اچھا، مولانا! حروفِ معانی کی بحث ہم پڑھ رہے تھے۔ حروفِ معانی میں سب سے پہلے واو کا ذکر کیا صاحبِ کتاب نے بھئی۔
اور واو کے بارے میں بتلایا کہ واو کا حقیقی معنی کیا ہے؟ جمعِ مطلق ہے۔ یہ جمعِ مطلق کے لیے آئے گا، یعنی عطف کے لیے آئے گا۔
اور اس کا مجازی معنی کیا ہے؟ حال۔ تو واو کبھی حال کے لیے بھی آئے گا، لیکن یہ اس کا مجازی معنی ہے۔
اور مجازی معنی مراد لینے کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے۔ پہلی شرط کیا ہے؟ کہ وہ محل کیا ہو، مجاز کا احتمال بھی رکھتا ہو، یعنی مجازی معنی لینا ممکن بھی ہو، اور دوسری شرط کیا ہے؟ کہ تعئینِ مجاز اور تعذرِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی قائم ہو، قائم ہو۔
یا یوں کہیں، آسان لفظوں میں آپ یوں کہہ لیں، تین شرطوں کا ہونا ضروری ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تین شرطوں کا ہونا ضروری ہے۔ اول، کہ محل مجاز کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ثانی یہ، کہ حقیقی معنی متعذر ہوں، ممکن نہ ہوں اور تیسری شرط یہ، کہ مجاز کی تعئین پر کوئی دلیل بھی قائم ہو، تو آپ تین بھی بنا سکتے ہیں ان کو بھئی۔
اور اس پر پھر کئی مثالیں گزری تھیں۔ گزشتہ سبق میں ایک مثال گزری تھی: "ولو قال انت طالق وانت مريضة او تصلية تطلق في الحال"، خاوند نے بیوی سے کہا "انت طالق وانت مريضة" یا یوں کہا "انت طالق وانت تصلية"، تو اس صورت میں یہاں پر پہلی دوسری شرط پوری نہیں ہو رہی بھئی۔ محل مجاز کا احتمال تو رکھتا ہے، مریضہ ہونے پر یا نماز پڑھنے پر طلاق کو معلق کرنا صحیح ہے، مجازی معنی کا احتمال ہے، لیکن دوسری شرط پوری نہیں، تعئینِ مجاز پر اور تعذرِ حقیقت پر کوئی دلیل قائم نہیں، بلکہ یہاں پر تو حقیقی معنی ممکن ہیں کہ واو کو عطف کے لیے بنایا جائے، اس لیے کہ پہلا بھی جملہ خبریہ ہے "انت طالق" اور دوسرا جملہ "انت مريضة" یا "انت تصلية" وہ بھی کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے۔ اور جملہ خبریہ کا عطف جملہ خبریہ پر درست ہے۔ تو لہذا حقیقی معنی ممکن ہوئے۔ جب حقیقی معنی ممکن ہوں تو ظاہر یہ ہے تو وہ ظاہر ہوئے، تو لہذا اسی پر محمول کیا جائے گا اس کو۔ تو عورت کو کیا ہو جائے گی؟ فوراً طلاق ہو جائے گی۔
لیکن اگر اس نے تعلیق کی نیت کی، یعنی مجازی معنی کا ارادہ کیا اور واو کو حال کے لیے بنایا، تو اس صورت میں احتمال تو ہے، احتمال تو ہے، لہذا اب اس کی نیت کا اعتبار کرتے ہوئے یہاں پر کیا تسلیم کیا جائے گا؟ تعلیق کو تسلیم کیا جائے گا، مجازی معنی لینے کا احتمال تو ہے، تو پھر وہ مراد لیے جائیں گے، کیونکہ اس نے اپنی نیت کے ذریعے اس مجازی معنی کو کیا کر دیا؟ متعین کر دیا، تو تعئینِ مجاز پر دلیل قائم ہو گئی مولانا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو تعئینِ مجاز پر دلیل قائم ہو گئی بھئی۔
تو لہذا دیانتۃً تو اس کی تصدیق کریں گے، لیکن قضاءً تصدیق نہیں کی جائے گی، دیانتۃً تصدیق کی جائے گی، یعنی یہ اس کے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے، ہم اس کی نیت پر مطلع نہیں ہو سکتے کہ اس کی نیت تھی یا نہیں، البتہ وہ کہہ رہا ہے کہ میری کیا تھی؟ نیت تھی، تو مفتی کے پاس چلا جائے، تو مفتی اس کی نیت کے مطابق فتویٰ دے گا کہ چونکہ تمہاری یہ نیت تھی، اس لیے طلاق ہوئی نہیں، بلکہ طلاق کیا ہے؟ معلق ہے، جب شرط پائی جائے گی تو مشروط، یعنی طلاق بھی پائی جائے گی، سمجھ میں آیا بھئی؟ فی الحال طلاق نہیں ہوئی بھئی۔ لیکن اگر قاضی کے پاس چلا جائے، تو پھر قاضی اس صورت میں کیا کرے گا؟ کیا حکم لگائے گا؟ فی الحال طلاق کا حکم لگائے گا، وہ تعلیق کو تسلیم نہیں کرے گا، کیوں؟ کیونکہ تعلیق کے اندر دراصل وہ اپنی بیوی کو بچانا چاہتا ہے کہ وہ ہاتھ سے نکلنے نہ پائے بھئی کسی صورت میں بھی۔ تو اس میں وہ اپنے نفع والی صورت اختیار کر رہا ہے، تو لہذا تہمات کا خدشہ ہوا، تو قاضی اس کے مطابق اس کی جو وہ نیت بیان کر رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا۔
