ومن صور بيان التغيير الاستثناء، ذهب أصحابنا إلى أن الاستثناء
تكلم بالباقي بعد الثنيا كأنه لم يتكلم إلا بما بقي.
إلا بما بقي، هنا "بما" ہونا چاہیے بھئی، "إلا بما بقي"
بما
یہاں ہونا چاہیے إلا اور بقي کے درمیان بھئی
اصلاح کر لیں بھئی
جی جی
بھئی بیان تغییر کی بحث چل رہی ہے
بیان تغییر آپ نے پڑھا کسے کہتے ہیں؟
کہ بیان کے ذریعے، ایسا بیان آنا، ایسا بیان لانا جو ماقبل کلام کے معنیٰ کو کیا کر دے
بدل دے
بدل دے
اور پھر اس کی نظیر بیان کی تھی مصنف رحمہ اللہ نے، بتلایا تھا
کہ بیان تغییر کی نظیر تعلیق تعلیق اور استثناء ہیں۔
تعلیق اور
استثناء ہیں، تعلیق کا مفصل بیان گزر گیا، آج استثناء کے بارے میں بتلائیں گے بھئی، اس کی تفصیل سے آگاہ کریں گے
کہ وہ کیسے بیان تغییر ہے
تو یہ تو آپ کو بتلا چکے ہیں کہ استثناء کیا ہے بیان
تغییر ہے
اس لیے کہ جیسے مثلاً ایک شخص کہتا ہے
لفلان علي ألف
تو یہ کلام کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر کتنے واجب ہونے چاہئیں؟
ایک ہزار واجب ہونے چاہئیں
لیکن آگے ساتھ متصلاً وہ کیا کہہ دیتا ہے إلا ثلاث مائة، مگر تین سو، اس استثناء نے کیا کر دیا؟
جی
ماقبل کے مقتضا کو بدل دیا اور اب اس پر کتنے واجب ہوں گے؟
سات سو واجب ہوں گے
جی
تو کہتے ہیں ومن صور بيان التغيير الاستثناء، اور بیان تغییر کی صورتوں میں سے ایک استثناء بھی ہے
ذهب أصحابنا، ہمارے فقہائے کرام اس بات کی طرف گئے ہیں
بھئی دیکھو
ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا استثناء کے باب میں اختلاف ہے، جیسے تعلیق کے باب میں اختلاف تھا ہمارا، ان کے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع تھی جبکہ ہمارے نزدیک عدم شرط حکم سے مانع
نہیں
اسی طرح استثناء کے باب میں بھی ہمارا اور ان کا اختلاف ہے، مثلاً مولانا ایک شخص کہتا ہے لفلان علي ألف إلا ثلاث مائة
لفلان علي
ألف إلا ثلاث مائة
فلان کے مجھ پر ایک ہزار لازم ہیں مگر تین سو
تو کتنے واجب ہوئے اس پر؟
سات سو ہوئے، سات سو
اب ہمارے نزدیک یہ جو
کلام ہے جو اس نے کہا نہ
کہ
لفلان علي ألف إلا ثلاث مائة
تو ہمارے نزدیک گویا اس نے کلام ہی یوں کیا
کہ لفلان علي سبع مائة
گویا اس نے کلام ہی کس طرح کیا؟
بھئی استثناء کے ذریعے کچھ مقدار اس نے خارج کر دی اور ما بقیہ پر گویا کلام کیا ہے
کیا کیا ہے؟
ہمارے نزدیک جو ما بقیہ استثناء کی صورت میں جو حصہ اس نے نکال دیا وہ نکل گیا اور متکلم نے گویا کہ ما بقیہ پر کلام کیا ہے، گویا اس نے کہا ہی یوں ہے لفلان علي سبع مائة، فلان کے مجھ پر کتنے ہیں؟
سات سو
اس بات میں تو دیکھو ہمارے نزدیک بھی اس شخص پر سات سو آئیں گے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس شخص پر سات سو واجب ہوں گے، لیکن طریقہ میں اختلاف ہے
ضابطہ میں اختلاف ہے، ہمارے نزدیک گویا اس نے تکلم ہی ما بقیہ پر کیا ہے
کس پر کیا ہے؟
ما بقیہ پر تکلم کیا ہے اور کہا ہی یوں ہے کہ لفلان علي سبع مائة
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں
یوں نہ کہو کہ اس نے تکلم بالباقی کیا ہے
بلکہ جب اس نے کہا لفلان علي ألف
تو یہ استثناء سے پہلے یہ کلام تقاضا کر رہا تھا کہ کل کا کل اس شخص پر واجب ہو جائے
کتنا تھا کل کا کل؟
ایک ہزار، تو جب کہا لفلان علي ألف إلا ثلاث مائة
تو یہ إلا ثلاث مائة پہلے کہنے سے پہلے
والا جو کلام ہے، صدر کلام، یہ تقاضا کر رہا تھا کہ کل کا کل اس شخص پر کیا ہو جائے؟
واجب ہو جائے اور ہزار کا ہزار اس پر دین ہو جائے، لازم ہو جائے
لیکن استثناء
تو یہ تقاضا کر رہا تھا، لیکن استثناء نے آ کر اپنے حصے کے اندر اس حکم کو روک دیا
اپنے حصے میں کیا کر دیا حکم کو؟
یہ ماقبل والا کلام تو تقاضا کر رہا تھا کہ سارا کا سارا اس شخص پر واجب ہو جائے
سارا کا سارا اس پر
ہزار کا ہزار واجب ہو جائے، یہ ماقبل کلام یہ تقاضا کر رہا ہے، اب اس پہ ہزار واجب ہوا چاہتا ہے، لیکن استثناء نے اپنے حصے کے اندر، استثناء کتنے میں ہوا تھا؟
کتنے کا ہوا تھا؟ تین سو، استثناء نے تین سو کے اندر آ کر حکم کو روک دیا
حکم تو چاہتا ہے کہ سارا کا سارا اس پر واجب ہو جائے، لیکن استثناء نے کیا کر دیا؟
تین سو کے اندر آ کر یہ استثناء مانع بن گیا، اب وہ تین سو کو واجب نہیں ہونے دے رہا
ماقبل تو چاہتا ہے کیا ہو جائے؟ سارا کا سارا واجب ہو جائے، لیکن استثناء کیا کر رہا ہے؟
تین سو کو روک لیتا ہے اور باقی اس پر کیا ہو جاتا ہے؟
واجب ہو جاتا ہے
صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدر کلام سارے کے سارے کے وجوب کے لیے علت بن جاتا ہے
مگر مستثنٰى جو ہوتا ہے
اس میں
استثناء کی وجہ سے وہ کیا بن جاتا ہے؟
وہ مانع ہوتا ہے حکم سے، وہ اپنے اپنے ما بعد میں حکم کو آنے
تو حکم تو آ رہا تھا پورے ہزار کے ہزار کے اندر وجوب والا حکم آ رہا تھا، لیکن استثناء نے وہ اپنے حصے میں تین سو کے اندر وجوب کو نہیں آنے دیا، روک دیا اور باقی میں وجوب آ گیا، تو کتنا ہو گیا اس پر؟
سات سو
صورت سمجھ میں آئی؟
جبکہ ہمارے نزدیک ایسا نہیں، ہمارے نزدیک تو کہتے ہیں
گویا اس نے کہا ہی یوں ہے لفلان علي سبع مائة، فلان کے مجھ پر سات سو ہیں
صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے مولانا
کہتے ہیں ومن صور بيان التغيير الاستثناء، اور بیان تغییر کی صورتوں میں سے ایک استثناء ہے
ذهب أصحابنا إلى أن الاستثناء، ہمارے فقہائے کرام گئے ہیں اس بات کی طرف کہ استثناء جو ہے
تكلم بالباقي، وہ تکلم بالباقي ہے، باقی پر تکلم ہے
بعد الثنيا أي بعد الاستثناء، کس کے بعد؟
استثناء کے بعد، ثنیا اسم ہے بمعنٰی استثناء کے بھئی
گویا ہمارے نزدیک کیا ضابطہ ہوا بھئی؟
استثناء
گویا کہ استثناء کے ما بعد جو استثناء کے بعد جو باقی ہے صرف اسی پر کیا ہوا ہے؟
تکلم ہوا ہے
كأنه لم يتكلم إلا بما بقي، إلا کے بعد کیا لفظ ہے؟
بما، ہاں جی، یہ کتابت کی غلطی یہاں رہ گیا ہے بھئی
كأنه لم يتكلم، گویا کہ اس نے تکلم ہی نہیں کیا
إلا بما بقي، مگر ما بقیہ کے ساتھ
اس نے صرف ما بقیہ ہی پر تکلم کیا ہے اور کسی پر تکلم کیا ہی
اس نے یہ کہا ہی نہیں ہے لفلان علي ألف، کہ ألف واجب ہو رہے ہوتے اور ما بقیہ کو کیا کر لیتا؟
استثناء روک لیتا، نہیں، گویا اس نے وہ کہا ہی نہیں ہے ألف، اس نے شروع سے ہی گویا کیا کہہ دیا ہے؟
لفلان علي سبع مائة
وعنده، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک
صدر الكلام ينعقد علة لوجوب الكل، کہ صدر کلام جو ہے
