وعلى هذا قلنا: إذا قال: ”بعت منك هذا العبد بكر من حنطة“، ووضعها، يكون العبد مبيعًا والكر ثمنًا، فيجوز الاستبدال به قبل القبض.
کل کی بحث سے یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ با جس پر داخل ہوتی ہے وہ تابع ہے اور جانب آخر کیا ہے؟ اصل ہے بیع کے اندر۔ لہٰذا با جس پر داخل ہوئی وہ ثمن ہوگا اور جانب آخر کیا ہوگی؟ وہ مبیع ہوگا بھئی۔
اسی بنا پر وعلی هذا اسی بنا پر کہ مدخول با ثمن ہوتا ہے، قلنا ہم نے کہا: إذا قال جب کسی شخص نے کہا دوسرے سے: بعت منك هذا العبد—با کا صلہ میں نے آپ کو بتلایا ہے من آتا ہے—بعت منك میں نے تجھ پر بیچا هذا العبد اس غلام کو بكر من حنطة کس کے بدلے میں؟ ایک کر کے بدلے میں من الحنطة حنطہ میں سے، گندم میں سے۔ ووضعها اور اس حنطہ، اس گندم کا وصف بھی بیان کر دیا۔
يكون العبد مبيعا تو دیکھیے ایک شخص نے دوسرے سے کیا کہا: بعت منك هذا العبد بكر من حنطة۔ تو یہاں با کس پر داخل ہوئی مولانا؟ کس پر؟ کر پر داخل ہوئی، گندم کے کر پر۔ تو لہٰذا یہ ثمن ہوگا اور وہ عبد کیا ہو جائے گا؟ مبیع ہو جائے گا بھئی، کیونکہ مدخول با کیا ہوا کرتا ہے؟ ثمن۔ اور با یہاں کس پر داخل ہوئی؟ کر من الحنطہ پر داخل ہوئی۔
کر ایک پیمانہ ہے بھئی۔ کر کیا ہے؟ پیمانہ ہے، غلے کے ماپنے کا۔ ایک کر برابر ہوتا ہے 12 وسق کے اور ایک وسق برابر ہوتا ہے 60 صاع کے اور ایک صاع برابر ہوتا ہے 4 مد کے اور ایک مد برابر ہوتا ہے 2 رطل کے اور ایک رطل برابر ہوتا ہے پونے 34 تولے بھئی، پونے 34 تولے۔ اور ایک تولہ برابر ہوتا ہے 12 ماشے کے یعنی کہ 11.664 گرام بھئی۔ تو ایک تولہ 12 ماشے کے برابر، 11.664 گرام کے برابر۔ اور ایک ماشہ برابر ہوتا ہے 8 رتی کے اور 8 رتی اور ایک رتی برابر ہوتی ہے 8 چاول کے دانوں کے بھئی۔
یہ اوزان شرعیہ ہیں بھئی، یہ آپ کو آنے چاہئیں بھئی۔
تو ایک کر 12 وسق کے برابر ہے اور ایک وسق ہوتا ہے 5 من ڈھائی سیر بھئی، 60 صاع کے برابر ہے، یہ کتنا ہوا؟ 5 من ڈھائی سیر۔ اب 5 من ڈھائی سیر کو 12 سے ضرب دیں تو یہ کر بن جائے گا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ 12 سے ضرب دیں، یہ کتنا بن جائے گا؟ جی؟ 60 من اور 30 سیر، 60 من اور 30 سیر ہوں تو یہ کتنا بنتا ہے؟ ایک کر۔
تو ایک شخص نے ایک غلام کو بیچا کس کے بدلے میں؟ گندم کے ایک کر کے بدلے میں۔ ووضعها اور اس گندم کا وصف بھی بیان کر دیا کہ عمدہ ہوگی یا ردی، کس قسم کی ہوگی، بیان کر دی اس کی صفت بھی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں يكون العبد مبيعا عبد کیا ہوگا؟ مبیع ہوگا والكر ثمنا اور وہ گندم کا کر کیا ہوگا؟ ثمن ہوگا۔
اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ مبیع اصل ہے، ثمن کیا ہے؟ تابع۔ تو مبیع اصل کے اندر تو قبل القبض تبدیلی جائز نہیں، اس میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ لیکن تابع ثمن جو ہے، اس میں قبل القبض تصرف کرنا، تبدیلی کرنا جائز ہے۔