لیکن چونکہ یہ ہے خلافِ ظاہر، کیا ہے؟ خلافِ ظاہر، تو لہذا ظاہراً فوری طلاق کا ہم حکم لگائیں گے، لیکن اگر وہ نیت کے ساتھ کہتا ہے "میری نیت یہ تھی"، پھر کیا ہو جائے گا؟ مجازی معنی بھی ثابت ہو جائے گا، تو مجازی معنی ثابت ہو جائے گا۔
اسی پر ایک اور مثال ذکر کر رہے ہیں، دیکھیے وہ مثالیں چل رہی ہیں، مثالیں چل رہی ہیں جہاں پر ایک شرط تو پوری ہے، دوسری شرط پوری نہیں، دوسری مثال: "ولو قال خذ هذه الالف مضاربة واعمل بها في البز"، ایک شخص نے دوسرے کو کہا "خذ هذه الالف مضاربة" لے یہ ایک ہزار بطورِ مضاربت کے بھئی۔ مضاربت جانتے ہو بھئی؟ ایک شخص دوسرے کو مال دیتا ہے اپنا، اور وہ دوسرا اس مال کے ذریعے تجارت کرتا ہے، اور نفع دونوں آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ تو مال ایک کا ہے، محنت دوسرے کی ہے، اور نفع آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں بھئی۔
تو ایک نے دوسرے کو ایک ہزار دیے اور یہ کہا "خذ هذه الالف" یہ ایک ہزار لے لو "مضاربة" بطورِ مضاربت کے، یعنی ان سے تجارت وغیرہ کرو بھئی، "واعمل بها في البز" اور عمل کر ان کے ساتھ "في البز" کپڑے کی تجارت میں۔ بز کس کو کہتے ہیں؟ کپڑے کی، کپڑے کی تجارت کو بز کہتے ہیں۔ کپڑے کے تاجر کو بھی بزاز کہتے ہیں، بزاز بھئی۔
تو اس نے یہ کہا بھئی، کتنے جملے آئے یہاں پر؟ دو جملے آئے، "خذ هذه الالف مضاربة" یہ پہلا جملہ ہے، یہ ایک ہزار لے لے بطورِ مضاربت کے، ایک جملہ، اور یہ امر ہے "خذ" لے لے، تو یہ کون سا جملہ ہوا؟ جملہ انشائیہ ہوا۔ "واعمل بها في البز" اور عمل کر ان کے ساتھ، یعنی ان کے ساتھ کپڑے کی تجارت کر بھئی، ان کے ساتھ کپڑے کی تجارت کر، یہ بھی امر ہے، یہ بھی جملہ انشائیہ ہے۔
تو یہاں پر بھئی پہلی شرط ہی پوری نہیں ہو رہی بھئی، یہ مقام محل مجاز کا احتمال ہی نہیں رکھتا، مجاز کا احتمال، تو جب شرط نہیں پائی گئی تو لہذا اس واو کو حال کے لیے نہیں بنائیں گے، بلکہ کس کے لیے بنائیں گے؟ عطف کے لیے بنائیں گے، کس کے لیے بنائیں گے؟ کیونکہ مجازی معنی کے لیے ضروری تھا کہ وہ محل مجازی معنی کا احتمال بھی، اور یہاں پر مجازی معنی کا احتمال نہیں کہ یہاں پر یہ حال کا احتمال نہیں رکھتا، حال کا احتمال اس لیے نہیں رکھتا کہ پہلا جملہ بھی انشائیہ ہے، اور دوسرا جملہ بھی انشائیہ ہے، تو یہ واو بظاہر کس کے لیے بن رہا ہے؟ حقیقی معنی ممکن ہیں، کیونکہ جملہ انشائیہ کا جملہ انشائیہ پر عطف ہوتا ہے، نیز اس جملہ ثانیہ کو حال بنانا صحیح نہیں، حال بنانا اس لیے نہیں صحیح کہ ثانی جملہ انشائیہ ہے اور جملہ انشائیہ حال نہیں بنا کرتا بھئی۔
جملہ انشائیہ حال، کیونکہ حال خبر کے درجے میں ہوا کرتا ہے، اور یہ تو کیا ہے؟ جملہ انشائیہ ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ جملہ انشائیہ حال نہیں بنا کرتا۔
تو یہ ثانی جملہ انشائیہ ہوا، لہذا اس کو حال بنانا ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔
نیز دوسری بات، دوسرا ضابطہ میں نے ذکر کیا تھا کہ حال اور عاملِ ذوالحال کا زمانہ کیا ہوتا ہے؟ ایک ہوتا ہے، "جاءني زيد راكباً"، تو "جاء" عامل ہے ذوالحال میں، اس کا "جاء" کا معنی، مجیئت کا زمانہ اور "راكباً" حال ہے، رکوب کا زمانہ کیا ہونا چاہیے؟ ایک، تو حال اور عاملِ ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے، لیکن یہاں پر حال اور عاملِ ذوالحال کا زمانہ ایک نہیں، عاملِ ذوالحال کون ہے؟ "خذ"۔
