وقد تكون "إلى" لإنتهاء الغاية، ثم هو في بعض الصور يفيد معنى امتداد الحكم، وفي بعض الصور يفيد معنى الإسقاط. فإن أفاد الامتداد لا تدخل الغاية في الحكم، وإن أفاد الإسقاط تدخل.
حروفِ معانی میں سے آٹھواں حرف "إلى" ہے بھئی۔ ابھی تک جو حروف ذکر ہوئے وہ حروفِ عاطفہ تھے۔ اب تین چار حروفِ جاره ذکر کریں گے مصنف بھئی۔ حروفِ جاره؛ حروفِ جاره میں سے "إلى" کو ذکر کریں گے، پھر "على" کو، پھر "في" کو اور پھر "باء" کو بھئی۔ تو حروفِ جاره میں سے پہلے "إلى" کو ذکر کیا۔ تو کہتے ہیں: "إلى لإنتهاء الغاية". "إلى لإنتهاء الغاية".
غاية بمعنی مسافت کے ہے بھئی۔ "إلى" مسافت کی انتہا کے لیے ہے۔ "إلى" کس کے لیے ہے؟ مسافت کی انتہا کے لیے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو غاية بول کر کیا مراد ہے؟ مسافت مراد ہے۔ یہ تسمية الكل باسم الجزء کے قبیل سے ہے۔ تسمية الكل... تسمية الكل باسم الجزء کے قبیل سے ہے۔ یعنی جزء بول کر کل مراد لینا، جزء کا اطلاق کل پہ کر دینا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ جزء جو ہے، یہ نام رکھ دیا کس کا؟ کل کا۔
تو دیکھو، کبھی جزء بول کر کل مراد لیتے ہیں، یعنی جزء کا اطلاق کبھی کل پر کر دیا جاتا ہے، جیسے یہاں پر ہے مولانا۔ غاية، غاية کا معنی ہے انتہا۔ غاية کا کیا معنی ہے؟ انتہا، لیکن میں نے کیا بتلایا؟ یہاں کس معنی میں ہے؟ مسافت کے معنی میں ہے۔ تو مسافت کی انتہا، تو انتہا مسافت کا جزء ہے۔ انتہا کیا ہے مسافت کا؟ جزء ہے، اور یہاں ذکر کیا کیا جا رہا ہے؟ جزء کو یا کل کو؟ جزء کو، اور مراد کیا ہے؟ کل۔ تو کبھی جزء بول کر کیا مراد لیتے ہیں؟ کل، یعنی جزء کا اطلاق کل پر کر دیا جاتا ہے۔ جزء کا اطلاق کل پر... جیسے کبھی کل کا اطلاق جزء پہ کر دیا کرتے ہیں، بولتے... بولا کل جاتا ہے اور مراد کیا ہوتا ہے؟ جزء۔ جیسے قرآن میں آتا ہے: ﴿وَيجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ﴾، تو یہاں یجعلون... ڈالتے ہیں اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں۔ بھئی! کان کے اندر پوری انگلی ڈالی جائے گی یا اگلا صرف پور کا کچھ حصہ بھئی؟ پور کا کچھ حصہ، تو مراد جزء ہے اور ذکر کیا ہے؟ کل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ذکر تو آیت نے اصابع، پوری انگلیوں کا ذکر آیا، لیکن مراد کیا ہے؟ جزء۔ انگلیوں کو کانوں میں ڈالتے ہیں، یعنی انگلیوں کے پوروں کو کانوں میں ڈالتے ہیں۔ تو کبھی جزء بول کر کل مراد لیا جاتا ہے اور کبھی کل بول کر جزء۔ یا یوں کہو، کبھی جزء کا اطلاق کل پر کر دیا جاتا ہے اور کبھی کل کا اطلاق جزء پر کر دیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی غاية جزء ہے مسافت کا، غاية کا معنی ہے انتہا، اور انتہا جزء ہے کس کے؟ مسافت کی، تو جزء بول کر کیا مراد ہے؟ کل بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ یہ معنی اس لیے میں نے کیا اس لیے کہ "لإنتهاء الغاية" آ رہا ہے عبارت کے اندر۔ انتهاء ہے مضاف اور الغاية کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور غاية کا معنی بھی انتہا۔ تو انتهاء الانتہاء ہو گئی۔ عبارت کیا ہو گئی؟ "إلى لإنتهاء الانتہاء"، تو یہ تو إضافة الشيء إلى نفسه ہو گئی بھئی۔ ایک چیز کی اضافت اپنے ہی نفس کی طرف، اپنے ہی ذات کی طرف ہو گئی اور یہ درست نہیں، لہٰذا یہاں تاویل وغیرہ کچھ کرنا ضروری ہے بھئی۔ تو لہٰذا پہلی تاویل کیا کی بھئی؟ کیا بتلایا کہ غاية کس معنی میں ہے؟ مسافت کے معنی میں ہے۔
یا غاية کو اسی کے معنی میں رکھیں مولانا، انتہا ہی کے معنی میں رکھیں اور مضاف محذوف نکال لیں درمیان میں بھئی۔ مضاف کیا کر لیں؟ محذوف نکال لیں۔ کیسے؟ "إلى إنتهاء ما قبل الغاية" بھئی۔ "ما قبل" درمیان میں نکال لیں بھئی۔ "إلى" انتہا کے لیے آئے گا، کس کی انتہا؟ ما قبل ال... یعنی جو انتہا سے پہلے ہے، انتہا سے پہلے جو انتہا سے پہلے ذکر ہے اس کی انتہا کے لیے کیا آئے گا؟ "إلى" آئے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو "إلى" غاية کی انتہائے مسافت کے لیے آئے گا مولانا۔ "إلى" کے ما بعد جو ہو وہ کہلائے گا غاية، اور "إلى" سے جو ما قبل ہو وہ مغيا۔ "إلى" کے ما بعد کیا کہلائے گا؟ غاية، اور "إلى" سے جو ما قبل ہے وہ کیا کہلائے گا؟ مغيا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: "إلى لإنتهاء الغاية"، "إلى" مسافت کی انتہا کے لیے ہے۔ "ثم هو في بعض الصور" پھر یہ "إلى" جو ہے بعض صورتوں کے اندر "يفيد معنى امتداد الحكم" فائدہ دیتا ہے حکم کے امتداد کے معنی کا۔ حکم کے امتداد کا کیا معنی ہے بھئی؟ لمبا کرنا، کھینچنا۔ حکم کے کھینچنے کے معنی کا فائدہ دے گا بھئی۔ حکم کے... جی تفصیلات آگے آتی ہیں بھئی۔ حکم کے کھینچنے کے معنی کا فائدہ دے گا۔ یعنی حکم کو کھینچ کر غاية تک پہنچا دے گا۔ حکم کو کھینچ کر کس تک پہنچا دے گا؟ غاية تک پہنچا دے گا، البتہ غاية حکم سے خارج ہوگا۔ غاية کیا ہوگا حکم سے؟ خارج، یعنی حکم کو کھینچ کر غاية تک پہنچایا، غاية تک جو ہے اس کے لیے تو حکم ثابت ہے، لیکن غاية کے لیے حکم ثابت نہیں۔ آگے دیکھیے، مثالیں آئیں گی بات واضح ہو جائے گی۔
"وفي بعض الصور يفيد معنى الإسقاط"، اور بعض صورتوں میں یہ "إلى" فائدہ دیتا ہے اسقاط کے معنی کا۔ کس چیز کا؟ اسقاط کے معنی کا فائدہ دیتا ہے، یعنی غاية تو حکم میں داخل ہوتا ہے، غاية کا ما بعد ساقط ہوتا ہے حکم سے۔ اس کے ما بعد کو حکم سے کیا کر دیتا ہے؟ ساقط کر دیتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کہ بھئی "إلى" کبھی امتدادِ حکم کے لیے آئے گا، کبھی اسقاطِ حکم کے لیے آئے گا۔ امتدادِ حکم کا کیا معنی؟ حکم کو کھینچ کر کہاں تک پہنچا دے گا؟ غاية تک پہنچا دے گا اور خود غاية کیا ہوگا حکم سے؟ خارج ہوگا، اور کبھی دیتا ہے فائدہ اسقاطِ حکم کا، یعنی غاية کے ما بعد کو حکم سے کیا کر دیتا ہے؟ ساقط، البتہ غاية خود کیا ہے حکم کے اندر؟ داخل ہوتا ہے۔
تو امتدادِ حکم کی صورت میں غاية حکم سے خارج ہوگا اور اسقاطِ حکم کی صورت میں غاية کا ما بعد حکم سے ساقط ہوگا، غاية کے ما بعد سے حکم ساقط ہوگا، غاية کے حکم ساقط نہیں ہوگا، وہ حکم کے اندر داخل ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکھو، جیسے قرآن میں آتا ہے: ﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾، پھر پورا کرو روزوں کو، روزے کو، کہاں تک پورا کرو روزے کو؟ رات تک۔ جی، تو "إلى" آیا، اور "إلى" کے ما بعد کیا کہلاتا ہے؟ غاية، اور ما قبل کیا کہلاتا ہے؟ مغيا۔ تو یہاں پر "إلى" آیا اور "إلى" کبھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امتدادِ حکم کا، اور یعنی حکم کو کھینچ کر غاية تک پہنچاتا ہے، لیکن غاية خود حکم سے خارج، اور کبھی دیتا ہے فائدہ اسقاطِ حکم کا، یعنی غاية کے ما بعد کو حکم سے کیا کر دیتا ہے؟ ساقط، البتہ غاية خود کیا ہے حکم کے اندر؟ داخل ہوتا ہے۔
اب آپ مجھے بتائیے، ﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾، پھر پورا کرو روزے کو رات تک، تو رات روزے میں داخل ہے؟ رات روزے میں داخل نہیں، تو یہاں دیکھو "إلى" نے امتدادِ حکم کا فائدہ دیا۔ یہ روزہ... روزہ کس کو کہتے ہیں؟ صوم تو کہتے ہیں امساک، رکنا۔ ایک منٹ کے لیے بھی کوئی رکا رہے تو کیا کہیں گے؟ امساک تو پایا گیا۔ ایک گھنٹے کے لیے رکا رہے تو بھی امساک، پانچ گھنٹے کے لیے رکا رہے تو بھی امساک پایا گیا۔ تو امساک تو عام تھا، تو اس "إلى" نے اس امساک یعنی روزے کو کھینچ کر کہاں تک پہنچا دیا؟ لیل تک، کہ رات تک یہ امساک ہونا چاہیے، کب تک امساک ہونا چاہیے؟ اور رات اس کو حکم سے خارج، تو غاية کیا ہوا حکم سے؟ رات کو تو روزہ نہیں، تو غاية یہاں پر خارج ہے حکم سے۔ تو یہاں پر "إلى" نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ امتدادِ حکم کا، یعنی اس امساک والے حکم کو، روزے کے حکم کو کھینچ کر کہاں تک پہنچایا؟ غاية، لیل تک، یعنی روزہ کب تک ہے؟ رات تک ہے، تو حکم کو کھینچ کر غاية تک پہنچا دیا، لیکن غاية خود حکم سے خارج ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