وہ علت بن کر منعقد ہوتا ہے سارے کے سارے کے وجوب کے لیے
یعنی صدر کلام کیا ہے؟
وہ علت ہے، کوئی شخص یوں کہہ لے لفلان علي ألف، تو اس پر کتنے واجب ہو جاتے ہیں؟
یہ اس نے اقرار کر لیا، اس پر کتنے واجب ہو جائیں گے؟
تو یہ کلام علت بنتا ہے وجوب ألف کی
کس کی؟
وجوب ألف کی
جی، تو یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدر کلام علت بن کر منعقد ہونا چاہتا ہے
لوجوب الكل، سارے کے سارے کے وجوب کے لیے، وہ چاہتا ہے سارا کا سارا واجب ہو جائے
إلا أن الاستثناء يمنعها من العمل، مگر یہ کہ استثناء اس کو عمل سے
روک دیتا ہے
جی
بمنزلة عدم الشرط في باب التعليق
یہ عدم الشرط جو باب التعلیق میں عدم الشرط تھا اسی کے درجے میں ہے
بھئی تعلیق کے باب میں عدم شرط کیا تھی؟
حکم سے
مانع تھی، شرط ہوتی تھی تو حکم تھا، شرط معدوم تو حکم بھی
معدوم، تو تعلیق کے اندر جیسے عدم شرط حکم سے مانع ہے، یہ استثناء بھی اسی کی طرح ہے
کہ استثناء اپنے ما بعد میں حکم سے
مانع ہے، اپنے ما بعد میں حکم کو آنے
نہیں دیتا
ومثال هذا في قوله عليه السلام، اور اس کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے اندر ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
لا تبيعوا الطعام بالطعام إلا سواء بسواء
نہ بیچو تم غلے کو غلے کے بدلے میں
طعام سے کیا مراد؟ غلہ
نہ بیچو تم غلے کو غلے کے بدلے میں
إلا سواء بسواء، مگر برابر کے بدلے میں برابر
مگر برابر کے بدلے میں؟
برابر
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک دیکھیے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟
لا تبيعوا الطعام بالطعام، یہ صدر کلام ہے
اور صدر کلام کیا چاہتا ہے کہ کل کے کل کو کیا کر دے؟
واجب، تو یہاں آ، حرمت آ رہی ہے، تو یہاں کل کے کل کے حرمت آ گئی
سمجھ میں آیا؟ وجوب تو مثبت میں آئے گا نا
اور یہ تو نہی ہے تو اس میں کیا آئے گی؟ حرمت، تو صدر کلام چاہتا ہے کہ کل کے کل حرام کر دے ماقبل کو
حضور نے فرمایا نہ بیچو غلے کے بدلے غلہ
یہ کلام تقاضا کر رہا ہے کہ غلے کے بدلے غلے کی بیع حرام ہو ہر صورت میں
غلے کو غلے کے بدلے بیچنا ہی جائز
نہ ہو
تو یہ کلام تقاضا کر رہا ہے کہ غلے کی بیع غلے کے بدلے میں مطلقاً علی الاطلاق جائز نہ ہو، حرام ہو مولانا
سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ کلام کیا، کیسا آیا ہے؟
مطلق آیا ہے، نہ بیچو غلے کو
غلے کے بدلے میں، تو علی الاطلاق یہ تقاضا کرتا ہے
غلے کی غلے کے بدلے میں بیع کی حرمت کا
اس کی
حرمت کا تقاضا کرتا ہے
چاہے وہ بیع کس قسم کی ہو؟
قلیل کے اندر ہو، چاہے کثیر کے اندر ہو، چاہے غلہ تھوڑا ہو اس میں بیع ہو رہی ہے، پھر بھی حرام
اگر غلہ زیادہ ہو رہا اور زیادہ ہو
کثیر ہو، پھر بھی
قلیل سے کیا مراد ہے؟ کثیر سے کیا مراد ہے؟
کثیر سے مراد ہے وہ
جس کو کسی پیمانے کے ساتھ ماپا جا سکے
اتنی مقدار ہے کہ اس کا کم از کم ایک پیمانہ تو ہے، ایک پیمانے کے
برابر تو ہے، اس کو ماپا تو جا سکے
اور قلیل سے کیا مراد ہے؟
کہ تھوڑی سی ہے، ایک مٹھی، دو مٹھی ہے، جس کو پیمانے سے ماپا ہی
نہیں جا سکتا، کیونکہ غلے کا اتنا چھوٹا پیمانہ ہے ہی
نہیں
تو، تو یہ علی الاطلاق یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول تقاضا کر رہا ہے کہ غلے کی بیع غلے کے بدلے میں کیا ہونی چاہیے؟
حرام ہونی چاہیے، چاہے غلہ قلیل ہو، چاہے غلہ
کثیر ہو، نیز
چاہے دونوں طرف برابر ہو، ایک طرف بھی پانچ قفیز ہے، پانچ صاع ہے، تو دوسری طرف بھی
پانچ صاع
پانچ صاع ہو، چاہے برابر ہو، پھر بھی کیا ہونا چاہیے؟
غلے کو غلے کے بدلے میں بیچنا جائز نہیں، لا تبيعوا الطعام بالطعام، ساری صورتوں کو شامل ہے، چاہے برابری کے ساتھ بیچا جائے
یہ کلام تقاضا کر رہا ہے، یہ بیع بھی کیا ہونی چاہیے؟ حرام
کمی بیشی کے ساتھ بیچیں، ایک طرف ہیں مولانا پانچ قفیز گندم، دوسری طرف 10 قفیز گندم
یہ بھی کیا، کلام، تو کمی بیشی آ گئی مولانا، برابری نہ آئی
تو یہ علی الاطلاق آیا تھا، تو یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ یہ بھی کیا ہونا چاہیے؟
حرام ہونا چاہیے
اسی طرح
اندازے کے ساتھ ہو مولانا
ایک طرف ایک ڈھیر گندم کا پڑا ہے، دوسرے کا دوسری طرف پڑا ہے، اندازے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
بیع کر رہے ہیں کہ اتنا اندازہ ہے، بس یہ بیچتے ہیں
یہ بھی کیا ہوئی؟
حرام
تو یہ جو حدیث آئی، اس میں صدر کلام لا تبيعوا الطعام بالطعام، یہ صدر کلام تقاضا کرتا ہے
کہ غلے کی بیع غلے کے بدلے میں مطلقاً کیا ہونی چاہیے؟
حرام ہونی چاہیے، چاہے قلیل میں ہو، چاہے کثیر میں ہو، چاہے مساوات کی صورت ہو، چاہے تفاضل کی صورت ہو، اور چاہے
اندازے کے ساتھ ہو مولانا، سمجھ میں آیا؟ مجازفت کے ساتھ
سب صورتیں
تو حکم تو آ رہا تھا ساروں کے اندر حرمت کا، لیکن آگے استثناء آیا إلا سواء بسواء، مگر برابر کے بدلے میں
برابر
تو حرمت سارے کے اندر آ رہی تھی، لیکن استثناء نے اپنے حصے میں آ کر حرمت کو روک دیا
معلوم ہوا وہ بیع جو برابر کے بدلے میں برابر کے ساتھ، یعنی برابری کے ساتھ ہو
اس کے اندر حرمت نہیں آنے دی اس نے، اور باقی ساروں میں کیا آ گئی؟
حرمت آ گئی
تو استثناء نے اپنے حصے میں آ کر حرمت سے حکم کو
روک لیا، تو معلوم ہوا وہ بیع حرام نہیں جس میں کیا ہو؟
برابری
برابری کے ساتھ بیچا جائے، اور وہ بیع اس کے علاوہ غلے کی بیع کی جتنی صورتیں ہیں وہ ساری کیا ہو گئیں؟
حرام ہو گئیں
صورت سمجھ میں آئی؟
تو ماقبل صدر کلام تو تقاضا کر رہا تھا کہ ہر قسم کی بیع غلے کے بدلے جو غلے کی ہے وہ حرام ہو جائے، لیکن استثناء نے اپنے حصے میں آ کر حکم کو
روک دیا، اور کون سے حصے میں روکا وہ کیا ہے؟
برابر کے بدلے میں برابر، یعنی برابری کے ساتھ جب بیچا جائے
صورت مسئلہ سمجھ میں آ گئی؟
جی
لہٰذا ان کے نزدیک اب ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے ساتھ کرنا جائز ہے
ایک شخص ایک مٹھی گندم دے رہا ہے، دوسرا کتنی دے رہا ہے؟
دو مٹھی گندم دے رہا ہے، ان کے نزدیک یہ بیع بھی جائز
کیونکہ یہ بھی حرمت کے تحت داخل ہے
استثناء میں داخل نہیں، کیونکہ استثناء کا تو، میں تو صرف وہ صورت آئی جس میں کیا ہو؟
برابری ہو، اور یہاں برابری ہے؟
ایک مٹھی کے بدلے میں کتنی ہے؟
دو مٹھی ہے، تو لہذا برابری نہیں تو یہ اس حرمت کے تحت باقی ہے۔ اس کی بیع کرنا بھی جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے۔
