی؟ بھئی جب تک اس نے کیا معلق کیا تھا؟ "إن دخلت الدار فأنت طالق" اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق، یہ تعلیق ہے، طلاق معلق ہے کس کے ساتھ بھئی؟ دخول دار کے ساتھ، اور جب وہ گھر میں داخل ہو گئی تو طلاق کیا ہو گئی؟ واقع ہو گئی، اب طلاق معلق ہے؟ اب تو تعلیق ختم ہو چکی۔ تو تعلیق کہا جاتا ہے تعلیق سبب ہے طلاق کا، حالانکہ تعلیق اور طلاق میں تو کیا ہے؟ منافات ہے تعلیق اور طلاق میں، منافات، جب تک تعلیق ہے طلاق نہیں، اور جب طلاق ہے تو تعلیق نہیں، ختم ہو چکی۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے غلام کو کہتا ہے مثلاً، کیا کہتا ہے؟ "إن دخلت الدار فأنت حر" اگر تو اس گھر میں داخل ہوا تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے، تو غلام اس گھر میں داخل ہوا، کیا حکم لگائیں گے؟ کہ آزاد ہو گیا، تو اب اس آزادی کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں تعلیق اس کا سبب ہے، حالانکہ تعلیق اس کا سبب نہیں، اس لیے کہ تعلیق اور اس عتاق کے اندر تو کیا ہے؟ منافات ہے، اور سبب اور مسبب کے اندر کبھی منافات نہیں، تو یہ اس کا سبب نہیں ہے تعلیق، بلکہ اس کو مجازاً کیا کہا جاتا ہے؟ سبب کہا جاتا ہے، بات سمجھ میں آئی؟ وكذلك تعليق الحكم بالشرط، اسی طرح حکم کو معلق کرنا شرط کے ساتھ، كالطلاق والعتاق، جیسے طلاق اور، طلاق والعتاق، طلاق اور آزادی کو، يسمى سببا، ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ کس کو سبب کہا جاتا ہے؟ یہ تعلیق الحكم بالشرط، یہ ہے مبتدا، اور يسمى سببا، یہ کیا ہے اس کی؟ خبر ہے، تو یہ حکم کو شرط کے ساتھ معلق کرنا، یہ تعلیق جو ہے يسمى سببا مجازا، اس کو سبب کہتے ہیں مجاز، درمیان میں تعلیق کی مثال ذکر کر دی جیسے طلاق اور عتاق کو معلق کیا جائے۔ و انه، و انه ليس بسبپ في الحقيقة، اور وہ حالانکہ سبب نہیں ہے حقیقت میں، یہ تعلیق سبب نہیں ہے حقیقت میں، لأن الحكم إنما يثبت عند الشرط، اس لیے کہ حکم ثابت ہوتا ہے عند الشرط، یعنی عند وجود الشرط، جب کیا ہو؟ جب شرط پائی جائے گی، والتعليق ينتهي بوجود الشرط، اور تعلیق تو ختم ہو جائے گی وجود شرط کے ساتھ، یعنی دخول دار جب پایا جائے گا تعلیق تو کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ فلا يكون سببا، تو یہ تعلیق سبب نہیں ہوگی، مع وجود التنافي بينهما، ساتھ ان دونوں میں منافات کے پائے جانے کے، ان دونوں میں، ان دونوں میں منافات، تو ان دونوں میں منافات پائے جانے کے اس وجہ سے بھئی، ان دونوں میں کیا ہے؟ ان دونوں، جب تک تعلیق ہے حکم نہیں، جب حکم ہے تو تعلیق نہیں، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ چلیے بس مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 116 of 123