اور کبھی کبھار غاية حکم کے اندر داخل ہوگا اور ما بعد ساقط ہوگا، جیسے قرآن میں آتا ہے: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾، دھو لو تم اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک۔ تو کہنیاں بھی بھئی! آپ نے کیا مسئلہ پڑھا ہے؟ دھونے... ان کا دھونا بھی فرض ہے یا فرض نہیں ہے؟ ان کا بھی دھونا فرض ہے، وہ حکم کے اندر داخل ہیں۔ تو یہاں پر دیکھو، غاية "إلى" کے ما بعد کیا آ رہا ہے؟ ﴿وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾، "إلى" کے بعد مرافق کا ذکر آ رہا ہے، اور "إلى" کا ما بعد کیا ہے؟ کہلاتا ہے؟ غاية کہلاتا ہے، اور غاية بھی دھونے کے حکم میں داخل ہے یا داخل نہیں؟ داخل ہے، تو یہاں پر "إلى" نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ اسقاط کا فائدہ دیا، یعنی کہنیاں غاية، خود تو حکم میں داخل ہے البتہ اس کا ما بعد کہنیوں سے جو آگے ہاتھ کا حصہ ہے وہ ساقط ہوا، اس کا دھونا فرض نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟
تو یہ "إلى" اس... کبھی امتدادِ حکم کا فائدہ دیتا ہے اور کبھی اسقاطِ حکم کا فائدہ دیتا ہے۔ امتدادِ حکم کی صورت میں غاية حکم میں داخل نہیں، اور اسقاطِ حکم کی صورت میں غاية حکم کے اندر داخل ہوتا ہے، البتہ ما بعد سے حکم کیا کر دیتا ہے؟ ساقط۔ یہ کہاں پر ایسا ہوگا بھئی؟ یاد رکھو ضابطہ! اگر غاية پہلے سے مغيا میں داخل نہ ہو، ضابطہ کیا ہے؟ اگر غاية مغيا میں داخل نہ ہو یا داخل ہونے میں شک ہو، تو اس صورت میں یہ امتدادِ حکم کا فائدہ دے گا۔ کیا ضابطہ ہوا؟ اگر غاية مغيا میں داخل نہ ہو یا داخل ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو، تو اس صورت میں "إلى" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ امتدادِ حکم کا فائدہ دے گا۔ تو غاية داخل ہو جائے... غاية تو... غاية حکم سے کیا ہو جائے گا؟ خارج ہو جائے گا۔
اور اگر غاية مغيا میں داخل تھا، تو اس صورت میں اسقاطِ حکم کا فائدہ دے گا، یعنی ما بعد سے حکم کو ساقط کر دے گا۔ یعنی ما بعد کو حکم سے ساقط کر دے گا۔ لکھ لیا بھئی؟ کیا ضابطہ ہوا؟ اگر غاية مغيا میں داخل نہ ہو یا داخل ہونے میں شک ہو، تو اس صورت میں "إلى" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ امتدادِ حکم کا، اور اگر غاية مغيا کے اندر داخل ہو، تو اس صورت میں کس چیز کا فائدہ دے گا؟ اسقاطِ حکم کا، یعنی کس چیز کا اسقاط کرے گا؟ غاية کے ما بعد کا، اور غاية خود کیا ہو جائے گا؟ حکم میں داخل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھنا، مثالوں سے بات اور واضح ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "ثم هو في بعض الصور يفيد معنى امتداد الحكم"، پھر "إلى" جو ہے بعض صورتوں کے اندر وہ فائدہ دیتا ہے امتدادِ حکم کے معنی کا، "وفي بعض الصور يفيد معنى الإسقاط"، اور بعض صورتوں میں یہ "إلى" فائدہ دیتا ہے اسقاط کے معنی کا، "فإن أفاد الامتداد"، اگر اس نے فائدہ دیا کس کا؟ امتداد کا، "لا تدخل الغاية في الحكم"، تو غاية حکم میں داخل نہیں ہوگا، "وإن أفاد الإسقاط"، اور اگر اس نے اسقاط کا فائدہ دیا، "تدخل"، تو پھر غاية حکم میں داخل ہوگا۔
"نظير الأول"، پہلے کی نظیر جس میں "إلى" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امتدادِ حکم کا، اور غاية حکم میں داخل نہیں... نہیں ہو... داخل نہیں ہوتا، اس کی نظیر یہ قول ہے کہ کوئی شخص کہتا ہے: "اشتريت هذا المكان إلى هذا الحائط"، میں نے یہ جگہ خریدی، مکان کس کو کہتے ہیں؟ جگہ کو۔ میں نے یہ جگہ خریدی "إلى هذا الحائط" اس دیوار تک بھئی۔ میں نے یہ جگہ خریدی اس دیوار تک بھئی۔ تو یہاں "إلى" آیا مولانا، اور "إلى" کے ما بعد کیا کہلاتا ہے؟ غاية، اور یہاں پر "إلى" کے ما بعد کیا ذکر ہے؟ اس دیوار کا ذکر ہے، وہ دیوار۔ اور "إلى" سے ما قبل کیا ہے؟ مکان کا ذکر ہے، تو مکان ہوا مغيا اور وہ دیوار کیا ہوئی؟ غاية ہوئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اب یہاں پر "إلى" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ آپ خود غور کر لیں کہ یہ دیوار اس مغيا... یہ غاية مغيا کے اندر داخل ہے یا داخل نہیں؟ اس کے ذریعے فیصلہ ہوگا۔ تو یہاں پر غاية مغيا کے اندر داخل نہیں مولانا، یا داخل ہونے میں شک ہے مولانا۔ غاية مغيا میں داخل نہیں یا داخل ہونے میں شک ہے، جب داخل نہیں یا داخل ہونے میں شک ہے تو اب "إلى" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ امتدادِ حکم کا، اور حکم یہ کو پہنچا دے گا کہاں تک؟ غاية تک پہنچا دے گا اور خود غاية حکم سے کیا ہو جائے گا؟ خارج۔ تو معلوم ہوا اس نے جو جگہ خریدی ہے، یہ دیوار اس میں داخل نہیں۔ اس نے حکم کو کھینچ کر کہاں تک پہنچا دیا؟ دیوار تک، یعنی دیوار تک جگہ خریدی ہے اور دیوار خود وہ خریدنے سے... خریدنے میں داخل نہیں، تو امتداد... حکم کو کھینچ کر دیوار تک پہنچایا اور خود غاية کیا ہے حکم سے؟ خارج ہے۔
