Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-091

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بیان تبدیلی کے بارے میں پڑھا تھا بھئی، اور بیان تبدیلی جو ہے وہ نسخ ہے؛ لہذا وہ صاحب شرع یعنی شارع کی طرف سے، اللہ کی طرف سے یا اللہ کے پیغمبر کی طرف سے تو جائز ہے، بندوں کی طرف سے جائز نہیں بھئی۔ اور مصنف نے آپ کو بتلایا کہ اسی بنا پر کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں بھئی۔ کل کا کل سے استثنا؟ صحیح نہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہتا ہے: ”لفلان علي ألف درهم إلا ألف درهم“، تو یہ کہنا صحیح نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ جب اس نے کہا ”لفلان علي ألف درهم“، تو اس نے کیا کر لیا؟ اقرار کر لیا ایک ہزار درہم کا، اور جب اس نے کہا ”إلا ألف درهم“، تو وہ کیا کر رہا ہے؟ کل کا کل سے استثنا کر رہا ہے، اور یہ تو نسخ ہے یعنی ماقبل کے اقرار سے وہ کیا کر رہا ہے؟ رجوع کر رہا ہے۔ تو نسخ، اور نسخ بندوں کی طرف سے جائز نہیں؛ لہذا کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آئیے ہم آپ کو دکھاتے ہیں کل کا کل سے استثنا صحیح ہے بھئی۔ کل کا کل سے آپ نے کیا کہا؟ کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں، ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ کل کا کل سے استثنا صحیح ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے، اس کی تین بیویاں ہیں، فرض کریں۔ ایک کا نام زینب ہے، ایک کا نام عمرہ ہے، ایک کا نام سعادہ ہے، اور وہ کہتا ہے: ”نسائي كلها طوالق إلا زينب وعمرة وسعادة“، یعنی میری ساری بیویوں کو طلاق ہے مگر زینب، عمرہ اور سعادہ کو طلاق ہے۔ اور یہی تین بیویاں تھیں۔ فقہاء اس پر لکھتے ہیں کہ بھئی اس کی کسی بیوی کو بھی طلاق نہیں ہوئی۔ کیا کہا اس نے؟ ”نسائي كلها طوالق إلا زينب وعمرة وسعادة“۔ اب یہاں پر بھی دیکھیے بھئی کل کا کل سے استثنا ہو رہا ہے اور یہ استثنا صحیح ہے، حالانکہ ابھی آپ نے ضابطہ بتلایا تھا کہ کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں۔ تو جواب اس کا یہ مولانا کہ کل کا کل سے استثنا اس وقت صحیح نہیں جب مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کا لفظ ایک ہو یا دلالت میں مساوی ہو۔ دونوں کا اگر لفظ ایک ہوگا مثلاً اگر اس نے یوں کہا: ”نسائي كلها طوالق إلا نسائي“، میری ساری بیویوں کو طلاق ہے مگر میری بیویوں کو، تو یہ دیکھیے مستثنیٰ منہ بھی کیا ہے؟ ”نسائي“، اور مستثنیٰ بھی کیا ہے؟ ”نسائي“، دونوں لفظ ایک ہیں؛ لہذا یہ کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں کیونکہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کا لفظ ایک ہے۔ یا دونوں دلالت کے اعتبار سے مساوی ہوں مولانا، جیسے وہ یہ یوں کہتا ہے: ”نسائي كلها طوالق إلا أولئك“، میری ساری بیویوں کو طلاق ہے مگر وہ، اشارہ کرتا ہے اور وہ تینوں بیویاں کھڑی ہیں، ان کی طرف اشارہ اس نے کیا۔ تو یہ بھی استثنا صحیح نہیں مولانا، اس لیے کہ یہاں دلالت مساوی ہے، ”نسائي“ بھی انہی پر دلالت کر رہا ہے اور ”أولئك“ بھی انہی پر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو استثنا کل کا کل سے کب صحیح نہیں ہے؟ جب مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ دونوں کے لفظ کیا ہوں؟ ایک ہوں، یا دونوں کی دلالت کیا ہو؟ مساوی ہو، ایک جیسی ہو، تو پھر اس وقت کل کا کل سے استثنا صحیح نہیں۔ لیکن اگر لفظ مختلف ہوں مثلاً پہلے اس نے صرف ”نسائي“ کہا اور مستثنیٰ میں ہر ایک کا الگ الگ نام ذکر کیا، تو اب لفظ دونوں کے الگ ہو گئے؛ لہذا اب استثنا کیا ہوا؟ صحیح، اور اس صورت میں کل کا کل سے استثنا بھی صحیح ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی طرح مثلاً اگر کوئی شخص کہتا ہے: ”عبيدي كلها أحرار“ یا ”عبيدي أحرار إلا عبيدي“، میرے سارے غلام آزاد ہیں سوائے میرے غلام، اب آپ بتلائیے بھئی استثنا صحیح ہے یا صحیح نہیں ہے؟ صحیح نہیں ہے کیونکہ مستثنیٰ منہ اور مستثنیٰ دونوں کا لفظ کیا ہے؟ ایک ہے۔ مستثنیٰ منہ بھی ہے ”عبيدي“، میرے سارے غلام، اور مستثنیٰ بھی کیا ہے؟ ”عبيدي“۔ لیکن اگر اس کے بجائے اس کے تین غلام ہیں مثلاً زید، عمر، بکر اور وہ یوں کہتا ہے: ”عبيدي كلها أحرار إلا زيداً وعمراً وبكراً“، تو اب یہ استثنا کیا ہے؟ صحیح ہے، صحیح ہے بھئی، کیونکہ لفظ الگ ہو گئے دونوں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ البحث الثاني في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي أكثر من عدد الرمل والحصى. جی، کتاب اللہ کی طویل ترین بحث کے بعد اب سنت کی بحث آئے گی۔ سنت کی بحث مختصر ذکر کی ہے صاحب کتاب نے بھئی، پانچ چھ صفحات میں صرف بھئی۔ لیکن بحثیں اس میں کافی زیادہ ہیں بھئی۔ تو اس میں کاغذ قلم آپ کے پاس تیار ہونا چاہیے ہر وقت بھئی۔ زیادہ لکھنے کا کام ہے اس میں۔ بڑی بڑی قیمتی ابحاث ہیں، آپ کے لیے میں نے اکٹھی کی ہیں۔ انشاء اللہ آپ کو دوسری کتابوں میں بھی جگہ جگہ آپ کو یہ کام آئیں گی بھئی۔ جی، اچھا بھئی لکھیے بھئی، کچھ مباحث شروع میں لکھ لیجیے۔ بحث ذرا لمبی ہے بھئی، جلدی جلدی لکھیے گا بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے چار اسماء معروف ہیں۔ کہ اقوال و افعال کے چار اسماء معروف ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے چار اسماء معروف ہیں: خبر، اثر (ث کے ساتھ، ث کے ساتھ) اثر، سنت، اور حدیث۔ خبر، اثر، سنت، اور حدیث۔ جمہور محدثین کے نزدیک، جمہور محدثین کے نزدیک یہ چاروں نام تقریباً مترادف ہیں۔ جمہور محدثین کے نزدیک یہ چاروں نام تقریباً مترادف ہیں۔ البتہ بعض محدثین ان میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ البتہ بعض محدثین ان میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ جس کی تفصیل، جس کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں آپ پڑھیں گے۔ جس کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں آپ پڑھیں گے۔ الگ سطر بھئی، الگ سطر۔ علمائے اصولِ فقہ، علمائے اصولِ فقہ ان چاروں ناموں میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ علمائے اصولِ فقہ ان چاروں ناموں میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک، علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث نام ہے، حدیث نام ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، اور تقریرات کا۔ علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث نام ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، اور تقریرات کا۔ الگ سطر بھئی۔ تقریر کا معنیٰ ہے اثبات۔ تقریر کا معنیٰ ہے اثبات، یعنی کسی چیز کو ثابت کرنا۔ یعنی کسی چیز کو ثابت کرنا۔ تقریرِ نبی علیہ الصلاة والسلام، تقریرِ نبی علیہ الصلاة والسلام کا مطلب یہ ہے، تقریرِ نبی علیہ الصلاة والسلام کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی صحابی، کوئی صحابی، کوئی قول یا فعل کرے، کوئی صحابی کوئی قول یا کوئی فعل کرے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اختیار فرمائیں، خاموشی اختیار فرمائیں، اور سکوت فرمائیں، اور سکوت فرمائیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت اس بات کی دلیل ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قول و فعل شرعاً جائز ہے۔ کہ یہ قول و فعل شرعاً جائز ہے۔ کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے، کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے، اور نبی اس سے منع نہ فرمائے، اور نبی اس سے منع نہ فرمائے۔ پیغمبر کا، پیغمبر کا تو کام ہی اصلاح ہے۔ پیغمبر کا، پیغمبر کا تو کام ہی اصلاح ہے، وہ کوئی غلط کام دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا، وہ کوئی غلط کام دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہی محل ہے اس مشہور قول کا، یہی محل ہے اس مشہور قول کا: ”السکوت في محل بيانٍ بيانٌ“، ”السکوت في محل بيانٍ بيانٌ“، ”السکوت في محل بيانٍ بيانٌ“، ”السکوت في محل بيانٍ بيانٌ“۔ اس فعل کو تقریرِ نبی کہتے ہیں۔ اس فعل کو تقریرِ نبی کہتے ہیں۔ جیسے صحابہ کرام کا، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا آپ کی مجلس میں، کا آپ کی مجلس میں اپنے سابقہ حالات کا سنانا، اپنے سابقہ حالات کا سنانا، یا کبھی کبھار شعر وغیرہ پڑھنا، یا کبھی کبھار شعر وغیرہ پڑھنا۔ ایک تو چلاؤ بھئی، وہ تو چلاؤ۔ یا کبھی کبھار شعر وغیرہ پڑھنا۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ تقریر النبی کا پتہ چلا آپ کو بھئی؟ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ پیغمبر کے سامنے صحابہ کوئی قول یا فعل کریں اور پیغمبر اس کو دیکھ کر خاموش رہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقریر النبی۔ اس فعل یا قول کو تقریر النبی کہتے ہیں اور پیغمبر کا خاموش ہونا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل اور یہ قول شرعاً کیا ہے؟ جائز ہے۔ اگر ناجائز ہوتا، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پیغمبر اس کو دیکھ کر خاموش رہیں بھئی۔ پیغمبر کی طبیعت ہی اللہ نے ایسی بنائی ہوتی ہے، اس کی حقیقت میں ہی گویا یہ داخل ہوتا ہے کہ وہ کوئی ناجائز کام اور غلط کام دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا بھئی۔ حضرت شیخ میرے والد محترم حضرت شیخ الترمذی رحمہ اللہ اس کی عجیب دلیل قرآن سے دیتے تھے مولانا۔ قرآن میں جیسے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام والا واقعہ آتا ہے، تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دو تین جگہ بولے تھے بھئی۔ آپ نے پڑھا ہوگا بھئی تفسیر میں وہ واقعہ، تو وہ والد صاحب فرماتے تھے: یہ تقریر النبی کی مثال ہے بھئی۔ ایک مرتبہ حضرت خضر علیہ السلام نے وہ کشتی کو توڑا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام فوراً بول اٹھے کہ: یہ کیا کیا آپ نے؟ کشتی توڑ دی بھئی دوسرے کی۔ دوسری جگہ ایک جگہ بچے کو قتل کیا، یہ کیا کیا آپ نے ایک بچے کو قتل کر دیا؟ ایک جگہ بستی والوں نے کھانا وغیرہ نہیں کھلایا، مہمان نوازی نہیں کی اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کی دیوار بنا دی ایک تو اس پر بھی فوراً ٹوکا کہ بھئی یہ آپ نے دیوار کیوں سیدھی کی؟ یہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کر رہے اور آپ ان کی دیوار سیدھی کرتے ہیں، آپ کو کم از کم اجرت لینی چاہیے ان سے بھئی۔ تو بظاہر یہ کام ٹھیک نہیں تھے، تو لہذا وہ پیغمبر فوراً بول اٹھے بھئی، وہ خاموش رہ ہی نہیں سکتے بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو یہ عجیب مثال قرآن سے وہ ذکر کرتے تھے بھئی۔ تو السكوت في محل بيان بيان بھئی۔ محلِ بیان میں سکوت کو اختیار کرنا یہ کیا ہے؟ بیان ہے بھئی! اس مقام پر یہ تو اگر ناجائز ہوتا تو پیغمبر کو منع کرنا چاہیے تھا، پیغمبر نے منع نہیں فرمایا معلوم ہوا یہ کام کیا ہے شرعاً؟ جائز ہے بھئی۔ جی، لکھیے آگے بھئی۔ الگ سطر۔ نیز عام علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک اثر اور خبر بھی مرادفِ حدیث ہیں۔ لیکن بعض فقہائے کرام فرق کرتے ہیں اور صرف حدیثِ موقوف پر اثر کا اطلاق کرتے ہیں جبکہ خبر کا اطلاق حدیثِ مرفوع و موقوف دونوں پر کرتے ہیں۔ بھئی، حدیثِ مرفوع اور موقوف کی تعریف آگے آنے والی ہے بھئی۔ جبکہ خبر کا اطلاق حدیثِ مرفوع و موقوف دونوں پر کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ہے صاحبِ ہدایت، صاحبِ ہدایت اور صاحبِ بدائع کا۔ بدائع بھئی، ہمزہ اور عین ہے آخر میں۔ صاحبِ بدائع کا۔ چنانچہ جب ہدایت میں یوں کہا جائے بھئی، ہدایت فقہ کی عظیم کتاب احناف کی مولانا، اس میں جب یوں کہا جائے، کذا في الحديث، کذا في الحديث، کذا في الحديث، تو حدیثِ مرفوع مراد ہوتی ہے۔ اور جب صرف صحابی کا قول کسی مسئلے میں مروی ہو، تو صاحبِ ہدایت یوں فرماتے ہیں: کذا في الأثر، کذا في الأثر، کذا في الأثر۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ الگ سطر۔ جبکہ سنت عام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال و تقریرات کو بھی شامل ہے اور صحابہ کے قول و فعل کو بھی شامل ہے۔ الگ سطر بھئی۔ سنت کا ایک اور معنی بھی ہے، وہ یہ کہ سنت ایک قسم ہے شریعت کے احکامِ خمسہ یا ستہ میں سے۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ احکامِ شریعت پانچ ہیں، جو یہ ہیں: فرض، سنت، مباح، مکروہ اور حرام۔ سنت شامل ہے نوافل کو بھی۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ایک چھٹی قسم بھی بتاتے ہیں جس کا نام واجب ہے۔ واجب کا درجہ فرض سے کم اور سنت سے زیادہ ہے۔ دیگر ائمہ اس کے قائل نہیں ہیں۔ تو ان اقسامِ ستہ میں سے ایک کا نام سنت ہے جو کہ فرض و واجب کے مقابل ہے۔ جی، لکھ لیا بھئی؟ الگ سطر بھئی۔ ماخذ و اصل کے لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہیں: حدیثِ مرفوع، عين کے ساتھ ہے بھئی، حدیثِ مرفوع، حدیثِ موقوف، قاف دو نقطوں والا ہے بھئی، حدیثِ موقوف، اور حدیثِ مقطوع، ط کے ساتھ ہے، قاف دو نقطوں والا، ط، واؤ، عین بھئی۔ مرفوع وہ حدیث ہے جس میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے قول و فعل کا ذکر ہو۔ موقوف وہ حدیث ہے جس میں صحابی کا قول و فعل مذکور ہو۔ اور مقطوع وہ حدیث ہے جس میں تابعی کا قول و فعل ذکر ہو۔ ان تینوں کا حکم بھئی، ان تینوں کا حکم۔ حدیثِ مرفوع بالاتفاق مسائلِ شرعیہ میں حجت و دلیل ہے اور واجب الاتباع ہے۔ اور حدیثِ موقوف بھی مسائلِ شرعیہ میں حجت ہے۔ اور حدیث موقوف بھی مسائل شرعیہ میں حجت ہے بشرطیکہ بشرطیکہ اس مسئلہ میں حدیث مرفوع موجود نہ ہو، بشرطیکہ بشرطیکہ اس مسئلہ میں حدیث مرفوع موجود نہ ہو، بشرطیکہ اس مسئلہ میں حدیث مرفوع موجود نہ ہو۔ اور حدیث مقطوع حجت نہیں ہے، اور حدیث مقطوع حجت نہیں ہے۔ اگر قرآن و سنت کی مؤید ہو، اگر قرآن و سنت کی مؤید ہو، مؤید 'دال' کے ساتھ ہے، اگر قرآن و سنت کی مؤید ہو تو بہتر ورنہ مستقل حجت نہیں ہے، ورنہ مستقل حجت و دلیل نہیں ہے۔ ہاں موجبِ اطمینان و تسکین ضرور ہے، ہاں موجبِ اطمینان و تسکین ضرور ہے، ہاں موجبِ اطمینان و تسکین ضرور ہے۔ جی، یہاں تک بحث سمجھ میں آئی آپ سب کو بھئی؟ حدیث کی تین قسمیں میں نے آپ کو لکھوا دیں، یہ ہر ہر جگہ عام استعمال ہوتے ہیں یہ الفاظ۔ آپ کو ہر وقت علم ہونا چاہیے حدیثِ مرفوع آئے گا، یہ حدیثِ مرفوع ہے، کبھی آئے گا یہ حدیثِ موقوف ہے، کبھی آئے گا یہ حدیثِ مقطوع ہے۔ تو فوراً آپ سمجھ جائیں کہ حدیثِ مرفوع کا ذکر آئے تو کیا مراد ہوگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل۔ حدیثِ موقوف کا ذکر آ جائے تو کیا مراد ہے؟ صحابی کا قول و فعل مراد ہے۔ اور حدیثِ مقطوع کا ذکر آئے تو؟ تابعی کا قول و فعل۔ اور پھر میں نے یہ بھی آپ کو لکھوا دیا کہ حدیثِ مرفوع مسائل شرعیہ میں بالاتفاق کیا ہے؟ حجت ہے، دلیل ہے، اور یہ واجب الاتباع ہے، اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ حدیثِ موقوف بھی دلیل بنے گی، لیکن شرط یہ ہے اس وقت جب کہ حدیثِ مرفوع کیا ہو؟ اس مسئلے میں موجود نہ ہو۔ اور مقطوع حجت نہیں بنتی، ہاں موجبِ اطمینان ضرور ہے، اطمینان اس سے حاصل ہوتا ہے قلب کو بھئی۔ جی، آگے لکھیے مولانا۔ حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات، حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات، روات، گول 'تا' ہے مولانا، راوی کی جمع روات۔ حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات یعنی باعتبارِ عددِ رجالِ حدیث، یعنی باعتبارِ عددِ رجالِ حدیث۔ لکھ لیا بھئی؟ حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات یعنی باعتبارِ عددِ رجالِ حدیث۔ بہیں لحاظ بہیں لحاظ حدیث کی تقسیم بہیں لحاظ حدیث کی تقسیم دو طرح ہے، بہیں لحاظ حدیث کی تقسیم دو طرح ہے۔ ایک تقسیم علماءِ اصولِ فقہ والوں کی ہے، ایک تقسیم علماءِ اصولِ فقہ والوں کی ہے اور ایک تقسیم محدثین کی ہے، اور ایک تقسیم محدثین کی ہے۔ تقسیمِ اول، تقسیمِ اول۔ علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث کی تقسیم ثلاثی ہے، حدیث کی تقسیم ثلاثی ہے، یعنی وہ اس کی تین قسمیں بناتے ہیں، یعنی وہ اس کی تین قسمیں بناتے ہیں: خبرِ متواتر، خبرِ متواتر، خبرِ مشہور، خبرِ مشہور، اور خبرِ واحد، اور خبرِ واحد۔ خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد۔ وجہِ حصر یہ ہے، وجہِ حصر یہ ہے کہ اگر حدیث کے روات، اگر حدیث کے روات، گول 'تا' ہے بھئی، یا یوں کر لو، اگر حدیث کے روایت کرنے والے، جیسے آپ کو آسان لگے۔ وجہِ حصر یہ ہے کہ اگر حدیث کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں، ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے کہ عقل ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کو جھوٹ پر جمع ہونے کو محال سمجھے تو یہ متواتر ہے۔ اور اگر اتنے زیادہ نہ ہوں، اور اگر اتنے زیادہ نہ ہوں تاہم صحابہ کے علاوہ تاہم صحابہ کے علاوہ کسی طبقہ میں کسی طبقہ میں تین روات سے کم نہ ہوں، تین روات سے کم نہ ہوں تو یہ خبرِ مشہور ہے، تو یہ خبرِ مشہور ہے۔ اور اگر کسی طبقہ میں تین سے کم ہوں، اور اگر کسی طبقہ میں تین سے کم ہوں یعنی دو ہوں یا دو سے کم ہوں، یعنی دو ہوں یا دو سے کم ہوں تو وہ خبرِ واحد ہے، تو وہ خبرِ واحد ہے۔ اسے خبرِ آحاد بھی کہتے ہیں، اسے خبرِ آحاد بھی، آحاد، وہی واحد سے ہے بھئی، اسے خبرِ آحاد بھی کہتے ہیں۔ الگ سے۔ خبرِ متواتر سے خبرِ متواتر سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، خبرِ متواتر سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ نیز خبرِ متواتر میں راویوں کی کوئی تعداد متعین نہیں، نیز خبرِ متواتر میں راویوں کی کوئی تعداد متعین نہیں بلکہ عقل کے سپرد ہے، بلکہ عقل کے سپرد ہے۔ بعض علماء لکھتے ہیں کہ خبرِ متواتر میں کم از کم چار راوی ہونا ضروری ہیں، کہ خبرِ متواتر میں کم از کم چار راوی ہونا ضروری ہیں۔ بعض لکھتے ہیں کم از کم دس راوی ہونے چاہئیں، بعض لکھتے ہیں کہ کم از کم دس راوی ہونے چاہئیں۔ بعض نے بارہ، بعض نے بارہ، بعض نے بیس، بعض نے بیس، بعض نے چالیس، بعض نے چالیس اور بعض نے ستر تعداد لکھی ہے، اور بعض نے ستر کی تعداد لکھی ہے کہ کم از کم ستر راوی ہوں بھئی، پھر وہ خبرِ متواتر ہو گی۔ مگر جمہور کے نزدیک کوئی تعداد متعین نہیں۔ اتنی تعداد ہو کہ عقل فیصلہ کرے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے۔ جی، یہ لکھ لیا بھئی؟ بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ راویوں کی تعداد کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم ہم لکھ رہے ہیں اور میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ کتنی قسم پر ہے یہ تقسیم؟ دو طرح کی ہے۔ ایک تقسیم علماءِ اصولِ فقہ والوں کی ہے، ایک محدثین کی ہے بھئی۔ علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث کی کتنی قسمیں ہیں راویوں کی تعداد کے اعتبار سے؟ تین قسمیں ہیں: خبرِ متواتر ہے، خبرِ مشہور ہے اور خبرِ واحد ہے۔ خبرِ واحد کا دوسرا نام خبرِ آحاد بھی ہے بھئی۔ خبرِ متواتر کس حدیث کو کہتے ہیں جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں، اتنے زیادہ ہوں کہ عقل یہ تصور ہی نہ کرے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع ہو سکتے ہیں بھئی۔ عقل محال سمجھتی ہے کہ اتنے لوگ کبھی بھی جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اتنے لوگ جب روایت کر رہے ہیں تو یقیناً، یقیناً یہ حدیث کیا ہے؟ سچی ہے، یہ بات سچی ہے بھئی۔ اور اگر اتنے نہ ہوں، اس سے کم ہوں بھئی تعداد تو پھر اگر کسی بھی طبقے میں تین سے کم نہیں، کسی بھی زمانے میں تین سے کم راوی نہیں ہیں حدیث کے، تو وہ کیا کہلائے گی؟ خبرِ مشہور۔ اور اگر کسی زمانے میں راوی دو رہ جاتے ہیں یا ایک رہ جاتا ہے، تو یہ پھر کیا کہلائے گی؟ خبرِ واحد کہلائے گی بھئی، خبرِ واحد۔ اور نیز میں نے خبر بتلایا، خبرِ متواتر سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آنکھوں سے دیکھی ہوئی کسی چیز کا علم یقینی اور قطعی ہوتا ہے انسان کو، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا، اسی طرح خبرِ متواتر سے بھی قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ جی، لکھیے بھئی، تقسیمِ ثانی۔ تقسیمِ ثانی۔ محدثین کے نزدیک حدیث کی تقسیم ثنائی ہے، محدثین کے نزدیک حدیث کی تقسیم ثنائی ہے، 'ثاء' کے ساتھ بھئی، تثنیہ سے ہے یہ، تثنیہ سے۔ یعنی وہ اس کی دو قسمیں بناتے ہیں، یعنی وہ اس کی دو قسمیں بناتے ہیں: خبرِ متواتر اور خبرِ آحاد۔ خبرِ متواتر اور خبرِ آحاد یا خبرِ واحد۔ وجہ حصر یہ ہے کہ حدیث کو روایت کرنے والی جماعت ہر زمانے اور ہر طبقے میں اتنی بڑی ہو کہ عقلاً اس کا اجتماع علی الکذب محال ہو تو وہ خبرِ متواتر ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ خبرِ آحاد ہے۔ خبرِ آحاد نام ہے، راوی کا ایک ہونا ضروری نہیں، خبرِ آحاد مفیدِ ظن ہے عند الاکثر جبکہ خبرِ متواتر مفیدِ علمِ یقینی ہے۔ متواتر احادیث بہت قلیل ہیں۔ پھر محدثین خبرِ واحد کی تین قسمیں بناتے ہیں: خبرِ مشہور، خبرِ عزیز اور خبرِ غریب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنی قسمیں پھر بناتے ہیں؟ تین قسمیں: مشہور، عزیز اور غریب۔ وجہ حصر یہ ہے کہ اگر حدیث کو روایت کرنے والی جماعت اتنی بڑی نہ ہو لیکن کسی طبقے اور کسی زمانے میں راوی تین سے کم نہ ہوں تو یہ خبرِ مشہور ہے، اور اگر حدیث کے روایت کرنے والے کسی طبقے میں دو ہوں یا تمام طبقات میں دو ہوں تو وہ خبرِ عزیز ہے، اور اگر کسی طبقے میں یا تمام طبقات میں راوی ایک ہو تو وہ حدیث غریب ہے۔ پس محدثین کے نزدیک خبرِ مشہور قسم ہے خبرِ واحد کی جبکہ عند الفقہاء خبرِ مشہور مقابل ہے خبرِ واحد کے۔ ان کا حکم بھئی، ان کا حکم۔ خبرِ متواتر پر اعتقاد بھی واجب ہے اور عمل بھی۔ یعنی اس کے حق ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی فرض ہے اور اس پر عمل کرنا بھی فرض، اس کا رد کرنا اور انکار کرنا کفر ہے۔ خبرِ متواتر کے ذریعے کتاب اللہ کے کسی حکم پر زیادتی کرنا بھی جائز ہے اور اس کے ذریعے کتاب اللہ کے کسی حکم کو منسوخ کرنا بھی جائز ہے۔ خبرِ مشہور، خبرِ مشہور پر عمل تو واجب ہے مگر اعتقاد واجب نہیں، نیز خبرِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ کے کسی حکم پر زیادتی کرنا تو جائز ہے مگر کتاب اللہ کے کسی حکم کو خبرِ مشہور سے منسوخ کرنا جائز نہیں۔ جبکہ خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا بھی جائز نہیں، نیز خبرِ واحد پر عمل کے واجب ہونے میں بھی علماء کا اختلاف ہے، علماء کا اختلاف ہے۔ جی بس بھئی مولانا، جی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ آحاد کا حکم بھئی۔ خبرِ متواتر سے قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے بھئی اور اس پر عمل کرنا بھی واجب، اعتقاد رکھنا بھی واجب ہے بھئی، فرض ہے اس کا عقیدہ رکھنا بھی، عمل کرنا بھی۔ جو اس کا انکار کرے گا اس پر بھی کیا فتویٰ لگایا جائے گا؟ کفر کا فتویٰ بھئی، وہ کافر ہوا بھئی۔ نیز خبرِ متواتر کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی بھی کرنا جائز ہے اور کتاب اللہ کے کسی حکم کو منسوخ کرنا بھی جائز ہے۔ ہاں خبرِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی تو کر سکتے ہیں لیکن اس کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتے اور اس پر عمل واجب ہے، البتہ اعتقاد رکھنا واجب نہیں۔ جبکہ خبرِ واحد کے ذریعے تو کتاب اللہ پر زیادتی کرنا بھی جائز نہیں ہے اور نیز اس پر عمل بھی واجب، اعتقاد تو ہے ہی واجب نہیں، عمل بھی واجب ہے یا نہیں اس کے بارے میں بھی کیا ہے؟ علماء کرام کا اختلاف ہے وہاں۔ جی یہ بڑی قیمتی ابحاث ہیں مولانا، آپ کو یاد ہونی چاہئیں بھئی۔ عام اور کتابوں میں آپ کو نہیں ملیں گی۔ سنت کی بحث انشاء اللہ ہم بڑی تفصیلی کریں گے اور ساتھ ساتھ آپ لکھتے جائیے، یہ ابحاث آپ کو عام دیگر شروحات وغیرہ میں نہیں ملیں گی بھئی۔ بڑی محنت سے میں نے یہ باتیں اکٹھی کی ہیں آپ لوگوں کے لیے، اور جگہ بھی آپ کو بہت فائدہ دیں گی۔ چلیے مولانا، هذا قول مرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
123 approved lectures · 91 of 123