Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 70
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل بھئی ہم نے فی کی بحث شروع کی تھی بھئی۔ فی کے میں نے بتلایا مصنف دو معنی بتلائیں گے۔ ایک کہ فی ظرفیت کے لیے آتا ہے اور نمبر دو کہ فی کبھی شرط کے لیے آتا ہے بھئی۔ اور فی کا ظرفیت کے لیے آنا، یہ فی کا حقیقی معنی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے فی کا؟ یہ ایک کہ ما بعد کو ظرف بناتا ہے ما قبل کے لیے جیسے: زَيْدٌ فِي الدَّارِ۔ تو یہ ما بعد کیا ہے؟ دار، یہ ظرف ہے۔ کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ یعنی زید اس میں ہے، اس نے زید کا احاطہ کیا ہوا ہے جیسے برتن نے مظروف، جو اس کے اندر چیز ہوتی ہے، اس کا احاطہ کیا ہوتا ہے۔ وَبِاعْتِبَارِ هَذَا الْأَصْلِ اور اسی بنا پر ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: إِذَا قَالَ جب کسی شخص نے کہا: غَصَبْتُ ثَوْبًا فِي مِنْدِيلٍ أَوْ تَمْرًا فِي قَوْصَرَّةٍ لَزِمَاهُ جَمِيعًا۔ اگر کسی نے یوں کہا تو اس صورت میں، مثلاً پہلے کیا، کس نے یہ کہا: غَصَبْتُ ثَوْبًا فِي مِنْدِيلٍ، میں نے کپڑا غصب کیا رومال میں، تو اس پر کپڑا بھی لازم ہو جائے گا اور رومال بھی لازم ہو جائے گا۔ اور یا اگر کسی نے یوں کہا: غَصَبْتُ تَمْرًا فِي قَوْصَرَّةٍ، میں نے کھجوریں غصب کیں ٹوکری میں، تو اس پر کھجوریں بھی لازم ہو جائیں گی اور ٹوکری بھی، تو دونوں چیزیں لازم ہو جائیں گی بھئی۔ وجہ یہ کہ اس، کہ وہ فی لے کر آیا ہے اور فی کا ما بعد کیا ہوا کرتا ہے؟ ظرف ہوا کرتا ہے ما قبل کے لیے، اور ضابطہ ہے کہ ظرف جب تک ظرف ہے، وہ مظروف سے جدا نہیں ہو سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جب وہ ظرف ہے تو چیز اس کے اندر ہے، جب اس کے اندر ہے تو وہ اس سے جدا نہیں، اور جب وہ اس کے لیے ظرف نہیں، پھر جب وہ وہ، پھر اگر وہ اس سے نک، اس سے جدا ہو جائے پھر تو وہ اس کے لیے ظرف ہی نہ رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ثُمَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ تُسْتَعْمَلُ فِي الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ وَالْفِعْلِ پھر یہ کلمۂ فی استعمال ہوتا ہے زمانے میں بھی اور مکان میں بھی اور فعل کے اندر بھی۔ یعنی زمانے پر، ظرفِ زمان پر بھی داخل ہوتا ہے، ظرفِ مکان پر بھی داخل ہوتا ہے اور فعل، اور فعل سے میں نے بتلایا تھا وہ فعلِ اصطلاحی نہیں مراد جو علمِ نحو میں آپ نے پڑھا ہے بلکہ اس فعل سے کیا مراد ہے؟ فعلِ لغوی مراد ہے، جو کس کو کہتے ہیں؟ مصدر کو، کیونکہ مصدر کو لغت میں فعل کہتے ہیں بھئی۔ تو زمانے، مکان اور فعل، تینوں پر فی داخل ہوگا اور تینوں میں کیسے کیا معنیٰ کیا جائے گا، کیسے مسائل ان پر مرتب ہوں گے، ان سب کی اب بحث کرنے لگے ہیں مصنف۔ تو سب سے پہلے بتلا رہے ہیں کہ جب اس کو استعمال کیا جائے زمانے کے اندر، کس کے اندر؟ یعنی کلمۂ فی ظرفِ زمان پر داخل ہو بھئی، ظرفِ زمان۔ اب یاد رکھو، اس مسئلے میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے بھئی اس بات کے اندر کہ فی کلام کے اندر ظرفِ زمان پر جب آئے تو وہ ظرفِ زمان وہ ما قبل کے لیے معیار ہوگا یا ظرف ہوگا؟ وہ ظرفِ زمان کیا ہوگا؟ اس بات میں اختلاف ہے صاحبین اور امام صاحب کا کہ فی جب ظرفِ زمان پر داخل ہو تو وہ ما قبل کے لیے معیار ہوگا یا ظرف ہوگا، وہ زمانہ معیار ہوگا یا ظرف ہوگا، اس میں اختلاف ہے بھئی۔ ایک ہے معیار، ایک ہے ظرف۔ آپ پہلے بھی یہ بحث پڑھ چکے ہیں بھئی، کہ معیار کسے کہتے ہیں اور ظرف؟ پھر بھی سن لیجیے۔ معیار اسے کہتے ہیں کہ ذو المعیار، ذو المعیار احاطہ کر لے معیار کا، یعنی ذو المعیار معیار کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی وہ ما قبل کا فعل جو ہے، وہ پورے ظرفِ زمان کو گھیر لیتا ہے۔ وہ کیا کر لیتا ہے؟ پورے ظرفِ زمان کو گھیر لیتا ہے، اس کا احاطہ کر لیتا ہے اول سے آخر تک بھئی۔ تو جب وہ فعل اس ظرفِ زمان کا احاطہ کر لے اول سے آخر تک، اس کا استیعاب کر لے، استیعاب کا کیا معنیٰ؟ گھیر لینا، اس کا استیعاب کر لے تو یہ وقت، یہ ظرفِ زمان اس کے لیے کیا کہلاتا ہے؟ معیار کہلاتا ہے۔ دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ جیسے روزہ ہے بھئی، روزے کے لیے یہ دن جو ہے، یہ معیار ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ روزہ اولِ یوم سے شروع ہوتا ہے، آخرِ یوم تک جاتا ہے، کوئی ایک لمحہ بھی بچتا ہے روزے سے خارج دن کا؟ نہیں، تو اس روزے نے پورے وقت کا احاطہ کر لیا، تو یہ کیا کہلائے گا؟ یہ وقت اس روزے کے لیے معیار ہے اور معیار کے چھوٹا بڑا ہونے سے ذو المعیار بھی چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ اگر دن طویل ہے تو روزہ بھی طویل ہوگا، اگر دن چھوٹا ہے تو روزہ بھی چھوٹا ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دن ہے معیار اور روزہ ہے ذو المعیار، معیار والا بھئی۔ تو اب اس میں اختلاف کا ذکر کہ کلمۂ فی اگر ظرفِ زمان پر داخل ہو تو وہ ما بعد معیار ہوگا یا ظرف؟ معیار کسے کہتے ہیں؟ کہ ما قبل جو ہے، پورے ظرفِ زمان کو گھیر لے، اس کو، اس کا احاطہ کر لے، اس کا استیعاب کر لے، اس میں سے کوئی بھی وقت باقی، کوئی جز اس کا باقی نہ بچے، خالی نہ رہے بھئی۔ اور ظرف اسے کہتے ہیں کہ مظروف بھئی، پورے زمان، ظرف ہونے کی صورت میں وہ مظروف پورے ظرفِ زمان کا احاطہ نہیں کرتا بلکہ کچھ زائد وقت بچ جاتا ہے، بلکہ زائد وقت، جیسے مولانا یہ نمازوں کے اوقات جو ہیں، یہ ظرف ہیں نمازوں کے لیے۔ بھئی کسی بھی وقت کی جب نماز ادا کی جائے تو کیا وہ سارے وقت کو گھیر لیتی ہے یا وقت بچ جاتا ہے؟ مثلاً ظہر کی نماز پڑھنی ہے، ظہر کا وقت تو تین گھنٹے ہے مولانا، اور ظہر کی نماز تو دو چار پانچ منٹ کے اندر فرض مثلاً ادا ہو گئے۔ تو باقی سارا وقت کیا ہوا؟ زائد بچ گیا بھئی۔ تو روزے میں وقت وہ اس کا جو تھا، اس وقت میں سے کچھ فاضل نہیں بچتا تھا جبکہ یہاں پر فاضل وقت بھی بچ جاتا ہے۔ تو معیار کے اندر ذو المعیار پورے وقت کا احاطہ کر لیتا ہے جبکہ ظرف ہونے کی صورت میں مظروف پورے ظرف کا احاطہ نہیں کرتا۔ تو مسئلہ، یہ تو میں سمجھا رہا تھا آپ کو معیار اور ظرف کے بارے میں، تو اس بات میں اختلاف ہے کہ فی کلمہ جب ظرفِ زمان پر داخل ہو تو وہ زمانہ ما قبل کے لیے ظرف بنے گا یا معیار بنے گا؟ صاحبین فرماتے ہیں کہ جب فی کو عبارت میں چاہے، چاہے فی کو عبارت میں ذکر کیا جائے یا اختصار کرتے ہوئے حذف کر لیا جائے، دونوں صورتوں میں وہ ظرفِ زمان معیار بنے گا بھئی۔ چاہے کلمۂ فی کو عبارت میں ذکر کیا جائے یا اختصار کرتے ہوئے اس کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے، دونوں صورتوں میں وہ، وہ ظرف، وہ، وہ جو ہے ما بعد وقت جو ہے، وہ ما قبل کے لیے کیا بنے گا؟ معیار بنے گا اور وہ ما قبل احاطہ کر لے گا پورے وقت کا، استیعاب کر لے گا پورے وقت کا بشرطیکہ استیعاب ممکن بھی ہو۔ ما قبل والا فعل کیا کرے گا بھئی؟ پورے ظرف، کیونکہ ما بعد بھئی جب فی چاہے آئے یا فی حذف ہو، ذکر نہ ہو عبارت کے اندر، دونوں صورتوں میں ما بعد نے کیا بننا ہے؟ معیار، اور معیار میں کیا ہوتا ہے؟ وہ فعل اول سے لے کر آخر تک سارے وقت کا کیا کر لیتا ہے؟ احاطہ کر لیتا ہے، تو یہاں بھی وہ فعل پورے وقت کا احاطہ کر لے گا بشرطیکہ احاطہ ممکن ہو، استیعاب ممکن ہو۔ اگر ممکن ہی نہ ہو پھر تو الگ بات ہے۔ تو ان کے نزدیک دونوں صورتوں میں جب کلمۂ فی ظرفِ زمان پر آئے تو چاہے اس کو عبارت میں ذکر کریں، چاہے اختصار کرتے ہوئے حذف کر لیں، دونوں صورتوں میں ما بعد کیا بنے گا؟ معیار بنے گا۔ ہاں، ظرفیت کا بھی احتمال ہوگا۔ بنے گا معیار لیکن ظرفیت کا بھی وہاں احتمال ہوگا کیونکہ کلمۂ فی کس لیے آیا کرتا ہے؟ ظرفیت کے لیے آتا ہے، تو بنے گا تو معیار اور وہ پورے فعل کا، پورے زمانے کا احاطہ کرے گا لیکن بشرطیکہ استیعاب ممکن ہو، اور ظرفیت کا بھی وہاں پر کیا ہوگا؟ احتمال ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے صاحبین کا مذہب بھئی۔ یہ دیکھیے بھئی، اب اس پر ایک دو مسئلے ذکر کریں گے، پھر امام صاحب کا مسلک آپ کو بتلاتا ہوں۔ دیکھیے بھئی: أَمَّا إِذَا اسْتُعْمِلَتْ فِي الزَّمَانِ جب استعمال کیا جائے کلمۂ فی کو فِي الزَّمَانِ زمانے کے اندر، یعنی یہ زمانے پر داخل ہو، بِأَنْ يَقُولَ اس صورت کہ یوں کہے: أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا خاوند کیا کہتا ہے؟ أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا دیکھیے، تو یہاں أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ یوں بھی کہہ سکتا ہے، أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا یوں بھی کہہ سکتا ہے، فی کو ذکر بھی کر سکتا ہے اور حذف بھی۔ تو اس صورت میں فَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى صاحبین فرماتے ہیں: يَسْتَوِي فِي ذَلِكَ حَذْفُهَا وَإِظْهَارُهَا برابر ہے اس میں، اس، اس ظرفِ زمان کے اندر بھئی فی کا حذف کرنا اور فی کا ظاہر کرنا۔ فی کا حذف کرنا اور فی کا ظاہر کرنا برابر ہیں، دونوں صورتوں میں ما بعد کیا بنے گا؟ معیار بنے گا اور استیعاب پایا جائے گا بشرطیکہ استیعاب کیا ہو؟ ممکن ہو۔ حَتَّى لَوْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ یہاں تک کہ اگر خاوند نے یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ، فی لے کر آیا، كَانَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا تو یہ اسی، اس کے خاوند کے اسی قول کے درجے میں ہے گویا اس نے یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا۔ أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ فی کے ساتھ کہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے فی کے بغیر کہا، یعنی دونوں ایک دوسرے کی طرح ہے۔ تو کہتے ہیں: يَقَعُ الطَّلَاقُ كَمَا طَلَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّورَتَيْنِ جَمِيعًا طلاق واقع ہو جائے گی جیسے ہی طلوع ہوگی فجر دونوں صورتوں میں، فِي الصُّورَتَيْنِ جَمِيعًا، چاہے فی لائے یا فی نہ لائے بھئی، اگلے دن کی طلوعِ فجر کے ساتھ ہی کیا ہو جائے گی؟ اس نے کہا: تجھے کل طلاق ہے، أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا، تجھے کل طلاق ہے، یا أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ، تجھے کل میں طلاق ہے، دونوں صورتوں میں اگلے دن کے طلوعِ فجر کے ساتھ ہی کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس لیے کہ ابھی ضابطہ میں نے بتلایا، ان کے نزدیک جب فی ظرفِ زمان پر آئے تو چ، چ، چاہے اس کو آپ کیا کر دیں؟ عبارت میں ذکر کریں یا حذف کریں، دونوں صورتوں میں ما بعد کیا بنے گا؟ معیار بنے گا، معیار، اور معیار میں کیا ہوتا ہے کہ فعل شروع ہوتا ہے اولِ وقت سے لے کر آخرِ وقت تک، تو یہ وہ فعل گھیر لے گا پورے زمانے، پورے ظرفِ زمان کو، لیکن شرط کیا ہے کہ استیعاب ممکن بھی ہو۔ تو یہاں پر بھی فی آیا تو اب فی کو چاہے حذف کریں، چاہے ذکر کریں، ما قبل میں جو طلاق ہے، وہ تقاضا کر رہی ہے، یہ فی کی وجہ سے کہ یہ ما بعد میرے لیے کیا بن جائے؟ معیار بن جائے، یعنی اول سے آخر تک پورے کا احاطہ کر لے بھئی۔ اور یہاں تو طلاق تو ہے آنی چیز، کیا ہے؟ اس میں امتداد ہے؟ صبح سے شام تک طلاق ہو رہی ہے، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں، یہ تو ایک آن میں واقع ہو جایا کرتی ہے، تو یہاں استیعاب نے، تو یہاں فی آیا یا فی حذف ہوا، غَداً کا لفظ معیار بنے گا اور، لیکن معیار اب عارض کیا آ گیا کہ ما قبل فعل میں امتداد نہیں، تو امتداد ہوتا تو پھر تو یہ طلاق صبح سے لے کر شام تک پورے دن کا کیا کر لیتی؟ احاطہ کر لیتی، لیکن یہاں تو احاطہ ممکن نہیں۔ شروع کب ہونا تھا اس نے؟ اگلے دن کے شروع ہوتے، طلوعِ فجر کے ساتھ ہی، اور کب تک چلنا تھا؟ غروبِ آفتاب تک، تو لہٰذا لیکن امتداد نہیں، تو لہٰذا یہ شروع تو کس وقت ہوئی مولانا؟ طلوعِ فجر کے ساتھ ہی، اور امتداد تو ہے نہیں تو ایک آن میں اسی وقت واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ مسئلہ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ ہم نے کہا تھا کہ صاحبین کے نزدیک فی ذکر ہو یا ذکر نہ ہو، دونوں صورتوں میں ما بعد کیا بنے گا؟ معیار بشرطیکہ استیعاب وہاں پر ممکن ہو، تو یہاں بھی اسی طرح ہے لیکن یہاں استیعاب ممکن نہیں ہے، اس لیے فوراً طلوعِ فجر کے ہوتے ہی کیا ہو جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ ہاں، ظرفیت کا بھی احتمال ہے مولانا صاحبین نے کہا تھا، ظرفیت کا بھی احتمال ہے اور ظرف مظروف سے زائد ہوا کرتا ہے۔ تو ظرفیت کا بھی احتمال ہے، لہٰذا اب وہ شخص اگر یہ کہہ دیتا ہے: بھئی میں نے کہا تو تھا لیکن میری نیت کیا تھی کہ اگلے دن شام کے وقت طلاق واقع ہو بھئی، عصر کے بعد مثلاً، خاص جز کا اس نے کیا کر لیا دن کے؟ ارادہ کر لیا۔ کیا اس نے کہا میری نیت تو کیا تھی کہ طلاق میں نے کہا تو یہ کہ أَنْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ، لیکن میری نیت کیا تھی یا میں نے کہا أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا نیت کیا تھی کہ کس وقت طلاق واقع ہو؟ شام، عصر کے وقت واقع ہو، تو صاحبین فرماتے ہیں دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی، قضاءً اس کی تصدیق نہیں، دیانۃً اس لیے تصدیق کی جائے گی کہ اس نے اب اگلے دن کو طلاق کے لیے معیار نہیں بنایا بلکہ کیا بنایا ہے؟ ظرف بنایا ہے، اس کے ایک جز کے اندر طلاق کو واقع کرنا چاہتا ہے، اس کے ایک جز کے اندر، اور فی ظرفیت کا احتمال رکھتا ہے، تو اس نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو کلام بھی محتمل ہے اس کا، کلام میں بھی اس کا احتمال ہے، لہٰذا دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا اس کے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے، وہ کہتا ہے میری یہ نیت تھی، ہم کہیں گے ٹھیک ہے، اگر آپ کی یہ نیت تھی تو پھر طلاق کس وقت واقع ہوگی؟ عصر ہی کے وقت واقع ہوگی۔ لیکن اگر وہ قاضی کے پاس جائے تو پھر قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی اس لیے کہ اس کا فی سے ظرفیت والا معنیٰ لینا خلافِ ظاہر ہے۔ کیا ہے؟ ظاہر تو کیا ہے کہ ما بعد کو کیا ہونا چاہیے؟ معیار ہونا چاہیے، معیار ہونا چاہیے، تو لے البتہ خلافِ ظاہر رہا ہے، لہٰذا قضاءً اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، قاضی کیا فیصلہ کرے گا کہ اولِ جز ہی کے اندر کیا ہو جائے گی طلاق واقع؟ طلوع ہوتے ہی طلوعِ فجر ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو مولانا دیانۃً ہم اس کی کیا کریں گے؟ تصدیق کریں گے، چنانچہ کسی مفتی کے پاس بھی فتویٰ لینے چلا جاتا ہے کہ میری تو یہ نیت تھی، تو فتویٰ بھی کس کے، اس کی نیت کے مطابق دیا گیا کہ اگر تمہاری یہ نیت تھی تو اسی طرح ہے بھئی۔ وَذَهَبَ أَبُو حَنِيفَةَ جی، رحمہ اللہ تعالیٰ، امام صاحب فرماتے ہیں، امام صاحب اس بات میں تو صاحبین، اس صورت میں تو صاحبین کے ساتھ ہیں جب فی کو حذف کیا جائے، جب فی کو حذف کیا جائے گا اور یوں کہا: أَنْتِ طَالِقٌ غَدًا، تو اس صورت میں امام صاحب بھی کیا فرماتے ہیں کہ ما بعد کیا بنے گا؟ معیار بنے گا بھئی، کیا بنے گا؟ معیار بنے گا۔ لہٰذا، جی، معیار بنے گا، کیا بنے گا؟ اور اگلے دن کے طلوعِ فجر کے ہوتے ہی طلاق نے شروع ہو کر شام تک چلنا تھا لیکن یہ تو شام تک چل نہیں سکتی، لیکن صبح ہی شروع ہوئی اور ایک ہی آن میں یعنی پہلے جز میں کیا ہو گئے؟ واقع ہو گئے۔ تو لہٰذا اگلے دن کے پہلے جز میں طلاق کیا ہو جائے گی؟ واقع ہو جائے گی۔ ہاں، اس صورت میں وہ اختلاف کرتے ہیں جب "فی" کو لفظوں میں ذکر کیا جائے، جب "فی" کو لفظوں میں ذکر کا کہا اور یوں کہا: "انْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ"، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اب ما بعد ما قبل کے لیے ظرف بنے گا۔ صاحبین تو دونوں صورتوں میں معیار بناتے تھے اور معیار ذو المعیار کے ساتھ برابر ہوتا ہے تو زائد وقت نہیں بچتا، لیکن اس صورت میں امام صاحب کیا فرماتے ہیں جب "فی" کو ذکر کیا جائے؟ کہ ما بعد کیا بنے گا؟ ظرف بنے گا، ظرف بنے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جب اس نے یوں کہا: "انْتِ طَالِقٌ فِي غَدٍ"، "تجھے کل میں طلاق ہے"، تو اس نے "غد" کو ظرف بنایا کس کے لیے؟ طلاق کے لیے۔ یعنی طلاق اس کے کسی جزو میں واقع کی ہے اور وہ جزو مبہم ہے، جزو کیا ہے؟ مبہم ہے۔ معیار تو نہیں کہ پہلے جزو سے ہی ہوتی بھئی، یہ کیا ہے؟ اس کے کسی ایک جزو میں طلاق وہ واقع کی ہے، تو لہذا، اور وہ جزو متعین کیا اس نے؟ متعین نہیں، لہذا ہر ہر جزو میں صلاحیت ہے طلاق کے لیے۔ وُقوعِ طلاق کہ اس میں طلاق واقع ہو، اس میں کیا ہو؟ ہر ہر جزو میں کیا ہے؟ صلاحیت اس اگلے دن کے ہر ہر جزو میں صلاحیت ہے کہ اس میں طلاق واقع ہو سکے، اس لیے کہ اس نے "فی" ذکر کیا اور "فی" آیا کرتا ہے ظرفیت کے لیے، معلوم ہوا کہ اگلا دن ظرف ہے کس کے لیے؟ وقوعِ طلاق کے لیے، تو لہذا ہر ہر جزو میں امکان آ گیا۔ اب اگر وہ نیت کے ساتھ تعیین کر دیتا ہے کہ میں نے تو کیا نیت کی تھی؟ کہ اگلے دن عصر کو طلاق واقع ہو، تو دیانةً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی اور قضاءً بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ اس نے "فی" کو ذکر کیا تھا اور "فی" کس لیے آیا کرتا ہے؟ ظرفیت کے لیے، تو معلوم ہوا کہ طلاق کے لیے اگلا دن ظرف ہے۔ سمجھ میں آیا؟ ظرف ہے، جی۔ دیکھیے بھئی! "وَذَهَبَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"، اور امام صاحب گئے ہیں اس بات کی طرف کہ "أَنَّهَا إِذَا حُذِفَتْ"، کہ جب "فی" کو حذف کر لیا جائے "يَقَعُ الطَّلَاقُ كَمَا طَلَعَ الْفَجْرُ"، واقع ہو جائے گی طلاق جیسے ہی طلوع ہوگی فجر۔ تو صاحبین کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں۔ "وَإِذَا أُظْهِرَتْ"، اور جب اس کو ظاہر کیا جائے "كَانَ الْمُرَادُ وُقُوعَ الطَّلَاقِ"، تو مراد کیا ہوگی؟ طلاق کا واقع کرنا "فِي جُزْءٍ مِنَ الْغَدِ"، غد کے ایک جزو میں واقع کرنا ہے، یعنی غد اس کے لیے معیار نہیں بن رہا، وہاں مقصد پورے یوم میں طلاق کا واقع کرنا نہیں بلکہ اس کے ایک جزو میں واقع کرنا ہے، اور جب جزو میں واقع کرنا ہے تو پھر تو ہر ہر جزو اس میں کیا آ گئی؟ صلاحیت آ گئی طلاق کے لیے، وقوعِ طلاق کے لیے کہ ظرف بنے بھئی۔ "فِي جُزْءٍ مِنَ الْغَدِ عَلَى سَبِيلِ الْإِبْهَامِ"، کس طریقے پر بھئی؟ کہ اس کا ارادہ ہے طلاق کا واقع کرنا کل میں سے کسی وقت "عَلَى سَبِيلِ الْإِبْهَامِ"، کس طریقے پر؟ ابہام کے طریقے پر، اس نے کوئی تعیین کیا کس جزو کے اندر؟ تعیین نہیں کی، تو ابہام کے طریقے پر وہ چاہتا ہے کہ طلاق کل کے کسی جزو میں واقع ہو، کل کے کسی جزو میں واقع ہو بھئی۔ کیونکہ ظرف ہے نہ اور ظرف سے باقی وقت کیا ہو جائے گا؟ بچ جائے گا، جب باقی بچے گا تو کسی ایک جزو میں طلاق واقع کرنا چاہتا ہے اور باقی سارا وقت کیا ہو جائے گا؟ فاضل بچ جائے گا، اور پھر ہر ہر جزو میں احتمال آ گیا۔ "فَلَوْلَا وُجُودُ"، ہاں اس صورت میں بھی اب دیکھیں گے اس کی نیت کیا تھی، اگر اس کی کوئی نیت نہیں تھی پھر تو مولانا یہ "فی" آیا اور "فی" کس لیے آتا ہے؟ ظرفیت کے لیے، یعنی وہ چاہتا ہے کل کے کسی جزو کے اندر کیا ہو جائے؟ طلاق، پورے دن نہیں بلکہ کس میں؟ کسی ایک جزو میں، اور پھر تو اس کے کل کے ہر ہر جزو میں صلاحیت آ گئی اس میں کیا ہو سکتی ہے؟ طلاق واقع ہو سکتی ہے، لیکن اس نے تو کوئی تعیین کی نہیں، تو لہذا پہلے جزو میں ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ کوئی مزاحم موجود ہی نہیں ہے، نیت ہے ہی نہیں، کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں جو اس کو روک دے وقوع سے، ہر ہر جزو میں طلاق واقع ہو سکتی ہے، تعیین ہے نہیں، لہذا پہلے جزو میں کیا ہو جائے گی طلاق واقع ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی مزاحم موجود نہیں، لیکن اگر اس نے آخر دن کی نیت کی تو پھر کیا ہو جائے گا؟ کب طلاق واقع ہوگی؟ دن کے آخر میں۔ "فَلَوْلَا وُجُودُ النِّيَّةِ يَقَعُ الطَّلَاقُ بِأَوَّلِ الْجُزْءِ"، اگر کوئی اگر نہ ہوا نیت کا وجود یعنی نیت نہ پائی گئی "يَقَعُ الطَّلَاقُ"، واقع ہو جائے گی طلاق "بِأَوَّلِ الْجُزْءِ"، اول جزو کے ساتھ، اول جزو میں "لِعَدَمِ الْمُزَاحِمِ لَهُ"، اس لیے کہ اس کا کوئی مزاحم موجود نہیں، کوئی مقابل نہیں، کوئی نیت موجود نہیں ہے، نیت ہوتی کہ شام کو عصر کی نیت ہے، تو یہ نیت اس کو روکتی واقع نہ ہونے دیتی طلاق کو، اور اس وقت یہاں پر کوئی مزاحم نہیں، تو پہلے جزو واقع ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ مشکل تو نہیں ہے؟ "وَلَوْ نَوَى آخِرَ النَّهَارِ صَحَّتْ نِيَّتُهُ"، اور اگر اس نے نیت کی دن کے آخر کی، آخری حصے کی "صَحَّتْ نِيَّتُهُ"، اس کی نیت کیا ہے؟ صحیح ہے۔ "وَمِثَالُ ذَلِكَ"، مثال اس کی "فِي قَوْلِ الرَّجُلِ"، کسی ایک شخص کے اس قول کے اندر ہے، کوئی شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إِنْ صُمْتِ الشَّهْرَ فَأَنْتِ كَذَا"، "إِنْ صُمْتِ الشَّهْرَ فَأَنْتِ كَذَا"، ایک یہ قول ہے۔ ایک آخر میں آ رہا ہے ان اسی سطر کے: "إِنْ صُمْتِ فِي الشَّهْرِ فَأَنْتِ كَذَا"، ایک میں "فی" لایا ہے، ایک میں "فی" نہیں لایا۔ تو دیکھو! امام صاحب نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ اگر "فی" ذکر نہ ہو تو ما بعد کیا بنے گا؟ معیار، اور اگر "فی" ذکر ہو تو پھر ما بعد کیا بنے گا؟ ظرف بنے گا۔ امام صاحب کہتے ہیں اس مثال سے بات کی وضاحت ہو جاتی ہے، ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إِنْ صُمْتِ الشَّهْرَ فَأَنْتِ كَذَا"، "أَيْ فَأَنْتِ طَالِقٌ"، کذا کنایہ کس سے کیا؟ طلاق سے۔ اگر تو نے، دیکھو "فی" کو ذکر کیا اس نے؟ نہیں، اور "فی" کو جب ذکر نہ کرو تو یہ کیا بنایا کرتا ہے ظرفِ زمان؟ معیار، تو یہاں بھی معیار بناؤ اس کو، اگر تو نے روزے رکھے اگر تو نے یہ پورا مہینہ روزے رکھے "فَأَنْتِ كَذَا"، تو تجھے کیا ہے؟ طلاق، تو دیکھو پورے مہینے کا استیعاب کر لیں کیا چیز؟ روزے۔ پورے مہینے کا کیا کر لیں؟ استیعاب کر لیں، معیار ہو یعنی پورے مہینے کو گھیر لیں روزے بھئی، یعنی سارا مہینہ۔ تو صورت سمجھ میں آئی؟ اب ترجمہ بھی اس کے مطابق کرو بھئی، مہینے کو کیا بناؤ روزوں کے لیے؟ معیار، اس میں سے کوئی ایک دن بھی روزے سے یعنی بچے نہ، تو گویا اس نے یوں کہا: "إِنْ صُمْتِ الشَّهْرَ فَأَنْتِ كَذَا"، اگر تو نے یہ پورا ماہ روزے رکھے تو تجھے طلاق ہے۔ اگر تو نے یہ پورا مہینہ روزے رکھے۔ "الشَّهْرَ"، خاص الف لام ہے نہ؟ خاص مہینہ مراد ہے جو سب شروع ہو رہا ہے یا کچھ۔ اگر تو نے یہ پورا ماہ روزے رکھے تو تجھے طلاق بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنَّهُ يَقَعُ عَلَى صَوْمِ الشَّهْرِ"، بس یہ طلاق جو ہے وہ واقع ہو جائے گی، واقع ہوگی اس پورے مہینے کے روزوں پر، پورا مہینہ روزے رکھے گی تو پھر کیا ہوگی طلاق؟ اگر پورا مہینہ نہیں رکھتی، بیس پچیس دن بھی رکھ لیتی ہے تو بھی طلاق واقع نہیں ہوگی، دیکھا؟ تو امام صاحب کہتے ہیں دیکھا؟ "فی" کو ذکر نہیں کیا تو ما بعد یہ کیا بنا ظرفِ زمان؟ معیار بنا، ثابت ہوئی بات ہماری۔ "وَلَوْ قَالَ"، اور اگر یوں کہا: "إِنْ صُمْتِ فِي الشَّهْرِ فَأَنْتِ كَذَا"، اگر تو نے مہینے میں روزہ رکھا تو تجھے طلاق، تو دیکھو اب "فی" ذکر کیا اور "فی" آ جائے تو ما بعد کیا بنایا کرتا ہے؟ ظرف بنایا کرتا ہے، تو اب اس صورت میں یعنی مہینے میں روزہ پایا گیا تو عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ مہینہ ظرف ہے بس اس کے اندر کیا ہونا چاہیے؟ روزے کو پائے جانا چاہیے، سمجھ میں آیا؟ استیعاب یعنی یہاں پر شرط نہیں ہے، لہذا اس مہینے کے اندر بیوی نے کوئی بھی روزہ رکھا، جیسے ہی روزہ رکھے گی، روزے کی روزے کے اندر کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے، کہ تین چیزوں سے کھانے پینے اور جماع سے رکے اور کیا کرے؟ نیت ہو، ویسے امساک کو کوئی روزہ کہتا ہے؟ ویسے امساک کو کوئی روزہ، دیکھو اب اس وقت امساک تو آپ سب میں پایا جا رہا ہے تینوں افعال سے، لیکن اس کو کوئی روزہ کہتا ہے؟ نہیں، کیونکہ اس کے اندر نیت نہیں، تو اس نے نیت رکھی اور نیت کے ساتھ روزہ رکھا، کوئی بھی روزہ رکھا، تو ایک لمحے کا امساک بھی پایا گیا تو روزہ آ گیا یا نہیں آ گیا؟ روزہ پایا گیا، فوراً طلاق ہو جائے گی۔ اس نے کیا کہا تھا؟ اس مہینے میں روزہ رکھا، اور جیسے ہی امساک پایا گیا نیت کے ساتھ تینوں چیزوں سے تو روزہ کیا ہوا؟ پایا گیا، اور جب روزہ شروع ہو گیا یا نہیں روزہ بھئی؟ ہو گیا شروع، تو روزہ پایا گیا اور جیسے ہی روزہ پایا گیا تو فوراً کیا ہو جائے گی اس کو؟ طلاق ہو جائے گی۔ "وَلَوْ قَالَ"، اور اگر خاوند نے یوں کہا: "إِنْ صُمْتِ فِي الشَّهْرِ فَأَنْتِ كَذَا"، اگر تو نے اس مہینے میں روزہ رکھا تو تجھے طلاق ہے، "يَقَعُ ذَلِكَ"، تو واقع ہو جائے گی وہ طلاق "عَلَى الْإِمْسَاكِ"، کس پر؟ "عَلَى الْإِمْسَاكِ سَاعَةً"، ایک گھڑی کے امساک پر بھی، ایک گھڑی کے رکنے پر بھی "فِي الشَّهْرِ"، اس مہینے میں۔ "وَأَمَّا فِي الْمَكَانِ"، اچھا، جی۔ اب "فی" کو مکان میں داخل کریں پھر کیا صورتِ مسئلہ ہوگی؟ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ"، یا "أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ"، "أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ"۔ تو یاد رکھیں، اگر کلمہء "فی"، لکھ لو بھئی لکھ لو یہ بات، جلدی لکھو۔ اگر کلمہء "فی" ظرفِ مکان پر داخل ہو، اگر کلمہء "فی" ظرفِ مکان پر داخل ہو اور ایسی چیز کے لیے استعمال کیا جائے، اور ایسی چیز کے لیے استعمال کیا جائے جو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، جو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، لکھ لیا بھئی؟ جو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، تو "فی" ظرفیت کے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے گا، تو "فی" ظرفیت کے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے گا اور ظرفیت والا معنیٰ لغو ہو جائے گا۔ تو "فی" ظرفیت، یوں لکھیں: "فی" ظرفیت کے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے گا بلکہ لغو ہو جائے گا، بلکہ لغو ہو جائے گا، بیکار چلا جائے گا، بیکار بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کیا ضابطہ میں نے لکھوایا؟ کہ اگر کلمہء "فی" کس میں استعمال کیا جائے؟ ظرفِ مکان میں استعمال کیا جائے یعنی ظرفِ مکان پر داخل ہو اور ایسی چیز کے ساتھ استعمال کیا جائے جو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، تو اس صورت میں "فی" ظرفیت کے معنیٰ کا فائدہ نہیں دے گا بلکہ "فی" لغو چلا جائے گا بھئی، وہاں ظرفیت کے معنیٰ کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً دیکھو خاوند نے بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ"، "تجھے طلاق ہے گھر میں"، تجھے طلاق ہے گھر میں، اب طلاق کے ساتھ وہ "فی" لے کر آیا اور طلاق کیا کسی مکان کے ساتھ خاص ہوتی ہے؟ طلاق کسی مکان کے ساتھ خاص کہ اس مکان میں تو طلاق ہو اس سے باہر نکلے تو طلاق نہ ہو، طلاق کسی مکان کے ساتھ خاص یا خاوند بیوی سے کہتا ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ"، تجھے طلاق ہے مکہ میں، تو ایسا ہو سکتا ہے کہ مکہ میں تو خاوند بیوی کو طلاق ہو طلاق رہے وہ طلاق والی ہے، مکہ سے نکلے تو طلاق والی؟ طلاق کی کسی مکان کے ساتھ تخصیص نہیں ہوتی، صورت سمجھ میں آیا بھئی؟ تخصیص نہیں کی جا سکتی۔ تو لہذا اب "فی" کا معنیٰ لغو چلا جائے گا اور عورت کو فی الحال طلاق ہو جائے گی دونوں صورتوں میں تمام جگہوں میں بھئی، جہاں بھی ہو طلاق والی ہے تو طلاق والی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مکان سے طلاق کے اندر تخصیص نہیں آتی، ہاں زمانے سے تخصیص آ جاتی ہے۔ مکان کے ساتھ بھئی، بھئی طلاق کے ساتھ مکان کا لفظ آئے "فی" کے ساتھ تو وہ "فی" کا معنیٰ کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا اس لیے کہ طلاق میں کسی مکان طلاق کو کسی مکان کے ساتھ خاص نہیں کیا جا سکتا، خاص نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ جو، یہ جو کیا ہے؟ یہ جو ظرف ہوتا ہے نہ ظرف، یہ مظروف میں تخصیص پیدا کر دیتا ہے۔ ظرف کیا ہے؟ جب میں نے کہا: "زَيْدٌ فِي الدَّارِ"، زید کس کے اندر ہے؟ گھر میں ہے، تو تخصیص آ گئی یا نہیں؟ یہ زید کدھر ہے؟ معلوم ہوا گھر سے باہر نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور طلاق ایسی چیز نہیں بھئی، طلاق ایسی چیز نہیں کہ وہ اس کو کسی مکان کے ساتھ اس میں تخصیص آ جائے بلکہ طلاق جب ہوتی ہے تو جو ہر جگہ کے اعتبار سے وہ کیا ہوتی ہے؟ طلاق ہوتی ہے، ایسا نہیں کہ اس جگہ میں تو طلاق ہو اور اس جگہ سے باہر نکلے تو طلاق، یا اس جگہ میں تو طلاق ہے باہر کہیں بھی اس کو طلاق نہیں ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کیوں طلاق سے تخصیص نہیں طلاق ظرف سے طلاق میں تخصیص نہیں آتی۔ ہاں زمانے سے تخصیص آ جاتی ہے۔ آج طلاق دی تو گزشتہ کل میں تھی وہ طلاق؟ نہیں، سمجھ میں آیا؟ تو کسی مکان میں بھی طلاق ہو وہ تمام اماکن کے اندر، تمام جگہوں کے اندر وہ کیا ہوتی ہے؟ طلاق، لیکن کسی ایک زمانے میں طلاق ہو تو تمام زمانوں کے اندر طلاق نہیں، مثلاً آج طلاق دی تو گزشتہ ماضی کے جتنے سال گزرے کوئی طلاق تھی اس میں؟ نہیں تھی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس زمانے کے ساتھ طلاق میں تخصیص آ جاتی ہے لیکن مکان کے ساتھ تخصیص نہیں آتی۔ "وَأَمَّا فِي الْمَكَانِ"، اور باقی مکان کے اندر "فَمِثْلُ قَوْلِهِ"، تو خاوند کے اس قول کی مثال ہے: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي الدَّارِ"، خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ تجھے طلاق ہے گھر میں "وَفِي مَكَّةَ"، یا یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ فِي مَكَّةَ"، "يَكُونُ ذَلِكَ طَلَاقًا عَلَى الْإِطْلَاقِ"، تو یہ طلاق ہو جائے گی علی الاطلاق بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ مکان اس کے لیے ظرف نہیں بنے گا "فِي جَمِيعِ الْأَمَاكِنِ"، اماکن جمع ہے امکنہ کی اور امکنہ جمع ہے کس کی؟ مکان کی بھئی، تمام جگہوں کے اندر، سمجھ میں آیا بھئی؟ تمام جگہوں کے اندر، تمام جگہوں کے اندر بھئی۔ چلیے مولانا "هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ"۔
123 approved lectures · 81 of 123