Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں، بیان کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ بیان کا میں نے بتلایا تھا، لغوی معنیٰ ہے ظاہر کرنا۔ اور اصطلاح میں بیان کہتے ہیں وہ امر جو کسی کی مراد کو ظاہر کر دے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ بیان کہتے ہیں۔ اور آپ کو مصنف نے بتلایا کہ بیان سات قسم پر ہے: بیانِ تقریر، بیانِ تفسیر، بیانِ تغیر، بیانِ ضرورت، بیانِ حال، بیانِ عطف، اور بیانِ تبدیل۔ ان میں سے دو قسمیں ہم نے پڑھی تھیں: ایک بیانِ تقریر اور ایک بیانِ تفسیر۔ بیانِ تقریر کس کو کہتے تھے؟ کہ لفظ کا معنیٰ تو ظاہر ہو لیکن اس میں غیر کا بھی احتمال ہو۔ تو وہ متکلم اپنے کلام کی مراد کو بیان کرتا ہے اسی چیز کے ساتھ جو ظاہر تھی، یعنی اسی ظاہری معنیٰ کو کیا بنا دیتا ہے؟ بیان بنا دیتا ہے، تو اسی کو پکا کر دیتا ہے۔ وہ معنیٰ جو ظاہر تھا اسی کو کیا کر دیتا ہے؟ پکا کر دیتا ہے۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ بیانِ تقریر۔ قرر یقرر تقریر کا کیا معنیٰ؟ پکا کرنا۔ اور دوسرا بیانِ تفسیر۔ بیانِ تفسیر یہ تھا کہ لفظ کی مراد ظاہر نہیں تھی، مفہوم واضح پوری طرح پتہ نہیں چل رہا تھا، تو وہ آگے آ کر بیان ذکر لاتا ہے اور تفسیر کر دیتا ہے اس مبہم چیز کی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیانِ تفسیر کہتے ہیں۔ جیسے کوئی شخص کہتا ہے: "لفلان علي شيء" (فلاں کے مجھ پر کوئی چیز ہے)۔ "فلاں کے مجھ پر..." اب "کوئی چیز" سے کیا مراد ہے؟ "شیء" کا لفظ لایا اور "شیء" کا اطلاق تو ہر چیز پر ہوتا ہے، تو چنانچہ وہ تفسیر بیان کرتا ہے اس مبہم کی اور بتلاتا ہے کہ "وہو ثوب" (وہ شے کیا ہے؟ ثوب ہے، کپڑا ہے) وغیرہ۔ تو کئی مثالیں اور اس کی ذکر ہوئیں۔ اور ان دونوں کا حکم یہ ذکر ہوا تھا کہ یہ موصولاً بھی صحیح ہیں، مفصولاً بھی... بیانِ تقریر اور بیانِ تفسیر ملا کر کہے اپنے کلام کے ساتھ یا جدا کر کے کہے، کچھ وقفہ کرے یا زیادہ وقفہ کرے، جس طرح بھی وہ بیانِ تفسیر کرے، دونوں صورتیں صحیح ہیں۔ آج ہم بیانِ تغیر کے بارے میں پڑھیں گے۔ کہتے ہیں: فصل: وأما بيان التغير فهو أن يتغير ببيانه معنى كلامه، ونظيره التعليق والاستثناء. بیانِ تغیر یہ ہے مولانا، لفظ سے ہی ظاہر ہے، تغیر کے لفظ سے ہی ظاہر ہو رہا ہے، وہ یہ کہ أن يتغير (کہ بدل جائے) ببيانه (اس متکلم کے بیان سے) معنى كلامه (اس کے کلام کا معنیٰ)۔ بیان کرنے والے کے بیان سے اس کے کلام کا معنیٰ کیا ہو جائے؟ بدل جائے۔ کلام کا معنیٰ کچھ اور تھا، بیان لے کر آیا معنیٰ کچھ اور ہو گیا۔ کلام کا معنیٰ کچھ اور تھا، بیان لے کر آیا تو معنیٰ کچھ اور ہو گیا۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ وہ ایسا... بیانِ تغیر وہ بیان ہے جو پہلے کلام کے مقتضٰى کو آ کر بدل دے۔ بیانِ تغیر وہ بیان ہے جو پہلے کلام کے مقتضٰى کو بدل دے۔ ایک کلام متکلم نے ذکر کیا، وہ کلام ایک چیز کا تقاضا کر رہا ہے، ایک معنیٰ کو ثابت کر رہا ہے، لیکن آگے وہ ایسا بیان لے کر آتا ہے جس نے اس کلام کے مقتضٰى ہی کو بدل دیا، اس کے معنیٰ ہی کو بدل دیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیانِ تغیر۔ مثال دیکھیے، کہتے ہیں: ونظيره التعليق والاستثناء (اور اس کی نظیر کیا ہے؟ بیانِ تغیر کی نظیر کیا ہے؟ تعلیق اور استثناء ہیں)۔ تعلیق: معلق کرنا کسی چیز کو شرط کے ساتھ، جیسے خاوند نے بیوی سے کہا: "أنت طالق إن دخلت الدار" (تجھے طلاق ہے اگر تو گھر میں داخل ہوئی)۔ تو دیکھا، اس نے "إن دخلت الدار" نے وقوعِ طلاق کو معلق کر دیا کس کے ساتھ؟ دخولِ دار... "أنت طالق إن دخلت الدار" یہ طلاق کب واقع ہوگی؟ جب وہ گھر میں عورت داخل ہوگی۔ تو دیکھا وقوعِ طلاق معلق ہو گیا کس کے ساتھ؟ دخولِ دار کے ساتھ۔ تو یہ تعلیق ہے، ایک چیز کو معلق کر دیا گیا دوسری چیز پر۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو تعلیق یہ مثال ہے، نظیر ہے بیانِ تغیر کی۔ دیکھو، خاوند بیوی کو اگر کہے "أنت طالق" تو اس سے کیا واقع ہو جایا کرتی ہے؟ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تو خاوند یوں کہتا ہے: "أنت طالق إن دخلت الدار" (تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی)۔ تو پہلے لایا "أنت طالق" (تجھے طلاق ہے)، اور یہ کلام اس کا مقتضٰى کیا ہے؟ یہ کلام کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ فوراً کیا ہو جانی چاہیے؟ طلاق۔ لیکن یہ جو آگے شرط ذکر کیا "إن دخلت الدار"، اس نے کلام کے مفہوم کو ہی بدل دیا، معنیٰ ہی کو بدل دیا۔ "أنت طالق" تو تنجیز کا تقاضا کر رہا تھا کہ فوری کیا ہونی چاہیے؟ طلاق۔ لیکن "إن دخلت الدار" نے کلام کے مقتضٰى ہی کو بدل دیا اور تنجیز کے بجائے یہ کیا بن گئی؟ تعلیق۔ فوری طلاق ہوئی یا طلاق معلق ہو گئی دخولِ دار کے ساتھ؟ معلق ہو گئی۔ تو یہ "إن دخلت الدار" یہ بیانِ تغیر ہے، اس نے "أنت طالق" کے مقتضٰى ہی کو بدل دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اچھی طرح؟ اور اسی طرح استثناء ہے مولانا، یہ بھی بیانِ تغیر کی نظیر ہے۔ ایک شخص کہتا ہے: "لفلان علي ألف" (فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں)۔ اس کلام نے کیا تقاضا کیا؟ کہ اس مقر پر کتنے لازم ہو گئے؟ ایک ہزار۔ لیکن آگے وہ استثناء لاتا ہے ساتھ ہی، یوں کہتا ہے: "لفلان علي ألف إلا مائة" (فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں مگر سو)۔ تو اس نے ہزار میں سے کتنے کا استثناء کر دیا؟ سو کا، تو اب اس پر کتنے لازم ہو گئے؟ 900 لازم ہوئے۔ کتنے لازم ہوئے؟ 900۔ تو دیکھا، یہ "إلا مائة" یہ استثناء جو ہے یہ بیانِ تغیر ہے۔ کیونکہ ماقبل جو تھا "لفلان علي ألف"، یہ کلام تقاضا کر رہا تھا کہ اس شخص پر کتنے لازم ہونے چاہئیں؟ ایک ہزار۔ لیکن "إلا مائة" نے آ کر پہلے کلام کے مقتضٰى ہی کو بدل دیا اور اب کتنے واجب ہیں اس پر؟ 900۔ تو دیکھا، یہ "إلا مائة" یہ کیا ہے؟ بیانِ تغیر۔ اس نے پہلے کلام کے معنیٰ ہی کو بدل دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: ונظيره التعليق والاستثناء (اور بیانِ تغیر کی نظیر جو ہیں تعلیق ہیں اور استثناء ہیں)۔ وقد اختلف الفقهاء في الفصلين (اور تحقیق اختلاف کیا ہے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ان دونوں فصلوں میں، یعنی تعلیق اور استثناء میں، ان دونوں میں)۔ فقال أصحابنا (پس ہمارے اصحاب یعنی ہمارے فقہائے کرام فرماتے ہیں): المعلق بالشرط سبب عند وجود الشرط لا قبله (معلق بالشرط، وہ چیز جو معلق کی گئی ہے شرط کے ساتھ، وہ سبب بنتی ہے وجودِ شرط کے وقت، نہ کہ اس سے پہلے)۔ دیکھو، خاوند نے بیوی سے کہا: "أنت طالق إن دخلت الدار" (تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی)۔ تو "أنت طالق" یہ طلاق کا سبب فی الحال بنے گا یا اس وقت بنے گا جب وہ عورت گھر میں داخل ہوگی؟ ہمارے نزدیک یہ "أنت طالق" سبب بنے گا کس چیز کا؟ طلاق کا، کس وقت؟ جب وہ عورت گھر میں داخل ہوگی، یعنی فی الحال یہ طلاق کا سبب نہیں۔ فی الحال طلاق کا سبب نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہی بات کر رہے ہیں۔ تو دیکھا یہاں پر "أنت طالق إن دخلت الدار"، "أنت طالق" یہ ہے معلق، کس چیز کے ساتھ معلق ہے؟ "إن دخلت الدار" کے ساتھ۔ تو معلق بالشرط جو ہوتا ہے، وہ چیز جو معلق کی جائے شرط کے ساتھ، سبب وہ کیا بنتی ہے؟ تو یہ "أنت طالق" سبب بنے گا کس چیز کا؟ طلاق کا، عند وجود الشرط (شرط کے پائے جانے کے وقت)۔ جب شرط پائی جائے گی، دخولِ دار پایا جائے گا، تو یہ "أنت طالق" سبب بن جائے گا کس چیز کا؟ طلاق کا۔ تو اس وقت اس "أنت طالق" سے طلاق ہوگی، فی الحال یہ طلاق کا سبب نہیں ہے۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: لا قبله (اس سے پہلے، شرط کے پائے جانے سے پہلے یہ طلاق کا سبب نہیں بنے گا)۔ وقال الشافعي رحمه الله تعالى: التعليق سبب في الحال إلا أن عدم الشرط مانع من حكمه (اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تعلیق فی الحال سبب ہے مگر عدمِ شرط مانع ہے اس کے حکم سے)۔ ہم نے کیا ضابطہ کیا؟ ہمارے فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کہ "أنت طالق" یہ فی الحال سبب نہیں طلاق کا، یہ طلاق کا سبب کب بنے گا؟ جب شرط پائی جائے گی، دخولِ دار پایا جائے گا، تو اس وقت یہ "أنت طالق" سبب بنے گا اور اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ فی الحال سبب بن رہا ہے طلاق کا۔ "أنت طالق" کیا ہے؟ فی الحال طلاق کا سبب بن رہا ہے۔ تو پھر طلاق واقع کیوں نہیں ہو رہی فی الحال؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مانع موجود ہے، کیا موجود ہے؟ یہ تو فی الحال سبب بن رہا ہے لیکن مانع موجود ہے اور وہ کیا؟ کہ شرط نہیں پائی جا رہی۔ شرط نہیں، تو یہ فی الحال سبب بن رہا ہے لیکن شرط کا عدم (معدوم ہونا)، یہ مانع بن گیا، اس کو واقع نہیں ہونے دے رہا۔ یہ سبب فی الحال بن رہا ہے لیکن یہ جو شرط ہے اس کا نہ پایا جانا یہ مانع بن گیا، یہ فی الحال طلاق کو واقع نہیں ہونے دے رہا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یوں سمجھو بات کو۔ ہمارے نزدیک "أنت طالق إن دخلت الدار"، اس کے اندر معلق کون ہے؟ "أنت طالق"۔ یہ طلاق کا سبب فی الحال بنے گا ہمارے نزدیک یا وجودِ شرط کے وقت؟ وجودِ شرط کے وقت بنے گا۔ تو گویا ہمارے نزدیک اس نے ابھی "أنت طالق" کہا ہی نہیں۔ اس شخص نے فی الحال گویا ابھی "أنت طالق" کہا ہی نہیں۔ یہ "أنت طالق" اس وقت پایا جائے گا جب دخولِ دار پایا جائے گا۔ جیسے دخولِ دار پایا جائے گا، اسی آن میں گویا کہ اس نے "أنت طالق" کہا ہے اور اس وقت طلاق واقع ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہمارے نزدیک یہ معلق بالشرط سبب بنتا ہے حکم کا کس وقت؟ جب کہ شرط پائی جائے۔ اور اس وقت جو حکم نہیں پایا جاتا، یہ اس وجہ سے نہیں کہ شرط مانع ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ گویا اس کو بولا ہی نہیں گیا۔ اس پر... یعنی اس میں عدمِ اصلی ہی ہے۔ عدمِ اصلی ہے یہاں پر۔ یعنی ابھی تو وجود ہی نہیں، ابھی "أنت طالق" پایا ہی نہیں جا رہا۔ سمجھ میں آیا؟ عدمِ اصلی... ایک ہوتا ہے عدم، مطلق عدم۔ تو وہ تو ایک چیز کو ابھی آپ نے... ایک چیز کو وجود ہی نہیں دیا گیا تو وہ عدمِ اصلی ہے۔ اور ایک کو وجود دیا جائے پھر اس کو کیا کر دیا جائے؟ ختم کر دیا جائے، تو یہ بھی عدم ہے۔ لیکن یہاں کون سا عدم مراد ہے؟ عدمِ اصلی، یعنی ابھی گویا وجود ہی نہیں دیا گیا۔ عدمِ... گویا ابھی یہ لفظ کہا ہی نہیں گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہمارے نزدیک مانعِ حکم کیا ہے؟ عدمِ اصلی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مانعِ حکم کیا ہے؟ عدمِ شرط۔ عدمِ شرط... ان کے نزدیک شرط ابھی نہیں پائی جا رہی، فی الحال سبب بن رہا ہے، فی الحال طلاق ہونی چاہیے، لیکن چونکہ شرط معدوم ہے تو یہ مانع ہوا، حکم بھی واقع نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ کیا ضابطہ ذکر ہوا؟ کتاب کے اندر دیکھیے: فقال أصحابنا: المعلق بالشرط سبب عند وجود الشرط لا قبله (پس ہمارے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ معلق بالشرط جو ہوتا ہے وہ سبب بنتا ہے حکم کا عند وجود الشرط، شرط کے پائے جانے کے وقت، لا قبله، اس سے پہلے نہیں)۔ وقال الشافعي رحمه الله: التعليق سبب في الحال (اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تعلیق فی الحال سبب ہے)۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوا کہ فی الحال واقع کیوں نہیں ہوتی؟ تو کہتے ہیں: إلا أن عدم الشرط مانع من حكمه (مگر یہ کہ عدمِ شرط جو ہے وہ مانع ہے حکم سے)۔ یعنی شرط پائی نہیں جا رہی، دخولِ دار ابھی پایا نہیں جا رہا اس لیے ابھی طلاق واقع... ورنہ یہ سبب فی الحال ہے، سبب... تو ان کے... ہمارے نزدیک تعلیق سبب بنتی ہے شرط کے پائے جانے کے وقت، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تعلیق سبب بنتی ہے فی الحال۔ کب بنتی ہے؟ کیا ضابطہ ہوا ہمارے نزدیک؟ ہمارے نزدیک معلق بالشرط سبب بنتا ہے حکم کا کب؟ وجودِ شرط کے وقت، اس سے پہلے نہیں؛ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک؟ فی الحال سبب بنتا ہے، البتہ مانع ہونے کی وجہ سے وہ چیز واقع... وہ طلاق مثلاً واقع نہیں ہوتی۔ اور وہ مانع کیا ہے؟ عدمِ شرط، شرط کا نہ پایا جانا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ان کے نزدیک مانع کیا ہے؟ عدمِ شرط۔ مانع کیا ہے؟ اور ہمارے نزدیک مانع ہے عدمِ اصلی۔ ہمارے نزدیک مانع کیا ہے؟ تو ہمارے نزدیک تو اس نے سبب بننا ہے اس وقت جب وہ شرط پائی جائے گی۔ تو ابھی عدمِ اصلی ہے، گویا ابھی کہا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ و فائدۃ الخلاف تظہر اور اختلاف کا فائدہ ظاہر ہوگا فیما اس صورت میں اذا قال لاجنبیۃ جب کسی شخص نے اجنبیہ عورت سے کہا ان تزوجتک فانت طالق اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا، میں نے تجھ سے شادی کی فانت طالق تو تجھے طلاق ہے او قال لعبد الغیر یا کسی شخص نے غیر کے غلام سے کہا ان ملكتک فانت حر اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے۔ اجنبیہ کو کہہ رہا ہے ایک آدمی ان تزوجتک فانت طالق، اور غیر کے غلام سے کہہ رہا ہے ان ملكتک فانت حر، غیر کے کہہ رہا ہے۔ تو اب وہ ضابطہ لگاؤ بھئی۔ یکون التعلیق باطلا عندہ، تعلیق باطل ہوگی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ یہ تعلیق کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر وہ نکاح کر بھی لے تو طلاق واقع، وہ غلام کو کا مالک بن بھی جائے تو غلام آزاد کیوں نہیں آزاد ہوگا؟ اس لیے کہ انہوں نے ضابطہ بتایا کہ ان کے نزدیک یہ جو معلق بالشرط ہے یہ کب سبب بنتا ہے حکم کا؟ ان کے نزدیک فی الحال، تو فی الحال انت طالق یہ سبب بن رہا ہے کس کا؟ طلاق، اور یہ سبب بن ہی نہیں سکتا فی الحال کیونکہ یہاں پر وہ جو محل ہے وہ اس کو قبول ہی نہیں کرتا، وہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے بھئی۔ اس کی بیوی ہے وہ؟ ملک حاصل ہے؟ تو فی الحال ملک ہی حاصل نہیں اور اس نے تو سبب بننا ہے فی الحال انت طالق نے، اور فی الحال تو وہ محل اس بات کو قبول ہی نہیں کر رہا، لہٰذا تعلیق ہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اور غلام کو کہا ان ملكتک فانت حر، تو فانت حر کیا الگ کرنا چاہتا ہے، کیا چاہتا ہے کہ غلام کیا ہو جائے؟ آزاد ہو جائے، اور ان کے نزدیک تو یہ معلق ہوا کس چیز کے ساتھ؟ مالک ہونے کے ساتھ، ان ملكتک کے ساتھ، تو اور تو اور یہ فی الحال سبب بن رہا ہے کس چیز کا؟ ان کے نزدیک، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک انت حر کیا ہے؟ فی الحال کس چیز کا سبب بن رہا ہے؟ آزادی کا، اور فی الحال تو یہ آزادی کا سبب بن ہی کیونکہ یہ غلام کا مالک ہی نہیں ہے، وہ تو غیر کا غلام ہے، تو محل ہی قبول نہیں کر رہا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں پر وقوعِ حریت کو اور وقوعِ طلاق۔ صورت سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ جبکہ ہمارے نزدیک انت طالق فی الحال طلاق کا سبب ہی، یہ کس وقت طلاق کا سبب بنے گا جب شرط پائی جائے گی، اور جب شرط پائی جائے گی تو اس وقت تو یہ مالک ہوگا، ان تز اگر میں نے نکاح کیا تو نکاح جب کرے گا تو ملک پائی جائے گی یا نہیں پائی جائے گی؟ اس وقت تو ملک پائی جائے گی اور اس وقت یہ انت طالق گویا اسی وقت پایا گیا اور جب اس وقت پایا گیا تو اپنی ملک پر واقع ہوا، اور جب ملک پر واقع ہوا تو اس صورت میں کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور اسی طرح ان ملكتک فانت حر کہا، تو جس وقت شرط پائی جائے گی تو انت حر سبب بنے گا کس چیز کا؟ آزادی کا، اور اس وقت تو وہ کیا بنے گا اس کا؟ مالک ہوگا یا نہیں ہوگا؟ مالک ہے، اس نے یہی تو شرط لگائی تھی اگر مالک بنا، تو ملک پائی جائے گی اور جب ملک پائی جائے گی تو اس وقت وہ سبب بن سکتا ہے یا نہیں آزادی کا؟ یہ کلام انت حر آزادی کا سبب بن سکتا ہے۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ یکون التعلیق باطلا عندہ، تعلیق باطل ہوگی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لان حکم التعلیق انعقاد صدر الکلام علۃ، اس لیے کہ تعلیق کا حکم کیا ہے؟ تعلیق کا کیا حکم ہے بھئی؟ انعقاد صدر الکلام، صدرِ کلام کا منعقد ہونا علۃ، اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ علت ہو۔ صدرِ کلام یا یوں ترجمہ آسان کر لو، صدرِ کلام کا علت بننا۔ صدرِ کلام کا علت بننا۔ بھئی صدرِ کلام سے مراد ہے جزا۔ صدرِ کلام سے کیا مراد ہے؟ دیکھو ذرا، وہ کون سے قول اوپر جس پر یہ ساری بحث ہو رہی ہے؟ کیا کہا اجنبیہ سے؟ ان تزوجتک فانت طالق، تو ماقبل میں ان تزوجتک یہ ہے شرط، اور فانت طالق یہ کیا ہے؟ جزا، تو صدرِ کلام تو ان تزوجتک ہوا، کیا ہوا؟ اور طلاق کا سبب ان تزوجتک ہے یا انت طالق ہے؟ جی؟ طلاق کی علت، طلاق کس سے واقع ہوتی ہے؟ انت طالق سے، تو انت طالق علت ہے طلاق کی نا کہ ان تزوجتک۔ خاوند بیوی کو کہے انت طالق کیا واقع ہوتی ہے؟ طلاق، اور اگر صرف یہ کہے ان تزوجتک طلاق ہوتی ہے؟ طلاق کا سبب کون سا قول ہے؟ انت طالق، اور اسی طرح غیر کے غلام سے کہا ان ملكتک فانت حر، تو آزادی کا سبب کون سا قول ہے؟ انت حر، یہ انت حر سے کیا واقع ہوا کرتی ہے؟ یہ علت ہے آزادی کی، اور انت طالق علت ہے کس چیز کی؟ طلاق کی، اور مصنف کہہ رہے ہیں کہ صدرِ کلام علت بنتا ہے حکم کے لیے۔ صدرِ کلام کیا بنے گا؟ علت بنے گا، کس کے لیے؟ یعنی وقوعِ طلاق یا وقوعِ حریت کے لیے کیا بنے گا صدرِ کلام؟ علت، اور صدرِ کلام کون ہے ان مثالوں میں؟ ان تزوجتک، اور ان تزوجتک علت بنتا ہے طلاق کے لیے؟ نہیں، اور اگلے میں ہے ان ملكتک، اور ان ملكتک سبب بنتا ہے حریت کے لیے؟ نہیں، تو اسی لیے میں نے کہا صدرِ کلام سے مراد ہے جزا۔ صدرِ کلام سے کیا مراد ہے؟ جزا مراد ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگر یوں ہوتا نا، یوں کلام: انت طالق پہلے ہوتا اور ان تزوجتک بعد میں ہوتا، انت طالق ان تزوجتک، اب تو کلام ٹھیک ہوتا، اب صدرِ کلام کیا بنتا؟ علت، اور یوں ہوتا: انت حر ان ملكتک، تو اس صورت میں بھی دیکھو انت حر کیا ہو جاتا؟ مقدم، صدرِ کلام بن جاتا، اور صدرِ کلام کیا بنتا؟ علت بنتا آزادی کے لیے یا طلاق کے لیے، اور مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ صدرِ کلام کہہ رہے ہیں، حالانکہ جو مثالیں انہوں نے ذکر کیں اس میں تو صدرِ کلام علت بن ہی نہیں سکتا، بلکہ کون علت بنے گا؟ جزا بنے گی علت، تو صدرِ کلام سے ان کی مراد گویا جزا ہے بھئی۔ کیا مراد ہے ان کی؟ صدرِ کلام سے مراد جزا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ صدرِ کلام سے، ورنہ تو صدرِ کلام تو پہلا حصہ کلام کا، اور وہ تو علت بنا، تو مراد اس سے کیا ہے ان کی؟ جزا ہے، دونوں صورتوں میں جزا سبب بن رہی ہے حریت کے لیے اور طلاق کے لیے۔ بھئی پھر اس کو صدرِ کلام کیوں کہا انہوں نے؟ اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ اصل جزا ہوا کرتی ہے، اور یہ شرط جو ہوتی ہے یہ قید ہوا کرتی ہے بھئی۔ شرط کیا ہوتی ہے؟ قید ہوا کرتی ہے۔ جزا اگر جملہ خبریہ ہو، جزا اگر کیا ہو؟ جملہ خبریہ ہو، تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ کہلاتا ہے، اور اگر جزا جملہ انشائیہ ہو، تو یہ جملہ شرطیہ کیا کہلاتا ہے؟ جملہ شرطیہ انشائیہ۔ دیکھو، مثلاً میں کہتا ہوں: ان جئتنی فاکرمک، اگر تو میرے پاس آیا تو میں تیرا اکرام کروں گا، تو میں تیرا، تو یہ ایک پہلے شرط ہے، ان جئتنی یہ شرط، فاکرمک یہ کیا ہے اس کی؟ جزا، تو یہ جملہ شرطیہ ہوا۔ یہ بات تو معلوم ہے یا نہیں آپ کو؟ یہ جملہ شرطیہ ہے، اب سوال پیدا ہوتا ہے یہ جملہ شرطیہ کون سا ہے؟ خبریہ ہے یا؟ تو علماء کیا فرماتے ہیں کس کو دیکھ لو؟ جزا کو دیکھ لو۔ اور جزا یہاں پر کیا ہے؟ فاکرمک، میں آپ کا اکرام کروں گا، خبر ہے یا انشاء ہے یہ؟ یہ خبر ہے مولانا، میں کیا کروں گا آپ کا؟ اکرام، تو لہٰذا یہ جملہ شرطیہ کون سا ہوا؟ خبریہ، اور اگر یہی جزا انشاء ہو، ان جاء زید فاكرمہ، اگر زید آیا تو اس کا کیا کر؟ اکرام کر، دیکھو، یہ جملہ شرطیہ ہے، لیکن اس کی جزا کیا ہے؟ فاكرمہ، امر آ رہا ہے، جملہ انشائیہ ہے، تو یہ جملہ شرطیہ انشائیہ کہلائے گا۔ معلوم ہوا جملہ شرطیہ کا دارومدار کس پر ہے؟ جزا، اگر جزا خبر ہے تو یہ جملہ شرطیہ خبریہ، اور اگر جزا انشاء ہے تو یہ جملہ شرطیہ انشائیہ ہوا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اصل ہوتی ہے جزا، اور یہ شرط اس کے لیے قید ہوا کرتی ہے، شرط کیا ہوا کرتی ہے؟ قید ہوا کرتی ہے، تو اصل کیا ہوتی ہے؟ جزا، اسی لیے اس کو صدرِ کلام کہہ دیا، کیا کہہ دیا؟ صدرِ کلام کہہ دیا کہ وہ اصل ہے، اصلِ کلام ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اچھا، تو دیکھیے ان صورتوں میں لان یکون التعلیق، کتاب پہ دیکھیے، یکون التعلیق باطلا عندہ، تعلیق باطل ہوگی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک لان حکم التعلیق انعقاد صدر الکلام علۃ، اس لیے کہ تعلیق کا حکم کیا ہے؟ منعقد ہونا کس کا؟ صدرِ کلام کا یعنی جزا کا، اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ علت ہو، کہ صدرِ کلام علت ہو ہو کر منعقد ہو، صدرِ کلام کیا ہو؟ علت بنے، یوں کہیں بھئی، مفہوم یہ ہے، صدرِ کلام کا علت بننا۔ تو تعلیق کا حکم کیا ہے؟ صدرِ کلام کا علت بننا۔ بھئی دیکھو، کیا بات کی؟ انت طالق مثلاً مقدم کر دو، انت طالق ان دخلت الدار، تو یہ صدرِ کلام جو ہے، علت بنے گا، علت بنے گا حکم کی، کس وقت؟ فی الحال، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ صدرِ کلام علت بنے گا کس چیز کا؟ حکم کا، کس وقت؟ فی الحال، اور فی الحال یہ علت بن سکتا ہے؟ فی الحال یہ علت نہیں بن سکتا۔ لان حکم التعلیق انعقاد صدر الکلام علۃ، اس لیے کہ تعلیق کا حکم جو ہے وہ منعقد ہونا ہے صدرِ کلام کا بطورِ علت کے والطلاق والعتاق ہاہنا لم ینعقد علۃ، اور طلاق اور آزادی جو ہیں جی، ہاں، اور آزادی جو ہیں، یہ یہاں پر منعقد نہیں ہوتے علت بن کر لعدم اضافتہ الى المحل، اس لیے کہ ان کی اضافت، ان کی نسبت محل کی طرف نہیں ہوئی۔ ان کی نسبت، بھئی اس نے محل کی طرف نسبت کر کے یہ قول کیا ہے، وہ باندی، غلام کیا اس کا مملوک ہے؟ نہیں، تو یہ نسبت کس کی طرف کر رہا ہے؟ ایسے، ایسے محل کی طرف کر ہی نہیں رہا جو اس کو قبول کرے۔ اسی طرح آپ، اجنبیہ سے کہہ رہا ہے: ان تزوجتک فانت طالق، تو انت طالق نے علت بننا ہے طلاق کا، لیکن یہ اس کی نسبت وہ محل کی طرف کر رہا، ایسے محل کی طرف کر رہا ہے جو اس کو قبول کر لے؟ فی الحال وہ اس کی نسبت ایسے محل کی طرف کر ہی نہیں رہا، فی الحال وہ اس کو قبول ہی نہیں کر رہا، تو لہٰذا یہاں پر صدرِ کلام علت بن کر منعقد نہیں ہوگا لعدم اضافتہ الى المحل، اس لیے کہ اس کی اضافت نہیں ہوئی، اس کی نسبت نہیں ہوئی الى المحل، اس محل کی طرف جو اسے قبول کرے، اس محل کی طرف جو اسے، سمجھ میں آیا؟ محل پر الف لام آیا، معلوم ہوا کوئی خاص محل مراد ہے، سمجھ میں آیا؟ کون، اور کون سا محل مراد ہے؟ جو اس کو قبول کرتا ہو، جو اس کو کیا کرتا ہو؟ جو، جس میں اس کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو، وہ محل مراد ہے، تو یہاں پر اس کے اضافت نہیں ہوئی اس محل کی طرف جو اس کو کیا کر لے؟ معنیٰ بھی سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں سمجھ میں آ رہا؟ ویسے ہی بیٹھے ہو بھئی؟ تو یہاں پر اس نے چونکہ اس کی اضافت ہی اس محل کی طرف نہیں کی جو اس کو قبول کر لے فبطل حکم التعلیق، تو تعلیق کا حکم کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا فلا یصح التعلیق، تو تعلیق ان کے نزدیک صحیح ہی نہیں، کیونکہ فی الحال طلاق نے سبب بننا تھا، انت طالق نے سبب بننا تھا، اور فی الحال انت طالق تو سبب بن ہی نہیں سکتا۔ وعندنا کان التعلیق صحیحا، اور ہمارے نزدیک تعلیق کیا ہے؟ صحیح، صحیح ہے، حتی لو تزوجہا، یہاں تک کہ اگر اس نے نکاح کر لیا اس عورت سے یقع الطلاق، تو طلاق کیا ہو جائے گی؟ واقع ہو جائے گی لان کلامہ انما ینعقد علۃ عند وجود الشرط، اس لیے کہ خاوند کا جو کلام ہے، کون سا کلام؟ انت طالق، وہ منعقد ہوگا علت بن کر عند وجود الشرط، جب شرط پائی جائے گی، انت طالق طلاق کی علت بنے گا جب شرط پائی جائے گی یعنی اس کے ساتھ نکاح پایا جائے گا، اور جب نکاح پایا جائے گا، اس وقت جب طلاق پائی جائے پھر تو طلاق کیا ہو جاتی ہے؟ واقع ہو جاتی ہے، تو اس وقت علت بن جائے گی۔ اور اسی طرح والملک ثابت عند وجود الشرط، اور اسی طرح ملک جو ہے یہ ثابت ہوگی جب شرط پائی جائے گی، اس نے کیا کہا؟ ان ملكتک فانت حر، تو انت حر کس کا سبب بنے گا؟ آزادی کا، اور کب سبب بنے گا؟ جب شرط، اور شرط پائی جائے گی تو اس وقت وہ کیا بنے گا اس کا؟ مالک ہوگا یا نہیں ہوگا؟ مالک ہے، اس نے یہی تو شرط لگائی تھی اگر مالک بنا، تو ملک پائی جائے گی اور جب ملک پائی جائے گی تو اس وقت وہ سبب بن سکتا ہے یا نہیں آزادی کا؟ یہ کلام انت حر آزادی کا سبب بن سکتا ہے۔ والملک ثابت عند وجود الشرط، اور ملکیت ثابت ہوگی وجودِ شرط کے وقت فبصح التعلیق بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہاں، ملک سے وہ ملکِ، ملکِ غلام والی نہ لیں، دونوں ملک، چاہے ملکِ نکاح ہو چاہے ملکِ رقبی ہو، چاہے ملکِ، چاہے ملکِ نکاح ہو چاہے ملکِ رقبی، تو صدرِ کلام نے علت بننا تھا حکم کے لیے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدرِ کلام یعنی انت طالق اور انت حر، یہ سبب نہیں بن سکتا یہاں پر حریت اور طلاق کے لیے اس لیے کہ یہ اس کی نسبت اپنے محل کی طرف نہیں ہوئی، یہ تو اجنبیہ کو کہہ رہا ہے، اس میں اس کو ملک ہی نہیں حاصل، اور یہ غلام غیر کے غلام کو کہہ رہا ہے، اس میں اس کو ملک ہی حاصل، اور ہمارے نزدیک انت طالق نے طلاق کا سبب بننا ہے اور انت حر نے حریت کا سبب بننا ہے، لیکن فی الحال نہیں اس وقت بننا ہے جب شرط پائی جائے گی، اور جب شرط پائی جائے گی تو پھر تو کیا پائی جائے گی؟ ملک پائی جائے گی، جب ملک پائی جائے گی تو کلام کی نسبت اپنے محل کی طرف ہوئی یا نہ ہوئی بھئی؟ اپنے محل کی طرف ہو گئے، وہ محل اس کو قبول کر لے گا اور وہاں طلاق واقع ہو جائے گی اور حریت ثابت ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس وقت ملک ثابت ہو گی۔ فیصح التعلیق، تعلیق صحیح ہو جائے گی۔ ولہذا المعنی اور اسی علت کی بنا پر، یہ جو ابھی ہم نے علت بیان کی، ضابطہ بیان کیا کہ ہمارے نزدیک معلق بالشرط جو ہے وہ سبب بنتا ہے حکم کا، کس وقت؟ وجود شرط کے وقت بھئی، قلنا ہم نے کہا شرط صحۃ التعلیق للوقوع، وقوع کے لیے تعلیق کے صحیح ہونے کی شرط فی صورۃ عدم ملک، عدمِ ملک کی صورت میں ان یکون مضافا الی الملک او الی سبب الملک کہ وہ مضاف ہو ملک کی طرف یا سببِ ملک کی طرف بھئی۔ اسی بنا پر، اسی علت کی بنا پر، دیکھو ضابطہ ہمارے نزدیک یہ ہوا کہ معلق بالشرط سبب بنتا ہے کس چیز کا؟ حکم کا جب شرط پائی جائے گی۔ تو ہم نے کہا تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے، تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے، جب عدمِ ملک ہو، جب ایک انسان کسی چیز کا مالک نہ ہو، جب ایک انسان کسی چیز کا مالک نہ ہو تو تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس کی اضافه کی جائے ملک کی طرف یا سببِ ملک کی طرف۔ اضافت کس کی کی جائے؟ ضابطہ کیا ہوا کہ عدمِ ملک، بھئی عدمِ ملک کی صورت میں جب ایک چیز میں انسان کو ملکیت حاصل نہیں وہاں پر تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس حکم کی نسبت کی جائے، کس کی جانب؟ ملک کی جانب کی جائے یا سببِ ملک کی جانب کی جائے۔ تو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ دیکھو ایک شخص کسی کے غیر کے غلام کو کہتا ہے: ان دخلت الدار فانت حر، اگر تو گھر میں داخل ہوا تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے، آزاد ہے۔ اب یہ کس کو کہہ رہا ہے؟ ملک ہے؟ نہیں، تو یہ عدمِ ملک ہے، کیا ہے؟ اور عدمِ ملک میں یہ تعلیق کر رہا ہے اور عدمِ ملک میں تعلیق کے لیے ہم نے کیا شرط لگائی تھی کہ نسبت کس کی طرف کی جائے؟ ملک کی جانب کی جائے، یوں کہے: ان ملکتك فانت حر، ملک کی طرف اضافت کرے، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے، پھر تعلیق صحیح ہو گی۔ یا نسبت کس کی طرف کرے؟ سببِ ملک کی طرف، وہ چیز جو ملک کا سبب بنتی ہو، جیسے یوں کہے: ان اشتریتک فانت حر، اگر میں نے تجھے خریدا تو تو آزاد ہے۔ اب دیکھو شراء سبب ہے کس چیز کا؟ ملک، کوئی چیز خریدی جائے تو انسان کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے۔ تو ان اشتریتک فانت حر، اب یہ تعلیق صحیح ہے، کیوں؟ اس لیے کہ یہ تعلیق کر رہا ہے، کس صورت میں؟ عدمِ ملک کی صورت میں، اور عدمِ ملک کی صورت میں تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے کیا شرط تھی کہ اس کی نسبت کس کی جانب کی جائے؟ ملک کی جانب کی جائے یا سببِ ملک کی جانب کی جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اگر یوں کہتا ہے غیر کے غلام کو: ان ملکتك فانت حر، یہ تعلیق صحیح ہے یا صحیح نہیں ہے؟ صحیح ہے۔ کیوں صحیح ہے؟ کیونکہ یہ تعلیق کس صورت میں ہے؟ عدمِ ملک کی، وہ اس کا مالک نہیں، اور عدمِ ملک کی صورت میں تعلیق کے صحیح ہونے کے لیے کیا شرط تھی کہ اس کی نسبت کس کی جانب کی جائے؟ ملک کی، اور یہ ملک کی جانب تو کر رہا ہے، اگر میں تیرا مالک بنا، اگر میں تیرا مالک بنا۔ یا ملک کی طرف نہ کرے بلکہ کس کی طرف کر دے؟ سببِ ملک کی طرف، اور کس طرح کہے؟ ان اشتریتک فانت حر، تو شراء بھی سبب، خریدنا سبب بنتا ہے کس چیز کا؟ ملک کا، کوئی چیز خریدی جائے تو انسان اس کا مالک بن جاتا ہے، تو اب تعلیق صحیح ہو گی۔ اور اگر ان کی طرف نسبت نہ کرے، ویسے کہہ دے: ان دخلت الدار فانت حر، یا ان فعلت کذا فانت حر، تو یہ کہنا صحیح نہیں، کیوں؟ کیونکہ یہ عدمِ ملک میں ہے اور وہ عدمِ ملک کی صورت میں شرط کیا تھی کہ نسبت کس کی جانب کی جائے؟ ملک یا سببِ ملک کی، اور یہاں پر وہ ملک یا سببِ ملک کی جانب نسبت کر رہا ہے؟ نہیں، وہ تو دخولِ دار کی جانب کر رہا ہے یا کوئی خاص فعل کرنے کی جانب نسبت کر رہا ہے، حالانکہ کرنا کس کی طرف چاہیے تھا؟ ملک یا سببِ ملک کی طرف۔ لہذا ایک عورت کو کہتا ہے: ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق، اجنبی عورت سے کہہ رہا ہے، تعلیق صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ تعلیق صحیح نہیں، کیوں نہیں صحیح؟ یہ کون سی صورت ہے؟ عدمِ ملک کی، یہاں اسے ملک حاصل ہے عورت میں کوئی؟ ملکِ نکاح وغیرہ کوئی اسے حاصل نہیں، اور عدمِ ملک کی صورت میں اس کی نسبت کس کی جانب ہونی چاہیے تھی؟ ملک یا سببِ ملک کی جانب، لہذا اگر اس کو یوں کہے: ان تزوجتك فانت طالق، تو اب نکاح کرنا یہ سبب ہے کس چیز کا؟ ملک کا، تو سببِ ملک کی جانب اضافت کر دے پھر تو صحیح، ورنہ صحیح نہیں۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ یہی بات کر رہے ہیں: ولہذا المعنی اور اسی علت کی بنا پر قلنا ہم نے کہا شرط صحۃ التعلیق للوقوع، وقوع کے لیے، آخر سے ترجمہ کرو، وقوع کے لیے تعلیق کے صحیح ہونے کی شرط فی صورۃ عدم الملک، عدمِ ملک کی صورت میں، وہ کیا ہے؟ ان یکون مضافا الی الملک کہ وہ تعلیق جو ہے اس کی نسبت کس کی طرف ہو؟ ملک کی طرف ہو او الی سبب الملک یا سببِ ملک کی طرف ہو، حتی لو قال لاجنبیۃ یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے کسی اجنبیہ عورت سے کہا ان دخلت الدار فانت طالق اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، ثم تزوجھا پھر اس سے نکاح کر لیا، شادی کر لی ووجد الشرط اور شرط پائی گئی، لا یقع الطلاق، طلاق واقع کیوں نہیں ہو گی؟ کیونکہ اس نے تعلیق کس صورت میں کی تھی؟ عدمِ ملک، اور عدمِ ملک میں تعلیق کے لیے شرط کیا تھی؟ کہ نسبت اور یہاں اس نے سببِ ملک یا ملک کی طرف کی ہے نسبت؟ اس نے تو کس کی طرف کر دی تھی؟ دخولِ دار کی طرف، تو نہ سببِ ملک کی طرف کی نہ ملک کی طرف، لہذا اب بعد میں ملک ہے بھی لیکن وہ تعلیق ہی صحیح نہیں تھی، لہذا اب طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ چلیے مولانا ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 86 of 123