بائی! کیوں غاية... کیوں خارج ہے؟ میں نے بتلایا کیونکہ غاية اگر مغيا میں داخل نہ ہو یا داخل ہونے میں شک ہو، اور یہاں بھی اسی طرح ہے۔ مکان ما قبل میں مغيا ذکر ہے، اور مکان جگہ کو کہتے ہیں اور چاہے وہ تھوڑی جگہ ہو یا زیادہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مکان۔ جگہ تھوڑی بھی ہو سکتی ہے، زیادہ بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا اب پتا نہیں کہ دیوار اس میں شامل ہے یا شامل نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ شک آ گیا، کیا آ گیا؟ شک آ گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو قلیل اور کثیر جگہ سب کو مکان کہتے ہیں، تو قلیل پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور کثیر پر بھی اطلاق... اس کا اطلاق ہوتا ہے، تو اب شک آ گیا کہ دیوار اس میں پتا نہیں داخل ہے یا داخل نہیں، اور جب غاية کے مغيا میں داخل ہونے میں شک ہو یا اس میں داخل نہ ہو، تو اس صورت میں "إلى" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امتدادِ حکم، یعنی حکم کو کھینچ کر، یہ خریدنے کا حکم کہاں تک پہنچا دیا اس نے؟ دیوار تک، اور دیوار غاية خود کیا ہوا؟ خارج ہوا، وہ داخل نہیں۔
تو "اشتريت"... کسی شخص نے کہا: "اشتريت هذا المكان إلى هذا الحائط"، میں نے خریدا اس جگہ کو اس دیوار تک، "لا تدخل الحائط في البيع"، تو دیوار داخل نہیں ہوگی بیع کے اندر۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس نے امتدادِ حکم کا فائدہ دیا اور غاية خارج ہوا بھئی۔
"ونظير الثاني"، ثانی کی نظیر بھئی، ثانی کیا تھا؟ اسقاط، کہ غاية کس چیز کے لیے آتا ہے؟ "إلى" کس لیے آتا ہے؟ اسقاط کے لیے، یعنی غاية کے ما بعد کو... سے حکم کو کیا کر دیتا ہے؟ ساقط کر دیتا ہے، وہ یہ ہے۔ ثانی: "باع بشرط الخيار إلى ثلاثة أيام"، کسی شخص نے...
کوئی چیز بیچی خیارِ شرط کے ساتھ "إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ". کتنے دنوں تک؟ تین دنوں تک۔
مثلاً کسی نے کسی کو کتاب بیچی۔ اور کہا کہ مجھے اختیار ہے تین دن تک بھئی، اگر تین دن میں میں فیصلہ کر لوں گا کہ میں نے بیچنی... کہ میں نے آپ کو کتاب دینی ہے یا نہیں دینی۔ تو اختیار رکھا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خیارِ شرط کہتے ہیں، تین دن تک جائز۔
تو ایک نے دوسرے کو کتاب بیچی کہ: "بِعْتُكَ هٰذَا الْكِتَابَ مِنْكَ بِشَرْطِ الْخِيَارِ إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" میں نے یہ کتاب آپ پر بیچی کس کے ساتھ؟ خیارِ شرط کے ساتھ، کب تک؟ "إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" تین دنوں تک بھئی۔ کتنے دنوں تک؟ تین دنوں تک۔ تو یہاں الا کے ما بعد کیا ذکر ہوا؟ تین دن۔ کیا ذکر ہوا؟ تین دن۔ یہ ہے مولانا غایہ۔
اور اس کے بغیر اگر کلام کو دیکھیں... بھئی یاد رکھو، جب کوئی کلام مطلق کیا جائے تو وہ مؤبد شمار ہوتا ہے۔ جب کلام مطلق کیا جائے تو کیا شمار ہوتا ہے؟ مؤبد، یعنی ہمیشہ کے لیے۔ ہمیشہ کے لیے وہ شمار... ایک آدمی کہتا ہے: "میں زید سے بات نہیں کروں گا۔" آپ اس کلام کا کیا معنی لیتے ہیں؟ کہ ایک دن بات نہیں کروں گا؟ دو دن نہیں کروں گا؟ یہ کیا معنی ہے؟ ہمیشہ کے لیے، یعنی کبھی بھی مستقبل میں اس سے بات نہیں کروں گا۔ تو دیکھا، اس نے تو کوئی ذکر نہیں کیا کہ میں ہمیشہ نہیں کروں گا، اس نے صرف اتنا کہا: "میں زید سے بات..." تو مطلق کلام ذکر کیا اور مطلق کلام کیا شمار ہوتا ہے؟ مؤبد شمار ہوتا ہے ابد کے لیے، یعنی ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے وہ۔
