گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا بھئی، کہ نصوص کی مراد کو پہچاننے کے کئی طریقے ہیں بھئی۔ نصوص کی مراد کو پہچاننے کے... ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک لفظ کے جب حقیقی معنیٰ بھی ہوں اور مجازی معنیٰ بھی ہوں، تو اس صورت میں حقیقی معنیٰ مراد لینا اولیٰ ہے بھئی۔
ایک لفظ کا کیا ہو؟ حقیقی معنیٰ بھی ہو اور مجازی معنیٰ بھی ہو تو حقیقی معنیٰ مراد لینا... حقیقی معنیٰ اولیٰ ہے اس کا۔ کب؟ میں نے بتلایا تھا جب کہ کوئی مجاز متعارف نہ ہو، مجاز متعارف نہ ہو۔ اور نیز حقیقت یا مجاز میں سے کسی ایک کا کوئی قرینہ بھی نہ ہو۔ اگر قرینہ ہوگا حقیقت کا پھر تو حقیقت مراد لیں گے، اگر مجاز کا قرینہ ہوا پھر کیا لیں گے؟ ہاں، قرینہ بھی کوئی نہیں، مجاز متعارف بھی کوئی نہیں، اب ایک لفظ آیا اور اس کا حقیقی معنیٰ بھی ہے، مجازی معنیٰ بھی ہے تو کیا اولیٰ ہے؟ حقیقت اولیٰ ہے جیسے کہ مثال میں بات گزری بھئی۔
دوسرا ضابطہ یہ ذکر کیا تھا طریقہ کہ جب کسی نص کے دو محمل ہوں، ایک میں تخصیص نہ کرنی پڑتی ہو اور ایک صورت میں تخصیص نہ کرنی پڑتی ہو تو نص کو محمول کرنا اس حالت پر جس میں تخصیص نہ کرنی پڑتی ہو وہ کیا ہے؟ اولیٰ ہے، اولیٰ ہے۔
اولیٰ ہے۔ مثال اس کی جیسے مولانا، "اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ" بھئی۔ اب "لٰمَسْتُمُ" کا ایک حقیقی معنیٰ ہے ہاتھ سے چھونا اور ایک لمس کا مجازی معنیٰ ہے کون سا؟ جماع کرنا، صحبت کرنا۔ اب یہاں پر اگر امام شافعی رحمہ اللہ اس سے کون سا معنیٰ کرتے ہیں؟ چھونے کے۔ تو ان کے نزدیک چھونے کے ساتھ، کسی عورت کو چھوئیں تو اس سے بھی طہارت زائل ہو جائے گی۔ جب کہ احناف، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس کو محمول کرتے ہیں "لٰمَسْتُمُ" سے جماع والا معنیٰ کرتے ہیں اور کہ جب کسی عورت سے جماع کیا جائے تو پھر کیا ہوگی طہارت زائل ہوگی، چھونے سے طہارت زائل نہیں ہوگی۔
اب امام شافعی رحمہ اللہ نے چھونے کا معنیٰ کیا، لیکن اس صورت میں نص اپنے عموم پر باقی نہیں رہتی اور اس میں تخصیص کرنا پڑتی ہے۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ان کا جو صحیح، اصح قول ہے، اس کے مطابق اگر محرم کو ہاتھ لگا دیا، محرم عورت ہے، ماں ہے، بہن ہے، بیٹی وغیرہ تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا، طہارت زائل نہیں ہوگی۔ تو دیکھا انہوں نے تخصیص کی بھئی۔
نص کا تقاضا، نص کا عموم تو یہ چاہتا تھا کہ کسی بھی عورت کو چھوا جائے طہارت کیا ہونی چاہیے؟ زائل ہونی چاہیے، لیکن انہوں نے اس میں تخصیص کر کے محرم عورتوں کو بھی نکال دیا اور اسی طرح بہت صغیرہ جو ہو، جو مشتہاة نہ ہو بھئی، قابلِ شہوت نہ ہو، بہت چھوٹی ایک سال کی، دو سال، تین وغیرہ، تو اس کو چھونے سے بھی ان کے نزدیک وضو طہارت، تو دیکھا نص کا عموم، عموم کے اعتبار سے نص تقاضا کر رہی تھی کسی بھی عورت کو چھوا جائے طہارت زائل ہونی چاہیے۔
