Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-095

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 64
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مثاله ما روى أبو هريرة رضی الله تعالى عنه: "الوضوء مما مست النار"، فقال له ابن عباس رضی الله تعالى عنهما: "أرأيت لو توضأت بماء سخين، أكنت تتوضأ منه؟" فسكت. وإنما رده بالقياس إذ لو كان عنده خبر لروى. جی کل مصنف، مصنف اصول الشاشی نے آپ کو بتلایا تھا بھئی کہ اگر حدیث کو روایت کرنے والا صحابی غیر فقیہ ہو تو اس صورت میں قیاس کو ترجیح ہوگی حدیث پر، قیاس پر عمل کیا جائے گا اور حدیث مرفوع کو چھوڑ دیا جائے گا۔ مثاله سے اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ دیکھا یہ حدیث ہے اور یہ حدیث ایسے راوی کی ہے جو غیر فقیہ ہے، تو اس کو قیاس کے ذریعے رد کیا گیا بھئی۔ مثاله ما روى أبو هريرة رضی الله تعالى عنه، مثال اس کی وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وہ فرماتے ہیں جی، یہ آگے حدیث ہے بھئی، الوضوء مما مست النار، أي الوضوء مم مما مست النار بھئی، وضو ہے اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔ وضو ہے اس چیز سے، یعنی وضو واجب ہے اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔ یعنی مم مما مست، مما مست النار سے مراد وہ چیز ہے جو آگ پر پکائی گئی ہو بھئی، آگ پر گرم کی گئی ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اور مما مست النار سے مراد کیا ہے؟ اکل مما مست النار بھئی۔ کیا مراد ہے مما مست النار سے؟ اکل مما مست النار، اس کا کھانا وہ چیز جو آگ پر پکائی گئی ہو اس کے کھانے سے وضو واجب ہے بھئی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بھئی، معنیٰ سمجھ میں آیا حدیث کا؟ الوضوء مما مست النار، أي الوضوء من أكل ما مست النار، وضو واجب ہے اس چیز کے کھانے سے جس کو آگ نے چھوا ہو، یعنی جو آگ پر پکائی گئی ہو یا گرم کی گئی ہو۔ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث روایت کی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس امت کے عظیم محدث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ حدیث میں کیا فرماتے ہیں؟ وضو کرنا واجب ہے ایسی چیز کے کھانے سے جس کو آگ پر پکایا گیا ہو، یعنی انسان کوئی ایسی چیز کھا لے جسے آگ پر پکایا گیا ہو یا آگ پر گرم کیا گیا ہو تو کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں پر موجود تھے مولانا بھئی۔ فقال له ابن عباس رضی الله تعالى عنهما، تو انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے فرمایا: أرأيت، أرأيت کا معنیٰ ہے مجھے بتلائیے، مجھے بتلائیے۔ أرأيت، مجھے بتلائیے، مجھے خبر دیجیے، لو توضأت بماء سخين، اگر آپ وضو کریں گرم پانی سے، سخین کس کو کہتے ہیں؟ گرم بھئی، مسخن ہیٹر کو کہتے ہیں بھئی، مسخن عربی میں ہیٹر کو کہتے ہیں۔ کہ اے ابو ہریرہ! مجھے بتلائیے اگر آپ وضو کریں گرم پانی سے، أكنت تتوضأ منه؟ پھر کیا آپ اس سے وضو کریں گے؟ کیا آپ اس سے کیا کریں گے؟ آپ نے کہا کہ وہ چیز جسے آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرنا واجب ہے بھئی، تو اگر آپ گرم پانی سے وضو کر لیں تو گرم پانی بھی تو آگ اس نے اس کو چھوا ہے، آگ پر اس کو گرم کیا گیا ہے تو کیا اس سے بھی پھر وضو واجب ہوگا؟ دوبارہ بعد میں پھر وضو کرنا پڑے گا بھئی؟ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فسكت، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہو گئے۔ وإنما رده بالقياس، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو قیاس کے ذریعے رد فرمایا بھئی، إذ لو كان عنده خبر، اس لیے کہ اگر ان کے پاس کوئی حدیث ہوتی، لروى، تو وہ کیا کرتے اس کو؟ روایت کرتے۔ تو دیکھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث روایت کی کہ وضو واجب ہے اس چیز کے جس کو آگ نے، جو آگ پر گرم کی گئی ہو۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ! مجھے یہ بتلائیے کہ اگر آپ گرم پانی سے وضو کر لیں تو وہ بھی تو آگ پر گرم کیا گیا ہے تو کیا پھر دوبارہ اس سے وضو کرنا پڑے گا بھئی؟ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہو گئے اور تو دیکھا، کہتے ہیں یہ دلیل ہے مصنف فرما رہے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا قیاس کے ذریعے کس کو رد فرما دیا؟ حدیث کو رد فرما دیا بھئی، حدیث کو۔ "سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ حضور علیہ السلام کے الفاظ نقل کر رہے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ حضور نے فرمایا ہے یہ بھئی کہ وضو ہے اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو، جس کو آگ لگی ہو بھئی۔ جی۔" تو مصنف، صاحبِ کتاب، صاحبِ اصول الشاشی کیا فرماتے ہیں بھئی کہ احناف نے بھئی اس کتاب، اس حدیث کو اور اس حدیث پر احناف کا بھی عمل نہیں ہے، بطورِ مثال ذکر کر رہے ہیں نا بھئی حضرت ابن عباس نے بھی رد کیا ہے، احناف کا بھی اس پر عمل نہیں ہے۔ تو جی۔ اس حدیث کے پر عمل نہ کرنے کی کئی وجوہ ہیں، لکھیے مولانا، لکھ دیجیے یہ تقریر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی اس حدیث کو رد کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ یہ خلاف القیاس ہے۔ اس حدیث کو رد کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ یہ خلاف القیاس ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عند الاحناف کیا مسئلہ ہے؟ ہمارے نزدیک بھئی، کہیں آپ نے پڑھا ہے مسئلہ کہ آگ پر گرم کی ہوئی چیز یا پکائی ہوئی چیز کھا لو تو دوبارہ وضو کرنا پڑے گا؟ کہیں پڑھا ہے؟ سمجھ میں آیا؟ احناف کا یہ مذہب نہیں، عند الاحناف وضو نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور اس حدیث کے بہت سے جوابات ہیں مولانا۔ اس حدیث کے بہت سے جوابات ہیں، اس پر عمل نہ کرنے کی بہت سی وجوہ ہیں بھئی۔ ایک دو وجوہ آپ کو لکھوا دیتا ہوں بھئی، ورنہ بہت سی وجوہ ہیں مولانا۔ جی۔ تو یہ بہت سی، اس حدیث کو رد کرنے کی، ترک کرنے کی بہت سی وجوہ ہیں مولانا۔ وجہِ اول، وجہِ اول۔ صدرِ اول میں صدرِ اول میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مابین اختلاف تھا۔ صدرِ اول میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مابین اختلاف تھا کہ ما مست النار ناقضِ وضو ہے یا نہیں۔ کہ ما مست النار کہ ما مست النار ناقضِ وضو ہے یا نہیں۔ ناقض کا معنیٰ توڑنے والی، توڑنے والی، یعنی ما مست النار کا کھانا وضو کو توڑتا ہے یا نہیں توڑتا، معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے کلام کا بھئی؟ تو صدرِ اول میں صحابہ کے مابین اختلاف تھا کہ ما مست النار ناقضِ وضو ہے یا نہیں، دونوں طرح کے اقوال تھے۔ دونوں طرح کے اقوال تھے۔ پھر بعد میں اجماع ہوا، پھر بعد میں صحابہ کا اجماع ہوا کہ ما مست النار غیر ناقض ہے۔ کہ ما مست النار کہ ما مست النار غیر ناقض ہے۔ اور احادیثِ وضو اور احادیثِ وضو از اور احادیثِ وضو از ما مست النار منسوخ ہیں۔ منسوخ ہیں۔ دیگر بہت سی احادیث سے، دیگر بہت سی احادیث سے، جن میں ترکِ وضو جن میں ترکِ وضو مما مست النار کی تصریح ہے۔ جن میں ترکِ وضو مما مست النار کی تصریح ہے۔ تصریح ص کے ساتھ آئے گا اور آخر میں ح آئے گی ح بھئی۔ مثال کے طور پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، مثال کے طور پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "كان آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما غيرت النار"، رواه أبو داود۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث کا معنیٰ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کہ حضور علیہ السلام کا آخری معاملہ کیسا تھا؟ ترکِ وضو تھا مما غیرت النار بھئی سے بھئی۔ غیرت کا معنیٰ بدلنا، بدلنا بھئی، بدلنا۔ یعنی وہی مراد ہے جس، جو جس کو آگ نے بدلا ہو، جس کو آگ نے، مما غیرت النار کا کیا معنیٰ ہے؟ جس کو آگ نے بدلا ہو، یعنی جو چیز آگ پر پکی ہو، آگ پر کوئی چیز پکائی جائے تو اس کی بھئی بدل جاتی ہے بھئی، پک جاتی ہے بھئی۔ تو وہ چیز جس کو آگ نے بدلا ہو، جو آگ پر پکائی گئی ہو، اس کے سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری معاملہ کیا تھا؟ ترکِ وضو تھا بھئی، وضو پھر اس سے وضو نہیں فرمایا کرتے تھے۔ وجہِ ثانی، وجہِ ثانی۔ امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ چاروں خلفائے راشدین کہ چاروں خلفائے راشدین ما مست النار کے ما مست النار کے غیر ناقض ہونے پر متفق ہیں۔ ما مست النار کے غیر ناقض ہونے پر متفق ہیں۔ وجہِ ثالث، وجہِ ثالث۔ اس حدیث میں وضو سے مراد اس حدیث میں وضو سے مراد وضوئے لغوی ہے۔ وضوئے لغوی ہے۔ یعنی ہاتھ منہ دھونا، یعنی ہاتھ منہ دھونا۔ یعنی ہاتھ منہ دھونا۔ یعنی ہاتھ منہ دھونا۔ اور لفظِ وضو اس معنی میں احادیث میں کثیر الاستعمال ہے۔ اور لفظِ وضو اس معنی میں، اور لفظِ وضو اس معنی میں احادیث میں کثیر الاستعمال ہے۔ احادیث میں کثیر الاستعمال ہے۔ جی لکھ لیا آپ نے بھئی؟ تو یہ اب بحث دیکھا بھئی؟ حدیث میں کیا آیا بھئی؟ الوضوء مما مست النار بھئی۔ جس چیز کو آگ پر پکایا گیا ہو، اس کے کھانے سے وضو کرنا پڑے گا بھئی۔ اور اس وضو کو مولانا قیاس کی وجہ سے ترک نہیں کیا گیا جیسا کہ مصنف نے ذکر کیا کتاب کے اندر، بلکہ اس کو کس وجہ سے ترک کیا گیا ہے اس پر عمل کو؟ جی؟ کیونکہ اس، جی صحابہ کا اجماع ہوا ہے اس پر بھئی۔ ابتدا میں صحابہ میں بھی اختلاف تھا، کچھ صحابہ اس سے وضو کے قائل تھے کہ یہ ناقضِ وضو ہے، وضو کرنا پڑے گا اور کچھ اس کے قائل نہیں تھے، لیکن بعد میں سب تمام صحابہ متفق ہوئے بھئی، اس کا اجماع ہوا کہ مما مست النار غیرِ ناقض ہے، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا بھئی۔ بہت سی احادیث ہیں مولانا، یہ ایک میں نے بطورِ مثال کے آپ کو لکھوا دی کہ كان آخر الأمرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما غيرت النار بھئی۔ ترکِ وضو تھا آخری عمل حضور صلى الله عليه وسلم کا مما مست النار سے بھئی۔ نیز چاروں خلفائے راشدین مولانا متفق ہیں اس بات پر کہ ترک، کہ مما مست النار ناقض نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نیز مولانا، تیسری وجہ جو میں نے آپ کو لکھوائی بھئی کہ حدیث میں آیا الوضوء بھئی، تو اس وضو سے وضوِ اصطلاحی نہیں مراد جو ہم کرتے ہیں بھئی نماز کے لیے جو وضو ہے بھئی، بلکہ اس سے وضوِ لغوی مراد ہے، یعنی ہاتھ منہ دھونا بس۔ یعنی ایسی کوئی چیز کھا لو تو حضور صلى الله عليه وسلم کیا فرماتے، کیا کرتے تھے؟ ہاتھ منہ دھو لیتے تھے بھئی۔ جیسے کھانے وغیرہ کے بعد انسان کیا کر لیتا ہے؟ ہاتھ دھو لیتا ہے، کلی کر لیتا ہے بس۔ تو اس سے مراد وضوِ لغوی ہے، ہاتھ منہ دھونا۔ اور اس معنی میں حدیث میں یہ لفظ بہت کثرت سے آیا ہے، یعنی کہ کم آیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کئی صحابہ کی روایات میں آتا ہے کہ یہ وضو سے آپ کی کیا مراد ہے؟ وہ فرماتے ہاتھ منہ دھونا مراد ہے بس، اس کو ہم وضو کہتے تھے بھئی۔ اس کو بھی کیا کہتے تھے؟ وضو کہتے تھے۔ تو یہ حدیث اس وجہ سے نہیں متروک مولانا اس کو کہ یہ قیاس کے خلاف ہے مولانا۔ قیاس کیا چیز ہے کہ قیاس کے ذریعے حدیث کو رد کیا جائے، بلکہ اس کی دیگر وجوہ ہیں، دو تین وجوہ میں نے آپ کو لکھوائی ہیں، بہت سی وجوہ علماء ذکر کرتے ہیں بھئی۔ جی لکھیے بھئی۔ سوال: سوال حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے، ابنِ عباس یہاں رضی اللہ تعالیٰ، بھئی یہ ویسے بتلا رہا ہوں ایک بات بھئی، رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیوں عنہما تثنیہ کیوں لے کر، کیوں ضمیر لائیں گے بھئی؟ اللہ ان دونوں سے راضی ہو جائے۔ بھئی ایک ابن ہیں ایک بیٹے ہیں اور ایک حضرت ابنِ عباس خود، ان کا بھی ذکر گویا آ گیا اور ابنِ عباس بیٹے کا بھی ذکر آ گیا، تو دو ہوئے تو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہیں گے۔ جی، حضرت ابنِ عباس رضی، لکھیے بھئی، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیثِ مرفوع کے مقابلے میں اپنی رائے کیوں پیش کی؟ نیز حدیثِ مرفوع کے مقابلے میں اپنی رائے کیوں پیش کی؟ بظاہر یہ بے ادبی ہے۔ بظاہر یہ بے ادبی ہے۔ جواب، جوابِ اول: جوابِ اول: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں، حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنے کا یہ مطلب نہیں، کا حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی رائے کو حدیث پر ترجیح دے رہے ہیں۔ کہ وہ اپنی رائے کو حدیث پر ترجیح دے رہے ہیں۔ بلکہ ان کا یہ سوال ایک طالب علم کے سوال کی طرح تھا، ایک طالب علم کے سوال کی، بلکہ ان کا یہ سوال ایک طالب علم کے سوال کی طرح تھا۔ یعنی بات کو سمجھنے کے لیے انہوں نے سوال کیا۔ یعنی بات کو سمجھنے کے لیے انہوں نے سوال کیا۔ کیونکہ ممکن ہے یہ حدیث انہوں نے پہلے نہ سنی ہو۔ کیونکہ ممکن ہے انہوں نے یہ حدیث پہلے نہ سنی ہو۔ تو بات کو سمجھنے کے لیے سوال کیا۔ تو بات کو سمجھنے کے لیے سوال کیا۔ اور اسی وجہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اسی وجہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں ڈانٹ دیا، انہیں ڈانٹ دیا۔ اس روایت میں تو نہیں، اس روایت میں تو نہیں، مگر اس حدیث کی دیگر روایات میں مذکور ہے، مگر اس حدیث کی دیگر روایات میں مذکور ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، کہ حضرت، کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حضرت ابنِ عباس کی یہ، یہ بات سنی، کہ جب انہوں نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی یہ بات سنی تو انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا، تو انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ اے بھتیجے! کہ اے بھتیجے! جب تو کوئی حدیث سنے، جب تو کوئی حدیث سنے تو اس کے لیے کوئی مثال نہ بیان کیا کر، تو اس کے لیے کوئی مثال نہ بیان کیا کر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیگر روایات میں احادیث کی کیا مذکور ہے؟ کہ حضرت ابنِ، اس، صاحبِ کتاب نے تو لکھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش ہو گئے بھئی۔ بھئی، دیگر روایات میں ذکر آتا ہے نہیں بھئی، خاموش نہیں ہوئے تھے بلکہ انہوں نے ڈانٹا تھا باقاعدہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور فرمایا، بھئی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما چھوٹے تھے بھئی، انہیں ڈانٹا اور کیا فرمایا؟ اے بھتیجے! جب تو کوئی حدیث سنا کرے تو اس کے لیے کوئی مثال نہ بیان کیا کر بھئی۔ تو حضرت، جی لکھیے بھئی۔ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس لیے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ڈانٹا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس لیے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ڈانٹا کہ انہوں نے غلط مثال ذکر کی تھی، کہ انہوں نے غلط مثال ذکر کی تھی۔ غلط مثال اس لیے، کہ حدیث میں، غلط مثال اس لیے کہ حدیث میں اکل مما مست النار کا ذکر ہے، اکل مما مست النار کا ذکر ہے، اکل، کھانا بھئی چھوٹے کاف کے ساتھ ہے، کھانا، کہ حدیث میں اکل مما مست النار کا ذکر ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا سوال، اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا سوال استعمال مما مست النار کے بارے میں تھا۔ اور حضرت کیا لکھا بھئی؟ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سوال استعمال مما مست النار کے بارے میں تھا۔ جی بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جی یہ سوال پیدا ہوا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیثِ مرفوع کے مقابلے میں اپنی رائے کیوں پیش کی بھئی؟ یہ تو بے ادبی کی بات ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی حدیث آ جائے اور اس کے مقابلے میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی کیا کریں؟ اپنی رائے پیش کریں۔ پہلا جواب میں نے لکھوایا بھئی کہ حضرت ابنِ عباس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کریں، بلکہ ان کا کیا مقصد تھا؟ ایک طالب علم کی طرح ایک سوال کیا بھئی، ایک بات ان کو سمجھ میں نہیں آئی تو سوال کیا، طالب علم کی طرح بھئی۔ ہو سکتا ہے انہوں نے یہ حدیث پہلے نہ سنی ہو، پہلی دفعہ سنی تو فوراً ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا، جیسے طالب علم کے ذہن میں کوئی بات سن کر سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے استاد سے سوال کر لیتا ہے کہ یہ بات کس طرح ہو گی؟ تو انہوں نے بھی سوال کیا۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر ڈانٹا بھی آگے بھئی، جب حدیث سنو اے بھتیجے! تو اس کے لیے کوئی مثال نہ بیان کیا کرو بھئی۔ اور ڈانٹا اس لیے کہ انہوں نے غلط مثال ذکر کی تھی۔ وہ ذکر کر رہے تھے حدیث میں اکل مما مست النار کا، کوئی ایسی چیز کھا لو جو آگ پر پکائی گئی ہو، تو پھر کیا، پھر کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا۔ اور یہ کیا کہہ رہے تھے؟ استعمال مما مست النار، یہ وضو کی بات کر رہے تھے، گرم پانی سے اگر وضو کر لو۔ تو گرم پانی سے وضو کیا، کھایا یا پیا تو نہیں اس کو نہ بھئی؟ اور وہ تو کس چیز کا ذکر کر رہے تھے؟ کھانے پینے کا ذکر کر رہے تھے اور یہ استعمال کے بارے میں انہوں نے سوال کر لیا بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مثال درست نہیں تھی بھئی، اس لیے ڈانٹا بھی۔ جوابِ ثانی بھئی: جوابِ ثانی: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقصد، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقصد حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں، حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنا نہیں تھا، حدیثِ مرفوع کے مقابلہ میں اپنی رائے پیش کرنا نہیں تھا، ، بلکہ ان کا مقصد، بلکہ ان کا مقصد فہمِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ، فہمِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پر اعتراض کرنا تھا۔ بلکہ فہمِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پر اعتراض کرنا تھا کہ اے ابو ہریرہ! کہ اے ابو ہریرہ! یہ حدیث تو منسوخ ہو چکی، یہ حدیث تو منسوخ ہو چکی، پھر اپ اسے غیر منسوخ ذکر کر رہے ہیں؟ یہ حدیث تو منسوخ ہو چکی، پھر اپ اسے غیر منسوخ ذکر کر رہے ہیں؟ جوابِ ثالث، جوابِ ثالث: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقصد فہمِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پر اعتراض کرنا تھا، فہمِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پر اعتراض کرنا تھا۔ یرحمک اللہ۔ کہ اے ابو ہریرہ! کہ اے ابو ہریرہ! حدیث میں تو وضو سے مراد، کہ حدیث میں تو وضو سے مراد، کہ حدیث میں تو وضو سے مراد وضوئے لغوی ہے، وضوئے لغوی ہے اور اپ اس سے وضوئے اصطلاحی مراد لے رہے ہیں، اور اپ اس سے وضوئے اصطلاحی مراد لے رہے ہیں، جو کہ درست نہیں، جو کہ درست نہیں۔ جی، بحث ختم ہوئی مولانا۔ دوسرا، تیسرا جواب سمجھ میں ایا بھئی؟ دوسرے جواب کے مقصد حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنا نہیں تھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پہ اعتراض کرنا تھا، حدیث کے مقابلہ نہیں تھا مقصد، بلکہ اعتراض کس پہ تھا؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ، کہ اپ تو اس حدیث کو غیر منسوخ ذکر کر رہے ہیں حالانکہ یہ حدیث تو کیا ہے؟ منسوخ ہو چکی ہے بھئی۔ ایا نہیں بھئی؟ کان روایات میں: کان آخر الأمرین، حضور ﷺ کا اخری معاملہ کیسا تھا؟ ترکِ وضو والا تھا، تو یہ حدیث تو منسوخ ہو چکی ہے اپ کو، اور اپ اسے کس طرح ذکر کر رہے ہیں؟ غیر منسوخ ذکر کر رہے ہیں۔ اور تیسرا جواب بھی یہ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ پر مقصد تھا اعتراض کرنا کہ اپ سے اس وضو جو ذکر ہوا حدیث میں اس سے کون سا وضو مراد ہے؟ وضوئے لغوی، صرف ہاتھ دھونا مراد ہے، کلی کرنا وغیرہ، اور اپ اس سے کیا مراد لے رہے ہیں؟ وضوئے اصطلاحی، جو کہ درست نہیں بھئی۔ بحث سمجھ میں ائی بھئی؟ دیکھیے بھئی، کتاب بھئی۔ دوبارہ بھئی۔ ومثالہ ما روا ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ: الوضوء مما مست النار. مثال اس کی وہ حدیث ہے جو روایت کی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے کہ وضو واجب ہے اس چیز کے کھانے سے جو اگ پر پکائی گئی ہو۔ فقال لہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما: ان سے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمانے لگے: أرأیت لو توضأت بماء سخین أکنت تتوضأ منہ؟ کہ اپ مجھے بتلائیے، کہ کیا اگر اپ گرم پانی سے وضو کر لیں تو پھر اپ اس سے وضو کریں گے؟ پھر کیا کریں گے؟ اس کی وجہ سے وضو اس کی وجہ سے پھر دوبارہ دوسرے ٹھنڈے پانی سے وضو کریں گے؟ فسکت، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ خاموش ہو گئے۔ وإنما ردہ بالقیاس إذ لو کان عندہ خبر لما رواہ. اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے قیاس کے ذریعے حدیث کو رد فرمایا اس لیے کہ اگر ان کے پاس کوئی حدیث ہوتی تو اس کو روایت کرتے۔ وعلی هذا ترک اصحابنا روایت ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ فی مسئلۃ المصراۃ بالقیاس. بھئی، اور اسی بنا پر بھئی، کس بنا پر؟ وہ جو اوپر ضابطہ ذکر ہوا تھا مولانا کہ اگر راوی غیر فقیہ ہو تو پھر کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قیاس کو۔ اسی قانون کی بنا پر: ترک اصحابنا، ترک کیا ہے ہمارے فقہائے کرام نے روایت ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی حدیث کو فی مسئلۃ المصراۃ، کس میں؟ مسئلہ، مسئلہ مصراۃ میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت کو ترک کیا ہے بالقیاس بھئی، کس کے ساتھ؟ قیاس کے ساتھ بھئی، قیاس کے ساتھ۔ جی، یہ بڑا طویل مسئلہ ہے، لکھیے مولانا۔ مسئلہ مصراۃ۔ مسئلہ مصراۃ۔ جب حدیث کا راوی صحابی غیر فقیہ ہو، جب حدیث کا راوی صحابی غیر فقیہ ہو، تو قیاس کو ترجیح ہوگی، تو قیاس کو ترجیح ہوگی۔ اسی قانون کی بنا پر، اسی قانون کی بنا پر ترک کیا ہے، اسی قانون کی بنا پر ترک کیا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے روایتِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کو، روایتِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کو مسئلہ مصراۃ میں، مسئلہ مصراۃ میں۔ مصراۃ الگ سطر لکھیے بھئی۔ مصراۃ ماخوذ ہے، مصراۃ ماخوذ ہے تصریہ سے۔ مصراۃ ماخوذ ہے تصریہ سے۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تصریۃٌ مصدر ہے بھئی یہ۔ صری یصری تصریۃً بھئی۔ تو مصراۃ ماخوذ ہے تصریہ سے۔ تصریہ کا معنی ہے پانی کے لیے بند باندھنا۔ تصریہ کا معنی ہے پانی کے لیے بند باندھنا۔ نیز اس کا معنی ہے پانی جمع کرنا۔ نیز اس کا معنی ہے پانی جمع کرنا۔ یہاں مصراۃ سے، یہاں مصراۃ سے وہ دودھ والا جانور مراد ہے، یہاں مصراۃ سے وہ دودھ والا جانور مراد ہے کہ دھوکہ و فریب کے لیے، کہ دھوکہ و فریب کے لیے اس کے تھنوں میں، کہ دھوکہ و فریب کے لیے اس کے تھنوں میں کئی دنوں کا دودھ جمع کر کے رکھا جائے، کئی دنوں کا دودھ جمع کر کے رکھا جائے تاکہ منڈی میں زیادہ قیمت پر بک سکے، تاکہ منڈی میں زیادہ قیمت پر بک سکے، گاہک کو دھوکہ لگ جائے، یرحمک اللہ، گاہک کو دھوکہ لگ جائے کہ بہت دودھ والا جانور ہے، کہ بہت دودھ والا جانور ہے۔ جب اس قسم کا جانور کوئی خرید لے، جب اس قسم کا جانور کوئی خرید لے، جب اس قسم کا جانور کوئی خرید لے اور گھر جا کر دھوکے کا پتہ چلے، اور گھر جا کر دھوکے کا پتہ چلے، اور گھر جا کر دھوکے کا پتہ چلے، تو حدیثِ ہذا میں ہے، تو حدیثِ ہذا میں ہے کہ وہ شخص ایسا جانور واپس کر سکتا ہے، تو حدیثِ ہذا میں ہے کہ وہ شخص ایسا جانور واپس کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ایک صاع، لیکن ساتھ ایک صاع، ص کے ساتھ ہے اور ع ہے بھئی، لیکن ساتھ ایک صاع یعنی ساڑھے تین سیر کھجور دے، یعنی ساڑھے تین سیر کھجور دے اس، اس دودھ کے بدلے میں، اس دودھ کے بدلے میں جو اس نے استعمال کیا ہے، اس دودھ کے بدلے میں جو اس نے استعمال کیا ہے۔ حدیث یہ ہے: حدیث یہ ہے: عن أبی هریرة رضی الله تعالی عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تصروا الإبل والغنم، ص کے ساتھ بھئی، لا تصروا، لا تصروا، و کے ساتھ الف بھی لکھیے بھئی، جمع کی علامت، لا تصروا الإبل والغنم، الإبل والغنم، فمن، فمن ابتَاعَها، فمن ابتَاعَها بعد ذلك، بعد ذلك، فهو بخير، فهو بخير، فهو بخير النظرين، ظ کے ساتھ، النظرين، نظر نہیں ہوتی بھئی، نظر لفظ، النظرين، فهو بخير النظرين، فهو بخير النظرين بعد أن يحلبها. جی، یہ حاشیے میں بھی اپ کی کتاب میں بھئی، دیکھیے۔ حاشیہ نمبر ایک میں ہے بھئی۔ جی، لکھتے جائیے بھئی، میں لکھوا رہا ہوں بھئی، کوئی لفظ نہ ائے تو وہاں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ جی، کیا لکھا؟ لا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتَاعَها بعد ذلك فهو بخير النظرين بعد أن يحلبها. ن رضيها، ضاد کے ساتھ، امسکها، امسکها، امسکها، وإن سخطها، وإن سخطها، سین، خا، طا، سین، خا، طا، وإن سخطها رادها، رادها وصاعا من تمر، وصاعا من تمر، وصاعا من تمر بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ جی حدیث پر اعراب وغیرہ بھی لگا لیا آپ نے؟ لا تصرا الإبل والغنم فمن ابتلاعها بعد ذلك فهو بخير النظرين، بعد أن يحلبها، إن رضيها امسکها وإن سخطها رادها وصاعا من تمر۔ یعنی تم اونٹنی یا بھیڑ بکری کے تھنوں میں، یعنی، ترجمہ لکھوا رہا ہوں حدیث کا بھئی، یعنی تم اونٹنی یا بھیڑ بکری کے تھنوں میں دودھ مت روکو۔ یعنی تم اونٹنی یا بھیڑ بکری کے تھنوں میں دودھ مت روکو۔ پس جس شخص نے، پس جس شخص نے ایسی اونٹنی یا بھیڑ بکری کو خریدا، پس جس شخص نے ایسی اونٹنی یا بھیڑ بکری کو خریدا، جس کے تھنوں میں، جس کے تھنوں میں، جس کے تھنوں میں دودھ جمع کیا گیا تھا، تو اس کو دودھ نکالنے کے بعد، تو اس کو دودھ نکالنے کے بعد، دو باتوں میں سے، دو باتوں میں سے، دو باتوں میں سے زیادہ بہتر بات کا اختیار ہوگا۔ زیادہ بہتر بات کا اختیار ہوگا۔ اگر اس خریدنے والے کو، اگر اس خریدنے والے کو وہ اونٹنی یا بھیڑ بکری پسند ہے، وہ اونٹنی یا بھیڑ بکری پسند ہے، تو اس کو اپنے پاس روک لے، اگر اس خریدنے والے کو وہ اونٹنی یا بھیڑ بکری پسند ہے تو اس کو اپنے پاس روک لے، تو اس کو اپنے پاس روک لے، اور اگر اس کو پسند نہیں، اور اگر اس کو پسند نہیں، تو وہ اسے واپس کر دے، تو وہ اسے واپس کر دے اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے دے، اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے دے۔ جی، ترجمہ ختم ہوا حدیث کا۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث دیکھو بھئی لا تصرا الإبل والغنم، ابل: اونٹ بھئی، غنم: بھیڑ بکری کو کہتے ہیں دونوں پر بولا جاتا ہے، تم دودھ مت روکو اونٹنی میں والغنم: بھیڑ بکری کے تھنوں میں، فمن ابتلاعها: پس جس شخص نے خریدا اس کو یعنی ایسا ابل یا ایسا غنم جس میں کیا گیا تھا؟ تصریہ کیا گیا تھا، بعد ذلك: یعنی اس تصریہ کے بعد اس کو خریدا، فهو بخير النظرين: تو اس کو دو باتوں میں سے زیادہ بہتر کا اختیار ہوگا، بعد أن يحلبها: بعد اس کے کہ اس نے اس کا دودھ نکالا، اس کا دودھ نکالنے کے بعد اس کو دو باتوں میں سے زیادہ بہتر بات کا اختیار ہوگا، إن رضيها امسکها: اگر اس کو وہ اس سے راضی ہے یعنی اس کو وہ چیز پسند وہ جانور پسند ہے امسکها: تو اس کو روک لے، وإن سخطها: اور اگر اس کو پسند نہیں، رادها: تو اس جانور کو کیا کر دے؟ واپس کر دے، وصاعا من تمر: اور کیا واپس کر دے؟ ایک صاع تمر میں سے بھئی، تمر میں سے ایک صاع بھی واپس کر دے۔ جی لکھئے بھئی، الگ سطر۔ الگ سطر لکھئے بھئی، ائمہ ثلاثہ، ائمہ ثلاثہ، یعنی امام شافعی، یعنی امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، اور احناف میں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور احناف میں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے، کا یہی مذہب ہے کہ مصراۃ جانور واپس کیا جا سکتا ہے، کہ مصراۃ جانور واپس کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ایک صاع تمر دینے پڑیں گے، اور ساتھ ایک صاع تمر دینے پڑیں گے۔ وہ حدیثِ هذا کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں، وہ حدیثِ هذا کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں۔ الگ سطر، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشتری مصراۃ جانور واپس نہیں کر سکتا، کہ مشتری مصراۃ جانور واپس نہیں کر سکتا، البتہ وہ رجوع بنقصان کرے گا، البتہ وہ رجوع بنقصان کرے گا، یعنی مشتری کا جتنا نقصان ہوا ہے، یعنی مشتری کا جتنا نقصان ہوا ہے، یعنی مشتری کا جتنا نقصان ہوا ہے، اتنے پیسے بائع سے واپس لے لے گا، اتنے پیسے بائع سے واپس لے لے گا، بائع: بیچنے والا بھئی، اتنے پیسے بیچنے والے سے واپس لے لے گا، مثلاً اس قسم کی بھینس، مثلاً اس قسم کی، گائے لکھ لو، مثلاً اس قسم کی گائے اس نے، مثلاً اس قسم کی گائے اس نے 25 ہزار میں خریدی، 25 ہزار میں خریدی اور گھر آ کر پتہ چلا، اور گھر آ کر پتہ چلا کہ یہ تو کم دودھ دیتی ہے، کہ یہ تو کم دودھ دیتی ہے اور اس قسم کی گائے کی قیمت تو 15 ہزار ہوتی ہے، اور اس قسم کی گائے کی قیمت تو 15 ہزار ہوتی ہے، تو 10 ہزار کا جو نقصان ہوا ہے، تو 10 ہزار کا جو نقصان ہوا ہے، وہ مشتری بائع سے واپس لے لے گا، وہ مشتری بائع سے واپس لے لے گا، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کرتے، اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کرتے۔ الگ سطر لکھئے بھئی، صاحبِ اصول الشاشی فرماتے ہیں، صاحبِ اصول الشاشی فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے، کہ امام صاحب نے اس حدیث پر عمل اس لیے ترک فرمایا، کہ امام صاحب نے اس حدیث پر عمل اس لیے ترک فرمایا کہ یہ روایت غیر فقیہ صحابی کی ہے، کہ یہ روایت، صاحبِ اصول الشاشی فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے اس حدیث پر عمل اس لیے ترک فرمایا کہ یہ روایت غیر فقیہ صحابی کی ہے اور قیاس کے خلاف ہے، اور قیاس کے خلاف ہے، اور غیر فقیہ صحابی کی روایت، اور غیر فقیہ صحابی کی روایت خلافِ قیاس ہو، اور غیر فقیہ صحابی کی روایت خلافِ قیاس ہو، تو قیاس کو ترجیح ہوتی ہے حدیث پر، تو قیاس کو ترجیح ہوتی ہے حدیث پر۔ یہ حدیث خلافِ قیاس کس طرح ہے؟ یہ حدیث خلافِ قیاس کس طرح ہے؟ یہ سمجھنے سے پہلے ایک تمہید سمجھ لیجئے، یہ سمجھنے سے پہلے ایک تمہید سمجھ لیجئے، تمہید بھئی، تمہید، یاد رکھیں چیزیں دو قسم پر ہیں، یاد رکھئے چیزیں دو قسم پر ہیں، مثلیات اور ذوات القیم، مثلیات "ث" کے ساتھ ہے بھئی، ذوات القیم "ذ" ہے شروع میں "ذ"، اور قيم کے اندر "ق" دو نقطوں والا ہے بھئی، مثلیات اور ذوات القیم، مثلیات وہ ہیں جن کا مثل ممکن ہو۔ مثلیات وہ ہیں جن کا مثل ممکن ہو۔ جیسے مکیلات، موزونات وغیرہ، جیسے مکیلات چھوٹا کاف ہے بھئی، جیسے مکیلات و موزونات وغیرہ بھئی۔ بھئی مکیلات و موزونات جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ مکیلات ماپی جانے والی چیزیں بھئی، جو ہوں جیسے گندم ہے بھئی، ماپ کر بیچی جاتی ہے بھئی، دودھ ہے مولانا اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ ماپ کر بیچا جاتا ہے بھئی، یہ مکیلی چیز ہے۔ اور موزونی جن چیزوں کا وزن کر کے بیچا جائے، جیسے کیا ہے؟ چینی ہے وغیرہ بھئی۔ اور دوسری ذوات القيم جن کا مثل نہ ہو، دوسری ذوات القيم جن کا مثل نہ ہو، جیسے بکری، بیل وغیرہ، جیسے بکری، بیل وغیرہ۔ چلیے مولانا، بس بھئی، ھذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 95 of 123