فصلٌ
و أَمَّا بَيَانُ الْحَالِ فَمِثَالُهُ فِيمَا إِذَا رَأَى صَاحِبُ الشَّرْعِ أَمْراً مُعَايَنَةً فَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ كَانَ سُكُوتُهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ أَنَّهُ مَشْرُوعٌ.
وَالشَّفِيعُ إِذَا عَالَمَ بِالْبَيْعِ وَسَكَتَ كَانَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ بِأَنَّهُ رَاضٍ بِذَلِكَ.
بیان کی پانچویں قسم بیانِ حال ہے جو آج ہم پڑھیں گے بھئی۔
بیانِ حال کی تعریف مصنف نے نہیں کی کیونکہ بڑی واضح اور ظاہر سی بات تھی، لیکن آپ لکھ لیجیے بھئی بیانِ حال کسے کہتے ہیں۔
بیانِ حال وہ سکوت ہے—سکوت: سین، کاف چھوٹا ہے، تاء دو نقطوں والی؛ سین چھوٹا، کاف اور تاء دو نقطوں والی—بیانِ حال وہ سکوت ہے جو متکلم کے حال کی دلالت کی وجہ سے، جو متکلم کے حال کی دلالت کی وجہ سے بیان بن جائے۔
السُّكُوتُ فِي مَوْضِعِ الْبَيَانِ بَيَانٌ.
السُّكُوتُ فِي مَوْضِعِ الْبَيَانِ بَيَانٌ.
السُّكُوتُ فِي مَوْضِعِ الْبَيَانِ بَيَانٌ.
سمجھ میں آیا بھئی؟ بیانِ حال کس چیز کا نام ہے؟ سکوت خاموشی کا نام ہے۔ ایک مقام ہے وہ تقاضا کر رہا ہے بیان کا، لیکن متکلم اس موقع پر خاموش رہتا ہے، اس کی یہ خاموشی ہی بیان ہے۔ اس کی یہ خاموشی ہی بیان ہے۔ ہاں، تو بعض اوقات مقام ہوتا ہے بیان کا لیکن بیان کی وہاں حاجت ہوتی ہے، ضرورت ہوتی ہے، لیکن متکلم خاموشی اختیار کرتا ہے اور اس کی یہ خاموشی ہی کیا بن جاتی ہے؟ بیان بن جاتی ہے۔ اس کا حال دلالت کرتا ہے، اس کا حال بتلا دیتا ہے کہ یہ خاموشی کیا ہے؟ بیان ہے۔ بھئی، اس کا حال بتلاتا ہے، اس کا حال دلالت کرتا ہے کہ یہ خاموشی کیا ہے؟ بیان ہے۔ مثالوں سے بات خوب واضح ہو جائے گی۔
مثال اس کی صاحبِ کتاب ذکر کریں گے کہ جیسے صاحبِ شریعت یعنی پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کے سامنے کوئی کام ہوا ہو اور پیغمبر نے اس پر خاموشی اختیار کر لی ہو، اس پر ٹوکا نہ ہو، اس پر روکا نہ ہو، تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ کام جائز ہے۔ یہ کام کیا ہے؟ جائز ہے۔
پیغمبر کے سامنے صحابہ کوئی کام کریں، کوئی معاملہ کریں اور پیغمبر خاموش رہے، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ کام کیا ہے؟ صحیح ہے، جائز ہے۔ اگر یہ کام جائز نہ ہوتا تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ پیغمبر نہ بولتے، پیغمبر کا تو کام ہی کیا ہے کہ وہ اصلاح کریں، نا حق و ناجائز کام سے روکیں اور جائز کا حکم دیں۔ اور پیغمبر کے سامنے ایک کام ہو رہا ہے اور پیغمبر نے صحابہ کو اس پر ٹوکا نہیں، اس پر روکا نہیں، منع نہیں کیا، معلوم ہوا یہ کام جائز تھا اسی لیے پیغمبر نے نہیں روکا، اگر ناجائز ہوتا تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پیغمبر کی ذات وہاں پر خاموش رہتی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو پیغمبر کے سامنے کام ہوا ہو اور پھر بھی پیغمبر نہ ٹوکیں، خاموش رہیں، سکوت اختیار کر لیں، تو پیغمبر کا یہ سکوت کیا ہے؟ بیان ہے بھئی، کیا ہے؟ بیان ہے۔ ان پیغمبر کا حال دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ یہ کیا ہے، ان کی خاموشی کیا ہے؟ بیان ہے اور اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا مولانا کہ پیغمبر کے سامنے کوئی ناجائز کام ہو اور پیغمبر نہ ٹوکیں بھئی۔
اس کو کہتے ہیں تقریرِ نبی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقریرِ نبی۔ آگے سنت کی بحث میں بھی یہ بات آ جائے گی، ابھی بھی یہ بات سمجھ لیں کہ پیغمبر کے سامنے کوئی کام ہو اور پیغمبر اس سے نہ ٹوکیں، یہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہوتی ہے اور اس کو تقریرِ نبی کہتے ہیں، تقریرِ نبی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تقریرِ نبی بھئی۔
چنانچہ حضرت شیخِ ترمذی رحمہ اللہ عجیب بات فرمایا کرتے تھے بھئی۔ وہ فرماتے تھے کہ جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے، انسان حیوان اور ناطق سے مرکب ہے، دو چیزوں سے مرکب ہے۔ لیکن پیغمبر کی جو ہے فطرت میں ایک تیسری چیز بھی ہوتی ہے، اس کی ذات اور حقیقت میں ایک تیسری چیز بھی داخل ہوتی ہے اور وہ یہ کہ وہ نا حق کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا، ناجائز کام پر وہ خاموشی اختیار نہیں کر سکتا بھئی۔
تو یہ پیغمبر کی حقیقت میں داخل ہوتی ہے، اس کی ذات میں داخل ہوتی ہے، وہ ناجائز کو برداشت کر ہی نہیں سکتا، جیسے ہی ناجائز دیکھے گا فوراً اس کو کیا کر دے گا؟ ٹوکے گا، اس سے منع کرے گا اور روک دے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کو تقریرِ نبی کہتے ہیں اور پھر عجیب دلیل ذکر فرمائی مولانا جو کہیں دنیا کی کتابوں کے اندر نہیں ملتی، الہامی، الہامی دلیل ذکر کی مولانا۔ قرآن سے اس کی بھئی، قرآن میں بھئی وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام والا واقعہ آتا ہے بھئی، کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ چلے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت کا علم دیا تھا اور حضرت خضر علیہ السلام کو اللہ نے تکوینی علم دیا تھا بھئی، تکوینی علم بھئی۔ جی۔
چنانچہ ان حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ چلے اور وہ واقعہ مشہور قرآن میں بھی آتا ہے، آپ نے سنا ہے کہ ایک جگہ پر پہنچے، کشتی میں سفر کرنے لگے دریا میں، تو حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کے ایک تختے کو اکھاڑ لیا بھئی، توڑ دیا ایک تختے کو بھئی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً ٹوکا کہ "یہ آپ نے کیا کیا؟ ان بیچاروں کی کشتی کیا کر دی آپ نے؟ خراب کر دی۔" پھر آگے گئے ایک بستی کے اندر بھائی—جی—تو آپ نے کشتی کو ٹوک دیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے پہلے وعدہ لیا تھا کہ "آپ نے بولنا نہیں ہے بھئی۔" حضرت خضر علیہ السلام نے کہا بھئی: "آپ نے تو کہا تھا میں بولوں گا نہیں۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ: "میں بھول گیا تھا۔"
پھر آگے چلے، ایک بستی کے اندر پہنچے، وہاں حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کر ڈالا بھئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر بول اٹھے: "یہ کیا کیا آپ نے ایک معصوم جان کو ختم کر دیا؟" حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ: "آپ نے کہا نہیں تھا کہ آپ بولیں گے نہیں؟" پھر وہ خاموش ہو گئے کہ "میں بھول گیا تھا۔"
پھر آگے ایک اور بستی کے اندر چلے، پہنچے بھئی، بستی والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا بھئی۔ تو پھر وہاں ایک دیوار تھی، ٹیڑھی تھی، گرنے والی تھی اس بستی کی، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو گرایا اور پھر دوبارہ ساری کو سیدھا تعمیر کر دیا بھئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر بولے کہ: "یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ ہماری مہمان نوازی نہیں کر رہے، ہمیں کھانا وغیرہ نہیں دے رہے یہ پوری بستی والے، اور آپ ان کی دیوار کو سیدھا کر رہے ہیں! آپ کو اجرت لینی چاہیے، کیا لینی چاہیے؟ ان سے اجرت تو لینی چاہیے بھئی۔"
