فصل، لیکن للاستدراک بعد النفی فیکون موجبہ إثبات ما بعدہ، فاما نفی ما قبلہ فثابت بدلیلہ، والعطف بہذہ الکلمۃ إنما یتحقق عند اتساق الکلام، فإن کان الکلام متسقا یتعلق النفی بالإثبات الذی بعدہ وإلا فہو مستانف۔
حروف معانی میں سے پانچواں حرف جس کی بحث کریں گے اج مصنف، وہ ”لیکن“ ہے بھئی۔ وہ کیا ہے؟ ”لیکن“ بھئی۔
یاد رکھو! ”لیکن“ استدراک کے لیے آیا کرتا ہے بھئی۔ استدراک آپ پڑھ چکے ہیں علم نحو کے اندر۔ استدراک کسے کہتے ہیں؟ کہ ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہونے کا احتمال تھا، اس وہم کو دور کرنا۔ ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو یا وہم پیدا ہونے کا احتمال ہو، اس وہم کو دور کرنا یہ استدراک کہلاتا ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ ماقبل کلام سے کیا تھا؟ ایک وہم پیدا ہو رہا تھا یا ایک وہم پیدا ہونے کا احتمال تھا، ”لیکن“ کے ذریعے آپ اس احتمال کو دور کرتے ہیں بھئی۔ یہ استدراک کہلاتا ہے۔
مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ دیکھو بھئی! زید اور عمر گہرے دوست ہیں۔ زید اور عمر گہرے دوست ہیں۔ تو میں نے آپ کو بتلایا کہ زید میرے پاس نہیں آیا: ”ما جاءنی زید“۔ یا میں کہتا ہوں زید میرے پاس آیا: ”جاءنی زید“۔ تو اس کلام سے فوراً وہم پیدا ہوا کہ زید جب آیا ہے تو عمر تو اس کا بڑا گہرا دوست ہے، ہمیشہ اس کے ساتھ ہی رہتا ہے، یقیناً وہ بھی آیا ہوگا۔ تو میں اس وہم کو دور کرتا ہوں: ”ولکن عمر لم یجئ“۔ ”جاءنی زید ولکن عمر لم یجئ“۔ مگر عمر نہیں آیا۔ تو دیکھو ماقبل کلام سے کس چیز کا وہم پیدا ہو رہا تھا کہ مجیئتِ زید کے ساتھ ساتھ مجیئتِ عمر بھی ہوگی، لیکن میں نے ”لیکن“ کے ذریعے کیا کر دیا اس وہم کو دور کر دیا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استدراک کہلاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اب یہ ”لیکن“ تو یہ حرف عطف ہے اور اس کے ذریعے جملے کا عطف جملے پر بھی ہو سکتا ہے اور مفرد کا عطف مفرد پر بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جملے کے عطف کے لیے بھی یہ آ سکتا ہے، مفرد کے عطف کے لیے بھی آ سکتا ہے۔
جب یہ جملے کے عطف کے لیے آئے گا تو اس سے ماقبل کے جملے میں اور مابعد کے جملے میں تخالف ضروری ہے۔ یعنی ایک مثبت ہو تو دوسرے کو منفی ہونا چاہیے بھئی۔ ایک مثبت ہو تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ منفی ہونا چاہیے، جب جملے کا عطف جملے پر کیا جائے اس کے ذریعے بھئی۔ تو اس صورت میں دونوں جملوں میں کیا ہونا ضروری؟ تخالف کا ہونا ضروری، یعنی ایک جملہ مثبت ہو تو دوسرا جملہ کیا ہونا چاہیے؟ مثلاً اگر ماقبل میں کلامِ مثبت ہے تو مابعد کیا ہونا چاہیے کلامِ منفی۔ دیکھا! ابھی میں نے آپ کے سامنے کہا تھا: ”جاءنی زید ولکن عمر لم یجئ“۔ تو دیکھا! ماقبل میں ہے مجیئتِ زید کا ذکر اور مابعد میں ہے عمر کی عدمِ مجیئت کا ذکر ہے، تو دونوں میں کیا آ گیا؟ تخالف آ گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اگر ماقبل میں منفی ہے تو مابعد میں کیا ہونا چاہیے؟ مثبت ہونا چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو معنیٰ کے اعتبار سے ان میں تخالف ضروری ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک میں حرف نفی ہو، دوسرے میں حرف نفی نہ ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ”زید حاضر ولکن عمر غائب“۔ زید کیا ہے؟ حاضر ہے اور عمر کیا ہے؟ غائب ہے۔ تو دیکھو منفی تو دونوں میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ اس ایک کے لیے حاضر ہونے کا ثبوت ہے تو دوسرے کے لیے غائب ہونے کا ثبوت ہے۔ تو ہیں تو دونوں مثبت، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے ان میں پھر بھی تخالف ہے آپ دیکھیں بھئی، ایک میں زید کا حاضر ہونا ہے تو دوسرے میں عمر کا حاضر نہ ہونا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لفظوں میں مثبت اور منفی ہونا ضروری نہیں، البتہ معنیٰ کے اعتبار سے ان میں تخالف کا ہونا ضروری ہے۔
یہ کس میں بھئی؟ جب کہ جملے کا عطف کس پر ہو؟ تو ماقبل میں مثبت جملہ بھی آ سکتا ہے اور منفی بھی، لیکن جو بھی ماقبل میں آئے گا، مابعد والا اس کے مخالف ہونا ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور ”لیکن“ جب مفرد کے اس کے ذریعے مفرد کا عطف مفرد پر کیا جائے تو پھر بھی ماقبل اور مابعد میں تخالف کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی ماقبل کے لیے اگر معطوف علیہ کے لیے اس سے حکم کی کا سلب ہے تو معطوف کے لیے حکم کا کیا ہونا چاہیے؟ اثبات۔ لیکن اس صورت میں ماقبل میں نفی کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ جملے کے جب جملے کا عطف جملے پر ہو پھر ماقبل والا جملہ منفی بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی، ہاں مابعد والا پھر اس کے مخالف بن جائے گا۔ اگر پہلے مثبت ہے تو بعد میں کیا آ جائے گا؟ منفی اور اگر پہلے منفی ہے تو بعد والے میں مثبت۔ لیکن جب مفرد کا عطف مفرد پر کیا جائے تو ماقبل میں نفی کا ہونا ضروری ہے، سمجھ میں آیا؟ مثلاً مفرد کا عطف میں مفرد پر کرتا ہوں، کیسے؟ ”ما جاءنی“ نفی پہلے لانا ضروری ہے، ”ما جاءنی زید ولکن عمر“، ”ما جاءنی زید ولکن عمر“۔ تو زید سے کیا ہوئی مجیئت کی نفی ہوئی تو عمر کے لیے کیا ہوا مجیئت کا اثبات ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دوسرا، ایک تو یہ بات تھی، پہلی بات تھی ”لیکن“ استدراک کے لیے آتا ہے۔ ثانی: اس کے ذریعے مفرد کا عطف مفرد پر بھی ہو سکتا ہے اور جملے کا عطف جملے پر بھی، لیکن مفرد پر مفرد کا جب عطف ہو تو ماقبل میں نفی کا ہونا ضروری۔
تیسری بات یہ کہ ”لیکن“ جو ہے ایک مخففہ ہے، ایک مشددہ۔ ”لیکن“ دیکھو شد نہیں آ رہا، ایک ہے ”لیکنّ“ شد کے ساتھ، مشددہ ہے مولانا۔ تو ”لیکن“ دو قسم پر ہے: ایک مخففہ اور ایک مشددہ۔ یہ جو مخففہ ہے، یہ ہے حرفِ عطف اور یہ جو مشددہ ہے، یہ حروفِ مشبہ بالفعل میں سے ہے بھئی۔ إن، أن، كأن، ليت، لیکنّ، یہ ہے ”لیکنّ“ بھئی، ”لیکنّ“، ”لعل“۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو ”لیکن“ مخففہ ہے، یہ حرفِ عطف ہے، جب کہ ”لیکن“ مشددہ جو ہے، وہ کیا ہے؟ حروفِ مشبہ بالفعل۔
اور اس وقت مصنف ذکر کر رہے ہیں حروفِ عاطفہ کا، سب سے پہلے واؤ کو ذکر کیا، پھر فا کو، پھر ثم کو، پھر اس کے بعد بل کو۔ تو حروفِ عاطفہ کی بحث کر رہے ہیں فی الحال حروفِ معانی میں سے، لیکن یہاں پر وہ ”لیکن“ کے ساتھ ”لیکنّ“ کو بھی ذکر کر دیں گے، اگرچہ وہ حروفِ عاطفہ میں سے نہیں، وہ حروفِ مشبہ بالفعل ہے۔ لیکن علمائے اصول مولانا اور کتابوں میں بھی آپ دیکھیں گے کہ ”لیکن“ کے ساتھ ساتھ کس کو ذکر کر دیتے ہیں ساتھ؟ ”لیکنّ“ کو بھی ساتھ ذکر کر دیا جاتا ہے۔ تو جہاں پر ”لیکن“ کی بحث کرتے ہیں، وہاں کس کو ذکر کر دیتے ہیں؟ ”لیکنّ“ کو بھی ذکر کر دیتے ہیں، اگرچہ وہ حرفِ عطف نہیں، وہ تو حرفِ مشبہ بالفعل ہے، کیوں ”لیکن“ کے ساتھ اس کو ذکر کرتے ہیں؟ اس لیے کہ دونوں استدراک کے لیے آتے ہیں۔ جیسے ”لیکن“ استدراک کے لیے آتا ہے، ”لیکنّ“ بھی کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے۔ تو چونکہ دونوں ایک ہی معنیٰ کا فائدہ دیتے ہیں اس لیے ”لیکن“ کے ساتھ ساتھ کس کو ذکر کر دیتے ہیں؟ ”لیکنّ“ کو ذکر کر دیا کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