کیسے؟ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ دیکھو، میں نے آپ سے ایک کتاب ایلا 34 [unclear] 100 روپے میں۔ تو کتاب ہوئی مبیع اور 100 روپیہ کیا ہوا؟ ثمن۔ اب اس کتاب میں میں تصرف کرنا چاہتا ہوں قبضے سے پہلے ہی، آپ کو کہتا ہوں: اس کتاب کے بجائے مجھے یوں کرو دو قلم دے دو، یہ تصرف میرے لیے کرنا جائز نہیں قبضے سے پہلے۔ ہاں قبضہ کر لوں، پھر اس کے بعد جو مرضی تصرف کروں، وہ بعد کی بات ہے، قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ کتاب پر قبضہ ہی نہیں کیا، پہلے سے ہی اس کو میں کس سے بدلنا چاہتا ہوں؟ قلم سے۔ یا وہ کتاب پر ابھی میں نے قبضہ نہیں کیا، آگے میں کسی اور کو بیچنا چاہتا ہوں، زید کو کہتا ہوں: بھئی وہ کتاب میں نے خرید لی ہے، مجھے کل مل جائے گی، تم خریدنا چاہو مجھ سے تو اسے میں بیچتا ہوں؟ نہیں بھئی، یہ تو میں تصرف کر رہا ہوں مبیع میں قبل القبض، اور مبیع میں قبل القبض تصرف کرنا جائز نہیں۔
ہاں ثمن میں قبل القبض تصرف ہو سکتا ہے بھئی۔ لہٰذا اب آپ نے مجھ سے ثمن کتنے وصول کرنے تھے؟ 100۔ تو اس 100 میں آپ تصرف کرتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں: اس 100 کے روپے کے بجائے مجھے یوں کرو دو قلم دے دو۔ کیا کرو؟ دو قلم۔ تو اب آپ نے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ثمن میں تصرف کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ابھی آپ نے ان پر قبضہ نہیں کیا، آپ کے میں نے وہ حوالے نہیں کیے، تو یہ تصرف جائز ہے۔
تو ضابطہ کیا نکلا؟ مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں اور ثمن میں قبل القبض تصرف جائز ہے۔ اور یہاں پر ثمن کیا ہے؟ وہ کر ہے۔ کیا ہے؟ کر، گندم کا وہ کر ہے۔ لہٰذا اس وہ کر چونکہ ثمن ہے، لہٰذا اس میں تصرف کرنا قبضے سے پہلے یہ کیا ہوگا؟ جائز ہوگا۔
تو کہتے ہیں چونکہ والكر ثمنا اور کر ثمن ہے، فيجوز الاستبدال به تو جائز ہے اس کے عوض میں کوئی چیز لینا قبل القبض قبضے سے پہلے۔
ولو قال بعت منك اس کا عکس کرتا ہے، با کو کس پر داخل کرتا ہے؟ عبد پر۔ پہلے کس پر داخل کیا تھا؟ کر پر۔ تو مسئلہ، صورت بدل جائے گی۔ ولو قال اور اگر اس نے یوں کہا: بعت منك كرا من حنطة کہ میں تجھ پر بیچتا ہوں گندم کا ایک کر ووضعها اور اس گندم کا وصف بھی بیان کر دیا کہ عمدہ ہوگی یا ردی، کس قسم کی گندم ہوگی۔ بهذا العبد کس کے بدلے میں؟ اس غلام کے بدلے میں۔ تو کہتے ہیں: يكون العبد ثمنا عبد ثمن ہوگا والكر مبيعا اور کر کیا ہو جائے گا؟ مبیع، کیونکہ با کس پر داخل ہوئی ہے؟ عبد پر، اور عبد تو عبد کیا بن جائے گا؟ ثمن بن جائے گا۔
ويكون العقد سلما اور عقد کیا کون سا بن جائے گا؟ عقد سلم بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ عقد سلم بن جائے گا۔ عقد سلم آپ جانتے ہیں مولانا کہ کسی کو کبھی ثمن پہلے ادا کر دیے جاتے ہیں، چیز وہ آپ کو کچھ عرصے کے بعد دیتا ہے۔ مثلاً موچی کو پیسے دے دیتے تھے کہ لو بھئی یہ پیسے رکھو، مجھے جوتے بنا دو یا مجھے فلاں چیز کسی دکاندار کو دیے، یہ پیسے لے لو، میرے لیے وہ فلاں چیز منگوا لو۔ وہ کہتا ہے جی 6 ماہ کے بعد آپ کو ملے گی، اس وقت تو نہیں ہے، آپ پہلے ہی پیسے دے دیتے ہیں۔ یہ کیا ہے مولانا؟ بیع سلم ہے۔ اور بیع سلم کی شرائط ہیں، اس میں مدت متعین ہونی چاہیے وغیرہ، کئی شرائط علماء نے ذکر کی ہیں بھئی۔