تو کہتے ہیں: "ومثال هذا بقوله عليه السلام" اس کی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں ہے: "لا تبيعوا الطعام بالطعام إلا سواء بسواء" نہ بیچو تم غلے کو غلے کے بدلے میں مگر برابری کے ساتھ۔ "فعند الشافعي رحمه الله تعالى صدر الكلام انعقد علة لحرمة بيع الطعام بالطعام على الإطلاق" پس امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدرِ کلام علت بن کر منعقد ہوتا ہے غلے کی غلے کے بدلے میں بیع کی حرمت کے لیے، "على الإطلاق" کس طریقے پر؟ اطلاق کے طریقے پر، جو بھی صورت ہے سب کو یہ شامل ہے۔
"وخرج عن هذه الجملة صورت المساواة بالإستثناء" اور نکل گئی اس مجموعے سے، اس مجموعے سے مساوات والی صورت نکل گئی "بالإستثناء" بسبِ استثناء کے۔ "فبقي الباقي تحت حكم الصدر" تو باقی جو ہیں وہ باقی رہ گئے صدرِ کلام کے حکم کے تحت، یعنی وہ اسی کے حکم کے تحت رہے۔ "ونتيجة هذا حرمة بيع الحفنة من الطعام بحفنتين منه" اور اس کا نتیجہ کیا ہے اس اطلاق کا؟ جب علی الاطلاق حرمت ثابت ہوگئی، تو یہ علی الاطلاق حرمت کیا ثابت کرتی ہے؟ "حرمة بيع" یعنی علی الاطلاق ہونا اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ "حرمة بيع الحفنة من الطعام بحفنتين منه" حرام ہوگا بیچنا ایک مٹھی—حفنہ کس کو کہتے ہیں؟ ایک مٹھی—غلے میں سے، دو مٹھی کے بدلے میں، غلے میں سے۔ غلے میں سے ایک مٹھی کی بیع کس کے بدلے میں؟ دو مٹھی کے بدلے میں، اس کی حرمت کا، اس کی بیع کرنا حرام ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"وعندنا بيع الحفنة لا يدخل تحت النص" ہمارے نزدیک ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے جائز ہے۔ ہمارے نزدیک جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وجہ یہ ہے مولانا، کہ ہم کہتے ہیں یہ ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے میں، یہ حدیث کے تحت داخل ہی نہیں ہے مسئلہ۔ یہ مسئلہ حدیث کے تحت داخل ہی نہیں۔ حدیث میں صرف کثیر کے غلے کی بیع کا ذکر ہوا ہے، قلیل کے ذکر، قلیل کی بیع کا ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ یہ حدیث صرف کثیر کی بیع سے متعلق ہے، قلیل کی بیع سے متعلق ہی نہیں ہے۔
اور کثیر وہ ہوتا ہے جس کے، جس کو کسی پیمانے سے ماپا جا سکے بھئی۔ کیوں؟ بھئی کیا ہے، احناف! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ حدیث کے اندر کثیر کا ذکر ہے اور قلیل یہاں پر مراد ہی نہیں؟ احناف جواب دیتے ہیں بھئی، آپ دیکھتے نہیں حدیث کے اندر ذکر آرہا ہے: "إلا سواء بسواء" مگر کس طرح بیچو؟ برابری کے ساتھ بیچو، اور برابری وہی ہوگی جہاں پر اس کو پیمانے سے ماپا جا سکے۔ کس سے ماپا جا سکے؟ بھئی پیمانے سے ہم ماپیں گے تو پتہ چلے گا برابر ہے، پیمانے سے ماپنا ممکن ہی نہ ہو تو پھر؟ سمجھ میں آیا؟
تو یہاں کون سے غلے کی کون سی بیع مراد ہے؟ جو کتنے غلے میں ہو؟ کثیر کے اندر ہو، اور کثیر وہ ہے، جی، دوسرے لفظ بھی سن لیں آگے، کہ کثیر وہ ہے جو معیارِ مسوی کے تحت داخل ہو۔ جو کس کے تحت داخل ہو؟ جی، یہ متن میں بھی آجائے گی یہی عبارت، جو معیارِ مسوی کے تحت داخل ہو۔ معیار کہتے ہیں پیمانے کو، معیار کس کو کہتے ہیں؟ پیمانے کو، اور مسوی کا معنی ہے سَوّٰى يُسَوِّيْ سے اسم فاعل ہے، برابر کرنے والا۔ مسوی کا کیا معنی ہے؟ برابر کرنے والا۔
بھئی برابری کس کے ساتھ کی جاتی ہے؟ پیمانے سے۔ تو وہ پیمانہ جو برابری کرنے والا ہو۔ تو ہمارے نزدیک اس حدیث میں کثیر کی بیع مراد ہے، قلیل کی بیع مراد ہی نہیں، اس کو یہاں ذکر ہی نہیں کیا گیا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ حدیث میں برابری کا ذکر آیا، اور برابری ثابت ہوتی ہے پیمانے کے ساتھ۔ معلوم ہوا وہ غلہ جو معیارِ مسوی کے تحت داخل ہے، یعنی اس برابری کرنے والے پیمانے کے تحت داخل ہے، یعنی اس میں برابری کرنے والے پیمانے کے ذریعے برابری ممکن ہو، وہ مراد ہے، اور وہ تو کتنا ہے، قلیل یا کثیر بھئی؟ کثیر ہے۔
ہاں! اور وہ کتنا ہے؟ نصف صاع ہے کم سے کم۔ کم سے کم کتنا ہے؟ یہ کثیر ہے مولانا، اس لیے کہ شریعت میں کم سے کم مقدار جو واجب کی گئی ہے کسی مسئلے میں، صدقۂ فطر اور فدیہ وغیرہ میں، وہ نصف صاع ہے مولانا۔ کتنی ہے؟ نصف صاع ہے، اس سے کم مقدار مقرر نہیں کی گئی۔ معلوم ہوا اس حدیث کے اندر جس غلے کی بیع کا ذکر ہے، وہ غلہ ہے جو کم از کم کتنا ہو؟ نصف صاع ہو۔ جب نصف صاع ہوگا تو وہ معیارِ مسوی کے تحت داخل ہوا، وہاں پیمائش کرنا اور برابری کرنا ممکن ہے۔ جو اس سے کم ہے، وہاں پیمائش ہی نہیں ہو سکتی، پیمانہ اتنا اس کا پیمانہ ہی نہیں مولانا، وہاں برابری ممکن ہی نہیں۔ تو شرعاً جو ہے کم سے کم کتنا ہے؟ نصف صاع ہے۔
تو یہاں حدیث کے اندر قلیل کی بیع کا ذکر ہے یا کثیر کی بیع کا؟ اور کثیر کتنا ہے؟ جو معیارِ مسوی کے تحت داخل ہو، معیار کے تحت آئے گا، اس کو ماپنا ممکن ہوگا تو ہم برابری کر سکیں گے یا کمی بیشی کر سکیں گے۔ اگر پیمانے کے تحت داخل ہی نہیں تو پھر تو اس میں برابری کرنا یا کمی بیشی کو ثابت کرنا ممکن ہی نہیں ہے، لہذا وہ اس حدیث سے خارج ہے۔ اس حدیث کی بحث سے جو ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے میں ہے، وہ اس حدیث کی بحث سے خارج ہے، کیونکہ اس کے اندر بندہ قادر ہی نہیں ہے کہ تساوی اور تفاضل ثابت کر سکے۔ مساوات برابری اور کمی بیشی کو ثابت کر سکے بندہ اس پر قادر ہی نہیں، اس لیے کہ برابری کو اور کمی بیشی کو کس سے ثابت کیا جائے گا؟ کیْل کے ساتھ، پیمانے کے ساتھ، اور ان، کم سے کم پیمانہ شرعاً کتنا ہے؟ نصف صاع، تو یہ تو اس سے بھی کم ہوئی، معلوم ہوا یہ معیارِ مسوی کے تحت داخل ہی نہیں، تو جب اس کے تحت داخل ہی نہیں اس میں، تو اس کے اندر برابری یا کمی بیشی کو ثابت کرنا بھی ممکن نہیں رہا، لہذا یہ حدیث کے تحت داخل ہی نہیں۔