سمجھ میں آیا؟ لے لو، پیسے دینے کا زمانہ، اور "واعمل" یہ کیا ہے؟ حال، عمل کر کپڑے کی تجارت میں، تو یہاں پر اخذ اور عمل فی البز کا زمانہ ایک نہیں۔
جب پیسے لے گا کیا اسی وقت کپڑے کی تجارت کرے گا یا بعد میں کرے گا بھئی؟ اسی آن کے اندر تو کپڑے کی تجارت، اسی لمحے میں تو کپڑے کی تجارت نہیں، تو دونوں کا زمانہ ایک نہیں، اخذ کا زمانہ پہلے ہے اور عمل فی البز کا زمانہ بعد میں ہے، تو جب دونوں کا زمانہ ایک نہیں، تو یہاں اس کو حال بنانا بھی صحیح نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا اب اس واو کو کس کے لیے بنائیں گے؟ عطف کے لیے، تو کلام یوں ہوا گویا کہ دو جملے ہو گئے، ایک کا عطف دوسرے پر ہو رہا ہے کہ یہ ایک ہزار مضاربت کے طور پر لے لے، اور دوسرا جملہ کیا ہوا معطوفہ؟ کہ ان کے ذریعے کیا کر کپڑے کی، لہذا جب یہ حال نہیں، تو یہ پہلے جملے ثانی جملہ جو ہے "واعمل بها في البز" یہ حال نہیں، جب حال نہیں تو اس کو قید بھی نہیں، یہ قید بھی نہ ہوئی، تو اول صدرِ کلام یعنی "خذ هذه الالف مضاربة" اس کے لیے اس کو قید بھی نہیں بنائیں گے، لہذا اب اس کے لیے کپڑے ہی کی تجارت کرنا ضروری نہیں، کیونکہ یہ اس کے لیے قید ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو اگر یہ حالیہ ہوتا، پھر تو مقید ہوتا، ہم کیا حکم دیتے کہ اس تمہیں کیا کرنا پڑے گا یہاں پر ان پیسوں کے ساتھ صرف کپڑے ہی کی تجارت، لیکن یہاں پر یہ قید نہیں، کیونکہ واو حال کے لیے نہیں، جب قید نہیں تو لہذا اب اس کی جو مضارب ہے، اس کو کپڑے کی تجارت کے ساتھ مقید نہیں کریں گے، اب ان ہزار کے ساتھ وہ جو بھی کاروبار کرنا چاہے، وہ کر سکتا ہے بطورِ مضاربت کے بھئی۔
تو پھر سوال پیدا ہوا کہ "واعمل بها في البز" اس جملے کا کیا فائدہ بھئی؟ اس جملے کا کیا معنی ہوا پھر؟ کہتے ہیں بھئی یہ اس کی طرف سے، مالک کی طرف سے رائے ہو گئی ایک، کیا ہو گئی؟ رائے اور مشورے کے طور پر کلام ہوا، اور اس پر عمل کرنا اس کے لیے واجب نہیں، کیونکہ یہ واو حالیہ نہیں، یہ ماقبل کے لیے قید نہیں، تو صدرِ کلام کو اس کے ساتھ مقید، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟
دیکھیے بھئی، "ولو قال" اور اگر اس نے کہا "خذ هذه الالف مضاربة" لے لے یہ ایک ہزار بطورِ مضاربت کے "واعمل بها في البز" اور اس کے ساتھ عمل کر کپڑے کی تجارت کا "لا يتقيد العمل في البز" عمل کو مقید نہیں کیا جائے گا کپڑے کی تجارت میں "ويكون المضاربة عامة" اور مضاربت کیسی رہے گی؟ مضاربت عام ہو گی، یعنی جس چیز کی بھی کرنا چاہے، تجارت کر سکے گا "لان العمل في البز لا يصلح حالا لاخذ الالف مضاربة" اس لیے کہ عمل فی البز، کپڑے کی تجارت عمل فی البز جو ہے، وہ صلاحیت نہیں رکھتا حال بننے کی، کس کی؟ حال بننے کی "لاخذ الالف مضاربة" اخذِ الف بطورِ مضاربت کے لیے یہ حال بننے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتا، میں نے وجہ بیان کر دی، کیونکہ دونوں کا زمانہ ایک، حالانکہ حال اور عاملِ ذوالحال کا زمانہ کیا ہوتا ہے؟ تو یہ اس کے لیے صلاحیت ہی نہیں رکھتا حال بننے کی "فلا يتقيد صدر الكلام به" لہذا مقید نہیں کیا جائے گا صدرِ کلام کو "به" اس عمل بال، عمل فی البز کے ساتھ، صدرِ کلام کیا ہے؟ "خذ هذه الالف مضاربة"، یہ صدرِ کلام ہے، اس کو مقید نہیں کیا جائے گا "به اي بالعمل في البز" عمل فی البز کے ساتھ اس کو مقید نہیں کیا جائے گا، مسئلہ سمجھ میں آیا؟ "وعلى هذا قال ابو حنيفة رحمه الله" جی، یہ مسئلہ ہے بھئی، پہلے اس مسئلے کو سمجھ لیں، کتاب میں بڑے مختصر طریقے پر لکھا ہوا ہے۔