تو یہاں پر بھی کہتے ہیں یہ بیع سلم بن جائے گی اس لیے کہ یہاں پر اس نے خریدا کس چیز کو ہے؟ کر کو، گندم کے، گندم کو خریدا ہے اور با کس پر داخل کی ہے؟ عبد پر، تو عبد کیا بن گیا؟ ثمن۔ اور یہ ثمن فی الحال دے رہا ہے کیونکہ کیا کہہ رہا ہے؟ بهذا العبد اس غلام کے بدلے میں۔ معلوم ہوا غلام وہی حاضر ہے، معلوم معلوم ہوا غلام وہیں پر حاضر ہے۔ معلوم ہوا ثمن اسی وقت دے رہا ہے، غلام اسی وقت سپرد کر رہا ہے اور مبیع تو اس وقت وہ دے نہیں رہا۔ کہا ہے گندم کا ایک کر دینا ہے فلاں قسم کا، ابھی دے رہا ہے وہ؟ نہیں، اس کی صفت بیان، اگر متعین ہوتا پھر تو صفت کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ یہ سامنے پڑی ہے، یہ گندم لے لو بھئی۔ تو معلوم ہوا گندم اس وقت موجود نہیں ہے اور ثمن کیا ہے؟ اسی وقت موجود ہے، اس کے حوالے کر رہا ہے۔ اور ثمن جب حوالے کیے جائیں اسی وقت اور مبیع بعد میں دیا جائے، یہ کیا کہلاتی ہے؟ بیع سلم بھئی۔
اور بیع سلم میں شرط ہوتی ہے کہ اسی جس مجلس میں عقد ہوا، ثمن میں اسی مجلس میں ثمن پر قبضہ کیا جائے۔ بیع سلم میں کیا شرط ہوتی ہے؟ جس مجلس میں عقد ہوا ہے اسی مجلس میں ثمن کو سپرد کیا جائے۔ تو لہٰذا اس غلام کو اسی مجلس میں سپرد کرنا ضروری ہوگا۔
سمجھ میں آیا؟ اسی مجلس، اور نیز اس غلام میں اب تبدیلی بھی نہیں کر سکتا۔ عام بیع کے اندر تو ثمن میں تبدیلی ہو سکتی ہے، بیع سلم کے اندر ثمن میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ بیع سلم کی شرط ہی یہ ہے کہ ثمن پر اسی مجلس میں قبضہ کیا جائے۔ اگر یہ اس کو بدل لیتا ہے تو پھر قبضہ پایا گیا؟ قبل القبض ہی اس نے تصرف کر دیا، تو اسی مجلس میں تو قبضہ نہ پایا گیا حالانکہ بیع سلم کی تو شرط تھی کہ اسی مجلس میں قبضہ کرے۔ تو ان کے لیے شرط ہوگا اسی مجلس میں اس غلام پر کیا کرے؟ قبضہ کرے جس کو ثمن ٹھہرایا ہے۔ اس میں اگر تبدیلی کر دی پھر تو قبضہ ہی ممکن نہ رہے گا۔ لہٰذا یہاں پر اب اس کو بدلنا اس کے لیے جائز نہیں کسی اور چیز کے عوض سے۔
تو کہتے ہیں ويكون—مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ کہتے ہیں: ويكون العقد سلما عقد سلم ہو، بیع سلم ہو جائے گا۔ لا يصح إلا مؤجلا اور صحیح نہیں ہوگا مگر مؤجل، مدت کے ساتھ مولانا، بیع سلم میں مدت وغیرہ کا بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔
وقال علماؤنا رحمهم الله تعالى: إذا قال لعبده: ”إن أخبرتني بقدوم فلان فأنت حر“، فذلك على الخبر الصادق۔
جی، صورت مسئلہ یہ ہے کہ با بتلا دیا، با آتی ہے الصاق کے لیے۔ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا: إن أخبرتني بقدوم فلان ای مثلا بقدوم زيد، إن أخبرتني بقدوم زيد فأنت حر اگر تو نے