دیکھیے! پہلے تھوڑی عبارت دیکھ لیجیے۔ کتاب میں دیکھیے: ”فصل، لیکن للاستدراک“، ”لیکن“ کس لیے آتا ہے؟ استدراک کے لیے آتا ہے۔ ”بعد النفی“، کس کے بعد؟ تو ”لٰکِنْ“ بھی پڑھ سکتے ہیں اس کو، ”لٰکِنَّ“ بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ ”لٰکِنْ“ کے ساتھ کس کو ذکر کریں گے؟ ”لٰکِنَّ“۔ تو یوں پڑھ لیں: ”لیکن للاستدراک“ یا ”لیکنّ للاستدراک بعد النفی“۔ کس کے بعد آئے گا؟ نفی کے بعد، یہ کس کے اندر ایسا ہوگا؟ مفرد کا عطف جب مفرد پر کیا جائے بھئی۔ ”فیکون موجبہ“، پس اس کا موجب کیا ہوگا؟ اس کا مقتضا کیا ہوگا بھئی؟ ”إثبات ما بعدہ“، مابعد کے لیے کیا کرے گا؟ اثبات کر دے گا حکم کا۔ دیکھا! میں نے کہا: ”ما جاءنی زید ولکن عمر“، تو عمر کے لیے میں نے کیا کر دی؟ مجیئت ثابت کر دی، تو مابعد کے لیے اثبات کر دے گا۔ ”فاما نفی ما قبلہ فثابت بدلیلہ“، باقی ماقبل کی جو نفی ہے ”فثابت بدلیلہ“، بھئی زید کے لیے کیا حکم ہے؟ عمر کے لیے تو مجیئت کیا ہو گئی؟ ثابت ہو گئی اور زید زید سے مجیئت کی نفی ہو گئی، لیکن یہ نفی ”لیکن“ نے نہیں کی مولانا، یہ تو اپنی دلیل کے ساتھ نفی ثابت ہوئی ہے بھئی اور وہ دلیل کیا ہے؟ ماقبل میں حرفِ نفی جو اس کے ساتھ آ رہا ہے۔ زید سے پہلے کیا آ رہا ہے مولانا؟ حرفِ نفی، تو یہ زید سے جو مجیئت کی نسبت کی یہ کس نے کی؟ ”لیکن“ نے کی یا وہ حرفِ ”ما“ نے کی بھئی؟ حرفِ ”ما“ نے کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ”لیکن“ صرف مابعد کا اثبات کرتا ہے باقی ماقبل کی جو نفی ہوتی ہے وہ اپنی دلیل کے ساتھ ثابت ہوتی ہے یعنی اس حرفِ نفی کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: ”فیکون موجبہ إثبات ما بعدہ فاما نفی ما قبلہ فثابت بدلیلہ“، اس کا مقتضا مابعد کا اثبات ہے باقی ماقبل کی جو نفی ہے تو وہ تو ثابت ہے اپنی دلیل کے ساتھ بھئی اور وہ کیا ہے؟ اداتِ نفی کا داخل ہونا اس پر بھئی۔
بھئی اس کے ذریعے دراصل مصنف فرق بتلانا چاہتے ہیں ”لیکن“ اور ”بل“ کے درمیان بھئی۔ بھئی ”بل“ کے اندر آپ نے کیا پڑھا تھا بھئی؟ بھئی ”بل“ کے، ”بل“ بھی حروفِ عاطفہ میں سے ہے، لیکن اس کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ ”بل“ سے ماقبل نفی بھی آ سکتی ہے اور اثبات بھی آ سکتا ہے۔ میں نے کہا: ”جاءنی زید بل عمر“، میں کہنا ”عمر“ چاہتا تھا، غلطی سے کیا کہہ بیٹھا؟ ”جاءنی زید“ کہہ بیٹھا، میں نے فوراً اس غلطی کا تدارک کیا ”بل“ کے ذریعے اور کیا کہا؟ ”بل عمر“۔ کیا معنیٰ ہوا؟ عمر آیا ہے، کیا معنیٰ ہوا کلام کا؟ دیکھو مثبت کلام ہے: ”جاءنی زید بل عمر“، یہ ”بل“ نے مجیئت کو زید سے پھیر کر کس کے لیے ثابت کر دیا؟ عمر کے لیے ثابت کر دیا اور زید کا کیا حکم ہے؟ جی؟ مسکوت عنہ کے حکم میں میں نے بتلایا تھا، بھئی اس کے بارے میں سکوت ہے، نہ اس کے لیے مجیئت ثابت ہے اور نہ عدمِ مجیئت ثابت ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا ماقبل وہ کلامِ مثبت میں بات کر رہا ہوں: ”جاءنی زید بل عمر“، کیا معنیٰ ہوا اس کلام کا کہ عمر میرے پاس آیا ہے اور زید کا کیا حکم ہے وہ آیا کہ نہیں آیا؟ مسکوت عنہ ہے، نہ اس کے لیے مجیئت کا اثبات ہے اور نہ عدمِ مجیئت کا۔ اسی طرح کلامِ منفی کے بعد بھی ”بل“ آ سکتا ہے: ”ما جاءنی زید بل عمر“، جمہور کے نزدیک اس کلام کا کیا معنیٰ ہے؟ کہ عمر میرے پاس آیا ہے۔ کیا معنیٰ ہے؟ عمر میرے پاس آیا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ چاہے ماقبل میں مثبت ہو، چاہے ماقبل میں منفی کلام ہو، دونوں صورتوں میں ”بل“ مابعد کے لیے کیا ثابت کرتا ہے؟ مابعد کے لیے حکم کا اثبات کرتا ہے۔ ”جاءنی زید بل عمر“، اس کلام کا بھی کیا معنیٰ؟ عمر آیا ہے۔ ”ما جاءنی زید بل عمر“، اس کا بھی کیا معنیٰ ہے؟ عمر آیا ہے۔ تو ”بل“ نے کلامِ منفی میں جب میں نے کہا: ”ما جاءنی زید بل عمر“، تو زید کے لیے کیا ثابت تھی؟ عدمِ مجیئت، کیا ثابت ہو رہی تھی؟ عدمِ مجیئت، لیکن ”بل“ نے اس عدمِ مجیئت کو بھی بدل دیا کس سے؟ مجیئت سے اور پھر اس کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ عمر کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جمہور کے نزدیک ”بل“ کے اندر ماقبل میں چاہے کلامِ مثبت ہو، ماقبل میں چاہے کلامِ منفی ہو، دونوں صورتوں میں مابعد کے لیے کیا ثابت ہوگا؟ حکم کا اثبات ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور دونوں صورتوں میں ماقبل جو ہے مسکوت عنہ ہوگا۔ کلامِ مثبت میں بھی زید مسکوت عنہ کے حکم میں تھا اور کلامِ منفی میں بھی زید کس کے حکم میں ہے؟ نہ اس کے لیے مجیئت ثابت ہے اور نہ عدمِ مجیئت۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو فرق دو فرق آ گئے بھئی ”لیکن“ کے ساتھ ”بل“ کے: کہ ”بل“ کلامِ مثبت کے بعد بھی آ سکتا ہے اور کلامِ منفی کے بعد بھی آ سکتا ہے، لیکن یہ کس کے بعد؟ ”بعد النفی“ بتلایا تھا: ”لیکن للاستدراک بعد النفی“، ”لیکن“ صرف کس کے بعد آئے گا؟ نفی کے بعد آئے گا، ایک تو یہ فرق ہوا! دوسرا: جیسے ”بل“ مابعد کے لیے اثبات کرتا ہے، ”لیکن“ بھی اثبات کرے گا، لیکن ماقبل کا حکم ”بل“ میں کیا تھا؟ وہ مسکوت عنہ تھا، لیکن ”لیکن“ کے اندر ماقبل منفی ہوگا بھئی۔ ”لیکن“ کے اندر ماقبل کیا ہوگا؟ منفی ہوگا، میں نے کہا: ”ما جاءنی زید ولکن عمر“، عمر کے لیے تو کیا ہو گیا؟ مجیئت کا اثبات اور عمر سے مجیئت کی نفی اور حالانکہ ”بل“ کے اندر کیا تھا؟ وہ مسکوت عنہ تھا، تو یہ فرق ہے بھئی دونوں میں۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ جمہور کے نزدیک ہے ”بل“ کے اندر، ورنہ ”بل“ کے اندر دو مذاہب اور بھی ہیں مولانا مشہور: ایک علامہ ابن حاجب صاحبِ کافیہ کا ہے اور ایک امام مبغض کا ہے، لیکن میں نے جمہور کا مذہب ذکر کر دیا، یہ کافی ہے آپ کے لیے، یہ یاد رکھیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیا فرق ہوئے دو؟ کہ ”لیکن“ صرف کس کے بعد آئے گا؟ اور ”بل“ دونوں کے بعد آ سکتا ہے، نفی کے بعد بھی اور نیز ”بل“ سے ماقبل جو ہوگا وہ مسکوت عنہ کے حکم میں ہوگا، جب کہ ”لیکن“ کا ماقبل اس سے حکم کی نفی ہوگی اور یہ نفی ”لیکن“ کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس اداتِ نفی کی وجہ سے ہوگی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لیکن للاستدراک بعد النفی“، نفی کے بعد استدراک کے لیے آئے گا، ”فیکون موجبہ إثبات ما بعدہ“، تو اس کا مقتضا جو ہے مابعد کا اثبات ہے یعنی اس کا حکم جو کیا ہے مابعد کا اثبات ہے، ”فاما نفی ما قبلہ فثابت بدلیلہ“، باقی ماقبل کی جو نفی ہے وہ تو ثابت ہے اپنی دلیل کے ساتھ بھئی، ”والعطف بہذہ الکلمۃ إنما یتحقق عند اتساق الکلام“، اور عطف اس کلمہ کے ساتھ یعنی ”لیکن“ کے ساتھ عطف ثابت ہوگا ”إنما یتحقق“، یہ ثابت ہوگا ”عند اتساق الکلام“، اتساقِ کلام ہی کے وقت میں بھئی، جب کلام میں کیا پایا جائے؟ بھئی یاد رکھو! یہ یہ عطف کے لیے ہے بھئی، کس کی بحث چل رہی ہے؟ حروفِ عاطفہ کی، تو ”لیکن“ کے ذریعے عطف کب ہوگا؟ جب کہ ماقبل کلام کے ساتھ جب کلام میں اتساق پایا جائے۔ کیا پایا جائے؟ اتساق کا معنیٰ ہے ارتباط بھئی، کیا معنیٰ ہے؟ ارتباط پایا جائے، ماقبل اور مابعد کلام میں ربط پایا جائے بھئی، ارتباط ہو، ربط ہو بھئی، ربط ہو، تو پھر یہ حرفِ عطف بنے گا بھئی، حرفِ عطف کا فائدہ دے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یہ استیناف کے لیے ہوگا۔
