Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 26 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 81
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل ای هذا فصل، ثم للتراخی جی۔ اس فصل میں ہم حروف معانی میں سے تیسرا حرف ثم کی تفصیل پڑھیں گے بھئی۔ ثم کی تفصیل بھئی۔ تو ترتیب کچھ اس طرح ہوگی اس مسئلہ مسائل کی بھئی۔ سب سے پہلے ثم کا معنی بیان ہو جائے گا، سب سے پہلے ثم کا معنی بیان کریں گے، پھر اس کے بعد صاحبیں اور امام صاحب کا اختلاف ذکر کیا جائے گا۔ پھر اس کے بعد امام صاحب کی دلیل ذکر ہوگی، پھر اس کے بعد صاحبیں کی دلیل ذکر ہوگی، پھر اس کے بعد اس صاحبیں کی دلیل کا جواب دیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد چار مثالیں جی، چار مثالیں ذکر ہوں گی جن کے ضمن میں ایک ضابطہ اور ایک امام صاحب پر ہونے والا ایک اشکال اور اس کا جواب بھی ذکر ہوگا۔ ترتیب مسئلہ کس طرح ہوگی بھئی؟ سب سے پہلے ثم کا معنی ذکر کیا جائے گا، پھر اس کے بعد صاحبیں اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف ذکر ہوگا، پھر اس کے بعد امام صاحب کی دلیل آ جائے گی، پھر صاحبیں کی دلیل آ جائے گی، پھر امام صاحب کی طرف سے صاحبیں کی دلیل کا جواب دیا جائے گا بھئی۔ اس کے بعد چار مثالیں ذکر ہوں گی اور ان کے ضمن میں ایک ضابطہ بھی ذکر ہو جائے گا اور ایک امام امام صاحب پر وارد ہونے والا ایک اعتراض اور اس کا جواب بھی ذکر ہوگا۔ یہ ہے آج کے سارے سبق کا مختصر خلاصہ بھئی۔ تو یاد رکھو، کہتے ہیں سب سے پہلے بتلایا ثم للتراخی، ثم کس کے لیے آیا کرتا ہے؟ تراخی کے لیے، تراخی کا کیا معنی ہے؟ جی تاخیر و مہلت بھئی، تاخیر اور مہلت کے لیے یہ تاخیر اور مہلت کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی، میں نے کہا جاءنی زید ثم عمرون آیا میرے پاس زید پھر عمر تو دیکھیے اس ثم نے وہی مجیع جو زید کے لیے ثابت تھی اس کو کس کے لیے کر دیا؟ عمر کے لیے کر دیا لیکن ساتھ ساتھ تراخی کا فائدہ بھی دیا بتلایا کہ مجیع جو عمر کے لیے ثابت ہے وہ تھوڑی مہلت کے ساتھ ہے اور تاخیر کے ساتھ ہے یعنی زید پہلے آیا ہے اور اس کے تھوڑی دیر کے بعد کیا ہے عمر آیا ہے فورا اس کے بعد تو اس نے ترتیب کا بھی فائدہ دیا کہ ما قبل کے لیے پہلے حکم ثابت کیا اور ما بعد معطوف علیہ کے لیے پہلے ثابت کیا اور معطوف کے لیے بعد میں ثابت کیا اور درمیان میں ان دونوں کے مہلت کا فائدہ بھی دیا بتلایا کہ زید کے فورا بعد عمر نہیں آیا بلکہ اس کی تھوڑی دیر کے بعد آیا یہ فائدہ کس نے دیا بھئی؟ ثم نے دیا سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اسی طرح مثلاً میں کہتا ہوں ضربت زیدا ثم عمراً میں نے زید کی پٹائی کی پھر عمر کی پٹائی کی تو ثم نے کس بتلایا کہ وہ مضروبیت جو زید کے لیے ثابت ہے وہی کس کے لیے ثابت ہے؟ عمر کے لیے بھی ثابت ہے لیکن ترتیب و تراخی کے ساتھ کہ زید کی پٹائی پہلے ہوئی ہے اور اس کے تھوڑی مہلت کے بعد تھوڑی تاخیر کے بعد پھر کیا ہے عمر کے لیے عمر کی بھی پٹائی ہوئی ہے تو یہ تراخی کا فائدہ دیا ثم نے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب یاد رکھو، جی امام صاحب کا اور صاحبیں کا اختلاف ہے بھئی۔ امام صاحب اور صاحبیں کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ثم لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور حکم میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے۔ امام صاحب کے نزدیک بھئی یہ ساری باتیں متن میں بھی آ جائیں گی بھئی امام صاحب کے نزدیک ثم کیا ہے لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور حکم میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔ اور جبکہ صاحبیں کے نزدیک ثم صرف حکم میں تراخی کا فائدہ دیتا ہے لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا۔ صورت سمجھ میں امام صاحب کا کیا مذہب ہے؟ لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور حکم میں اور صاحبیں کے نزدیک صرف حکم میں تراخی کا فائدہ دیتا ہے لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا۔ بھئی دیکھیے لفظوں میں تراخی کیسے آئے گی آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ کیا معنی ہے لفظوں میں تراخی کا؟ امام ابو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آپ نے کہا جاءنی زید ثم عمرون اس ثم نے تراخی کا فائدہ دیا لیکن یہ تراخی لفظوں کے اندر بھی ہے اور حکم میں بھی۔ حکم کے اندر تو بات ظاہر ہے یعنی کہ زید پہلے آیا ہے خارج میں اور اس کے تھوڑی دیر کے بعد کون آیا ہے؟ عمر آیا ہے۔ نیز تو معلوم ہوا جو ثم سے میں پہلے تھا اس کے لیے حکم پہلے ثابت ہے اور جو ثم کے مابعد ہے معطوف اس کے لیے حکم تراخی کے ساتھ ثابت ہے اس کے لیے حکم کیا ہے؟ ثابت ہے (یعنی مجیع زید کے لیے پہلے ثابت ہے اور عمر کے لیے مجیع تراخی کے ساتھ ثابت ہے) تو دیکھا ثم نے حکم میں کس چیز کا فائدہ دیا؟ تراخی کا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یہ لفظوں میں تراخی دینے کا کیا معنی؟ بھئی لفظوں میں تراخی دینے تراخی کا فائدہ دینے کا یہ معنی کہ جب آپ نے کہا جاءنی زید ثم عمرون تو لفظوں میں بھی اس نے تراخی کا فائدہ دیا تو گویا آپ نے یوں کہا جاء جاءنی زید پھر کچھ دیر خاموش رہے پھر آپ نے کہا جاءنی عمرون اس یہ لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ کس نے دیا بھئی؟ ثم نے۔ تو لفظوں میں بھی تراخی ہے یعنی ثم سے ماقبل جو معطوف علیہ ہے وہ پہلے متکلم نے اس پر تکلم گویا کہ کیا اور پھر اس کے تھوڑی دیر بعد مہلت کے بعد گویا کہ اس نے کیا ہے؟ بھئی میں کہو ایک ساتھ رہا ہوں جاءنی زید ثم عمرون بول تو اکٹھا رہا ہوں بظاہر لیکن یہ ثم لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دے دیتا اور لفظوں میں بھی تراخی آ جائے گی اور یوں ہوا گویا کہ میں نے یوں کہا جاءنی زید پھر کچھ مہلت گزر کچھ وقت گزر گیا کچھ وقت کے بعد جا کے اب میں نے کہا جاءنی عمرون۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ثم فائدہ دیتا ہے تراخی کا کس چیز کے اندر؟ لفظوں میں بھی اور حکم میں بھی۔ یا اسی طرح جیسے میں نے کہاز ضربت زیدا ثم عمراً تو یہ کس طرف لفظوں میں حکم میں بھی تراخی آ گئی کیا معنی؟ زید کے لیے پہلے مضروبیت ثابت ہے اور اس کے کچھ دیر بعد معطوف کے لیے بھی وہ حکم ثابت ہے عمر کے لیے بھی وہ حکم ثابت ہے خارج میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اور لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دے گا لفظوں میں تراخی کا کیا معنی گویا میں نے یوں کہا کہا تو میں نے یوں ہے ضربت زیدا ثم عمراً لیکن ثم نے کیا فائدہ دے دیا کہ گویا آپ نے یوں کہا ضربت زیدا پھر کچھ دیر خاموش رہے بھئی کچھ مہلت کچھ وقت گزر گیا اس کے بعد پھر آپ نے کہا ضربت عمراً۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک ثم لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور حکم میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور صاحبیں کے نزدیک صرف حکم میں تراخی کا فائدہ دے گا لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا۔ امام صاحب کی دلیل بھئی۔ امام صاحب کی دلیل بھئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ثم کو وضع کیا گیا ہے تراخی کے لیے۔ ثم کو وضع کیا گیا ہے کس کے لیے؟ تراخی کے لیے یعنی یہ تراخی کا فائدہ دیتا ہے۔ اور اصل ہر شے میں ہے کامل ہونا۔ اصل ہر شے میں کیا ہے؟ کہ وہ کامل ہونی چاہیے بھئی اصل کیا ہے ہر چیز میں کہ وہ کیا ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے۔ اور کامل تراخی یہ ہے کہ لفظاً بھی ہو اور حکماً بھی ہو لفظاً بھی ہو اور حکماً بھی ہو لفظوں کے اعتبار سے بھی تراخی ہو اور حکم کے اعتبار سے بھی تراخی ہو۔ تو امام صاحب کی کیا دلیل ذکر ہوئی بھئی؟ جی بھئی یہ آپ کے حاشیہ نمبر نو میں لکھی ہوئی ہے بھئی آسان سی بات ہے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ ثم کس چیز کا فائدہ دیتا ہے تراخی کا یہ تراخی کے لیے وضع ہے تو یہ تراخی کا فائدہ دے گا اور اصل ہر چیز میں ہے کامل ہونا تو یہ کامل تراخی کون سی ہے؟ جی کہ لفظ میں بھی ہو لفظوں کے اعتبار سے بھی ہو اور حکم کے اعتبار سے بھی ہو۔ اس لیے کہ اگر صرف حکم کے اعتبار سے تراخی ہو تو پھر تو یہ کامل تراخی نہ رہی من وجہ تراخی ہے من وجہ تراخی نہیں ہے لفظوں کے اعتبار سے تراخی نہیں ہے اور حکم کے اعتبار سے تراخی ہے تو یہ کامل تراخی نہ رہی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا یوں کہہ لو المطلق اذا یطلق یراد به الفرد الکامل مطلق کا جب مطلق بولا جائے تو اس سے کیا ارادہ مراد ہوتا ہے؟ فرد کامل۔ ضابطہ پڑھا ہے یا نہیں آپ نے؟ المطلق اذا یطلق یراد به الفرد الکامل کہ مطلق جب کا جب اطلاق کیا جائے اس کو اس کو بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فرد کامل۔ اور ائمہ کیا فرماتے ہیں کہ ثم کس کس چیز کا فائدہ کس کے لیے وضع ہے؟ تراخی کے لیے۔ اور تراخی کی تین صورتیں ہیں۔ تراخی صرف لفظوں کے اعتبار سے ہو تراخی دوسری صورت تراخی صرف حکم کے اعتبار سے ہو اور تیسری صورت کہ تراخی لفظوں کے اعتبار سے بھی ہو اور حکم کے اعتبار سے بھی ہو۔ تو تراخی کے تین افراد ہو گئے۔ ایک تراخی فی اللفظ فقط اور ایک صرف تراخی تراخی فی الحکم اور ایک تراخی فی الحكم واللفظ جمیعاً دونوں میں آ گئی تراخی اور ان میں سے کامل تراخی کون سی ہے؟ لفظاً بھی اور معناً بھی تو مطلق تراخی کہا گیا اور تو اس سے مراد کامل تراخی ہوئی اور کامل تراخی کون سی ہے؟ لفظاً اور معناً بھئی۔ لفظاً اور حکماً دونوں اعتبار سے ہو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ امام صاحب کی دلیل ہے کہ المطلق اذا یطلق یراد به الفرد الکامل بھئی تو اس سے کامل تراخی مراد ہوگی۔ صاحبیں کی دلیل سنو بھئی۔ صاحبیں فرماتے ہیں کہ یہ ثم عطف کا عطف کے لیے آتا ہے عطف کے ساتھ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تراخی کا بھئی۔ جس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے مولانا عطف کیا جاتا ہے اور یہ تراخی کا فائدہ دیتا ہے اگر یہ لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دے پھر تو عطف ہی صحیح نہیں رہے گا۔ میں نے کیا کہا؟ جاءنی زید ثم عمراً صاحبیں کی دلیل کیا ذکر ہوئی بھئی؟ اگر لفظوں میں بھی تراخی مان لی جائے تو عطف ہی صحیح نہیں رہے گا۔ میں نے کہا جاءنی زید اور ثم عمراً تو دیکھیے ثم کے مابعد کیا ہے؟ عمر ہے کیا ہے؟ عمر ہے تو گویا کہ تھوڑی دیر پہلے آپ نے کہا جاءنی زید اور کافی دیر کے بعد پھر آپ نے کیا کہہ دیا؟ عمراً۔ کیا کہا؟ عمراً۔ تو اب اس کا تو عطف ہی صحیح نہیں ہے بھئی کیونکہ ماقبل کلام سے یہ کیا ہو چکا ہے؟ جدا ہو چکا ہے۔ جدا ہوا ہے یا نہیں؟ ثم نے لفظوں میں تراخی کا فائدہ دیا یا نہیں دیا بھئی؟ جب وہ اس سے جدا ہو گیا بڑی دیر کے بعد آپ نے کہا مہلت کے بعد آپ نے کہا تو پھر تو عطف ہی صحیح نہ رہا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صاحبیں کی کیا دلیل ہوئی؟ کہ اگر اس کو یہ ذرا لفظوں میں تراخی کا فائدہ اگر اس سے لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دے گا تو پھر تو عطف ہی صحیح نہیں رہے گا، عطف ہی صحیح نہیں رہے گا۔ جواب دیتے ہیں بھئی امام صاحب کی طرف سے۔ جواب یہ کہ بھئی عطف کے لیے صورتاً اتصال کافی ہے۔ عطف کے لیے صورتاً اتصال کافی ہے۔ صورت اتصال ہے یا نہیں؟ میں نے تو اکٹھا ہی کہا تھا جاءنی زید ثم عمراً کہا تو میں نے اکٹھا ہی تھا تو صورتاً اتصال ہے یا اتصال نہیں ہے بھئی؟ صورت اتصال ہے۔ اگرچہ لفظوں کے اندر کیا آ گئی؟ تراخی کا فائدہ اس نے دیا گویا کہ میں نے دیر سے کہا بعد کو لیکن فی الحال لفظوں کے اعتبار سے صورت کیا ہے؟ اتصال ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو عطف کے لیے کہتے ہیں صورتاً اتصال ہی کافی ہے کافی ہے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اس پر چار مثالیں ذکر کریں گے۔ چار مثالیں ذکر کریں گے۔ دیکھیے بھئی ثم للتراخی ثم تراخی کے لیے آتا ہے لکنہ عند ابی حنیفة رحمه الله تعالى يفيد التراخی فی اللفظ لكن امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فائدہ دیتا ہے تراخی کا فی اللفظ لفظوں میں بھی والحکمی اور حکم میں بھی وعندهما يفيد التراخی فی الحکم اور صاحبیں يفيد التراخی یا فی الحکم فائدہ دیتا ہے تراخی کا کس میں؟ حکم میں۔ وجہ وبيانه فيما اور بیان اس اختلاف کا جی اس صورت میں ہے اذا ائمہ ہمارا اختلاف بھئی چار مثالیں ذکر کریں گے چار مثالیں بھئی اور ان کے میں مختلف اختلاف کی صورت جو یہ جو صاحبیں اور امام صاحب کا اختلاف ہے اس پر دیکھیے مسائل کہتے ہیں متفرع ہوں گے بھئی۔ समझ में आया؟ ثم کے ساتھ بھئی۔ وبيانه اور بیان اس کا یہ ہے فیما اس صورت میں اذا قال جب کہا کسی خاوند نے غیر مدخول بھا سے بھئی۔ غیر مدخول بھا وہ عورت جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہ کی ہو ملاقات نہ کی ہو اس کے ساتھ جمع نہ کیا ہو اور یہ ضابطہ یاد رکھو مسئلہ سمجھنے سے پہلے بھئی کہ غیر مدخول بھا عورت جو ہوتی ہے وہ ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جاتی ہے۔ ایک ہی طلاق سے کیا ہو جایا کرتی ہے؟ اس کو رجعی طلاق بھی دے دو تو وہ خود بخود طلاق کیا بن جائے گی؟ بائنہ بن جائے گی اور اس پر عدت بھی نہیں ہے بھئی عدت تو کس کی وجہ سے آتی ہے؟ جماع کی وجہ سے عدت آتی ہے لیکن یہاں پر عدت بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس پر عدت نہیں ہے تو اس کو طلاق رجعی بھی دے دی تو کیا ہو جائے گی فورا بائنہ ہو جائے گی نکاح ختم ہو جائے گا ٹوٹ جائے گا۔ بیان اس کا اس وہ وبیانه اور بیان اس اختلاف کا فیما اس صورت کے اندر اذا قال لغیر المدخول بھا جب خاوند خان نے جب خاوند نے کہا ان دخلت الدار فانتی طالق ثم طالق ثم طالق بھئی۔ اب دیکھو بھئی، بڑے عجیب مسائل بھئی۔ امام صاحب کے نزدیک، دیکھو بھئی، خاوند نے اپنی بیوی سے کیا کہا؟ "ان دخلت الدار" (اگر تو گھر کے، اس گھر کے اندر داخل ہوئی) "فانت طالق" (تو تجھے طلاق ہے) "ثم طالق ثم طالق"۔ تو یہاں "ثم" لے کر آیا اور امام صاحب کے نزدیک "ثم" کس لیے آیا کرتا ہے؟ لفظوں میں بھی تراخی کا فائدہ دیتا ہے اور حکم میں بھی تراخی کا، یعنی معطوف والا حکم بھی تاخیر سے تراخی کے ساتھ ثابت ہوتا ہے۔ تو دیکھیے خاوند نے جب کہا، امام صاحب فرماتے ہیں: "ان دخلت الدار" اگر تو گھر کے اندر داخل ہوئی "فانت طالق" تو تجھے طلاق، تو پہلی طلاق تو معلق ہو گئی۔ پہلی طلاق تو کیا ہو گئی؟ معلق۔ اب اس گھر میں بیوی داخل ہو گی تو یہ طلاق واقع ہو گی، گھر میں جب تک داخل نہیں ہوتی یہ طلاق بھی واقع نہیں ہو گی۔ پھر اس کے بعد خاوند نے کہا "ثم طالق"، "ثم" لے کر آیا اور "ثم" نے لفظوں میں بھی کس چیز کا فائدہ دیا؟ تراخی کا۔ تو عطف تو صحیح ہے، تو "ثم" کس کی خبر بن رہی ہے؟ "انت" کی۔ کس کی؟ "انت" کی۔ اور "طالق" کس کی خبر بن رہی ہے؟ "ثم طالق" جو ہے، یہ "طالق" کا عطف کس پر ہے؟ ماقبل والے "طالق" پر ہے اور وہ خبر ہے کس کی؟ "انت" کی۔ تو عطف تو صحیح ہے، تو لہٰذا گویا خاوند نے کافی دیر کے بعد کہا: "انت طالق"۔ "ثم طالق" جو ہے، گویا کہ خاوند نے کچھ دیر کے بعد کیا کہا ہے؟ "انت طالق" کہا۔ لہٰذا یہ دوسری طلاق فوراً واقع ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ اس کے ساتھ، یہ طلاق دخولِ دار کے ساتھ معلق نہیں ہو گی۔ یہ طلاق دخولِ دار کے ساتھ معلق نہیں ہو گی کیونکہ اس کے ساتھ اس نے شرط ذکر کی ہے؟ نہیں، اس کے ساتھ شرط نہیں ذکر کی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ طلاق فوراً واقع ہو جائے گی اور "انت طالق"، یہ "طالق" لفظ صریح ہے یا کنایہ ہے؟ صریح ہے اور صریح سے کون سی طلاق واقع ہوا کرتی ہے؟ طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے۔ تو یہ، اور لیکن یہ عورت کون سی ہے؟ غیر مدخول بہا ہے، لہٰذا اس کے لیے رجعی اس کو بھی کیا ہوا ہو جایا کرتی ہے؟ بائن بھئی اس کے لیے، تو فوراً کیا ہو جائے گی وہ عورت؟ بائنہ ہو جائے گی، نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اور پھر تیسرا پھر اس نے کہا تھا "ثم طالق"، تو گویا کہ یوں ہے، تھوڑی دیر بعد پھر اس نے کہا "انت طالق"۔ تو اب یہ تیسری طلاق آ گئی مولانا، یہ کیا ہو گی؟ کہتے ہیں یہ لغو ہو جائے گی۔ یہ تیسری طلاق کیا ہو جائے گی؟ لغو، کیونکہ نکاح ٹوٹ چکا، نکاح ختم ہو چکا۔ جب نکاح ختم ہو چکا تو اس طلاق کے وقوع کا کوئی محل ہے؟ طلاق کے وقوع کا محل ہی نہ رہا، اس کی ملکیت ہی نہ رہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ جبکہ صاحبین کے نزدیک، تو دیکھیے امام صاحب کے نزدیک کیا کہا؟ "ان دخلت الدار فانت طالق ثم طالق ثم طالق" کہا، تو پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ معلق ہو جائے گی دخولِ دار کے ساتھ، اور دوسری طلاق فی الحال کیا ہو جائے گی؟ واقع ہو جائے گی اور یہ بائنہ ہو جائے گی، اور تیسری طلاق کیا ہو جائے گی؟ لغو چلی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ مسئلہ اسی طرح، دوسری طرح ہے۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ "ان دخلت الدار فانت طالق ثم طالق ثم طالق"، یہ جو "ثم" آیا اور "ثم" پھر حکم میں، حکم میں تراخی کا فائدہ دیتا ہے، لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا، تو لہٰذا اس نے متصلاً کہا ہے سارے لفظوں کو، تو یہ ساری جزا بن جائیں گی شرط کی۔ اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، پھر طلاق ہے، پھر طلاق۔ تو جب متصلاً کہا تو تینوں کیا بن جائیں گی؟ جزا بن جائیں گی، تینوں معلق ہو جائیں گی اس شرط کے ساتھ بھئی۔ تو لہٰذا ایک بھی واقع نہیں ہو گی، تینوں طلاقیں کیا ہو جائیں گی؟ معلق، کیونکہ "ثم" نے لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیا، لفظوں میں تراخی آتی تو گویا اس نے الگ سے "انت طالق" کہا ہے۔ لیکن یہاں تو وہ اکٹھا کہہ رہا ہے، تو لہٰذا تینوں کیا ہو جائیں گی شرط کے ساتھ معلق۔ اب وہ عورت، اس عورت کو طلاق نہیں ہو گی۔ ہاں، جب اس گھر کے اندر داخل ہو گی تو جیسے ہی داخل ہو گی، کیا ہو گا؟ جی؟ اکٹھی واقع ہوں گی یا ایک واقع ایک واقع ہو گی؟ بھئی ایک ایک، خارج میں بھی تراخی آ جائے گی، تو پہلے ایک ہو، پہلی ہو جائے گی، پھر اس کے کچھ دیر بعد دوسری، پھر اس کے کچھ دیر بعد تیسری ہو گی۔ تو ترتیب سے واقع ہوں گی، تو جیسے ہی گھر میں داخل ہو گی، پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ فوراً واقع ہو جائے گی، اور جب فوراً واقع ہو گی تو وہ عورت کیا ہو جائے گی؟ پہلی طلاق کے ساتھ ہی بائنہ، کیونکہ وہ غیر مدخول بہا ہے۔ اور پھر کچھ دیر کے بعد دوسری طلاق واقع ہو گی، لیکن وہ لغو چلی جائے گی کیونکہ اب تو اس سے نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ پھر کچھ دیر کے بعد تیسری نے واقع ہونا تھا، لیکن وہ بھی کیا چلی جائے گی؟ لغو چلی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک دوسری والی "ثم طالق" والی طلاق واقع ہو گئی تھی اسی وقت بھئی، اور صاحبین کے نزدیک تینوں معلق ہوئیں، لیکن جب واقع ہوں گی تو پھر ترتیب اور تراخی کے ساتھ ہوں گی، تو پہلی کے ساتھ ہی وہ بائنہ ہو جائے گی، تو اگلی دونوں کیا چلی جائیں گی؟ لغو چلی جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی۔ جب کہا خاوند نے "لغیر المدخول بها" غیر مدخول بہا سے "ان دخلت الدار فانت طالق ثم طالق ثم طالق"، "فعنده" تو امام صاحب کے نزدیک "يتعلق الاولى بالدخول" پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ متعلق ہو جائے گی کس سے؟ دخول کے ساتھ، یعنی معلق ہو جائے گی دخول کے ساتھ۔ "وتقع الثانية في الحال" اور واقع ہو جائے گی ثانی، دوسری طلاق فی الحال ہی، اسی وقت واقع ہو جائے گی، تو اسی سے کیا ہو جائے گی؟ بائنہ۔ لہٰذا اور "ولغت الثالثة" اور تیسری طلاق کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی بھئی، ضائع چلی جائے گی۔ "وعندهما" اور صاحبین کے نزدیک "يتعلق الكل بالدخول" کہ تینوں متعلق معلق ہو جائیں گی کس کے ساتھ؟ سارے کے سارے معلق ہو جائیں گے دخول کے ساتھ۔ "ثم عند الدخول يظهر الترتيب" پھر دخول کے وقت کیا ظاہر ہو گی؟ ترتیب ظاہر ہو گی۔ "فلا يقع إلا واحدة" بھئی، پس واقع نہیں ہو گی مگر ایک ہی طلاق، یا "فلا تقع" ہونا چاہیے لیکن بہرحال "يقع" ہی تھا۔ "فلا يقع إلا واحدة"، تو ایک ہو واقع نہیں، واقع ہو گی مگر ایک ہی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی صاحبین کے نزدیک تو بات ظاہر سی ہے، تینوں طلاقیں معلق ہو گئیں اور جیسے ہی دخولِ دار پایا جائے گا، پہلے ایک واقع ہو جائے گی، پھر دوسری ہونی چاہیے، پھر کون سی ہونی چاہیے؟ لیکن دوسری اور تیسری ضائع چلی جائیں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ امام صاحب نے کیا ذکر کیا تھا کہ پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ معلق ہو جائے گی اور دوسری واقع ہو جائے گی اور تیسری کیا ہو جائے گی؟ لغو ہو جائے گی، لغو ہو جائے گی۔ اس پر امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے کہ یہاں پر آپ نے کیا کیا؟ جی؟ پہلی کو کیا کیا ہے؟ معلق، تو ثانی کا عطف بھی تو کس پر ہو رہا ہے؟ پہلے جزا پر بھئی، کس پر؟ اور پہلی جزا بن رہی ہے شرط کے لیے، تو لہٰذا جب آپ عطف صحیح قرار دیتے ہیں، تو عطف کی صورت میں تو یہ بھی کس کا حصہ بن جاتی ہے؟ جزا کا بھئی، تو اور وہ جزا جو تھی وہ تو معلق ہے کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، لہٰذا اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ معلق ہونا چاہیے، اور تیسری کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ اعتراض سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ آپ نے عطف اے امام صاحب، آپ عطف کو صحیح مانتے ہیں کہ مع اتصال ہے، جب عطف صحیح ہو گا تو عطف تو ہو گا کس پر مولانا؟ جی؟ جزا کے جزا میں کے اندر جو "طالق" آیا اس پر عطف ہو گا اور وہ تو کیا بن جائے گا؟ شرط کے لیے جزا، وہ جو معطوف علیہ ہے، وہ تو معلق ہو رہا ہے، تو جب اس کا عطف اس پر ہوا، تو ان طلاقوں کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ معلق ہونا چاہیے۔ جب عطف صحیح ہے تو لہٰذا ان تینوں کو کیا ہو جانا چاہیے؟ معلق بھی ہونا چاہیے اس شرط کے ساتھ۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ جواب دیتے ہیں امام صاحب کہ بھئی عطف کے لیے صورۃً اتصال کافی ہے، جبکہ تعلیق کے لیے صورۃً بھی اتصال ہونا چاہیے اور معنۃً بھی کیا ہونا چاہیے؟ اتصال ہونا چاہیے بھئی۔ صورت، جواب سمجھ میں آیا؟ تو تعلیق، عطف تو ہو جائے گا۔ جب عطف ہو جائے گا تو اس کے لیے وہ پہلے معطوف علیہ والا حکم اس کے لیے ہو گا، پہلے معطوف علیہ خبر تھا کس کے لیے؟ "انت" کے لیے، تو اس کے لیے بھی یہ بھی خبر بن جائے گا کس چیز کی؟ "انت" کی۔ کیا بن جائے گا "انت" کی؟ بھئی کہا تو صرف "ثم طالق" ہے، لیکن "طالق" صرف "طالق" ہو تو بات کوئی پوری ہوتی ہے؟ اس کے لیے مبتدا چاہیے یا نہیں چاہیے؟ تو عطف ہو گیا، تو اس وقت اس پہلے "طالق" پر، اور اس پہلے وہ پہلا "طالق" تو خبر ہے کس کی؟ "انت" کی، تو یہ بھی خبر بن گیا کس کی؟ "انت" کی، لہٰذا اس کے لیے اس سے بھی مبتدا نکال لیں گے "انت طالق" بھئی، سمجھ میں آیا؟ جملہ پورا ہے، بات پوری ہو گی اس کی بھی، اس میں بھی۔ لیکن تعلیق نہیں ہو گی، کیونکہ عطف تو اس لیے ٹھیک تھا کہ صورۃً اتصال تھا، اور تعلیق اس لیے نہیں صحیح کہ صورۃً تو اتصال ہے لیکن معنۃً اتصال، اور تعلیق کے لیے تو صورۃً بھی اتصال چاہیے اور معنۃً بھی اتصال چاہیے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ امام صاحب کے نزدیک پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ معلق، اور دوسری طلاق سے یہ عورت کیا ہو جائے گی فوراً؟ بائنہ۔ جب بائنہ ہو گئی تو تیسری لغو چلی گئی، تو یہ عورت ایک طلاق سے بائنہ ہوئی ہے، ایک طلاق سے بائنہ ہوئی ہے۔ اور یاد رکھو، پہلی طلاق جو معلق ہے وہ تعلیق ختم نہیں ہو گی۔ وہ تعلیق اپنے حال پر باقی رہے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ ضابطہ ہے بھئی، ہمارے نزدیک زوالِ ملک سے تعلیق ختم نہیں ہوتی۔ ہمارے نزدیک اہم ضابطہ ہے مولانا، بہت سے مسائل میں آپ کے کام آئے گا۔ ہمارے نزدیک زوالِ ملک سے تعلیق ختم نہیں ہوتی، بشرطیکہ زوالِ ملک ایک یا دو طلاق کے ساتھ ہو۔ بشرطیکہ زوالِ ملک ایک یا دو طلاق کے ساتھ ہو۔ ہاں، اگر زوالِ ملک تین طلاق سے ہو تو پھر تعلیق ختم ہو جاتی ہے۔ اگر زوالِ ملک کتنی طلاقوں کے ساتھ ہو؟ تین طلاقوں کے ساتھ ہو، تو پھر تعلیق ختم ہو جاتی ہے۔ بھئی ادھر دیکھو بھئی، وقت نہیں ہے بھئی، جلدی دیکھو بھئی۔ ہمارے ہاں بھئی زوالِ ملک سے تعلیق ختم نہیں ہوتی، اب دیکھو اس عورت سے اس خاوند کی ملکیت ختم ہو چکی ہے، لیکن زوالِ ملک سے تعلیق ختم، وہ پہلی طلاق جو معلق ہو گئی تھی ابھی بھی معلق رہے گی۔ لیکن یہ تعلیق اس وقت باقی رہتی ہے جبکہ زوالِ ملک کتنے سے ہوا ہو؟ ایک یا دو، اور یہاں پر زوالِ ملک کتنی طلاقوں سے ہوا؟ ایک طلاق سے، لہٰذا وہ تعلیق ابھی بھی باقی ہے۔ ہاں، اگر تعلیق، زوالِ ملک تین طلاقوں سے ہو جائے پھر تو ملکیت ہی بالکل ختم ہو جایا کرتی ہے، لہٰذا اب کیا ہے؟ آئندہ جو آئے گی دوبارہ نکاح کرے گا، وہ تو جدید ملکیت ہوا ہوتی ہے، لہٰذا اب اس تعلیق کا اثر اس کے اندر ظاہر نہیں ہو گا، ختم ہو جائے گی۔ تو تعلیق تین، اگر زوالِ ملک تین طلاقوں سے ہو تو پھر کیا ہو جائے گا؟ تعلیق ختم ہو جائے گی۔ لہٰذا، یہاں ابھی بھی تعلیق باقی ہے۔ اب اگر وہ عورت طلاق کے بعد اس گھر میں چلی جائے گی تو وہ تعلیق اب ختم ہو گی۔ طلاق تو واقع نہیں ہو گی کیونکہ خاوند سے تو وہ پہلے ہی جدا ہو چکی ہے، لیکن اس گھر کے اندر جائے گی تو اب دخولِ دار پایا گیا اور اب طلاق واقع ہونی تھی، لیکن اب طلاق تو واقع ہو نہیں۔ لیکن اگر وہ اس گھر کے اندر ابھی نہیں گئی تھی، اس نے دوبارہ اسی خاوند سے نکاح، اسی آدمی سے نکاح کر لیا، تو اب وہ تعلیق ابھی بھی ہے، اب وہ جس وقت بھی گھر میں جائے گی اب تو وہ محل ہے، پھر کیا ہو جائے گی وہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا مسئلہ؟ "ولو قال انت طالق ثم طالق ثم طالق ان دخلت الدار فعند ابي حنيفة رحمه الله تعالى وقعت الاولى في الحال ولغت الثانية والثالثة" "وعندهما يقع الواحدة عند الدخول لما ذكرنا" دوسری صورت بھئی، پہلی صورت کیا تھی کہ عورت غیر، بیوی کیا ہے اس کی؟ غیر مدخول بہا ہے اور اس نے پہلے شرط ذکر کی تھی، شرط پہلے ذکر کی تھی۔ اور اب دوسری صورت ہے کہ شرط کو مؤخر کر دے اور جزا کو کیا کر دے؟ مقدم کر دے، یوں کہے۔ "انت طالق ثم طالق ثم طالق ان دخلت الدار"، تو دیکھو شرط کیا ہو گئی؟ مؤخر ہو گئی۔ ضابطہ میں بتلا چکا ہوں امام صاحب کے نزدیک کس طرح ہو گا اور صاحبین کے نزدیک کس طرح، اب آپ خود بھی نکال سکتے ہیں۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس نے گویا یوں کہا: "انت طالق"، پھر کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس نے کہا: "انت طالق"، پھر کچھ دیر خاموش رہا، پھر کہا: "انت طالق ان دخلت الدار"۔ کیونکہ لفظوں میں بھی تراخی آئے گی اور حکم میں تو اور حکم میں بھی، تو لفظوں میں تراخی یہ گویا پہلے اس نے کیا کہا؟ "انت طالق"، پھر کچھ دیر مہلت کچھ وقت گزر گیا، پھر اس کے بعد اس نے کہا: "انت طالق"، پھر کچھ وقت گزر گیا، پھر اس نے کہا: "انت طالق ان دخلت الدار"۔ تو اب دیکھیے، "انت طالق" جب کہا تو پہلی فوراً واقع ہو گئی۔ پہلی کیا ہو گئی فوراً؟ واقع ہو گئی، اور کون سی واقع ہوئی؟ رجعی، لیکن عورت کیا ہے؟ غیر مدخول بہا ہے، لہٰذا فوراً بائنہ ہو گئی ایک ہی کے ساتھ بھئی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد گویا اس نے یوں کہا "انت طالق"، یہ لغو چلی گئی مولانا، کیونکہ وہ تو کیا ہو چکی ہے؟ بائنہ ہو چکی ہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے کہا: "انت طالق ان دخلت الدار" (اگر گھر میں داخل ہوئی تو تجھے، اگر فلاں گھر میں اس گھر میں تو داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے)۔ تو یہ اب تیسری تعلیق معلق ہونی تھی، لیکن اب تو تعلیق کس کی کر رہا ہے؟ نکاح تو پہلے سے ہی ٹوٹ چکا ہے، اب طلاق کا یہ حق رکھتا ہے؟ طلاق کا حق نہیں رکھتا، لہٰذا دوسری لغو بھئی اور تیسری بھی کیا چلی گئی؟ لغو چلی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات کر رہے ہیں۔ "ولو قال انت طالق ثم طالق ثم طالق ان دخلت الدار فعند ابي حنيفة رحمه الله وقعت الاولى في الحال ولغت الثانية والثالثة" امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک واقع ہو جائے گی پہلی طلاق فی الحال، فوری طور پر اسی وقت، "ولغت الثانية والثالثة" اور دوسری اور تیسری لغو ہو جائے گی۔ "وعندهما يقع الواحدة" اور صاحبین کے نزدیک، صاحبین کے نزدیک تو "ثم" صرف حکم میں تراخی کا فائدہ دیتا ہے، لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا۔ جب لفظوں میں تراخی نہیں، تو یہ تینوں "انت طالق ثم طالق ثم طالق" یہ تینوں متصل ہوئیں کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، تو تینوں معلق ہو جائیں گی۔ تینوں کیا ہو جائیں گی؟ معلق ہو جائیں گی۔ اب جب وہ عورت اس گھر کے اندر داخل ہو گی، تو فوراً پہلی طلاق واقع ہو جائے گی۔ پہلی طلاق کیا ہو جائے گی؟ اور پہلی کے واقع ہوتے ہی اس عورت کو، وہ عورت کیا ہو جائے گی؟ بائنہ ہو جائے گی بھئی۔ پھر کچھ دیر کے بعد دوسری بھی واقع ہو جائے گی، پھر کچھ دیر کے بعد تیسری بھی واقع ہو جائے گی، کیونکہ دخولِ دار پہ تینوں طلاقوں نے آنا تھا اور دخولِ دار پایا گیا، تو تینوں طلاقیں آئیں گی، لیکن ترتیب اور تراخی کے ساتھ، پہلے ایک آ گئی، تھوڑی دیر کے بعد دوسری، کچھ دیر کے بعد، تو پہلی سے جب وہ بائنہ ہو چکی ہیں تو اب بھی دوسری اور تیسری کیا ہو جائیں گی؟ لغو ہو جائیں گی۔ "وعندهما يقع الواحدة عند الدخول" اور صاحبین کے نزدیک ایک ہی طلاق واقع ہو گی گھر میں داخل ہوتے وقت۔ "لما ذكرنا" اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی، وہ جو وجہ ہم نے ذکر کی بھئی کہ ان کے نزدیک لفظوں میں تراخی کا فائدہ نہیں دیتا صرف حکم میں تراخی۔ "وإن كانت المرأة مدخولاً بها" اور اگر عورت کیا ہو؟ مدخول بہا ہو بھئی۔ تو اس صورت میں اب اس کی تو تین طلاقیں ہیں۔ غیر مدخول بہا تو کتنے سے بائنہ ہو جاتی تھی؟ اور یہاں اس کی تو تین ہو سکتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایک رجعی سے بھی بائنہ نہیں ہو گی، دوسری سے رجعی سے بھی بائنہ نہیں ہو گی، ہاں تیسری بھی دے دے تو پھر کیا ہو جائے گی؟ بائنہ مغلظہ ہو جائے گی۔ لہٰذا اب مسئلہ تھوڑا سا بدلے گا، ہاں ضابطہ اسی طرح رہے گا۔ تو اس کو اگر کہا، کہتے ہیں "وإن كانت المرأة مدخولاً بها" اگر عورت مدخول بہا تھی "فإن قدم الشرط" پس اگر خاوند نے شرط کو کیا کر دیا؟ مقدم کر دیا اور یوں کہا "إن دخلت الدار فأنت طالق ثم طالق ثم طالق"، تو "إن دخلت الدار" شرط کو مقدم کر دیا۔ تو پہلی طلاق تو کیا ہو گئی شرط کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک؟ معلق۔ پھر تھوڑی دیر بعد گویا اس نے پھر کہا "أنت طالق"۔ تو پہلی طلاق تو تھی معلق، دوسری طلاق فوراً واقع ہو جائے گی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد گویا اس نے یوں کہا "أنت طالق"، دوسری بھی کیا ہو جائے گی؟ کیونکہ پہلی رجعی واقع ہوئی تھی اور رجعی سے تو نکاح ٹوٹتا نہیں۔ تو لہٰذا دوسری بھی واقع ہو جائے گی۔ اور تیسری معلق رہے گی بھئی۔ کیا رہے گی؟ معلق۔ اب وہ جب گھر کے اندر داخل ہو گی، تو تیسری بھی واقع ہو جائے گی۔ اور صاحبین کے نزدیک؟ تینوں کی تینوں کیا ہو جائیں گی؟ معلق ہو جائیں گی۔ اور جب بھی وہ گھر میں داخل ہو گی، تو پہلے ایک واقع ہو جائے گی۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسری واقع ہو جائے گی، اور پھر تھوڑی دیر کے بعد تیسری واقع۔ تو امام صاحب کے نزدیک فی الحال دو ہو جائیں گی اور ایک معلق رہے گی، اور صاحبین کے نزدیک تینوں معلق رہیں گی، ایک بھی اس وقت نہیں ہو گی۔ جب وہ گھر میں جائے گی تو پھر تھوڑی تھوڑی دیر اس کے بعد تینوں طلاقیں ہو جائیں گی۔ "فإن قدم الشرط" اگر مقدم کر دی، خاوند نے مقدم کر دیا شرط کو، "تعلقة الأولى بالدخول" تو پہلی طلاق معلق ہو جائے گی کس کے ساتھ؟ دخول کے ساتھ۔ "ويقع ثنتان في الحال" اور دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی فی الحال "عند أبي حنيفة رحمه الله" امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "وإن أخر الشرط" اور اگر شرط کو کیا کر دیا؟ عورت مدخول بہا ہے اور شرط کیا ہے؟ مؤخر کر دی بھئی۔ کیا؟ یوں کہا "أنت طالق ثم طالق ثم طالق إن دخلت الدار"، تو شرط مؤخر کر دی، "إن دخلت الدار" کو مؤخر کیا۔ اب تو امام صاحب کے نزدیک گویا اس نے یوں کہا "أنت طالق"—تو یہ طلاق فوراً کیا ہو گئی؟ واقع ہو گئی۔ پھر تھوڑی دیر بعد کہا "أنت طالق"، دوسری بھی کیا ہو گئی؟ فوراً واقع ہو گئی۔ اور تیسری طلاق کیا ہو جائے گی دخولِ دار کے ساتھ؟ معلق ہو جائے گی بھئی۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک تینوں معلق ہو جائیں گی۔ "وإن أخر الشرط" اور اگر شرط کو مؤخر کر دیا "وقع ثنتان في الحال" تو واقع ہوں گی دو طلاقیں فی الحال "وتعلقت الثالثة بالدخول" اور تیسری معلق ہو جائے گی کس کے ساتھ؟ دخولِ دار کے ساتھ۔ "وعندهما يتعلق الكل" اور صاحبین کے نزدیک معلق ہو جائیں گی ساری کی ساری "بالدخول" کس کے ساتھ؟ دخول کے ساتھ "في الفصلين" دونوں صورتوں میں، دونوں فصلوں میں—یعنی چاہے شرط مقدم ہو، چاہے شرط مؤخر ہو، اور جبکہ عورت مدخول بہا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو درمیان میں ایک اعتراض بھی میں نے ذکر کیا تھا، وہ بھی ذہن میں رکھنا کہ امام صاحب پر اعتراض پھر ہوتا ہے کہ آپ نے عطف کو کیا کر لیا؟ مان لیا۔ جب عطف کو مان لیا تو عطف کس پر ہو رہا ہے؟ جزا کے جز پر ہو رہا ہے، تو لہٰذا اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ باقیوں کو بھی معلق ہونا چاہیے، یہ بھی جزا بننی چاہئیں۔ تو امام صاحب کی طرف سے جواب کیا دیا تھا ہم نے بھئی؟ کہ عطف کے لیے تو صورۃً اتصال کافی ہے۔ اور صورۃً اتصال ہوا تو عطف صحیح ہوا، جب عطف صحیح ہوا تو یہ بھی خبر بن گئی اسی مبتدا کے لیے، تو اس کے لیے بھی مبتدا وہی بن جائے گا تو یہ پورا کلام ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جب پورا کلام ہو جائے گا، تو اب اس سے طلاقیں واقع ہوتی چلی جائیں گی۔ البتہ یہ معلق کیوں نہیں ہو گی؟ اس لیے کہ تعلیق کے لیے صورۃً بھی اتصال ہونا چاہیے اور معنۃً بھی اتصال ہونا چاہیے۔ تو یہاں صورۃً تو اتصال ہے، معنۃً اتصال نہیں ہے، اس لیے یہ باقی معلق نہیں ہوں گی، جزا کے ساتھ نہیں ملیں گی بھئی۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 74 of 123