مسئلہ یہ ہے، ایک عورت ہے اپنے خاوند سے کہتی ہے "طلقني ولك الف"، "طلقني ولك الف"، "طلقني" ایک جملہ کہا، "ولك الف" دوسرا جملہ کہا اور درمیان میں واو لے آئی بھئی، اور واو کا حقیقی معنی کیا ہے؟ جمعِ مطلق، یعنی عطف کے لیے ہو گا، اور واو کا مجازی معنی کیا ہے؟ حال کے لیے، تو یہ واو جو لے کر آئی ہے، یہ حال کے لیے ہو گا یا عطف کے لیے ہو گا؟ اس میں صاحبین کا اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اختلاف ہے بھئی صاحبین اور امامِ ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا۔
صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں پر "طلقني" یہ جملہ انشائیہ ہے، "ولك الف" یہ کیا ہے؟ جملہ، جملہ خبریہ ہے، اور جملہ خبریہ کا عطف جملہ انشائیہ پر صحیح نہیں، جب صحیح نہیں تو یہاں پر کون سا معنی لیں گے؟ مجازی معنی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مجازی معنی، اور یہاں مجازی معنی لینا صحیح بھی ہیں، یعنی کس طرح؟ واو کو حال کے لیے بنائیں گے، تو یہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ شرط کے معنی کا فائدہ دے گا، تو اور تعلیق کا فائدہ دے گا، تو گویا عورت نے یوں کہا کہ اگر تو مجھے ایک طلاق دے دے، تو تیرے لیے کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں میرے اوپر بھئی، یعنی میں اپنی طرف، میں پھر تمہیں کتنا عوض دوں گی؟ ایک ہزار دوں گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تعلیق کا معنی صحیح ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو پہلا جملہ انشائیہ ہے، دوسرا جملہ خبریہ، عطف صحیح نہیں، لہذا اس "ولك الف" کو حال بنائیں گے، اور یہ تعلیق، تو لہذا جب خاوند طلاق دے دے گا، تو عورت پر واجب ہو جائیں گے کتنے دینا؟ ایک ہزار درہم دینا عورت پر واجب ہو جائیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ صاحبین، اور نیز صاحبین اس کو قیاس کرتے ہیں مولانا اس قول پر، کسی نے مزدور سے کہا "احمل هذا المتاع"، "احمل هذا المتاع ولك درهم"، یہ سامان اٹھا لے اور تیرے لیے اس حال میں کہ تیرے لیے ایک درہم ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ دیکھیے اس مسئلے کے اندر کسی نے مزدور سے یوں کہا، تو اس سامان اٹھانے کی صورت میں اس شخص پر کتنے واجب ہو جائیں گے؟ ایک درہم اس مزدور کے لیے واجب ہو جائے گا بھئی، وہاں پر بھی "احمل هذا المتاع" یہ جملہ انشائیہ ہے، اور "ولك درهم"، "لك درهم" کیا ہے؟ جملہ، جملہ خبریہ ہے، تو جملہ خبریہ کا جملہ انشائیہ پر عطف صحیح نہیں، تو یہ واو حال کے لیے ہوا، اور وہ حال کے لیے ہو تو شرط کے معنی کا فائدہ دیتا ہے، تو اس نے ایک درہم کو معلق کر دیا کس پر؟ سامان کے اٹھانے پر، تو جیسے وہاں پر واو کس لیے آیا تھا؟ تعلیق کے لیے آیا تھا، اور ایک درہم واجب ہو گیا تھا کس صورت میں؟ سامان کے اٹھانے پر، اسی طرح یہاں جب بیوی نے خاوند سے کہا "طلقني ولك الف" تو یہ بھی بعینہٖ اسی کی طرح کا کلام ہے، ماقبل میں امر ہے اور مابعد میں کیا ہے؟ جملہ خبریہ ہے، تو یہاں پر بھی بیوی نے ایک ہزار کو معلق کر دیا کس چیز پر؟ طلاق کے دینے پر، لہذا یہاں پر بھی بیوی پر ایک طلاق خاوند دے دے، تو بیوی پر ایک ہزار واجب ہو جائیں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے، وہ صورت جس میں "احمل هذا المتاع ولك الف" وہاں واو کس لیے ہے؟ حال کے لیے واو کو بنائیں گے بھئی،