تو کلامِ مطلق کیسا شمار ہوتا ہے؟ مؤبد۔ تو یہاں پر بھی اس نے کہا: "بِعْتُكَ هٰذَا الْكِتَابَ مِنْكَ بِشَرْطِ الْخِيَارِ" میں نے یہ کتاب تجھ پر بیچی کس کے ساتھ؟ خیارِ شرط کے ساتھ۔ اور اس کلام کو اس نے مطلق ذکر کیا ہے، الا کے بغیر بات کر رہا ہوں۔ اور مطلق جب ذکر کیا تو مطلق کلام کیسا شمار ہوتا ہے؟ مؤبد، ہمیشہ کے لیے شمار ہوتا ہے۔ معلوم ہوا پورا مستقبل اس میں آگیا۔ پورا مستقبل اس میں آگیا۔
تو اب بتلائیے، اگلے تین دن بھی تو... پورا مستقبل یہ مغیا ہوا۔ ہمیشہ ہمیشہ بھئی، یہ کیا ہوا؟ مغیا۔ اور غایہ کیا ہے؟ تین دن۔ تو یہ غایہ اس ہمیشہ کے اندر داخل ہے یا داخل نہیں؟ یہ تین دن بھی تو اسی مستقبل کے ایام میں سے ہیں، تو غایہ کیا ہے؟ مغیا کے اندر داخل ہے۔ اور جب غایہ مغیا میں داخل ہو تو الا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا، یعنی حکم کو ساقط کر دے گا غایہ کے ما بعد سے، اور خود غایہ کیا ہے؟ حکم کے اندر داخل ہوگا۔ تو لہٰذا اس شخص کو خیارِ شرط ہو گیا کتنے دنوں تک؟ تین دنوں تک۔ اور تین دن کے ما بعد اس سے ساقط ہے، اس میں خیارِ شرط نہیں، صرف کتنے دن تک خیارِ شرط ہے؟ بھئی بات سمجھ میں آئی سب کو؟
"وَنَظِيْرُ الثَّانِي: بَاعَ بِشَرْطِ الْخِيَارِ إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" اور اس ثانی کی نظیر یعنی اسقاطِ حکم کی نظیر کیا؟ کہ بیچا خیارِ شرط کے ساتھ "إِلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ" تین دن تک بھئی۔ "وَبِمِثْلِهٖ: لَوْ حَلَفَ: لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا إِلَى شَهْرٍ" اور اسی کے مثل اگر کسی نے قسم اٹھائی: "لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا إِلَى شَهْرٍ" کہ میں فلاں سے کلام نہیں کروں گا ایک مہینے تک "كَانَ الشَّهْرُ دَاخِلًا فِي الْحُكْمِ" تو شہر وہ جو مہینہ ہے داخل ہوگا کس کے اندر؟ حکم کے اندر۔
بھئی ایک آدمی کہتا ہے: "لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا إِلَى شَهْرٍ" میں فلاں سے بات نہیں کروں گا ایک مہینے تک۔ اب آپ بتلائیے مولانا، اگر الا کے بغیر کلام کو لائیں "لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا"، یہ مطلق کلام ہوا اور مطلق کلام کیا شمار ہوتا ہے؟ مؤبد شمار ہوتا ہے۔ گویا اس نے یہ کہا کہ میں ہمیشہ اس سے بات... یعنی کبھی بھی مستقبل میں اس سے بات نہیں کروں گا۔ اور آگے الا کے بعد آرہا ہے "شَهْرٍ"، اور یہ شہر بھی کس میں داخل ہے؟ پورے مستقبل میں داخل ہے، تو غایہ کیا ہے؟ مغیا میں داخل ہے۔ اور غایہ جب مغیا میں داخل ہو تو الا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا، یعنی حکم کو مغیا کے ما بعد سے ساقط کر دیتا ہے۔
یعنی مہینے تک کلام نہیں کروں گا اور مہینے سے ما بعد وہ حکم سے کیا ہے؟ خارج ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اب اگر وہ ایک مہینے کے اندر اس نے کلام کر لیا تو حانث ہو جائے گا۔ ایک مہینے کے بعد کلام کیا تو حانث نہیں، کیونکہ ایک مہینے کے ما بعد تو کیا ہے؟ حکم سے خارج ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"وَلَوْ حَلَفَ: لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا إِلَى شَهْرٍ كَانَ الشَّهْرُ دَاخِلًا فِي الْحُكْمِ" اگر کسی نے قسم اٹھائی: "لَا أُكَلِّمُ فُلَانًا إِلَى شَهْرٍ" میں کلام نہیں کروں گا فلاں سے ایک مہینے تک، تو مہینہ حکم کے اندر داخل ہوگا۔ "وَقَدْ أَفَادَ فَائِدَةَ الْإِسْقَاطِ هٰهُنَا" اور تحقیق فائدہ دیا ہے الا نے فائدۃ الاسقاط، اسقاط کا فائدہ ہاہنا یہاں پر بھئی۔
ان مثالوں میں کس چیز کا فائدہ دیا اس نے؟ یعنی غایہ کے ما بعد سے حکم کو کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔ مہینے کے ما بعد سے حکم کو ساقط کیا، تین دن کے ما بعد سے حکم کو... تین دن تک تو ہے، وہ حکم میں داخل، مہینے تک تو عدمِ کلام ہونا چاہیے، یہ حکم میں داخل ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے یا مشکل ہے بھئی؟