تو انہوں نے لمس کا حقیقی معنیٰ لیا، لیکن اس صورت میں ان کو کیا کرنا پڑی؟ تخصیص۔ اور ہم لمس کا کون سا معنیٰ کرتے ہیں یہاں پر؟ جماع کا مجازی معنیٰ، اور اس صورت میں نص میں تخصیص نہیں کرنی پڑتی بھئی۔ جس عورت سے بھی جماع کیا جائے گا، طہارت کیا ہو جائے گی؟ زائل ہو جائے گی۔ تو کس صورت پر محمول کرنا اولیٰ ہے بھئی؟ جس میں تخصیص نہ کرنی پڑتی ہو۔
اس پر اشکال ہوا تھا بھئی کہ ابھی اوپر آپ نے ضابطہ ذکر کیا کہ جب حقیقت اور مجازی معنیٰ ہوں ایک لفظ کے، تو کس پر محمول کرنا اولیٰ ہے؟ حقیقت پر محمول کرنا۔ اور یہاں لمس حقیقی معنیٰ ہے اور جماع مجازی معنیٰ ہے اور آپ اس کو کس پر محمول کر رہے ہیں؟ مجازی معنیٰ پر، اور یہ تو آپ اپنے ہی بتائے ہوئے پہلے ضابطے کے خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
تو میں نے اس کا جواب بھی آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی یہ اس وقت ہے جب کہ مجاز کا کوئی قرینہ نہ ہو، یہاں پر مجاز کا قرینہ موجود ہے، اور وہ کیا؟ ملامست بابِ مفاعلہ آیا بھئی، اور بابِ مفاعلہ کیا چاہتا ہے؟ فعل کو جانبیں سے چاہتا ہے، اور جانبیں سے لمس کس حالت میں ہوگا؟ جماع کی حالت میں ہوگا، عام حالت میں نہیں ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں مجاز کا قرینہ بھی موجود ہے۔ نیز مولانا وہ اس مقام پر تھا جب حقیقت اور مجاز عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر ہوں بھئی۔
حقیقت اور مجاز کیا ہوں؟ عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر ہوں، تو پھر کون سا معنیٰ اولیٰ ہے؟ حقیقی معنیٰ۔ لیکن یہاں پر تو دونوں عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر نہیں، اگر حقیقی معنیٰ مراد لیں تو کیا کرنا پڑتی ہے؟ تخصیص، عموم میں کمی آ جاتی ہے، اور اگر ہم اس کا مجازی معنیٰ کریں تو پھر اس صورت میں کیا ہے؟ تخصیص نہیں کرنا پڑتی، عموم اسی طرح برقرار رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
آج تیسرا طریقہ ہم پڑھیں گے۔ "وَمِنْهَا أَنَّ النَّصَّ إِذَا قُرِئَ بِقِرَاءَتَيْنِ أَوْ رُوِيَ بِرِوَايَتَيْنِ كَانَ الْعَمَلُ بِهِ عَلَى وَجْهٍ يَكُونُ عَمَلًا بِالْوَجْهَيْنِ أَوْلَى"
نصوص کی مراد پر مطلع ہونے کے سلسلے میں تیسرا طریقہ مصنف ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ اور وہ یہ، کہتے ہیں کہ اگر جب نص کو، میری طرف دیکھیے بھئی، ادھر۔ جب نص کو، جب نص یعنی کوئی آیت پڑھی جاتی ہو دو قرأتوں کے ساتھ، کتنی قرأتیں ہوں اس میں؟ دو قرأتیں ہوں، یا کوئی حدیث ہو اس میں دو روایتیں ہوں، تو اس صورت میں نص کو ایسی حالت پر محمول کرنا اولیٰ ہے جس میں دونوں قرأتوں یا دونوں روایتوں پر عمل ہو جائے بھئی۔
کیا ضابطہ ذکر ہوا؟ کہ جب کوئی آیت کتنی قرأتوں کے ساتھ پڑھی جاتی ہو؟ دو قرأتوں کے ساتھ پڑھی جاتی ہو، یا کوئی حدیث ہو وہ کتنی روایتوں کے ساتھ مروی ہو؟ دو روایتوں کے ساتھ مروی ہو، تو ایسی حالت پر محمول کرنا اولیٰ ہے جس میں کیا ہو جائے؟ دونوں قرأتوں پر یا دونوں روایتوں پر عمل ہو جائے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے، مثال سے بات واضح ہو جائے گی۔
