Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-077

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 26 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَقَوْلُهُ: ”أَوْ لِتَنَاوُلِ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ، وَلِهَذَا لَوْ قَالَ: هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا، كَانَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ: أَحَدُهُمَا حُرٌّ، حَتَّى كَانَ لَهُ وِلَايَةُ الْبَيَانِ“. بِ حُرُوفِ مَعَانِی میں سے چھٹا حرف "أَوْ" ہے بھئی، "أَوْ"۔ یاد رکھو، یہاں پر بھی "أَوْ" کے دو معنی بیان کریں گے۔ ایک حقیقی معنیٰ اور ایک مجازی معنیٰ۔ "أَوْ" کا حقیقی معنیٰ کیا ہے؟ کہ وہ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حکم کو ثابت کرتا ہے۔ "أَوْ" کیا کرتا ہے؟ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حکم کو ثابت کرتا ہے، یہ "أَوْ" کا حقیقی معنیٰ ہے، اور "أَوْ" کبھی "حَتَّى" کے معنیٰ میں آتا ہے بھئی۔ "أَوْ" کبھی کس معنیٰ میں آئے گا؟ "حَتَّى" کے معنیٰ میں آئے گا، اور یہ "أَوْ" کا کون سا معنیٰ ہے؟ مجازی معنیٰ ہے، آگے چل کر اس کو بھی مصنف ذکر کریں گے بھئی۔ تو پہلی بات یہ کی مولانا کہ ”أَوْ لِتَنَاوُلِ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“ کہ "أَوْ" کس لیے آئے گا؟ دو مذکورین میں سے کسی ایک کو شامل کرنے کے لیے بھئی، یعنی وہ حکم شامل ہوگا دو مذکورین میں سے کسی ایک کو بھئی۔ یہ "أَوْ" کا کون سا معنیٰ ہے؟ حقیقی معنیٰ۔ بھئی میں نے کہا: "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو" (میرے پاس زید آیا یا عمر آیا)۔ میں نے زید پر عمر کا عطف کیا کس حرف کے ذریعے؟ "أَوْ" کے ذریعے، اور "أَوْ" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حکم کو ثابت کرتا ہے۔ معلوم ہوا مجیئت یعنی آنا دونوں میں سے کسی ایک کے لیے ثابت ہے۔ یا تو آنا زید کے لیے ثابت ہے یا عمر کے لیے ثابت ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یعنی دونوں کے لیے مجیئت ثابت نہیں، بلکہ ان میں سے ایک کے لیے ثابت ہے۔ تو یہ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حکم کو ثابت کیا، یہ کس نے ایسا کیا بھئی؟ کس نے یہ فائدہ دیا؟ "أَوْ" نے دیا بھئی، "أَوْ" نے دیا۔ اب یاد رکھو، "أَوْ" جملہ خبریہ میں آئے گا یا کس میں آئے گا؟ جملہ انشائیہ کے اندر آئے گا۔ اگر "أَوْ" آئے بھئی جملہ خبریہ کے اندر، جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی: "جَاءَنِي زَيْدٌ أَوْ عَمْرٌو" (میرے پاس زید یا عمر آیا)۔ تو اس صورت میں یہ مجیئت کو دونوں میں سے کسی ایک کے لیے ثابت کرتا ہے۔ تو پتہ نہیں چلے گا کہ مجیئت عمر کے لیے ثابت ہے یا کہ [unclear]، کوئی تعیین ہوئی؟ پتہ چلا آپ کو کہ کس کے لیے ثابت ہے مجیئت؟ نہیں، تو لہٰذا خبر کے لیے بیان چاہیے بھئی۔ خبر کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے، ورنہ پتہ نہیں چلے گا کہ دونوں میں سے کس کے لیے حکم ثابت ہے بھئی۔ ہے تو دونوں میں سے ایک کے لیے ثابت، لیکن کس کے لیے ہے؟ وہ پتہ نہیں چلے گا، تو خبر کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے بھئی۔ اور اگر "أَوْ" آئے جملہ انشائیہ کے اندر بھئی، تو جملہ انشائیہ کے اندر یہ تخییر یا اباحت کا فائدہ دے گا بھئی۔ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخییر یا اباحت کا فائدہ دے گا بھئی۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا بھئی دیکھو: "خُذْ هَذَا الْكِتَابَ أَوْ هَذَا الْكِتَابَ" (یہ والی کتاب پکڑ لو یا یہ والی کتاب اٹھا لو)۔ تو آپ، یہاں میں "أَوْ" لے کر آیا بھئی، اور یہ جملہ انشائیہ ہے، "خُذْ" امر آ رہا ہے، اور جملہ انشائیہ کے اندر "أَوْ" آئے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخییر یا اباحت کا فائدہ دیتا ہے۔ تخییر کا معنیٰ ہے: دو چیزوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار بھئی۔ دو چیزوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار۔ تو میں نے آپ سے کہا: "خُذْ هَذَا الْكِتَابَ أَوْ هَذَا الْكِتَابَ" (یہ کتاب اٹھا لو یا یہ کتاب اٹھا لو)۔ تو اب آپ کے لیے اختیار ثابت ہو گیا، آپ چاہیں پہلی کتاب کو اٹھا لیں، آپ چاہیں تو دوسری کتاب اٹھا لیں، آپ کو اختیار ہے مولانا، آپ کو اختیار ہے۔ تو تخییر اور اباحت میں بس تھوڑا فرق ہے بھئی۔ تخییر میں یہ ہے کہ دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا، اور اباحت میں دونوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔ تخییر میں دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں، لیکن اباحت میں دونوں کو جمع کرنا جائز ہے، جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مقامِ انشاء میں آئے بھئی، تو کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تخییر یا اباحت کا، اور تخییر میں دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں، اور اباحت میں دونوں کو جمع کرنا جائز ہے، جائز ہے۔ اب یہ پتہ کیسے چلے گا کہ یہ مقامِ تخییر ہے یا مقامِ اباحت ہے بھئی؟ آگے مثالوں سے بات پوری سمجھ میں آ جائے گی۔ پتہ کیسے چلے گا یہ مقامِ تخییر ہے یا مقامِ اباحت ہے؟ کہتے ہیں اس کا پتہ کسی خارجی دلیل سے چلے گا مولانا، کوئی اور دلیل بتلائے گی کہ یہاں تخییر ہے یا اباحت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی دلیل بتلائے گی، مثلاً محلِ کلام بتلا دے گا، یا مولانا سیاقِ کلام بتلا دے گا، یا کوئی قرینہ وغیرہ بتلا دے گا بھئی۔ کلام ایسے مقام پر ہوا کہ وہ بتلائے گا کہ یہاں تخییر مراد ہے یا اباحت، یا سیاقِ کلام، کلام کا جو چلاؤ ہے، اس کا چلنا بتلا دے گا کہ یہاں کیا مراد ہے، تخییر مراد ہے یا اباحت، یا مولانا کوئی قرینہ قائم ہوگا، وہ قرینہ بتلا دے گا کہ یہاں تخییر ہے یا اباحت ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً بھئی، میرے سامنے دو کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ آپ کہہ رہے ہیں: "میں نے دونوں کتابیں لینی ہیں"، میں انکار کر رہا ہوں اور میں نے کہا کہ "دونو ں میں سے ایک اٹھاؤ، خُذْ هَذَا الْكِتَابَ أَوْ هَذَا الْكِتَابَ"۔ اب بھئی یہ سیاقِ کلام بتلا رہا ہے کہ یہ تخییر کے لیے ہے، یعنی دونوں میں سے ایک کتاب آپ اٹھا سکتے ہیں، دونوں کتابیں نہیں اٹھا سکتے۔ ماقبل میں بتا رہے ہیں یعنی کلام کا چلاؤ بھئی کہ بحث ہی کس بات پر ہو رہی ہے؟ ایک کہ آپ کہہ رہے ہیں: "میں دونوں لوں گا"، میں نے کہا: "دونوں نہیں، خُذْ هَذَا الْكِتَابَ أَوْ هَذَا الْكِتَابَ"۔ تو سیاقِ کلام نے بتلا دیا کہ یہاں پر "أَوْ" آیا ہے، انشاء میں آیا ہے، لیکن یہ اباحت کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ تخییر کے لیے ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دونوں کو جمع نہیں کر سکتے آپ اس میں۔ اور مقامِ اباحت وہ مثلاً ویسے ہی بھئی دو کتابیں تھیں میرے پاس، آپ کو میں نے کہا: "خُذْ هَذَا الْكِتَابَ أَوْ هَذَا الْكِتَابَ" (یہ کتاب اٹھا لو یا یہ کتاب اٹھا لو)، بھئی آپ کی مرضی ہے، جو بھی کتاب لینا چاہو۔ تو آپ کہتے ہیں: "میں دونوں لیتا ہوں"، آپ دونوں بھی لے سکتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایسا مقام ہے کہ آپ کو پتہ ہے کہ اگر دونوں بھی آپ لے لیں تو میں کچھ کہوں گا نہیں، معلوم ہوا میں نے آپ کو اجازت دے دی، چاہے یہ کتاب اٹھا لو، پہلے والی، چاہے دوسری، جو آپ کو پسند ہو ان میں سے اٹھا لیں، اور اگر دونوں اٹھانا چاہیں تو وہ بھی کیا ہوگا آپ کے لیے؟ جائز ہوگا۔ یہ کیا چیز بتلائے گی مولانا؟ مقام بتلائے گا، کیا بتلائے گا؟ مقام بتلائے گا۔ بعض اوقات "أَوْ" تخییر کے لیے آتا ہے جہاں دوسرے کو اجازت آدمی نہیں دیتا کہ دونوں اٹھائے، اور بعض اوقات "أَوْ" کس لیے آیا کرتا ہے؟ اباحت، وہاں اس کو اجازت ہوتی ہے اس کی طرف سے کہ چاہے ایک اٹھاؤ، چاہے دوسری، چاہے دونوں کو اٹھاؤ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اب یوں کہو مولانا کہ تخییر میں "أَوْ" اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ۔ تخییر میں "أَوْ" اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ، بدل کے طریقے پر، "یہ اٹھاؤ یا یہ اٹھاؤ"، اور اباحت میں "أَوْ" اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ بھئی، کس طریقے پر؟ عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ، عموم کے طریقے پر، "یہ اٹھاؤ یا یہ اٹھاؤ یا چاہے تو دونوں اٹھاؤ"، عام ہے جس طرح بھی کرے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو تخییر میں "أَوْ" اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ، اور تخییر میں "أَوْ" اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ۔ یہ تو بات تھی کلامِ مثبت کے اندر ابھی تک بھئی۔ اگر جملہ خبریہ کے اندر آئے تو اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے "أَوْ" حکم کو ثابت کرے گا، لہٰذا وہاں کیا چاہیے؟ بیان چاہیے، اور اگر انشاء کے اندر آئے تو پھر یہ کس چیز کو ثابت کرے گا؟ تخییر اور اباحت کو ثابت کرے گا، اور پتہ کس سے چلے گا تخییر اور اباحت کا؟ کسی خارجی دلیل سے چلے گا بھئی، وہ محلِ کلام ہوگا یا سیاقِ کلام ہوگا یا کوئی قرینہ وغیرہ بتلا دے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تخییر اور اباحت میں یہ فرق ہوا کہ تخییر میں دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں، جبکہ اباحت کے اندر دونوں کو جمع کرنا جائز ہے، یہ کلامِ مثبت کی بات چل رہی ہے۔ اور اگر کلام منفی ہو مولانا، تو پھر "أَوْ" جو ہے عموم کا فائدہ دے گا۔ "أَوْ" کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عموم کا فائدہ دے گا۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: "لَا أُكَلِّمُ زَيْدًا أَوْ عَمْرًا" (میں زید یا عمر سے بات نہیں کروں گا)۔ میں زید یا عمر سے بات نہیں کروں گا۔ تو درمیان میں، میں زید اور عمر کے کیا لے کر آیا؟ "أَوْ"، اور یہ کلام مثبت ہے یا منفی؟ یہ کلام ہے منفی، اور "أَوْ" کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ، تو گویا میں نے یوں کہا: "لَا أُكَلِّمُ أَحَدَهُمَا" (لَا أُكَلِّمُ أَحَدَهُمَا)۔ صورت سمجھ میں آئی؟ "أَحَدُ" یاد رکھو ان الفاظ میں سے ہے جو معرفہ کی طرف مضاف ہو جائیں تو پھر بھی معرفہ نہیں بنتے بھئی۔ بھئی "شِبْهُ"، "غَيْرُ"، "مِثْلُ" وغیرہ، یہ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائیں تو یہ پھر بھی معرفہ نہیں بنتے، حالانکہ معرفہ کی طرف کوئی چیز مضاف ہو جائے تو وہ کیا بن جایا کرتی ہے؟ معرفہ، مضاف بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ لیکن یہ "شِبْهُ"، "غَيْرُ"، "مِثْلُ"، "أَحَدُ" وغیرہ ہیں، یہ معرفہ کی طرف مضاف ہو جائیں پھر بھی یہ معرفہ نہیں بنتے بلکہ کیا رہتے ہیں؟ نکرہ بنتے ہیں۔ بھئی معرفہ تو وہ ہے جس میں تعریف آئے، تعیین آئے مولانا، یہاں پر کوئی تعیین آتی ہے؟ میں نے کہا "أَحَدَهُمَا" (ان دونوں میں سے کوئی ایک)، کوئی تعیین ہوئی کون سا ایک؟ نہیں، میں نے کہا: "غَيْرُ زَيْدٍ" (زید کے علاوہ) بھئی، کوئی تعیین ہوئی یہ غیر زید کے علاوہ کون ہے؟ زید کے علاوہ، یہ تو ہر ایک کو شامل ہوا زید کے علاوہ بھئی، تو کوئی تعیین یہاں پر نہیں آئی۔ میں نے کہا: "مِثْلُ زَيْدٍ" (زید کی مثل)، تو مثل کا لفظ زید معرفہ کی طرف مضاف ہے لیکن کوئی تعیین آئی؟ نہیں آئی بھئی۔ جبکہ میں نے جب اگر یوں کہتا ہوں: "غُلَامُ زَيْدٍ" (زید کا غلام)، اب تو غلام میں کیا آ گئی؟ تعیین آ گئی، لیکن "مِثْلُ"، "شِبْهُ"، "غَيْرُ"، "أَحَدُ" وغیرہ کو اگر معرفہ کی طرف مضاف کریں پھر بھی ان کے اندر تعریف نہیں آتی۔ تو گویا میں نے یوں کہا: "لَا أُكَلِّمُ أَحَدَهُمَا" (میں ان میں سے کسی ایک سے کلام نہیں کروں گا)۔ تو "أَحَدَهُمَا" معرفہ ہوا یا نکرہ بھئی؟ نکرہ ہوا، اور نکرہ تحت النفی ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ نکرہ تحت النفی ہو تو عموم کا فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے، تو ہر ہر فرد کی نفی ہو گئی۔ معنیٰ یہ ہوا "لَا أُكَلِّمُ زَيْدًا أَوْ عَمْرًا" کا کہ نہ تو میں زید سے بات کروں گا اور نہ میں عمر سے بات کروں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "لَا أُكَلِّمُ زَيْدًا أَوْ عَمْرًا" کا کیا معنیٰ ہوا؟ نہ زید سے کلام کروں گا اور نہ میں عمر سے کلام کروں گا۔ تو کلامِ منفی کے اندر جب "أَوْ" آ جائے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی نفی دونوں کو شامل ہو جائے گی۔ نفی کس کو شامل ہو جائے گی؟ یعنی زید سے بھی کلام نہیں کروں گا اور عمر سے بھی، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا مولانا، تو خلاصہٴ بحث اب تک یہ ہوا کہ "أَوْ" جو ہے حکم کو ثابت کرتا ہے اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے بھئی، دو مذکور چیزوں میں سے کسی ایک کے لیے۔ اور یہ "أَوْ" کا حقیقی معنیٰ ہے۔ تو جملہ خبریہ میں آئے یہ، تو پھر یہ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حکم کو ثابت کرے گا، تو پتہ نہیں چلے گا کہ ان دو میں سے حکم کس کے لیے ثابت ہے، لہٰذا خبر کے لیے پھر بیان چاہیے ہوگا۔ اور اگر جملہ انشائیہ میں آئے، تو یہ جملہ انشائیہ کے اندر تخییر یا اباحت کا فائدہ دے گا۔ تخییر یا اباحت کا فائدہ دے گا۔ تخییر کا معنیٰ ہے دو چیزوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا، منتخب کرنے کا اختیار بھئی۔ اور اباحت کا معنیٰ ہوتا ہے مباح کرنا یعنی جائز قرار دینا بھئی، تو اس کے لیے جائز ہوگا دونوں میں سے جس کو چاہے لے بھئی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ تخییر میں بھی دو میں سے ایک کو جس کو چاہے اختیار کرے، اباحت کے اندر بھی ہے، لیکن کچھ فرق ہے۔ فرق یہ ہے کہ تخییر کے اندر دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہوتا، لیکن اباحت کے اندر دونوں کو جمع کرنا بھی جائز ہوتا ہے، جائز ہوتا ہے۔ تو تخییر، تو یوں کہیں کہ جملہ انشائیہ کے اندر جب "أَوْ" آئے تو یہ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ یا عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ۔ عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ یا یوں کہیں جملہ انشائیہ میں "أَوْ" آئے، تو یہ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کو شامل ہوگا عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ یا عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ۔ عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِ سے کیا مراد ہے؟ تخییر ہوگی، یعنی دونوں میں سے ایک ہو سکتا ہے، یہ یا یہ، اور جبکہ اباحت کے اندر عَلَى سَبِيلِ الْعُمُومِ ہوگا کہ جس کو بھی چاہے، جس کے لیے یعنی اس میں جمع کرنا بھی جائز ہوگا۔ اس میں کیا کرنا؟ جمع کرنا بھی جائز ہوگا، مثلاً اباحت کی مثال بھئی۔ بھئی وہ قرینہ بتلا دے گا کہ یہ مقام اباحت کا ہے یا تخییر کا ہے۔ مثلاً میں نے کام سپرد کیا دو طلباء کے کہ "یہ کام تم کر لینا یا تم کر لینا"۔ تو یہ مقام اباحت کا ہے، میرا مقصد کیا ہے کہ یہ کام ہو جائے کسی طرح، چاہے پہلا طالب علم کر دے، چاہے دوسرا، اور چاہے تو دونوں کر دیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بداہۃً یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ مقام کس چیز کا ہے؟ اباحت کا ہے، اباحت کا ہے۔ تو دیکھیے اب عبارت دیکھیے مولانا، آسان مسائل ہیں بھئی۔ ”أَوْ لِتَنَاوُلِ أَحَدِ الْمَذْكُورَيْنِ“ "أَوْ" تناول کا معنیٰ شمول، شامل ہونا بھئی، دو مذکورہ چیزوں میں سے کسی ایک کے شمول کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے لیے اس کو حکم شامل ہوتا ہے۔ ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ: هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا، [کان بمبرلة قوله] أَحَدُهُمَا حُرٌّ“ بھئی دیکھو ایک شخص ہے، اس کے دو غلام سامنے کھڑے ہیں، اس نے کہا: "هَذَا حُرٌّ" ایک کی طرف اشارہ کیا، "أَوْ هَذَا" دوسرے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ تو اب ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حریت ثابت ہے۔ تو اب یہ جو اس نے کہا نا: "هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا"، "أَوْ" لے کر آیا اور "أَوْ" تو کس لیے آتا ہے؟ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ، تو اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے حریت ثابت ہے دونوں مذکورہ میں سے ایک کے لیے۔ اب یہ جو جملہ اس نے کہا: "هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا"، یہ لفظوں کے اعتبار سے، لغت کے اعتبار سے جملہ خبریہ ہے، اور شریعت کے اعتبار سے یہ جملہ انشائیہ ہے، کیونکہ اس سے کیا ہوتا ہے؟ انشاءِ عتق ہوتا ہے، غلام کیا ہو جاتا ہے؟ آزاد ہو جاتا ہے۔ مالک نے اپنے غلام سے کہا کہ بھئی کہا کہ "هَذَا حُرٌّ"، تو کیا ہو جائے گا؟ وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ تو لغت کے اعتبار سے ہے یہ جملہ خبریہ، اور شریعت کے اعتبار سے ہے جملہ انشائیہ، شریعت نے اسے جملہ انشائیہ، انشاءِ عتق کے لیے قرار دیا ہے بھئی۔ تو اب اگر دونوں اعتبار سے آپ دیکھیں، آپ اس کو جملہ خبریہ مان لیں، تو پھر اس صورت میں "أَوْ" کس لیے آتا ہے؟ اَحَدُ الْمَذْكُورَيْنِ کے لیے آیا، اور جملہ خبریہ میں پھر کیا چاہیے؟ بیان چاہیے، تو لہٰذا اب اس آقا سے بیان طلب کیا جائے گا کہ ان میں سے کون سا آزاد ہے۔ یا مولانا جملہ انشائیہ کے اعتبار سے دیکھیں، تو جملہ انشائیہ کیا آتا ہے؟ اس میں "أَوْ" آ جائے، تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تخییر یا اباحت کا، تو یہاں تخییر ہے مولانا، دونوں میں سے وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ ایک کو آزاد کرنا چاہتا ہے تو تخییر ہوئی، اور لہٰذا اب اس کو اختیار حاصل ہوگا کہ جس کو چاہے آزادی کے لیے متعین کر دے، جس کو چاہے آزادی کے لیے متعین کر دے۔ ”وَلِهَذَا لَوْ قَالَ: هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا“ اسی لیے اگر کسی مالک مولانا نے کہا، آقا نے کہا، غلام دو غلام کھڑے تھے، اس نے کہا: "هَذَا حُرٌّ أَوْ هَذَا" (یہ آزاد ہے یا یہ)، ”كَانَ بِمَنْزِلَةِ قَوْلِهِ“ یہ اس کے اسی قول کے درجے میں ہے، گویا اس نے یوں کہا: ”أَحَدُهُمَا حُرٌّ“ کہ ان دونوں میں سے ایک آزاد ہے۔ حتى كان له ولاية البيان، یہاں تک کہ اس کے لیے بیان کرنے کا، کرنے کی ولایت ہوگی، یہ بیان، یعنی بیان کرنے کا اختیار ہوگا، اسے اختیار ہوگا کہ ان دونوں میں سے جس کو چاہے آزادی کے لیے منتخب کر لے، متعین کر دے بھئی۔ ولو قال، اور اگر کسی نے کہا، ایک شخص نے، أمة، غلام کے آقا نے کہا بھئی، دو شخص اس کے سامنے کھڑے ہیں اس نے کہا، وکلت ببيع هذا العبد هذا أو هذا، میں نے وکیل بنایا اس غلام کے بیچنے پر، هذا أو هذا، اس کو یا اس کو، دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا بھئی اس نے کہ میں نے یہ جو غلام میرا ہے اس کے بیچنے کے لیے اس کو وکیل بناتا ہوں میں یا اس کو میں نے وکیل بناتا ہوں، تو دیکھیے، یہ مولانا انشاء توکیل ہے۔ کیا ہے؟ انشاء توکیل ہے۔ تو کہتے ہیں، كان الوكيل أحدهما، ان دونوں میں سے کیا ہوگا؟ وکیل ایک ہوگا۔ بھئی، آیا تو ہے "أو" اور "أو" تو کس لیے آئے گا، آتا ہے؟ أحد المذكورين کے لیے، اور یہ ہے انشاء، کیونکہ انشاء توکیل ہے۔ لہذا اب یہاں پر اختیار ہوگا دونوں کو بھئی۔ دونوں کو کیا ہو جائے گا وکیلوں کو؟ اختیار ثابت ہو جائے گا دونوں وکیلوں کے، دونوں کے لیے، چاہے تو پہلا شخص وہ بھی اس کے غلام کو بیچ سکتا ہے اور چاہے تو دوسرا شخص اس کو بھی اختیار حاصل ہے، وہ بھی کیا کر سکتا ہے اس کے بیچ سکتا ہے۔ اور نیز دونوں مل کر بیچیں یہ بھی جائز ہے کیونکہ مقام کون سا ہے؟ اباحت کا، اباحت کا، انشاء ہے اور انشاء میں کس لیے آیا کرتی ہے، کرتا ہے "أو"؟ تخییر یا اباحت، اور یہ کون سا مقام ہے؟ کیا اندازہ ہوتا ہے بھئی؟ یہ تو پتہ چل رہا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے اس غلام کا بیچنا، چاہے یہ پہلا بیچے، چاہے دوسرا، اور اگر دونوں مل کر بیچتے ہیں تو پھر تو یہ بطریق اولیٰ اور ٹھیک ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وکیل، توکیل ایک کے لیے ثابت ہو جائے گی، اباحت کے طریقے پر توکیل ایک کے لیے۔ ولو قال وکلت ببيع هذا العبد هذا أو هذا، میں نے وکیل بنایا اس غلام کے بیچنے پر، غلام کے بیچنے پر هذا أو هذا اس کو یا اس کو، كان الوكيل أحدهما، تو وکیل ان دونوں میں سے ایک ہوگا، ویباح البيع لكل واحد منهما، اور مباح ہوگا بیچنا لكل واحد منهما ان میں سے ہر ایک کے لیے بھئی۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے کیا ہوگا اس غلام کو بیچنا؟ مباح ہوگا، مباح ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ ولو باع أحدهما ثم عاد العبد إلى ملك الموكل لا يكون للآخر أن يبيعه، ان میں سے ایک نے کیا کر دیا؟ بیچ دیا۔ بھئی، یہاں "أو" آیا، انشاء میں آیا، یہ تخییر یا اباحت کے لیے آتا ہے، تو لہذا ایک نے بیچ دیا، بیچنے کے بعد وہ غلام پھر کسی طرح آقا کے پاس پہنچ گیا، آقا نے دوبارہ خرید لیا یا کسی نے اس کو ہبہ کر دیا وغیرہ، تو آقا کے پاس پھر پہنچا، تو ایک وکیل نے بیچا تھا اور اختیار تو کیا تھا؟ دونوں کو حاصل تھا، پہلے کو بھی حاصل تھا بیچنے کا اختیار اور دوسرے کو بھی، تو سوال پیدا ہوا کیا ایک نے تو اپنا اختیار استعمال کر لیا، کیا دوسرا اب اس کا اختیار باقی ہے؟ کیا وہ اس غلام کو دوبارہ اس پچھلے اختیار کی وجہ سے بیچ سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب یہ دوبارہ اس دوسرا وکیل اس غلام کو نہیں بیچ سکتا، اس لیے کہ "أو" کس لیے آیا کرتا ہے؟ أحد المذكورين، دو مذکور میں سے ایک کے لیے آتا ہے، تو دونوں میں سے ایک کے لیے اختیار ثابت تھا اور ایک اس اختیار کو کیا کر چکا ہے؟ استعمال کر چکا ہے، تو اب دوبارہ دوسرے کو اختیار نہیں ملے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس وقت ہو سکتا تھا، اس کے بجائے یہ بیچ دیتا تو بھی ٹھیک تھا، دونوں مل کر بیچتے تھے تو بھی ٹھیک تھا، لیکن اب نہیں۔ ولو باع أحدهما، اگر بیچ دیا دونوں وکیلوں میں سے کسی ایک نے، ثم عاد العبد إلى ملك الموكل، پھر لوٹ آیا غلام آقا کی ملکیت میں، لا يكون للآخر، تو دوسرے کے لیے جائز نہیں ہوگا، أن يبيعه، کہ اس کو، اس غلام کو بیچتے۔ ولو قال لثلاث نسوة له، اگر کسی شخص نے اپنی تین بیویوں سے کہا، لثلاث نسوة، کتنی؟ تین بیویاں، له، اس کی، اس یعنی کس، اپنی تھیں جو اس کی، اس کی اس نے اپنی تین بیویوں سے کہا، هذه طالق أو هذه وهذه، دیکھا؟ ایک جگہ "أو" لایا ہے اور ایک جگہ واؤ بھئی۔ یہ اس کو طلاق ہے أو هذه یا اس کو وهذه اور اس کو، تو کہتے ہیں، بھئی، هذه طالق أو هذه، یہاں پر درمیان میں کیا آیا؟ "أو"، اور "أو" کس لیے آیا کرتا ہے؟ أحد المذكورين، معلوم ہوا کہ طلاق کیا ہے؟ ان دونوں میں سے ایک کو ہے، تو گویا اس نے یوں کہا ہے: إحداكما طالق وهذه، إحداكما، پہلے دو میں کیا تھا بھئی؟ "أو" تھا؟ جی؟ جی، تو وہ کس لیے آیا کرتا ہے؟ أحد المذكورين، تو یہاں أحد المذكورين بنائیں بھئی، مخاطب ہیں، لہذا إحداكما طالق أو هذه، وهذه، إحداكما طالق وهذه، تم دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے اور اس کو طلاق ہے۔ تو جو تیسری جس کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا اس کو تو فوراً طلاق ہو جائے گی، اور جو پہلی دو ہیں ان میں سے ایک کو ہوگی، لیکن کس کو ہوگی؟ "أو" نے تعیین کا فائدہ تو دیا نہیں، لہذا یہاں پر کیا دیا جائے گا؟ جی، اختیار دیا جائے گا بھئی، خاوند کے لیے کیا ثابت ہو جائے گی؟ تخییر ثابت ہو جائے گی کیونکہ یہ کیا ہے؟ انشاء ہے مولانا، انشاء، طلاق دے رہا ہے، انشاء طلاق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ولو قال لثلاث نسوة له، اور خاوند نے کہا اپنی تین بیویوں سے، هذه طالق أو هذه وهذه، کہ اس کو طلاق ہے یا اس کو اور اس کو، طلقت إحدى الأوليين، طلاق ہو جائے گی پہلی دو میں سے ایک کو، پہلی دو میں سے ایک کو طلاق ہوگی، وطلقت الثالثة في الحال، اور تیسری کو فی الحال، فوری طلاق ہو جائے گی، لانعطافها على المطلقة منهما، اس لیے کہ اس کا عطف ہو رہا ہے ان دونوں میں سے جو مطلقہ ہے اس پر بھئی۔ ان میں سے جو، بھئی اس نے کیا کہا تھا؟ هذه طالق أو هذه، یہ کس درجے میں ہوا؟ إحداكما طالق، اور آگے کیا آ رہا ہے؟ وهذه، تو وهذه اس کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ إحداكما پر، سمجھ میں آیا؟ لانعطافها على المطلقة منهما، اس لیے کہ اس کا عطف ہو رہا ہے تیسری کا على المطلقة، مطلقہ پر، منهما ان دونوں میں سے جو ہے مطلقہ ہے اس پر عطف ہو رہا ہے، ويكون الخيار للزوج، اور اختیار کس کو ہوگا؟ خاوند کو ہوگا، في بيان المطلقة منهما، ان دونوں میں سے مطلقہ کے بیان کرنے کے اندر بھئی۔ تو جس کو چاہے وہ طلاق کے لیے متعین کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس روک لے۔ بمنزلة ما قال، بمنزلہ اس قول کے ہے یہ مولانا کہ إحداكما طالق وهذه، گویا اس نے یوں کہا، إحداكما طالق، دو کی طرف اشارہ کر کے کہا إحداكما طالق، تم دونوں میں سے ایک کو طلاق ہے، وهذه اور اس کو، تو تیسری کو فوراً ہوئی اور ان دو میں سے ایک کو ہونی ہے، وہ متعین کرنے کا اختیار کس کو ہوگا اب؟ خاوند کو ہوگا۔ وعلى هذا، اور اسی بنا پر، یعنی اسی پر قیاس کرتے ہوئے کون کہتے ہیں؟ امام زفر، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، إذا قال، کسی شخص نے کہا، لا أكلم هذا أو هذا وهذا، یہ ہے آپ کی کتاب میں عبارت بھئی؟ هذا أو هذا وهذا، وهذا بھی ہونا چاہیے بھئی، یہ اوپر والے مسئلے کی طرح ہے بالکل۔ پہلے دو میں "أو" آیا، تیسرے میں واؤ آیا بھئی۔ هذا أو هذا وهذا، کر لیا بھئی؟ جی، جی۔ کسی شخص نے کہا لا أكلم هذا أو هذا، میں اس سے یا اس سے اور اس سے بات نہیں، تو پہلے دو میں کیا لایا؟ "أو"، اور تیسرے میں کیا لایا؟ واؤ، تو کہتے ہیں، كان، امام زفر فرماتے ہیں، كان بمنزلة قوله، یہ اس کے اسی قول کے درجے میں ہے، گویا اس نے یوں کہا ہے: لا أكلم أحد هذين، پہلے دو میں "أو" آیا، تو ان میں سے ایک، میں کلام نہیں کروں گا ان دو میں سے کسی ایک سے، وهذا اور اس تیسرے سے، جی۔ اب وہ حانث کب ہوگا؟ کہتے ہیں جب پہلے دو میں سے کسی ایک سے کلام کرے اور تیسرے سے بھی کلام کرے، کیونکہ واؤ کس لیے آیا کرتا ہے؟ جمع مطلق کے لیے، تو لہذا پہلے دو میں سے کسی ایک کو تیسرے کے ساتھ ملائے گا تو اب کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، ورنہ حانث، تو پہلے دو میں تو عطف آیا تھا "أو" کے ذریعے، وہ کس درجے میں ہو گئے؟ أحد هذين کے درجے میں، اور تیسرے میں کے، تیسرے کو واؤ کے ساتھ لایا تھا، تو أحد هذين کے ساتھ کیا کر دے گا؟ اس تیسرے کو جمع کریں گے، تو پہلے دو میں سے کسی ایک سے کلام کر لے اور تیسرے سے کلام کر لے تو پھر اب کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو گویا اس نے یوں کہا: لا أكلم أحد هذين، میں ان دو میں سے کسی ایک کے ساتھ، وهذا اور اس تیسرے کے ساتھ کلام نہیں کروں گا، فلا يحنث، تو وہ حانث نہیں ہوگا، ما لم يكلم أحد الأولين، جب تک وہ کلام نہ کر لے پہلے دو میں سے کسی ایک کے ساتھ، والثالثة، اور تیسرے کے ساتھ، یہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اس کو قیاس کرتے ہیں اوپر والے مسئلے پر، هذه طالق أو هذه، اس میں حکم کس کے لیے ثابت تھا دونوں میں سے کسی ایک کے لیے، اور تیسری کے لیے، تیسری کو بھی جمع کر لیا تھا، اس کے لیے بھی طلاق ہے اور پہلے دو میں سے ایک کے لیے بھی طلاق ہے، تو یہاں پر بھی اس نے کہا میں کلام نہیں کروں گا، تو یہاں بھی واؤ آ رہا ہے، پہلے دو میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی ہو اور تیسرے کے ساتھ بھی ہو تو پھر کیا ہوگا؟ حانث۔ ہم کہتے ہیں نہیں۔ یہ آپ کا قیاس، قیاس مع الفارق، قیاس صحیح نہیں پچھلے مسئلے پر کرنا، اس لیے کہ وہ مثبت کلام ہے، یہ منفی کلام ہے، اور منفی کلام کے اندر "أو" جب آ جائے، تو نفی میں عموم ہوتا ہے، یعنی ہر ہر فرد کے ساتھ نفی متعلق ہو جاتی ہے بھئی۔ ہر ہر فرد کے ساتھ مثلاً میں نے کہا: لا أكلم زيداً أو عمراً، میں زید یا عمر سے بات، تو یہ کلام منفی ہے، لہذا اب میں زید صرف صرف بات کر لوں تو بھی حانث، اور عمر سے بات کر لوں تو بھی حانث، حانث، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ہر ایک سے نفی کا فائدہ دیا ہے اس نے، زید سے بھی میں کلام نہیں کروں گا اور عمر سے بھی کلام نہیں کروں گا۔ وعندنا لو كلم، تو ہمارے نزدیک صورت یوں ہو جائے گی کہ پہلے دو میں کیا آیا؟ "أو"، اور دوسرے میں واؤ، تو دوسرے دو کو جمع کریں، دوسرے دو کو کیا کر دو؟ جمع کر دو، گویا اس نے یوں کہا: لا أكلم هذا أو هذين، آخری دو هذا جمع کرو کیا بن جائے گا؟ تثنیہ دونوں، میں لا أكلم هذا أو هذين، میں اس سے بھی کلام نہیں کروں گا پہلے سے، اور دوسرے دونوں سے بھی کلام، تو صرف پہلے سے کر لے تو بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث، اور آخری دونوں سے کر لے تو پھر کیا ہوگا؟ آخری دو میں سے کسی ایک سے کرے تو پھر حانث نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ وعندنا لو كلم الأول وحده يحنث، ہمارے نزدیک اگر صرف پہلے سے کلام کر لے تو پھر بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث، کیونکہ یہاں پہلے کیا آیا ہے؟ "أو" آیا ہے، اور "أو" جب آئے کلام منفی کے اندر تو نفی ہر ایک سے متعلق ہو جاتی ہے، "أو" کے ماقبل سے بھی نفی متعلق ہو جائے گی، "أو" کے ما بعد سے، "أو" سے ماقبل کتنے ذکر ہیں؟ ایک، اور "أو" کے ما بعد دو ہیں اور ان کے درمیان واؤ آ رہا ہے تو دونوں کو کیا کر دیا جائے گا؟ جمع کر دیا جائے گا، تو گویا اس نے یوں کہا: میں اس ایک سے بھی، اس ایک سے یا ان دونوں سے کلام، اور کلام ہے منفی تو نفی دونوں سے متعلق ہو گئی، معلوم ہوا "أو" کے ماقبل سے بھی کلام کر لے تو بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث، اور ما بعد سے کر لے تو بھی، اور "أو" سے ماقبل کتنے ہیں؟ ایک، تو اس ایک سے کر لے تو بھی حانث، اور ما کے ما بعد کتنے ہیں؟ دو، تو ان دونوں سے کلام کر لے گا تو پھر حانث ہوگا، کسی ایک سے کلام کرے تو پھر حانث نہیں، وعندنا لو كلم الأول وحده يحنث، اگر صرف پہلے کے، پہلے اکیلے کے ساتھ بات کر لے، يحنث، تو حانث ہو جائے گا، ولو كلم أحد الآخرين، اور اگر کلام کیا آخری دو میں سے ایک کے ساتھ، آخری دو میں سے ایک کے ساتھ کلام کیا، تو پھر لا يحنث، پھر حانث، ما لم يكلمهما، جب تک وہ ان دونوں کے ساتھ کلام نہ کر لے۔ ولو قال، اور اگر ایک شخص نے کہا، بع هذا العبد أو هذا، کہ بیچ دے اس غلام کو یا اس غلام کو، تو كان له أن يبيع أحدهما أيهما شاء، تو وکیل کو اختیار، دیکھا؟ کون سا کلام آیا؟ انشاء، اور انشاء میں کس لیے آیا کرتا ہے؟ تخییر یا اباحت، اور یہ مقام کیا بتلا رہا ہے؟ مقام کون سا ہے؟ تخییر کا کہ ایک غلام کو بیچنا چاہتا ہے بھئی، تو كان له، وکیل کو اختیار ہوگا، أن يبيع أحدهما، کہ وہ بیچ دے ان دونوں میں سے ایک کو، أيهما شاء، جس کو بھی وہ چاہے اس اختیار ہوگا۔ ولو دخل أو في المهر بأن تزوجها على هذا أو على هذا يحكم مهر المثل عند أبي حنيفة رحمه الله، دیکھو، اگر "أو" کا لفظ مہر میں داخل کیا خاوند نے، کسی سے نکاح کیا اور کہا: تزوجتك على هذا أو على هذا، میں تجھ، میں نے تجھ سے نکاح کیا اس پر یا اس پر، دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا۔ سمجھ میں آیا؟ دو چیزیں ذکر کیں بھئی، مثلاً پہلے کیا ذکر کیا؟ ایک ہزار درہم یا پانچ سو دینار مثلاً، تو میں تم سے نکاح کرتا ہوں ایک ہزار درہم پر یا ایک یا پانچ سو دینار پر، تو اب کیا کیا جائے گا؟ خاوند پر کیا لازم ہوگا؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہرِ مثل کو حاکم بنایا جائے گا، مہرِ مثل کو فیصل بنایا جائے گا۔ اس کے ذریعے فیصلہ ہوگا بھئی۔ اس لیے وہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح میں اصل ہے مہرِ مثل بھئی، مہرِ مثل جانتے ہو کسے کہتے ہیں؟ کہ اس عورت کے خاندان میں اس جیسی عمر، جمال وغیرہ میں امور جو ذکر ہیں فقہ کی کتابوں میں، ان میں اس جیسی جو عورت ہو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہرِ مثل کہتے ہیں۔ یہ آپ تفصیل وہاں پڑھ چکے ہوں گے۔ تو اب کہتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی، اصل میں نکاح میں اصل ہے مہرِ مثل، بھئی۔ تو جب بھی نکاح کرو کیا آتا ہے؟ فوراً مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے۔ لیکن جب آدمی ذکر کر دیتا ہے مہر کو، تو یہ جو ذکر کرنا اور یہ جو مقرر کرنا ہے، اس عارض کی وجہ سے مہرِ مثل نہیں آتا، پھر کون سا آ جاتا ہے جس کو مقرر کیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اصل کیا ہے مہر کے اندر؟ کیا آتا ہے فوراً؟ مہرِ مثل۔ تو نکاح میں اصل ہے مہرِ مثل، لیکن کبھی کبھار مہرِ مثل کے بجائے دوسرا کیا آ جایا کرتا ہے جو مقرر کیا جاتا ہے۔ تو آنا تو مہرِ مثل ہی چاہیے تھا، لیکن یہ جو مقرر کر دیا، اس عارض کی وجہ سے اب مہرِ مثل نہیں آتا بلکہ وہ جو مقرر کیا گیا ہو وہ آ جایا کرتا ہے۔ تو یہاں پر مولانا، خاوند نے نکاح کیا ہے اور مہر دو چیزیں ذکر کی ہیں اور درمیان میں ”أو“ ذکر کیا، تو مہر میں جہالت آ گئی بھئی۔ کون سا مہر ہے بھئی ان دونوں میں سے؟ ایک ہزار درہم ہیں یا 500 دینار ہیں؟ تو پھر اب وہی مہرِ مثل کی طرف اب دوبارہ رجوع کیا جائے گا اور اس کو حاکم بنایا جائے گا، اس کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ تو ان دونوں میں سے جو مہرِ مثل کے زیادہ قریب ہوا، وہ خاوند پر واجب ہو جائے گا۔ وہ کیا ہے؟ خاوند پر واجب ہو جائے گا، جو اس کے زیادہ مشابہ ہوا۔ ”ولو دخل أو في المهر“ اگر داخل کیا ”أو“ کو مہر کے اندر ”بأن تزوجها على هذا أو على هذا“ اس طور کہ نکاح کیا اس عورت سے اس پر یا اس پر۔ ”يحكم مهر المثل عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى“ تو حاکم بنایا جائے گا مہرِ مثل کو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”لأن اللفظ يتناول أحدهما“ اس لیے کہ لفظ دونوں میں سے ایک—بھئی ”أو“ آیا ہے اور ”أو“ تو کیا آتا ہے؟ أحد المذكورين کو شامل ہوتا ہے—تو جہالت آ گئی۔ ”والموجب الأصلي مهر المثل“ اور موجبِ اصلی مہرِ مثل ہے بھئی۔ ”فيترجح ما يشابهه“ تو راجح ہو جائے گا وہ جو اس کے مشابہ ہو، جو اس کے قریب ہو مقدار کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً مہرِ مثل کتنا تھا؟ 50 ہزار۔ کتنا تھا؟ 50 ہزار۔ تو اب ہزار دینار اس کے زیادہ قریب ہوئے تو اس کو کر دیں گے، وہ خاوند پر واجب ہو جائے گا۔ اور اگر 500 دینار ان کی مالیت اس کے زیادہ قریب ہوئی تو اس کو، 500 دینار اس پر لازم ہو جائیں گے۔ جو 50 ہزار کے زیادہ قریب ہے، وہ والا آ جائے گا اس پر بھئی۔ ”وعلى هذا قلنا“ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں۔ اسی بنا پر بھئی کہ ”أو“ کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذكورين کے لیے، اسی بنا پر کہتے ہیں، ہم اسی بنا پر ہم نے کہا ”أن التشهد ليس بركن في الصلاة“ کہ تشہد نماز میں رکن نہیں ہے یعنی فرض نہیں ہے، نماز کا رکن نہیں ہے، نماز میں فرض نہیں ہے بھئی۔ کیوں؟ ”لأن قوله عليه السلام“ اس لیے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے ”إذا قلت هذا أو فعلت هذا فقد تمت صلاتك“ حضور علیہ السلام نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ”إذا قلت هذا“ جب تو یہ کہہ دے، یعنی تشہد کی طرف اشارہ کیا، جب تو تشہد کہہ دے، ”أو فعلت هذا“ یا تو یہ کر دے، یعنی قعدۂ اخیرہ مراد ہے۔ کس کی طرف اشارہ ہے؟ یعنی جب تو تشہد پڑھ لے یا تو قعدۂ اخیرہ کر لے ”فقد تمت صلاتك“ تو تحقیق تیری نماز کیا ہو گئی؟ پوری ہو گئی، پوری ہو گئی۔ تو یہاں دیکھیے، تشہد اور قعدہ کے درمیان کیا ذکر کیا گیا حدیث میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”أو“ ذکر کیا اور ”أو“ تو کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذكورين۔ معلوم ہوا ان دونوں میں سے ایک نماز کا رکن ہے۔ ان دونوں میں سے ایک نماز کا رکن ہے، وہ نماز کے اندر فرض ہے، اگر وہ چھوٹ جائے پھر تو نماز ہی نہیں ہو گی۔ اچھا، تو دیکھو ”علق الإتمام بأحدهما“ تو حضور نے معلق فرما دیا اتمامِ صلوۃ کو ”بأحدهما“ ان دونوں میں سے ایک کے—نماز کے پورا کرنے کو ایک کے ساتھ معلق فرما دیا— ”فلا يشترط كل واحد منهما“ لہذا ان دونوں میں سے ہر ایک کی شرط، دونوں اب نہیں ہو سکتے، درمیان میں ”أو“ آیا ہے۔ معلوم ہوا فرض دونوں میں سے ایک ہے، یہ ”أو“ نے ہمیں بتلایا۔ ”وقد شرطت القعدة بالاتفاق“ قعدہ لفظ ہے آپ کی کتاب میں؟ عقدہ ہو گا بعض نسخوں میں۔ عقدہ نہیں، عقدہ غلط ہے لفظ یہاں۔ کاتب کی کتابت کی غلطی ہے۔ اس کو کیا کر دیں؟ قعدہ کر دیں، قاف مقدم ہے، عین مؤخر ہے۔ ”وقد شرطت القعدة بالاتفاق“ اور قعدہ کی شرط لگائی گئی ہے بالاتفاق، ”فلا تشترط قراءة التشهد“ لہذا تشہد پڑھنے کی شرط نہیں لگائی جائے گی بھئی، نہیں لگائی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی دونوں میں سے کس نے ایک نے رکن ہونا ہے، کوئی ایک رکن ہے، کیونکہ ”أو“ آیا اور ”أو“ کس لیے آیا کرتا ہے؟ احد المذكورين کے لیے حکم کو ثابت کرتا ہے۔ تو دونوں میں سے معلوم ہوا ایک رکن ہے، ایک اس ایک سے نماز پوری ہو جائے گی۔ اب کون سا ہے؟ یا تو تشہد ہے یا قعدۂ اخیرہ ہے۔ اور ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے کہ قعدۂ اخیرہ تو کیا ہے؟ فرض ہے۔ جب قعدۂ اخیرہ کے فرض ہونے پر اتفاق ہو گیا، تو ایک نے فرض ہونا تھا، معلوم ہوا وہ کون سا ہے؟ قعدۂ اخیرہ۔ لہذا اب تشہد کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ جی؟ دونوں کا، دونوں رکن بن جائیں گے نماز کے اور اس حدیث میں تو کیا آیا تھا؟ ”أو“ آیا تھا۔ لہذا جب ایک فرض قرار دے دیا گیا تو اب دوسرے کو فرض اور رکن قرار نہیں۔ ”فلا تشترط قراءة التشهد“ لہذا شرط نہیں لگائی جائے گی تشہد کے پڑھنے کی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہے؟ تشہد نماز میں فرض ہے، ان کے نزدیک تشہد بھی۔ تو یہ دلیل، ہماری دلیل ہے مولانا، حدیث بھئی۔ ”ثم هذه الكلمة في مقام النفي توجب نفي كل واحد من المذكورين“ پھر یہ کلمہ جو ہے یعنی ”أو“، ”في مقام النفي“ نفی کے مقام میں ”توجب“ یعنی ”تثبت“ ثابت کر دے گی ”نفي كل واحد من المذكورين“ مذکورین میں سے ہر ایک کی نفی کو۔ مقامِ نفی کے اندر ”أو“ آ جائے تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے، تو ہر ایک کی نفی کر دیتا ہے۔ ہر ایک کی کیا کر دیتا ہے؟ نفی کر دیتا ہے۔ ”حتى لو قال“ یہاں تک کہ اگر کسی نے کہا: ”لا أكلم هذا أو هذا“ کہ میں کلام نہیں کروں گا اس سے یا اس سے—تو اب دیکھو کلامِ منفی ہے—تو دونوں میں سے ہر ایک کی نفی ثابت ہو جائے گی بھئی۔ لہذا کسی ایک سے بھی کلام کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ تو کہتے ہیں: ”يحنث إذا كلم أحدهما“ تو حانث ہو جائے گا جب کلام کر لے دونوں میں سے کسی ایک سے۔ ”وفي الإثبات يتناول أحدهما“ ہاں، اثبات کے اندر یہ شامل ہوتا ہے دونوں میں سے ایک کو، احد المذكورين کو، ”مع صفة التخيير“ صفتِ تخییر کے ساتھ بھئی۔ اختیار ہو گا اس میں بھئی۔ ”كقولهم“ جیسے، جیسے عربوں کا یہ قول: ”خذ هذا أو ذاك“ یہ لے لو یا وہ لے لو۔ تو دونوں میں سے ایک کے لینے کا اختیار ہو گا، کیونکہ یہ احد المذكورين کو شامل ہے اور کلام کون سا ہے؟ مثبت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”ومن ضرورت التخيير عموم الإباحة“ اور تخییر کی ضرورت میں سے ہے اباحت کا عام ہونا۔ یعنی تخییر کے ساتھ لازم ہے کیا؟ اباحت کا عام ہونا۔ اباحت کا عام ہونا۔ یعنی بھئی وہ معنی نہیں اباحت کا جو ابھی پہلے کیا تھا۔ یعنی اجازت ہے یہاں، اباحت کا کیا معنیٰ؟ اجازت۔ اجازت ہے کہ چاہے دیکھو اس نے کہا: ”خذ هذا أو ذاك“ یہ چیز لے لو یا یہ چیز لے لو—تو اس کے لیے اجازت ہو گی، چاہے پہلے والی چیز لے لے چاہے دوسری۔ اس کو اجازت ہو گی یا نہیں بھئی؟ پورا اختیار ہو گا، یہ معنی ہے۔ تو لازم ہے تخییر کے ساتھ اباحت کا عام ہونا، چاہے ماقبل میں جو چیز مذکور ہے اس کو لے لے یا جو بعد میں مذکور ہے بھئی۔ ”قال الله تعالى“ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهلكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة“۔ بھئی قرآن میں کفارۂ یمین بیان، اللہ تعالی کفارۂ یمین بیان فرما رہے ہیں۔ قسم کے، کسی نے قسم کھائی کہ یہ کام نہیں کروں گا اور قسم توڑ ڈالی، تو اب کفارہ دینا پڑے گا۔ کفارہ کیا ہے؟ ”فكفارته إطعام عشرة مساكين“ کھانا کھلانا ہے 10 مسکینوں کو۔ ”من أوسط ما تطعمون أهلكم“ اس متوسط درجے میں سے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ بھئی متوسط درجے کا کھانا جو انسان کیا کرتا ہے اپنے نہ تو بہت اعلیٰ مہنگا کھانا مراد ہے اور نہ بہت ادنیٰ، بلکہ متوسط درجے کا۔ ”أو كسوتهم“ یا کیا کرنا ہے ان کو؟ یا ان کو لباس، کپڑے دینا ہے، کپڑے پہنانا ہے۔ ”أو تحرير رقبة“ یا کیا کرنا ہے؟ گردن کا آزاد کرنا۔ تو کفارۂ یمین ہو گیا تین چیزوں میں سے ایک بھئی۔ یا تو 10 مسکینوں کو کیا کرے؟ دو وقت کا کھانا کھلا دے۔ یا ان کو کپڑے پہنا دے، کپڑے دے دے۔ یا، یا ایک غلام آزاد کر دے۔ درمیان میں ”أو“ آیا، کیا آیا؟ ”أو“ آیا۔ تو ”أو“ احد المذكورين کے لیے آیا کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا ان میں سے کسی ایک کے فعل کو بھی کر لے تو کفارہ کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا، ادا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جی۔ اچھا، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بات ابھی چل رہی ہے تخییر وغیرہ کی، اور وہ کس میں ہوتی ہے؟ انشاء میں۔ معلوم ہوا انشاء کی بحث چل رہی ہے اور یہ تو خبر ہے مولانا: ”فكفارته“ اس کا کفارہ کیا ہے؟ یہ ہے یا یہ ہے یا—یہ تو خبر ہے۔ تو یہ کیسے آپ نے یہاں پر ذکر کر دی اس کی تائید کے اندر بھئی؟ تو جواب یہ مولانا کہ یہ لفظوں کے اعتبار سے تو خبر ہے، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے کیا ہے؟ انشاء ہے کہ اگر قسم توڑ دے تو پھر یہ کفارہ دے، چاہے اسے چاہیے کہ یہ کفارہ دے یا یہ کفارہ دے یا یہ کفارہ دے۔ تو امر کے، تو یہ انشاء ہے، لفظوں کے اعتبار سے خبر ہے، معنیٰ کے اعتبار سے انشاء ہے، امر کے معنیٰ میں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ قسم کا کفارہ یاد رکھنا بھئی، قسم اگر ٹوٹ جائے تو ان میں سے کوئی کفارہ۔ ہاں ”فمن لم يجد“، آگے کیا آتا ہے؟ ”فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام“۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو نہ پائے یعنی ان میں سے کسی ایک کی استطاعت نہ رکھتا ہو، بہت غریب ہے، تو پھر اس صورت میں کیا کر سکتا ہے؟ تین روزے رکھ سکتا ہے۔ لیکن تین روزے سے پے کے لیے اللہ نے کیا فرما دیا؟ ”فمن لم يجد“ کہ ان میں سے کسی کو، ویسے تین روزے نہیں رکھ سکتا جب تک ان میں سے کسی ایک پر بھی قادر ہو بھئی۔ اور کھانا بھی دو وقت کا مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دو وقت کا کہ ایک دن کی ان کی ضرورت پوری ہو جائے اور ایک دن میں کتنی دفعہ کھانا ہوتا ہے؟ دو مرتبہ۔ ”وقد يكون أو بمعنى حتى“ یہ دیکھا، اب یہ ”أو“ کا مجازی معنیٰ آ گیا۔ کہتے ہیں: اور کبھی کبھار ”أو“ کس معنیٰ میں ہوتا ہے؟ ”حتى“ کے معنیٰ میں ہوتا ہے اور یہ اس کا مجازی معنیٰ ہے۔ اور مجازی معنیٰ کے لیے آپ نے پڑھا تھا ضابطہ۔ کیا ہونا ضروری ہے؟ دو شرطوں کا ہونا ضروری۔ پہلا کیا؟ محل مجازی معنیٰ کا احتمال رکھتا ہو، اور دوسرا تعجین مجاز اور ترکِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی قائم ہو۔ دیکھیے بھئی۔ ”قال الله تعالى“ اللہ تعالی فرماتے ہیں قرآن میں: ”ليس لك من الأمر شيء“—آپ کا، بھئی غزوۂ احد کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار سے بڑی تکلیف پہنچی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پتھر وغیرہ انہوں نے آپ کو مارے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دانتِ مبارک شہید ہوا اور خود کی جو کڑیاں تھیں بھئی وہ سر میں دھنس گئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ پتھر لگا تو وہ جو کڑیاں تھیں وہ سر میں دھنس گئیں۔ اور سر میں دھنس گئیں۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے پھر دانتوں سے کھینچ کر ان کڑیوں کو سر سے نکالا بھئی۔ اتنی مضبوطی سے اندر دھنس، سختی سے دھنس گئی تھیں کہ بڑے دانتوں سے کھینچا بھئی۔ صحابہ عجیب لوگ تھے مولانا۔ پیغمبر علیہ السلام سے کتنی محبت تھی کہ بیان نہیں ہو سکتی، بیان نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ وہ کڑیاں کھینچ رہے ہیں دانت سے پکڑ کر، زور لگا رہے ہیں، نہیں نکل رہی، بہت زور لگایا، یہاں تک کہ ان کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا بھئی۔ اتنی تکلیف ہوئی ہو گی بھئی، صحیح سلامت دانت کا ٹوٹنا۔ لیکن پھر بھی پیچھے نہیں ہٹے کہ کوئی اور نکالے۔ پھر دوسرے دانت سے کوشش شروع کر دی، یہاں تک کہ دوسرا بھی ٹوٹ گیا بھئی۔ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹے، پھر کوشش کی، یہاں تک کہ بالآخر وہ کڑیاں حضور علیہ السلام کے سر سے نکال دیں۔ عجیب لوگ تھے صحابہ بھئی۔ تو دونوں سامنے کے دانت ٹوٹ گئے بھئی۔ دونوں سامنے کے دانت۔ اور آپ جانتے ہیں کہ سامنے کے دو دانت نہ ہوں انسان کا سارا حسن خراب ہو جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ سارا حسن ختم ہو جاتا ہے اور سارا حسن ختم ہو جاتا ہے۔ اور چہرہ بڑا برا محسوس ہوتا ہے بھئی۔ لیکن عجیب بات تھی مولانا کہ دانت سامنے کے ٹوٹے تو اللہ تعالی نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ، یہ دانت ویسے نہیں ٹوٹے تھے بھئی، پیغمبر کی خاطر ٹوٹے تھے۔ اللہ نے ان دانتوں کی وجہ سے اتنا حسن عطا فرما دیا، خصوصاً جب وہ ہنسا کرتے تھے، تو اتنے حسین معلوم ہوتے تھے کہ بیان سے باہر ہے۔ جب وہ ہنستے تھے، صحابہ کو دیکھتے تھے ان کی طرف، ان کے حسن کی وجہ سے اتنے حسین معلوم ہوا کرتے تھے بھئی۔ اچھا بھئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچی غزوۂ احد میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے اجازت طلب فرمائی ان کفار کے لیے بد دعا کرنے کی۔ تو یہ آیات اتریں: ”ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم“۔ کہ اے پیغمبر! نہیں ہے آپ کو ”من الأمر شيء“ اس معاملے میں کچھ بھی، یعنی کچھ بھی اختیار نہیں۔ اے پیغمبر! آپ کو اس معاملے میں کچھ بھی اختیار نہیں ”أو يتوب عليهم“ یعنی ”حتى يتوب عليهم“ یہاں تک کہ اللہ ان پر رجوع فرما لیں، یعنی ان کی توبہ قبول کر لیں ”أو يعذبهم“ یا اللہ ان کو کیا دے دیں؟ عذاب دے دیں، عذاب دے دیں۔ ”قيل معناه حتى يتوب عليهم“ یہ ”أو يتوب عليهم“ کا کیا معنیٰ ہے؟ ”حتى يتوب عليهم“۔ تو یہاں دیکھو ”أو“ بمعنی ”حتى“ کے آیا۔ اور ”أو“ بمعنی یہ اس کا مجازی معنیٰ ہے۔ اے پیغمبر! آپ کا اس معاملے میں کوئی دخل نہیں ہے، یہاں تک کہ اللہ ان کو توبہ کی توفیق، ان پر رجوع فرما لیں، ان کو توبہ کی توفیق۔ تو یہ ”أو“ کا مجازی معنیٰ ہے اور مجازی معنیٰ کے لیے کیا چاہیے؟ دو شرطیں ہیں۔ حقیقی معنیٰ، ہاں محل مجازی معنیٰ کا احتمال رکھتا ہو اور یہاں مجازی معنیٰ کیا ہم نے بھئی، درست بنتا ہے بھئی۔ دوسرا، تعجین مجاز اور ترکِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی قائم ہو اور یہاں دلیل ہے، اس لیے کہ یہاں عطف درست نہیں بنتا بھئی۔ یہاں عطف درست نہیں، اس لیے کہ ”يتوب“ کا عطف یا تو ”ليس“ پر ہو سکتا ہے یا ”شيء“ پر ہو سکتا ہے۔ ”ليس“ پر عطف درست نہیں، اس لیے کہ ”ليس“ ہے ماضی اور ”يتوب“ کیا ہے؟ مضارع۔ اور مضارع کا عطف ماضی پر صحیح نہیں۔ ”شيء“ پر بھی نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ”شيء“ ہے اسم اور ”يتوب“ کیا ہے؟ فعل۔ اور فعل کا عطف فعل پر ہو سکتا ہے اسم پر نہیں۔ تو یہی دلیل ہے تعجین مجازی کے لیے، ہاں حقیقی معنیٰ ممکن نہیں بھئی۔ ”قال أصحابنا“ ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: ”لو قال“ اگر کسی شخص نے کہا: ”لا أدخل هذه الدار أو أدخل هذه الدار“ ”يكون أو بمعنى حتى“ تو ”أو“ کس معنیٰ میں ہو گا؟ ”حتى“ کے معنیٰ میں۔ کسی نے کہا: ”لا أدخل هذه الدار“ میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا ”أو أدخل“ یعنی ”حتى أدخل هذه الدار“ یہاں تک کہ میں اس گھر میں داخل ہو جاؤں، دوسرے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ پہلے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ اس گھر میں داخل ہو جاؤں، دوسرے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تو یہاں ”أو“ کس معنیٰ میں آیا؟ ”حتى“ کے معنیٰ میں۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہاں پر ”حتى“ کا معنیٰ، تو دو شرطیں دیکھو، دونوں شرطیں پوری ہیں؟ پہلی شرط کیا تھی؟ مجازی معنی کا احتمال رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ معنی کیا میں نے، صحیح ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ معنی صحیح ہوا۔ دوسرا بھئی، ترکِ حقیقت، تعتینِ مجاز پر کوئی دلیل بھی ہو۔ وجہ یہ، کہ یہاں پر عطف صحیح نہیں۔ جب عطف صحیح نہیں تو حقیقی معنی معلوم ہوا، متعذر ہوا، تو کون سا معنی لیں گے؟ مجاز۔ عطف اس لیے نہیں صحیح، کہ لا ادخل ما قبل میں ہے فعلِ منفی۔ سمجھ میں آیا؟ کلامِ منفی ہے اور ما بعد میں کیا ہے؟ کلامِ مثبت۔ اور کلامِ مثبت کا عطف کلامِ منفی پر نہیں ہوگا۔ تو میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا یہاں تک کہ میں اس فلاں دوسرے گھر میں داخل ہو جاؤں، یکون او بمعنی حتیٰ، او حتیٰ کے معنی میں داخل... او کے معنی میں ہوگا۔ حتى لو دخل الأولى أولا حنث، یہاں تک کہ اگر وہ پہلے گھر میں داخل ہو گیا پہلے، حنث، تو کیا ہو جائے گا؟ اس نے تو کہا تھا: میں اس پہلے گھر میں داخل نہیں ہوں گا جب تک اس دوسرے گھر میں داخل... تو اگر یہ پہلے کس میں چلا گیا؟ پہلے گھر میں، تو اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حانث۔ ولو دخل الثانية أولا بر في يمينه، اور اگر وہ ثانی گھر میں پہلے داخل ہو گیا، بر في يمينه، تو سچا ہو گیا فی یمینہ اپنی قسم میں بھئی، یعنی اس نے اپنی قسم پوری کر لی۔ بر سچائی کو کہتے ہیں مولانا، نیکی کو بھی کہتے ہیں اور سچائی کو بھی۔ بر في يمينه، بر في يمينه کا معنی ہے قسم میں سچا ہوا۔ بر في يمينه، قسم میں سچا ہوا، یعنی قسم پوری کی، قسم پوری کی۔ وبمثله، اور اسی کے مثل ہے: لو قال لا أفارقك أو تقضي ديني، میں تجھ سے جدا نہیں ہوں گا، او بمعنی حتیٰ کے ہے، میں تجھ سے جدا نہیں ہوں گا حتیٰ تقضي ديني، یہاں تک کہ تو میرا قرضہ ادا کر دے۔ یہاں تک کہ تو میرا قرضہ ادا... یہاں بھی او بمعنی حتیٰ کے ہے مولانا۔ کیوں؟ یہ پہلا... دونوں شرطیں بھئی، مجازی معنی کے لیے دو شرطیں، وہ پوری ہونی چاہیں۔ محل کیا ہے؟ مجازی معنی کا مجازی معنی میں نے کیا بھئی، میں تم سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ تم مجھے میرا قرضہ... تو مجازی معنی صحیح۔ دوسرا کیا ہے؟ تعتینِ مجاز اور ترکِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی... ترکِ حقیقت پر یہ دلیل قائم ہے مولانا، کہ یہاں او آ رہا ہے اور او کا ما بعد کیا ہے؟ کلامِ مثبت، اور ما قبل میں کیا ہے؟ کلامِ منفی۔ اور کلامِ مثبت کا عطف کلامِ منفی پر صحیح نہیں۔ اور تو یہی دلیل ہوئی ترکِ حقیقت اور تعتینِ مجاز کی بھئی۔ يكون بمعني حتى تقضي ديني، تو یہ کس معنی میں ہوگا؟ حتى تقضي، یہاں تک کہ تو میرا دین... دین ادا کر دے۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 77 of 123