تو دیکھا؟ تین جگہ ٹوکا بھئی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے، اور ہر جگہ فرماتے کہ: "میں بھول گیا تھا۔" حضرت شیخِ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی، بھولے ہو سکتا ہے پہلی جگہ بھولے ہوں، تینوں جگہ بھولیں ایسا تو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ تقریرِ نبی کی مثال ہے کیونکہ بظاہر یہ کام ناجائز تھے مولانا، اور پیغمبر تو ناجائز کام کو دیکھ کر کبھی خاموش رہ ہی نہیں سکتا۔ سمجھ میں آیا؟
تو لہٰذا وہ تینوں مرتبہ بول اٹھے بھئی، یہ تقریرِ نبی کی مثال وہ ذکر کیا کرتے تھے قرآن سے بھئی۔
تو دیکھیے: وَأَمَّا بَيَانُ الْحَالِ—باقی بیانِ حال جو ہے—فَمِثَالُهُ فِيمَا—تو مثال اس کی بھئی اس صورت میں—إِذَا رَأَى صَاحِبُ الشَّرْعِ أَمْراً مُعَايَنَةً—جب دیکھا صاحبِ شریعت یعنی پیغمبر نے کسی کام کو، کسی معاملے کو معاینہً یعنی مشاہدہً، بھئی مشاہدہ کرتے ہوئے بھئی، مشاہدہ کرتے ہوئے یعنی ان کے سامنے کوئی کام ہوا—فَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ—پس منع نہیں فرمایا اس کام سے—كَانَ سُكُوتُهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ—تو ان کا سکوت اس بیان کے درجے میں ہوگا کہ—أَنَّهُ مَشْرُوعٌ—کہ یہ کیا ہے؟ مشروع ہے۔ تو ان کا خاموش رہنا اس بیان کے درجے میں ہے کہ یہ کام کیا ہے؟ مشروع ہے یعنی جائز ہے، یہ کام کیا ہے؟ جائز ہے۔
بیانِ حال کا پتہ چلا بھئی سب کو؟ کس چیز کا نام ہے؟ سکوت خاموشی کا نام ہے جو بیان بن جائے متکلم کے دلالتِ حال کی وجہ سے۔
اسی طرح شفعہ کے بارے میں آپ جانتے ہیں بھئی۔ شریعت نے حق دیا ہے کسی بھی شخص کو کہ جب اس کے شریک ساتھیوں میں سے، کوئی ایسی زمین ہے جس میں وہ اور اس کے ساتھ کچھ اور لوگ شریک ہیں، یا شریک ہیں، ان میں سے کوئی ایک شخص زمین کو بیچتا ہے بھئی، اپنے حصے کو شرکت والی زمین میں سے کیا کرنا چاہتا ہے؟ بیچنا چاہتا ہے، تو سب سے زیادہ حق یہ شریکوں کا ہے، ان کو بیچنی چاہیے۔ اگر ان کو نہیں بیچتا، کسی تیسرے کو بیچ دیتا ہے، تو ان شریکوں کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے بھئی۔
مثلاً بھئی، یہ کنال زمین ہے مشترکہ ہے، زید اور عمرو کی، تقسیم نہیں کی بھئی، یہ دونوں کی مشترکہ ہے بھئی۔ تقسیم کر دی پھر تو الگ الگ ہو گئی دونوں کی، تقسیم نہیں کی، دونوں کی زمین مشترکہ ہے بھئی۔ اب عمرو اپنے حصے کو بیچنا چاہتا ہے، تو سب سے پہلے کس کا حق ہے؟ زید کا حق ہے کہ وہ شریک ہے، اس کو بیچے، اگر اس نے زید کو بتائے بغیر کسی اور کو بیچ دی، تو شریعت نے اس شریک کو حق دیا ہے شفعہ کرنے کا، یعنی وہ زبردستی اس زمین کو قیمت دے کر لے لے گا بھئی۔
مثلاً عمرو نے کس کو بیچ دی مولانا؟ بکر کو بیچ دی ایک لاکھ روپے میں اپنا حصہ بھئی نصف کنال جو اس میں ہے، وہ بیچ دیا کس کو؟ بکر کو، تو آپ اس زید کو جیسے ہی پتہ چلے گا، اس کو، یہ شفعہ کر سکتا ہے، چنانچہ یہ اگر لینا چاہتا ہے تو بکر کو ایک لاکھ دے دے گا اور زمین کیا ہو جائے گی؟ اس کی، اور یہ زبردستی ہوگا لینا مولانا، بکر انکار بھی کرتا رہے، نہیں انکار بھئی، وہ روک نہیں سکتا کیونکہ یہ حق کس نے دیا ہے زید کو؟ شریعت نے۔
اسی طرح اگر کوئی دوسرے کے، پڑوسی ہے، زمینیں ملی ہوئی ہیں، ساتھ والی زمین آپ کی زمین کے وہ بک رہی ہے بھئی، تو آپ کو بھی پڑوسی کو بھی شریعت نے شفعے کا حق دیا ہے، جب وہ زمین آپ کے ساتھ ہی ملی ہوئی ہے آپ کی زمین کے، تو آپ سب سے پہلے کس کا حق ہے؟ آپ کا حق ہے، پڑوسی کا حق ہے، اس کو بیچی جائے، اگر وہ انکار کرے پھر کسی اور کو بیچی جائے، لیکن اگر اس کو بتایا ہی نہیں کسی اور کو بیچ دیا، تو اس پڑوسی کو شریعت نے کیا حق دیا ہے؟ شفعے کا حق دیا ہے، چنانچہ مثلاً ساتھ والے نے بیچ دی زمین کسی شخص کو، آپ فوراً شفعہ کر کے جتنے پیسے اس نے ادا کیے تھے، وہی پیسے اس کو دے کر زمین لے لیں گے بھئی، وہ انکار کرتا رہے پھر بھی انکار نہیں کر سکتا، شریعت نے حق دیا ہے شفعے کا۔
تو شفعہ ہوتا ہے دفعِ ضررِ جوار کے لیے بھئی، پڑوس کے ضرر کو دور کرنے کے لیے۔ یاد رکھو پڑوسی نیک ہو تو زندگی بڑی آسان اور اچھی گزرے گی، پڑوسی خراب ہو، تنگ کرنے والا ہو تو زندگی عذاب بن جایا کرتی ہے بھئی۔ ہر بات میں آپ کو تنگ کرے گا، جان بھی نہیں چھوٹے گی، ہر وقت آپ کے گھر کے ساتھ ہیں ان کا گھر بھئی۔ تو لہٰذا اس وجہ سے پڑوس کے ضرر سے بچنے کے لیے شریعت نے کس کا حق دیا ہے؟ کہ پتہ نہیں اگلا شخص آئے گا وہ کیسا ہوگا، کہیں وہ برا شخص نہ ہو اور وہ آپ کو تنگ نہ کرے، تو شریعت نے کیا حق دے دیا ہے؟ شفعے کا۔ سمجھ میں آیا؟ شریک میں بھی یہی وجہ ہے، پڑوس، پڑوسی کے اندر بھی یہی وجہ ہے دفعِ ضررِ جوار سے بچنے کے لیے۔
اب یاد رکھو، شفعے کے اندر آپ نے پڑھا ہے کئی طلبیں ضروری ہیں، سب سے پہلی طلبِ مواثبت کہلاتی ہے، جس مجلس میں شفیع کو پتہ چلتا ہے کہ زمین، میرے ساتھ والی زمین بکی ہے، اسی مجلس میں فوراً اس کا یہ کہنا کہ "میں شفعہ کرتا ہوں" یا "میں اس پر شفعہ کروں گا" وغیرہ کہنا ضروری ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ طلبِ مواثبت کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جس مجلس میں علم ہوا اسی مجلس کے اندر فوراً شفعے کا، شفعے کا کی طلب کرنا، یہ کیا ہے؟ کہ "میں شفعہ کرتا ہوں"، یہ کہنا ضروری ہے بھئی۔
اگر اس مجلس میں وہ خاموش رہا، تو اس کی یہ خاموشی، سکوت جو ہے، یہ بیان بن جائے گا اس بات کا کہ وہ اس کو لینے، لینا نہیں چاہتا، اس کے بکنے پر ہی راضی ہے، اس زمین کے بکنے پر ہی راضی ہے۔ تو بھئی ضروری تھا کہ اسی مجلس کے اندر وہ کیا کرتا؟ طلبِ مواثبت کرتا، لیکن اس نے طلب کی اس مجلس میں؟ اس کو خبر ملی، وہ ایک مجلس میں بیٹھا دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہا ہے، کسی نے آ کر اطلاع دی بھئی: "تمہارے ساتھ والا جو گھر ہے، وہ فلاں آدمی نے خرید لیا ہے۔" یہ خاموش رہا، اسی طرح گپ شپ لگا رہا ہے، معلوم ہوا کہ یہ اس کو خریدنا نہیں چاہتا، اس گھر کے بکنے پر راضی ہے، یہ شفعہ نہیں کرنا چاہتا۔ اگر یہ شفعہ کرنا چاہتا تو فوراً کیا کہتا؟ "میں شفعہ کرتا ہوں" یا "میں نے اس گھر پہ شفعہ کیا۔" صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو دیکھو، یہاں پر بھی شفیع کا سکوت کس چیز پر کیا ہے؟ بیان بن گیا بھئی، بیان بن گیا۔
دیکھا؟ وَالشَّفِيعُ إِذَا عَلِمَ بِالْبَيْعِ—اور شفیع نے جب جان لیا بیع کو، عُلِمَ نہیں ہونا چاہیے، عَلِمَ بھائی—وَالشَّفِيعُ إِذَا عَلِمَ بِالْبَيْعِ—شفیع نے جب جان لیا بیع کو—وَسَكَتَ—اور خاموش رہا—كَانَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ—تو یہ اس کی خاموشی جو ہے اس، اس بیان کے درجے میں ہوگی—بِأَنَّهُ رَاضٍ—کہ وہ کیا ہے؟ راضی ہے—بِذَلِكَ—اس بیع پر، اس بیع پر وہ کیا ہے؟ راضی ہے، اور اس ترکِ شفعہ پر وہ راضی ہے، شفعہ نہیں کرنا چاہتا۔
اسی طرح: وَالْبِكْرُ إِذَا عَلِمَتْ بِتَزْوِيجِ الْوَلِيِّ وَسَكَتَتْ عَنِ الرَّدِّ كَانَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ بِالرِّضَاءِ وَالْإِذْنِ.