اگر کلام میں ارتباط نہ ہوا مابعد اور ماقبل کے اندر تو پھر پھر کس کے لیے ہوگا؟ اور اگر اتفاق اور ارتباط ہو تو پھر کس کے لیے ہوگا؟ عطف کے لیے ہوگا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اور یہ اتفاق اتفاق ارتباط اتفاق کا کیا معنی میں نے کیا؟ ارتباط بھئی سمجھ میں آیا؟ ربط ہو دونوں میں۔ یاد رکھو اتفاق کے لیے ارتباط کے لیے دو شرطیں ہیں مولانا کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں ہیں۔
پہلی شرط یہ کہ ماقبل اور مابعد میں اتصال ہو انفصال نہ ہو۔ ماقبل بھئی کلام میں اتصال ہو بھئی انفصال نہ ہو۔
شرط ثانی محل اثبات محل نفی سے غیر ہو۔ شرط ثانی محل اثبات جلدی لکھو بھئی محل اثبات محل نفی سے غیر ہو۔ اس اتفاق کے کلام ربط آئے گا اس کے لیے کتنی شرطیں ہیں مولانا؟ دو شرطیں پہلی کیا شرط ہے؟ کہ کلام میں اتصال ہو انفصال نہ ہو اور دوسری شرط کیا ہے؟ محل اثبات محل نفی سے غیر ہو۔
بھئی کلام میں اتصال پہلی شرط کیا ہے؟ کلام میں اتصال اتصال کا معنی ہے بھئی جڑا ہوا ہو درمیان میں فصل نہ آئے میں کہتا ہوں ما جاءنی زید پھر تھوڑی دیر خاموش رہتا ہوں پھر کہتا ہوں ولكن عمرو جی تو یہ اتصال ہے کلام کے اندر بھئی؟ نہیں بلکہ درمیان میں کیا آگیا؟ فصل آگیا انفصال آگیا صورت سمجھ میں آئی؟ تو پہلی شرط مفقود ہوئی بھئی اس صورت میں پھر یہ کس کے لیے بن جائے گا؟ استئناف کے لیے بنے گا۔
اچھا دوسری شرط کیا ہے؟ محل اثبات محل نفی سے غیر ہو یعنی ماقبل میں جس سے جس کے لیے حکم کا اثبات ہو رہا ہے ثانی میں اسی سے نفی نہ ہو ایک ہی محل کے لیے اثبات بھی ہو مثلاً میں کہتا ہوں جاءنی زید ولكن زید لم یجئ جی جاءنی زید آیا میرے پاس زید ولكن زید لم یجئ تو بھئی اسی زید سے میں کیا کر رہا ہوں؟ مجیئت کی نفی مجیئت کے اثبات کر رہا ہوں پہلے اور پھر اسی زید سے کیا کر رہا ہوں اس کے لیے مجیئت کا اس سے مجیئت کی نفی کر رہا ہوں تو محل ایک ہی رہا محل اثبات بھی وہی محل نفی بھی وہی صورت تو پھر یہ عطف کے لیے نہیں ہوگا ورنہ تو تناقض لازم آئے گا کلام کے اندر ایک ہی چیز کا اثبات بھی ہو اور اسی کی نفی بھی ہو ایسا ہو سکتا ہے؟ ایسا لہذا اس صورت میں یہ عطف کے لیے نہیں آئے گا بلکہ کس لیے ہو جائے گا؟ استئناف کے لیے ہو جائے گا بھئی کہ نئی بات شروع کر دی کیا کر دی؟ ماقبل سے کا کوئی تعلق نہیں بھئی
تو کتنی شرطیں ہوئیں اتفاق کے لیے؟ دو اول کیا ہے؟ اتصال ہو ثانی کیا ہے؟ غیر ہو ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی اگر ایک ہوا؟ تناقض لازم آئے گا سمجھ میں آیا بھئی؟
کہتے ہیں والعطف بہذہ الكلمۃ إنما يتحقق عند اتساق الكلام عطف اس کلمہ کے ساتھ وہ اتساق کلام ہی کے وقت متحقق ہوگا اسی وقت پایا جائے گا فإن كان الكلام متسقاً اگر کلام متسق مرتبط ہوا يتعلق النفی يتعلق النفي بالثبات الذي بعدہ تو وہ نفی جو متعلق ہو جائے گی اس اثبات کے ساتھ الذی بعدہ جو اس کے بعد ہے یعنی عطف آ جائے گا تعلق ہو جائے گا درمیان میں صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو نفی کا تعلق کس کے ساتھ آ جائے گا بھئی؟ ماقبل میں نفی اور مابعد میں اس تو دونوں میں ربط آ جائے گا صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ربط آ جائے گا تو یہ عطف کے لیے ہوگا عطف سے ربط آ جایا کرتا ہے اور استئناف میں تو کیا ہوتا ہے ربط باقی ہی نہیں الگ بات شروع ہو جاتی ہے
وإلا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کلام متسق نہ ہو فهو مستأنف تو ثانی کلام کیا ہوگا؟ مستأنف ہوگا مثالہ مثال اس کی ما وہ ہے ذکرہ محمد رحمہ اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ جو امام محمد رحمہ اللہ علیہ نے ذکر کی ہے فی الجامع جامع کبیر کے اندر اپنی کتاب جامع کبیر میں ذکر کی ہے کہ إذا قال جب کہا کسی شخص نے لفلان علي ألف قرض فلاں کے مجھ پر ایک ہزار قرض ہیں فقال فلان تو جس کے لیے اس نے اقرار کیا بھئی ایک مقر نے کیا کیا دوسرے کے لیے؟ کہ فلاں کے یعنی زید زید نے اقرار کیا عمرو کے لیے کہ عمرو کے میرے اوپر کتنے ہیں؟ ایک ہزار قرض ہیں تو عمرو کہتا ہے لا ولكنہ غصب نہیں مگر بلکہ وہ مگر وہ تو غصب کے ہیں اس نے کیا کہا ایک ہزار قرض کے ہیں اور اس نے کیا کہا نہیں قرض کے نہیں ہیں بلکہ کس کے ہیں؟ غصب کے ہیں
کہتے ہیں لزمہ المال تو اس مقر پر کیا ہو جائے گا؟ مال لازم ہو جائے گا لأن الكلام متسق اس لیے کہ کلام کیا ہے؟ متسق ہے مرتبط ہے بھئی مرتبط ہے بھئی دیکھو لا ولكنہ غصب دیکھو لا ولكنہ لا کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ جی انفصال ہے کلام میں یا اتصال ہے بھئی؟ اکٹھا کہہ رہا ہے یا درمیان میں فصل کر رہا ہے؟ اکٹھا کہہ رہا ہے تو کلام میں پہلی شرط پائی گئی اتصال آگیا دوسری شرط کیا تھی؟ محل نفی محل اثبات سے غیر ہو تو یہاں پر بھی ایسا نہیں ہے کہ ماقبل میں مال کی نفی ہے اور مابعد میں مال ہی کا اثبات ہے نہیں بھئی نہیں ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات نہیں بلکہ ماقبل میں اس مال کی نفی ہے جو بطور قرض کے ہے اور مابعد میں اس مال کا اثبات ہے جو بطور غصب کے ہے یا یوں کہو ماقبل میں قرض کی نفی ہے اور مابعد میں غصب کا اثبات ہے یعنی اصل مال کی وہ نفی نہیں کر رہا کہ نہیں مال ہی نہیں ہے سرے سے زید نے میرا کوئی مال ہی نہیں دینا بلکہ وہ تو صرف کیا کر رہا ہے؟ زید نے کہا تھا قرض کے طور پر ایک ہزار ہیں اس نے اس قرض کے سبب اس سبب کی نفی کر دی اور نئے سبب کو کیا کر دیا؟ ثابت کر دیا صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں پر سرے سے اصل مال کی نفی نہیں کر رہا بلکہ کس میں اختلاف کر رہا ہے؟ سبب میں کس میں؟ تو محل اثبات محل نفی سے یہاں پر غیر ہے نفی کس کی کر رہا ہے؟ قرض کی اور اثبات کس چیز کا کر رہا ہے؟ غصب کا غصب کا
تو اب مولانا اگر زید نے کہا ہوتا کہ زید عمرو کے میرے ایک ہزار بطور قرض کے مجھ پر ہیں اور عمرو کیا کہہ دیتا تو زید پر کے پر اقرار کی وجہ سے کتنے لازم ہو گئے تھے؟ ایک ہزار لیکن اگر عمرو اس کو رد کر دیتا ہے اور کہتا ہے نہیں میرا کوئی نہیں مال کوئی مال اس پر واجب نہیں تو وہ مال اب عمرو پر کچھ بھی نہیں آئے گا بھئی کیونکہ جس کے لیے اس نے اقرار کیا تھا اس نے خود ہی اس مال کو کیا کر دیا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ زید نے اس کے لیے کتنے کا اقرار کیا؟ الگ صورت بناؤ اور عمرو نے اس کو رد کر دیا تو کیا اب زید پر مال لازم ہے؟ نہیں اقرار کی وجہ سے مال نے تو لازم ہونا تھا لیکن مقر لہ جس کے لیے وہ مال کو کیا کر رہا ہے؟ مال کا اقرار کر رہا ہے وہ خود ہی کہہ رہا ہے میرا مال اس پر کوئی نہیں تو اب زید پر مال بھی لازم نہ رہتا لیکن جو یہاں پر اس نے صورت ذکر کی لا ولكنہ غصب کیا یہاں وہ مال کی نفی کر رہا ہے؟ مال کی تو نفی ہی نہیں بلکہ کس چیز کی نفی کر رہا ہے؟ ایک سبب کی نفی کر رہا ہے کہ قرض کے طور پر وہ ہزار نہیں ہیں بلکہ کس طور پر ہیں؟ غصب کے طور پر اس نے قرض نہیں لیے بلکہ غصب کیے تھے بھئی
