اچھا بھئی، اب کتاب پر دیکھیے۔ وہی باتیں جو میں نے آپ کو گزشتہ سبق میں لکھوا دیں بھئی، وہی یہاں پر صاحب کتاب اپنے لفظوں میں بیان کریں گے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہی باتیں ہیں تقریباً، دیکھتے جائیے۔
البحث الثاني في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي أكثر من عدد الرمل والحصى۔
بحث ثانی بھئی کتاب کی، في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یعنی حدیث کے بیان میں، بھئی۔ میں نے بتلایا چار لفظ ہیں بھئی: سنت، اثر، خبر، اور حدیث۔ جی۔
کہتے ہیں: وهي أكثر من عدد الرمل والحصى۔ رمل کہتے ہیں ریت کو، اور حصى جمع ہے حصاة کی۔ حصاة گول 'تا' کے ساتھ بھئی، کنکری کو کہتے ہیں کنکری۔ سنگریزہ۔ اور یہ زیادہ ہیں ریت اور کنکریوں کی تعداد سے۔ احادیث کیا ہیں مولانا؟ ریت اور کنکریوں کی تعداد سے زیادہ ہیں، یہ کنایہ ہے مولانا کثرت سے۔ یہ معنی نہیں کہ حقیقتاً اس طرح ہیں جیسے وہ ریت کے ذرات شمار میں ہی نہیں ہیں۔ یہ معنی نہیں، کثرت سے، یعنی اس احادیث کیا ہیں؟ بہت زیادہ ہیں، جسے علماء نے کتابوں کے اندر باقاعدہ جمع فرما دیا ہے، بھئی۔
فصل في أقسام الخبر۔ خبر کی قسموں کے بارے میں یہ فصل ہے بھئی۔ خبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنزلة الكتاب في حق لزوم العلم والعمل به۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کتاب اللہ کے درجے میں ہے، بمنزلة الكتاب، کتاب اللہ کے درجے میں ہے، في حق لزوم العلم والعمل به، علم اور عمل کے لازم ہونے کے اعتبار سے بھئی۔ جیسے کتاب اللہ پر علم یعنی اعتقاد رکھنا بھی واجب تھا۔ کتاب اللہ کا بھئی حق ہونے کا، صحیح ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی واجب اور اس پر عمل کرنا بھی واجب، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہیں ان کے حق ہونے کا عقیدہ رکھنا اور اس پر عمل کرنا، دونوں کیا ہیں؟ واجب ہیں۔
فإن من أطاعه فقد أطاع الله، اس لیے کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی فقد أطاع الله، تو اس نے تحقیق کس کی اطاعت کی؟ اللہ کی اطاعت کی بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال وغیرہ مولانا، یاد رکھو بھئی، یہ وحی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔ وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے، وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى، اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى، وہ تو صرف بھیجی ہوئی وحی ہی ہے بھئی۔ یعنی جو بھی پیغمبر کا جو بھی کلام ہے وہ کیا ہے؟ وحی ہے بھئی، وحی ہے۔
نیز قرآن میں اللہ فرماتے ہیں بھئی، یہ دیکھیے یہ آپ کی کتاب کے حاشیہ نمبر 15 میں یہ انہوں نے قرآن کی آیتیں کچھ ذکر کر دیں بھئی۔ پیغمبر کی انہوں نے کہا بھئی پیغمبر کی حدیث پر عمل کرنا بھی واجب، اس کا عقیدہ رکھنا بھی واجب فرض ہے مولانا، کیوں؟ کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى۔ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا۔ جو تمہیں اللہ کا رسول دے اسے لے لو اور جس سے روکے اس سے باز آ جاؤ۔ یعنی جو حکم دے اس پہ عمل کرو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ بھئی۔ دیکھا؟ اللہ فرما رہے ہیں کہ جو میرا پیغمبر بھی جو بات کہے اس کو مانو، اس پر عمل کرو، اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ۔ نیز اللہ فرماتے ہیں: مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ۔ جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت کی بھئی۔ معلوم ہوا پیغمبر کی حدیث پر بھی، پیغمبر کے احکام پر بھی علم اور عمل کرنا واجب ہے۔