مجھے خبر دی زید کے آنے کی فَأَنْتَ حُرٌّ تو تجھے کیا ہے، تو کیا ہے؟ آزاد۔ تو نے اگر مجھے زید کے آنے کی خبر دی تو تو آزاد ہے۔
أَخْبَرَنَا کہتے ہیں خبر دینا۔ تو دو قسم پر ہے، ایک سچی خبر دے وہ بھی خبر کہلاتی ہے، جھوٹی خبر دے وہ بھی کیا کہلاتی ہے؟ خبر، کہ اس نے خبر دی ہے، ہاں جھوٹی ہے۔ تو خبر کبھی سچی ہوتی ہے اور کبھی جھوٹی۔ تو یہاں پر یہ اب سچی خبر دے گا تو غلام آزاد ہوگا، جھوٹی خبر دے دے تو آزاد نہیں، کیوں؟ کہ سچی خبر کی قید آپ نے کیوں لگائی؟ کہتے ہیں بھئی "با" آیا عبارت کے اندر، اس نے "با" ذکر کیا: إِنْ أَخْبَرْتَنِي بِقُدُومِ فُلَانٍ، فلاں کے قدوم کی خبر دی اور "با" لے کر آیا، اور "با" کس لیے آیا کرتی ہے؟ الصاق کے لیے۔ معلوم ہوا یہ خبر ملتصق ہونی چاہیے، ملی ہونی چاہیے زید کے آنے کے ساتھ، اور زید کے آنے کے ساتھ خبر اسی صورت میں مل سکتی ہے جب کہ خبر کون سی ہو؟ سچی ہو، اگر جھوٹی ہو تو پھر خبر تو ہے، زید کا آنا ہے؟ تو زید کے آنے کے ساتھ خبر نہیں ملی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کس وجہ سے ہے؟ سچی خبر پر کیوں محمول کیا؟ کیونکہ اس نے کون سا لفظ استعمال کیا ہے؟ "با" کا، اور "با" کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ الصاق کا۔ معلوم ہوا یہ خبر ملی ہونی چاہیے کس کے ساتھ؟ زید کے آنے کے ساتھ، اور زید کے آنے کے ساتھ خبر تبھی مل سکتی ہے جب کہ خبر کس قسم کی ہو؟ سچی ہو، سچی ہوگی تو زید بھی آئے گا، زید کا آنا پایا جائے گا، خبر ملتصق بقدومِ زید ہو جائے گی اور غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔
وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى، ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، سب کہو بھئی! رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً، ہمارے فقہاء اللہ ان پر ہزارہا، کروڑہا رحمتیں نازل کرے، مسائل کو ہمارے لیے کتنا آسان بنا دیا۔
ہمارے علماء فرماتے ہیں: إِذَا قَالَ لِعَبْدِهِ، جب کسی شخص نے اپنے غلام سے کہا: إِنْ أَخْبَرْتَنِي بِقُدُومِ فُلَانٍ فَأَنْتَ حُرٌّ، اگر تو نے مجھے خبر دی فلاں کے آنے کی تو تو آزاد ہے، فَذَلِكَ عَلَى الْخَبَرِ الصَّادِقِ، تو یہ جو آزادی کا حکم ہے یہ واقع ہوگا کس پر؟ خبر صادق پر، تو یہ آزادی خبرِ صادق پر ہوگی، "ذلک" اشارہ ہے حریت کی طرف، تو یہ آزادی عَلَى الْخَبَرِ الصَّادِقِ خبرِ صادق پر ہوگی، سچی خبر پر ہوگی، لِيَكُونَ الْخَبَرُ مُلْتَصِقًا بِالْقُدُومِ تاکہ خبر کیا ہو جائے ملتصق بالقدوم ہو جائے، مل جائے، کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو، کس کے ساتھ ملائی گئی ہو خبر؟ قدوم کے ساتھ۔