لہذا اس صورت میں مال کے اس کلام میں اتساق آیا بھئی اور کیا ہوا؟ کلام اتصال بھی ہے اور محل نفی کیا ہے؟ محل اثبات سے غیر ہے کیونکہ محل نفی ہے قرض اور محل اثبات ہے غصب تو لہذا کلام میں اتساق پایا گیا تو یہ عطف کا فائدہ دے گا اور زید پر کیا ہے؟ ایک ہزار ہی کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہیں جو پہلے لازم تھے وہ ہی لازم رہیں گے اس پر اور لازم رہیں گے بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو یہاں پر اصل مقصود ہے مال بھئی یہ اقرار کے ذریعے کیا ثابت ہو رہا ہے زید پر؟ مال تو اصل مقصود میں تو اختلاف نہیں ہے اصل مقصود میں تو دونوں کا اتفاق ہے زید نے بھی کتنے کا اقرار کیا ہے؟ ہزار کا عمرو بھی کتنے اس پر ثابت کر رہا ہے؟ ہزار ہاں سبب کے اندر اختلاف آیا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا سمجھ میں آیا؟ اصل مقصود میں کے اندر جب اختلاف اتفاق ہو اصل مقصود میں جب اتفاق ہو تو سبب میں اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ سبب میں اختلاف کا کوئی اعتبار کب؟ جبکہ اصل مقصود میں اتفاق ہو اصل مقصود میں اتفاق ہو تو سبب میں اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں لہذا وہ صرف سبب میں اختلاف کر رہا ہے اس سے کوئی حرج نہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اصل مقصود اسی طرح رہے گا بھئی
لأن الكلام متسق اس لیے کہ کلام متسق ہے فظهر پس یہ بات ظاہر ہو گئی أن النفي كان في السبب دون نفس المال کہ نفی جو ہے وہ سبب کے اندر ہے نہ کہ نفس بھئی ولكن سے پہلے اس نے صرف لا کہا تھا کیا کہا تھا؟ لا کہا تھا تو لا کا اگر ہم الگ کر دیں ولكن سے تو اس یہاں سے تو سیدھے سے مال کی نفی ہو جائے گی بھئی صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اگر اس زید نے کہا میں نے عمرو کے ایک ہزار بطور قرض کے مجھ پر ہیں ایک ہزار میں نے دینے ہیں عمرو کے عمرو کہہ دیتا ہے لا تو مال کیا ہو جاتا زید پر سے؟ ساقط ہو جاتا لیکن یہاں پر وہ ولكن کہہ رہا ہے ساتھ اور کلام متسق ہے ارتباط ہے کلام کے اندر بھئی اتصال بھی آ رہا ہے اور محل اثبات محل نفی سے غیر بھی ہے تو اب مولانا لا کے ذریعے معلوم ہوا یہ نفس مال کی نفی نہیں کر رہا بلکہ کس کی نفی کر رہا ہے؟ ایک سبب کی نفی کر رہا ہے اور دوسرے سبب کو صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ فظهر أن النفي كان في السبب دون نفس المال پس ظاہر ہوا کہ نفی سبب کے اندر تھی نہ کہ نفس مال میں
وكذلك لو قال لفلان علي ألف من ثمن هذه الجارية اگر کسی نے کہا فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں من ثمن هذه الجارية اس باندی کے ثمن میں سے اس باندی کے ثمن میں سے فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ یعنی یہ باندی میں نے اس سے خریدی ہے اور اس کے ثمن میں سے کتنے میں نے اس کو ادا کرنے ہیں؟ ایک ہزار ادا کرنے ہیں فقال فلان تو وہ فلاں جس کے لیے اس نے ایک ہزار کا اقرار کر رہا ہے وہ کہتا ہے لا الجارية جاريتك نہیں باندی تو تمہاری باندی ہے ولكن لي عليك ألف لیکن میرے تجھ پر ایک ہزار ہیں اس نے اقرار کیا کیا تھا؟ جی ایک ہزار کس چیز کے تھے؟ باندی کے ثمن میں سے اور وہ جو مقر لہ ہے وہ کیا جواب میں کہتا ہے؟ لا نہیں الجارية جاريتك باندی تو تمہاری ہی ہے ولكن لي عليك ألف لیکن میرے تم پر ایک ہزار ہیں کسی اور وجہ سے اس باندی کے ثمن میں سے نہیں ہیں کسی اور وجہ سے ہیں
اچھا تو يلزمہ المال تو اس مقر پر کیا ہو جائے گا؟ مال لازم ہو جائے گا فظهر یہ بات ظاہر ہو گئی أن النفي كان في السبب لا في أصل المال تو ظاہر ہوئی کہ نفی سبب کے اندر تھی اصل مال کے اندر نہیں سمجھ میں آیا؟ لا الجارية الجارية جاريتك کہا اور یہ لا جب کہہ دیا تو اس سے تو مقر پر مال آنا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن آگے ولكن کہ کر اس کے ساتھ اتصال ہے اور وہ اتساق اس کے بعد کیا آ رہی ہے؟ نفی اور نفی کس چیز کی کر رہا ہے؟ اختلاف کس چیز میں کر رہا ہے؟ سبب میں معلوم ہوا ماقبل میں اس نے جو لا کہا تھا اس لا کے ذریعے اس نے مال کی نفی نہیں کی تھی بلکہ اس کے ذریعے کس چیز کی نفی کی تھی؟ سبب کی نفی کی تھی کیونکہ کلام کے اندر کیا ہے؟ اتساق ہے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو ظاہر ہوا کہ نفی سبب کے اندر تھی نہ کہ اصل مال کے اندر ولو كان في يده عبد فقال هذا لفلان بھئی بھئی دیکھیے یہ صورت تین آدمی ہیں زید عمرو بكر زید عمرو اور بكر دیکھیے اگر ولو كان في يده عبد اگر اس شخص کے قبضے میں ایک غلام تھا مثلاً کون؟ زید کس کے قبضے میں غلام تھا؟ زید فقال تو اس نے صاحب قبضہ نے کہا هذا لفلان یہ فلاں کا ہے یعنی کس کا ہے؟ عمرو کا ہے کون کہہ رہا ہے یہ؟ زید کہہ رہا ہے فقال فلان فلاں نے کہا وہ کون بھئی؟ عمرو نے کہا ما كان لي قط یہ میرا کبھی بھی نہیں تھا یہ میرا کبھی بھی نہیں تھا قط آتا ہے مولانا استغراقِ ماضی کے لیے کس لیے؟ استغراقِ ماضی کے لیے یعنی پوری کبھی بھی نہیں تھا میرا ولكنہ لفلان آخر لیکن یہ تو کس کا ہے؟ جی بلکہ یہ تو فلاںِ آخر کا ہے یعنی میرا نہیں بلکہ کس کا ہے؟ بكر کا ہے ما كان لي قط یہ غلام کبھی بھی میرا نہیں تھا ولكنہ لفلان آخر یہ تو وہ فلاںِ آخر کا ہے یعنی بكر کا ہے کس کا ہے؟ بكر کا ہے
تو کہتے ہیں اب یہاں دو صورتیں ہیں
جو اس نے کہا نہ "ما كان لي قط" اور اس کے بعد آگے کیا کہا؟ "ولكنہ لفلان آخر" یہ ولكنہُ کو ماقبل کے ساتھ متصل کہے گا یا منفصل کہے گا؟ درمیان میں وقفہ کرے گا یا وقفہ نہیں کرے گا؟ اگر وقفہ نہیں کرتا تو پھر تو کلام میں اتساق آ گیا، کیا آ گیا؟ اتساق آ گیا اور اتساق آیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اتساق، پہلی شرط کیا تھی؟ اتساق ہو، دوسری شرط کیا تھی؟ محل نفی محل اثبات سے، اور یہاں پر بھی اپنی ملکیت کی نفی کر رہا ہے تو فلان آخر کی ملکیت کا کیا کر رہا ہے؟ اثبات، دیکھو دونوں الگ الگ ہیں نفی اور ملکیت کی ہے اور اثبات اور ملکیت کا ہے تو دونوں شرطیں پائی گئیں لہٰذا یہ کس سے ہوگا؟ یہاں عطف کا فائدہ حاصل ہوگا، اتساق آ گیا کلام میں، اور یہ غلام جس کا اقرار زید نے عمرو کے لیے کیا تھا، وہ کس کا، کس کے لیے ثابت ہو جائے گا؟ بكر کے لیے ثابت ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ زید نے کہا تھا میرا یہ غلام کس کا ہے؟ عمرو کا ہے، عمرو نے کیا کہا؟ میرا تو یہ کبھی بھی نہیں تھا بلکہ مگر یہ تو بكر کا ہے، تو غلام کس کا ہو جائے گا؟ بكر کا ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو ماقبل میں جو نفی کی اس نے، سرے سے ملکیت ہی کی نفی اگر اس کو، ہاں چلو الگ صورت بنا لو پھر بات واضح ہو رہی، اگر کلام میں اتساق نہ ہو یعنی انفصال لے آئیں بھئی "ما كان لي قط" کہہ کے خاموش ہو گیا، پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے "ولكنہ لبكرٍ" مگر یہ تو کس کا ہے؟ بكر کا ہے، کہتے ہیں اب غلام بكر کے لیے ثابت نہیں ہوگا، اب بكر کے لیے غلام ثابت نہیں ہوگا کیونکہ کلام کے اندر اتساق نہیں آیا، زید نے تو اقرار کر دیا تھا کہ میرا یہ غلام کس کا ہے؟ عمرو کا ہے، لیکن عمرو نے خود ہی کہہ دیا "ما كان لي قط" یہ غلام کبھی بھی میرا نہیں تھا، وہی اس نے نفی کر دی اس کے اقرار کی، تو اس پر جو غلام لازم ہونا تھا لزومِ غلام اس سے کیا ہوا؟ ساقط ہو گیا، تو غلام اب کس کا رہا؟ زید ہی کا رہا، کس کا رہا؟ زید ہی کا رہا، پھر تھوڑی دیر بعد وہ کہتا ہے "ولكنہ لبكرٍ" مگر وہ غلام تو کس کا ہے؟ بكر کا ہے، اب وہ زید کے غلام کو کس کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے؟ بكر کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے، اور غیر کی چیز کو وہ کسی اور کے لیے ثابت کر سکتا ہے؟ نہیں بھئی، یہ تو گویا وہ گواہی دے رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ گواہی دے رہا ہے کہ یہ جو زید کا غلام ہے یہ کس کا ہے؟ بكر کا ہے، اور ایک شخص کی گواہی سے کیا غلام بكر کے لیے ثابت ہو جائے گا؟ ایک شخص کی گواہی سے بكر کے لیے غلام ثابت، گواہی کے لیے تو کم از کم کتنے افراد چاہیے؟ دو افراد چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دو افراد چاہیے، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ پہلی صورت میں بھی تو ایک ہی شخص گواہی دے رہا تھا اس وقت آپ نے جب کلام میں اتساق تھا آپ نے غلام کو کس کے لیے ثابت کر دیا تھا؟ بكر کے لیے ثابت کر دیا تھا، اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ بكر کے لیے غلام نہیں ہے؟ تو جواب یہ ہوا نا کہ اس وقت کلام متسق تھا اور وہاں پر وہ گواہی نہیں تھی بلکہ اسی زید کے اقرار کی اس نے تحویل کر دی تھی، کیا کر دی تھی؟ تحویل کر دی تھی یعنی اس کو پھیر دیا تھا اپنی طرف جانب سے کس کی طرف پھیر دیا تھا؟ بكر کی طرف پھیر دیا تھا، تو غلام بكر کے لیے جو ثابت ہوا تھا وہ زید کے اقرار کی وجہ سے ثابت ہوا تھا بھئی، زید نے خود اقرار کیا تھا اس نے تو کیا کس کے لیے؟ عمرو کے لیے، لیکن عمرو نے اسی کے اقرار کو پھیر دیا کس کی طرف؟ بكر کی طرف، تو غلام کس کے لیے ثابت ہوا؟ بكر کے لیے ثابت ہوا، تو وہاں جو غلام ثابت ہوا کس کی وجہ سے ہوا؟ زید کے اقرار کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ زید کے اقرار ہی کی وجہ سے غلام بكر کے لیے ثابت ہوا ہے، اور یہ جو درمیان والا شخص تھا مقر لہ اول جو تھا جس کے لیے اقرار کیا زید نے، وہ اس نے صرف تحویل کی ہے اقرار کی، زید تو اقرار کر چکا ہے، اس نے اس اقرار کو اپنے سے پھیر کر کس کی طرف لے گیا؟ بكر کی طرف لے گیا، تو ما، پہلی صورت میں گواہی نہیں بنائی، گواہی کی وجہ سے نہیں ثابت ہو رہا وہ غلام بكر کے لیے بلکہ تحویلِ، بلکہ تحویلِ اقرار کی وجہ سے ہے، کس کی وجہ سے؟ تحویلِ اقرار کی وجہ سے، تو زید کے اقرار کی وجہ سے ثابت ہو رہا ہے، زید نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ یہ غلام میرا نہیں ہے بلکہ یہ کس کا ہے؟ عمرو کا ہے، اور عمرو نے کیا کہہ دیا کہ میرا نہیں بلکہ کس کا ہے؟ بكر کا، تو وہی اقرار پھر گیا کس کی طرف؟ بكر کی طرف، تو غلام بكر کے لیے تو ثابت ہوا لیکن زید کے اپنے اقرار کی وجہ سے۔
اور یہاں، یہاں تو اس نے اقرار کو شروع جب کلام میں انفصال لے آیا "ما كان لي قط" میرا کبھی بھی نہیں تھا، تو اس نے تو زید کے اقرار کو ہی رد کر دیا، اقرار تو ختم ہوا مولانا، اقرار کیا ہوا؟ اس نے خود ہی اس کو رد کر دیا ہے، زید نے اس کے لیے غلام کا اقرار کیا اور یہ کہتا ہے "ما كان لي قط"، پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے "ولكنہ لبكرٍ" یہ تو کس کے لیے ہے؟ مگر یہ تو بكر کے لیے ہے، اب تو اقرار کو رد کر چکا ہے، اب تحویل کی صورت ہے؟ اب تحویل نہیں، لہٰذا یہ استئناف کے لیے ہو جائے گا، اور استئناف کے لیے ہوا تو الگ کلام ہوا، اور جب الگ کلام ہوا تو غلام تو ہے زید کا، اور یہ اپنی گواہی دے کر اس کو کس کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے؟ بكر کے لیے، اور ایک آدمی کی گواہی سے کیا غلام بكر کے لیے ثابت ہو جائے گا؟ نہیں ثابت ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
ولو كان في يده عبدٌ اگر کسی شخص کے قبضے میں کوئی غلام تھا، فقال اس نے کہا: هذا لفلانٍ یہ فلاں کا ہے یعنی عمرو کا ہے، فقال فلانٌ تو اس فلاں نے یعنی مقر لہ نے، یعنی کون ہے مقر لہ؟ عمرو، اس نے کہا: ما كان لي قط ولكنہ لفلانٍ آخر میرا تو یہ کبھی بھی نہیں تھا مگر یہ تو فلاں آخر یعنی بكر کا ہے، فإن وصل الكلام اگر اس نے کلام کو ملا دیا، کس نے ملا دیا بھئی؟ یہ مقرِ، مقر لہ، بھئی اقرار کرنے والا کہلاتا ہے مقر، اور جس کے لیے اقرار کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ مقر لہ، مقر لہ، تو مقر کون ہے؟ زید، مقر لہ کون ہے؟ عمرو بھئی، تو اگر فإن وصل الكلام اگر مقر لہ نے یعنی عمرو نے کلام کو ملایا، كان العبد للمقر له الثاني تو غلام کس کے لیے ہو جائے گا؟ مقر لہ ثانی، بھئی مقر لہ اول کون؟ عمرو، اور مقر لہ ثانی کون؟ بكر ہے، تو وہ، وہ مقر لہ اس کے لیے عمرو نے اقرار کیا ہے تو وہ، وہ بھی مقر لہ ہے لیکن ثانی ہے، تو غلام مقر لہ ثانی کے لیے ثابت ہو جائے گا، لأن النفي يتعلق بالإثبات اس لیے کہ نفی متعلق ہو جائے گی کس کے ساتھ؟ اثبات کے ساتھ، کیونکہ اتسال اتساق ہے کلام کے اندر، جب اتسال اتساق ہو تو پھر اس صورت میں یہ کس لیے، کس چیز کا فائدہ دے گا؟ جی؟ لیکن یا لیکنّ کس کا فائدہ دے گا؟ عطف کا، دونوں معمول مثبت کلام جو ماقبل میں منفی کلام ہے اور مابعد میں مثبت کلام ہے دونوں میں کیا آ گیا؟ ربط آ گیا، کیا آ گیا؟ ربط آ گیا، وإن فصل اور اگر مقر اول نے کیا کر دیا؟ یعنی عمرو نے فصل کیا، كان العبد للمقر الأول تو غلام کس کا ہوگا؟ مقرِ اول کون ہے؟ زید، زید ہی کا رہے گا کیونکہ اس نے اس کو رد کر دیا ہے، فيكون قول المقر له رداً للإقرار تو مقر لہ اول کا جو قول تھا "ما كان لي قط" کہہ کے وہ کچھ دیر خاموش رہا، تو یہ جو اس نے صرف صرف "ما كان لي قط" کہا پہلے یہ کیا ہوا؟ رد ہوا للإقرار، کس کا؟ زید کے اقرار کا۔
خلاصۂ بحث یہ ہوا کہ لیکن کے مابعد ہے اثبات اور لیکن کا ماقبل کیا ہے؟ نفی، اور ان دونوں میں ربط اور، اور اتساق ہوگا، ارتباط ہوگا تو پھر یہ عطف کے لیے ہوگا، پھر کس لیے ہوگا؟ عطف کے لیے ہوگا، اگر دونوں میں اتساق ہی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں یہ عطف کے لیے نہیں ہوگا بلکہ کس لیے ہوگا؟ استئناف کے لیے ہوگا مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو کلام میں اتساق پایا جانا ضروری ہے، اتساق کا کیا معنی ہے؟ ربط، ارتباط، اور اس کے لیے کتنی شرطیں ذکر کیں؟ دو شرطیں ذکر کیں، پہلی شرط کیا؟ اتسال ہو کلام کے اندر انفصال نہ ہو درمیان میں فصل نہ کرے، وقفہ نہ کرے، اور دوسری شرط کیا کہ محلِ اثبات محلِ نفی سے غیر ہو، یعنی ایک ہی چیز کی نفی اور اسی چیز کا اثبات نہ ہو ورنہ تو کلام میں کیا لازم آئے گا؟ تناقض لازم آئے گا، صورت سمجھ میں آئی؟