"وَعَلٰى هٰذَا قُلْنَا: الْمِرْفَقُ وَالْكَعْبُ دَاخِلَانِ تَحْتَ حُكْمِ الْغَسْلِ" اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ کہنی اور ٹخنہ... مرفق کہنی اور کعب کس کو کہتے ہیں؟ ٹخنے کو۔ کہنی اور ٹخنہ، یہ دونوں داخل ہیں دھونے کے حکم کے تحت۔ "فِي قَوْلِـهٖ تَعَالٰى: {إِلَى الْمَرَافِقِ}" اللہ کے اس قول میں: {إِلَى الْمَرَافِقِ}، قرآن میں کیا آیا ہے؟ {فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ} تو الا آیا۔ آگے کیسے آتا ہے؟ {وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} تو الا کے بعد کعب آیا، اور الا کے ما بعد مرفق... مرافق مرافق جمع ہے مرفق کی بھئی۔
تو الا کے بعد مرفق کا تذکرہ آرہا ہے اور اسی طرح الا کے ما بعد کعب، ٹخنے کا ذکر آرہا ہے۔ اب سوال پیدا ہوا کہ یہ ٹخنے اور یہ کہنی، یہ بھی فرض میں داخل ہیں یا نہیں؟ ان کو بھی دھونا فرض ہے یا دھونا فرض نہیں؟ تو وہی ضابطہ لگاؤ مولانا کہ اگر الا کا ما بعد یعنی غایہ پہلے سے ہی مغیا میں داخل ہو تو پھر یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا، یعنی غایہ تو حکم میں داخل ہوتا ہے البتہ اس کا ما بعد کیا ہو جاتا ہے؟ حکم سے خارج ہو جاتا ہے، اس سے حکم ساقط ہو جاتا ہے۔
تو یہاں پر بھی مولانا یاد رکھو، عربی کے اندر ید کا اطلاق جو ہے ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کندھے تک سارے بازو پر ہوتا ہے۔ ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کندھے تک سارے بازو پر ہوتا ہے۔ تو کیا آیا قرآن میں؟ {وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ} دھو اپنے ہاتھوں کو، تو ماقبل میں ید کا ذکر ہے اور ما بعد میں مرفق کا ذکر ہے، تو ید ہوا مغیا اور مرفق یعنی کہنی کیا ہوئی؟ غایہ۔ اور غایہ یہاں پہلے سے ید کے اندر داخل ہے کیونکہ ید کا اطلاق انگلیوں سے لے کر کندھے تک ہے۔ تو جب غایہ پہلے سے ہی حکم کے... غایہ مغیا کے اندر داخل ہو تو الا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا، یعنی غایہ کے ما بعد سے حکم کو ساقط کرتا ہے، غایہ خود حکم میں... لہٰذا کہنی دھونے میں داخل ہے، اس کا دھونا بھی فرض ہے۔ البتہ کہنی کا ما بعد آگے جو بازو ہے کندھے تک، وہ حکم سے خارج ہوا، اس کا دھونا فرض نہیں۔
اسی طرح مولانا، عربی کے اندر رجل کا اطلاق بھی پاؤں کی انگلیوں سے لے کر پاؤں کے آخری حصے یعنی رانوں تک ہوتا ہے۔ رجل کس کو کہتے ہیں؟ پاؤں کی انگلیوں سے رانوں تک، یہ سارا حصہ کیا کہلاتا ہے؟ رجل کہلاتا ہے۔ تو قرآن میں آیا کیا؟ {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} دھو اپنے پاؤں کو کہاں تک؟ ٹخنوں تک۔ تو الا کا ما بعد کیا ہے؟ ٹخنے، اور وہ غایہ ہوا، اور ماقبل کس کا ذکر ہے؟ رجل، اور رجل کیا ہوئی؟ تو رجل ہوئی مغیا، اور غایہ کیا ہے؟ ٹخنے، کعب۔ اور کعب رجل میں داخل ہے یا داخل نہیں بھئی؟ داخل ہے۔ تو غایہ پہلے سے ہی مغیا میں داخل ہے، جب پہلے ہی داخل ہو تو اس صورت میں الا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا، یعنی غایہ کا ما بعد... غایہ کے ما بعد سے حکم کو ساقط کر دے گا، اور غایہ خود حکم کے اندر داخل ہوگا، لہٰذا ٹخنوں کا دھونا فرض ہوا۔ اور ٹخنوں سے آگے کا جو حصہ ہے پاؤں کا، وہ کیا ہوا؟ اس سے حکم کو ساقط کر دیا، اس کا دھونا فرض نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
"وَعَلٰى هٰذَا قُلْنَا: الْمِرْفَقُ وَالْكَعْبُ دَاخِلَانِ تَحْتَ حُكْمِ الْغَسْلِ فِي قَوْلِـهٖ تَعَالٰى: {إِلَى الْمَرَافِقِ}" اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ کہنی اور ٹخنہ جو ہیں، یہ دونوں داخل ہیں دھونے کے حکم کے تحت اللہ کے اس قول میں: {إِلَى الْمَرَافِقِ}۔ "لِأَنَّ كَلِمَةَ "إِلَى" هٰهُنَا لِلْإِسْقَاطِ" اس لیے کہ کلمہ الا یہاں پر اسقاط کے لیے آیا ہے، "فَإِنَّهٗ لَوْ لَاهَا لَاسْتَوْعَبَتِ الْوَظِيْفَةُ جَمِيْعَ الْيَدِ" اگر یہ نہ ہوتا، اگر یہ کلمہ الا نہ ہوتا "لَاسْتَوْعَبَتِ الْوَظِيْفَةُ جَمِيْعَ الْيَدِ" تو گھیر لیتا حکم پورے ہاتھ کو۔
حکم گھیر لیتا... استیعاب کا معنی ہے گھیر لینا، الوظیفہ کا کیا معنی؟ حکم بھئی۔ وہ حکم یعنی وہ فرض کا جو فرضیت والا حکم جو ہے، وہ گھیر لیتا کس کو؟ اگر صرف یہ آتا: {فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ}، تو پھر اس صورت میں تو کیا ہوتا؟ پورے بازو کا دھونا فرض تھا کندھے تک۔ اور صرف {وَأَرْجُلَكُمْ} آتا تو پھر تو پورے پاؤں کا دھونا کیا تھا؟ فرض تھا، سمجھ میں آیا؟ تو یہ الا نے آکر غایہ سے ما بعد کو کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔
"وَلِهٰذَا قُلْنَا: الرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ" اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ گھٹنا جو ہے ستر میں سے ہے۔ گھٹنا کس میں سے ہے؟ ستر میں سے ہے۔ عورت عورت کہتے ہیں وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو۔ وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو مولانا۔ تو یہ ستر بھئی، یعنی جس کا چھپانا ڈھانپنا فرض ہے، واجب ہے مولانا۔
تو مرد کے لیے فرض کیا ہے ہمارے نزدیک بھئی؟ مرد کا ستر کتنا ہے؟ ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک، گھٹنوں تک۔ یعنی گھٹنے بھی اس حکم میں داخل ہیں، ان کا ظاہر کرنا بھی جائز نہیں بھئی۔
تو بھئی، یہ گھٹنے کیوں کیسے داخل ہیں اس میں؟ دیکھیے بھئی مثال سے... حدیث آرہی ہے، اس سے بات سمجھ میں آئے گی۔ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: "الرُّكْبَةُ مِنَ الْعَوْرَةِ" گھٹنا کس میں سے ہے؟ عورت میں سے ہے، ستر میں سے ہے۔ "لِأَنَّ كَلِمَةَ "إِلَى" فِي قَوْلِـهٖ عَلَيْهِ السَّلَامُ: "عَوْرَةُ الرَّجُلِ مَا تَحْتَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ"" اس لیے کہ کلمہ الا حضور علیہ السلام کے اس قول میں: "عَوْرَةُ الرَّجُلِ مَا تَحْتَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ" مرد کا ستر ناف کے نیچے سے لے کر "إِلَى الرُّكْبَةِ" گھٹنے تک ہے۔
تو یہاں الا آیا مولانا، اور الا کس... الا کے ما بعد کیا ذکر ہوتا ہے؟ غایہ، الا کے ما بعد کیا کہلاتا ہے؟ غایہ، تو گھٹنا ہوا غایہ، اور ماقبل کیا ہے؟ وہ مغیا ہے، اور وہ کیا ہے؟ "مَا تَحْتَ السُّرَّةِ"، ناف کے نیچے جو ہے، ناف کے جو نیچے، اور "مَا تَحْتَ السُّرَّةِ" یہ مغیا ہوا۔ اور غایہ مغیا کے اندر داخل ہے، غایہ مغیا کے اندر... بھئی ناف کے نیچے تو پورا دھڑ آخر تک بھئی، پاؤں کی انگلیوں تک سارا آگیا۔ یہ سارا کیا ہے؟ ناف کے نیچے، تو یہ سارا آیا، جب یہ سارا آیا تو اس کے اندر کیا آگئے؟ گھٹنے، گھٹنے بھی اس میں آگئے، جب گھٹنے آگئے تو غایہ معلوم ہوا مغیا کے اندر داخل ہے۔ اور جب غایہ مغیا کے اندر داخل ہو تو پھر اس صورت میں الا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اسقاط کا فائدہ، یعنی غایہ کے ما بعد سے تو حکم کو ساقط کر دیتا ہے، البتہ خود غایہ حکم کے اندر شامل ہوتا ہے، داخل ہوتا ہے۔ تو رکبہ بھی ستر کے اندر داخل ہوا، البتہ اس گھٹنے سے آگے نیچے کا جو حصہ ہے، وہ کیا ہوا؟ اس سے حکم کو ساقط کر دیا، وہ ستر کے اندر داخل نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو گھٹنوں کا کسی کے سامنے گھٹنے ظاہر کرنا بھی جائز نہیں بھئی، جائز نہیں۔
تو اس لیے کہ کلمہ الا حضور علیہ السلام کے اس قول کے اندر "عَوْرَةُ الرَّجُلِ" مرد کا ستر جو ہے "مَا تَحْتَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ" ناف کے نیچے سے لے کر "إِلَى الرُّكْبَةِ" گھٹنے تک ہے، یہ قول حضور علیہ السلام کا جو ہے "تُفِيْدُ فَائِدَةَ الْإِسْقَاطِ" تو یہ الا ہے، یہ الا... یہ جو الا آیا حضور علیہ السلام کے قول میں "تُفِيْدُ فَائِدَةَ الْإِسْقَاطِ" یہ فائدہ دیتا ہے کس چیز کا؟ اسقاط کا۔ "فَتَدْخُلُ الرُّكْبَةُ فِي الْحُكْمِ" تو داخل ہو جاتا ہے گھٹنا بھی حکم کے اندر۔
"وَقَدْ تُفِيْدُ كَلِمَةُ "إِلَى" تَأْخِيْرَ الْحُكْمِ إِلَى الْغَايَةِ" اور کبھی کبھار فائدہ دیتا ہے کلمہ الا حکم کے مؤخر کرنے کا غایہ تک بھئی۔ کبھی حکم کو مؤخر کرنے کا فائدہ دیتا ہے کب تک؟ غایہ تک۔ بھئی یاد رکھو، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کلمہ الا آجاتا ہے۔ کیا آجاتا ہے؟ کلمہ الا آجاتا ہے، لیکن وہ محل ایسا ہوتا ہے کہ وہاں نہ امتدادِ حکم ہو سکتا ہے اور نہ اسقاطِ حکم ہو سکتا ہے۔ اور ہم نے تو بتایا تھا کلمہ الا کس چیز کا فائدہ دے گا؟ امتدادِ حکم کا یا اسقاطِ حکم کا، تو کبھی کلمہ الا آجاتا ہے لیکن وہاں نہ امتدادِ حکم ممکن ہوتا ہے نہ اسقاطِ حکم، پھر اس صورت میں یہ تاخیرِ حکم کا فائدہ دیتا ہے کہ کس چیز کا؟ تاخیرِ حکم کا فائدہ دیتا ہے۔