اسی طرح مولانا، باکرہ جو ہے، باکرہ کا نکاح اس کا ولی کروا سکتا ہے، لیکن باکرہ سے اجازت ضروری ہے بھئی۔ اس سے اجازت ضروری ہے۔ اب ولی نے اس کا نکاح زید سے کروا دیا، اور پھر اس باکرہ کو خبر ملی کہ میرے مثلاً والد نے میرا نکاح کس کے ساتھ کروا دیا ہے؟ زید کے ساتھ کروا دیا ہے، اور پھر یہ خاموش رہی، رد نہیں کیا اس نکاح کو، تو یہ اس کی خاموشی کس چیز کی علامت ہے؟ رضامندی کی علامت ہے، معلوم ہوا وہ راضی ہے اس نکاح پر اور اس کی طرف سے ولی کو اجازت ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو اس کا سکوت کس چیز کی علامت ہوا؟ رضا کا، تو یہ مولانا، یہ سکوت اس کا بیان بن گیا، یہ بیانِ حال ہے بھئی۔
اسی کو کہتے ہیں: وَالْبِكْرُ—اور باکرہ—إِذَا عَلِمَتْ بِتَزْوِيجِ الْوَلِيِّ—جب اس کو علم ہوا ولی کے نکاح کروانے کا—وَسَكَتَتْ عَنِ الرَّدِّ—اور وہ خاموش رہی۔
رد کرنے سے، انکار کرنے سے "كان ذلك بمنزلة البيان" تو یہ اس کی خاموشی، مولانا، "بالرضا والإذن" رضامندی اور اجازت کے بیان کے درجے میں ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟
اس پہ اشکال ہوتا ہے، بھئی باکرہ کی خاموشی کو رضامندی پہ کیوں محمول کیا گیا؟ انکار پہ کیوں نہیں محمول کیا گیا؟ ہو سکتا ہے وہ اس پہ راضی نہ ہو، لیکن آپ کہہ رہے ہیں اگر وہ خاموش رہی تو یہ رضامندی کی علامت ہے بھئی، ہو سکتا ہے یہ کس کی علامت ہو؟ انکار کی، آپ نے اس کو رضامندی کی علامت کیسے ٹھہرا دیا؟
تو جواب یہ ہے، مولانا، کہ اس کے جواب دینے کی دو ہی صورتیں تھیں: یا وہ "نعم" کہے گی يا "لا" کہے گی۔ کیا کہے گی؟ "نعم" کہے گی، ٹھیک ہے، اور یا کیا کہے گی؟ "لا" یعنی قبول کرے گی یا رد کرے گی۔ تو آپ دو ہی صورتیں تھیں اور "نعم" کے کہنے کے اندر حیا ہے، "لا" کے کہنے کے اندر حیا نہیں، "نعم" کے اندر حیا اس طرح ہے کہ وہ کہتی ہے: "ہاں مجھے قبول ہے"، تو اس میں تو حیا ہے بھئی، شرم کی وجہ سے وہ نہیں کہہ سکتی کیونکہ معلوم ہوا وہ شادی چاہتی ہے، نکاح چاہتی ہے، خاوند کو چاہتی ہے مولانا، تو حیا کی وجہ سے اس باکرہ کے لیے "نعم" کہنا مشکل ہے۔ لیکن "لا"، "لا" میں تو رد ہے مولانا، اس کے اندر تو کوئی مانع نہیں۔ تو لہذا اس کی خاموشی تو یہ یہاں پر وہ "لا" کہہ سکتی تھی اگر اسے پسند نہیں تھی، پسند نہیں تھا یہ نکاح، لیکن اس کے باوجود وہ خاموش رہی۔ معلوم ہوا یہ کس چیز کی علامت ہے؟ رضامندی اور اجازت کی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"والمولى إذا رأى عبده يبيع ويشتري في السوق فسكت كان ذلك بمنزلة الإذن" اور اسی طرح آقا نے جب دیکھا "عبده" اپنے غلام کو "يبيع ويشتري" خرید و فروخت کر رہا ہے "في السوق" بازار میں "فسكت" پس وہ خاموش رہا "كان ذلك بمنزلة الإذن" تو اس کی یہ خاموشی اجازت کے درجے میں ہوگی "ففيصير مأذونا" تو وہ غلام کیا بن جائے گا؟ مأذون بن جائے گا۔
یاد رکھو غلام دو قسم پر ہے: ایک عبدِ مأذون ہے، ایک عبدِ محجور ہے۔ عام غلام جو ہے وہ عبدِ محجور ہے، اس پر ممانعت ہے شرعاً وہ کسی قسم کے معاملات وغیرہ لوگوں کے ساتھ نہیں کر سکتا بھئی آقا کی اجازت کے بغیر۔ اور ایک عبدِ مأذون ہے جس کو آقا نے اجازت دے دی ہو کہ تم تجارت وغیرہ کر سکتے ہو۔
اب ایک آقا تھا، بازار سے گزر رہا ہے، اس نے دیکھا اس کا غلام لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت میں مصروف ہے اور پھر بھی وہ خاموش رہا۔ موقع تو تھا، اس کو روکنا چاہیے تھا، لیکن اس نے روکا نہیں، خاموش رہا۔ کہتے ہیں اس کی یہ خاموشی کس چیز کی علامت ہے؟ اجازت کی علامت ہے کہ گویا کہ اس کی طرف سے اس کے غلام کو خرید و فروخت کی اجازت ہے۔ تو یہ عبدِ محجور نہ رہا، اب کیا بن گیا؟ عبدِ مأذون بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی عبدِ مأذون کی؟
وجہ اس کی یہ ہے، مولانا، کہ حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لعن الله من غر مسلماً أو غيره"، "لعن الله من غر مسلماً أو غيره" اللہ لعنت فرمائے اس شخص پر جس نے ضرر پہنچایا مسلمان کو یا غیر مسلمان کو، جس نے کسی کو ضرر پہنچایا اللہ اس کے اوپر کیا ہو؟ لعنت ہو۔ یہ ایک حدیث ہے مولانا۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آتا ہے: "من غرنا فليس منا" جس نے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔
جی، "لعن الله من غر مسلماً أو غيره"۔ تو یہاں پر اب آقا گزر رہا ہے، آقا گزر رہا ہے اور اس نے اپنے عبدِ مأذون کو تجارت کرتے، اپنے عبد کو تجارت کرتے ہوئے دیکھا نہیں تو خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس کو منع نہیں کیا۔ چاہیے تو کیا تھا کہ وہ کیا کرتا اس کو؟ خرید و فروخت سے منع کرتا۔
لیکن اس نے منع نہیں کیا، لوگوں نے بھی دیکھا کہ دیکھو آقا گزرا ہے اس نے اپنے غلام کو خرید و فروخت سے نہیں روکا، معلوم ہوا ہے یہ اجازت دے چکا ہے، تو اب لوگ اس کے ساتھ اور زیادہ خرید و فروخت کریں گے کہ یہ تو کیا ہے؟ عبدِ مأذون ہے۔ اور نتیجتاً لوگوں کو نقصان اور تکلیف پہنچے گی۔
اگر ہم یہ حکم لگائیں کہ یہ عبدِ مأذون نہیں ہے بلکہ کیا ہے عبدِ محجور، ان کا تو مال ڈوب جائے گا، یہ ان کے ساتھ خرید و فروخت کر رہا ہے، چیزیں لے رہا ہے، بیچ رہا ہے بھئی، اور بعد میں آقا کہتا ہے: نہیں بھئی، اس کی تو اجازت ہی نہیں تھی، یہ تو محجور ہے، میں تو ذمہ دار کسی چیز کا نہیں بھئی، تو لوگوں کو کیا پہنچے گا؟ ضرر پہنچے گا مولانا۔ تو لہذا اس لیے ضرر کو، حدیث جو ذکر کی: "لعن الله من غر مسلماً أو غيره" کہ لعنت ہو اللہ کی جس نے نقصان پہنچایا مسلمانوں کو یا غیر کو، تو لہذا اس ضرر کو دور کرنا واجب ہوا۔ اس ضرر کو دور کرنا واجب ہوا، اسی لیے ہمارے فقہائے کرام نے فرمایا کہ یہ عبد اب کیا شمار ہوگا؟ عبدِ مأذون تاکہ ضرر کو دور کیا جائے، لوگوں کو ضرر سے بچایا جائے۔
تو کہتے ہیں: "فيصير مأذونا في التجارات" تو وہ عبدِ مأذون، وہ غلام مأذون بن جائے گا تجارتوں میں۔ "والمدعى عليه إذا نکل في مجلس القضاء يكون الامتناع بمنزلة الرضاء بلزوم المال بطريق الإقرار عندهما وبطريق البذل عند أبي حنيفة رحمه الله"۔
بھئی، ایک شخص دوسرے پر دعویٰ کرتا ہے کسی چیز وغیرہ کا، تو یہ جو دعویٰ کرنے والا ہے، یہ کہلائے گا مدعی، اور جس پر دعویٰ کیا وہ کیا کہلائے گا؟ مدعیٰ علیہ کہلائے گا۔ اور مشہور حدیث ہے مولانا: "البينة على المدعي واليمين على من أنكر" بینہ مدعی پر ہے، دعویٰ کرنے والے کے ذمے ہے گواہ پیش کرنا، اور مدعیٰ علیہ اور منکر کے ذمے کیا ہے؟ قسم۔ تو جس نے دعویٰ کیا ہے ضروری ہے کہ وہ قاضی کے سامنے کیا لے کر آئے؟ گواہ لے کر آئے۔ اگر وہ گواہ نہ لا سکا تو پھر جس پر دعویٰ کیا، مدعیٰ علیہ جو ہے اس سے قاضی پھر کہے گا کہ قسم اٹھاؤ۔ اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے تو کیا کرے گا؟ قسم اٹھا لیتا ہے تو بری ہوا، اور اگر وہ قسم سے خاموش رہتا ہے تو وہ جو دعویٰ ہے اس پر ثابت ہو جائے گا۔ دعویٰ کیا ہے اس پر ثابت ہو جائے گا، اگر مال کا دعویٰ تھا تو اب مال اس پہ لازم ہو جائے گا، مال اس کو دینا پڑے گا۔ اس کو تو کیا چاہیے تھا؟ قسم اٹھا لے، لیکن یہ تو قسم اٹھانے سے باز رہتا ہے، رکا رہتا ہے، سکوت اختیار کرتا ہے۔
کیا اختیار کرتا ہے؟ سکوت۔ بھئی اب مدعی کے پاس گواہ کوئی نہیں، مدعیٰ علیہ سے قاضی نے کہا قسم اٹھاؤ، اور مدعیٰ علیہ کیا کرتا ہے؟ خاموش رہتا ہے۔ اس کی خاموشی بیان ہے، کس چیز کا؟ کہ یہ لزومِ مال پر راضی ہے۔ لزومِ مال پر کیا ہے؟ کہ اس پر مال لازم کر دیا جائے، مال اس پر لازم ہو جائے، یہ اس پر راضی ہے اس کا سکوت۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بیان بن گیا مولانا، اس کا سکوت بھئی، اس کا حال دلالت کر رہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا یہاں وہ بولتا، قسم اٹھاتا، لیکن وہ خاموش رہا، معلوم ہوا وہ مال کے لازم ہونے پر راضی ہے۔
