Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-083

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 72
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ حَرْفُ الْبَاءِ لِلْإِلْصَاقِ فِي وَضْعِ اللُّغَةِ وَلِهَذَا تَصْحَبُ الْأَثْمَانَ وَتَحْقِيقُ هَذَا أَنَّ الْمَبِيعَ أَصْلٌ فِي الْبَيْعِ وَالثَّمَنَ شَرَّطٌ فِيهِ وَلِهَذَا الْمَعْنَى هَلَاكُ الْمَبِيعِ يُوجِبُ ارْتِفَاعَ الْبَيْعِ دُونَ هَلَاكِ الثَّمَنِ جی، حروفِ معانی میں سے گیارہواں حرف جس کی آج مصنف بحث کریں گے، وہ با ہے بھئی۔ با۔ اب با کے بارے میں جو باتیں بتلائیں گے، ترتیب سے آپ یاد رکھیں بھئی۔ یہ مقام ذرا مشکل ہے بھئی۔ سب سے پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ با اصلِ لغت میں وضع ہے الصاق کے لیے۔ پہلی بات کیا؟ کہ با اصلِ وضع میں، اصلِ لغت میں وضع ہے الصاق کے لیے۔ الصاق کا معنی ہے ملانا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ بھئی۔ الصاق کا معنی ہے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا۔ تو لہذا با جس پر داخل ہو، وہ ملصق بہ ہے بھئی۔ با جس پر داخل ہو اور جانبِ آخر ملصق ہے۔ جانبِ آخر کیا ہے؟ ملصق ہے۔ اور ملصِق با ہے، ملصِق با ہے۔ ملصِق با ہے یا متکلم ہے۔ متکلم ہے۔ جی، یہ بات لکھ لی بھئی؟ پہلی بات کیا ہوئی کہ با اصلِ لغت میں کس معنی کے لیے وضع ہے؟ الصاق کے معنی کے لیے وضع ہے۔ الصاق کا معنی ہے ملانا ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ۔ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا۔ تو با کے ذریعے جس چیز کو ملایا گیا، وہ کیا ہے؟ ملصق۔ وہ کیا ہے؟ اور کس سے ملایا گیا؟ جو با کے ما بعد ہے، جس پر با داخل ہوئی ہے، مدخولِ با بھئی۔ وہ کیا ہے؟ ملصق بہ۔ کس کو ملایا گیا؟ جو با سے، با سے ما قبل ہے، اس کو ملایا گیا۔ کس کے ساتھ ملایا گیا؟ جو با کا ما بعد ہے یعنی مدخولِ با بھئی۔ تو ملایا جس کو گیا، وہ کیا ہوا؟ ملصق۔ ملصق مفعول کا صیغہ ہے، ملایا گیا جس کو ملایا گیا۔ اور کس کے ساتھ ملایا گیا؟ جس پر با داخل ہوئی، وہ کیا ہوا؟ ملصق بہ۔ اور کس نے ملایا؟ یوں کہیں با نے ملایا، یا یوں کہیں متکلم نے با کے ذریعے ملایا۔ تو ملصِق، ملانے والا وہ متکلم ہے یا وہ ملانے والی با ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ پہلی بات تھی۔ دوسری بات یہ یاد رکھیں بھئی کہ تابع کو اصل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ تابع کو اصل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ جلدی لکھو بھئی۔ دوسری بات یہ کہ اصل کو، نہیں نہیں، تابع کو اصل کے ساتھ ملایا جاتا ہے، نہ کہ اصل کو تابع۔ بھئی، تابع ہے ایک چیز تو اس کو کس کے ساتھ ملائیں گے؟ اصل کے ساتھ ملایا جائے گا بھئی۔ تابع ہو تو اس کو کس سے ملایا جائے گا؟ اصل سے ملایا جائے گا بھئی۔ تیسری بات یہ یاد رکھیں کہ بیع کے اندر مبیع اصل ہے اور ثمن تابع۔ بیع کے اندر مبیع اصل ہے اور ثمن کیا ہے؟ فرع۔ تابع، ثمن کیا ہے؟ تابع۔ تو بیع کے باب میں اصل کیا ہوا بھئی؟ مبیع۔ اور تابع کیا ہے؟ ثمن۔ جی، یہ تین باتیں یاد رکھیں۔ یہ مبیع اصل کیوں ہے اور ثمن تابع کیوں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ مبیع مقصود ہوا کرتا ہے مولانا۔ انسان اس سے کیا کرنا چاہتا ہے؟ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اور مبیع سے تو فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن ثمن جو ہے، وہ تو عموماً نقدی کی صورت میں ہوا کرتے ہیں بھئی، سونا ہے، چاندی ہے، کرنسی ہے۔ اس سے کوئی انسان نفع اٹھا سکتا ہے؟ اس سے براہِ راست کوئی نفع، یہ آپ کے ہاتھ سے نکلیں گی تو پھر ان کی وجہ سے نفع ہوگا، لیکن براہِ راست ان سے کوئی نفع اٹھانا، یہ ان سے کیا آپ کی بھوک دور ہو جائے گی؟ آپ کے پاس سونے کا ڈھیر ہو بھئی، اس پہ آپ کو بٹھائیں، لو بھئی کھاؤ سونا۔ اس سے کوئی انسان نفع، چاندی کا ڈھیر آپ کے حوالے کر دیا، کوئی کسی کام کا نہیں ہے یہ۔ جب تک یہ آپ کے ہاتھ سے نکل کے دوسرے تک جائے گا نہیں، اس کے بدلے میں کوئی چیز نہیں آئے گی، نفع نہیں اٹھا سکتے۔ اسی طرح کرنسی بھی ہے۔ تو ثمن عموماً کرنسی ہوگی یا سونا یا چاندی ہوگی اور ان سے کوئی براہِ راست نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ تو ان کے ذریعے اس مبیع کو حاصل کیا جاتا ہے، انسان اس مبیع کا مالک بنتا ہے اور اس سے کیا کرتا ہے؟ براہِ راست نفع۔ مثلاً اس کے ذریعے کھانا خریدا، اب کھانا کیا ہے؟ مبیع۔ تو وہ کیا ہوا اس سے انسان اپنی بھوک کو دور کرتا ہے، براہِ راست انتفاع کرتا ہے اس سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بلاواسطہ۔ اور یا مولانا، آپ نے چادر خریدی تو اس سے کیا کرتے ہیں؟ نفع حاصل کرتے ہیں، سردی سے آپ کو بچاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا، بیع کے اندر اصل کیا ہوا؟ مبیع۔ کیونکہ مبیع سے انسان کیا حاصل کرتا ہے؟ نفع حاصل کرتا ہے، جبکہ ثمن سے نفع، کیونکہ وہ عموماً ثمن کس شکل میں ہوتی ہے؟ نقدی وغیرہ کی صورت میں ہوا کرتی ہے۔ اچھا، تو لہذا کیا اصل ہوا بھئی بیع کے اندر؟ مبیع۔ اور کیا تابع ہوا؟ ثمن۔ تو کہتے ہیں اسی وجہ سے ثمن پر با داخل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ثمن پر کیا داخل ہوا کرتی ہے؟ با داخل ہوتی ہے بھئی۔ تو جس پر با داخل ہو مولانا، بیع کی مثلاً مولانا، ایسی بیع کی جس میں کوئی کسی جانب بھی نقدی نہیں مثلاً، صورت یہ ہوگی۔ دونوں طرف سامان ہے۔ اب دونوں میں مبیع بننے کی صلاحیت بھی ہے اور ثمن بننے کی صلاحیت بھی ہے۔ مثلاً آپ نے چادر دی اور کھانا لے لیا۔ تو چادر میں بھی مبیع، دونوں طرف سامان ہے، ایک طرف چادر ہے، ایک طرف کھانا ہے۔ تو دونوں من وجہ مبیع ہیں، دونوں من وجہ ثمن ہیں۔ اب عبارت میں ذکر ہو تو کون سا ثمن ہوگا اور کون سا مبیع ہوگا؟ فقہائے کرام فرماتے ہیں علامت، آسان سی علامت ہے کہ جس پر با داخل ہو، وہ کیا ہوگی؟ وہ ثمن ہوگی، شمار کیا جائے گا اسے۔ اور جانبِ آخر کو کیا شمار کیا جائے گا؟ مبیع شمار کیا جائے گا۔ یہ ضابطہ بھی سمجھ میں آیا بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو مثلاً آپ کہتے ہیں: بَعْتُ الطَّعَامَ یا اِشْتَرَيْتُ الطَّعَامَ بِالرِّدَاءِ۔ اِشْتَرَيْتُ الطَّعَامَ بِالرِّدَاءِ۔ میں نے کھانا خریدا چادر کے بدلے میں۔ تو یہاں پر ثمن کیا شمار ہوگی؟ چادر۔ اور مبیع کیا شمار ہوگا؟ طعام۔ اس پر اشکال ہوا فوراً مولانا۔ کہ ابھی آپ نے ہمیں دو تین باتیں لکھوائیں اور اب خود ہی اس کا عکس کر رہے ہیں۔ دو تین ضابطے لکھوائے، پہلا ضابطہ کیا تھا مولانا؟ کہ با جس پر داخل ہو، وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ جی؟ ملصق بہ۔ اور جانبِ آخر کیا ہوتی ہے؟ ملصق۔ یعنی جانبِ آخر کو ملایا گیا ہے اور کس کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ مدخولِ با کے ساتھ۔ جانبِ آخر کو کس کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ تو جانبِ آخر ہوئی ملصق اور کس کے ساتھ ملایا گیا؟ مدخولِ، جس پر با داخل ہوئی ہے۔ اور وہ کیا ہوا؟ ملصق بہ۔ اور پھر دوسری بات آپ نے یہ لکھوائی کہ تابع کو اصل سے ملاتے ہیں، اصل کو تابع سے نہیں ملاتے۔ تو کس کو ملایا جانا چاہیے؟ تابع کو یا اصل کو؟ تابع کو۔ اور کس کے ساتھ ملایا جانا چاہیے؟ اصل کو۔ لہذا تابع کو ہونا چاہیے ملصق اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ۔ تابع کیا ہے؟ اس کو ملایا گیا ہے، وہ ہے ملصق۔ اور کس کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ ملصق بہ، اصل کے ساتھ۔ تو لہذا تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق۔ اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ یہ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ کہ مشکل ہو گئی؟ بھئی دیکھو، مدخولِ با کیا کہلائے گا؟ ملصق بہ۔ یہ بات یاد رکھو۔ اور جانبِ آخر کیا کہلائے گی؟ ملصق۔ ملصق کا کیا معنی ہے؟ ملایا گیا، ایک کو ملایا گیا ہے۔ اور ملصق بہ کا کیا معنی؟ اس کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اور کس کو ملایا جاتا ہے؟ اصل کو ملایا جاتا ہے تابع کے ساتھ یا تابع کو اصل کے ساتھ؟ تو تابع ہوا ملایا گیا، تابع کو ملایا گیا، وہ کیا ہونا چاہیے؟ ملصق۔ اور کس کے ساتھ ملایا جانا چاہیے؟ اصل کے ساتھ۔ تو وہ کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ۔ اب بات سمجھ میں آئی؟ تو تابع کو ملصق ہونا چاہیے، آپ کی تقریر سے بات یہ سمجھ میں آئی۔ اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ ہونا چاہیے۔ لیکن بیع میں تو اس کا عکس ہے۔ یہاں تو با کس پر داخل ہو رہی ہے؟ ثمن پر۔ اور جس پر با داخل ہو، وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ وہ کیا کہلاتا ہے؟ ملصق بہ۔ اور ملصق بہ کیا ہوا کرتا ہے، ابھی بتلایا؟ اصل ہوتا ہے۔ ملصق بہ کیا ہوتا ہے؟ اصل ہوتا ہے۔ تو اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ ثمن اصل ہے اور مبیع تابع ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا کہ مشکل ہے بھئی؟ بھئی وہ ترتیب یاد رکھو گے تو مسئلہ سمجھ میں آئے گا، ورنہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آئے گا بھئی۔ پہلی بات یہ کی کہ جس سے با داخل ہوتی ہے، بس یہ یاد رکھو، وہ کیا ہے؟ ملصق بہ۔ ملصق بہ۔ اور جانبِ آخر کیا ہے؟ ملصق ہے۔ یعنی اس جانبِ آخر کو ملایا گیا ہے با کے ذریعے، اس ما بعد سے۔ اور ملایا کس کو جاتا ہے؟ تابع کو کس کے ساتھ؟ اصل کے ساتھ۔ تو جس کو ملایا جائے، وہ کیا ہے؟ ملصق۔ اور جس کے ساتھ ملایا جائے، وہ کیا ہے؟ ملصق بہ۔ اور کس کو کس کے ساتھ ملایا جانا چاہیے؟ تابع کو۔ تو تابع ہوا جس کو ملایا گیا، وہ ہے ملصق۔ اور کس کے ساتھ ملایا گیا؟ اصل کے ساتھ۔ تو وہ کیا ہوا؟ ملصق بہ۔ لہذا تابع کو ملصق ہونا چاہیے اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ ہونا چاہیے۔ اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ یعنی اس پر با داخل ہو، کیونکہ با جس پر داخل ہوتی ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ ملصق بہ۔ معلوم ہوا اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ، یعنی اس پر کیا داخل ہونی چاہیے؟ با داخل ہونی چاہیے۔ اور حالانکہ بیع کے اندر با کس پر داخل ہوا کرتی ہے؟ ثمن پر داخل ہوا کرتی ہے۔ تو اس تقریر سے تو لازم آیا کہ ثمن اصل ہے اور مبیع کیا ہے؟ تابع ہے، کیونکہ با کس پہ داخل ہو رہی ہے؟ ثمن، اور ثمن کیا ہوا؟ ملصق بہ۔ اور ملصق بہ کیا ہوا کرتا ہے؟ اصل۔ معلوم ہوا ثمن کیا ہے؟ اصل۔ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اشکال ہوتا ہے۔ تو جواب علماء دیتے ہیں اس کا بھئی۔ کہتے ہیں بھئی، جب فعل کے بعد با لائی جائے، تو وہاں دراصل مقصود وہ فعل ہوا کرتا ہے۔ جب فعل کے بعد کیا لائی جائے؟ با لائی جائے، تو دراصل وہاں مقصود کیا ہوا کرتا ہے؟ وہ فعل ہوتا ہے اور اس فعل کو ملایا جاتا ہے دوسری چیز کے ساتھ۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: كَتَبْتُ بِالْقَلَمِ۔ میں نے لکھا، کس کے ساتھ؟ قلم کے ساتھ۔ تو یہاں پر یہ کتابت فعل اصل ہوا اور اس کو ملایا گیا ہے، کس کے ساتھ؟ قلم کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ قلم کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو یہاں پر اصل مقصود ما بعد نہیں ہوتا، بلکہ کون سا ہوتا ہے؟ ما قبل ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کہ ہونا تو ضابطہ یہی چاہیے کہ با کے مدخول کو اصل ہونا چاہیے اور ما قبل کو تابع ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں بابِ بیع کے اندر، یہاں پر اصل مقصود کیا ہے؟ فعل مقصود ہوا کرتا ہے اور اس فعل کو کسی اسم کے ساتھ کس کے ذریعے ملایا جاتا ہے؟ با کے ساتھ۔ تو وہ جو با کا مدخول ہوتا ہے، وہ آلے کے درجے میں ہوتا ہے۔ کس کے درجے میں؟ آلے کے ساتھ جیسے کوئی فعل سرانجام دیا جائے، تو وہ فعل اصل ہے یا وہ آلہ اصل ہے؟ فعل اصل ہے۔ تو آپ نے کہا: كَتَبْتُ بِالْقَلَمِ، میں نے کس کے ساتھ لکھا؟ قلم کے ساتھ۔ تو یہاں کتابت اصل ہے اور قلم اس کے لیے کیا ہے؟ آلہ ہے۔ کیا ہے؟ آلہ ہے۔ تو یہاں پر اب یہ جو با کا مدخول ہے، وہ تابع ہوا اور ما قبل کیا بن گیا؟ اصل۔ گزشتہ تقریر سے کیا بات ثابت ہوئی تھی کہ تابع کیا ہے؟ ملصق۔ اور اصل کیا ہے؟ ملصق بہ۔ لیکن یہاں پر بیع وغیرہ کے اندر اصل کیا ہے؟ ملصق اصل ہے اور ملصق بہ کیا ہے؟ تابع ہے۔ عکس ہوا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اصل تو یہی ہونا چاہیے تھا کہ ملصق بہ کیا ہو؟ اصل۔ اور ملصق کیا ہو؟ تابع۔ لیکن یہاں پر ملصق کیا ہے؟ اصل، اور ملصق بہ کیا ہے؟ تابع ہے۔ کیونکہ جب فعل کو کسی چیز کے ساتھ، کسی اسم کے ساتھ با کے ذریعے ملایا جائے، تو وہاں پر اصل مقصود کیا ہوا کرتا ہے؟ وہ فعل مقصود ہے۔ اور وہ جس پر با داخل ہوئی، وہ کس کے درجے میں ہے؟ آلے کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ یعنی اس کی مدد سے وہ فعل کیا گیا، تو وہ آلے کے درجے میں ہوئی۔ جب آلے کے درجے میں ہوئی، تو وہ مقصود ہوئی یا غیر مقصود ہوئی بھئی؟ غیر مقصود۔ معلوم ہوا وہ فعل اصل ہوا اور وہ با کا مدخول کیا ہوا؟ تابع۔ کیا ہوا؟ تابع۔ لہذا اب یہاں بیع وغیرہ کے اندر با کا مدخول وہ تابع ہے اور ما قبل کیا ہے؟ اصل ہے۔ ما قبل کیا ہے؟ تو ما قبل کون ہوتا ہے؟ ملصق۔ اور ما بعد کیا ہوتا ہے؟ ملصق بہ۔ تو ملصق بہ یہاں پر آ کر تابع ہوا اور ملصق کیا ہوا؟ اصل ہوا۔ یہ بات سمجھ میں آگئی؟ ہونا تو ملصق کو تابع چاہیے اور ملصق بہ کو اصل، لیکن یہاں پر ملصق اصل ہے اور ملصق بہ کیا ہے؟ تابع ہے۔ علت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی۔ تو بھئی خلاصۂ بحث یہ ہوا، تین باتیں ذکر کیں، پھر اس پر اشکال ہوا، پھر جواب ذکر کیا گیا۔ پہلی بات کیا ذکر کی؟ کہ با آتی ہے الصاق کے لیے، لہذا جس پر یہ داخل ہوگی، وہ کیا ہے؟ ملصق بہ، اور ما قبل کیا ہے؟ ملصق۔ پھر دوسری بات یہ کی کہ تابع کو اصل سے ملایا جاتا ہے، نہ کہ اصل کو۔ تو لہذا جس کو ملایا گیا، ما قبل جو ہے، وہ ہے ملصق، وہ ہے تابع، اور ما بعد ملصق بہ، وہ کیا ہے؟ اصل ہونا چاہیے۔ لیکن، اور پھر تیسری بات یہ ذکر کی مولانا، کہ بیع کے اندر تو، بیع کے اندر مبیع اصل ہے یا ثمن؟ مبیع کیا ہے؟ اصل ہے، اور ثمن ذریعہ ہے، اس کے ذریعے مبیع تک پہنچا جاتا ہے، پہنچا جاتا ہے۔ تو اس پر پھر اشکال، اسی وجہ سے تو کہتے ہیں با ثمن پر کیا داخل ہوتی ہے؟ با۔ تو اشکال ہوا بھئی، جس پر تو ثمن داخل ہوتی ہے، با داخل ہوتی ہے اس کو تو آپ نے کیا قرار دیا تھا؟ ملصق بہ۔ اور اس دوسرے مقدمے میں آپ نے ذکر کیا تھا کہ ملصق بہ کیا ہوا کرتا ہے؟ اصل۔ اصل کو ملصق بہ ہونا چاہیے اور تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق۔ تابع جو ہے اس کو ملایا جانا چاہیے اور کس کے ساتھ ملایا جانا چاہیے؟ اصل۔ لہذا ماقبل کو ہونا چاہیے ملصق، جو ہے وہ تابع ہونا چاہیے اور ملصق بہ کو کیا ہونا چاہیے؟ اصل۔ اس پر پھر فوراً اشکال ہوا کہ بیع کے اندر تو با کس پر داخل ہوتی ہے؟ ثمن پر۔ تو اس سے تو لازم آیا کہ ثمن اصل ہے اور مبیع کیا ہے؟ تابع۔ اس کا جواب، اس اشکال کا پھر میں نے جواب بتایا کہ ایک فعل کو جب با کے ذریعے کسی اسم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو وہاں پر اصل مقصود کیا ہوا کرتا ہے؟ وہ فعل۔ اور وہ جس پر با داخل ہوئی وہ کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ آلے اور ذریعے کے درجے میں ہوا کرتا ہے۔ لہذا وہ ملصق بہ تو ہے لیکن اصل نہیں بلکہ کیا ہے؟ تابع ہے۔ اور ماقبل جو فعل وغیرہ ہے وہ کیا ہے؟ اصل ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اصل تو ہونا چاہیے ملصق بہ کو، لیکن کس کو بنا دیتے ہیں؟ ملصق کو۔ اور ملصق کو تو تابع ہونا چاہیے، لیکن تابع کس کو بنا دیتے ہیں؟ ملصق بہ کو۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے دیکھیے بھئی۔ حَرْفُ الْبَاءِ لِلِإلْصَاقِ۔ حرفِ با کس کے لیے ہے؟ الصاق کے لیے ہے۔ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانے کے لیے ہے فِي وَضْعِ اللُّغَةِ، وضعِ لغت کے اعتبار سے۔ یعنی اس لغت میں اس کو اس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ وَلِهَذَا تَصْحَبُ الْأَثْمَانَ۔ تَصْحَبُ أَيْ تَدْخُلُ الْأَثْمَانَ۔ تصحب کا کیا معنی ہے؟ داخل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ثمنوں پر داخل ہوتی ہے بھئی۔ کس پر داخل ہوتی ہے؟ با کس پر داخل ہوتی ہے بھئی؟ ثمن۔ اسی لیے وہ ثمن پر داخل ہوتی ہے۔ وَتَحْقِيقُ هَذَا، اور تحقیق اس مسئلے کی یہ ہے کہ أَنَّ الْمَبِيعَ أَصْلٌ فِي الْبَيْعِ، کہ مبیع بیع کے اندر اصل ہے۔ وَالثَّمَنُ شَرْطٌ فِيهِ، اور ثمن کیا ہے؟ شرط ہے بیع کے اندر۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اصل کیا ہوا؟ مبیع۔ کہ اس کے اس سے انسان کیا کرتا ہے؟ نفع حاصل کرتا ہے۔ اور ثمن کے ذریعے سے بغیر ثمن سے براہِ راست نفع حاصل نہیں کرتا۔ وَلِهَذَا الْمَعْنَى، اور اسی علت کی بناء پر، یہ جو ہم نے علت ذکر کی، کیا علت ذکر کی؟ معنی کا ترجمہ میں نے کیا کیا؟ علت کے۔ اور اسی علت کی بناء پر، اسی سبب کی بناء پر کیا ضابطہ ذکر کیا؟ کون سی علت ذکر کی؟ کہ مبیع اصل ہے اور ثمن کیا ہے؟ شرط ہے، تابع ہے۔ اسی علت کی بناء پر ہَلَاكُ الْمَبِيعِ يُوجِبُ ارْتِفَاعَ الْبَيْعِ دُونَ هَلَاكِ الثَّمَنِ، کہ مبیع کا ہلاک ہو جانا یہ واجب کر دیتا ہے بیع کے اٹھ جانے کو نہ کہ ثمن کے ہلاک ہو جانا۔ بھئی یاد رکھو، مبیع ہے اصل، اور اصل جب ہلاک ہو جائے تو بیع ہی کیا ہوئی؟ ختم۔ اور ثمن ہے تابع، اور تابع کے زوال سے اصل کا زوال نہیں آتا۔ سمجھ میں آیا؟ مبیع ہے اصل، اور اصل ہی زائل ہوا تو تابع بھی کیا ہوا؟ تو اصلِ فعل ہی ختم ہوا، بیع ہی ختم ہو گئی۔ لیکن تابع کے زوال سے کے ساتھ اصل کا زوال نہیں۔ تو لہذا بیع کے اندر ایک شخص نے کسی چیز کی کسی کے ساتھ بیع کی۔ بیع ہو گئی، لیکن ابھی اس نے مبیع ہلاک مبیع اس کے حوالے نہیں کیا تھا کہ مبیع ہلاک ہو گیا۔ تو کیا حکم لگائیں گے آپ مولانا؟ بیع ہی ختم ہو گئی۔ لیکن اگر ثمن کسی کے پاس ہلاک ہو جائیں تو اس سے بیع ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس شخص کے ذمے میں ثمن باقی ہیں، ان جیسے ثمن اب وہ کیا کر دے؟ ادا کر دے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ادا کر دے۔ آپ ایک شخص کو کتاب بیچ رہے تھے، یا یوں کہیں، کاغذ کا ایک دستہ بیچ رہے تھے، اور کاغذ کا دستہ آپ نے نکالا سامنے رکھا ہے، اور وہ سو روپے کا ہے، اس نے سو کا نوٹ ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔ اب اگر وہ سو کا نوٹ ہلاک ہوا، مثلاً آگ لگی ایک دم اس کے ہاتھ سے، جل گیا بھئی، فرض کرو۔ جل گیا۔ یا اس کے ہاتھ سے ہوا نے ایک دم اڑایا، لو بھئی، پانی کے اندر، دریا میں گر گیا بھئی، اب نہیں آ سکتا، ہلاک ہوا۔ تو بیع ہو چکی آپ دونوں کے درمیان، ایجاب و قبول ہو چکا ہے۔ تو اب کیا کہا جائے گا؟ بیع ختم ہوئی یا باقی ہے؟ بیع اب بھی باقی ہے، یہ مبیع اس کا ہو چکا ہے۔ ہاں، اس پر اب اس کے مثل دینا پڑے گا، ثمن کے اور سو دے دے گا۔ لیکن اگر وہ کتاب یا وہ دستہ آپ کے ہاتھ سے نکلا، دریا میں گرا، ہلاک ہو گیا تو بیع ہی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی، بیع ختم ہو گئی۔ وَلِهَذَا الْمَعْنَى، اسی علت کی بناء پر ہَلَاكُ الْمَبِيعِ، مبیع کا ہلاک ہو جانا يُوجِبُ، یہ واجب کر دیتا ہے ارْتِفَاعَ الْبَيْعِ، یا يُثْبِتُ، ثابت کر دیتا ہے ارْتِفَاعَ الْبَيْعِ، بیع کے اٹھ جانے کو۔ بیع ہی اٹھ جائے گی، بیع ہی ختم ہو جائے گی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ بیع ہی اٹھ گئی، یعنی ختم ہو گئی۔ دُونَ هَلَاكِ الثَّمَنِ، نہ کہ ثمن کا ہلاک، اس سے ارتفاعِ بیع نہیں ہو گا بھئی۔ إِذَا ثَبَتَ هَذَا، جب یہ بات ثابت ہو گئی، فَنَقُولُ، تو مصنف فرماتے ہیں ہم کہتے ہیں: الْأَصْلُ، اصل یہ ہے كَ أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا بِالْأَصْلِ۔ طبع بمعنی تابع کے۔ کہ تابع کو ملصق ہونا چاہیے کس کے ساتھ؟ اصل کے ساتھ۔ مصنف کیا فرماتے ہیں؟ اصل یہ ہے کہ تابع کو ملصق ہونا چاہیے، ملایا جانا چاہیے کس کے ساتھ؟ اصل کے ساتھ، نہ یہ کہ اصل کو لَا أَنْ يَكُونَ الْأَصْلُ مُلْصَقًا بِالطَّبَعِ، نہ کہ یہ کہ اصل کو ملایا جائے کس کے ساتھ؟ تابع کے ساتھ۔ فَإِذَا دَخَلَ حَرْفُ الْبَاءِ فِي الْبَدَلِ، پس جب داخل ہوا حرفِ با بدل میں فِي بَابِ الْبَيْعِ، کس میں؟ بیع کے باب میں۔ بھئی با کس پر داخل ہوتی ہے؟ بدل، کتاب، اشْتَرَيْتُ الْكِتَابَ بِالْمِائَةِ۔ تو یہ با کس پر داخل ہوا ہے؟ بدل پر۔ تو جب حرفِ با داخل ہوا بدل پر بھئی، بابِ بیع کے اندر، دَلَّ ذَلِكَ، تو دلالت کی اس دخولِ با نے عَلَى أَنَّهُ طَبَعٌ، کہ یہ مدخولِ با کیا ہے؟ تابع ہے۔ مُلْصَقٌ بِالْأَصْلِ، ملایا گیا ہے کس کے ساتھ؟ اصل کے ساتھ۔ فَلَا يَكُونُ مَبِيعًا، تو یہ مبیع نہیں ہو گا۔ فَيَكُونُ ثَمَنًا، یہ مدخولِ با مبیع نہیں ہو گا، کیا ہو گا؟ ثمن ہو گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ مصنف کی عبارت پر اشکال ہوتا ہے۔ بھئی، ابھی تک جو میں نے تقریر کی تھی، اس تقریر کے مطابق اصل تو یہی تھا کہ تابع کو ملصق ہونا چاہیے اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ۔ لیکن باب البیع وغیرہ کے اندر اصل ملصق ہے اور تابع کیا ہے؟ ملصق بہ۔ یہاں تک بات ہو گئی تھی یا نہیں؟ بیع وغیرہ میں اصل کیا ہے؟ اصل کیا ہونا چاہیے؟ ملصق یا ملصق بہ؟ اصل کیا ہے؟ ملصق۔ یہ بات یاد رکھو۔ اصل کیا ہے؟ ملصق ہے۔ اصل کیا ہے؟ ملصق۔ بات ذہن میں جما لو۔ مصنف پر اشکال ہونے لگا ہے، بات ذرا پیچیدہ سی ہے تاکہ یاد رہے آپ کو۔ ہونا تو ملصق تابع کو چاہیے تھا، لیکن ہم نے جواب دے کر بتلایا کہ یہاں پر اصل کون ہے؟ ملصق ہے۔ یہ بات ثابت ہو گئی؟ مصنف کی تقریر اس کے عکس ہو رہی ہے۔ دیکھیے: الْأَصْلُ أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا بِالْأَصْلِ، کہ تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق۔ حالانکہ ابھی ہم نے کیا کہا؟ کہ یہاں پر اصل کیا ہو گا؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ تو اصل تو اصل کو ملصق، اصل یہاں پر ملصق ہو گا، اور تابع کیا ہو گا؟ ملصق بہ۔ جبکہ مصنف کیا کہہ رہے ہیں کہ أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا، کہ تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق ہونا چاہیے اصل کے ساتھ، نہ کہ اصل کو ملصق ہونا چاہیے تابع کے ساتھ۔ تو اس مصنف پر اشکال ہوتا ہے مولانا، کہ آپ کی تو پھر آپ عکس کر رہے ہیں بھئی مسئلے کا۔ یہاں تو ملصق کو اصل ہونا، اصل جو ہے ملصق ہونا چاہیے نہ کہ تابع۔ تو جواب دیا بعض علماء نے کہ یہ عبارت قلب پر محمول ہے۔ یہ عبارت کس پر محمول ہے؟ قلب پر محمول ہے۔ قلب کہتے ہیں کلام کے ایک جزو کو دوسرے کی جگہ رکھ دینا اور دوسرے کو پہلے کی جگہ رکھ دینا۔ قلب کسے کہتے ہیں؟ ایک جزو کو پہلے پہلے جزو کو دوسرے کی جگہ رکھ دینا اور دوسرے کو پہلے کی جگہ۔ تو یہاں دیکھیے: الْأَصْلُ أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا بِالْأَصْلِ۔ طبع کو اٹھا کر اصل کی جگہ رکھ دیا اور اصل کو اٹھا کر طبع کی جگہ کس کو رکھیں؟ اصل۔ اور آگے آیا ہے: مُلْصَقًا بِالْأَصْلِ۔ اصل کی جگہ اٹھا کر کس کو رکھیں؟ طبع کو۔ اب بات ٹھیک ہو جائے گی۔ الْأَصْلُ أَنْ يَكُونَ الْأَصْلُ مُلْصَقًا بِالطَّبَعِ، کہ اصل ملصق ہونا چاہیے کس کے ساتھ؟ طبع کے ساتھ۔ لَا أَنْ يَكُونَ یا لَا أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا بِالْأَصْلِ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھا، طبع کو اٹھا کر اصل کی جگہ رکھا، اور اصل کو اٹھا کر کس کی جگہ رکھ دیا؟ قلب، طبع کی جگہ۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قلب۔ قلب کہتے ہیں کلام کے ایک جزو کو اٹھا کر دوسرے کی جگہ رکھنا اور دوسرے کو اٹھا کر، اور یہ کلامِ عرب میں کیا جاتا ہے مولانا۔ اس سے کلام میں جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے، ملاحت پیدا ہو جاتی ہے، جاذبیت مولانا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو کبھی کبھار یہ قلب کیا جاتا ہے کلامِ عرب میں۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا دَخَلَ حَرْفُ الْبَاءِ فِي الْبَدَلِ، جب حرفِ با داخل ہوا بدل میں فِي بَابِ الْبَيْعِ، بیع کے باب کے اندر دَلَّ ذَلِكَ، دلالت کی اس بات نے عَلَى أَنَّهُ طَبَعٌ، کہ یہ مدخولِ با کیا ہے؟ تابع ہے۔ مُلْصَقٌ بِالْأَصْلِ، یہ ملصق ہے بالصل، اصل کے ساتھ بھئی۔ فَلَا يَكُونُ مَبِيعًا، تو یہ مبیع نہیں ہو گا۔ فَيَكُونُ ثَمَنًا، تو ثمن ہو گا۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی؟ ہے پیچیدہ بحث، لیکن جس ترتیب سے میں نے بتایا، اس طرح یاد رکھو گے تو آسانی سے یاد ہو جائے گی۔ پھر سن لو۔ با آتی ہے الصاق کے لیے۔ ایک چیز کو ملاتے ہیں کس کے ساتھ؟ دوسری چیز کے ساتھ۔ تو مدخولِ با ہے، وہ کیا ہوتا ہے؟ ملصق بہ، یعنی اس کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اور کس کو ملایا گیا ہے؟ ماقبل کو۔ تو وہ کیا ہے؟ ملصق، اور مدخولِ با؟ ملصق بہ۔ پھر دوسری بات کہ اصل کو تابع کے ساتھ نہیں ملاتے، بلکہ تابع کو اصل۔ لہذا تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق، اور اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ ملصق بہ، کہ تابع کو ملایا، تابع ملایا گیا ہو اور کس کے ساتھ ملایا گیا ہو؟ اصل، تو ملصق بہ۔ یہ بات سمجھ میں آئی؟ پھر تیسری بات کہ بیع کے اندر مبیع اصل ہے اور ثمن کیا ہے؟ فرع ہے۔ اس پہ اشکال ہوا کہ با تو ثمن پر داخل ہوتی ہے، اور ثمن جس پر با داخل ہو وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ ملصق بہ۔ اور ملصق بہ کیا ہوا کرتا ہے؟ اصل۔ معلوم ہوا ثمن کیا ہے؟ اصل۔ اس کا بھی جواب دیا کہ یہاں پر جس پر با داخل ہوئی ہے وہ آلے کے درجے میں ہے۔ لہذا وہ اصل نہیں بلکہ کیا ہے؟ تابع، اور ماقبل کیا ہے؟ اصل۔ تو اصل کون ہوا؟ ملصق، اور تابع کون ہوا؟ ملصق بہ۔ یہاں پر، یہاں پر، یہاں پر اصل ہوا ملصق، اور تابع کیا ہوا؟ ملصق بہ۔ تو اصل ہوا ملصق، اور مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ كَ أَنْ يَكُونَ الطَّبَعُ مُلْصَقًا، کہ تابع کو کیا ہونا چاہیے؟ حالانکہ ابھی ہم نے کیا کہا؟ کہ اصل کو کیا ہونا چاہیے؟ اب یہاں اصل ملصق ہے نہ کہ تابع۔ تابع تو ملصق بہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جواب کیا دیا؟ کہ یہ کس پر محمول ہے؟ قلب پر۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ وَعَلَى هَذَا قُلْنَا، چلیے، بس کرتے ہیں مولانا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
123 approved lectures · 83 of 123