فَلَوْ أَخْبَرَ كَاذِبًا لَا يَعْتِقُ، اگر اس نے خبر دی جھوٹی تو وہ آزاد نہیں ہوگا، عَتَقَ يَعْتِقُ کا معنی آزاد ہونا، اور أَعْتَقَ يُعْتِقُ کا معنی آزاد کرنا۔ تو بھئی! جب خبر سچی دے دے گا تو غلام خود بخود آزاد ہو جائے گا، اس کو آزاد کرنا نہیں پڑے گا، وہ تو پہلے آزادی کی تعلیق کر چکا ہے، اس لیے بابِ افعال نہ پڑھو، لازمی پڑھو، تو لَا يَعْتِقُ غلام آزاد نہیں ہوگا۔ یہ نہ پڑھو لَا يُعْتَقُ اس کو آزاد نہیں کیا جائے گا، بھئی آزاد کرنا نہ کرنا اب اس کے اختیار میں نہیں رہا، سمجھ میں آیا؟ ہاں، خود آزاد ہو جائے گا وہ، تو لَا يَعْتِقُ وہ آزاد نہیں ہوگا۔
وَلَوْ قَالَ إِنْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ فُلَانًا قَدِمَ فَأَنْتَ حُرٌّ فَذَلِكَ عَلَى، اس کے بجائے اگر اس نے یوں کہا: إِنْ أَخْبَرْتَنِي غلام سے کہا إِنْ أَخْبَرْتَنِي اگر تو نے مجھے یہ خبر دی أَنَّ فُلَانًا قَدِمَ کہ فلاں آ گیا ہے فَأَنْتَ حُرٌّ تو تو آزاد ہے، اب اس نے "با" کو ذکر کیا نہیں، اب مطلق وہ خبر دے دے، آ کر کہہ دے فلاں آ گیا ہے، تو غلام کیا ہو جائے گا؟ سمجھ میں آیا؟ غلام تھا اس نے اصول الشاشی پڑھی ہوئی تھی، مسئلہ معلوم تھا کہ مالک نے تو "با" کلام کے اندر اجازت، "با" کلام کے اندر استعمال نہیں کی اور لہٰذا اب میری خبر کا ملتصق بقدومِ فلاں ہونا ضروری نہیں، بس مطلق خبر دینا ہے، تو یہ آ کر کہہ دیتا ہے، جھوٹی خبر دے دیتا ہے کہ فلاں آ گیا، بس بھئی! آزاد ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ کہ خبر اس نے دے دی۔ ہے تو خبر، اگرچہ کیا ہے؟ جھوٹی۔
وَلَوْ قَالَ إِنْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ فُلَانًا قَدِمَ فَأَنْتَ حُرٌّ، اگر یوں کہا، آقا نے کہ اگر تو نے مجھے خبر دی کہ فلاں آ گیا ہے تو تو آزاد ہے، فَذَلِكَ عَلَى مُطْلَقِ الْخَبَرِ، تو وہ حریت ہوگی کس پر؟ مطلقِ خبر پر، فَلَوْ أَخْبَرَهُ كَاذِبًا، اگر اس نے خبر دی بھئی اس حال میں کہ کیا تھی؟ جھوٹی، یا اس حال میں کہ وہ جھوٹا تھا عَتَقَ، یا وہ خبر جھوٹی تھی یا وہ جھوٹا تھا عَتَقَ، وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، عُتِقَ نہ پڑھیں بھئی، عَتَقَ آزاد ہو جائے گا۔
وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ، اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: إِنْ خَرَجْتِ مِنَ الدَّارِ إِلَّا بِإِذْنِي فَأَنْتِ كَذَا، اگر تو گھر سے نکلی مگر میری اجازت کے ساتھ فَأَنْتِ كَذَا تو تو ایسی ہے، أَيْ فَأَنْتِ طَالِقٌ، کذا کنایہ ہے کس سے؟ طلاق سے، تو تجھے طلاق ہے۔ اگر تو گھر سے نکلی سوائے میری اجازت کے، علاوہ میری اجازت کے فَأَنْتِ طَالِقٌ تو تو کیا ہے؟ تجھے طلاق ہے۔
تو اب یہاں اس نے کلام میں کیا استعمال کیا؟ "با"، معلوم ہوا اور اس کی بیوی کا خروج ملتصق بالاذن ہونا چاہیے، جب بھی خروج پایا جائے وہ ملا ہوا ہو کس کے ساتھ؟ اذن، اجازت کے ساتھ، لہٰذا اب بیوی جب بھی نکلے گی اجازت لے کر نکلے گی، کبھی بھی وہ بغیر اجازت کے نکل گئی تو فوراً کیا ہو جائے گی؟ یہ کہاں سے کس نے یہ فائدہ دیا؟ "با" نے، کہ "با" نے بتلایا کہ یہ خروج ملتصق کیا ہونا چاہیے؟ بالاذن ہونا چاہیے۔ بِإِذْنِي میں "با" استعمال کی اس نے۔