تو لہذا ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے کیا ہو جائے گی؟ جائز ہو جائے گی، جائز ہو جائے گی۔ کیوں؟ کیونکہ ایک مٹھی اور دو مٹھی کے اندر برابری کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟ یا کمی بیشی کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ جب اس میں برابری کو یا کمی بیشی کو ثابت ہی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ معیارِ مسوی کے تحت داخل ہی نہیں، تو جب اس میں کمی بیشی اور برابری کو ثابت ہی نہیں کر سکتے، تو پھر بھی اگر مراد لیا جائے کہ حدیث میں یہ بھی مراد ہے، قلیل بھی مراد ہے، تو پھر تو یہ نہیِ عاجز بن جائے گی۔ بندہ اس ایک مٹھی دو مٹھی کے اندر مولانا برابری کر سکتا ہے؟ وہ کیْل کے تحت داخل ہے؟ کیْل کے تحت داخل ہی نہیں، تو بندہ اس میں برابری اور کمی بیشی کے ثابت کرنے پر قادر بھی نہیں، جب قادر نہیں تو بندہ اس کے اندر مساوات، تساوی کے ثابت کرنے سے کیا ہوا؟ عاجز ہوا، اور پھر بھی نہی اگر کہیں یہ بھی مراد ہے، تو نہی کس کو آگئی؟ عاجز کو آگئی، اور عاجز کو نہی تو کیا ہے شارع کی طرف سے؟ محال ہے، کیونکہ عاجز کو منع کرنا، نہی کرنا، یہ تو قبیح ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ تو اسی طرح ہے، گونگے کو کہا جائے: "نہ بول"، وہ تو بیچارہ پہلے ہی بولنے پر قادر نہیں ہے، پھر اس کو रोकना، یہ سمجھدار کا کام نہیں، شارع کی جانب سے ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا، قبیح امر ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
اور اسی طرح، تو یہ نہیِ عاجز کی طرح بن جائے گا، یا جیسے مولانا، کیا مثال میں نے ذکر کی؟ گونگے کو کہا جائے: "نہ بول"، یا اندھے کو کہا جائے: "نہ دیکھ"، یا بہرے کو کہا جائے: "نہ سن" وغیرہ بھئی، یا لنگڑے سے کہا جائے: "نہ دوڑ"، سمجھ میں آیا بھئی؟
اللہ! تو یہ قبیح ہے مولانا، نہایت قبیح ہے، شارع کی طرف سے اس کا وجود عاجز کی نہی آجائے، یہ محال ہے مولانا، بحث گزر چکی ہے مولانا۔
"وعندنا بيع الحفنة لا يدخل تحت النص" اور ہمارے نزدیک ایک مٹھی کی بیع نص کے تحت داخل ہی نہیں، حدیث کے تحت۔ "لأن المراد بالمنهي" اس لیے کہ منہِی، وہ چیز، وہ بیع جس سے روکا گیا ہے، منہِی کیا ہے یہاں پر؟ کس سے روکا گیا ہے؟ بیع۔ منہِی، اس لیے کہ منہِی سے مراد "يطقيد بصورة بيع" وہ مقید ہے اس بیع کی صورت کے ساتھ—ترجمہ غور سے سننا بھائی—اس لیے کہ منہِی کی مراد وہ مقید ہے اس بیع کی صورت کے ساتھ، "يتمكن العبد من إثبات التساوي والتفاضل فيه" جس کے اندر قادر بھی ہو بندہ تساوی اور تفاضل کے ثابت کرنے پر۔ "من إثبات التساوي والتفاضل فيه" "فيه" یعنی اس بیع میں، اس بیع کے اندر بندہ تساوی اور تفاضل... جی، تو منہِی سے مراد بیع کی—یہ با محاورہ ترجمہ—منہِی سے مراد بیع کی وہ صورت ہے کہ بندہ اس کے اندر تساوی اور تفاضل کو ثابت کرنے پر قادر بھی ہو۔ لہٰذا وہ صورتیں جن میں بندہ تساوی اور تفاضل کو ثابت کرنے پر قادر نہیں، وہ کیا ہو گئیں اس حدیث کی بحث سے؟ خارج ہو گئیں۔
تو لہٰذا یہ منہِی کیا ہے؟ منہِی سے مراد مقید ہے بیع کی اس صورت کے ساتھ کہ بندہ قادر بھی ہو ثابت کرنے پر تساوی کو اور تفاضل کو اس میں، "كي لا يؤدي إلى نهي العاجز" تاکہ کہیں یہ لے نہ جائے عاجز کی نہی کی طرف۔ کہیں یہ اگر بھئی ہم کثیر کو بھی اس میں کیا کر لیں؟ قلیل کو بھی اس میں کیا کر لیں؟ شامل کر لیں، تو پھر تو بندہ اس میں تساوی اور تفاضل کو ثابت کرنے پر قادر ہی نہیں، اور تو یہ چیز کس کی جانب ہمیں لے جائے گی؟ نہیِ عاجز کی جانب لے جائے گی، اور نہیِ عاجز تو کیا ہے؟ قبیح ہے۔ لہٰذا اب لہٰذا یہاں بیع کی وہ صورتیں مراد لیں گے کہ بندہ ان میں تساوی اور تفاضل کے ثابت کرنے پر قادر بھی ہو، تاکہ یہ نہیِ عاجز کی طرف نہ لے جائے۔
"كي لا يؤدي إلى نهي العاجز" تاکہ یہ نہ لے جائے کہیں نہیِ عاجز کی جانب۔ "فما لا يدخل تحت المعيار المسوي" پس وہ بیع جو داخل نہ ہو معیارِ مسوی کے تحت بھئی، برابر کر دینے والے پیمانے کے تحت داخل نہ ہو، "كان خارجا عن قضية الحديث" وہ صورت خارج ہوگی کس سے؟ حدیث کی بحث سے بھئی، حدیث کی بحث سے۔
"ومن صور بيان التغيير" اور بیانِ تغییر کی صورتوں میں سے "ما" وہ صورت ہے "إذا قال" جب کسی شخص نے کہا "لفلان علي ألف وديعة" ایک آدمی دوسرے کے لیے اقرار کرتا ہے اور کیا کہتا ہے؟ "لفلان علي ألف وديعة" اب یہ "وديعة" بیانِ تغییر ہے۔ یہ "وديعة" کیا ہے بیانِ؟ اس لیے کہ اس نے تو پہلے کہا تھا: "لفلان علي ألف"، "علی" کلمہ لے کر آیا، اور "علی" کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ الزام اور وجوب کے لیے۔ آپ نے پڑھا یا نہیں بھئی؟ کلمہ "علی" کس لیے آتا ہے؟ الزام اور وجوب کے لیے، کیونکہ یہ تعلی اور تفوق کا فائدہ دیتا ہے، اوپر ہونا جس میں معنی پایا جائے، اور اوپر کیا ہوتا ہے بندے پر؟ دین اور قرضہ بندے پر اوپر ہوتا ہے، اس پر سوار ہوتا ہے، اس پر بوجھ ہوتا ہے۔
تو لہٰذا یہ "علی" کا لفظ لے کر آیا، اور یہ "علی" کیا تقاضا کر رہا تھا؟ کہ اس شخص پر ہزار کیا ہونے چاہئیں؟ واجب ہونے چاہئیں، لازم ہونے چاہئیں بطورِ دین کے، کس طور پر؟ بطورِ دین کے، لیکن ساتھ ہی اس نے ملایا تھا ایک اور لفظ بھی "وديعة"، اس "وديعة" نے اس کو پھیر دیا کس کی جانب؟ امانت کی جانب۔ "لفلان علي ألف وديعة" فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں بطورِ امانت کے، بطورِ... تو "لفلان علي ألف" کیا تقاضا کر رہا تھا کہ اس پر کیا ہو جائیں ایک ہزار بطورِ، بطورِ قرض بطورِ دین کے آ جائیں، لیکن یہ "وديعة" یہ بیانِ تغییر ہے، اس نے پھیر دیا کس کو؟ وجوب اور الزام سے کس کی جانب پھیر دیا ہزار کو؟ امانت اور حفظ کی جانب، کہ یہ بطورِ امانت کے ہیں، بطورِ حفاظت کے ہیں، اس پر واجب نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ "وديعة" کیا ہے؟ بیانِ تغییر۔
"ومن صور بيان التغيير" اور بیانِ تغییر کی صورتوں میں سے "ما" وہ صورت ہے "إذا قال" جب کسی شخص نے کہا "لفلان علي ألف وديعة" فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں بطورِ امانت کے، "فقوله علي يفيد الوجوب" پس کہنے والے کا یہ قول "علي" کیا کہنا؟ "فقوله علي" پس کہنے والے کا "علي" کہنا "يفيد الوجوب" یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ وجوب کا اور لزوم الزام کا، "وهو بقوله وديعة غيره إلى الحفظ" اور قائل نے بدل دیا اپنے قول "وديعة" کے ذریعے، "وهو بقوله وديعة غيره إلى الحفظ" اور اس نے اپنے قول "وديعة" کے ذریعے بدل دیا اس کو حفظ کی جانب اور امانت کی جانب بھئی، سمجھ میں آیا؟ الزام اور وجوب سے کس کی جانب بدل دیا؟ کہتے ہیں: "وهو بقوله وديعة غيره إلى الحفظ" اور اس نے اپنے قول "وديعة" کے ذریعے بدل دیا اس کو حفظ اور امانت کی طرح، کس سے؟ وجوب اور الزام سے، یا دین سے، جی۔
اسی طرح
وقولُه أعطيتَني أو أسلَفْتَني ألفًا فلم أقبِضْها من جملةِ بيانِ التغييرِ.