فما مر ذكره من بحث الخاص والعام والمشترك والمجمل في الكتاب فهو كذلك في حق السنة۔ پس وہ جو گزر گیا، گزر گئی، وہ جس فما وہ جو کہ مر ذكره جس کا ذکر گزر گیا، کیا بھئی وہ کیا چیز ہے جس کا ذکر گزرا؟ من بیان ہے، یعنی کہ خاص کی بحث، عام کی بحث، مشترک کی بحث، اور مجمل وغیرہ کی بحث فی الكتاب، کس کی بحث میں؟ کتاب اللہ کی بحث میں، فهو كذلك في حق السنة، تو وہ اسی طرح ہے کس میں؟ سنت میں، حدیث میں بھئی۔ بھئی، جو پیچھے گزشتہ قسمیں گزری تھیں خاص، عام، مشترک، مجمل، نص، خفی، مشکل، مجمل وغیرہ جتنی قسمیں گزری تھیں وہ ساری قسمیں کس کے اندر جاری ہوں گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، حدیث کے اندر بھی جاری ہوں گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مصنف نے صرف اشارہ کر دیا، بتلا دی یہ بات آپ کو۔ سنت کے اندر بھی جب یہ ساری قسمیں جاری ہوں گی تو یہاں بھی ان کو ذکر ہونا چاہیے ساری قسموں کو، لیکن چونکہ ایک دفعہ ان کا بیان گزر چکا ہے اس لیے دوبارہ اس کا اعادہ نہیں کیا ہوا، ساری قسمیں البتہ حدیث میں بھی اسی طرح جاری ہوں گی بھئی۔
لیکن ایک بات یاد رکھنا مولانا، وہ جو قسمیں جاری ہوں گی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیثوں میں جاری ہوں گی۔ وہ حدیثیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یا تقریر وغیرہ کا ذکر ہے ان میں جاری نہیں ہوں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث بتلایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بھی ہو سکتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی ہو سکتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر بھی۔ حضور کا قول ہوا پھر تو حضور کی بات ہوگی بھئی، حضور کے اپنے زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ ہوں گے۔ لیکن اگر حضور کا فعل ذکر ہوا کسی حدیث میں پھر وہ تو کس کے الفاظ کس کے ہوں گے؟ صحابی کے ہوں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا، یوں فرمایا، یوں کیا، یوں کیا، یوں کیا۔ تو الفاظ کس کے آ گئے؟ صحابی کے۔ یا حضور کی تقریر ذکر ہوگی تو یہ بھی کس کے لفظ آ جائیں گے؟ صحابی کے۔ تو لہٰذا ان دو کے اندر وہ کس میں نہیں جاری ہوں گی جن میں صحابی کے الفاظ ہیں، وہ جو قسمیں ہیں صرف کون سی حدیثوں کے اندر جاری ہوں گی؟ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ذکر ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر ہو۔ اس لیے کہ جیسے قرآن مولانا نہایت فصیح و بلیغ کلام ہے اللہ کا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھی نہایت فصاحت و بلاغت نصیب فرمائی تھی اور آپ کے نکلے ہوئے کلمات ہیں، الفاظ ہیں، نہایت فصیح و بلیغ ہیں بھئی، تو ان میں وہ ساری قسمیں جاری ہوں گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
إلا أن الشبهة في باب الخبر في ثبوته من رسول الله صلى الله عليه وسلم واقتصاله به۔ یہ سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے مصنف! آپ نے خود بتلایا کہ حدیث کا بھی وہی حکم ہے جو کس کا حکم ہے؟ کتاب اللہ کا حکم ہے، اور کتاب اللہ کی بحث تو پیچھے مفصل گزر چکی ہے تو اب دوبارہ حدیث کو علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت، اس کا بھی وہی حکم ہے بھئی جو کس کا حکم ہے؟ کتاب اللہ کا حکم ہے، تو دوبارہ ذکر کی ضرورت ہے اس کو الگ؟ پھر آپ الگ اس کو کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ بتلا رہے ہیں مصنف نے بھئی دونوں میں کچھ فرق ہے، کیا ہے؟ کچھ فرق ہے، وہ فرق یہ کہ جو بتلا رہے ہیں دیکھیے بھئی: إلا أن الشبهة في باب الخبر، مگر شبہ ہے کس میں؟ فی باب الخبر، حدیث کے بارے میں، في ثبوته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ثبوت کے بارے میں۔ بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ثابت ہے یا ثابت نہیں، اس بارے میں کیا آ گیا؟ شبہ ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جی واقتصاله به، اور نیز شبہ ہے کس چیز میں؟ ایک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سے اس کے ثابت ہونے میں شبہ ہے اور دوسرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کے ملے ہوئے ہونے میں شبہ ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ثابت ہے بھئی حدیث میں آ رہا ہے، ایک بات حدیث میں آ رہی ہے، لیکن اس میں یہ کتاب اللہ کی طرح نہیں، کچھ فرق ہے۔ فرق یہ کہ اس حدیث میں شبہ آ جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چیز ثابت ہے یا ثابت نہیں ہے یہ جو حدیث ہے۔ نیز جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ملی ہوئی ہے یا نہیں، یعنی ہم تک جو پہنچی ہے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی، درمیان میں اتصال ہے یا اتصال نہیں؟ سارے راوی ذکر ہیں یا کہیں درمیان میں کوئی راوی ساقط نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث میں کیسے ہوتا ہے؟ سب سے پہلے صحابی روایت کریں گے بھئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔ صحابی کے ساتھ پھر کس صحابی سے کون روایت کرتے ہیں؟ تابعی و اگلے پھر کوئی روایت کریں گے مثلاً، پھر اس سے آگے تبع تابعی روایت کریں گے مثلاً، اس سے آگے پھر ان کے بعد والے روایت کریں گے، پھر ان کے بعد، دیکھا زمانہ بدلتا جائے گا تو اگلی نسل سے اگلی نسل کی طرف کیا ہوتی جائے گی؟ روایت ہوتی جائے گی، تو یہ جو درمیان میں راوی ہیں یہ سارے آپس میں پورے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ایک شخص نے سنا تھا دوسرے سے لیکن بیچ میں اس کا نام ذکر کرنا بھول گیا بھئی یا رہ گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
صورت سمجھے؟ مثلاً دیکھو بھئی، صحابی سے روایت کس نے کی؟ زید نے کی۔ پھر زید سے آگے کس نے سنا؟ عمرو نے۔ عمرو سے آگے کس نے سنا؟ بکر نے۔ بکر سے آگے کس نے سنا؟ خالد نے۔ لیکن جب حدیث ہم دیکھتے ہیں وہاں ہوتا ہے لکھا ہوتا ہے کہ خالد نے کہا کہ میں نے کس سے سنا؟ کس سے سنا تھا اس نے؟ بکر سے سنا تھا، بکر نے کس سے سنا تھا؟ عمرو سے، لیکن عمرو کا تو ذکر ہی نہیں کیا اس نے، بکر کہتا ہے میں نے زید سے سنا بھئی، کس سے سنا؟ تو درمیان والا ایک راوی نہیں ہے حدیث میں۔ حالانکہ بکر تو زید سے سن ہی نہیں سکتا مثلاً، کیونکہ زید کی تو وفات ہی اس کی پیدائش سے پہلے کی ہے۔ معلوم ہوا درمیان میں کوئی راوی کیا ہے؟ نہیں ہے، گرا ہوا ہے، ساقط ہے، مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں آ رہا بھئی؟ تو یہ راوی ساقط ہو گیا، معلوم ہوا آپ تک حدیث متصل نہیں پہنچی۔ سمجھ میں آیا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تو شبہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شبہ ہے حدیث میں کس چیز میں؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے یا نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی ہے یا نہیں، یا حضور تک پہنچتی ہے؟ درمیان میں کوئی راوی ساقط تو نہیں، اس میں شبہ آ جاتا ہے۔ اس اعتبار سے فرق ہے بھئی، قرآن سے کیا آ گیا حدیث کا؟ فرق آ گیا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟
ولهذا المعنى، اور اسی علت کی بناء پر، اسی سبب کی بناء پر، معنی کا کیا ترجمہ میں نے آپ کو بتلایا بھئی؟ علت کرنا ہے، اور اسی علت کی بناء پر صار الخبر على ثلاثة أقسام، خبر تین قسم پر ہو گئی، وہی باتیں کر رہے ہیں جو میں نے کیں بھئی: قسم صح من رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبت منه بلا شبهة، ایک وہ قسم ہے جو صحیح ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، یعنی ثابت ہے، وثبت منه بلا شبهة، اور ثابت ہے حضور علیہ السلام سے بلا شبهة، بغیر کسی شبہ کے، وهو المتواتر، اور وہ خبر متواتر ہے، وقسم فيه ضرب شبهة، اور ایک قسم وہ ہے جس میں ایک نوع کا شبہ ہے یعنی تھوڑا سا شبہ ہے۔ وقسم فيه ضرب شبهة، اور ایک قسم وہ ہے جس میں ایک نوع کا، ایک قسم کا شبہ ہے، وهو المشهور، اور وہ کیا ہے؟ خبر مشہور ہے، وقسم فيه احتمال وشبهة، اور ایک قسم وہ ہے جس میں احتمال بھی ہے اور شبہ بھی ہے۔
احتمال کس چیز میں بھئی؟ بھئی، اوپر دو چیزیں ذکر کی تھیں: إلا أن الشبهة في باب الخبر في ثبوته وفي اتصاله به، بھئی۔ ثبوت میں ایک پہلی بات اور دوسرے کس میں؟ اتصال میں۔ تو احتمال ہوگا ثبوت میں کہ حضور سے ثابت ہے یا ثابت نہیں، اور شبہ ہوگا کس چیز میں؟ اتصال اور عدم اتصال میں، جی۔ وهو الآحاد، اور وہ کیا ہے؟ خبر آحاد ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ خبر متواتر کیا ہے؟ جو بغیر شبہے کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، متصل ہے۔ خبر مشہور میں کیا کہا بھئی؟ اس میں ایک قسم کا شبہ ہے۔ اور خبر واحد کے اندر شبہ بھی ہے اور احتمال بھی ہے۔
فالمتواتر ما نقله، اب تعریف کر رہے ہیں۔ فالمتواتر ما نقله جماعة عن جماعة لا يتصور توافقهم على الكذب لكثرتهم، متواتر وہ ہے جس کو نقل کیا ہو ایک ایسے ایسی جماعت نے ایسی جماعت سے لا يتصور کہ تصور نہ کیا جا سکتا ہو توافقهم ان کا موافقت کرنا، ان کی موافقت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا علی الکذب کس پر؟ جھوٹ پر لكثرتهم کس کی وجہ سے؟ ان کی بھئی، خبر متواتر کی آپ کو میں نے کیا تعریف لکھوائی تھی بھئی؟ کہ اتنی بڑی جماعت روایت کرنے والی ہو کہ عقل یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ اتنے لوگ کیا ہیں جھوٹ پر بھئی، اگر جھوٹ ہوتا تو دو، چار، چھ بول کرنے والے ہوتے، اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں معلوم ہوا یہ بات کیا ہے؟ سچی ہے۔ تو یہ دیکھا ایسی جماعت دوسری جماعت سے روایت کرے کہ تصور بھی نہ کیا جا سکتا ہو ان کی موافقت کا جھوٹ پر لكثرتهم بوجہ ان کی کثرت کے۔ واتصل بك هكذا، اور اسی طرح وہ خبر پہنچی ہو آپ تک اے مخاطب بھئی، اے مخاطب وہ خبر آپ تک یعنی ہر ہر زمانے میں اس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ، اتنی بڑی جماعت تھی کہ عقلاً ان کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہے بھئی۔
مثاله نقل القرآن، اس کی مثال کیا ہے؟ قرآن کا نقل۔ بھئی، قرآن بھی تو آپ تک نقل ہو کر پہنچا ہے یا نہیں پہنچا مولانا؟ ایک نے روایت کیا دوسرے سے، دوسرے نے روایت کیا تیسرے سے، تو شبہ اس میں آ سکتا ہے یا شبہ نہیں آ سکتا؟ لیکن یہ خبر متواتر کے قبیل سے ہے مولانا، متواتر ہے، قرآن بھی کیا ہے؟ ہر زمانے کے اندر اتنے ہزاروں لاکھوں لوگ اس کو نقل کرتے آئے ہیں کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اتنے لوگ کیا ہیں جھوٹ پر جمع ہو جائیں۔ سمجھ میں آیا؟ صحابہ میں بھئی سینکڑوں ہزاروں حفاظ تھے قرآن کے، پھر ان سے آگے آئے انہوں نے حفظ، تابعین میں ہزاروں لاکھوں مولانا حفاظ، پھر تبع تابعین میں، آج تک قرآن جو ہے اسی طرح سمجھنا ہے کتابت کی شکل میں بھی یہ چلا آیا ہے اور سینہ بہ سینہ بھی کتنے حفاظ تھے۔ تو اتنے لوگ معلوم ہوا کبھی بھی جھوٹ پر جمع...