اب یہ لازم ہونا کس طریقے پر ہوگا؟ اقرار کے طریقے پر ہوگا یا بذل کے طریقے پر؟ اس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ جو اس پر مال لازم ہوگا یہ اقرار کے طریقے پر ہوگا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو مال اس پر لازم ہوگا یہ کس طریقے پر ہوگا؟ بذل کے طریقے پر۔ بھئی اس میں تو اتفاق دونوں کا کہ لزومِ مال پر یہ شخص راضی ہے، لزومِ مال پر اس پر مال لازم ہوگا۔ لیکن کس طریقے پر ہوگا؟ اقرار کے طریقے پر یا بذل کے طریقے پر؟ اس میں کیا ہے؟ اختلاف۔ صاحبین کے نزدیک کس طریقے پر ہوگا؟ اقرار کے طریقے پر، اور امام صاحب کے نزدیک؟ بذل کے طریقے پر۔
صاحبین فرماتے ہیں یہ جو اس پہ مال لازم ہوا ہے یہ اقرار کے طریقے پر ہے، یعنی اس کا خاموش رہنا دراصل اقرار کرنا ہے کہ یہ دوسرا اپنے دعوے میں سچا ہے، میں نے واقعی اس کا اتنا مال دینا ہے، میرے ذمے باقی ہے۔ تو یہ کس طریقے پر ہے؟ اقرار کے، کہ یہ دوسرے اپنے دعوے میں کیا ہے، دوسرے کے دعوے کا کیا کر لیتا ہے؟ اقرار کر لیتا ہے کہ واقعی میرے ذمے اس کے اتنے پیسے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، یہ اس کا سکوت جو ہے، یہ اقرار کے درجے میں نہیں ہے بلکہ یہ کس درجے میں ہے؟ بذلِ مال کے درجے میں ہے۔ یعنی یہ شخص قسم اٹھانے پر راضی نہیں، ہاں قسم سے مال دے کر اپنے آپ کو چھڑا رہا ہے۔ مال دے کر قسم سے اپنے آپ کو کیا کر رہا ہے؟ چھڑا رہا ہے۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ معزز آدمی سچی قسم اٹھانا بھی پسند نہیں کرتا بھئی۔ معزز آدمی سچی قسم اٹھانا بھی پسند نہیں کرتا بھئی، وہ کہتا ہے میں مال خرچ کرنے کو تیار ہوں لیکن قسم اتنے مال کے لیے میں قسم نہیں اٹھاؤں گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں اس نے جو سکوت اختیار کیا، اس میں اس پر مال لازم ہوا، اور یہ لزومِ مال کس طریقے پر آیا؟ اقرار کے طریقے پر، یعنی کہ اس نے اقرار کر لیا کہ اس کا یہ شخص اپنے دعوے میں کیا ہے؟ سچا ہے۔ امام صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اس کا سکوت جو ہے، یہ لزومِ مال پر رضامندی کی علامت ہے، مال اس پر لازم ہو جائے گا، لیکن یہ لزوم کس طریقے پر آئے گا؟ بذل کے طریقے پر آئے گا، اس کا یہ معنی نہیں ہوگا کہ یہ شخص نے اقرار کر لیا ہے، بلکہ کیا معنی سمجھا جائے گا؟ کہ یہ قسم کا فدیہ دے رہا ہے، اپنے آپ کو قسم سے بچا رہا ہے، چھڑا رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: "والمدعى عليه إذا نکل في مجلس القضاء" مدعیٰ علیہ نے جب انکار کر دیا مجلسِ قضا میں، نَکَلَ کا معنی رکنا، باز رہنا قسم سے، جب اس نے وہ باز رہا قسم سے "في مجلس القضاء" مجلسِ قضا کے اندر، یعنی قاضی کی مجلس میں "يكون الامتناع بمنزلة الرضاء" تو اس کا یہ باز رہنا رضامندی کے درجے میں ہوگا "بلزوم المال" لزومِ مال، لزومِ مال کے ساتھ رضامندی کے درجے میں ہوگا، یعنی وہ لزومِ مال پر راضی ہے۔ "بطريق الإقرار عندهما" اور یہ لزومِ مال کس طریقے پر ہوگا؟ اقرار کے طریقے پر ہوگا "عندهما" صاحبین کے نزدیک، "وبطريق البذل عند أبي حنيفة رحمه الله" اور بذل کے طریقے پر ہوگا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
"فالحاصل أن السكوت في موضع الحاجة إلى البيان بمنزلة البيان" حاصلِ بحث یہ ہے، مولانا، حاصلِ کلام یہ کہ سکوت اختیار کرنا "في موضع الحاجة إلى البيان" حاجت الی البيان کی جگہ میں، حاجت الی البيان، ایسی جگہ جہاں بیان کی حاجت تھی، اس جگہ میں سکوت اختیار کرنا "بمنزلة البيان" یہ کس کے درجے میں ہے؟ بیان۔ بھئی یہ تو محل تھا، اس کو بیان کرنا چاہیے تھا، بولنا چاہیے تھا، لیکن اس نے اس اس مقام میں جہاں بیان کی حاجت تھی اور پھر وہ کیا رہا؟ خاموشی اختیار کی، تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ بیان ہی کے درجے میں ہے بھئی। وہی بات جو میں نے پہلے ذکر کی بھئی: "السكوت في موضع البيان بيان"، بیان کی جگہ میں سکوت، یہ کیا ہے؟ بیان ہے۔
"وبهذا الطريق قلنا" اور اسی طریقے پر ہم کہتے ہیں، یعنی یہ سکوت اختیار کرنا حاجت کی جگہ میں، یہ کیا ہوتا ہے؟ بیان ہوتا ہے، ہم کہتے ہیں: "الإجماع ينعقد بنص البعض وسكوت الباقين" کہ اجماع منعقد ہو جاتا ہے بعض کی تصریح کے ساتھ اور باقیوں کے سکوت کے ساتھ۔ بعض کی تصریح کے ساتھ اور بعض کے سکوت کے ساتھ بھئی۔
اجماع کی بحث بھی آنے والی ہے، یہ بات وہاں بھی آ جائے گی۔ بھئی دیکھو، ایک مسئلے پر کسی زمانے کے تمام اہلیکر جمع ہو جائیں، وہ یہ اجماع کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ بھئی ایک مسئلہ پیش آیا اور تمام صحابہ اس مسئلے پر متفق ہو گئے تو یہ کیا کہلائے گا ان کا؟ اجماعِ صحابہ کہلائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا ان کے اگلے زمانے والے سارے بڑے علماء بھئی، اہلیکر اس ایک کوئی مسئلہ پیش آیا اور سارے اس سے متفق ہو گئے، یہ کیا کہلائے گا؟ اجماع کہلائے گا۔
لیکن یاد رکھو، ہمارے نزدیک اجماع میں ہر ایک کا بولنا، کہنا ضروری نہیں بھئی۔ ہر ایک کا اس کو بیان کرنا ضروری، یہ ضروری نہیں جتنے اہلیکر اکٹھے ہوئے ہیں ہر ایک تائید میں کہے بھئی یہ مسئلہ اس طرح ہے، دوسرا بھی کہے یہ مسئلہ اس طرح ہے، تیسرا بھی کہے۔ ہاں بلکہ ایک نے بیان کر دیا اور باقیوں کو خبر پہنچ گئی اور وہ خاموش رہے۔ ایک نے کیا کر دیا؟ بیان کر دیا مسئلے کو، ذکر کر دیا، بات بتلا دی کہ یہ مسئلہ اس طرح ہے، اور باقی ساروں کو خبر پہنچی اور پھر وہ خاموش رہے، ان کو وقت بھی ملا بھئی دو تین دن کا وقت مل گیا بھئی، غور و فکر کر سکتے تھے، اگر یہ بات ناحق ہوتی تو کیا کر سکتے تھے؟ رد کر سکتے تھے، لیکن کسی نے بھی رد نہیں کیا، سارے خاموش رہے، یہ ان کی علامت ہے اس بات کی کہ ان کے نزدیک بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ تو یہ اجماع ہوا اور کون سا اجماع؟ اجماعِ سکوتی کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ اجماعِ سکوتی کہلائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
بائیمثلاً صحابہ کو ایک معاملہ درپیش ہوا بھئی، بڑے صحابہ بیٹھے ہوئے ہیں رضی اللہ تعالی عنہم بھئی۔ اور پھر وہ مسئلہ بعض نے ذکر کر دیا ان میں سے کہ یہ مسئلہ اس طرح ہے۔ اچھا، وہ مسئلہ ذکر کرتا ہے، بات بتلاتا ہے اور باقی سارے صحابہ خاموش بیٹھے ہیں، کسی نے اس کو رد نہیں کیا۔ اور جو غیر حاضر تھے ان کو بھی خبر پہنچ گئی، ان میں سے بھی کسی نے رد نہیں کیا۔ معلوم ہوا ان کی بات ٹھیک ہے، سارے اس اسی بات پر اس کو سب قبول کر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ سب اکٹھے ہیں اس مسئلے میں۔ تو یہ اجماع ہوا، اور کون سا اجماع؟ اجماعِ سکوتی ہوا، اجماعِ سکوتی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ "وبهذا الطريق" اور اسی طریقے پر "قلنا" ہم نے کہا "الإجماع ينعقد بنص البعض وسكوت الباقين" کہ اجماع منعقد ہو جاتا ہے بعض کی تصریح کے ساتھ اور باقیوں کے سکوت کے ساتھ۔
وَبِہٰذَا الطَّرِیْقِ اور اسی طریقے پر قُلْنَا ہم نے کہا اَلْاِجْمَاعُ یَنْعَقِدُ بِنَصِّ الْبَعْضِ وَسُکُوْتِ الْبَاقِیْنَ کہ اجماع منعقد ہو جاتا ہے بعض کی تصریح سے اور باقیوں کے سکوت سے۔
فَصْلٌ وَاَمَّا بَیَانُ الْعَطْفِ فَمِثْلُ اَنْ تَعْطِفَ مَکِیْلًا اَوْ مَوْزُوْنًا عَلٰی جُمْلَۃٍ مُجْمَلَۃٍ یَکُوْنُ ذٰلِکَ بَیَانًا لِلْجُمْلَۃِ الْمُجْمَلَۃِ