اور حال کے لیے، لیکن یہ جو اہ بیوی نے خاوند سے کہا، ”طلقنی ولک ألف“، یہاں پر واؤ کو حال کے لیے نہیں بنائیں گے، بلکہ اگر خاوند نے طلاق دے دی تو بیوی پر کچھ بھی واجب نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: یہاں واؤ کو عطف ہی کے لیے بنائیں گے۔ کس کے لیے بنائیں گے؟ عطف ہی کے لیے بنائیں گے۔
تو بھئی، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو وہ ماقبل میں جملہ انشائیہ ہے اور مابعد میں جملہ خبریہ ہے اور جملہ خبریہ کا عطف جملہ انشائیہ پر درست نہیں۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی۔ جواب یہ کہ بھئی، کبھی کبھار جملہ خبریہ کا عطف بھی جملہ انشائیہ پر ہو جاتا ہے، بھئی۔ اگرچہ ہے قلیل، لیکن ہوتا ہے۔ اور اس کو کیا بناتے ہیں؟ عطف القصة على القصة کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عطف القصة على القصة، یعنی ایک نوعِ کلام، یہ بھی نوعِ کلام ہے انشاء، وہ بھی خبر بھی کیا ہے نوعِ کلام۔ تو یہ بھی نوعِ کلام، وہ بھی نوعِ کلام، تو درمیان، دونوں میں مناسبت آ گئی، بھئی۔
ویسے تو انشاء، باقی کیا کہتے ہیں، انشاء الگ قسم ہے۔ خبر کیا ہے؟ الگ قسم۔ جب الگ قسمیں ہیں تو دونوں میں مناسبت ہی کوئی نہیں۔ جب مناسبت نہیں تو عطف کرنا بھی صحیح نہیں۔ لیکن بعض اوقات بہت قلیل ہوتا ہے، لیکن ہوتا ہے کہ کیا کر لیتے ہیں؟ انشاء کا عطف، انشاء کا عطف خبر پہ، یا خبر کا عطف انشاء پر کر دیتے ہیں اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطف القصة على القصة۔ یعنی یہ دونوں ایک نوعِ کلام ہیں۔ ایک نوع کا قصہ ہے یہ، ایک نوع کا قصہ ہے یہ۔ تو لہذا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ یا قصہ بمعنی حال۔ ایک حالت یہ ہے کلام کی، ایک حالت یہ ہے کلام کی۔ تو دونوں میں مناسبت ہے کہ دونوں کلام کی انواع ہیں۔ جب کلام کی انواع ہوئیں تو دونوں میں کیا آ گئی؟ ایک ہی چیز کی قسم ہیں دونوں، تو مناسبت آ گئی۔ جب مناسبت آ گئی تو اب عطف کرنا صحیح ہوا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عطف القصة على القصة۔ تو لہذا، وہ اس واؤ کو عطف کے لیے بناتے ہیں۔
یا بعض کہتے ہیں کہ یہ واؤ استئناف کے لیے بنائیں گے پھر۔ کیا کریں گے؟ واؤ استئنافیہ کے لیے بنائیں گے۔ واؤ استئنافیہ اس کو کہتے ہیں جس کو تحسین و تزیینِ کلام کے لیے لایا جاتا ہے، کلام کو حسین بنانے کے لیے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کلام کو حسین بنانے کے لیے جو واؤ لایا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ واؤِ استئناف، بھئی۔
یعنی نیا کلام اس سے شروع ہو رہا ہے۔ بھئی، واؤ تو آتا ہے عطف کے لیے۔ پہلا ایک جملہ گزر جائے تو بعد والے واؤ کو کس کے لیے ہونا چاہیے؟ عطف کے لیے۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن کبھی کبھار ثانی کلام ثانی جملہ جو ہے، پہلے دیکھو یاد رکھو دوسرے جملے کے شروع میں آئے گا یہ، پہلے جملے کے نہیں۔ پہلے جملہ ایک جملہ مفیدہ آ گیا جس نے کوئی فائدہ دیا۔ اس کے بعد ایک اور جملہ آ رہا ہے جس کی ماقبل جملے کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے، بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ واؤِ استئناف کی بات کر رہا ہوں۔ پہلے ایک جملہ استئنافیہ آیا، اس کے بعد ایک اور جملہ آ رہا ہے، اس جملے کی پہلے جملے کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اور جب مناسبت نہیں ہے تو عطف بھی نہیں کرنا چاہیے، واؤ کو نہیں لانا چاہیے، لیکن واؤ کو لے آتے ہیں کس کے لیے؟ تحسینِ کلام کے لیے۔ تو یہ واؤ، بھئی، ابتدائے کلام میں آیا۔ بھئی، ثانی جملے کی ابتدا میں آیا یا نہیں آیا؟ ابتدائے کلام، یعنی نئی بات شروع ہو گئی۔ اس سے کیا ہو گئی؟ ماقبل کے ساتھ لفظوں کے اعتبار سے اس کی کوئی مناسبت نہیں ہے۔