جمع لہذا اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
تو مثال اس کی متواتر کی مولانا قرآن کا نقل ہونا ہے، واعداد الرکعاتِ اور رکعتوں کی تعداد، بھئی نماز فجر کی دو رکعتیں ہیں، ظہر کی چار ہیں، عصر کی چار ہیں وغیرہ۔ ہر ہر زمانے میں اتنے اتنے لوگ اس کو روایت کرنے والے ہیں کہ اس پر عمل کرنے والے ہیں کہ اتنے لوگوں کا جھوٹ پر جمع ہونے کو عقل کیا ہے؟ محال سمجھتی ہے، یہ بھی متواتر کی کیا ہے؟ مثال ہے۔
ومقادیر الزکاۃِ اور اسی طرح زکوٰۃ کی مقداریں بھئی، بھئی زکوٰۃ کی مقدار بھئی سونے میں اتنی زکوٰۃ ہے، چاندی میں اتنی زکوٰۃ ہے، گھوڑوں میں اتنی ہے، گائے میں اتنی ہے، بکری بھیڑ بکری وغیرہ میں اتنی ہے، ہر ہر زمانے میں اس کے نقل کرنے والے اتنے زیادہ ہیں کہ عقل ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کو محال سمجھتی ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی مصنفِ کتاب بحث کر رہے ہیں خبرِ متواتر کی، لیکن جو مثالیں انہوں نے دیں نفسِ متواتر کی دی ہیں، خبرِ متواتر کی نہیں دیں۔ حدیث کوئی ذکر کی انہوں نے متواتر بھئی؟ نہیں، کوئی متواتر حدیث ذکر نہیں کی نفسِ متواتر، وجہ اس کی یہ کہ متواتر کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء تو کہتے ہیں کوئی حدیث بھی متواتر نہیں ہے، کوئی حدیث بھی متواتر نہیں ہے بھئی۔ بعض کہتے ہیں نہیں، کچھ حدیثیں متواتر ہیں بہت قلیل ہیں جیسے انما الاعمال بالنيات بھئی، اعمال کا دارومدار کس پر ہے؟ نیتوں پر ہے، کہتے ہیں یہ متواتر احادیث میں سے ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح دوسری وہ جو ہے البينة على المدعي واليمين على من أنكر، یہ بھی حدیث کس میں سے بیان کرتے ہیں علماء؟ متواتر میں سے۔ اسی طرح ایک اور حدیث ہے من كذب علي متعمداً فليتبوأ مقعده من النار، جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جس نے جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ باندھا تو یہ بھی حدیث علماء فرماتے ہیں کہ متواتر احادیث میں سے ہے بھئی۔
تو بہت قلیل ہیں مولانا متواتر احادیث، والمشهور ما كان اوله كالآحاد ثم اشتهر في العصر الثاني والثالثِ اور خبرِ مشہور وہ ہے جس کی اول یعنی ابتداء تو آحاد کی طرح تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شروع میں روایت کرنے والے بہت کم ہیں، ثم اشتهر پھر مشہور ہو گئی فی العصر الثاني دوسرے زمانے میں، کون سا دوسرا زمانہ بھئی؟ پہلا کس کا زمانہ تھا؟ صحابہ کے زمانے میں تو آحاد کی طرح تھی لیکن پھر تابعین، ثانی عصرِ ثانی یعنی تابعین کے زمانے میں اور عصرِ ثالث یعنی تبع تابعین کے زمانے میں وہ کیا ہو گئی؟ مشہور ہو گئی۔ بھئی صحابہ سارے کے سارے عادل ہیں۔ ایک بھی صحابی روایت کرنے والا ہو تو بھی کیا ہے؟ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، اسی لیے کہا پہلے زمانے میں چاہے آحاد کی طرح ہی کیوں نہ ہو صحابہ کیونکہ صحابہ سارے کے سارے کیا ہیں؟ عادل ہیں بھئی، ان کی بات نہیں ہوگی صحابہ، صحابہ کے بعد والوں کی بات ہم بحث کریں گے بھئی۔ تو صحابہ کے زمانے میں وہ آحاد کی طرح تھی پھر وہ مشہور ہو گئی دوسرے اور تیسرے زمانے میں، وتلقته الامة بالقبولِ اور متوجہ ہوئی امت اس کی طرف قبولیت کے ساتھ بھئی، امت نے بھی اس کو قبول کر لیا بھئی، امت نے بھی کیا کر لیا اس کو؟ قبول کر لیا کہ یہ حدیث اسی طرح ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح بات ہے بھئی۔ فصار كالمتواترِ پس وہ متواتر کی طرح ہو گئی، بھئی بعد کے زمانوں میں کیا ہو گئی؟ بے انتہا مشہور ہو گئی، متواتر جیسی بن گئی۔ حتى اتصل بكَ یہاں تک کہ کیا ہوئی؟ آپ تک اے مخاطب پہنچ گئی وہ حدیث۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ خبرِ مشہور ہے، بعد میں بھئی خبرِ متواتر کی طرح مشہور ہو جائے اس کے لیکن پھر بھی یہ خبرِ متواتر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ خبرِ مشہور ہے بھئی۔
اچھا، وذلك مثل حديث المسح على الخفينِ اور یہ جیسے مولانا مسح علی العفین کی حدیث ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح فرمایا کرتے تھے بھئی اس کی جو حدیث ہے کیا ہے؟ خبرِ مشہور ہے، سمجھ میں آیا؟ بہت سی احادیث ہیں بھئی، والرجم في باب الزنا اور رجم کی سزا زنا کے اندر بھئی، بھئی یہ حدیث یہ بھی کیا ہے؟ حدیثِ مشہور کی مثال ہے بھئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا ہے؟ جی؟ شادی شدہ کی کیا سزا ذکر کی گئی ہے حدیث کے اندر؟ اس کو رجم کیا جائے گا، قرآن میں تو اس کا ذکر نہیں ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث میں ہے، تو وہ خبرِ مشہور ہے بھئی۔
ثم المتواتر يوجب العلم القطعيَ اب حکم بتلانے لگے ہیں، ثم المتواتر يوجب العلم القطعيَ پھر خبرِ متواتر جو ہے وہ ثابت کرتی ہے یا واجب کرتی ہے علمِ قطعی کو، اس سے کس قسم کا علم حاصل ہوتا ہے؟ قطعی اور یقینی جیسے مولانا آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، خبرِ متواتر سے حاصل ہونے والے خبرِ متواتر میں بھی اس قسم اس طرح کسی قسم کا شک و شبہ یقینی۔ ويكون رده كفراً اور اس کا انکار کرنا کیا ہوگا؟ کفر ہوگا، والمشهور يوجب علم الطمأنينةِ اور خبرِ مشہور وہ واجب کرتی ہے یا ثابت کرتی ہے کس چیز کو؟ علمِ طمأنینت، اطمینان حاصل ہوتا ہے، کیا حاصل ہوتا ہے قلب کو؟ اطمینان حاصل ہوتا ہے، ويكون رده بدعةً اور اس کو رد کرنا کیا ہے خبرِ مشہور کو؟ بدعت ہے مولانا، ولا خلاف بين العلماء في لزوم العمل بهما اور کوئی اختلاف نہیں ہے علماء کے درمیان ان دونوں پر عمل کے لازم ہونے میں، خبرِ متواتر پر بھی عمل لازم اور خبرِ مشہور پر بھی عمل لازم، ہاں خبرِ متواتر پر اعتقاد واجب تھا، خبرِ مشہور پر اعتقاد واجب نہیں۔
وانما الكلام في الآحادِ اور کلام تو خبرِ آحاد میں ہے یعنی بحث کس کے بارے میں ہے؟ بھئی خبرِ مشہور اور خبرِ متواتر پر عمل کرنا واجب ہے، خبرِ آحاد کے اندر بحث ہے بعض علماء کہتے ہیں عمل واجب ہے بعض کہتے ہیں عمل واجب نہیں، فنقولُ پس ہم کہتے ہیں خبر الواحدِ خبرِ واحد جو ہے هو ما نقله واحد عن واحد أو واحد عن جماعة أو جماعة عن واحدٍ کہ خبرِ واحد وہ ہے جس کو نقل کیا ہو ایک راوی سے ایک راوی، ایک سے ایک نے، أو واحد عن جماعة یا ایک سے ایک سے پوری جماعت نے روایت کیا ہو، أو جماعة عن واحدٍ یا جماعت نے ایک، او یا، نہیں نہیں، یا ایک نے جماعت واحد عن جماعة، ایک نے کس سے روایت کیا ہو؟ جماعت سے، أو جماعة عن واحدٍ یا جماعت نے ایک۔ دیکھو کسی نہ کسی طبقے میں ایک آئے گا بھئی، ایک آ جائے یا دو آ جائیں سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن تین سے کم ہی ہوں بھئی۔ تو وہ علماء اصولِ فقہ والوں کی تقسیم چل رہی ہے نا، یہ آپ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں؟ اصولِ فقہ کی، تو یہاں دیکھا یا تو ایک سے کس نے روایت کیا ہو؟ ایک نے، تو دو زمانوں میں کیا آ گئے؟ ایک، دو میں آ جائیں یا زیادہ میں ہوں جتنے میں بھی آ جائیں۔ یا مولانا ایک نے روایت کیا ہے کس سے؟ جماعت سے، راوی آگے ایک ہے لیکن وہ کہہ رہا ہے میں نے اس سے بھی سنا، اس سے بھی سنا، اس سے بھی سنا، کئیوں کا نام لیتا ہے بھئی، اب راوی اس لیکن اس پوری جماعت سے وہ اکیلا ہی روایت کرنے والا ہے کوئی اور روایت کرنے والا نہیں ہے، ایک ہے یا دو ہیں۔ یا جماعة عن واحد، پوری جماعت نے کس سے روایت کیا ہے؟ ایک، بھئی دو چار چھ آٹھ دس روایت کر رہے ہیں مولانا حدیث کو، لیکن سارے کیا کہتے ہیں؟ ہم نے زید سے سنا، ہم نے زید سے سنا، ہم نے کسی اور سے وہ کسی اور کا نام نہیں لیتے، معلوم ہوا ایک سے ہی وہ حدیث، تو ایک جمع کسی زمانے میں ایک آنا چاہیے یا دو، تو یہ خبر کیا کہلائے گی؟ خبرِ آحاد۔ ولا عبرة للعدد إذا لم تبلغ حد المشهورِ اور عدد کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب تک کہ یہ مشہور کی حد تک نہ پہنچے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مشہور کی حد تک۔
وهو يوجب العمل به في الأحكام الشرعية بشرط إسلام الراوی اور یہ عمل کو بھئی خبرِ واحد کے بارے میں آپ کو بتلایا اختلاف ہے، بعض علماء کہتے ہیں عمل کرنا واجب ہے، بعض کہتے ہیں عمل کرنا واجب نہیں، تو عمل واجب کب ہوگا؟ کہتے ہیں جب اس میں پانچ شرائط پوری ہوں بھئی، کتنی شرائط پوری ہوں؟ خبرِ واحد میں پانچ شرطیں آئیں گی، پانچ شرطیں پائی جائیں گی تو پھر کیا ہوگی؟ عمل ہوگا، دیکھیے یہ آگے خود ذکر کر رہے ہیں، وهو يوجب العمل به في الأحكام الشرعية اور وہ عمل کو واجب کرتی ہے احکامِ شرعیہ میں یعنی خبرِ واحد، بشرط إسلام الراوی راوی کے اسلام کی شرط، بھئی پانچ شرطیں کل ذکر کریں گے، چار شرطیں راوی میں ہونی چاہئیں اور ایک نفسِ حدیث خبر کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا؟ پہلی شرط راوی کا اسلام، راوی کیا ہونا چاہیے؟ مسلمان ہونا چاہیے، لہذا اگر راوی کافر ہے تو اس کی روایت پر عمل کرنا واجب نہیں۔ تو کہتے ہیں راوی مسلمان ہو، وعدالتهِ اور اس کی عدالت بھئی، اور اس کی عدالت کی شرط پر یعنی راوی عادل ہو بھئی، راوی کیا ہو؟ عادل ہو۔ عادل کسے کہتے ہیں بھئی؟ جانتے ہیں یا نہیں؟ فقہ کی کتابوں میں بھی آپ پڑھتے رہتے ہیں، جی؟ کہ عادل شخص کی گواہی قبول کی جائے گی۔ عادل وہ شخص ہے جو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو، کبیرہ گناہ نہ کرے، صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو یعنی مسلسل نہیں کرتا صغیرہ، کبھی کبھار ہو جائے تو الگ بات ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اصرار کا کیا معنی ہے؟ مسلسل کرنا، بار بار کرنا۔ تو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو، صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو اور نیز گھٹیا افعال سے بھی بچتا ہو، گھٹیا افعال سے بھی کیا ہو؟ مثلاً مولانا راستے میں پیشاب کرنا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بعض لوگوں کو جہاں پیشاب آتا ہے ایک طرف ہو کے راستے میں بیٹھ جاتے ہیں بھئی پیشاب کرنے، تو یہ گھٹیا فعل ہے، معزز شخص کبھی بھی ایسا نہیں کرے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا اسی طرح جیسے فقہاء نے لکھا ہے راستے میں کھانا بھئی، راستے میں کھا رہا ہے یا راستے میں چلتے ہوئے کھا رہا ہے یہ بھی کیا ہے؟ معزز شخص کا فعل نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو عادل وہ ہے جو کبیرہ سے بچتا ہو، صغیرہ پہ اصرار نہ کرتا ہو اور گھٹیا افعال سے بھی اپنے اپ کو بچاتا ہو۔
تو پہلی شرط کیا ہے؟ راوی مسلمان ہو، وعدالتهِ اور دوسری شرط اس کا عادل ہونا ہے یعنی کیا راوی کیا ہو؟ عادل ہو مولانا، وضبطهِ اور اس کے ضبط کی شرط ہے مولانا، ضبط یعنی حفظ، راوی کا حافظہ قوی ہو بھئی، راوی کا حافظہ کیا ہونا چاہیے؟ قوی حافظے والا ہو بھئی، وعقلهِ اور عقل کی شرط یعنی راوی عاقل ہونا چاہیے بھئی۔ راوی کے عقل کیا؟ راوی کیا ہو؟ سمجھدار ہو بھئی۔
تو یہ چار شرطیں راوی میں ہونی چاہئیں مولانا، کون کون سی؟ پہلی شرط کیا ہے؟ راوی مسلمان ہو، دوسرا عادل ہو، تیسرا حافظہ قوی ہو بھئی، حدیث اس نے روایت کی ہے تو قوی حافظہ ہو، اس نے یاد کی ہو، اس کو بھولی نہ ہو، اور چوتھی شرط کیا ہے؟ عاقل ہو، سمجھدار ہو، تو معلوم ہوا کہ کافر ہو یا فاسق ہو یا بچہ ہو تو اس کی حدیث پر عمل کرنا واجب نہیں۔
پانچویں شرط نفسِ حدیث میں ہے، وہ کیا ہے؟ اور آگے عبارت کیا ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ واتصاله بكذلك، جی؟ اسی طرح؟ جی، یہ عبارت درست نہیں بنتی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ واتصاله بكَ یہ پھر ذلكَ تو نہیں ہونا چاہیے، اتصالهِ کی ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ خبرِ واحد کو، وہ خبرِ واحد ملی ہوئی ہو آپ کو من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضور علیہ السلام سے بهذا الشرطِ، اسی شرط کے ساتھ بھئی، عبارت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ذلكَ نہیں ہونا چاہیے یا دوسری صورت یہ فصول الحواشی بھئی، یہ بھی اصول الشاشی کی قدیم عربی شرح ہے، اس کے اندر عبارت جو لکھی ہے اس طرح کر لیجیے آپ عبارت بھئی، اتصالهِ کے بجائے واتصلَ کر دیں، واتصلَ، فعل کر دیں اس کو بھئی، یہ مصدر انہوں نے لکھا ہے اس کو فعل بنا لیں واتصلَ، واتصلَ کر دیں، واتصلَ حمزہ ء وصلی پھر گر جائے گا۔ جی، درست کر لیں عبارت بھئی؟ واتصاله بكَ نہیں، واتصل بكَ، جی اتصال مصدر ہے، مصدر نہ ہو فعل کریں، دوسرا یہ ضمیر کو ختم کریں جو ساتھ ملی ہوئی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو پانچویں شرط یہ ہے نفسِ خبر میں، وہ کیا؟ واتصل بك ذلك من رسول الله عليه الصلاة والسلام بهذا الشرطِ اور پہنچے آپ کو، پہنچے آپ کو ذلك وہ خبر، پہنچے آپ کو وہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بهذا الشرطِ اسی شرط کے ساتھ، یعنی درمیان میں کوئی راوی ساقط نہ ہو انہی شرائط کے ساتھ وہ خبر آپ تک پہنچے یعنی اس کے سارے راوی کیا ہوں؟ مسلمان ہوں، عادل ہوں، عاقل ہوں اور قوی حافظے والے ہوں، کوئی راوی درمیان میں ساقط نہ ہو بھئی۔ چلیے مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