دیکھیے، آیتِ وضو قرآن میں کس طرح آئی ہے؟ "إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ" "وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ"
تو دیکھو، "وَأَرْجُلَكُمْ" بھئی، اس میں ایک قرأت "وَأَرْجُلِكُمْ" بھی آئی ہے بھئی۔ "أَرْجُلَ"، ارجل پر جیسے نصب آیا ہے ہماری قرأت میں، ایک قرأت کے اندر اس پر کیا آیا ہے؟ کسرہ بھی آیا ہے، جر بھی آیا ہے بھئی۔ اب "وَأَرْجُلَكُمْ" پڑھیں بھئی، نصب پڑھیں تو اس کا عطف کس پر ہوتا ہے؟ "أَيْدِيَكُمْ" پر یا "وُجُوهَكُمْ" پر، اور ان کے ساتھ کیا امر ہے؟ "فَاغْسِلُوا" دھو لو "وُجُوهَكُمْ" اپنے چہروں کو "وَأَيْدِيَكُمْ" اور اپنے ہاتھوں کو "وَأَرْجُلَكُمْ" یہ بھی منصوب، اور اپنے پاؤں کو، تو نصب پڑھا جائے تو یہ قرأت کیا تقاضا کرتی ہے؟ پاؤں کو کیا کرنا چاہیے؟ دھونا چاہیے۔
اور اگر ہم جر والی قرأت دیکھیں، تو وہ جر والی قرأت "وَأَرْجُلِكُمْ"، اس صورت میں یہ عطف ہے "بِرُءُوسِكُمْ" پر، "بِرُءُوسِكُمْ"۔ "وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ"، تو ارجل کا عطف کس پر آیا؟ رؤوس پر، اور رؤوس کے لیے کیا ذکر ہوا ہے؟ مسح کرنے کا، تو یہ قرأت کیا تقاضا کرتی ہے کہ پاؤں پر کیا ہونا چاہیے؟ مسح، سر پر مسح ہے تو پاؤں پر بھی کیا ہونا چاہیے؟ مسح ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو نصب والی اس... اب "وَأَرْجُلَكُمْ" میں دو قرأتیں ہیں، ایک نصب والی قرأت ہے، ایک جر والی قرأت ہے۔ نصب والی قرأت کی صورت میں اس کا عطف "أَيْدِيَكُمْ" پر یا "وُجُوهَكُمْ" پر ہے، اور اس قرأت کا تقاضا یہ ہے کہ پاؤں کو کیا کرنا چاہیے؟ دھونا چاہیے۔ اور دوسری صورت میں "وَأَرْجُلِكُمْ" جر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا عطف "بِرُءُوسِكُمْ" پر ہے اور اور اور راس کا کیا حکم دیا گیا ہے؟ مسح کرنے کا، تو پاؤں پر بھی کس چیز کا حکم ہو گیا؟ مسح کرنے کا حکم ہو گیا۔ تو ایک قرأت تقاضا کر رہی پاؤں کے دھونے کے، دھونا فرض ہے، اور دوسری قرأت کیا تقاضا کر رہی ہے کہ پاؤں کا مسح کرنا۔
صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہم اس کو اس ایسی صورت پر محمول کرتے ہیں کہ دونوں قرأتوں پر عمل ہو جائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ احناف کا عجیب مذہب ہے دیکھو بھئی، ایسی صورت پر محمول کریں گے کہ دونوں قرأتوں پر عمل ہو جائے۔
وہ اس طرح کہ "وَأَرْجُلَكُمْ" جب نصب پڑھا گیا تو ہم اس کو محمول کرتے ہیں اس حالت پر جب انسان نے موزے نہ پہنے ہوئے ہوں۔ یعنی آیت میں یہ حکم ہے "وَأَرْجُلَكُمْ" کیا کرو اپنے پاؤں کو؟ ہم کیا کہتے ہیں یہ وہ حالت بیان ہو رہی ہے جب انسان نے موزے نہ... جب موزے نہ پہنے ہوئے ہوں تو پاؤں کو بھی دھو لو۔
اور "وَأَرْجُلِكُمْ" جر کے ساتھ جب مسح کا ذکر آیا تو اس سے اس حالت پر محمول کرتے ہیں جب انسان نے موزے پہنے ہوئے ہوں۔ تو جب موزے پہنے ہوئے ہوں تو اس صورت میں پاؤں پر کیا کیا جائے گا؟ مسح کیا جائے گا۔ تو دیکھیے، دونوں قرأتوں پر عمل ہو گیا۔ ایک قرأت تقاضا کرتی کر رہی تھی پاؤں کے دھونے کا، ایک قرأت تقاضا کر رہی تھی پاؤں پر مسح کرنے کا، ہم نے ایسی صورت اختیار کی دونوں پر عمل ہو رہا ہے، دھونا بھی دھونا بھی ضروری اور مسح بھی مسح بھی جائز ہوا، دھونا آ گیا کس صورت میں جب انسان نے موزے نہ پہنے ہوئے ہوں تو اس وقت دھونا ہے، اور جس وقت موزے پہنے ہوئے ہوں تو پھر کیا کریں گے؟ مسح کریں گے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اب اسی وجہ سے بعض ہمارے مشائخ و فقہاء فرماتے ہیں کہ مسح کا ثبوت، مسح علی الخفین کا ثبوت کتاب اللہ سے ہے۔ کیا ہے؟ مسح علی الخفین کا ثبوت کس سے ہے؟ کتاب اللہ سے، "وَأَرْجُلِكُمْ" کہتے ہیں یہ قرأت بتلا رہی ہے کہ پاؤں پر کیا کر لو؟ مسح کر لو، اور یہ کس حالت میں ہے؟ موزے پہننے کی حالت میں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کتاب اللہ سے وہ مسح علی الخفین کا اثبات کرتے ہیں۔
لیکن ہمارے عام مشائخ و فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ مسح علی الخفین کا ثبوت کتاب اللہ سے نہیں ہے، بلکہ وہ سنتِ مشہورہ سے ہے بھئی، حدیثِ مشہورہ سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس سلسلے میں 70، 80 صحابہ سے روایات آتی ہیں مولانا، 70، 80 روایات ہیں۔ مسح علی الخفین بھئی کہ پاؤں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے بھئی۔
تو پھر بھئی یہ کتاب اللہ کے اندر جو جر آیا ہے اس کا، اس کا پھر وہ جواب دیتے ہیں بھئی وہ مشائخ، وہ کہتے ہیں یہ جرِ جوار ہے بھئی، کیا ہے؟ جرِ جوار ہے بھئی۔ یہ "أَرْجُلِكُمْ" یہ جو آیا، یہ جوار اس کے پڑوس کی وجہ سے اس پر جر پڑھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے پڑوس میں "بِرُءُوسِكُمْ" رؤوس مجرور آ رہا تھا، تو ارجل پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جرِ جوار کہتے ہیں۔
بھئی عربی میں ایسا ہوتا رہتا ہے، کبھی ایک لفظ پر رفع یا نصب پڑھنا ہوتا ہے اعراب کے اعتبار سے اصل میں، لیکن اس کے ساتھ والے لفظ پر کیا آ رہا ہوتا ہے؟ جر آ رہا ہوتا ہے، تو اس لفظ پر بھی رفع یا نصب کے بجائے کیا پڑھ دیا جاتا ہے؟ جر پڑھ دیا جاتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جرِ... تو یہ اس کا اصل اعراب نہیں ہوتا، یہ صرف کس کی وجہ سے دیا جاتا ہے اعراب؟ مجرور کے جوار میں ہونے کی وجہ سے اس پر بھی کیا پڑھ دیتے ہیں؟ جر۔
جیسے بھئی وہ حدیث آپ نے پہلے بھی پڑھی ہے: "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ" جو مالک ہوا ایسے قریبی، ذو رحم کس کو کہتے ہیں؟ قریبی رشتہ دار، جو مالک ہوا ایسے قریبی رشتہ دار کا "مَحْرَمٍ" جو کیا ہو؟ محرم ہو، تو یہ "مَحْرَمٍ" صفت ہے "ذَا رَحِمٍ" کی، کس کی؟ اور "ذَا رَحِمٍ" کیا ہے؟ منصوب بھئی، "ذَا" مضاف ہے اور "رَحِمٍ" مضاف علیہ، "ذَا" کس میں سے ہے؟ اسماءِ ستہ مکبرہ کا آپ نے اعراب پڑھا ہے، حالتِ رفعی میں کس کے ساتھ؟ واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی میں الف کے ساتھ، حالتِ جری میں یاء... اور یہاں "مَنْ مَلَكَ" جو مالک بنا کس کا؟ "ذَا رَحِمٍ" یہ مفعول بن رہا ہے تو الف کے ساتھ آیا، حالتِ نصبی میں ہے۔ اور "ذَا رَحِمٍ" کس کو کہتے ہیں؟ قریبی... جو مالک بنا ایسے قریبی رشتہ دار کا، "مَحْرَمًا" ہونا چاہیے جو کیا ہو اس کا؟ محرم بھی ہو، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قریبی رشتہ دار بھی تو دو قسم پر ہیں، کچھ محرم ہیں جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام، اور بعض وہ ہیں جن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔
تو ایسا قریبی رشتہ دار جو محرم ہو، تو یہ "مَحْرَمًا" صفت ہے "ذَا رَحِمٍ" کی، اور "ذَا رَحِمٍ" منصوب، تو لہٰذا "مَحْرَمًا" کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ منصوب، لیکن اس پر کیا آیا ہے حدیث میں؟ جر، یہ جرِ جوار ہے مولانا، کیوں؟ کیونکہ محرم سے پہلے "رَحِمٍ" کا لفظ آیا اور وہ مجرور، تو محرم پر بھی کیا پڑھ دیا گیا؟ جر پڑھ دیا گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ" جو ایسے قریبی رشتہ دار کا مالک بنا جو محرم ہو "فَهُوَ حُرٌّ" تو کیا ہے وہ؟ آزاد ہے۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"وَمِنْهَا" اور ان طرق میں سے طریقہ یہ ہے، ان طرق میں سے ہے کہ "أَنَّ النَّصَّ إِذَا قُرِئَ بِقِرَاءَتَيْنِ" کہ نص جب وہ پڑھی جائے دو قرأتوں کے ساتھ "أَوْ رُوِيَ بِرِوَايَتَيْنِ" یا روایت کی جائے دو روایتوں کے ساتھ بھئی، یعنی جو حدیث وغیرہ ہو۔ "كَانَ الْعَمَلُ بِهِ" تو اس پر عمل کرنا "عَلَى وَجْهٍ" ایسے طریقے پر "يَكُونُ عَمَلًا بِالْوَجْهَيْنِ" کہ عمل ہو جائے دونوں طریقوں پر "أَوْلَى" یہ کیا ہے؟ ایسے طریقے پر عمل کرنا کہ دونوں پر عمل ہو جائے یہ اولیٰ ہے، یعنی دونوں روایتوں یا دونوں قرأتوں پر عمل ہو جائے۔ "مِثَالُهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى" اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے: "وَأَرْجُلَكُمْ" "قُرِئَ بِالنَّصْبِ" اس کو کس کے ساتھ پڑھا گیا ہے؟ نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے "عَطْفًا عَلَى الْمَغْسُولِ" بوجہ عطف کرنے کس پر؟ مغسول پر، اعضائے مغسولہ پر، عضوِ مغسول پر عطف کرنے کی وجہ سے بھئی، "أَيْدِيَكُمْ" یا "وُجُوهَكُمْ" پر عطف کرنے کی وجہ سے۔ "وَبِالْخَفْضِ" اور اس کو پڑھا گیا ہے جر کے ساتھ بھی "عَطْفًا عَلَى الْمَمْسُوحِ" کس پر عطف کرتے ہوئے؟ ممشوح اعضائے... عضوِ ممشوح پر عطف کرتے ہوئے، اور وہ کیا ہے؟ "رُءُوسِكُمْ" جو آیا بھئی، صریح ہے۔ "فَحُمِلَتْ قِرَاءَةُ الْخَفْضِ عَلَى حَالَةِ التَّخَفُّفِ" پس محمول کی جائے گی جر والی قرأت کس حالت پر؟ حالتِ تخفف پر، موزے پہنے ہوئے ہونے کی حالت پر، موزے پہننے کی حالت پر بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "وَقِرَاءَةُ النَّصْبِ عَلَى حَالَةِ عَدَمِ التَّخَفُّفِ" اور نصب والی قرأت محمول کی جائے گی حالتِ...