جی چھٹی قسم بیان کی بیانِ عطف ہے۔ بیانِ عطف اس کو کہتے ہیں جس میں معطوف بیان بن جائے معطوف علیہ کے لیے۔
حرفِ عطف سے جو پہلے آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ معطوف علیہ، اور حرفِ عطف کے بعد جو آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ معطوف۔ تو کبھی کبھار معطوف جو ہوتا ہے، جو بعد میں آ رہا ہوتا ہے وہ بیان بن جاتا ہے ماقبل کے لیے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیانِ عطف، کیا کہتے ہیں؟ بیانِ عطف کہتے ہیں۔
مثلاً ایک شخص کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، فلاں کے مجھ پر ایک سو اور درہم ہیں، ایک سو اور درہم ہیں۔ تو مِائَۃٌ ہوا معطوف علیہ اور دِرْھَمٌ کیا ہوا؟ معطوف۔ اب یہ مِائَۃٌ سے کیا مراد ہے بھئی؟
تو یہ آگے دِرْھَمٌ بیان بن گیا مولانا، اس نے بتلا دیا کہ اس مِائَۃٌ سے بھی کیا مراد ہے؟ درہم مراد ہیں، لہٰذا اب اس شخص پر ایک سو اور ایک یعنی 101 درہم واجب الادا ہو جائیں گے، لازم ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معطوف بیان بن گیا، کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ معطوف ہے درہم، اس نے بتلا دیا کہ ماقبل میں وہ جو مجموعۂ مبہمہ بیان ہوا، مِائَۃٌ کیا ہے مولانا؟ مجموعۂ مبہمہ ہے، کوئی بیان ہوا مِائَۃٌ سے کیا مراد ہے؟ نہیں، تو یہ مجموعۂ مبہمہ ہوا، آگے معطوف نے اس مجموعۂ مبہمہ کو بیان کر دیا بھئی، یہ کیا کہلاتا ہے؟ بیانِ عطف بھئی۔
بیانِ عطف کی بحث چل رہی ہے۔ صاحبِ کتاب نے آپ کو کیا بتلایا؟ کہ کبھی کبھار معطوف کیا بنتا ہے؟ بیان بنتا ہے، کس کا؟ معطوف علیہ کا۔
اور بتلاتا ہے کہ یہ معطوف علیہ بھی میری ہی جنس میں سے ہے، کوئی اور چیز نہیں ہے بھئی۔ بھئی عرب کے اندر اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مثلاً کہنا تو یوں چاہیے تھا، اس نے کہا کیا؟ لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، کہنا تو یوں چاہیے تھا لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃُ دِرْھَمٍ وَدِرْھَمٌ، کیا کہنا چاہیے تھا؟ مِائَۃُ دِرْھَمٍ وَدِرْھَمٌ، مِائَۃٌ کے ساتھ بھی تمیز ذکر کرنی چاہیے تھی کہ مِائَۃٌ سے کیا مراد ہے؟ درہم مراد ہے، اور آگے معطوف بھی کیا ہے؟ درہم ہے۔ لیکن عرب لوگ چونکہ یہ اس قسم کے معاملات کثیر الاستعمال ہیں بھئی، اس طرح، تو کثرت کی وجہ سے وہ اس میں تخفیف کرتے ہیں اور معطوف علیہ سے تمیز کو اور مفسر کو حذف کر دیتے ہیں بھئی۔ تو ماقبل سے درہم کو حذف کر دیا اس لیے کہ آگے آنے والا معطوف بتلا دے گا کہ یہ ماقبل کے عدد سے بھی کیا مراد ہے؟ یہی معطوف مراد ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ حذف کر دیتے ہیں، کیونکہ اس طرح عدد کا استعمال کثیر ہے، اور کثرت کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ خفت کا تقاضا کرتی ہے، اور خفت کیا ہے؟ کہ ماقبل معطوف علیہ میں سے تمیز کو اور مفسر کو کیا کر دیا جائے؟ بھئی وہ جو تفسیر کر رہا ہے عددِ مبہم کی جو تمیز ہے مولانا، جی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اب یاد رکھو! معطوف، بات کیا ہوئی کہ معطوف کبھی بیان بنتا ہے کس کا؟ معطوف علیہ۔
اب اس میں دو صورتیں ہیں۔
بھئی معطوف علیہ تو عدد ہے، اور معطوف کیا ہے؟ کوئی چیز ہے، معطوف کیا ہے؟ کوئی چیز ہے، مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، معطوف کیا ہے؟ معطوف علیہ کیا ہے؟ مِائَۃٌ عدد ہے، اور معطوف کیا ہے؟ دِرْھَمٌ کوئی چیز ہے بھئی۔
اب اگر یہ معطوف کے ساتھ بھی عدد ذکر ہو، معطوف کے ساتھ بھی کیا ذکر ہو؟ عدد ذکر ہو، مثلاً کوئی شخص کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، معطوف کے ساتھ بھی کیا ذکر کر دیا؟ عدد ذکر کر دیا۔ تو یہاں دو صورتیں ہیں مولانا، معطوف کے ساتھ بھی عدد ذکر ہوگا یا عدد ذکر نہیں؟ عدد ذکر ہوگا جیسے مثلاً کیا کہتا ہے؟ مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، یا عدد ذکر نہیں کرتا یوں کہتا ہے مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، دو صورتیں ہیں۔ بھئی اگر معطوف کے ساتھ عدد ذکر ہو، یوں کہتا ہے مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، پھر تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک معطوف بیان بنے گا معطوف علیہ کا۔
اگر معطوف کے ساتھ بھی کیا ذکر ہو؟ عدد ذکر ہو، اس نے یوں کہا مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، دراہم کے ساتھ بھی کیا ذکر ہے؟ ثلاثہ عدد ذکر ہے، جب معطوف کے ساتھ بھی عدد ذکر ہو تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک بالاتفاق یہاں معطوف بیان بنے گا کس چیز کا؟ معطوف علیہ کا، معلوم ہوا مِائَۃٌ سے بھی کیا مراد ہیں؟ دراہم مراد ہیں، جیسے کہ ثلاثہ سے کیا مراد ہیں؟ دراہم مراد ہیں۔ یہ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں۔
چاہے وہ جو چیز جس کو بیان کیا جا رہا ہے وہ مکیلات میں سے ہو، موزونات میں سے ہو، یا غیرِ مکیلی، غیرِ موزونی ہو۔
چاہے کس میں سے ہو؟ مکیلات، ناپی جانے والی چیزوں میں سے ہو، موزونی چیزوں، وزن کی جانے والی چیزوں میں سے ہو، یا ان کے علاوہ ہو۔ مثلاً یوں کہتا ہے، موزونات، وزنی چیز ذکر کرتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ دَرَاہِمَ، درہم کس چیز میں سے ہے؟ موزونی چیزوں میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ اور یا اس کے بجائے وہ کیا ذکر کرتا ہے؟
مکیلی چیز ذکر کرتا ہے۔
مثلاً کیا کہتا ہے؟
لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ اَقْفِزَۃِ الْحِنْطَۃِ، مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ اَقْفِزَۃِ الْحِنْطَۃِ، فلاں کے مجھ پر 100 اور 3 گندم کے قفیز ہیں۔ تو دیکھا؟ گندم کس میں سے ہے؟ مکیلات میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ تو مابعد جو تمیز آ رہی ہے وہ چاہے موزونات میں سے ہو، چاہے مکیلات میں سے ہو، جب معطوف کے ساتھ بھی عدد ذکر ہو تو یہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، اور اگر چاہے غیرِ مکیلی، غیرِ موزونی چیز ہی کیوں نہ ہو، مثلاً یوں کہا لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَلَاثَۃُ اَعْبُدٍ، عبد جمع ہے عبد کی، فلاں کے مجھ پر 100 اور 3 غلام ہیں، تو غلام کس میں سے ہے؟ موزونی چیزوں میں سے ہے؟ مکیلات میں سے ہے؟ نہیں، تو یہ غیرِ مکیلی، غیرِ موزونی ہے مولانا۔
تو بھئی ضابطہ یہ ذکر ہو، تو اب اس صورت میں بھی اس پر کتنے غلام واجب ہو جائیں گے؟ 103، 103 واجب ہو جائیں گے۔ ضابطہ یہ نکلا مولانا جو میں نے پہلے بھی ذکر کیا، کہ معطوف معطوف کے ساتھ اگر عدد ذکر ہو، تو پھر معطوف مع بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا بالاتفاق، چاہے وہ مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو، یا ان کے علاوہ میں سے ہو۔
لیکن اگر معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہیں، تو پھر اختلاف ہے طرفین کا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔
مثلاً ایک شخص یوں کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، یا یوں کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، یا یوں کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَقَفِیْظُ حِنْطَۃٍ، مِائَۃٌ وَقَفِیْظُ حِنْطَۃٍ، تو دیکھو کوئی عدد ذکر ہے معطوف کے ساتھ ان صورتوں میں؟ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، عدد ہے؟ مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، ذکر ہے عدد عبد کے ساتھ؟ نہیں، اسی طرح کہتا ہے مِائَۃٌ وَقَفِیْظُ حِنْطَۃٍ، قفیظِ حنطہ کے ساتھ عدد ذکر ہے؟ نہیں!