تو کہتے ہیں: فَتَحْتَاجُ إِلَى الْإِذْنِ، عورت محتاج ہوگی اجازت کی كُلَّ مَرَّةٍ، ہر مرتبہ، إِذِ الْمُسْتَثْنَى، اس لیے کہ مستثنیٰ وہ جو خاوند نے جس کا استثناء کیا خُرُوجٌ، وہ ایسا خروج ہے مُلْتَصِقٌ بِالْإِذْنِ، جو ملایا گیا ہو کس کے ساتھ؟ اذن، اجازت کے ساتھ بھئی! لہٰذا وہ خروج ملتصق بالاذن ہوگا، اس میں تو طلاق نہیں ہوگی، لیکن باقی خروج میں کیا ہو جائے گی؟ فَلَوْ خَرَجَتْ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ بِدُونِ الْإِذْنِ طُلِّقَتْ، پس اگر وہ نکلی دوسری مرتبہ میں بغیر اجازت کے طُلِّقَتْ تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق والی ہو جائے گی، اسے طلاق ہو جائے گی۔
وَلَوْ قَالَ، اگر مولانا "با" نہیں استعمال کی اس خاوند نے بلکہ کیا کہا؟ یوں کہا: إِنْ خَرَجْتِ مِنَ الدَّارِ إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ، "آذن" متکلم کا صیغہ بناؤ، إِنْ خَرَجْتِ مِنَ الدَّارِ اگر تو گھر سے نکلی إِلَّا أَنْ آذَنَ لَكِ مگر یہ کہ میں تجھے اجازت دے دوں فَأَنْتِ طَالِقٌ تو تجھے، یعنی علاوہ میری اجازت کے اگر تو گھر سے نکلی تو تجھے، اب اس نے "با" استعمال نہیں کیا، لہٰذا ایک مرتبہ اجازت لے لے کافی ہے، ہر مرتبہ اب اجازت لینا ضروری نہیں کیونکہ اس نے "با" کو استعمال نہیں کیا، تو الصاق بالاذن ہونا بھی ضروری نہیں ہر مرتبہ۔
فَذَلِكَ عَلَى الْإِذْنِ مَرَّةً، تو یہ طلاق واقع، طلاق ہوگی عَلَى الْإِذْنِ مَرَّةً بھئی! ایک مرتبہ کی اجازت پر، حَتَّى لَوْ خَرَجَتْ مَرَّةً أُخْرَى بِدُونِ الْإِذْنِ لَا تُطَلَّقُ، یہاں تک کہ اگر بیوی نکلی دوسری مرتبہ بغیر اجازت کے لَا تُطَلَّقُ تو اسے طلاق نہیں ہوگی۔
وَفِي الزِّيَادَاتِ، اور امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب زیادات کے اندر ہے: إِذَا قَالَ، جب خاوند نے کہا بیوی سے: أَنْتِ طَالِقٌ بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى، تجھے طلاق ہے اللہ کی مشیئت، اللہ کی مشیئت کے ساتھ، أَوْ بِإِرَادَةِ اللهِ، اللہ کے ارادے کے ساتھ، أَوْ بِحُكْمِهِ، یا اللہ کے حکم کے ساتھ، لَمْ تُطَلَّقْ، عورت کو طلاق اس لیے کہ اس نے طلاق کو معلق کر دیا کس کے ساتھ؟ اللہ کی مشیئت کے ساتھ، اللہ کے ارادے کے ساتھ، اللہ کے حکم کے ساتھ، کہ طلاق ملتصق ہے بمشیئۃ اللہ، یا ملتصق ہے بارادۃ اللہ، یا ملتصق ہے بحکم اللہ، کیونکہ "با" لے کر آیا، تو طلاق ملتصق ہوئی بمشیئۃ اللہ، یا بارادۃ اللہ، یا بحکم اللہ، اور اللہ کی مشیئت، ارادے اور حکم کا پتہ چل سکتا ہے قطعی طور پر بھئی؟ اللہ کی مشیئت کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ کے ارادے، اللہ کے حکم کا پتہ نہیں، تو لہٰذا اب شرط کا پتہ ہی نہیں تو شرط واقع ہوگی مشیئت، ارادہ اللہ کا ہوگا تو طلاق ہوگی، اور اللہ کی مشیئت اور ارادے کا تو پتہ ہی نہیں، تو شرط نہیں پائی جائے گی، جب شرط نہیں پائی جائے گی تو مشروط طلاق بھی واقع نہیں ہوگی، اسی لیے کہا لَمْ تُطَلَّقْ اسے طلاق نہیں ہوگی۔ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