تو جب کلام میں اتساق ہوگا تو مابعد کے اثبات کا تعلق ماقبل کی نفی سے ہوگا، ماقبل میں کیا ہے؟ نفی، مابعد میں کیا ہے؟ اثبات، تو کلام میں اتساق ہوگا تو مابعد کی اس، مابعد کے اثبات کا تعلق ماقبل کی نفی سے ہو جائے گا، اگر کلام میں اتساق ہی نہیں ہے تو پھر اس صورت میں مابعد کے اثبات کا تعلق ماقبل کی نفی کے ساتھ نہیں ہوگا بلکہ وہ کیا ہوگا؟ کلامِ مستأنف ہوگا، استئناف ہوگا وہاں پر بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو جیسے بھئی مثالیں گزریں بھئی، ایک شخص نے دوسرے کے لیے کیا کہا؟ لفلانٍ علي ألفٌ قرضٌ فلاں کے مجھ پر کیا ہیں؟ ایک ہزار قرض کے ہیں، جواب میں جس کے لیے اس نے کیا کیا ہے؟ اقرار کیا ہے، اقرار کیا ہے وہ کیا کہتا ہے؟ لا ولكنہ غصبٌ نہیں بلکہ وہ تو غصب ہیں، غصب کے ہیں ایک ہزار بھئی، تو دیکھا پہلے اس نے کہا لا پھر کہا ولكنہ غصبٌ، تو یہاں پر کلام میں اتساق پایا جا رہا ہے، اتسال بھی ہے ماقبل اور مابعد میں، درمیان میں کوئی فصل نہیں آیا، وہ رکا نہیں، جدا نہیں کیا اس کلام کو، نیز محلِ اثبات محلِ نفی سے غیر ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ کس کا انکار اس نے کس چیز کا کیا؟ قرض کا، اور اثبات کس چیز کا کیا؟ غصب کا کیا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں کلام میں اتساق ارتباط پایا جا رہا ہے، اگر یہ ارتباط نہ ہوتا تو پھر تو یہ استئناف کلامِ مستأنف بن جاتا اور ماقبل کی مابعد کے اثبات کا ماقبل کی نفی سے تعلق نہ رہتا، اور کلام یوں ہو جاتا جیسے اس نے کیا کہا تھا پہلے نے لفلانٍ علي ألفٌ قرضٌ اس نے گویا یوں کہا جواب میں، اتسال میں نہیں کرتا، پہلے کہا لا، جب لا کہا اور پھر تھوڑی دیر بعد کہتا ہے ولكنہ غصبٌ، تو یہ تو اس نے فصل کر دیا کلام میں اتسال نہ رہا، جب اتسال نہ رہا تو مابعد کے اثبات کا ماقبل کی نفی سے کوئی تعلق نہیں، وہ لا الگ ہو گیا، جب اللہ الگ ہوا تو مولانا معلوم ہوا اس نے کیا کر دیا ہے؟ اس کے اقرار ہی کو رد کر دیا ہے، اقرار ہی کو رد کر دیا ہے، لہٰذا اب اس مقر پر ایک ہزار اس کے لیے لازم نہیں، اس نے تو اقرار کر لیا تھا لیکن خود ہی اس نے اس کو رد کر دیا اس کی تکذیب کر دی بھئی، لیکن ج، لیکن اگر وہ اتسال کے ساتھ اس نے تو کہا ہے اور جب اتسال کے ساتھ اس نے کہا کلام میں اتساق آ گیا، کلام میں اتساق آ گیا تو اب مابعد کے اثبات کا تعلق کس سے ہو جائے گا؟ ماقبل کی نفی سے، اور مابعد میں تو اثبات کس کا کر رہا ہے؟ ایک سبب کا، معلوم ہوا ماقبل میں اس جو اس نے نفی بھی کی ہے وہ اصلِ مال کی نہیں کی بلکہ کس کی کی ہے؟ سبب کی کی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ اتساق کی وجہ سے مابعد کا اثبات متعلق ہو گیا کس سے؟ ماقبل کی نفی سے، اور پتہ چل گیا کہ یہ جو اثبات و نفی ہو رہی ہے یہ سبب کی ہو رہی ہے، اصلِ مال کی نفی نہیں ہو رہی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح دوسری مثال آئی مولانا، لفلانٍ علي ألفٌ من ثمن هذه الجاريةِ ایک شخص دوسرے کے لیے اقرار کرتا ہے کہ میرے مجھ پر فلاں کے ایک ہزار ہیں مگر اس باندی کے ثمن میں سے، ایک ہزار ہیں اس باندی کے ثمن میں سے، تو دوسرے نے کیا کہا؟ لا الجارية جارية ولكن لي عليك ألفٌ باندی تو تیری ہی ہے، میرے تجھ پر ایک ہزار ہیں، میرے تجھ پر کیا ہیں؟ ایک ہزار ہیں، تو یہاں پر بھی دیکھیے ماقبل میں ہے لا الجارية جارية باندی تو نہیں باندی تو تیری ہی ہے، ماقبل میں نفی ہے ولكن لي عليك ألفٌ اور مابعد میں اثبات ہے، اور ان دونوں کا تعلق کس کی وجہ سے ہوگا؟ اتساق کو دیکھا جائے گا بھئی، مابعد کے اثبات کا تعلق کس سے؟ ماقبل کی نفی سے کب آئے گا؟ جب کلام میں کیا پایا جائے؟ اتساق، پہلی شرط کیا تھی کہ اتسال ہو، یہاں پر بھی کیا ہے مولانا؟ اتسال ہے، دوسری شرط کیا تھی کہ محلِ اثبات محلِ نفی سے غیر ہو، اور یہاں پر بھی محلِ اثبات کیا ہے؟ محلِ نفی سے غیر ہے، اس لیے کہ وہ صرف مابعد میں تو وہ ہزار کو ثابت کر رہا ہے، معلوم ہوا وہ جو انکار کر رہا ہے صرف کس چیز کے اندر کر رہا ہے؟ سبب کے اندر، اس نے ہزار کے وجوب کا سبب کیا بتلایا تھا؟ باندی کے ثمن، کہ یہ باندی کے ثمن ہیں جو مجھ پر کیا ہیں؟ واجب ہوئے ہیں، تو اگر کلام میں اتساق نہ ہوتا تو کلام یوں بن جاتا لا الجارية جارية یہ کلام الگ ہوا، ولكن لي عليك ألفٌ یہ کیا ہوا؟ کلام الگ ہوا، تو اب مابعد کے اثبات کا ماقبل کی نفی سے تعلق نہ رہتا، وہ لا الگ ہو گیا، جب اللہ الگ ہوا تو مولانا معلوم ہوا اس نے صرف کیا کہا ہے؟ لا الجارية جارية نہیں باندی تو تمہاری ہی ہے، تو اصلِ مال ہی کی نفی ہو جاتی، کیا ہو جاتی؟ اصلِ، لیکن یہاں اتساق ہے تو مابعد کے اثبات کا ماقبل کی نفی سے تعلق ہوا اور مابعد میں تو وہ ہزار ثابت کر رہا ہے معلوم ہوا اصلِ مال کے ثبوت سے وہ انکار نہیں کر رہا بلکہ انکار صرف کس چیز میں کر رہا ہے؟ سبب میں انکار کر رہا ہے، تو اگر اتساق نہ رہتا پھر تو مقر پر پیسے لازم نہ تھے، اسی طرح ایک شخص کے قبضے میں غلام تھا بھئی اور اس نے کہا هذا لفلانٍ مثلاً عمرو کا کہہ لیں، هذا لعمروٍ یہ غلام کس کا ہے؟ عمرو کا ہے، عمرو نے کیا کہا؟ لا ما عمرو نے کہا ما كان لي قط ولكنہ لبكرٍ ولكنہ لبكرٍ، تو پہلے نے کہا هذا لعمروٍ، عمرو نے کہا ما كان لي قط ولكنہ لبكرٍ، میرا تو یہ کبھی بھی نہیں بلکہ کس کا ہے؟ بكر کا ہے، بكر کا ہے، تو پہلے اس نے کیا کہا؟ ما كان لي قط میرا تو کبھی بھی نہیں، تو زید نے تو اقرار کیا تھا عمرو کے لیے اور عمرو کیا کہہ رہا ہے؟ میرا یہ غلام کبھی بھی نہیں رہا، میرا یہ غلام کبھی بھی نہیں رہا، تو اب اگر اس کلام کا مابعد سے تعلق ہوتا ہے پھر تو الگ صورتِ مسئلہ بنے گی، اگر اس کا مابعد سے تعلق نہیں بنتا پھر الگ صورت بنے گی، دیکھو اگر دونوں کو ربط ہو یعنی اتساق پایا جائے، کلام میں اتسال بھی ہے اس نے اکٹھا کہا اور محلِ نفی محلِ اثبات سے غیر بھی ہے، تو اس صورت میں ما كان لي قط کے ذریعے وہ کیا کر رہا ہے؟ زید کے اقرار کو رد نہیں کر رہا، کیا کر رہا جی؟ زید کے اقرار کو رد نہیں کر رہا، کیوں؟ کیونکہ اگلا کلام بتا رہا ہے وہ بتا رہا ہے کیا کہ ولكنہ لبكرٍ یہ غلام کس کا ہے؟ تو وہ سرے سے اس کے اقرار کو رد نہیں کر رہا بلکہ اس کے اقرار کو پھیر رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ تحویل کر رہا ہے اس کی، اس کو تبدیل کر رہا ہے، اپنی طرف سے اقرار کو پھیر دیا، زید کا اقرار کس کی طرف متوجہ تھا؟ ایک کی طرف، اس کے لیے اقرار کر رہا تھا، لیکن اس نے اس اقرار کو پھیر کر کس کی جانب موڑ دیا؟ بكر کی جانب موڑ دیا، تو دیکھا ماقبل اور مابعد میں اثبات، مابعد ماقبل اور مابعد میں کیا ہے؟ اتساق ہے، تعلق ہے، ارتباط ہے، اگر یہ ارتباط نہ ہوتا تو ما كان لي قط کے ذریعے زید کا اقرار ہی سرے سے کیا ہو جاتا؟ رد ہو جاتا، کیا ہو جاتا؟ رد ہو جاتا، لیکن یہاں پر اتساق پایا جا رہا ہے اور پورے کلام کو سننے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ
رد نہیں کررہا اقرار کو
