Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-090

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 83
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں آپ نے بیانِ حال اور بیانِ عطف کے بارے میں پڑھا تھا بھئی۔ بیانِ حال کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ بیانِ حال وہ سکوت ہے جو متکلم کے حال کی دلالت کی وجہ سے بیان بن جایا کرتا ہے بھئی۔ بیان بن جاتا ہے۔ ایک مقام تھا بیان کا لیکن وہاں پر متکلم سکوت اختیار کرتا ہے تو اس کا یہ خاموش رہنا، ساکت رہنا یہ کیا ہے؟ بیان ہے۔ جی، تو السكوت في موضع البيان بيان، سکوت اختیار کرنا بیان کی جگہ میں، یہ کیا ہے؟ بیان ہے بھئی بیان۔ اور پھر اس کی بہت سی مثالیں ذکر کی تھیں صاحبِ کتاب نے۔ اس کے بعد آپ نے بیانِ عطف کے بارے میں پڑھا بھئی۔ بیانِ عطف کسے کہتے ہیں؟ کہ جہاں پر معطوف بیان بنا کرتا ہے معطوف علیہ کا بھئی، معطوف علیہ کا۔ عرب کی عادت ہے عموماً معاملات کے اندر عدد ذکر کرتے ہوئے جہاں عطف آئے تو وہاں معطوف علیہ سے تمیز کو حذف کر لیا کرتے ہیں اور جو معطوف عدد ہو صرف اس کے ساتھ کیا ذکر کرتے ہیں؟ تمیز ذکر کرتے ہیں، کثرتِ استعمال کی وجہ سے۔ کیونکہ کثرتِ استعمال کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ خفت کا تقاضا کرتی ہے تو وہ معطوف علیہ سے تمیز کو حذف کر لیتے ہیں، صرف معطوف میں ذکر کرتے ہیں اور وہی معطوف بیان بن جاتا ہے کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ مثلاً کسی نے کہا: لفلان علي ألف ودرهم، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار اور درہم ہے بھئی۔ تو اصل میں عبارت یوں تھی: لفلان علي ألف درهم ودرهم۔ تو ألف کے ساتھ بھی درہم کا لفظ ذکر کرنا چاہیے تھا لیکن عرب کیا کرتے ہیں کہ معطوف علیہ سے تمیز کو حذف کر لیتے ہیں کیونکہ آگے معطوف میں وہی چیز دوبارہ ذکر ہونے والی ہے تو اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں کہ یہ معطوف ہی بتلا دے گا کہ معطوف علیہ اسی کی جنس میں سے ہے۔ اور اس میں اختلاف بھی ذکر کیا تھا، میں نے بتلایا تھا کہ اگر یہاں پر معطوف میں بھی کے ساتھ بھی عدد ذکر ہو، پھر تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک بالاتفاق معطوف بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ مثلاً کسی نے کہا: لفلان علي مائة وثلاثة أثواب، تو یہاں دیکھو معطوف کے ساتھ ثلاثہ کا عدد ذکر ہو رہا ہے اور جب عدد ذکر ہو تو اس صورت میں معطوف بالاتفاق بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ۔ معلوم ہوا ماقبل میں وہ جو مجموعہ مبہمہ یعنی وہ جو مائۃ بیان ہوا، سو بھئی، سو کیا ہے؟ مجموعہ ہے اور مبہم ہے کہ پتہ نہیں کیا چیز مراد ہے۔ لیکن جب معطوف میں بھی عدد بیان ہو جائے تو پھر یہ معطوف بتلا دیا کرتا ہے کہ معطوف علیہ میں مجموعہ مبہمہ ذکر ہوا وہ بھی اسی کی قبیل سے ہے بھئی، اسی کی قبیل سے ہے۔ لیکن اگر معطوف کے ساتھ عدد ذکر نہ ہو، کوئی شخص یوں کہتا ہے: مائة وثوب یا مائة ودرهم یا مائة وقفيز حنطة، تو اس صورت میں بھی معطوف معطوف علیہ کا بیان بنے گا یا نہیں بنے گا؟ اس میں ہمارے ائمہ ثلاثہ کا اختلاف ہے۔ طرفین اس بات کی طرف گئے ہیں کہ اگر معطوف مکیلات اور موزونات کی قبیل سے ہو تو وہ بیان بنے گا معطوف علیہ کا بھئی۔ مثلاً مائة وقفيز حنطة، مائۃ کے بعد کیا ذکر ہوا؟ قفیزِ حنطہ ذکر ہوا اور قفیزِ حنطہ کس قبیل سے ہے بھئی حنطہ؟ مکیلات میں سے ہے، تو اب اس صورت میں یہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا۔ اور اسی طرح اگر کسی نے کہا: مائة ودرهم بھئی، تو یہاں پر بھی معطوف کیا ذکر ہو رہا ہے؟ درہم، اور درہم کس میں سے ہے؟ موزونی چیزوں میں سے، لہٰذا اس صورت میں یہ بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا بھئی۔ تو معطوف کے ساتھ جب عدد ذکر نہ ہو تو طرفین کے نزدیک وہ پھر بھی بیان بنے گا کس کا؟ معطوف علیہ کا، بشرطیکہ کہ وہ معطوف کس قبیل سے ہو؟ موزونات یا مکیلات کی قبیل سے ہو۔ اور اگر اگر وہ مکیلات کی قبیل سے نہ ہو، موزونات کی قبیل سے نہ ہو تو پھر وہ بیان نہیں بنے گا، جیسے کسی نے کہا: مائة وثوب، تو یہ ثوب نہ مکیلات کی قبیل سے ہے اور نہ موزونات کی قبیل سے، لہٰذا یہ معطوف علیہ کا بیان نہیں بنے گا۔ تو جب کسی نے کہا: لفلان علي مائة وثوب، تو اس پر ایک کپڑا واجب ہو جائے گا اور مائۃ کے مائۃ کے بارے میں اسی شخص کی طرف رجوع کیا جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے، اس کو بیان کرو بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معطوف کے ساتھ چاہے عدد ذکر نہ ہو پھر بھی وہ معطوف علیہ کا بیان بنے گا ہر صورت میں، چاہے وہ مکیلات و موزونات کی قبیل سے ہو یا مکیلات و موزونات کی قبیل سے نہ ہو۔ لہٰذا اگر کسی نے کہا: مائة ودرهم، تو بھی یہ درہم بیان بنے گا مائۃ کا، موزونات میں سے ہے، اس پر 101 درہم آئیں گے۔ کسی نے کہا: مائة وقفيز حنطة، تو یہ قفیزِ حنطہ مکیلات میں سے ہے، یہ بھی بیان بنے گا کس کا؟ مائۃ کا، اس پر کتنے قفیز آ جائیں گے؟ 101۔ اور اگر کسی نے کہا: مائة وثوب، تو یہ ثوب نہ مکیلات میں سے ہے، نہ موزونات میں سے ہے، لیکن یہ پھر بھی بیان بنے گا معطوف علیہ کا اور اس پر کتنے واجب ہو جائیں گے بھئی؟ 101 کپڑے واجب ہو جائیں گے بھئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے مولانا، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں واؤ آیا ہے اور واؤ جمعِ مطلق کے لیے آیا کرتا ہے اور معطوف اور معطوف علیہ شئےِ واحد کے حکم میں ہوا کرتے ہیں، ایک چیز کے حکم میں ہوتے ہیں بھئی۔ تو جب معطوف کا پتہ چل گیا کہ وہ ثوب ہے تو پتہ چلا کہ معطوف علیہ بھی کیا ہے؟ ثوب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ واؤ نے دونوں کو جمع کر دیا ہے، دونوں ایک حکم میں ہیں، تو جو معطوف ہے معلوم ہوا معطوف علیہ بھی وہی چیز ہے۔ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ جبکہ طرفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ معطوف کے ساتھ جب عدد ذکر نہ ہو تو وہ بیان بنتا ہے معطوف علیہ کا اس صورت میں جبکہ وہ مکیلات اور موزونات کی قبیل سے ہو، وجہ یہ ہے کہ اس میں معطوف کا ایسی جنس میں سے ہونا ضروری جو لوگوں کے ذمہ دین بن کر رہ سکے، جو کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت ہو سکے اور دین بن کر مکیلات اور موزونات کسی کے ذمہ میں ثابت ہوا کرتی ہیں، ذوات القيم یعنی غیر مکیلات اور غیر موزونات کسی کے ذمہ میں دین بن کر ثابت نہیں ہوتی ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، قلیل ثابت ہو جاتی ہیں جیسے کس کے اندر ہے؟ بیعِ سلم کے اندر بھئی۔ تو عام معاملات کے اندر بھئی، عام کثرت کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ عموماً ایک کسی کے ذمہ میں کس قسم کی چیزیں دین بن کر ثابت رہ سکتی ہیں؟ کس قسم کی چیزیں دین بن کر ثابت رہتی ہیں؟ مکیلات اور موزونات ایک دوسرے کے ذمہ میں دین بن کر باقی رہتی ہیں، تو یہ چونکہ کثیر الاستعمال ہے، معاملات میں ایسا ہی ہوتا ہے، مکیلات یا موزونات ہی دوسرے کے ذمہ میں دین بن کر رہتی ہیں، تو یہ چونکہ کثیر الاستعمال ہے اور کثرت تقاضا کرتی ہے کس چیز کا؟ خفت کا، لہٰذا اس لیے یہاں معطوف علیہ سے اس کو حذف کر دیا گیا اور صرف معطوف کے طور پر اس کو ذکر کر دیا گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ کثرتِ استعمال نے خفت کا تقاضا کیا، اس لیے معطوف علیہ سے کیا کر دیا گیا تمیز کو؟ حذف کر دیا گیا۔ جبکہ دوسرا غیر مکیلات اور غیر موزونات میں سے جو ہیں، یعنی ذوات القيم جو ہیں چیزیں، قیمت کے اعتبار سے جن کی قیمت کا اعتبار کیا جاتا ہے، وہ کسی کے ذمہ میں دین بن کر باقی نہیں رہتی ہیں سوائے بیعِ سلم میں بھئی۔ بیعِ سلم آپ جانتے ہیں جس میں کیا کیا جاتا ہے؟ کسے کہتے ہیں بیعِ سلم بھئی؟ بیع آجل بعاجل بھئی۔ اجل والی چیز کی بیع کرنا جلدی ادا کی جانے والی چیز کے ساتھ بھئی۔ یعنی اس میں ثمن جلدی ادا کیے جاتے ہیں بھئی، کوئی شخص کسی کو پیسے دیتا ہے: یہ چیز، یہ پیسے لے لو اور مجھے فلاں چیز چاہیے، وہ کہتا ہے جی آپ کو چار مہینے بعد ملے گی، اس وقت نہیں ہے بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیعِ سلم۔ اور بیعِ سلم کے اندر آپ نے پڑھا کہ ثمن اس پر قبضہ اسی مجلس میں شرط ہے کہ بائع کیا کرے؟ ثمن پر اسی مجلس میں قبضہ کر لے اور مبیع بعد میں ملے گا بھئی۔ تو اس میں دیکھو ثمن جلدی ادا ہو جاتے ہیں اور وہ جو مبیع ہے، ذوات القيم میں سے بھی ہو سکتا ہے، وہ کیا ہے؟ جی؟ وہ بعد میں اس کو ملے گا، تو یہاں صرف بیعِ سلم میں غیر مکیلی، غیر موزونی چیز ذمہ میں دین بن کر رہتی ہے۔ ذمہ میں؟ بھئی آپ نے ایک شخص کو پیسے دیے کہ مجھے فلاں قسم کی چیز چاہیے، ذوات القيم میں سے ہے، تو دیکھو اب وہ چیز اس کے ذمہ دین ہے یا نہیں بھئی؟ دین ہے، تو صرف بیعِ سلم میں غیر مکیلی، غیر موزونی چیز کسی کے ذمہ میں دین بن کر رہتی ہے اور بیعِ سلم قلیل ہے، بیعِ سلم کیا ہے؟ اور قلت خفت کا تقاضا نہیں کرتی، قلت خفت کا تقاضا نہیں کرتی، لہٰذا یہاں پر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس نے جو مائة وثوب کہا تو اس کو کس پر محمول کر لیا جائے؟ جی؟ کہ یہاں پر اس نے خفت کی بناء پر حذف کر لیا ہے، مائة ثوب و ثوب اصل میں عبارت تھی بھئی، تو یہ تو قلیل الاستعمال ہے اور قلیل الاستعمال خفت کا تقاضا؟ لہٰذا اس صورت میں معلوم ہوا معطوف علیہ سے اس کو حذف نہیں کرنا چاہیے تھا تمیز کو بھئی۔ ہاں، باقی معاملات کثیر الاستعمال ہیں، وہ خفت کا تقاضا کرتے تھے، وہاں کیا کرنا چاہیے؟ وہاں عموماً حذف کرتے ہیں بھئی۔ فصل: وأما بيان التبديل وهو النسخ فيجوز ذلك من صاحب الشرع ولا يجوز ذلك من العباد. جی، آج بیان کی ساتویں آخری قسم ہم پڑھیں گے: بیانِ تبدیل بھئی، بیانِ تبدیل۔ تبدیل لغت میں کہتے ہیں: ایک چیز کو دوسری چیز کی جگہ رکھنا۔ ایک چیز کو دوسری چیز کی جگہ رکھنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ تبدیل کرنا کہلاتا ہے، تبدیل کرنا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یہاں پر چونکہ احکام سے ہماری بحث چل رہی ہے تو یہاں تبدیل سے کیا مراد ہے؟ ایک حکم کی جگہ دوسرا حکم رکھنا بھئی، ایک حکم کی جگہ دوسرا حکم رکھنا۔ تو بیانِ تبدیل کسے کہتے ہیں مولانا؟ کہ سابقہ حکم کو تبدیل کرنا اور اس کو منسوخ کرنا۔ بیانِ تبدیل کسے کہتے ہیں؟ سابقہ حکم کو تبدیل کرنا اور منسوخ کرنا۔ بھئی ایک حکم کی جگہ جب آپ نے دوسرا حکم رکھ دیا تو معلوم ہوا پہلے کو آپ نے کیا کر دیا ہے؟ منسوخ کر دیا ہے، کیا کر دیا ہے؟ منسوخ کر دیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ایک حکم کی جگہ دوسرے حکم کو رکھنا، پہلے حکم ایک ذکر کیا، اس کو ختم کر کے کیا کرنا چاہتے ہیں آپ اس کی جگہ؟ دوسرا حکم رکھنا چاہتے ہیں اور یہ تو گویا آپ کیا کر رہے ہیں؟ پہلے حکم کو منسوخ کر رہے ہیں، منسوخ کر رہے ہیں، لہٰذا بندوں کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔ بندوں کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، ہاں صاحبِ شریعت کی جانب سے یعنی شارع جو ہیں ذاتِ باری تعالیٰ، ان کی جانب سے ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک حکم پہلے آ جائے اور پھر بعد میں اس کو منسوخ کر کے اس کی جگہ کیا رکھ دیا جائے؟ دوسرا حکم۔ مثلاً ابتدائے اسلام میں مولانا شراب حلال تھی بھئی، جائز تھی بھئی، بعد میں اس کو، اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور اس کی جگہ کون سا حکم آ گیا؟ حرمت والا حکم آ گیا، تو دیکھو ایک حکم کی جگہ دوسرا حکم آیا، یہ شارع کی جانب سے تو ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ بندوں کی طرف سے نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ یہ نسخ ہے اور نسخ کا حق صرف کس کو حاصل ہے؟ شارع کو۔ وأما بيان التبديل، باقی بیانِ تبدیل جو ہے وہو النسخ، اور وہ نسخ ہی ہے، فيجوز ذلك من صاحب الشرع، لہٰذا یہ صاحبِ شریعت کی طرف سے تو جائز ہے، ولا يجوز ذلك من العباد، اور یہ بندوں کی طرف سے جائز نہیں ہے۔ اس پر فوراً اشکال ہوتا ہے بھئی کہ نسخ تو پیغمبر علیہ السلام نے بھی فرمایا، پیغمبر بھی نسخ کرتے ہیں بھئی، ایک حکم کبھی بیان کرتے ہیں بعد میں اس کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بیان کر دیا کرتے ہیں۔ تو آپ نے تو کہا یہ بندوں کی طرف سے جائز ہی نہیں اور پیغمبر بھی تو بندہ ہے اللہ کا ایک، تو پیغمبر کی طرف سے تو کیا آتا ہے؟ نسخ آتا ہے اور آپ نے تو بالکل ہی نفی کر دی۔ جواب اس کا یہ ہے مولانا کہ پیغمبر کا جو بھی کام کرتا ہے وہ وحی کے ساتھ کرتا ہے بھئی، جو بھی کام کرتا ہے کیا کرتا ہے؟ وحی کے ساتھ کرتے ہیں۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں؟ وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى، اور وہ، یہ پیغمبر بولتے نہیں اپنی خواہش سے، یہ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے، إن هو إلا وحي يوحى، مگر یہ جو بولتے ہیں یہ تو ایسی وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے۔ یہ تو وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی گئی، یہ اپنی خواہش سے کوئی کلام نہیں کرتے، یہ جو بھی کلام کرتے ہیں وہ دراصل کیا ہے؟ وحی ہے، اللہ کی جانب سے وحی ہے بھئی، وحی ہے۔ جی، تو گویا حقیقتاً پیغمبر بھی جو نسخ کرتا ہے وہ من جانب اللہ ہوتا ہے بھئی، بندے کی طرف سے پھر بھی نسخ نہیں پایا گیا، یہ بھی نسخ جو پیغمبر کی طرف سے بھی آئے وہ دراصل وحی کی وجہ سے ہوتا ہے تو دراصل حقیقتاً وہ کس کی طرف سے ہوا؟ اللہ کی طرف سے بھئی۔ وعلى هذا، اور اسی بناء پر، یہ یہ جو ہم نے وجہ ذکر کی کہ بیانِ تبدیل دراصل کیا ہے؟ نسخ کرنا ہے اور نسخ تو بندوں کی طرف سے جائز نہیں، اسی وجہ سے کہ نسخ جائز نہیں ہے بندوں کی طرف سے، بطل استثناء الكل عن الكل، کل کا کل سے استثناء کرنا باطل ہے۔ کل کا کل سے استثناء کرنا باطل ہے۔ باطل ہے، کیوں؟ لأنه نسخ الحكم، اس لیے کہ وہ کیا ہے؟ حکم کو، بھئی ایک آدمی کہتا ہے: لفلان علي ألف إلا ألفاً، لفلان علي ألف إلا ألفاً، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں مگر ایک ہزار، تو اس نے کل سے کل ہی کا کیا کر دیا؟ اقرار بھی کتنے کا کیا تھا؟ ایک ہزار کا، استثناء بھی کتنے کا کیا؟ تو باقی کچھ بچا؟ کچھ بھی نہیں بچا، معلوم ہوا اس پر تو کچھ بھی نہیں آیا، تو یہ بیانِ تبدیل ہے، کل کا کل سے استثناء کیا ہے؟ بیانِ، اس لیے کہ پہلے جب اس نے کہا: "لفلان علي ألف"، یہ کلام کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر کتنے انے چاہئیں؟ 1,000 انے چاہئیں۔ اور آگے جب اس نے "إلا ألفاً" کے ساتھ اس کل ہی کا استثناء کر دیا، تو اب تو گویا وہ پہلے اس نے اقرار کیا ہے اپنے اوپر 1,000 لازم کیے ہیں اور اب رجوع کر رہا ہے۔ کیا کر رہا ہے؟ سارے سے ہی رجوع کر رہا ہے اور سارے سے تو رجوع ہو کر نہیں سکتا۔ صورت سمجھ میں ائی؟ کیونکہ یہ رجوع کرنا، یہ تبدیل کرنا، یہ نسخ ہے مولانا! اور نسخ تو بندوں کی طرف سے جائز نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آئیے ہم اپ کو دکھاتے ہیں کل کا کل سے استثناء صحیح ہے بھئی! کل کا کل سے اپ نے کیا کہا؟ کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں، ہم اپ کو دکھاتے ہیں کہ کل کا کل سے استثناء صحیح ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے، اس کی تین بیویاں ہیں فرض کریں۔ ایک کا نام زینب ہے، ایک کا نام عمرہ ہے، ایک کا نام سعادہ ہے۔ اور وہ کہتا ہے: "نساء كلها طوالق"، "میری ساری بیویوں کو طلاق ہے إلا زينب وعمرة وسعادة"، مگر زینب، عمرہ اور سعادہ کو طلاق نہیں۔ اور یہی تین بیویاں تھیں۔ فقہاء اس پر لکھتے ہیں کہ بھئی اس کی کسی بیوی کو بھی طلاق نہیں ہوئی۔ کیا کہا اس نے: "نساء كلها طوالق إلا زينب وعمرة وسعادة"۔ اب یہاں پر بھی دیکھیے بھئی، کل کا کل سے استثناء ہو رہا ہے اور یہ استثناء صحیح ہے حالانکہ ابھی اپ نے ضابطہ بتلایا تھا کہ کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں۔ تو جواب اس کا یہ ہے مولانا کہ کل کا کل سے استثناء اس وقت صحیح نہیں جب مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کا لفظ ایک ہو یا دلالت میں مساوی ہوں۔ دونوں کا اگر لفظ ایک ہوگا مثلاً اگر اس نے یوں کہا: "نساء كلها طوالق إلا نساء"، "میری ساری بیویوں کو طلاق ہے مگر میری بیویوں کو"۔ تو یہ استثناء دیکھیے مستثنیٰ منہ بھی کیا ہے "نساء" اور مستثنیٰ بھی کیا ہے "نساء"، دونوں لفظ ایک ہیں لہٰذا یہ کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں کیونکہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کا لفظ ایک ہے۔ یا دونوں دلالت کے اعتبار سے مساوی ہوں مولانا! جیسے وہ یہ کہہ یوں کہتا ہے: "نساء كلها طوالق إلا أولئك"، "میری ساری بیویوں کو طلاق ہے مگر وہ"، اشارہ کرتا ہے اور وہ تینوں بیویاں کھڑی ہیں ان کی طرف اشارہ اس نے کیا۔ تو یہ بھی استثناء صحیح نہیں مولانا! اس لیے کہ یہاں دلالت مساوی ہے، "نساء" بھی اسی پر دلالت کر رہا ہے اور "أولئك" بھی اسی پر۔ صورت سمجھ میں ائی بھئی؟ تو استثناء کل کا کل سے کب صحیح نہیں ہے؟ جب مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ دونوں کے لفظ کیا ہوں؟ ایک ہوں یا دونوں کی دلالت کیا ہو؟ مساوی ہو، ایک جیسی ہو تو پھر اس وقت کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں۔ لیکن اگر لفظ مختلف ہوں، مثلاً پہلے اس نے صرف "نساء" کہا اور مستثنیٰ میں ہر ایک کا الگ الگ نام ذکر کیا، تو اب لفظ دونوں کے الگ ہو گئے لہٰذا اب استثناء کیا ہوا؟ صحیح اور اس صورت میں کل کا کل سے استثناء بھی صحیح ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ اسی طرح مثلاً اگر کوئی شخص کہتا ہے: "عبيدي كلها أحرار" یا "عبيدي أحرار إلا عبيدي"، "میرے سارے غلام آزاد ہیں سوائے میرے غلام"۔ اب اپ بتلائیے بھئی، استثناء صحیح ہے یا صحیح نہیں ہے؟ صحیح نہیں ہے کیونکہ مستثنیٰ منہ اور مستثنیٰ دونوں کا لفظ کیا ہے؟ مستثنیٰ منہ بھی ہے "عبيدي"، "میرے سارے غلام" اور مستثنیٰ بھی کیا ہے "عبيدي"۔ لیکن اگر اس کے بجائے اس کے تین غلام ہیں مثلاً زید، عمر، بکر اور وہ یوں کہتا ہے: "عبيدي كلها أحرار إلا زيداً وعمراً وبكراً"، تو اب یہ استثناء کیا ہے؟ صحیح ہے، صحیح ہے بھئی! کیونکہ لفظ الگ ہو گئے دونوں کے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "وعلى هذا بطل استثناء الكل عن الكل"، اور اسی بناء پر استثناء کل کا کل سے یہ باطل ہے، "لأنه نسخ الحكم"، اس لیے کہ یہ حکم کا نسخ کرنا ہے اور یہ بندوں کے لیے جائز نہیں۔ "ولا يجوز الرجوع عن الإقرار والطلاق والعتاق لأنه نسخ وليس للعبد ذلك"، اسی طرح مولانا اقرار سے رجوع کرنا، طلاق سے رجوع کرنا، عتاق یعنی آزاد کرنے سے رجوع کرنا، یہ بھی صحیح نہیں ہے، یہ بھی جائز نہیں، "لأنه نسخ"، کی اس لیے کہ یہ نسخ ہے، "وليس للعبد ذلك"، اور نہیں ہے بندے کو اس کا حق بھئی! بندے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ دیکھو ایک ادمی اقرار کرتا ہے کسی کے لیے، بھئی میں نے زید کے 1,000 روپے دینے ہیں اور پھر کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس سارے سے رجوع کرنا چاہتا ہے، میں نے زید کا کوئی روپیہ نہیں دینا بھئی، رجوع نہیں ہو سکتا مولانا! صورت سمجھ میں آئی؟ ایک دفعہ جب اقرار کر لیا، اب اقرار سے رجوع جائز نہیں، کیوں؟ کیونکہ رجوع دراصل کیا ہے؟ نسخ ہے اور نسخ تو بندے کے لیے جائز نہیں۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، بعد میں اس طلاق سے رجوع کرنا چاہتا ہے کہ اس طلاق کو بالکلیہ ختم کر دے، رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ طلاق ثابت ہو چکی ہے اور اب اس کو ختم کرنا یہ کیا ہے؟ نسخ ہے اور نسخ تو کیا ہے؟ بندے کے لیے جائز نہیں بھئی! صورت سمجھ میں آئی؟ اپ یہ نہ کہیں طلاقِ رجعی میں تو رجوع ہو جایا کرتا ہے بھئی! بھئی وہ رجوع ہوتا ہے وہ طلاق نہیں ختم ہوتی، اس نے ایک طلاقِ رجعی دی تھی تو ایک چلی گئی، اب اس کے پاس کتنی باقی رہ گئیں؟ دو رہ گئیں۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پہلی والی طلاق پھر ا جائے، بالکل وہ جو دی تھی وہی ختم ہو جائے سرے سے، نہیں۔ اب وہ ایک رجوع کر لیا لیکن وہ طلاق کیا ہے؟ وہ طلاق تو تھی، ہو چکی ہے، ایک اس کے پاس تین طلاقوں کا حق تھا اس شخص کے پاس، اب کتنی رہ گئی ہیں؟ دو رہ گئی ہیں۔ اسی طرح آزاد کرتا ہے ایک شخص اپنے غلام کو بھئی! اور بعد میں اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی! یہ رجوع نہیں کر سکتا اس لیے کہ ایک حکم جب ثابت ہو گیا، اب اس کی جگہ رجوع کر کے دوسرا حکم ثابت کرنا چاہتا ہے اور یہ تو نسخ ہے اور نسخ تو بندے کی طرف سے جائز نہیں۔ کہتے ہیں: "لأنه نسخ"، اس لیے کہ یہ نسخ ہے، "وليس للعبد ذلك"، اور نہیں ہے بندے کے لیے وہ، یعنی نسخ کرنا، نسخ کرنا بندے کے لیے جائز نہیں۔ "ولو قال: لفلان علي ألف قرض أو ثمن المبيع، وقال: وهي زيوف"، جی! یہاں سے وہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں بھئی! بھئی، بیانِ تغییر بھئی! صفحہ 70 کے اخر میں انہوں نے ذکر کیا تھا، بالکل اخری سطر کے اخر میں بھئی! کہ اس کے بعد کچھ ایسے مسائل ہیں جن میں اختلاف کیا ہے علماء نے، بعضوں نے کہا یہ بیانِ تغییر میں سے ہے، بعضوں نے کہا بیانِ تغییر، اگر ان کو بیانِ تغییر سے مانا جائے تو ان کا موصولاً تو وہ بیانِ تغییر صحیح ہوتا ہے، مفصولاً صحیح، اور اگر بیانِ تبدیل سے مانا جائے تو نہ موصولاً صحیح، نہ مفصولاً صحیح۔ تو اس میں اختلاف کیا تھا، کچھ مسائل تھے، کہا تھا وہ اگے ائیں گے، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں مولانا! سمجھ میں ایا بھئی؟ تو وہ اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں بھئی، مصنف بھئی! "ولو قال لفلان علي"، ایک شخص کہتا ہے دیکھو بھئی: "لفلان علي ألف قرض وهي زيوف"، "لفلان علي ألف قرض وهي زيوف"، فلاں کے مجھ پر 1,000 قرض کے ہیں اور وہ کھوٹے ہیں، "وهي زيوف"، وہ کھوٹے ہیں۔ تو اب امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بیانِ تبدیل ہے اور بیانِ تبدیل نہ موصولاً صحیح ہے، ملا کر کہنا بھی صحیح نہیں، اور مفصولاً بھی صحیح نہیں، اس لیے کہ بیانِ تبدیل تو دراصل کیا ہے؟ نسخ ہے اور بندوں کے لیے نسخ کا حق حاصل نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس صورت میں یہ بیانِ تغییر ہے۔ یہ کیا ہے؟ بیانِ تغییر ہے اور بیانِ تغییر موصولاً صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صورتِ مسئلہ یہ، ایک شخص نے کہا: "لفلان علي ألف قرض وهي زيوف"، فلاں کے مجھ پر 1,000 قرض کے ہیں اور وہ کھوٹے ہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ بیانِ تغییر ہے، اس لیے کہ جب اس نے کہا: "لفلان علي ألف قرض"، فلاں کے مجھ پر 1,000 قرض کے ہیں، 1,000 کس کے ہیں؟ قرض کے ہیں۔ تو یہ کلام بظاہر یہ تقاضا، اس کا ظاہری معنی یہ ہے کہ اس پر کھڑے انے چاہئیں یا کھوٹے انے چاہئیں بھئی؟ کھڑے انے چاہئیں بھئی! سمجھ میں ایا بھئی؟ کون سے، ظاہر کیا ہے اس کلام کا کہ اس نے جب قرض لیا ہے تو یقیناً کون سے سکے لیے ہیں؟ کھڑے لیے ہیں، اس لیے کہ قرض کے ذریعے اس نے نفع حاصل کرنا ہے اور نفع کھڑوں سے حاصل کرے گا یا کھوٹوں سے حاصل کیا جاتا ہے؟ کھڑوں سے نفع حاصل کیا جاتا ہے، تو ظاہرِ کلام یہ کہ اس نے کھڑے لیے ہیں۔ لیکن کھوٹے سکوں کا بھی تو احتمال ہے۔ کھوٹے کا بھی اس میں احتمال ہے۔ اگے اس نے ملا کر کہہ دیا: "وهي زيوف"، یہ کیا ہیں؟ کھوٹے ہیں، اس نے بیان کیا ذکر کیا کہ یہ کس قسم کے سکے ہیں؟ کھوٹے ہیں، کھوٹے ہیں۔ تو کہتے ہیں بھئی ماقبل کلام کا ظاہری معنی کیا تھا کہ کس قسم کے ہیں؟ کھڑے۔ لیکن احتمال کس چیز کا تھا؟ کھوٹوں کا بھی احتمال تھا، تو اس نے اسی احتمال کو اگے ثابت کر دیا: "وهي زيوف"، یہ کیا ہیں؟ کھوٹے ہیں۔ تو یہ بیانِ تغییر ہے مولانا! اس لیے کہ اس نے کلام کو بدل ڈالا، کس سے مولانا؟ ظاہر سے۔ ظاہری معنی کیا تھے کہ کیسے انے چاہئیں تھے؟ اور اس نے کلام کو بدل ڈالا اس کو تبدیل کر دیا، کس سے بھئی؟ کھوٹوں سے، لیکن بہرحال وہ احتمال تو تھا، لیکن اس نے بدلا ہے بھئی! سمجھ میں ایا بھئی؟ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ بیانِ تغییر کہلاتا ہے، لہٰذا کھوٹے ائیں گے بھئی! جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے ذکر کیا ہے قرض، اور قرض ہے عقدِ معاوضہ، قرض کیا ہے؟ عقدِ معاوضہ، اور عقدِ معاوضہ وہ عقد جس میں جانبين سے عوض دیا جاتا ہے بھئی! تو یہاں پر بھی جانبين سے عوض ہوتا ہے، ایک شخص پیسے لیتا ہے اور بعد میں اس کو پیسے، دوسرے پیسے وہی قرض میں وہی واپس کرتا ہے یا دوسرے ادا کرتا ہے؟ دوسرے، وہ تو اس نے اپنے نفع میں لگا لیے، تو یہ بھی عقدِ معاوضہ ہے مولانا! اور عقدِ معاوضہ کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی پر جو مال واجب ہو وہ بغیر عیب کے ہو، اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ عقدِ معاوضہ میں کیا دوسرے پر عیب والی چیز واجب ہوتی ہے یا بغیر عیب کے بھئی؟ بغیر، وہ مال جو کسی پہ واجب ہوتا ہے، وہ بغیر عیب کے ہوا کرتا ہے بھئی! سمجھ میں ایا؟ تو لہٰذا جب اس نے کہا: "لفلان علي ألف قرض"، فلاں کے مجھ پر 1,000 قرض کے ہیں اور قرض تو ہے عقدِ معاوضہ، اور عقدِ معاوضہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر جو مال واجب ہو وہ کیا ہونا چاہیے؟ عیب سے پاک ہونا چاہیے، عیب سے سلامت ہونا چاہیے، یہ کلام یہ تقاضا کر رہا ہے، تو لہٰذا اس کلام سے اس پر کیا لازم اگئے؟ کھڑے سکے لازم اگئے، کیا اگئے؟ کھڑے سکے لازم ائے کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ ہے، اور پھر اگے "وهي زيوف" کہہ کر اس کو وہ تبدیل کرنا چاہتا ہے، اس حکم کی جگہ دوسرا حکم لانا چاہتا ہے، تو یہ بیانِ تبدیل ہے اور تبدیل اور نسخ کا حق تو بندوں کو حاصل نہیں۔ تو صاحبین کے نزدیک اس نے "وهي زيوف" کہا تو یہ بیانِ تغییر ہے لہٰذا موصولاً تو صحیح، ملا کر کہا اس نے پہلے کلام کے ساتھ پھر تو صحیح، اگر جدا کر کے کہا بعد میں تو پھر صحیح نہیں۔ جبکہ صاحب، امام صاحب کے ملا کر کہنا بھی صحیح نہیں اور الگ کر کے کہنا بھی صحیح نہیں، اس لیے کہ یہ بیانِ تبدیل ہے بھئی! صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح بھئی! اگر کسی نے یوں کہا: "لفلان علي ألف ثمن المبيع"، فلاں کے مجھ پر 1,000 ہیں مبیع کے ثمن کے، مبیع کے ثمن کے 1,000 ہیں بھئی مبیع کے ثمن کے، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ اس کلام کا ظاہر کیا ہے کہ اس پر کیسے انے چاہئیں؟ کھڑے انے چاہئیں لیکن ساتھ ہی اس نے کہہ دیا: "وهي زيوف"، تو اس نے کلام کو ظاہر سے پھیر ڈالا، ظاہر سے بدل ڈالا، لہٰذا یہ بیانِ تغییر ہے، تو موصولاً کہہ دیتا ہے تو صحیح، مفصولاً کہتا ہے تو صحیح نہیں، صورت بھی سمجھ میں ارہی ہے کہ نہیں؟ وہی قرض کی جگہ "ثمن المبيع" اس نے کہہ دیا بھئی! اور پھر یا، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ نہ موصولاً صحیح، نہ مفصولاً صحیح، اس لیے کہ یہ عقدِ معاوضہ ہے اور عقدِ معاوضہ کیا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر جو ثمن ائیں وہ کس قسم کے ہوں؟ کیونکہ عقدِ معاوضہ ذکر کیا کہ اس تو لہٰذا یہ عقدِ معاوضہ تقاضا کرتا ہے کہ اس پر جو مال واجب ہو وہ بغیر عیب کے ہونا چاہیے، عیب سے سلامت ہونا چاہیے، تو جب اس نے کہا: "لفلان علي ألف ثمن المبيع"، تو اس، اس کلام کی وجہ سے اس پہ کس قسم کے پیسے لازم ہو گئے؟ کھڑے سکے لازم ہو گئے کیونکہ یہ عقدِ معاوضہ اس نے ذکر کیا، بیع کا ذکر کر دیا بیچ میں، اور اگے "وهي زيوف" کے ذریعے اس کو کیا کرنا چاہتا ہے؟ تبدیل کرنا چاہتا ہے، نسخ کرنا چاہتا ہے، لہٰذا یہ اس کے لیے کرنا جائز نہ موصولاً جائز ہے اور نہ مفصولاً جائز ہے۔ "ولو قال لفلان علي ألف قرض"، اگر کہا کسی نے کہ فلاں کے مجھ پر 1,000 ہیں قرض، "أو ثمن المبيع"، یا 1,000 ہیں مبیع کے ثمن، "وقال وهي زيوف"، اور یہ بھی کہا "وهي زيوف" کہ یہ کھوٹے ہیں، "كان ذلك بيان التغيير عندهما"، تو یہ بیانِ تغییر ہے صاحبین کے نزدیک، "فيصح موصولاً"، تو یہ موصولاً کیا ہے؟ ملا کر کہنا، درمیان میں اگر وقفہ کیا کلام کے اور رک گیا تو پھر صحیح نہیں، "وهو بيان التبديل عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة"، اور یہ بیانِ تبدیل ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "فلا يصح"، تو یہ صحیح نہیں، "وإن وصل"، اگرچہ ملا کر ہی کیوں نہ کہے۔ اگرچہ ملا کر ہی کیوں نہ کہے۔ بھئی ماتن نے "ألف قرض" کہا، "ألف ثمن المبيع" کہا، قرض اور ثمن المبيع کی قید لگائی، بتلایا کہ یہ عقدِ معاوضہ میں اس طرح ہے۔ اگر اس کے بجائے وہ یوں کہتا: "لفلان علي ألف وديعة"، "ألف وديعة" کہہ دیتا یا کہہ دیتا: "لفلان علي ألف غصب"، کیا کہہ دیتا؟ غصب کہہ دیتا، تو غصب کوئی عقدِ معاوضہ ہے؟ نہیں! یا ودیعت امانت کوئی عقدِ معاوضہ ہے؟ نہیں! تو پھر اس صورت میں "وهي زيوف" کہنا صحیح تھا۔ "وهي زيوف" کہنا، اس لیے کہ عقدِ معاوضہ ہوتا تو عقدِ معاوضہ میں جو ہے وجوبِ مال کس قسم کا ایا کرتا ہے؟ عیب سے پاک، جبکہ غصب کے اندر تو عیب جو بھی غاصب کو چیز مل جائے وہ اس کو غصب کر لیتا ہے تو سلامت ملی تو سلامت کو غصب کر لے گا، عیب والی ملی تو عیب والی کو ہی کیا کر لے گا؟ غصب کر لے گا لہٰذا اس میں بالاتفاق کیا ہے "وهي زيوف" کہنا اس کا۔ اسی طرح امانت کہا کہ فلاں کے مجھ پر میرے پاس ایک ہزار امانت کے ہیں مولانا، تو یہ بھی صحیح اس لیے کہ امانت کے اندر بھی کھوٹے بھی رکھوا سکتے ہیں اور کھوٹے بھی رکھوا سکتا ہے وہ۔ ولو قال لفلا: اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ لفلاں علي ألف من ثمن جارية باعنيها ولم أقبض، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں ایسی باندی کے ثمن میں سے باعنيها جو اس نے مجھ پر بیچی۔ بايع بیچی، باعني مجھ پر، یا مفعول کی ہے۔ ھا ضمیر یہ جاریہ کو راجع ہے بھئی، مفعول۔ جو مجھ کو اس نے بیچی ولم أقبضها، اور اس حال میں کہ میں نے اس پر قبضہ مجھے بیچی اور میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا۔ جی، والجارية لا أثر لها، اور باندی بھی ایسی ہے لا أثر لها، اثر بمعنی علامت کے کہ اس کی کوئی علامت نہیں۔ اس کی کوئی علامت یعنی کوئی متعین و معلوم باندی نہیں ہے، اس نے ویسے ہی کہا کوئی متعین باندی نہیں بتلائی کہ وہ جو باندی ہے یہ والی اس نے مجھے بیچی تھی اور میں پھر میں نے اس پر قبضہ مطلق ویسے ہی کہہ دیا کہ اس نے مجھے کوئی باندی بیچی تھی، اس کے ایک ہزار مجھ پر لازم ہیں لیکن میں نے اس باندی پر قبضہ نہیں کیا تھا۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بھی بیان تبدیل ہے، لہٰذا اب اس پر ایک تو نسخ ہے اور وہ نسخ کا حق اسے حاصل نہیں۔ لہٰذا وہ جو "ولم أقبضها" کہہ رہا ہے کہ میں نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، اس پر کتنے لازم ہو جائیں گے؟ ایک ہزار لازم ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیسے، دیکھو بھئی! اس نے کہا لفلاں علي ألف، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں من ثمن جارية ایسی باندی کے ثمن میں سے، دیکھو جاریہ نکرہ لائے معرفہ نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے، کوئی متعین باندی اس نے ذکر نہیں کی کہ فلاں باندی۔ ایسی باندی کے ثمن میں سے باعنيها جو اس نے کیا کی تھی مجھے بیچی تھی، تو امام صاحب فرماتے ہیں دیکھو یہ اقرار کر رہا ہے اپنے اوپر ثمن کے لازم ہونے کا۔ اقرار کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ کہ فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار، ایسی باندی جو اس نے میرے ہاتھ بیچی تھی، تو یہ اقرار کر رہا ہے لزوم ثمن کا۔ اور لزوم ثمن کب آیا کرتے ہیں؟ کہ جب اس نے مبیع پر قبضہ بھی کیا ہو۔ ثمن کب لازم ہوتے ہیں دوسرے پر؟ جب اس نے مبیع پر قبضہ بھی کیا ہو۔ تو لزوم ثمن کا یہاں اقرار کر رہا ہے اور یہ اقرار ہے قبضے کا بھی، کس چیز کا؟ قبضے کا بھی، جبکہ مبیع اس کے پاس ہلاک ہو چکا ہو۔ کیا ہو چکا ہو؟ مثلاً بھئی، یہ باندی اس نے کوئی خریدی تھی دوسرے شخص سے اور یہ باندی اس کے پاس آکر ہلاک ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ تو مبیع پر تو یہ قبضہ کر چکا ہے لیکن مبیع چونکہ اس کے پاس ہلاک ہو گیا ہے لہٰذا اب یہ کیا کہہ رہا ہے؟ ولم أقبضها، میں نے تو اس پر قبضہ نہیں کیا۔ اور چونکہ قبضہ کر چکا تھا اس لیے اس پر ثمن کیا تھے؟ لازم ہوئے تھے۔ لازم ہوئے تھے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس مبیع کے ہلاک کے ہوتے وقت وہ کیا کر رہا ہے، گویا کہ مبیع کیا ہے؟ ہلاک ہو چکا ہے اور یہ قبضہ کر چکا ہے، اسی لیے تو اپنے اوپر ثمن کے لزوم کا اقرار کر رہا ہے۔ اگر اس نے اس باندی پہ قبضہ نہ کیا ہوتا، باندی کسی سے خریدی، قبضہ نہیں کیا اور بائع کے پاس ہی ہلاک ہو گئی، تو اس پہ کوئی ثمن لازم تھے؟ پھر یہ اس کو کہنا چاہیے تھا "لفلاں علي ألف من ثمن جارية باعنيها"؟ نہیں! پھر تو اس پر ثمن ہی لازم، کیونکہ وہ تو کس کے پاس ہلاک ہو گئی تھی؟ بائع کے پاس، تو جب بائع کے پاس ہلاک ہوئی پھر تو بیع ختم ہو گئی، پھر ثمن کس چیز کے لازم ہوئے؟ اور یہ تو کہہ رہا ہے: میرے اوپر ثمن کیا ہیں؟ معلوم ہوا، باندی پر یہ قبضہ کر چکا تھا اور قبضے کے بعد اس کے پاس باندی ہلاک ہوئی ہے، تو یہاں پر لزوم ثمن کا اقرار یہ اس بات کا بھی اقرار ہے کہ وہ باندی پر کیا کر چکا ہے؟ قبضہ کر چکا ہے اور اس کو وہ باندی اس کے پاس ہلاک ہو چکی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور نیز نکرہ ذکر کیا مولانا، اگر متعین باندی ذکر کر دیتا، "لا أثر لها" ماتن نے بھی کہا، اس باندی کی کوئی علامت بھی معلوم، کوئی متعین باندی ہے ہی نہیں۔ اگر متعین باندی ہے پھر تو آرام سے طے کیا جا سکتا ہے مولانا کہ اس نے باندی پر قبضہ کیا ہے یا وہ فلاں باندی ہے، اب دیکھ لیں گے آپ کہ اس نے قبضہ کیا ہے تو اس سے ثمن ہوں گے، اس نے قبضہ نہیں کیا، بائع کے پاس ہی ہے تو پھر اس پر ثمن نہیں، تو اس نے نکرہ ذکر کیا، کوئی متعین باندی نہیں ذکر کی، بس کوئی باندی تھی، کون سی باندی تھی یہ پتہ ہی نہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا، تو نے لزوم ثمن کا اقرار کیا ہے، معلوم ہوا تم قبضہ کر چکے ہو اور قبضے کے بعد تمہارے پاس ہلاک ہوئی ہے باندی۔ اب تم کیا کرنا چاہتے ہو "ولم أقبضها" کے ذریعے اس لزوم ثمن سے کو ختم کرنا چاہتے ہو، تو یہ تو رجوع ہوا اور رجوع تو نسخ ہے، اور نسخ بندے کے لیے جائز نہیں، دیکھا بھئی! ولو قال لفلاں علي ألف من ثمن جارية باعنيها، اور اگر کہا کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں ایسی باندی کے ثمن میں سے باعنيها جو اس نے مجھے بیچی تھی۔ بھئی، جاریہ نکرہ ہے اور باعنيها فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنا کرتا ہے اس کے لیے؟ صفت۔ اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسی۔ تو ایسی باندی کے ثمن میں سے باعنيها جو اس نے مجھے بیچی تھی ولم أقبضها، اور میں نے اس پر قبضہ نہیں، تو یہ "ولم أقبضها" بیان تبدیل ہے، یہ جائز نہیں۔ اور نیز والجارية لا أثر لها، باندی کی کوئی علامت بھی نہیں ہے، یعنی کوئی متعین باندی نہیں، معلوم باندی نہیں ہے بھئی، غیر معلوم ہے۔ کان ذلك بيان التبديل، یہ کیا ہو- کیا ہوگا؟ بیان تبد- بیان تبدیل ہوگا عند أبي حنيفة رحمه الله، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ لأن الإقرار بلزوم الثمن إقرار بالقبض، اس لیے کہ لزوم ثمن کا اقرار، یہ اقرار بالقبض بھی ہے۔ لزوم ثمن کب آئے گا؟ جب قبضہ بھی کر چکا ہو۔ تو لزوم ثمن کا اقرار، یہ کیا ہے؟ قبضے کا بھی اقرار ہے عند هلاك المبيع، جب کیا ہو مبیع ہلاک ہو گیا ہو اس کے پاس۔ إذ لو هلك قبل القبض، اس لیے کہ مبیع اگر قبضے سے پہلے ہلاک ہو چکا ہوتا ينفسخ البيع، تو بیع کیا ہو جاتی؟ فسخ ہو جاتی، جب بیع ہی فسخ ہو جاتی فلا يبقى الثمن لازماً، تو ثمن اس پر لازم بن کر باقی بھی نہ رہتے۔ اور یہ تو کہہ رہا ہے کہ ثمن مجھ پر لازم، معلوم ہوا یہ قبضہ کر چکا ہے اور اس کے بعد وہ باندی اس کے پاس کیا ہوئی ہے؟ ہلاک ہوئی ہے۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ چلیے بھئی، یہ کتاب اللہ کی بحث ختم ہوئی بھئی۔ هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 90 of 123