تو اس صورت میں جبکہ معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہ ہو، ائمہ ثلاثہ میں اختلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی معطوف بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، اور معطوف علیہ بھی اسی کی جنس میں سے ہوگی، لہٰذا اب اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، تو کتنے اس پر درہم آ جائیں گے؟ یہ درہم بیان معطوف بیان بن جائے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، تو یہ کتنے درہم اس پہ واجب ہو جائیں گے؟ 101، اور اگر یوں ہو، اگر وہ مکیلی چیز لاتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَقَفِیْظُ حِنْطَۃٍ، تو اس صورت میں بھی قفیظِ حنطہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ یعنی مِائَۃٌ کا، معلوم ہوا اس پہ کتنے قفیز واجب ہو جائیں گے؟ 101 واجب ہو جائیں گے، اور اسی طرح اگر غیرِ مکیلی، غیرِ موزونی چیز لاتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، یا مِائَۃٌ وَثَوْبٌ، تو اس صورت میں بھی یہ ثوبٌ یا عبدٌ بیان بن جائے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، اور اس پر کتنے غلام واجب ہو جائیں گے؟ یا کتنے کپڑے واجب ہو جائیں گے؟ 101 غلام یا 101 کپڑے واجب ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اگر معطوف معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہ ہو، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ پھر بھی بیان بنے گا کس چیز کا؟ معطوف علیہ کا، چاہے وہ مکیلات میں سے ہو، چاہے وہ موزونات میں سے ہو، چاہے ان کے علاوہ ہو۔
صورت سمجھ میں آئی؟
جبکہ طرفین فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کہ اگر اس صورت میں جبکہ معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہ ہو، تو معطوف اگر مکیلات یا موزونات میں سے ہو تو یہ معطوف علیہ کا بیان بنے گا، اگر یہ مکیلات اور موزونات میں سے نہیں تو یہ معطوف علیہ کا بیان نہیں بنے گا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَدِرْھَمٌ، درہم کس میں سے ہے؟ موزونات میں سے، لہٰذا یہ بیان بن جائے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، لہٰذا اس 100 سے بھی کیا مراد ہوئے؟ درہم، تو کتنے درہم واجب ہوئے؟ 101۔ اسی طرح اگر مکیلات میں سے ہو معطوف، تو پھر بھی یہ بیان بنے گا، لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَقَفِیْظُ حِنْطَۃٍ، یہ قفیظِ حنطہ کس میں سے ہے؟ مکیلات میں سے، لہٰذا حنطہ مکیلات میں سے ہے، لہٰذا یہ بیان بنے گا کس کے؟ کس کا؟ مِائَۃٌ کا، معلوم ہوا مِائَۃٌ سے بھی کیا مراد ہے؟ گندم ہی مراد ہے، لہٰذا کتنے قفیظِ حنطہ مراد ہیں؟ کتنے ہو جائیں گے اس پر واجب؟ 101۔ لیکن اگر معطوف نہ مکیلی، موزونی چیز نہ ہو بھئی، مکیلی، موزونی چیز نہ ہو، مثلاً کہتا ہے لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَوْبٌ، یا مِائَۃٌ وَعَبْدٌ، تو اس صورت میں یہ بیان نہیں بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ عبد ایک عبد اس پر واجب ہو جائے گا، اور مِائَۃٌ کے لیے اس شخص کی طرف رجوع کیا جائے گا اور پوچھے گا بتلاؤ بھئی مِائَۃٌ سے کیا مراد ہے؟ یا کہتے ہیں مِائَۃٌ وَثَوْبٌ، ایک کپڑا تو اس پہ واجب ہو جائے گا، لیکن چونکہ یہ نہ مکیلات میں سے ہے نہ موزونات میں سے، اس لیے یہ مِائَۃٌ کا بیان، معطوف علیہ کا بیان نہیں بنے گا، لہٰذا اب مِائَۃٌ کے بیان کے لیے اس شخص کی طرف رجوع کیا جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ خلاصۂ بحث یہ، کہ معطوف کے ساتھ اگر عدد ذکر ہو، تو وہ بیان بنے گا معطوف علیہ کا بالاتفاق، چاہے وہ چیز مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو، یا ان کے علاوہ ہو۔ لیکن اگر معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہیں، تو پھر معطوف بیان بنے گا معطوف علیہ کا طرفین کے نزدیک کب؟ جبکہ وہ معطوف کس قبیل سے ہو؟ مکیلات یا موزونات میں سے ہو، اور اگر وہ مکیلات اور موزونات میں سے نہیں تو پھر معطوف معطوف علیہ کا بیان نہیں بنے گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی ہمیشہ معطوف بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، چاہے وہ مکیلی چیزوں میں سے ہو یا مکیلی چیزوں میں سے نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
طرفین کی دلیل بھئی۔
طرفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ بھئی معطوف کے ساتھ جب عدد ذکر نہ ہو، تو وہ بیان بنتا ہے کس کا؟ معطوف علیہ کا، کب؟ جبکہ وہ کس میں سے ہو؟ مکیلات اور موزونات میں سے، اگر وہ مکیلات اور موزونات میں سے نہیں تو بیان بھی نہیں، اس لیے کہ معطوف اسی وقت بیان بنے گا جبکہ وہ ایسی چیز، ایسی چیز ہو جو دین بن کر کسی کے ذمہ میں ثابت ہو سکے۔ دین بن کر کیا ہے؟ کسی کے ذمہ میں ثابت ہو سکے، اور مکیلی اور موزونی چیزیں کسی کے ذمہ میں دین رہ کر ثابت ہو سکتی ہیں، باقی رہ سکتی ہیں، جبکہ ذوات القیم چیزیں جو ہیں، کسی کے ذمہ میں دین بن کر باقی نہیں رہ سکتیں۔ سمجھ میں آیا؟ اب یہ تو کہتے ہیں کہ فلاں نے میری کیا کرنے ہیں؟ ایک ہزار روپے، ایک ہزار درہم دینے ہیں، تو دیکھا؟ موزونی چیز کسی کے ذمہ میں دین بن کر رہ سکتی ہے۔ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں فلاں نے میرے 100 قفیظ گندم کے دینے ہیں، کیونکہ قفیظ مکیلی چیز ہے اور مکیلی چیز دوسرے کے ذمہ میں دین بن کر، لیکن آپ کا یہ کہنا کہ فلاں نے میری 100 بکریاں دینی ہیں، کیا دینی ہیں؟ ایسا تو نہیں ہوتا، ایسا کوئی کہتا ہے کبھی؟ ان کی قیمت کا حساب لگایا جاتا ہے بھئی، 100 بکریاں تو کوئی بکری چھوٹی ہے، اعلیٰ ہے، ادنیٰ ہے، کسی قسم کی، ان میں تو بڑا فرق ہوا کرتا ہے، تو غیرِ مکیلی اور غیرِ موزونی چیزیں کسی کے ذمہ میں دین بن کر نہیں رہتیں بھئی، عام معاملات میں آپ غور کر لیں، اسی طرح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ جب معطوف کے ساتھ عدد عدد ذکر نہ ہو، تو پھر وہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، کس شرط پر؟ کہ وہ کس میں سے ہو؟ مکیلی اور موزونی چیزوں میں سے، یعنی ایسی چیز ہو جو کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت ہو، اور اگر وہ دین ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت ہو سکے، یعنی غیرِ مکیلی، غیرِ موزونی ہے، تو پھر معطوف بیان نہیں بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، ہر صورت میں معطوف بیان بنے گا معطوف علیہ کا، اس لیے وہ فرماتے ہیں جب کسی نے کہا لِفُلَانٍ عَلَیَّ مِائَۃٌ وَثَوْبٌ، تو یہ واؤ لے کر آیا، اور واؤ آیا کرتا ہے عطف کے لیے، مطلق جمع کا فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا؟ جمع کا فائدہ دیتا ہے، جمع کا فائدہ دیتا ہے، اور معطوف کس کے حکم میں ہوا کرتا ہے؟ معطوف اور معطوف علیہ کا ایک ہی حکم ہوا کرتا ہے، ایک ہی چیز