اور، یا یہ واؤ، اس کو استئناف کہتے ہیں۔ یا یہ واؤِ استئناف وہ ہے جو سوالِ مقدر کے جواب میں آئے، بھئی۔ کس کے جواب میں آئے؟ تو واؤِ استئنافیہ برابر ہے نحو کے اندر، چاہے وہ سوالِ مقدر کے جواب میں آ رہا ہو یا سوالِ مقدر کے جواب میں نہ ہو۔ ویسے ہی کلام کو حسین بنانے کے لیے لے آئیں۔
سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو واؤِ استئنافیہ، خلاصہ کلام کیا ہوا، بھئی؟ یہ تو میں نے لمبی تقریر آپ کو سمجھانے کے لیے کی۔ واؤِ استئنافیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ واؤ ہے جو ابتدائے کلام میں آئے، چاہے سوالِ مقدر کے جواب میں ہو، چاہے سوالِ مقدر کے جواب میں نہ ہو۔ اور کس پر آئے؟ دوسرے جملے پر، جس سے پہلے ایک اور جملہ آ چکا ہو۔ تو اس سے ایک نئی بات شروع ہو گئی، اس لیے اس کو استئنافیہ کہتے ہیں، بھئی۔ اور اس کیوں لاتے ہیں؟ کلام کو حسین بنانے کے لیے، مزین کرنے کے لیے۔
تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس واؤ کو عاطفہ بنایا یا استئنافیہ بنایا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟
تو صاحبین نے کیا دلیل ذکر کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا کہ یہاں پر ”احمل هذا“، اس کو ”طلقنی ولک ألف“، اس کو قیاس کیا تھا کس پر؟ ”احمل هذا المتاع ولک“، یعنی اس کو اجارے پر قیاس کیا تھا۔ کس پر؟ اجارے والی صورت پر قیاس کیا تھا۔
امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو اجارے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ وہاں پر امامِ اعظم بھی فرماتے ہیں کہ ”احمل هذا المتاع ولک درهم“، یہاں پر واؤ کون سا آ رہا ہے؟ وہ حال کے لیے آ رہا ہے۔
لیکن ”طلقنی ولک ألف“ اس میں وہ واؤ کو حال کے لیے نہیں بناتے۔ جب حال کے لیے نہیں بنایا تو اگر خاوند طلاق دے دے گا تو پھر بیوی پر ایک ہزار بھی واجب نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ دونوں میں فرق کیا ہے؟ امام صاحب کی دلیل، سنیے مولانا! دلیل وہی، امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھو، وہ ہے اجارہ۔ وہ کیا ہے؟ اجارہ۔
اور آپ کون سا معنی لے رہے ہیں واؤ کا؟ مجازی معنی۔ اور مجازی معنی کے لیے کتنی شرطوں کا ہونا ضروری؟ دو شرطوں کا۔ پہلی شرط کیا؟ محل مجاز کا احتمال رکھتا ہو۔ اور ثانی کیا ہے؟ تعتینِ مجاز تعذرِ حقیقت پر کوئی دلیل بھی قائم ہو۔ جی، جی، ٹھیک ہے۔ ”احمل هذا المتاع ولک درهم“، اس میں دونوں شرطیں پوری ہیں۔ محل کیا ہے؟ مجاز کا احتمال بھی رکھتا ہے محلِ مجازی، یعنی سامان اٹھانے پر معلق کرنا ایک درہم کو۔ یہ صحیح ہے، بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تو مجاز کا احتمال بھی آ گیا۔ ایک درہم کو کس پر معلق کر دیا؟ سامان کے اٹھانے پر۔ اور تعتینِ مجاز پر دلیل بھی قائم ہے، بھئی۔ تعذرِ حقیقت اور تعتینِ مجاز، تعتینِ مجاز پر کیا دلیل قائم ہے یہاں پر؟ کہتے ہیں: دلیل یہ ہے کہ یہ اجارہ ہو رہا ہے، اور اجارہ عوض کے ساتھ ہوتا ہے یا بغیر عوض کے ہوتا ہے؟ اجارہ عوض کے ساتھ ہوتا ہے۔ تو عوض اجارے کے اندر امرِ اصلی ہے۔ عوض اجارے کے اندر کیا ہے؟ تو عوض اجارہ میں امرِ اصلی ہے، تو یہ عوض کا امرِ اصلی ہونا، یہ دلیل بن جاتا ہے، بن سکتا ہے کس چیز کی؟ تعتینِ مجاز کی۔
لیکن طلاق، بھئی، عوض کے ساتھ دی جاتی ہے عموماً یا بغیر عوض کے دی جاتی ہے؟ جب بغیر عوض کے دی جاتی ہے، ہاں کبھی کبھار طلاق میں بھی عوض آ جایا کرتا ہے۔ کبھی کبھار طلاق میں بھی عوض آ جاتا ہے، جیسے خلع کے اندر ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ خلع میں۔ لیکن عموماً طلاق کے اندر عوض نہیں۔ تو طلاق کے اندر عوض کا آنا یہ امرِ اصلی ہے یا امرِ زائد ہے؟ یہ امرِ زائد ہے۔ لہذا یہ امرِ زائد تعتینِ مجاز کی دلیل نہیں بن سکتا، بھئی۔