یہ بھی کس میں سے ہے؟ بیانِ تغییر۔ بھئی ایک شخص نے یہ دو مثالیں بناؤ بھئی۔ دو مثالیں أعطيتَني یا أسلَفْتَني۔ ایک میں أعطيتَني لے کر آؤ، ایک میں أسلَفْتَني۔ باقی جملے کو ساتھ ملا دو آخر سے۔
ایک آدمی کہتا ہے أعطيتَني ألفًا فلم أقبِضْها، تو نے مجھے ایک ہزار عطا کیے تھے، پس میں نے ان پر قبضہ نہیں کیا۔ أعطيتَني ألفًا فلم أقبِضْها۔
تو دیکھو اس نے پہلے کہا أعطيتَني، تو نے مجھے کتنے دیے تھے؟ أعطيتَني ألفًا، ایک ہزار دیے تھے۔ یہ اعطاء کا ذکر کیا اور اعطاء تو تام ہی تب ہوتا ہے جب دوسرا اس پر کیا کر لے؟ قبضہ کر لے، کوئی چیز دوسرے کو دو گے تو وہ اس پر قبضہ کرے گا، تب کہتے ہیں کہ اس نے وہ چیز اس کو عطا کر دی ہے، اس کو دے دی ہے۔
تو جب اس نے کہا أعطيتَني ألفًا، تو نے مجھے کتنے دیے؟ ایک ہزار۔ معلوم ہوا یہ قبضہ کر چکا ہے۔ یہ کیا کر چکا ہے؟ لیکن ساتھ ہی اس نے کہہ دیا فلم أقبِضْها، پس میں نے ان پر قبضہ نہیں کیا تھا۔ تو اس نے کیا کر دیا، ماقبل کلام کے مقتضیٰ ہی کو، ماقبل کا کلام تو کیا تقاضا کر رہا تھا، کیا بتلا رہا تھا کہ یہ قبضہ کر چکا ہے اور فلم أقبِضْها کے ذریعے اس نے اس کو بدل دیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اسی طرح ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے أسلَفْتَني ألفًا فلم أقبِضْها۔ سلف کہتے ہیں مولانا بیعِ سلف یعنی اسلم کو۔
بیعِ سلف کا ایک اور کیا نام ہے بھئی؟ بیعِ سلف۔ اور أسْلَفَ یُسْلِفُ إِسْلَاف کے معنی ہیں بیعِ سلف کرنا۔
بیعِ سلف کرنا، صورت سمجھ میں آئی؟
ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے أسلَفْتَني ألفًا، تو نے میرے ساتھ بیعِ سلف کی ایک ہزار کی،
ایک ہزار کی، تو نے میرے ساتھ بیعِ سلف کی ایک ہزار پر فلم أقبِضْها، پس میں نے ان پر قبضہ نہیں کیا۔ اب بھئی اس نے پہلے تو کہا کہ تو نے میرے ساتھ بیع کی کتنے میں؟ ایک ہزار میں، بیعِ سلف کی ایک ہزار پر اور بیعِ سلف آپ جانتے ہیں کس کو کہتے ہیں؟
بیعُ عاجلٍ بعاجلٍ۔
پیسے ابھی دینا، جس مجلس میں عقد ہوا ہے اور مبیع بعد میں ملے گا دو، چار، چھ مہینے کے بعد۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟
بیعُ عاجلٍ بعاجلٍ۔ ابھی جو دے رہے ہیں، وہ کیا دے رہے ہیں؟
کیا دے رہے ہیں؟ ثمن دے رہے ہیں نا، مبیع کب ملے گا آپ کو؟ بعد میں ملے گا اور تو
با کس پر داخل کرتے ہیں؟ ثمن پر یا مبیع پر؟ ثمن پر اور آجل کا معنی ہے مدت کے ساتھ، وہ جو مدت کے ساتھ ہو اور عاجل کا جو معنی جو جلدی ہو، فوری ہو۔ اور فوری ثمن دیے جا رہے ہیں یا مبیع فوری دیا جا رہا ہے؟ ثمن، تو ثمن پہ با داخل کر دو۔ بیعُ آجلٍ بعاجلٍ۔
بیعُ آجلٍ بعاجلٍ۔ عاجل کیا ہے؟ ثمن ہے، اس کے بعد داخل کرو۔
تو ایک شخص اور یاد رکھو بیعِ سلف کے اندر شرط ہے کہ مجلسِ عقد کے اندر ہی ثمن پر قبضہ ہو، اگر مجلسِ عقد میں ثمن پر قبضہ نہیں تو یہ بیعِ سلف صحیح نہیں، فاسد ہے۔
اب ایک آدمی نے دوسرے سے کہا أسلَفْتَني ألفًا، تو نے میرے ساتھ کیا کی تھی؟ ایک ہزار پر بیعِ سلف کی تھی، یہ کلام کیا تقاضا کرتا ہے کہ بیعِ سلف ان کے درمیان منعقد ہو چکی ہے اور معلوم ہوا یہ اسی مجلس کے اندر ثمن حوالے کر چکا ہے۔ معلوم ہوا یہ ہزار دے چکا ہے اور دوسرا اس پر کیا کر چکا ہے؟ قبضہ، کیونکہ بیعِ سلف کے صحیح ہونے کے لیے کیا شرط تھی کہ ثمن پر قبضہ اسی مجلس میں ہو اور اس نے بھی کیا کہا أسلَفْتَني ألفًا، تو نے میرے ساتھ بیعِ سلف کی کتنے میں؟ ایک ہزار میں، معلوم ہوا بیعِ سلف ہو چکی ہے اور یقیناً اس نے ایک ہزار پر کیا کر لیا ہے؟ قبضہ کر لیا ہے، ورنہ اس کے بغیر تو بیعِ سلف ہوتی ہی نہیں،
لیکن آگے جب ساتھ ہی اس نے ملا دیا فلم أقبِضْها، پس میں نے ان ایک ہزار پر قبضہ نہیں کیا، تو ماقبل تقاضا کر رہا تھا کہ ایک ہزار پر قبضہ ہو چکا ہے اور مابعد نے آ کر اس کو کیا کر دیا؟ بدل دیا اس کی جگہ، تو یہ کیا ہے فلم أقبِضْها بيانِ تغيير ہے، صورت سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
وقولُه أعطيتَني أو أسلَفْتَني ألفًا فلم أقبِضْها من جملةِ بيانِ التغييرِ، اور اسی طرح کسی قائل کا یہ قول أعطيتَني أو أسلَفْتَني ألفًا، یہ دو صورتیں میں نے بنا دیں بھئی، فلم أقبِضْها من جملةِ بيانِ التغييرِ، یہ بھی کس میں سے ہے؟
بیانِ تغییر کے میں سے ہی ہے بھئی، جملہ بیانِ تغییر میں سے ہی ہے۔ وکذا لو قال لفلانٍ عليَّ ألفٌ زیوفٌ، اور اسی طرح اگر کسی شخص نے کہا لفلانٍ عليَّ ألفٌ زیوفٌ، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار کھوٹے ہیں۔
ایک ہزار کتنے ہیں؟ کھوٹے ہیں۔
