Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-075

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 26 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 85
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل، أي هذا فصل بل لتدارك الغلط بإقامة الثاني مقام الأول. حروفِ معانی میں سے چوتھا حرف بل ہے بھئی جس کی بحث مصنف آج کریں گے بھئی۔ یہ یاد رکھو بل کے بھی دو معنی بیان کریں گے یہاں پر۔ اگرچہ صراحتًا نہیں، تو یاد رکھو، تو صراحتًا بل کا ایک معنی ذکر کریں گے لیکن دوسرا معنی بھی میں آپ کو بتلا دیتا ہوں جو مسائل میں آئے گا آگے بھئی۔ بھئی ایک تو بل کا حقیقی معنی ہے، بل کس لیے آیا کرتا ہے؟ لتدارك الغلط، غلطی کی تلافی کے لیے بھئی، غلطی کی تلافی کے لیے آیا کرتا ہے بھئی۔ مثلاً میں نے کہا، میں آپ کو بتلانا چاہتا تھا کہ میرے پاس عمرو آیا ہے۔ لیکن جب میں نے تکلم کیا تو غلطی سے عمرو کے بجائے زید کا لفظ کہہ بیٹھا۔ میں نے کہہ دیا جاءني زيد، پھر مجھے خیال آیا اوہ، آیا تو کون ہے؟ عمرو آیا ہے، غلطی ہو گئی مجھ سے، تو میں غلطی کی تلافی کرتا ہوں بل کے ذریعے اور کیا کہتا ہوں؟ بل عمرو، جاءني زيد بل عمرو، آیا میرے پاس زید بلکہ عمرو۔ اب اس کلام کا کیا معنی ہے کہ میرے پاس کون آیا ہے؟ عمرو آیا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس بل نے غلطی کی تلافی کر دی، مولانا۔ آپ مجیء کی نسبت وہ حکم جو آپ نے معطوف علیہ پر لگایا تھا بل نے اس کو پھیر کر کس کے لیے ثابت کر دیا؟ معطوف کے لیے ثابت کر دیا کہ مجیء زید کے لیے نہیں ثابت بلکہ کس کے لیے ثابت ہے؟ عمرو کے لیے ثابت ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ باقی زید کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں زید مسکوت عنہ کے حکم میں ہے۔ زید کس کے حکم میں ہے؟ مسکوت، سکوت سے ہے، سکوت چھوٹا کاف، تا دو نقطوں والی سکوت، خاموشی۔ وہ مسکوت عنہ کے حکم میں ہے یعنی اس کے بارے میں خاموشی ہے بھئی۔ یعنی نہ تو آپ نے اس کے آنے کو ثابت کیا ہے اور نہ نہ آنے کو، یعنی نہ تو اس کے لیے مجیء کا اثبات کیا ہے اور نہ مجیء کی نفی۔ زید چاہے آیا ہو یا نہ آیا ہو اس سے بحث ہی نہیں، یوں سمجھیں اس کو آپ نے گویا ذکر ہی نہیں کیا کہ زید آیا ہے یا زید نہیں آیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ میں نے کہا جاءني زيد بل عمرو، اس کلام کا کیا معنی؟ کون آیا ہے میرے پاس؟ عمرو آیا ہے اور زید کیا ہے؟ مسکوت عنہ، مسکوت عنہ ہے یعنی نہ اس کے لیے مجیء ثابت ہے اور نہ عدمِ مجیء ثابت ہے، نہ اس کا آنے کا ذکر ہے نہ اس کے نہ آنے کا ذکر ہے۔ وہ آیا ہو تو بھی بحث نہیں، وہ نہ آیا ہو تو بھی بحث، دونوں ہو سکتے ہیں، وہ مسکوت عنہ ہے اس کے بارے میں خاموشی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بل آتا ہے غلطی کے تدارک کے لیے، تو وہ حکم جو معطوف علیہ کے لیے ثابت تھا غلطی سے، اس کو کس کے لیے ثابت کر دیتا ہے؟ معطوف کے لیے ثابت کر دیتا ہے۔ اور یہ بل کا حقیقی معنی، یہ بل کا حقیقی معنی ہے۔ لیکن کبھی بل سے پہلے لا آ جایا کرتا ہے۔ میں نے کہا جاءني زيد لا بل عمرو، جاءني زيد لا بل عمرو، تو بل سے پہلے لا آ جایا کرتا ہے کبھی، اور جب لا آ جائے تو اب یہ نص ہو گئی زید سے مجیء کی نفی میں، معطوف علیہ سے حکم کی نفی میں، یعنی معطوف علیہ سے مجیء کی آپ نے نفی کر دی۔ اب میں نے جب کہا جاءني زيد لا بل عمرو، کیا معنی اس کلام کا؟ کہ زید نہیں آیا اور عمرو آیا ہے، تو یہ بل سے ماقبل جو لا آیا اس نے مجیء کی زید سے کیا کر دی؟ نفی کر دی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اگر یہ لا نہ ہوتا تو زید مسکوت عنہ تھا، نہ اس کے آنا اس کے لیے ثابت ہے نہ اس کے آنے نہ تو اس کے لیے آنا ثابت ہے اور نہ آنے کی اس سے، آنے کی اس سے نفی بھی نہیں، آنے کا اس کے لیے اثبات بھی نہیں، لیکن جب بل سے پہلے لا آ جائے تو یہ نص ہو گئی، تصریح ہو گئی کس بات کی کہ آنا زید کے لیے ثابت نہیں ہے اور عمرو کے لیے ثابت ہے۔ یہ اور تو یہ بل آیا غلطی کی تلافی کے لیے، یہ بل کا کون سا معنی ہے؟ حقیقی معنی ہے، حقیقی معنی۔ تو بل کے ذریعے گویا کہ رجوع کیا جاتا ہے، رجوع کیا جاتا ہے۔ غلطی سے کیا کیا جاتا ہے؟ رجوع کیا جاتا ہے۔ اور رجوع، رجوع وہاں پر ہو گا جہاں غلطی کا امکان بھی ہو۔ جہاں غلطی کا امکان نہیں وہاں رجوع بھی نہیں۔ غلطی کا احتمال کہاں پر ہو گا؟ اخبار کے اندر ہو گا، خبر کے اندر ہو گا۔ میں نے کہا جاءني زيد، یہ کیا دے رہا ہوں میں آپ کو؟ خبر دے رہا ہوں کہ زید میرے پاس آیا ہے اور خبر دینے میں کیا ہے؟ غلطی کا بھی احتمال ہے، تو بل کے ذریعے آپ اس کلام سے رجوع کرتے ہیں، بل عمرو، بلکہ کون آیا ہے؟ عمرو۔ تو اخبار کے اندر تو رجوع ہو سکتا ہے لیکن انشاء کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بل آتا ہے غلطی کی تلافی کے لیے، تو یعنی اس کے ذریعے کلامِ سابق سے کیا کیا جاتا ہے؟ رجوع کیا جاتا ہے۔ وہ حکم جو معطوف علیہ کے لیے آپ ثابت کر رہے تھے اس سے آپ نے رجوع کر لیا اور اس حکم کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ معطوف کے لیے، تو یہ رجوع کے لیے آتا ہے اور رجوع وہاں ہو گا جہاں غلطی کا بھی احتمال ہو اور غلطی کا احتمال اخبار میں ہے، تو ہو سکتا ہے، انشاء کے اندر نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ انشاء میں نہیں۔ تو رجوع وہاں ہو گا جہاں رجوع کا امکان بھی ہو، جہاں رجوع کا امکان ہی نہیں وہاں رجوع بھی، رجوع کا امکان کس میں ہے؟ اخبار میں ہے اور انشاء میں رجوع کا امکان نہیں، لہذا وہاں پر رجوع بھی نہیں۔ اس لیے کہ انشاء کے ذریعے ایک چیز کو وجود دیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا انت طالق، بھئی یہ لفظوں کے اعتبار سے تو جملہ خبریہ ہے، انت مبتدا ہے، طالق اس کی خبر ہے، مبتدا خبر مل کر کیا ہوا؟ جملہ جملہ خبریہ ہوا، لیکن شریعت نے اس کو انشاء کا درجہ دیا ہے اور اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیا ہو جاتی ہے؟ معنی تو ہے تو طلاق والی ہے، لیکن یہ کس کے قائم مقام ہے؟ انشاء کے، اس سے کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، یعنی انشاءِ طلاق کے لیے ہے یہ، کس لیے ہے؟ انشاءِ طلاق کے لیے ہے۔ بظاہر تو خبر ہے، تو کیا ہے؟ طلاق والی ہے، یہ تو خبر دے رہا ہے اس کو، لیکن شریعت نے کس کا حکم دیا ہے اس کو؟ انشاء کا، تو اس کے ذریعے انشاءِ طلاق ہو گی، طلاق واقع ہو، تو انشاء کے ذریعے کسی چیز کو وجود دیا جاتا ہے۔ کیا دیا جاتا ہے؟ وجود، تو جب ایک شخص نے کہا انت طالق، تو اب بل کے ذریعے کیا کرنا چاہے؟ اس سے رجوع کرنا چاہے، تو یہ رجوع کرنا صحیح نہیں، کیونکہ انت طالق کو شریعت نے انشاء کا درجہ دیا ہے، اس کے ذریعے آپ نے اس شخص نے طلاق کو وجود دے دیا اور جب ایک دفعہ ایک چیز کو وجود دے دیا تو پھر اب اس کو معدوم کر سکتا ہے؟ وجود تو اس نے دے دیا، اب معدوم کہاں سے کرے گا بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ تو ایک دفعہ وجود دے دیا اب اس کو معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ بھئی پہلے کی طرح ہو جائے طلاق تھی نہیں، ایسا ہو جائے کہ طلاق، ایسا ہو سکتا ہے؟ جب ایک چیز کو وجود دے دیا تو اب پہلے جیسی بات ہو سکتی ہے؟ نہیں، اب تو آپ وجود دے چکے ہیں، اب تھی نہیں وہ والی صورت دوبارہ آ بھی نہیں سکتی بھئی۔ تو لہذا جہاں پر رجوع کا امکان نہیں غلطی کے، تو وہاں بل عطفِ محض کا فائدہ دے گا، صرف کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عطف کا فائدہ دے گا، صرف عطف کا اور یہ اس کا مجازی معنی ہے، اصل معنی تو کیا ہے؟ غلطی کی تلافی، لیکن جہاں پر رجوع نہیں ہو سکتا انشاء کے اندر، وہاں پر کیا ہو گا بل؟ عطفِ محض کے لیے آئے گا، صرف عطف کے لیے آئے گا اور کوئی معنی وہ ادا نہیں کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ صرف عطف کے لیے آنا، یہ بل کا کون سا معنی ہے؟ مجازی معنی ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، آسان مسائل ہیں۔ بل لتدارك الغلط، بل غلطی کی تلافی کے لیے ہے، بإقامة الثاني مقام الأول، بسبب قائم کرنے ثانی کو اول کے مقام میں۔ ثانی کو کیا کرنے؟ اول کے مقام میں قائم کرنے کے، تو اول ثانی کو آپ اول کے قائم مقام کر دیتے ہیں۔ دیکھو میں نے کہا جاءني زيد، زید کیا ہے؟ معطوف علیہ، یہ اول ہے۔ بل عمرو، یہ عمرو کیا ہے؟ ثانی ہے، معطوف ہے، تو اس بل نے ثانی یعنی عمرو کو قائم مقام کر دیا کس کے؟ زید کے، تو مجیء جو پہلے زید کے لیے ثابت تھی اب کس کے لیے ثابت ہو گئی؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بل نے ثانی یعنی عمرو کو قائم مقام کر دیا زید کے، یعنی معطوف کو قائم مقام کر دیا کس کے؟ معطوف علیہ کے۔ فإذا قال لغير المدخول بها، جب خاوند نے کہا غیر مدخول بہا بیوی سے، یعنی وہ بیوی جس سے نکاح تو ہوا ہے لیکن ملاقات و صحبت نہیں ہوئی، أنت طالق واحدة، تو طلاق والی ہے ایک، یعنی تجھے ایک طلاق ہے، بل ثنتين، بلکہ دو ہیں، دو ہیں۔ تو دیکھیے أنت طالق، یہ کون سا کلام ہے مولانا؟ أنت طالق واحدة، یہ بظاہر تو جملہ خبریہ، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ لفظوں کے اعتبار سے جملہ خبریہ ہے، معنی کے اعتبار سے جملہ انشائیہ ہے، اور اب بل کے ذریعے وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ رجوع کرنا چاہتا ہے، یوں کہتا ہے تجھے ایک طلاق ہے بلکہ دو طلاقیں ہیں۔ جی دو طلاقیں ہیں، کہتے ہیں وقعت واحدة، ایک کیا ہو جائے گی؟ واقع ہو جائے گی، جب أنت طالق واحدة کہا تو کیا ہوا؟ ایک طلاق، انشاءِ طلاق پایا گیا اور کتنی طلاقیں ہوئیں؟ ایک طلاق کو اس نے وجود دے دیا، ایک طلاق پائی گئی۔ ایک طلاق پائی گئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو وقعت واحدة، ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور باقی، تو لہذا یہ انشاء ہے اور انشاء کے اندر رجوع ہو سکتا ہے؟ رجوع نہیں، اور جب رجوع نہیں تو بل کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عطفِ محض کا، اور جب عطفِ محض کا فائدہ دے گا تو آگے آ رہا ہے ثنتین، دو اور طلاقیں، تو ایک اور دو کل کتنی ہونی چاہئیں؟ تین ہونی چاہئیں، ہونی تین چاہئیں لیکن یہاں پر وجہ یہ ہے، ایک اس لیے ہو گی کہ عورت غیر مدخول بہا ہے اور غیر مدخول بہا تو کتنی طلاقوں سے بائن ہو جاتی ہے؟ ایک سے، تو جب ایک سے بائن ہو گئی تو اگلی دو کیا ہو گئیں؟ لغو چلی گئیں، لغو چلی گئیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ اور اگر وہ مدخول بہا ہوتی تو پھر کیا صورت تھی؟ کتنی واقع ہو جانی تھیں؟ پھر تین طلاقیں واقع ہو جانی تھیں بھئی، اس لیے کہ انشاء ہے، اس انشاء کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو اسی لیے کہا وقعت واحدة، ایک طلاق واقع ہو جائے گی، لأن قوله، اس لیے کہ خاوند کا یہ قول، لا بل ثنتين، رجوع عن الأول، یہ کیا ہے؟ رجوع ہے اول سے، وہ اول طلاق، ایک طلاق سے رجوع کرنا چاہتا ہے بإقامة الثاني مقام الأول، ثانی کو اول کے قائم مقام کرنے کے سبب سے، یعنی قائم کرنے کے ساتھ یہ ثنتین کو وہ کس کے قائم مقام کرنا چاہتا ہے؟ واحدة کے، تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک نہیں بلکہ کتنی ہیں؟ دو ہیں، لیکن بل چونکہ یہاں پر رجوع کے لیے رجوع نہیں کر رجوع ثابت نہیں ہو سکتا یہاں پر، تو لہذا بل صرف کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عطفِ محض کا، اور اگر مدخول بہا عورت ہو تو پھر اس صورت میں کتنی ہو جائیں گی؟ تین، لیکن یہ چونکہ ہے غیر مدخول بہا لہذا یہاں کتنی ہوں گی؟ ایک ہو گی۔ ولم يصح رجوعه، اور صحیح نہیں ہے اس کا رجوع، خاوند کا رجوع کرنا، فيقع الأول، پس پہلی، پس پہلی طلاق واقع ہو جائے گی، فلا يبقى المحل عند قوله ثنتين، پس محل ہی باقی نہیں رہے گا طلاق کے لیے، کیونکہ عورت کیا ہو چکی ہے؟ بائنہ ہو چکی ہے۔ تو محل ہی باقی نہیں، محل ہی باقی نہیں رہے گا طلاق کے لیے عند قوله ثنتين، خاوند کے ثنتین کہتے وقت بھئی، تو وہ لغو چلی جائے گی۔ ولو كانت مدخولا بها، اگر عورت مدخول بہا ہوتی، یعنی اس کے ساتھ خاوند صحبت کر چکا ہو، يقع الثلاث، تو کتنی واقع ہوں گی؟ پھر تین واقع ہو جائیں گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ یہاں بل غلطی کے تدارک کے لیے نہیں بن سکتا بلکہ کس کے لیے بنے گا؟ عطفِ محض کے لیے بھئی۔ وهذا بخلاف ما لو قال لفلان علي ألف لا بل ألفان، اور یہ بر خلاف اس کے ہے کہ اگر کوئی کہے لفلان علي ألف لا بل ألفان، فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار، نہیں بلکہ ألفان، بلکہ دو ہزار ہیں۔ جی، حيث لا يجب ثلاثة آلاف عندنا، اس طور پر بھئی کہ ہمارے نزدیک تین ہزار واجب نہیں ہوں گے۔ بھئی طلاق کے اندر تو واحدة بل ثنتين کے اندر کتنی طلاقیں تھیں مدخول بہا کے اندر بھئی؟ تین ہوتی تھیں بھئی، کتنی؟ تین ہوتی تھیں، لیکن اگر اقرار کے اندر اگر یہ مسئلہ آئے لفلان علي ألف لا بل ألفان، اب کتنی ہونی چاہئیں؟ تین ہزار ہونے چاہئیں اگر یہ پہلے جیسا ہوتا، لیکن یہ پہلے جیسا مسئلہ نہیں، یہاں پر کتنے ہزار آئیں گے اس پر واجب؟ کتنے ہوں گے؟ دو ہزار ہوں گے اس لیے کہ یہ اخبار ہے، اقرار کس کے قبیل سے ہے؟ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار روپے ہیں، یہ میں خبر دے رہا ہوں یا انشاء کر رہا ہوں بھئی؟ خبر دے رہا ہوں، تو اقرار اخبار کے قبیل سے ہے، لہذا یہاں رجوع ہو سکتا ہے، یہاں اور تو لہذا اس نے ایک ہزار سے رجوع کر لیا اور بل کے بعد کیا آیا؟ ألفان، دو ہزار، تو وہ دو ہزار اس پر کیا ہو جائیں گے؟ واجب ہو جائیں گے۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ مسئلہ پہلے مسئلہ کے خلاف ہے اس طور پر کہ یہاں پر تین ہزار واجب نہیں ہوں گے ہمارے نزدیک بلکہ کتنے واجب ہوں گے؟ دو ہزار بھئی۔ وقال زفر رحمه الله تعالى، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں يجب ثلاثة آلاف، کتنے ہزار واجب ہوں گے؟ تین ہزار واجب ہوں گے بھئی، تین ہزار۔ تین ہزار۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اجل تلاندہ میں سے ہیں بھئی اور قیاس کے بہت بڑے ماہر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس کے اتنے بڑے ماہر تھے کہ کہتے ہیں کوئی امام صاحب کے شاگردوں میں سے کوئی ان کے درجے کو نہیں پہنچتا تھا بھئی، بڑے ماہر، بہت بڑے، تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی تین ہزار واجب ہوں گے۔ کیوں؟ کہتے ہیں ہاں یہ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یہ خبر کے قبیل سے ہے اور خبر میں کیا ہو سکتا ہے؟ رجوع ہو سکتا ہے، لیکن یہاں پر رجوع نہیں ہو سکتا، کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس لیے کہ یہ اقرار ہے، یہ کیا ہے؟ اقرار ہے، اور اقرار کے اندر ہمارے نزدیک رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ احناف کے نزدیک کیا مسئلہ ہے بھئی اقرار کے اندر؟ رجوع نہیں ہو سکتا۔ حدیث میں آتا ہے المزء یوخذ باقراره۔ المزء یوخذ باقراره۔ آدمی پکڑا جائے گا باقراره، اپنے اقرار کے سبب سے۔ اپنے، اپنے، المزء یوخذ باقراره۔ آدمی اپنے اقرار کے سبب سے پکڑا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اقرار میں رجوع۔ تو یہ اقرار وہ کر رہا ہے اور اقرار سے تو رجوع ہو نہیں سکتا۔ لہذا یہاں پر بل کس چیز کا فائدہ دے گا؟ عطفِ محض کا اور عطفِ محض کا فائدہ دے گا تو پہلے ایک ہزار اور بل کے بعد والے دو ہزار مل کر کتنے ہو جائیں گے؟ تین ہزار ہو جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وقال زفر رحمہ اللہ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں يجب ثلاثة آلاف، تین ہزار واجب ہوں گے لان حقیقت اللفظ، اس لیے، اس لیے۔ یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں لیکن امام زفر کے قول کے بعد آرہی ہے۔ یہ نہ سمجھیں یہ امام زفر کی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، بلکہ یہ کس کی دلیل ہے؟ ہماری دلیل ہے۔ کس کی؟ ہماری دلیل ہے۔ دیکھیے نیچے لکھا بھی ہوا ہے دليل لمذهبنا لا له، یہ ہمارے مذہب کی دلیل ہے نہ کہ امام زفر رحمہ اللہ کے مذہب کی دلیل۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیوں؟ لان، ہماری دلیل کیا ہے؟ کہ لان حقیقت اللفظ لتدارک الغلط باثبات الثاني مقام الاول، اس لیے کہ اس لفظ بل کی حقیقت کیا ہے؟ یہ کس لیے ہے؟ غلطی کی تلافی کے لیے ہے باثبات الثاني مقام الاول، ثانی کو اول کی جگہ پر ثابت کرنے کے ساتھ ولم يصح عنه ابطال الاول اور اچھا۔ اچھا یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، دیکھو۔ اشکال ہمارے اوپر بھی ہوتا ہے۔ اشکال یہ کہ آپ نے یہاں پر کیا کہا؟ یہ اخبار کے قبیل سے ہے۔ لہذا ایک تین ہزار نہیں واجب اے احناف بلکہ کتنے واجب ہیں؟ دو ہزار واجب ہیں۔ حالانکہ یہ تو اقرار ہے جیسے امام زفر رحمہ اللہ نے دلیل دی بھئی، وقال، اقرار کے اندر تو رجوع نہیں ہو سکتا۔ جب رجوع نہیں ہو سکتا تو کتنے واجب ہونے چاہئیں؟ تین ہزار واجب ہونے چاہئیں۔ ہم جواب دیتے ہیں۔ جواب یہ کہ ہم ایسا طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ اقرار سے رجوع بھی نہ ہو اور دو ہزار بھی ثابت ہو جائیں۔ ایسی صورت میں دلیل ہم اس طرح بناتے ہیں کہ وہ ایک ہزار سے رجوع بھی نہ ہو بلکہ دو ہزار بھی ثابت ہو جائیں اور اس ایک ہزار سے رجوع بھی نہ ہو۔ وہ کیسے بھئی؟ بائی وہ اس طرح کہ جب اس نے کہا لفلان علي ألف کہ فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں پھر لا بل کے ذریعے وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے؟ رجوع کرنا چاہ رہا ہے، لیکن یہ ہے تو اقرار اور اقرار کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا تو جب اس نے کہا ثنتین، کتنے ہزار ہیں؟ دو ہزار۔ تو گویا اس نے وہ ایک ہزار سے رجوع نہیں کیا بلکہ اس ایک ہزار کے ساتھ مزید ایک ہزار کا اقرار کر لیا۔ اسی ایک ہزار کے ساتھ مزید کیا کر لیا؟ یہ ثنتین جو دو ہزار ذکر کر رہا ہے ان میں سے وہی ایک ہزار وہی پچھلے ہیں اور ایک ہزار مزید ہیں، تو رجوع آیا پہلے ایک ہزار سے؟ نہیں، وہ پہلے ایک ہزار بھی ہیں اور اس پر ایک ہزار اور بھی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ثنتین کہ یہ جو دو ہزار بل کے بعد ذکر ہو رہے ہیں ان میں سے ایک ہزار کون سے ہیں؟ وہی پہلے والے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھو دو ہزار بھی ثابت ہوئے اور اقرار سے رجوع بھی لازم نہیں آیا بلکہ انہی ایک ہزار کے ساتھ اس نے مزید ایک ہزار کا بھی اقرار کر لیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو گویا اس نے ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کر لی۔ لان حقیقت اللفظ لتدارک الغلط باثبات الثاني مقام الاول، اس لیے کہ لفظ کی حقیقت جو ہے غلطی کی تلافی کے لیے ہونا ہے باثبات الثاني مقام الاول ثانی کو اول کے قائم مقام کرتے ہوئے ولم يصح عنه ابطال الاول اور صحیح نہیں اقرار کرنے عنہ ای عن المقر، کس کی طرف سے؟ اقرار کرنے اور صحیح نہیں ہے اقرار کرنے والے کی طرف سے، کیا صحیح نہیں ہے؟ ابطال الاول، اول کو باطل کرنا، یعنی پہلے ایک ہزار کا جو اقرار کیا اس کو باطل کرنا اس کے لیے صحیح، وہ اس سے رجوع وہ نہیں کر سکتا، فيجب تصحيح الثاني مع بقاء الاول، پس واجب ہوا کہ ثانی کو کیا کیا جائے؟ صحیح قرار دیا جائے، صحیح قرار دیا مع بقاء الاول، اول کی بقا کے ساتھ کہ پہلا بھی باقی رہے اور ثانی کو بھی کیا بنایا جائے؟ صحیح بنایا جائے۔ وذلك بطريق زيادة الألف على الألف الاول اور وہ کس طریقے پر ہے؟ کہ ألف کو بڑھایا جائے على الألف الاول، ألف اول پر، تو ألف اول پر ألف، ألف کی زیادتی کے طریقے پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بخلاف قوله انت طالق واحدة لا بل ثنتین، برخلاف اس قول کے جو اس نے خاوند نے کہا تھا انت طالق واحدة، تجھے ایک طلاق ہے لا بل ثنتین، بلکہ کتنی ہیں؟ دو، یہ اس مسئلے کے خلاف ہے، کیوں؟ کیونکہ یہ جو طلاق والا مسئلہ ہے لان هذا انشاء، یہ کیا ہے؟ انشاء ہے وذلك اخبار، اور وہ اقرار کیا ہے؟ وہ اخبار ہے۔ والغلط انما يكون في الاخبار دون الانشاء، اور غلطی کس میں ہے؟ ہو سکتی ہے؟ اخبار کے اندر ہو سکتی ہے نہ کہ انشاء کے اندر فامکن تصحيح اللفظ بتدارک الغلط، پس ممکن ہوا لفظ کو لفظ کو صحیح قرار دینا، صحیح بنانا بتدارک الغلط في الاقرار غلطی کی تلافی کے ساتھ اقرار کے اندر۔ اقرار کے اندر غلطی کی تلافی کے ساتھ لفظ کو صحیح بنانا، یعنی اس کے حقیقی معنی پر رکھنا صحیح ہوا، دون الطلاق، طلاق کے اندر نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو انہوں نے کیا کہا بھئی؟ غلطی کا امکان کس کے اندر ہے؟ اخبار میں ہے، انشاء کے اندر نہیں۔ بھئی انشاء میں بھی تو غلطی کا امکان ہے۔ آپ وہ کہنا کچھ اور چاہتا تھا، زبان سے تیزی میں کچھ اور نکل گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب اس نے مدخول بہا بیوی سے کہا، کیا کہا؟ انت طالق واحدة لا بل ثنتین تو غلطی سے وہ دینا دو چاہتا تھا، غلطی سے کیا دے بیٹھا؟ ایک، تو اب وہ زبان سے غلطی سے نکل گیا تو غلطی کا امکان تو انشاء کے اندر بھی ہے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی، یہ طالق وغیرہ کے لفظ صریح ہیں اور اس کے اندر نیت کا کوئی دخل نہیں، یہ جب ایک دفعہ زبان سے ادا کر دیا تو یہ اپنا اثر ضرور دکھائے گا بھئی۔ یہ اپنا اثر، میں نے بتلایا تھا آپ کو پہلے بھی مسئلہ، آپ تسبیح پڑھ رہے ہیں، سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ، اچانک منہ سے نکل گیا انت طالق۔ بیوی کو فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق، نیت کی کوئی ضرورت نہیں، اس میں نیت کا اعتبار ہے ہی نہیں، یہ تو صریح لفظ ہے، نیت کے، تو وہاں دیکھا جاتا ہے جہاں کسی اور معنیٰ کا احتمال ہو، یہاں کسی اور معنیٰ کا احتمال ہی نہیں، اس کا معنیٰ تو ضرور ثابت ہو جائے گا، آپ کی زبان سے ادا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں انشاء کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، اخبار میں ہو سکتا ہے۔ حتی لو كان الطلاق بطريق الاقرار ہاں، کہتے ہیں اگر طلاق اخبار کے طریقے پر اس نے دی تو پھر اس میں بھی رجوع کرنا صحیح ہے۔ اگر طلاق اس نے کس طریقے پر دی؟ اخبار کے طریقے پر دی تو پھر اس کے اندر بھی رجوع صحیح۔ حتی لو كان الطلاق بطريق الاقرار، حتیٰ کہ اگر طلاق بھی اخبار کے طریقے پر ہوئی بان قال، اس صورت کہ اس نے یہ کہا كنت طلقتک امس واحدة، میں نے تجھے طلاق دی تھی گزشتہ کل ایک لا بل ثنتین، بلکہ، تو خبر دے رہا ہے۔ میں نے گزشتہ کل تجھے ایک طلاق دی تھی، نہیں بلکہ دو طلاقیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں يقع الثنتان، تو کتنی طلاقیں واقع ہو جائیں گی؟ دو طلاقیں واقع ہوں گی لما ذكرنا، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کس طریقے پر آئی بھئی؟ اخبار کے طریقے پر اور اخبار کے اندر کیا ہو سکتا ہے؟ رجوع ہو سکتا ہے۔ لھذا یہاں پر دو ہوں گی یوں کہو وہی طریقہ اس پہلی کے ساتھ اس نے کیا کردیا مزید کر دیا جمع کردیا چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 75 of 123