یہ نہیں کر رہا اقرار کو البتہ صرف اقرار کو اپنی طرف سے پھیر کر کس کی طرف لے جا رہا ہے؟ بكر کی طرف۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ کس وجہ سے ہے؟ کہ کلام میں اتساق پایا گیا۔ اگر اتساق نہ ہوتا تو پہلے تو یہ ما كان لي قط، یہ غلام میرا کبھی بھی نہیں رہا، تو اس میں تو اقرار ہی رد ہو جاتا، اور جب اقرار رد ہو جاتا تو اب آگے ولكنہ لبكر کہنے سے غلام بكر کے لیے ثابت نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو پہلی صورت میں پھر غلام بكر کے لیے ثابت ہو جائے گا کیونکہ اتسال ہے کلام کے اندر اتساق ہے ربط ہے، تو اس نے غلام جو بكر کے لیے ثابت ہوا اس کے قول کی اس کی گواہی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زید کے اپنے اقرار کی وجہ سے ہوا ہے۔ زید نے خود اقرار کیا تھا اس کے لیے لیکن اس نے اس اقرار کو پھیر کر کس کی جانب کر دیا؟ بكر کی جانب، تو غلام جو بكر کے لیے ثابت ہوا وہ کس کی وجہ سے ہوا؟ زید کے اپنے اقرار کی وجہ سے، اور ثانی صورت میں جب کلام میں اتساق نہیں ہے ما كان لي قط کہہ کر وہ خاموش ہوا پھر اس نے کہا ولكنہ لبكر، اب تو اس صورت میں ما كان لي قط کہہ کر اس نے زید کے اقرار کو پہلے سے ہی رد کر دیا تھا کلام میں، اور دوسرا کلام مستأنف ہے اس میں استئناف آگیا تو اب وہ گویا کہ گواہی دے رہا ہے، زید گواہی دے کر زید کے غلام کو کس کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے؟
جی؟ بكر کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے۔ بھئی جب ما كان لي قط کہہ دیا تو زید کا اقرار رد ہو گیا، جب اقرار رد ہو گیا تو غلام کس کا رہا؟ زید ہی کا رہا، اور اب آگے کہہ رہا ہے ولكنہ لبكر، یہ کس کے لیے ہے؟ تو اب گویا زید کے غلام کو ایک شخص گواہی کے ذریعہ گواہی دے کر کس کے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے؟ بكر کے لیے، اور ایک شخص کی گواہی کے ذریعہ بكر کے لیے غلام ثابت نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
ولو أن أمة تزوجت نفسها بغير إذن مولاها بمائة درهم، یاد رکھو باندی آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ باندی کو نکاح کرنا ہے کسی سے، کیا کرنا پڑے گی؟ آقا سے اجازت، اور اگر آقا کی اجازت کے بغیر اس نے نکاح کر لیا تو اس کا نکاح موقوف رہے گا۔ آقا نے اجازت دے دی تو ٹھیک، اگر آقا نے اجازت نہ دی تو رد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور تو اور جو مہر بھی ملے گا وہ بھی کس کی ملکیت ہو گا؟ آقا کی ملکیت ہو گا کیونکہ جو بھی باندی اور غلام کے پاس مال ہوتا ہے وہ کس کی ملکیت ہوتا ہے؟ آقا کی بھئی۔
تو کہتے ہیں ولو أن أمة تزوجت نفسها بغير إذن مولاها، اگر باندی نے نکاح کر لیا اپنے نفس کا بغير إذن مولاها، اپنے آقا کی اجازت کے بغیر بمائة درهم، کتنے کے بدلے میں؟ 100 درہم کے بدلے میں، یعنی مہر کتنا مقرر کیا؟ 100 درہم۔ آقا کے پاس گئی پوچھنے کہ میں نے 100 درہم میں کیا کیا ہے؟ فلاں زید سے میں نے نکاح کر لیا ہے، فقال المولى، تو آقا نے کہا لا أجيز العقد بمائة درهم ولكن أجيزه بمائة وخمسين، کہ میں تمہیں اجازت نہیں دیتا عقد کی 100 درہم کے بدلے، لیکن اجازت دیتا ہوں بھئی عقد کی بمائة وخمسين، کتنے کے بدلے میں؟ 150 کے بدلے میں، بطل العقد، عقد کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔
لأن الكلام غير متسق، اس لیے کہ کلام لأن الكلام غير متسق، اس لیے کہ کلام غیر متسق ہے۔ دیکھو، کہتے ہیں کلام میں اتساق نہیں ہے۔ اتسال تو ہے، آقا نے کیا کہا لا أجيز العقد بمائة درهم ولكن أجيزه بمائة وخمسين، تو ولكن سے ماقبل اور مابعد میں بھئی صورتاً اتسال ہے یا نہیں اتسال؟ درمیان میں وقفہ کیا آقا نے؟ درمیان میں وقفہ نہیں، تو پہلی شرط پائی گئی، اتسال پایا گیا، لیکن کہتے ہیں دوسری شرط پوری نہیں ہے، محل نفی محل اثبات سے غیر نہیں، لا أجيز العقد، کس کی اجازت نہیں دے رہا ماقبل میں ہے؟ عقد کی، اور مابعد میں کس چیز کی اجازت دے رہا ہے؟ عقد کی، تو ماقبل میں محل اثبات اور محل نفی ایک ہوا، تو یہ تو کل اگر ہم اس کو عطف کے لیے بنائیں پھر تو کیا لازم آئے گا؟ تناقض لازم آئے گا۔ کیا لازم آئے گا؟ تناقض، کہ رد بھی کر رہا ہے نکاح عقد کو، اور اجازت بھی دے رہا ہے کس کے؟ تو ایک ہی چیز کو رد بھی کیا جا رہا ہو اور اجازت بھی دی جائے، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو لہٰذا اس صورت میں اس کو استئناف کے لیے بنائیں گے بھئی۔
کس کے لیے؟ استئناف۔ تو کہتے ہیں لأن الكلام غير متسق، اس لیے کہ کلام غیر متسق ہے فإن نفي الإجازة وإثباتها بعينها، اس لیے کہ اجازت کی نفی وإثباتها، اور اجازت کا اثبات بعينها، یعنی عین اجازت کا اثبات اور عین اجازت کی نفی لا يتحقق، یہ پائی نہیں جائے لا يتحقق، اس کا تحقق نہیں ہو سکتا، عین اجازت ہو کا اثبات ہو بھی اور جی اجازت کی نفی بھی ہو، اجازت کا اثبات، عین اجازت ہی کی نفی اور عین اجازت ہی کا اثبات اس کا تحقق ایسا نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس کا وقوع نہیں ہو سکتا۔
مسئلہ سمجھ میں آیا؟ لیکن مولانا یہ مسئلہ یہاں صاحب کتاب سے تسامح ہوا۔ یہ مسئلہ اس طرح نہیں بھئی، اور حیرت ہے محشی بھی تائید کرتے چلے جا رہے ہیں بھئی۔ محشی بھی کیا کر رہے ہیں؟ تائید کرتے چلے گئے، مسئلہ یوں نہیں بھئی۔
دیگر کتابوں کے اندر اس کی تفصیل ملتی ہے بھئی، توضیح وغیرہ آپ پڑھیں گے ان میں آئے گا یہ مسئلہ۔ یاد رکھو مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ قید کا رفع کرتی ہے، بھئی مقید پر جب نفی داخل ہو تو نفی مقید کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ کیا ضابطہ میں نے بتلایا؟ جب نفی مقید پر داخل ہو تو کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ یعنی قید کی نفی کرتی ہے، میں نے کہا لا آكل خبزاً، لا آكل میں روٹی نہیں کھاؤں گا، اب آپ مجھے بتلائیے، یہاں لا داخل ہو رہا ہے حرف نفی، اور آكل کھانا کھانا یہ مقید ہے کس کے ساتھ؟ کیا کھانا ہے بھئی؟ روٹی بھئی، یہ مفعول بھی قید ہوا کرتا ہے کس کے لیے؟ فعل کے لیے، کیا ہوتا ہے؟ تو یہ أكل مقید ہے کس چیز کے ساتھ؟ خبز کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ خبز، اور اس مقید یہ جو أكل مقید ہے اس پر لا حرف نفی داخل ہوا، تو اس نے یہ نفی کس کی طرف متوجہ ہوئی؟ قید کی طرف متوجہ ہوئی، کیا معنی؟
معنی ہے سرے سے کھانے کی نفی کر دی کہ میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گا، یا یہ کہا کہ روٹی نہیں کھاؤں گا بھئی؟ روٹی نہیں کھاؤں گا، تو روٹی کے أكل کی نفی ہوئی، مطلق أكل کی نفی نہیں ہوئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ بتلایا کہ روٹی نہیں کھاؤں گا، سرے سے کھانے کی نفی نہیں ہے، تو نفی جب مقید پر داخل ہو تو کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح؟