اجارہ کے اندر عوض کیا ہے؟ امرِ اصلی۔ وہ امرِ اصلی دلیل بن سکتا ہے کس چیز کی؟ تعتینِ مجاز، لہذا وہ دلیل بن جائے گا اور مجاز متعین ہو جائے گا۔ لیکن یہاں پر ہے طلاق کا مسئلہ، اور طلاق میں عوض کیا ہے؟ امرِ زائد ہے، اور امرِ زائد صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ کیا بن جائے؟ دلیل، کس چیز کی؟ تعتینِ مجاز کی۔ لہذا وہ تعتینِ مجاز کی دلیل نہیں بنے گا۔ لہذا یہاں مجازی معنی واؤ کا نہیں لیں گے اور حقیقی معنی واؤ ہی لیں گے۔ عطف ہی کے لیے رکھیں گے اس کو۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ ”طلقنی ولک ألف“ میں واؤ کس لیے ہے؟ حال کے لیے ہے۔ جب حال کے لیے ہے تو یہ تعلیق کا فائدہ دے گا۔ لہذا جب خاوند طلاق دے دے گا، عورت پر کتنے واجب ہو جائیں گے؟ ایک ہزار۔ اور دلیل ان کی کیا ہے کہ پہلا جملہ انشائیہ ہے، ثانی جملہ خبریہ ہے۔ تو لہذا یہاں پر حقیقی معنی ممکن ہی نہیں۔ نیز وہ اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ ”احمل هذا المتاع ولک درهم“ اجارے والی صورت پر۔ تو جیسے وہاں پر تعلیق کا فائدہ دیا تھا واؤ نے، یہاں پر بھی واؤ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ تعلیق کا فائدہ دے گا۔
جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہاں اجارے والی صورت میں تو واؤ تعلیق کا فائدہ دے گا، یہاں پر واؤ کو تعلیق کے لیے بنانا صحیح نہیں، حال والا معنی نہیں لیں گے۔ کیوں نہیں لیں گے؟ وہاں کیوں لیا اور یہاں کیوں نہیں لیا؟ وہ دلیل ذکر کرتے ہیں۔ دلیل یہ کہ وہ اجارہ ہے، اور اجارے کے اندر عوض کیا ہے؟ امرِ اصلی ہے۔ تو وہ دلیل بن سکتا ہے کس چیز کی؟ تعتینِ مجاز کی۔ لیکن یہاں پر یہ طلاق ہے، اور طلاق کے اندر عوض کیا ہے؟ امرِ زائد ہے، اور یہ امرِ زائد دلیل نہیں بن سکتا کس چیز کی؟ تعتینِ مجاز کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ مسئلہ تھا۔
تو دیکھا، امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف آیا۔ شیخ رحمہ اللہ عجیب نقطہ بیان فرماتے تھے۔ وہ فرماتے تھے: یہ صاحبین کے اختلاف کرتے ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ سے بعض مسائل کے اندر۔ کیا وجہ ہے اس کی؟ کہتے ہیں: دراصل یہ اختلاف وہاں آتا ہے کہ جب امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اتنی گہرائی میں مسئلے کی چلے جاتے ہیں کہ اس گہرائی تک پہنچنا کسی اور کے بس کی بات ہی نہیں رہتی۔ تو جب وہ اتنی گہرائی تک پہنچ ہی نہیں پاتے، تو پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اختلاف کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ امام صاحب اتنی گہرائی تک مسئلے کی چلے گئے کہ صاحبین کے بس سے ہی بات باہر ہو گئی۔ تو وہ اس گہرائی تک پہنچ ہی نہیں پائے، تو نتیجہ کس کی صورت میں ظاہر ہوا؟ اختلاف۔ ان کا، انہوں نے اپنا الگ قول پھر کیا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