دیکھیے، مثلاً آگے مثال آئے گی۔ ایک شخص ہے اس نے اپنی بیوی سے کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِلَى شَهْرٍ" تجھے طلاق ہے ایک مہینے تک۔ اب یہاں الا لے کر آیا، تجھے طلاق ہے ایک مہینے تک۔ اب یہاں ماقبل میں کون سا حکم آرہا ہے؟ طلاق کا، اور طلاق میں امتداد نہیں، طول ہے طلاق کو... طول آسکتا ہے طلاق میں؟ کہ مسلسل طلاق ہو ایک مہینے تک، ایسا ہو سکتا ہے؟ یا ایک مہینے تک چلتی رہے طلاق؟ تو امتداد نہیں، کھینچا نہیں جا سکتا اس میں۔
اور اسقاط بھی نہیں ہے، ایسا ہو سکتا ہے کہ مہینے تک طلاق رہے اس کے بعد خود ہی ساقط ہو جائے، ختم ہو جائے؟ جی نہیں، تو یہاں دیکھو نہ امتدادِ حکم ممکن ہے اور نہ اسقاطِ حکم ممکن ہے، تو اس صورت میں پھر یہ کس چیز کا فائدہ دے گا الا؟ تاخیرِ حکم کا، یعنی طلاق مؤخر ہو جائے گی غایہ تک، غایہ کتنا ہے؟ ایک مہینہ، یعنی ایک مہینے تک وہ طلاق مؤخر ہو جائے گی اور ایک مہینے، ٹھیک ایک مہینے کے بعد واقع ہو جائے گی۔ ٹھیک ایک مہینے کے بعد واقع ہو جائے گی، اسی لیے طلاق میں اگرچہ امتداد بھی نہیں آسکتا، اسقاط بھی نہیں آسکتا، لیکن تاخیر آسکتی ہے۔
آپ نے پڑھا نہیں کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہے: "أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ" تجھے طلاق ہے اگر تو گھر میں... تو طلاق فوراً ہو گئی یا مؤخر ہوئی؟ جب تک گھر میں داخل نہیں ہوگی طلاق واقع... تو دیکھا طلاق میں امتداد اور اسقاط تو نہیں ہو سکتا لیکن اس میں تاخیر ہو سکتی ہے جیسے تعلیق کی صورت میں کیا ہو جایا کرتی ہے؟ تو یہ مؤخر ہو جایا کرتی ہے، تو یہاں پر بھی اسی پر محمول کیا جائے گا تعلیق والی صورت پر اور طلاق مؤخر ہوگی اور کب واقع ہوگی؟ ایک مہینے بعد۔ اور یہ لیکن یہ یاد رکھو، یہ اس وقت ہے جب شوہر نے یوں کہا: "أَنْتِ طَالِقٌ إِلَى شَهْرٍ" اور اس نے نیت بھی کوئی نہ کی ہو، فوری واقع کرنے کی نیت نہ کی ہو۔ اگر اس نے فوری واقع کرنے کی نیت کی ہے تو پھر فوری طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر اس نے کوئی نیت نہیں کی تو پھر اس صورت میں طلاق مؤخر ہوگی اور کب ہوگی؟ ایک مہینے بعد۔
وَقَدْ تُفِيْدُ كَلِمَةُ "إِلَى" تَأْخِيْرَ الْحُكْمِ إِلَى الْغَايَةِ، اور کبھی کبھار فائدہ دیتا ہے کلمہ 'إِلَى' حکم کے مؤخر کرنے کا إِلَى الْغَايَةِ، کب تک؟ غایت تک۔ وَلِهٰذَا قُلْنَا: إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِـهٖ: أَنْتِ طَالِقٌ إِلَى شَهْرٍ، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: جب کہا کسی شوہر نے اپنی بیوی سے: أَنْتِ طَالِقٌ إِلَى شَهْرٍ، تجھے طلاق ہے ایک مہینے تک، وَلَا نِيَّةَ لَهُ، اس حال میں کہ اس کی نیت بھی کوئی نہیں تھی، لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي الْحَالِ عِنْدَنَا، تو طلاق واقع نہیں ہوگی فی الحال ہمارے نزدیک، خِلَافًا لِزُفَرَ، برخلاف کس کے؟ امام زفر کے، ان کے نزدیک فوراً ہی ہو جائے گی۔
ہمارے نزدیک کیوں نہیں ہوگی؟ کیونکہ لِأَنَّ ذِكْرَ الشَّهْرِ لَا يَصْلُحُ لِمَدِّ الْحُكْمِ وَلِلْإِسْقَاطِ شَرْعًا، اس لیے کہ مہینے کا ذکر یہاں پر جو ہے لَا يَصْلُحُ وہ صلاحیت نہیں رکھتا لِمَدِّ الْحُكْمِ، حکم کو کھینچنے اور لمبا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، طلاق میں امتداد ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو امتدادِ حکم، مدِ حکم کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، وَلِلْإِسْقَاطِ، اور اسقاط کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا شرعاً، شریعت کے اعتبار سے۔
وَالطَّلَاقُ يَحْتَمِلُ التَّأْخِيْرَ، اور ہاں البتہ جو طلاق جو ہے يَحْتَمِلُ التَّأْخِيْرَ، وہ کیا ہے؟ احتمال رکھتی ہے تاخیر کا بِالتَّعْلِيْقِ، بسب تعلیق، ہاں اس میں تاخیر آ سکتی ہے تعلیق کے سبب سے، فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ، تو اس کو اسی پر محمول کیا جائے گا تاخیر پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