مثلاً میں کہتا ہوں ما جاءني زيد راكباً، میرے پاس زید نہیں آیا اس حال میں کہ وہ سوار ہو، یہ رکوب یہ قید ہے مولانا، حال کیا ہے؟ قید ہے مجیئت کے لیے، کس کے لیے؟ مجیئت کے لیے قید ہے، اور اس مجیئت پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ حرف نفی، کیا معنی ہے؟ میں نے سرے سے زید کے آنے کی نفی کی ہے یا سوار ہو کر آنے کی نفی کی ہے؟ سوار ہو کر آنے کی، یہ معنی ما جاءني زيد راكباً، زید میرے پاس اس حال میں نہیں آیا کہ وہ سوار ہو، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ آیا ہی نہیں بلکہ سوار ہو کر نہیں آیا، تو دیکھا سرے سے مجیئت کی نفی نہیں ہوئی، تو کیوں؟ کیونکہ یہ نفی مجیئت کیا تھی؟ مقید تھی کس کے ساتھ؟ رکوب کے ساتھ، اور جو مقید ہو اس پر جب نفی داخل ہو تو نفی کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف۔
تو یہاں پر بھی متن میں دیکھیے لا أجيز العقد بمائة درهم، یہ عقد مقید ہے کتنے کے ساتھ؟ بمائة درهم کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ بمائة درهم کے ساتھ مقید ہے یعنی اور اور اس پر لا آیا مولانا، اور مقید پر جب نفی داخل ہو تو کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف، یعنی آقا یہ نہیں کہہ رہا کہ میں نکاح ہی کی اجازت نہیں دیتا، وہ کہہ رہا ہے میں 100 کے بدلے نکاح کی، 100 درہم کے بدلے جو عقد ہے اس کی اجازت نہیں دیتا، اور کس عقد کی اجازت دیتا ہوں جو کتنے کے بدلے میں ہو؟ 150 کے مقابلے میں، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو محل نفی اور ہیں، محل نفی وہ عقد ہے جو کتنے کے بدلے ہوا؟ 100 درہم کے بدلے، اور محل اثبات وہ وہ عقد ہے جو کتنے کے بدلے ہوا؟ 150 کے بدلے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
تو لہٰذا یہ مسئلہ، ماقبل میں جو یہ بمائة درهم آیا نا اس کے بغیر ہونا چاہیے تھا بھئی، بمائة درهم کے بغیر ہونا چاہیے تھا، یوں ہونی چاہیے تھی عبارت فقال المولى لا أجيز العقد ولكن أجيزه بمائة وخمسين، سمجھ میں آیا؟ تو اب مولانا مقید نہ تھا بمائة درهم کے ساتھ، اب ماقبل میں کس کی عدم اجازت ہے مولانا؟ نفی کس چیز کی کر رہا ہے؟ عقد کی اجازت کی، اور اثبات بھی کس چیز کا کر رہا ہے؟ عقد کا، تو اب اس صورت میں محل نفی اور محل اثبات ایک بن گئے، اور جب محل نفی اور محل اثبات ایک ہو گئے تو کلام میں اتساق نہ رہا، ہم نے تو کیا کہا تھا محل اثبات اور محل نفی کو ان میں یہ کیا ہونے چاہئیں؟ غیر ہونے چاہئیں، اب کیا کہہ رہا ہے وہ لا أجيز العقد، عقد کی اجازت نہیں دیتا، ولكن أجيز العقد، لیکن کس کی اجازت دیتا ہوں؟ عقد کی اجازت دیتا ہوں، صورت سمجھ میں آگئی؟ اب کلام کے اندر بھئی محل نفی بھی کیا ہے؟ جی اجازت عقد، اور محل اثبات کیا ہے؟ اجازت عقد، تو یہ دونوں ایک ہی چیز ہوئے، تو اگر ہم اس کو عطف کے لیے بنائیں ولكن کو، تو اس صورت میں تناقض لازم آئے گا، ماقبل میں اجازت کی نفی اور مابعد میں اجازت کا، اور یہ ہو سکتا ہے ایک ہی چیز کی نفی بھی ہو اور اس کا اثبات، یہ تو تناقض ہے، لہٰذا اب اس ولكن کو عطف کے لیے نہیں بنائیں گے، کس کے لیے بنائیں گے؟ استئناف کے لیے بنائیں گے، کس کے لیے بنائیں گے؟ اور استئناف کی صورت میں اس کا کیا معنی ہو گا بھئی؟
یعنی نئی بات شروع کر دی، ولكن أجيزه بمائة وخمسين سے کیا کر دی؟ نئی بات شروع کر دی، تو وہ جو ایجاب و قبول ہو چکا تھا باندی کے درمیان اور اس کے خاوند کے درمیان، اس کو تو آقا نے رد کر دیا، وہ نکاح ختم ہوا لا أجيز العقد، اور پھر استئناف آیا نئی بات شروع کی ولكن أجيزه بمائة وخمسين، لیکن میں عقد کی اجازت دیتا ہوں کتنے کے بدلے میں؟ 150 کے بدلے میں، اور ایک وہ اس عقد کو تو یہ رد کر چکا، اب یہ آگے نئے عقد کی بات کر رہا ہے، کتنے میں عقد کی اجازت دے رہا ہوں؟ 150، تو یہ ہو جائے گا ایجاب، اور ایجاب کے لیے کیا چاہیے؟ قبول چاہیے، تو خاوند پر اب منحصر ہے وہ اس کو قبول کر لے گا تو نکاح نیا منعقد ہو جائے گا، اگر وہ رد کر دیتا ہے تو پھر نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟
صورت سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟
فقال المولى لا أجيز العقد بمائة، یہ بمائة درهم نہیں ہونا چاہیے، ولكن أجيزه بمائة وخمسين بطل العقد، عقد باطل ہو جائے گا لأن الكلام غير متسق، اس لیے کہ کلام غیر متسق ہے، غیر مرتبط ہے فإن نفي الإجازة وإثباتها بعينها لا يتحقق، بعينها یہ تاکید ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہا ضمیر، ہا ضمیر نہیں آ رہی بھئی؟ یہ اجازت کی، تو اس لیے اجازت کی نفی اور عین اجازت کا ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ جی؟ یہی اسی اجازت کو بھئی، إثباتها کی ہا ضمیر بھی کس کو راجع؟ اجازت کو، اور اسی کے آگے تاکید آگئی ہا ضمیر کے آگے بعينها تاکید آگئی، اور عین اجازت کا اثبات بھئی، لا يتحقق، اس کا تحقق نہیں ہو سکتا، فكان قوله ولكن أجيزه إثباته بعد رد العقد، پس آقا کا یہ قول ولكن أجيزه، یہ کیا ہے؟ إثباته، یہ اثبات عقد ہے، ہا ضمیر کس کو راجع؟ عقد، اثبات عقد ہے بعد رد العقد، بعد عقد کے، تو یہ اثبات عقد آخر ہے، نیا عقد وہ ثابت کر رہا ہے اور نئے عقد کا ایجاب کر رہا ہے، اور جب تک قبول نہ پایا جائے عقد مکمل نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟
وكذلك لو قال، اور اسی طرح آقا نے یوں کہا لا أجيزه ولكن أجيزه إن زدتني خمسين على المائة، میں اجازت نہیں دیتا عقد کی ولكن أجيزه، لیکن میں اجازت دیتا ہوں عقد کی إن زدتني، اگر تو بڑھا دے میرے لیے خمسين 50 درہم على المائة کتنے پر؟ بھئی باندی نے آ کر کیا بڑھایا اس کو بتلایا؟ 100 درہم میں ہوا، آقا کہہ رہا ہے میں اجازت نہیں دیتا عقد کی، لیکن میں اجازت دیتا ہوں عقد کی اگر تو بڑھا دے مہر کے اندر میرے لیے کتنے؟ 50، کتنے پر؟ 100 پر، تو اب بھی وہی صورت ہے، يكون فسخاً للنكاح، یہ کیا ہے نکاح کا فسخ کرنا ہے لعدم احتمال البيان، اس لیے کہ یہ اس کے لیے بیان کا احتمال نہیں رکھتا، بیان، بیان کا احتمال، بھئی ربط ہی نہ رہا کلام کے اندر، ماقبل میں کیا کہہ رہا ہے؟ لا أجيزه، عقد کی اجازت نہیں دے رہا، اور ولكن أجيزه، لیکن کے بعد کیا کر رہا ہے؟ اجازت، تو محل اثبات کیا ہوا اور محل نفی ایک ہی ہوا، اور محل تو لہٰذا اس ولكن کو عطف کے لیے نہیں بنا سکتے، جب عطف کے لیے نہیں بنائیں گے تو پھر کس کے لیے بنائیں گے؟ استئناف کے لیے، تو لہٰذا لا أجيزه الگ بات تھی اور ولكن أجيزه الگ بات ہے، اور لا أجيزه کے ذریعے اس نے پہلے عقد کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا، اور اب اس کے ذریعہ کیا کر رہا ہے؟ نیا کلام کر رہا ہے، تو کلام میں چونکہ اتساق نہیں ہے اس لیے مابعد ماقبل کے لیے بیان نہیں ہو سکتا کہ اسی عقد کے لیے، اسی عقد میں 50 اب بڑھائے نہیں جا سکتے، اسی عقد میں 50 اب نہیں بڑھائے جا سکتے کیونکہ اس پہلے عقد کو تو آقا کیا کر چکا ہے؟ رد کر چکا ہے، کلام میں اتساق ہی نہیں ہے دونوں الگ الگ کلام ہیں، اور پہلے کلام سے وہ پہلے عقد کو کیا کر چکا ہے؟ رد کر چکا ہے، تو یہ آسانی اس کے لیے بیان نہیں بن سکتا، لأن من شرطه الاتساق، اس لیے کہ بیان بننے کے لیے کیا شرط تھی؟ اتساق بھئی، اتساق، بیان بننے کے لیے کیا شرط تھی؟ اتساق کی شرط تھی، ولا اتساق، اور یہاں پر کوئی اتساق ہی نہیں، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ سب کو؟
چلیے مولانا هذا هو المراد، والله اعلم بحقيقة الكلام۔