”وعلى هذا قال أبو حنيفة رحمه الله“ اور اسی بنا پر، بھئی کہ جہاں واؤ میں حال بننے کی صلاحیت نہ ہو تو وہاں اس کو کس کے لیے بنائیں گے؟ عطف کے لیے بنائیں گے۔ اس بنا پر امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إذا قالت لزوجها“ کا جب کہا ایک عورت نے اپنے خاوند سے: ”طلقني“ تو مجھے طلاق دے دے، ”ولك ألف“ اور تیرے لیے ایک ہزار ہیں۔ ”فطلقها“ پس اس خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی، ”لا يجب له عليها شيء“ واجب نہیں ہوگی لہ اس خاوند کے لیے، علیہا اس عورت پر، شیء کوئی چیز۔ ”لأن قولها ولك ألف“ اس لیے کہ عورت کا یہ قول ”ولك ألف“، ”لا يفيد“ یہ لا يفيد لفظ ہے، بھئی۔ ”لا يفيد حال وجوب الألف عليها“ یہ فائدہ نہیں دیتا۔ ترجمہ آخر سے کروں گا، بھئی۔ ”لا يفيد“ یہ عورت کا یہ قول ”ولك ألف لا يفيد“ یہ فائدہ نہیں دیتا۔ اب آخر سے ترجمہ باقی: اس عورت پر ہزار کے واجب ہونے کے حال کا۔ علیہا سے ترجمہ پھر شروع کیا میں نے، بھئی، سمجھ میں آیا؟ ”لأن قولها ولك ألف لا يفيد“ اس لیے کہ عورت کا قول ”ولك ألف لا يفيد“ یہ فائدہ نہیں دیتا۔ کس چیز کا فائدہ نہیں دیتا؟ ترجمہ آخر سے کریں، پھر صحیح بنے گا۔ اس عورت پر ایک ہزار کے واجب ہونے کے حال کا۔ ایک وجوبِ ألف کے حال ہونے کا فائدہ نہیں، یوں ترجمہ کر لیں۔ وجوبِ ألف کے اس عورت پر وجوبِ ألف کے حال ہونے کا فائدہ نہیں دیتا۔ ”وقولها طلقني مفيد بنفسه“ اور باقی عورت کا قول ”طلقني“ جو پہلا جملہ تھا کہ تو مجھے طلاق دے دے، یہ قول مفيد بنفسه، یہ خود کیا ہے؟ فائدہ دینے والا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بھئی، یہ کلام پورا ہے یا نہیں، بھئی؟ کلامِ مفید ہے یا نہیں؟ ”طلقني“ نے پورا معنی ادا کر دیا۔ کیا معنی؟ عورت طلاق کو طلب کر رہی ہے، تو مجھے طلاق دے دے۔ تو طلاق کو طلب کر رہی ہے، طلب کا فائدہ اس کلام دے رہا ہے پوری طرح۔ تو یہ کلام مفید بنفسہ ہی ہے۔ ”فلا يترك العمل به بدون دليل“ لہذا اس پر عمل کو ترک نہیں کیا جائے گا بغیر کسی دلیل کے۔ ”بخلاف قوله“ برخلاف اس قول کے، کسی شخص کے: ”احمل هذا المتاع ولك درهم“ کہ یہ سامان اٹھا لے اس حال میں کہ تیرے لیے ایک درہم ہے۔ ”لأن دلالة الإجارة“ اس لیے کہ اجارہ کی دلالت جو ہے، ”تمنع العمل بحقيقة اللفظ“ یہ منع کرنے والی ہے عمل کو بحقیقتِ لفظ، لفظ کی حقیقت پر۔
اجارے میں عوض کیا ہے؟ امرِ اصلی ہے۔ تو عوض کا امرِ اصلی ہونا یہ منع کرنے والا ہے کس چیز سے؟ واؤ کے حقیقی معنی سے۔ یہاں واؤ کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے، بلکہ واؤ کون سا معنی ہے؟ مجازی معنی ہے۔ اس بات پر کس چیز نے دلالت کی؟ جی؟ اجارہ نے۔ کس نے؟ اجارے نے دلالت کی کہ اجارے والا مسئلہ ہے اور اجارے میں کیا ہے؟ عوض امرِ اصلی ہے۔ لہذا یہاں پر حقیقی معنی مراد نہیں ہے، بلکہ کون سا معنی مراد ہیں؟ مجازی معنی۔ ”لأن دلالة الإجارة“ اس لیے کہ اجارے کی دلالت ”تمنع“ یہ منع کرنے والی ہے، کس چیز کو؟ ”أن يحمل على حقيقة اللفظ“ حقیقتِ لفظ پر عمل کو منع کرنے والی ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
اچھا، بھئی، پھر یہ ”ولك ألف“ کا کیا معنی ہوا؟ ”طلقني“ تو مجھے طلاق دے دے ”ولك ألف“ اور تیرے لیے، امام صاحب کا اگر مسلک لیں تو پھر کیا معنی ہوا؟ تو مجھے طلاق دے دے اور تیرے لیے ایک ہزار۔ کہتے ہیں: بھئی، یہ خبر ہے۔ یہ کیا ہے؟ خبر ہے۔ بیوی خبر دے رہی ہے: تو مجھے، پہلے جملے میں کہا: تو مجھے طلاق دے دے، دوسرے جملے میں کیا کہا؟ تیرے لیے تو ایک ہزار درہم ہیں، یعنی تیرے پاس تو ایک ہزار درہم موجود ہیں، تجھے میری کیا حاجت ہے؟ تو نئی شادی کر لے یا تو نئی تو باندی خرید لے، تجھے میری کیا حاجت ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ”طلقني“ تو مجھے طلاق دے دے ”ولك ألف“ اور تیرے لیے، پاس تو تیرے لیے تو ایک ہزار، یعنی تیرے پاس تو ایک ہزار ہیں، تجھے میری ضرورت نہیں، اور شادی کر لو۔ یہ معنی ہے، تو اور شادی کر سکتا ہے یا تو اور باندی خرید سکتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا، بھئی؟
ٹھیک ہے مولانا، هذا هو المراد، واللہ اعلم بالحقیقۃ۔