بھئی لفلانٍ عليَّ ألفٌ زیوفٌ، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار کھوٹے ہیں، تو یہ زیوف بیانِ تغییر ہے، یہ زیوف کیا ہے؟ بیانِ تغییر، اس لیے کہ جب اس نے کہا لفلانٍ عليَّ ألفٌ، یہ کیا تقاضا کر رہا تھا؟ ایک ہزار کھرے اس پر واجب ہونے چاہئیں کیونکہ معاملات، لین دین کس کے ساتھ کیا جاتا ہے؟ کھروں کے ساتھ یا کھوٹوں کے ساتھ؟ کھروں کے ساتھ، تو یہ بھی اقرار کر رہا ہے فلاں کا مجھ پر اتنا دین ہے، معلوم ہوا وہ دین کونسا ہوگا؟ کھرے ہوں گے کیونکہ دین، معاملات وغیرہ کس سے کیے جاتے ہیں؟ کھرے، تو ماقبل لفلانٍ عليَّ ألفٌ تقاضا کر رہا تھا کہ اس پر ایک ہزار کھرے ہوں، لیکن زیوفٌ نے ماقبل کلام کے مقتضیٰ کو بدل دیا اور بتلایا کہ وہ جو دین ہے، وہ کھرے نہیں ہے بلکہ کھوٹے ہیں، تو یہ بھی کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے۔
وکذا لو قال لفلانٍ عليَّ ألفٌ زیوفٌ اور اسی طرح اس کو لفلانٍ عليَّ ألفٌ زیوفٌ بھی کس میں سے ہے؟ بیانِ تغییر، وحکمُ بیانِ التغييرِ، بھئی بیانِ تغییر کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں وحکمُ بیانِ التغييرِ بیانِ تغییر کا حکم جو ہے أنّه یصحُّ موصولًا ولا یصحُّ مفصولًا، موصولاً تو صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں ہے، ملا کر کہے تو پھر تو ٹھیک ہے، جدا کر کے کہے تو ٹھیک نہیں ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے أنتِ طالقٌ، پھر شام کو جا کر کہتا ہے إن دخلتِ الدار، تو یہ کیا ہو گیا؟
موصولاً ہوا یا مفصولاً ہوا؟ ملا کر ہوا یا جدا ہوا؟ جدا ہوا، مفصولاً ہوا، لہٰذا یہ صحیح نہیں، ہاں اگر موصولاً کہے أنتِ طالقٌ إن دخلتِ الدار، ملا کر کہہ دیا ذرا، تو اب کیا ہے؟ صحیح ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وحکمُ بیانِ التغييرِ بیانِ تغییر کا حکم یہ ہے أنّه یصحُّ موصولًا کہ وہ موصولاً ملا کر ملایا ہوا تو صحیح ہے ولا یصحُّ مفصولًا لیکن جدا کیا ہوا صحیح نہیں ہے، ثم بعد هذا مسائلُ اختلفَ فيها العلماءُ، جی یہاں سے یہ بات بیان کر رہے ہیں کہ آگے کچھ اور مسائل آنے والے ہیں بھئی،
آگے کچھ ایک بیان کی قسم آئی، بیانِ تبدیل۔
یہ تو آپ نے پڑھا بیانِ تغییر، ایک آئے گا بیانِ تبدیل۔ بیانِ تغییر کا ضابطہ آپ نے کیا پڑھ لیا، حکم کیا ہے؟ موصولاً تو صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں، آگے بیانِ تبدیل آئے گا، اس میں آپ کو بتلائیں گے نہ وہ موصولاً صحیح ہے اور نہ مفصولاً صحیح، دونوں صورتوں میں ٹھیک نہیں۔
اب کہتے ہیں آگے کچھ مسائل آئیں گے، کچھ مسائل ہیں جن میں اختلاف ہے علماء کا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ بیانِ تغییر میں سے ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بیانِ تبدیل میں سے ہیں۔
صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ اور امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ تبدیل میں سے اور اگر ان کو بیانِ تغییر میں سے مانا جائے تو پھر کیا ہوگا؟ موصولاً تو صحیح ہوگا، مفصولاً صحیح اور اگر اس کو بیانِ تبدیل میں سے مانا جائے تو پھر نہ موصولاً صحیح اور نہ مفصولاً صحیح، کہتے ہیں وہ کچھ مسائل آگے آ جائیں گے۔ ثم بعد هذا پھر ان مسائل کے بعد مولانا مسائلُ کچھ اور مسائل ہیں اختلفَ فيها العلماءُ کہ اختلاف کیا ہے اس کے اندر علماء نے، اختلاف کیا علماء نے کہ أنّها من جملةِ بيانِ التغييرِ کہ یہ کس میں سے ہیں؟ جملہ بیانِ تغییر میں سے، بعض یہ فرماتے ہیں، جب جملہ بیانِ تغییر میں سے ہیں فتصحُّ بشرطِ الوصلِ، تو وہ صحیح ہیں کس کے ساتھ؟ شرطِ وصل یعنی موصولاً صحیح ہیں، وصل کی شرط کے ساتھ وہ صحیح ہیں، أو من جملةِ بيانِ التبديلِ یا یہ کس میں سے ہیں؟
جملہ بیانِ تبدیل میں سے ہیں اور تو اگر اس میں سے مانیں فلا تصحُّ، تو وہ موصولاً بھی صحیح نہیں، صورت سمجھ میں آئی؟ وسيتأتي طرفٌ منها في بيانِ التبديلِ، اور ان میں سے بعض مسائل آ جائیں گے بیانِ تبدیل میں، طرف کا معنی کنارہ، کچھ کنارہ یعنی کچھ مسائل آ جائیں گے اور ان میں سے کچھ مسائل کس کے اندر آ جائیں گے؟ بیانِ تبدیل، بیانِ تبدیل میں کچھ مسئلے ذکر ہوں گے مولانا، جس کے اندر اختلاف ہے صاحبین اور امام صاحب کا، امام صاحب کے نزدیک وہ بیانِ تبدیل میں سے ہیں، صاحبین کے نزدیک وہ بیانِ تغییر میں سے، لہٰذا وہ صاحبین کے نزدیک موصولاً تو صحیح، مفصولاً صحیح نہیں، امام صاحب کے نزدیک نہ موصولاً صحیح اور نہ مفصولاً صحیح۔
فصلٌ وأمّا بيانُ الضرورةِ فمثالُه في قولِهِ تعالى، یہ آسان بحث ہے مولانا۔
بیانِ ضرورت بھئی،
بیانِ ضرورت وہ ہے مولانا، یہ لکھ لیجیے بھئی۔
جلدی لکھیے بھئی۔
بیانِ ضرورت وہ ہے جو متکلم کے کلام سے
بیانِ ضرورت وہ ہے
بیانِ ضرورت وہ ہے
جو متکلم کے کلام سے
ضرورۃً اور اقتضاءً مفہوم ہو۔
جو متکلم کے کلام سے ضرورۃً اور اقتضاءً مفہوم ہو۔
متکلم کے کلام میں اس کا ذکر نہ ہو۔
متکلم کے کلام میں اس کا ذکر نہ ہو۔
لکھ لیا بھئی؟ بیانِ ضرورت کس کو کہتے ہیں؟
جو متکلم کے کلام سے ضرورۃً اور اقتضاءً مفہوم ہو، متکلم کے کلام میں اس کا ذکر نہ ہو۔
بھئی آسان مثالیں ہیں۔
آسان مثالیں ہیں۔ دیکھیے بھئی!