شئے واحد کے حکم میں ہوا کرتے ہیں، لہٰذا جب معطوف ثابت ہو گیا کپڑا ہے تو پتہ چل گیا معطوف علیہ بھی کیا ہے کپڑا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی،
و أَمَّا بَيَانُ الْعَطْفِ باقی بیانِ عطف جو ہے، فَمِثْلُ أَنْ تَعْطِفَ مَكِيْلًا أَوْ مَوْزُوْنًا عَلَى جُمْلَةٍ مُجْمَلَةٍ پس مثال اس کے کہ آپ عطف کریں کسی مکیلی یا موزونی چیز کا جملۂ مجملہ پر بھئی۔ کس پر؟ جملۂ... مثلاً بھئی وہ ماقبل میں جو عدد ذکر ہوا مائۃ، مائۃ ایک مجموعہ مبہمہ ہے یا نہیں بھئی؟ کوئی اس کا پتہ چل رہا ہے کیا چیز مراد ہے؟ ہے تو مجموعہ لیکن مبہم ہے۔ جملۂ مجملہ ہے بھئی۔
تو جب آپ عطف کریں کسی مکیلی یا موزونی چیز کا مجموعۂ مبہمہ پر، يَكُونُ ذَلِكَ بَيَانًا لِلْجُمْلَةِ الْمُجْمَلَةِ تو معطوف جو ہے وہ بیان بن جائے گا کس چیز کا؟ اس مجموعۂ مجملہ کا، اس مجموعۂ مبہمہ کا۔ مِثَالُهُ مثال اس کی إِذَا قَالَ کسی شخص نے کہا: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ فلاں کے مجھ پر ایک سو اور درہم ہے۔ یا یوں کہا: مِائَةٌ وَقَفِيْزُ حِنْطَةٍ ایک سو اور گندم کا قفیز ہے۔ كَانَ الْعَطْفُ بِمَنْزِلَةِ الْبَيَانِ تو عطف اس بیان کے درجے میں ہو گا كَأَنَّ الْكُلَّ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ کہ سارا کا سارا اسی کی جنس میں سے ہے۔
وَكَذَا لَوْ قَالَ اور اگر کسی نے کہا: مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ ایک سو اور تین کپڑے دیکھا، تو معطوف کے ساتھ بھی کیا آ رہا ہے؟ عدد آ رہا ہے۔ اب وہ چاہے مکیلی ہو چیز یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں معطوف علیہ بھی وہی ہو گا۔
مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ کہا، سو کس میں سے ہے مکیلی یا موزونی ہے یا غیر مکیلی موزونی ہے؟ ہاں پھر بھی تو لیکن لیکن یہاں معطوف کے ساتھ بھی عدد ذکر ہے، تو لہٰذا یہ اثواب بیان بنے گا دونوں کے لیے۔
وَكَذَا لَوْ قَالَ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ کسی نے مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ کہا أَوْ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ یا مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ کہا أَوْ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَعْبُدٍ یا کیا کہا؟ مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَعْبُدٍ کہا، فَإِنَّهُ بَيَانٌ تو یہ بیان ہو گا اس بات کا أَنَّ الْمِائَةَ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ کہ یہ مائۃ بھی کیا ہے؟ اسی کی جنس میں سے ہے، کیونکہ دراصل آپ دیکھیں یہاں پر عدد کا عدد پر عطف ہو رہا ہے۔ مائۃ پر کس کا عطف ہو رہا ہے؟ ثلاثۃ کا عطف ہو رہا ہے اور دونوں کے لیے اکٹھی تمیز آ گئی اثواب بھئی۔
جب عدد بعد میں ذکر ہوتا ہے تو دراصل کیا ہوتا ہے؟ ماقبل میں بھی عدد، مابعد میں بھی عدد، تو دراصل وہاں کیا ہوتا ہے؟ عدد کا عدد پر عطف ہوتا ہے اور مابعد دونوں کے لیے تمیز بن جاتی ہے۔ تو معلوم ہوا مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ، 103 کپڑے بھئی، 103، بھئی 103 کیا ہیں؟ أَثْوَابٍ، وہ کیا ہیں؟ کپڑے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اچھا، تو یہ اس بات کا بیان ہوا أَنَّ الْمِائَةَ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ کہ مائۃ بھی اسی جنس میں سے ہے، بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ یہ اسی قول کے درجے میں ہے جیسے أَحَدٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا، أَحَدٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا کے قول کے درجے میں ہے۔ بھئی آپ عدد میں بھئی 21 کے آگے آپ کس طرح کوئی چیز گنتے ہیں؟ بتلاتے ہیں: أَحَدٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا، أَحَدٌ وَثَلَاثُونَ كِتَابًا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اسی طرح کیا کہیں گے؟ سَبْعَةٌ وَثَلَاثُونَ كِتَابًا، کہتے ہیں یا اس طرح یعنی نہیں کہتے بھئی؟ استعمال اس طریقے پر ہوتا ہے۔ تو جیسے یہاں پر ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ آپ نے کہا، یا ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُونَ کہا، ثلاثۃ پر عطف ہے کس چیز کا؟ عشرون کا۔ عشرون کا عطف ہوا ثلاثۃ پر اور پھر دونوں کے آگے اکٹھی تمیز آ گئی کیا؟ کتاباً، کیا آ گئی؟ کتاباً، تو جیسے وہاں عدد کا عدد پر عطف ہوا تھا اور دونوں کی تمیز اکٹھی آئی تھی، یہاں بھی جب معدود کے ساتھ عدد ذکر ہو جائے تو گویا کہ عدد کا کس پر عطف ہوا؟ عدد پر بھئی، مِائَةٌ وَثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ یہاں ثلاثۃ کا عطف کس پر ہوا؟ مائۃ پر اور پھر آگے دونوں کی اکٹھی تمیز آ گئی، جیسے أَحَدٌ وَعِشْرُونَ کے اندر عشرون کا عطف کس پر ہوا؟ احد پر ہوا اور پھر آگے دونوں کی اکٹھی تمیز آ گئی۔
بِخِلَافِ قَوْلِهِ مِائَةٌ وَثَوْبٌ أَوْ مِائَةٌ وَشَاةٌ حَيْثُ لَا يَكُونُ ذَلِكَ بَيَانًا لِلْمِائَةِ بخلاف اس کے کہ وہ یوں کوئی کہے مِائَةٌ وَثَوْبٌ کہا، تو دیکھو معطوف کے ساتھ عدد ہے؟ معطوف کے ساتھ عدد؟ اور پھر جب معطوف کے ساتھ عدد نہ ہو تو ہم کیا ضابطہ ذکر کیا تھا؟ طرفین کے نزدیک معطوف بیان بنے گا، معطوف کون ہے مِائَةٌ وَثَوْبٌ میں؟ ثوبٌ، یہ ثوبٌ بیان بنے گا مائۃ کا، کس صورت میں؟ جب یہ کس میں سے ہو مکیلی یا... اور ثوب مکیلی موزونی میں سے ہے؟ نہیں، لہٰذا اسی لیے۔ تو مِائَةٌ وَثَوْبٌ یا مِائَةٌ وَشَاةٌ کہا حَيْثُ لَا يَكُونُ ذَلِكَ بَيَانًا لِلْمِائَةِ اس صورت میں کہ یہ بیان نہیں ہو گا مائۃ کے لیے، اسی لیے کیونکہ یہ مکیلی یا موزونی چیزوں میں سے نہیں اور اس کے ساتھ عدد بھی ذکر نہیں—
وَاخْتُصَّ ذَلِكَ اور یہ معطوف کا بیان ہونا خاص ہے فِي عَطْفِ الْوَاحِدِ ایک کا عطف کرنے میں بِمَا ایسی چیز کے ساتھ يَصْلُحُ دَيْنًا فِي الذِّمَّةِ جو دین بننے کی صلاحیت رکھے ذمہ میں۔