پہلے سمجھ لو۔
میں کہتا ہوں یہ جو ایک ہزار روپیہ ہے، یہ زید اور بکر کا ہے، دونوں کا ہے۔ یہ ایک ہزار روپیہ کس کا ہے؟ زید اور بکر کا ہے، بکر کے اس میں سے ساڑھے چار سو روپے ہیں۔
بکر کے کتنے ہیں؟ ساڑھے چار سو روپے ہیں، بس میں نے بکر کا حصہ بیان کر دیا، دوسرا کون تھا؟
زید، میں نے زید کا حصہ بیان کیا؟ لیکن آپ خود بخود کیا سمجھ گئے کہ زید کا کتنا حصہ ہے؟ ساڑھے پانچ سو بھئی، کتنا ہے؟ صورت سمجھ میں آئی یا نہیں آئی؟ یہ بیانِ ضرورت ہے بس۔ میں نے کوئی کہا کہ زید کا ساڑھے پانچ سو ہے؟ میں نے اپنے کلام میں ذکر کیا؟ متکلم نے تو اپنے کلام میں ذکر نہیں کیا کہ زید کا ساڑھے پانچ سو ہے، لیکن آپ اقتضاءً اور ضرورۃً کلام سے کیا ہے؟ سمجھ گئے اس کو، آپ نے اس کے مفہوم کو اخذ کر لیا، اس لیے کہ جی پیسے کتنے کے ہیں؟ دو کے تو ہیں اور دو میں سے جب ایک کا حصہ بیان ہو گیا تو لازمی بات ہے ما بقیہ کس کا ہوگا؟ دوسرے کا ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ بس یہ بیانِ ضرورت ہے بھئی، آگے آسان آسان مثالیں ہیں۔
وأمّا بيانُ الضرورةِ، اور باقی بیانِ ضرورت جو ہے، تعریف مصنف نے ذکر نہیں کی مولانا، آسان تھی، اس لیے ذکر نہیں کی، میں نے آپ کو لکھوا دی۔ باقی بیانِ ضرورت جو ہے فمثالُه في قولِهِ تعالى، اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے وورِثَه أبواهُ فلأُمِّهِ الثُلُثُ۔
اور وارث ہوا اس میت کے
أبواهُ اس کے والدین، میت کے وارث کون ہوئے؟ اس کے میت کے اگر وارث صرف اس کے والدین ہیں اور کوئی بھی نہیں۔
اور کوئی بھی
کوئی بھی نہیں۔
جی، یہ ترجمہ نہ کریں، وورِثَه أبواهُ، اور اس کے والدین اس کے وارث ہوں گے، اس کے والدین کیا ہوں گے اس کے؟ اس کے والدین اس کے وارث ہوں گے، بھئی میت، ایک شخص مر گیا، اس کا اور کوئی وارث نہیں ہے، صرف کون زندہ ہیں؟ والدین زندہ ہیں، تو اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں؟ وورِثَه أبواهُ، اس کے والدین کیا ہوں گے اس کے؟ وارث ہوں گے، معلوم ہوا سارا ترکہ کن کو ملے گا؟
کیا ذکر ہوا؟ اس کے والدین اس کے وارث ہوں گے، سارا ترکہ کن کو ملے گا؟ والدین کو، پھر آگے اللہ فرماتے ہیں فلأُمِّهِ الثُلُثُ، اس کی ماں کے لیے ایک ثلث ہے، تیسرا حصہ ماں کا ہے، باپ کا حصہ بیان نہیں ہوا،
وہ خود بخود کیا ہے؟ سمجھ میں آ گیا آپ کو، معلوم ہوا ما بقیہ کس کا ہے؟ باپ کا ہے یعنی معلوم ہوا دو ثلث باپ کے ہیں، کل تین ثلث ہیں نا، ایک تیسرا حصہ ماں کا ہے تو باقی کتنے بچ گئے؟ دو، شریک دو ہی تھے، ایک کا حصہ بیان ہو گیا، لازمی بات ہے ما بقیہ کس کا ہوگا؟ دوسرے کا ہوگا بھئی۔
تو دیکھیے أوجبَ الشِرکةَ بينَ الأبوينِ، ثابت کیا اللہ تعالی نے شرکت کو والدین کے بیچ کہ والدین اس کے ترکے میں کیا ہیں؟
شریک ہیں، صرف وہی شریک ہیں اور کسی کا کوئی حصہ نہیں، ثم بَيَّنَ نصيبَ الأُمِّ، پھر بیان کر دیا ماں کے حصے کو فصارَ ذلكَ بيانًا لنصيبِ الأبِ، تو ایک حصہ بیان کرنا یہ بیان بن جائے گا یا یوں کہیں، وہ ماں کے حصے کو بیان کرنا یہ باپ کے حصے کے لیے کیا بن جائے گا؟ بیان بن جائے گا، ماں کے لیے جب ایک ثلث بیان ہو گیا تو باپ کا حصہ بھی اس سے کیا ہوا؟ یہ اس کے لیے بھی بیان بن گیا، پتہ چلا وہ دو ثلث ہے، وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں إذا بَيَّنَ نصيبَ المضارِبِ وسکتَ، یاد رکھو عقدِ مضاربت آپ جانتے ہیں۔ عقدِ مضاربت کس کو کہتے ہیں؟ کہ مال ایک کا ہو، محنت دوسرے کی ہو، ایک شخص پیسے لگاتا ہے، دوسرا کاروبار کرتا ہے اور پھر نفع جو ہے آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، جتنے پر فیصلہ ہوا تھا کہ نصف نصف لیں گے یا ایک کو ایک ثلث ملے گا، دوسرے کو دو ثلث ملیں گے، جتنا طے ہوا ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقدِ مضاربت کہتے ہیں، اس میں یاد رکھو جو مال لگانے والا ہے، جس کا پیسہ ہے، اس کو کہتے ہیں رب المال، کیا کہتے ہیں؟ اور جو محنت کرنے والا ہے، اس کو کہتے ہیں مضارب، کیا کہتے ہیں؟ اب یاد رکھ لو، عقدِ مضاربت کے اندر
نفع کے اندر شرکت ضروری ہے، دونوں کا حصہ متعین ہونا ضروری ہے، دونوں کا حصہ متعین ہونا اب دو اشخاص نے، دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ مضاربت کیا،
آپ انہوں نے آپس میں ایک کا حصہ تو بیان کر دیا، دوسرے کا حصہ بیان نہیں کیا، تو کہتے ہیں پھر بھی عقدِ مضاربت صحیح ہو جائے گا، ایک کا حصہ جب بیان کر دیا تو یہ ایک کے حصے کو بیان کرنا یہی بیان بن جائے گا کس کے لیے؟ دوسرے کے خود بخود دوسرے کا حصہ بھی سمجھ میں آ جائے گا، مثلاً مضارب نے حصہ کیا بیان کیا دونوں نے؟ دونوں نے یہ طے کیا کہ جو مضارب ہے، جو محنت کرنے والا ہے، اس کو نصف ملے گا،
بس،
اور رب المال کا حصہ ذکر، لیکن اس سے خود بخود پتہ چل گیا کہ رب المال کو بھی کتنا ملے گا؟ نصف باقی جو بچا ہے، وہ اس کو ملے گا یا مولانا
یہ حصہ رب المال کا حصہ مقرر کیا کہ رب المال کو کتنا ملے گا؟ اس کو مثلاً ایک ثلث ملے گا، کتنا ملے گا؟
ایک ثالث ملے گا، اور مضارب کا حصہ بیان نہیں کیا، لیکن یہ ایک کا حصہ بیان کرنا، یہ بیان بن گیا کس کے لیے؟ دوسرے کے حصے کے لیے۔ معلوم ہوا مضارب کو کتنے ملیں گے؟ دو ثالث ملیں گے۔ اس کو سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھی طرح؟
وعلی هذا قلنا اسی بناء پر ہم کہتے ہیں إذا بينا جب بیان کر دیا ان دونوں نے، یعنی وہ رب المال اور مضارب نے نصيب المضارب، کس کے حصے کو بیان کیا؟ صرف مضارب کے حصے کو بیان کیا، وسکتا اور وہ دونوں خاموش رہے عن نصيب رب المال رب المال کے حصے سے، اس کو ذکر نہیں کیا، صحت الشركة، شرکت پھر بھی صحیح ہے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ ایک کا حصہ تو متعین کیا ہے، دوسرے کا متعین ہی نہیں کیا۔ بھئی ایک کا جو متعین کیا تو دوسرے کا خود بخود کیا ہو گیا؟ متعین، کیونکہ دو ہی تو ہیں۔
وكذلك لو بينا نصيب رب المال اسی طرح اگر دونوں نے بیان کر دیا رب المال کے حصے کو وسکتا عن نصيب المضارب اور خاموش رہے مضارب کے حصے سے، كان بيانا تو یہ بھی کیا بن جائے گا اس کے لیے؟ بیان، ایک کا بیان کرنا دوسرے کے لیے بیان بن جائے گا۔ وعلی هذا حكم المزارعة اور اسی پر کس کا حکم ہے؟ مزارعت کا حکم ہے۔ مزارعت آپ جانتے ہیں مولانا! زمین وغیرہ کو بٹائی پر دینا۔ زمین ایک کی ہے، محنت دوسرے کی ہے، اور پیداوار میں دونوں شریک ہوں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مزارعت۔ مزارعت کے اندر بھی دونوں کا حصہ متعین ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہاں پر بھی اب اگر ایک کا حصہ متعین کر دیا جاتا ہے، تو دوسرے کا حصہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ متعین، لہذا عقدِ مزارعت صحیح ہو جائے گا۔ آپ یہ نہ کہیں کہ ایک کا حصہ تو بتلا دیا، دوسرے کا حصہ تو بتلایا ہی نہیں، بلکہ کیونکہ ہیں ہی کتنے؟ دو۔ جب ایک کا بیان ہو گیا تو خود بخود دوسرے کا بھی متعین ہو گیا۔