جو صلاحیت دین بننے کی صلاحیت رکھے کسی کے ذمہ میں بھئی، کون سی چیزیں کسی کے ذمہ میں دین بن کر رہ سکتی ہیں بھئی؟ مکیلی اور موزونی، باقی غیر مکیلی غیر مکیلی کسی کے ذمہ میں دین بن کر نہیں رہ سکتیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں وَاخْتُصَّ ذَلِكَ، یہ معطوف بیان معطوف کا بیان بننا ذلک اشارہ کس کی طرف ہے؟ معطوف کا بیان بننا خاص ہے فِي عَطْفِ الْوَاحِدِ ایک کے عطف میں، ایک کا عطف کیا جائے بِمَا ایسی چیز کے ساتھ کسی ایک چیز کا عطف کیا جائے کسی ایسی چیز کے ساتھ يَصْلُحُ دَيْنًا فِي الذِّمَّةِ جو صلاحیت رکھتی ہو دین بننے کی فِي الذِّمَّةِ کس میں؟ ذمہ میں، یعنی کسی کے ذمہ میں دین بن کر رہ سکے۔ كَالْمَكِيْلِ وَالْمَوْزُوْنِ جیسے مکیل اور مکیلی اور موزونی چیزیں ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يُوْسُفَ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَكُونُ بَيَانًا فِي مِائَةٍ وَشَاةٍ کہ مِائَةٍ وَشَاةٍ کے اندر بھی یہ شاة بیان بنے گا کس کے لیے؟ معطوف علیہ کے، اسی طرح مِائَةٍ وَثَوْبٍ اس کے اندر بھی ثوب کیا بنے گا؟ بیان بنے گا کس کے لیے؟ مائۃ کے لیے، عَلَى هَذَا الْأَصْلِ اسی قانون کی بناء پر بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ بیان بنے گا اسی کیا کس قانون کی بناء پر؟ کہ معطوف اور معطوف علیہ کس کے درجے میں ہوا کرتے ہیں؟ ایک شئے کے درجے میں ہوا کرتے ہیں اور واؤ نے جمع کا فائدہ دیا، معلوم ہوا دونوں ایک ہی چیز ہیں، دونوں کیا ہیں؟ ایک، تو ثوب نے بتلا دیا کہ مائۃ سے بھی سو کپڑے ہی مراد ہیں اور شاة نے بتلا دیا کہ مائۃ سے بھی کیا مراد ہے؟ شاة ہی مراد ہے، لہٰذا 101 بکریاں اور 101 کپڑے اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خلاصۂ بحث یہاں تک یہ نکلا:
کہ کبھی کبھار معطوف بیان بنتا ہے معطوف علیہ کا، اور یہ کس میں ہو گا؟ عدد میں ہو گا، کس میں؟ عدد میں ہو گا۔ اب عدد معطوف کے ساتھ عدد کوئی ذکر ہو گا یا کوئی عدد ذکر نہیں؟ اگر معطوف کے ساتھ عدد ذکر ہو تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک معطوف بیان بن جائے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، چاہے وہ مکیلات میں سے ہو، موزونات میں سے ہو یا ذوات القیم میں سے ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اور اگر معطوف کے ساتھ عدد نہ ہو تو پھر بھی وہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، طرفین کے نزدیک، کب؟ جبکہ وہ کس قبیل سے ہو معطوف؟ مکیلات یا موزونات کے قبیل سے، اور اگر معطوف مکیلات اور موزونات کے قبیل سے نہ ہو تو پھر یہ معطوف علیہ کا بیان نہیں بنے گا بلکہ اس کے لیے اس شخص کی طرف رجوع کیا جائے گا کہ معطوف علیہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی معطوف بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ، یعنی جب اس کے ساتھ عدد ذکر نہ ہو پھر بھی وہ بیان بنے گا معطوف علیہ کا، چاہے وہ مکیلات میں سے ہو، چاہے موزونات میں سے ہو یا چاہے ان میں سے نہ ہو، اس لیے کہ واؤ جمع کے لیے آیا کرتا ہے، جمع ہونے کا فائدہ دیتا ہے اور معطوف اور معطوف علیہ کیا ہوتے ہیں؟ شئے واحد کے درجے میں ہوتے ہیں، جب معطوف کا پتہ چل گیا کہ وہ ثوب ہے تو پتہ چلا معطوف علیہ بھی کیا ہے مراد ہے اس سے؟ ثوب ہی ہے وغیرہ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے مولانا، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں واؤ آیا ہے اور واؤ جمع مطلق کے لیے آیا کرتا ہے اور معطوف اور معطوف علیہ شئے واحد کے حکم میں ہوا کرتے ہیں، ایک چیز کے حکم میں ہوتے ہیں بھئی، تو جب معطوف کا پتہ چل گیا کہ وہ ثوب ہے تو پتہ چلا کہ معطوف علیہ بھی کیا ہے؟ ثوب ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ واؤ نے دونوں کو جمع کر دیا ہے، دونوں ایک حکم میں ہیں، تو جو معطوف ہے معلوم ہوا معطوف علیہ بھی وہی چیز ہے، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔
جبکہ طرفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ معطوف کے ساتھ جب عدد ذکر نہ ہو تو وہ بیان بنتا ہے معطوف علیہ کا اس صورت میں جبکہ وہ مکیلات اور موزونات کی قبیل سے ہو، وجہ یہ کہ اس میں معطوف کا ایسی جنس میں سے ہونا ضروری جو لوگوں کے ذمہ دین بن کر رہ سکے، جو کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت ہو سکے، اور دین بن کر مکیلات اور موزونات کسی کے ذمہ میں ثابت ہوا کرتی ہیں، ذوات القیم یعنی غیر مکیلات اور غیر موزونات کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت نہیں ہوتیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، قلیل ثابت ہو جاتی ہیں جیسے کس کے اندر ہے؟ بیع سلم کے اندر بھئی۔
تو عام معاملات کے اندر بھئی، عام کثرت کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ عموماً ایک کسی کے ذمہ میں کس قسم کی چیزیں دین بن کر ثابت رہ سکتی ہیں؟ کس قسم کی چیزیں دین بن کر ثابت رہتی ہیں؟ مکیلات اور موزونات ایک دوسرے کے ذمہ میں دین بن کر باقی رہتی ہیں، تو یہ چونکہ کثیر الاستعمال ہے، معاملات میں ایسا ہی ہوتا ہے، مکیلات یا موزونات ہی دوسرے کے ذمہ میں دین بن کر رہتی ہیں، تو یہ چونکہ کثیر الاستعمال ہے اور کثرت تقاضا کرتی ہے کس چیز کا؟ خفت کا، لہٰذا اس لیے یہاں معطوف علیہ سے اس کو حذف کر دیا گیا اور صرف معطوف کے طور پر اس کو ذکر کر دیا گیا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ کثرتِ استعمال نے خفت کا تقاضا کیا اس لیے معطوف علیہ سے کیا کر دیا گیا، تمیز کو حذف کر دیا گیا۔
جبکہ جو دوسرا غیر مکیلات اور غیر موزونات میں سے جو ہیں، یعنی ذوات القیم جو ہیں چیزیں قیمت کے اعتبار سے جن کی قیمت کا اعتبار کیا جاتا ہے، وہ کسی کے ذمہ میں دین بن کر باقی نہیں رہتیں سوائے بیع سلم میں بھئی، بیع سلم آپ جانتے ہیں جس میں کیا کیا جاتا ہے؟ کسے کہتے ہیں بیع سلم بھئی؟ بَيْعُ عَاجِلٍ بِآجِلٍ بھئی،
اجل والی چیز کی بیع کرنا جلدی ادا کی جانے والی چیز کے ساتھ بھئی۔ یعنی اس میں ثمن جلدی ادا کیے جاتے ہیں بھئی، کوئی شخص کسی کو پیسے دیتا ہے یہ چیز، یہ پیسے لے لو اور مجھے فلاں چیز چاہیے، وہ کہتا ہے جی آپ کو چار مہینے بعد ملے گی اس وقت نہیں ہے بھئی۔
اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیع سلم، اور بیع سلم کے اندر آپ نے پڑھا کہ ثمن اس پر قبضہ اسی مجلس میں شرط ہے، کہ بائع کیا کرے ثمن پر اسی مجلس میں قبضہ کر لے اور مبیع بعد میں ملے گا بھئی۔
تو اس میں دیکھو ثمن جلدی ادا ہو جاتے ہیں اور وہ جو مبیع ہے ذوات القیم میں سے بھی ہو سکتا ہے وہ کیا ہے؟ جی؟ وہ بعد میں اس کو ملے گا، تو یہاں صرف بیع سلم میں غیر مکیلی غیر موزونی چیز ذمہ میں دین بن کر رہتی ہے۔
ذمہ میں؟ بھئی آپ نے ایک شخص کو پیسے دیے کہ مجھے فلاں قسم کی چیز چاہیے ذوات القیم میں سے ہے، تو دیکھو اب وہ چیز اس کے ذمہ دین ہے یا نہیں بھئی؟ دین ہے، تو صرف بیع سلم میں غیر مکیلی غیر موزونی چیز کسی کے ذمہ میں دین بن کر رہتی ہے، اور بیع سلم قلیل ہے، بیع سلم کیا ہے؟ اور قلیت خفت کا تقاضا نہیں کرتی۔
قلیت خفت کا تقاضا نہیں کرتی، لہٰذا یہاں پر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے جو مِائَةٌ وَثَوْبٌ کہا، تو اس کو کس پر محمول کر لیا جائے؟ جی؟ کہ یہاں پر اس نے خفت کی بناء پر حذف کر لیا ہے، مِائَةُ ثَوْبٍ وَثَوْبٌ اصل میں عبارت تھی بھئی، تو یہ تو قلیل الاستعمال ہے اور قلیل الاستعمال خفت کا تقاضا لہٰذا اس صورت میں معلوم ہوا معطوف علیہ سے اس کو حذف نہیں کرنا چاہیے تھا تمیز کو بھئی۔
ہاں وہ باقی معاملات کثیر الاستعمال ہیں، وہ خفت کا تقاضا کرتے تھے، وہاں کیا کرنا چاہیے؟ وہاں عموماً حذف کرتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