وعلی هذا حكم المزارعة اور اسی پر ہے مزارعت کا حکم بھی۔ وكذلك لو أوصى لفلان ایک شخص ہے مولانا! وہ مرنے لگا، اس نے وصیت کی ہے بھئی۔ مر گیا اس نے وصیت کی تھی کہ میرے ترکے میں سے ایک لاکھ زید اور عمر کو دے دیا جائے۔ یاد رکھو وصیت زیادہ سے زیادہ ثالث مال میں ہو سکتی ہے۔ کتنے؟ ثالث مال میں سے، باقی وارثوں کا مال ہو گا دو ثالث۔ ایک آدمی تین لاکھ جائیداد چھوڑ کر مرا ہے، اب اس میں سے زیادہ سے زیادہ جو وہ وصیت کر سکتا ہے ایک لاکھ کی کر سکتا ہے۔ باقی دو لاکھ جو ہے ہر حال میں کس کو ملنا ہے؟ وارثوں کو۔ تو اگر وہ کسی کو دینا بھی چاہتا ہے، وصیت کر کے مرنا وصیت کرنا چاہتا ہے، وصیت کر کے مرتا ہے، تو زیادہ سے زیادہ کتنے کی کر سکتا ہے؟ اگر ایک لاکھ سے اس نے زیادہ کی وصیت کی تو وہ وصیت باطل ہے۔ اس نے کہا میرے مرنے کے بعد تین لاکھ زید اور عمر کو دے دینا، بھئی تیرے تو کل ترکہ ہی تین لاکھ ہے۔ معلوم ہوا تو اپنے وارثوں کو محروم کرنا چاہتا ہے، ان کا حصہ تو اللہ نے مقرر کیا ہے، تم ان کو محروم نہیں کر۔ زیادہ سے زیادہ ثالث ایک لاکھ میں وصیت نافذ کریں گے، وہ ہم ان کو دے دیں گے، باقی دو لاکھ جن کا ہو جائے گا وارثوں کا، ماں باپ ہیں، بیوی ہے، بچے ہیں وغیرہ بھئی۔
تو بھئی ایک شخص ہے اس نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد ایک لاکھ کس کو دے دینا؟ زید اور عمر کو دینا، اور یاد رکھنا عمر کو 30 ہزار دینا، عمر کو کتنا دینا؟ 30 ہزار، تو خود بخود پتہ چل گیا کہ زید کو کتنا دینا ہے؟ 70 ہزار دینا ہے۔ وكذلك لو أوصى لفلان وفلان اسی طرح اگر کسی نے وصیت کی فلاں اور فلاں کے لیے بألف کتنے کے ساتھ؟ ایک ہزار، ایک ہزار دے دینا ان دونوں کو، ثم بين نصيب أحدهما پھر اس نے ان دونوں میں سے ایک کے حصے کو بیان کر دیا، كان ذلك بيانا لنصيب الآخر تو یہ ایک کے حصے کو بیان کرنا یہ بیان بن جائے گا دوسرے کے حصے کے لیے۔ ولو طلق إحدى بھئی ایک آدمی ہے، اس نے اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دی لیکن تعیین نہیں کی۔ اس نے یوں کہا إحداكما طالق، دونوں بیویاں کھڑی تھیں اس نے کیا کہا؟ إحداكما طالق، تم دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے، اب اس نے کوئی تعیین کی کس کو طلاق ہے اور کس کو طلاق نہیں ہے؟ تعیین نہیں کی، لیکن بعد میں وہ ایک کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے۔ کہتے ہیں اس کا صحبت کرنا یہ بیان ہے، کیا ہے؟ معلوم ہوا اس نے طلاق کس کو دی ہے؟ دوسری کو دی ہے۔ اس لیے مطلب اور طلاق بائن دی ہے، یہ یاد رکھنا، کون سی دی ہے؟ طلاق بائن، تو ایک کو اس نے جب طلاق بائن دی ہے، دونوں میں سے ایک کو اس نے طلاق بائن دی ہے، معلوم ہوا ایک مطلقہ بائنہ ہے۔ ایک کیا ہے مطلقہ بائنہ؟ اور ایک کے ساتھ وہ کیا کر رہا ہے صحبت، معلوم ہوا یہ وہ مطلقہ بائنہ نہیں، کیونکہ مطلقہ بائنہ کے ساتھ تو صحبت کرنا حرام ہے، اور ایک مومن ایسا نہیں کر سکتا کہ حرام کا ارتکاب کرے۔ کیا کرے؟ حرام کا ارتکاب کرے، ایک مومن کی شان نہیں ہے کہ وہ کیا کرے؟ حرام کا ارتکاب کرے، ایک سچا پکا مومن یقیناً حرام سے، تو یہ اس کا یہ فعل کرنا ایک کے ساتھ صحبت کرنا یہ بیان ہے کہ اس نے طلاق کس کو دی ہے؟ دوسری، مطلقہ بائنہ وہ ہے۔
ولو طلق إحدى امرأتيه اگر کسی نے طلاق دے دی اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو، ثم وطئ إحداهما پھر اس نے صحبت کر لی، جماع کر لیا ان دونوں میں سے ایک کے ساتھ، كان ذلك بيانا للطلاق في الأخرى تو یہ وطی کرنا بیان ہو گا دوسری میں طلاق کے لیے، کہ طلاق کس کو ہوئی ہے؟ دوسری کے لیے۔ بخلاف الوطي في العتق المبهم عند أبي حنيفة ہاں، عتق مبہم میں اختلاف ہے، وہ اس طرح نہیں ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں وہ بھی اسی طرح ہے۔ بھئی ایک شخص ہے اس کی دو باندیاں تھیں، اس نے کیا کہا؟ إحداكما حرة، تم دونوں میں سے ایک آزاد ہے، مبہم طریقے پر ایک کو آزاد کیا، تعیین نہیں کی۔ بعد میں اس نے ان میں سے ایک کے ساتھ وطی کر لی۔ ایک کے ساتھ کیا کر لی؟ صحبت، صاحبین فرماتے ہیں یہ بھی بیانِ ضرورت ہوا اور پتہ چل گیا کہ اس والی کو نہیں آزاد کیا بلکہ کس کو آزاد کیا ہے؟ دوسری کو آزاد کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا یہ اب بھی اس کی باندی ہے، کیونکہ اگر اس کو آزاد کر دیا پھر تو وہ اجنبیہ بن گئی اور اجنبیہ کے ساتھ تو نکاح کرنا وطی کرنا اس کے لیے جائز، مسلمان کے لیے حرام تھا۔ تو اس کے ساتھ وطی کرنا اس سے ثابت ہوا کہ اس نے اس والی کو آزاد نہیں کیا بلکہ دوسری والی کو آزاد، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اس کے مبہم کے اندر ایک کے ساتھ وطی کرنا یہ بیان نہیں بن سکتا دوسری کی حریت کے لیے، اس لیے کہ باندی کے ساتھ وطی اور جماع دو وجہ دو سبب سے ہو سکتا ہے بھئی، کتنے سبب سے؟ دو سبب سے، ایک تو یہ کہ وہ شخص کیا کر رہا ہے؟ جماع کر رہا ہے، ہو سکتا ہے واقعی ایسا ہو، اس نے کیا کیا ہو؟ دوسری کو جی؟ دوسری کو آزاد کیا ہے اور اس ایک کے ساتھ کیا کیا اس نے؟ یہ چونکہ ابھی بھی باندی ہے اس لیے اس کے ساتھ جماع کیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن تو یہ بھی تو ممکن ہے کہ اس کے ساتھ جو جماع کر رہا ہے وہ ملکِ یمین کے اعتبار سے نہیں کر رہا بلکہ ملکِ نکاح کے اعتبار سے کر رہا ہے، یعنی اس ایک کو اس نے آزاد اسی والی کو کیا تھا اور آزاد کرتے ہی فوراً پھر اس کے ساتھ نکاح کیا اور اب جو وطی کر رہا ہے کس کی وجہ سے کر رہا ہے؟ ملکِ نکاح، تو یہاں پر جہتِ ملک متعین نہیں ہو رہی کہ پتہ نہیں ملکِ یمین کی وجہ سے وطی کر رہا ہے یا ملکِ نکاح کی جہت سے وطی کر رہا ہے، یہاں تو دونوں صورتوں کا امکان ہے، لہذا اب یہاں پر ایک کے ساتھ وطی کرنے سے دوسری کی حریت کے لیے یہ بیان نہیں بنے گا۔ دیکھیے:
بخلاف الوطي في العتق المبهم عند أبي حنيفة رحمه الله برخلاف وطی کے عتقِ مبہم کے اندر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، لأن حل الوطي في الإماء يثبت بطريقين اس لیے کہ وطی کا حلال ہونا باندیوں کے اندر یہ ثابت ہوتا ہے دو طریقوں سے، فلا يتعين جهة الملك لہذا ملک کی جہت متعین نہیں ہو گی، باعتبار حل الوطي وطی کے حلال ہونے کے اعتبار سے۔ وطی کے حلال ہونے کے اعتبار سے ملک کی جہت متعین نہیں ہوئی، پتہ نہیں یہ ملکِ یمین کی وجہ سے جہت سے وطی کر رہا ہے یا ملکِ نکاح کی جہت سے وطی کر رہا ہے۔ چلیے مولانا، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