عدم تخفف پر، موزے نہ پہنے کی حالت پر بھئی۔ وباعتبار هذا المعنى، اور اسی معنی کا اعتبار کرتے ہوئے، قال البعض أي بعض المشايخ يا بعض الفقهاء، بعض فقہاءنا، بعض ہمارے فقہاء، بعض ہمارے مشائخ فرماتے ہیں: جواز المسح ثبت بالكتاب. کہ مسح کا جواز ثابت ہے کس سے؟ کتاب اللہ سے۔ جی۔
وكذلك قوله تعالى حتى يطهرن، قرئ بالتشديد والتخفيف. ولا تقربوهن حتى يطهرن. بھئی ہماری قراءت میں تو ہے طاء بھی، طاء پر بھی شد نہیں ہے اور حاء پر بھی شد ولا تقربوهن حتى يطهرن. اور خا خاوند قریب نہ جائیں ان بیویوں کے حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ کیا ہو جائیں؟ بھئی حالت حیض کا ذکر ہو رہا ہے کہ حالت حیض میں خاوند ان کے قریب نہ جائیں، ان سے صحبت نہ کریں حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اسی میں ایک قراءت آئی ہے حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں۔ ایک قراءت کیا آئی ہے؟ حتى حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں۔ تو طاء اور حاء کی تشدید کے ساتھ بھی قراءت آئی ہے اور طاء اور حاء کی تخفیف کے ساتھ بھی قراءت ہے۔
تو تخفیف والی قراءت کا کیا معنی کیا میں نے؟ حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ اور تشدید آئی تو تشدید کی وجہ سے حروف بڑھ گئے اور کثرت حروف دلالت کرتی ہے کس چیز پر؟ کثرت معنی پر۔ تو معنی بھی بڑھ جائے گا، حتى يطهرن، اب معنی کیا ہے؟ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں۔
اب وہ جو قراءت ہے پہلے والی، حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، یہ قراءت تقاضا کرتی ہے کہ اور جب مطلق پاکی حاصل ہو جائے عورت کو، تو وہ خاوند اس کے قریب جا سکتا ہے، اس سے صحبت کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ مطلق پاکی حاصل ہو جائے اور مطلق پاکی حیض کے بند ہوتے ہی بھئی، خون کے رکتے ہی فوراً کیا حاصل ہو گئی؟ مطلق پاکی حاصل ہو گئی ہے، سبحان اللہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور تشدید والی قراءت کا کیا تقاضا ہے؟ حتى يطهرن، یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، اور خوب پاکی غسل سے حاصل ہوتی ہے۔ حیض بھی رک جائے اور حیض کے بعد پھر کیا کر لیں وہ؟ غسل بھی کر لیں۔ اب کیا ہوئی؟ خوب پاکی۔ تو تخفیف والی قراءت تقاضا کر رہی ہے کہ خاوند کے لیے حیض کے رکتے ہی بیوی کو کیا حاصل ہو چکی ہے؟ مطلق طہـ پاکی حاصل ہو چکی ہے، خاوند کے لیے قریب جانا جائز ہے۔ اور تشدید والی قراءت کیا ر تقاضا کر رہی ہے؟ کہ جب تک بیوی غسل نہ کر لے حیض کے بعد، خاوند کے لیے قریب جانا جائز نہیں ہے۔ تو دو قراءتیں آئیں۔
اب احناف مولانا عجیب دیکھیے بھئی، دونوں روایتوں پر ہم عمل کرتے ہیں، دونوں قراءتوں پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اس طرح بھئی کہ حیض کے زیادہ سے زیادہ مدت کتنی ہے؟ 10 دن۔ تو لہذا یہ جو حتى يطهرن آیا، یہاں جب کہ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، اس قراءت کو ہم محمول کرتے ہیں اس حالت پر جب کہ عورت کا حیض بند ہو 10 دن کے پورے ہونے پر۔ تخفیف والی قراءت کس حالت پر محمول ہے؟ 10 دن کے پورے ہونے پر اس کا حیض بند ہو، تو اب جب 10 دن کے پورے ہونے پر حیض بند ہو گیا، تو اب عورت کو مطلق پاکی حاصل ہو چکی، اب بغیر غسل کے لیے ہی غسل کیے ہی خاوند کے لیے اس کے قریب جانا جائز ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس سے قربت کرنا صحبت کرنا جائز ہوا۔
اور تشدید والی قراءت کو ہم محمول کرتے ہیں اس حالت پر جب کہ عورت کا حیض بند ہو 10 دن سے کم میں، مثلاً چھ دن یا سات دن میں کیا ہوا؟ اس پر خون رک گیا، حیض بند ہوا۔ اب مطلق طہارت تو حاصل ہو چکی، لیکن خوب طہارت حاصل ہوئی ہے؟ نہیں، تو اب جب وہ غسل کر لے گی، اب اس کے لیے خاوند کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز ہوا، ورنہ جائز نہیں، وجہ یہ ہے کہ یہاں پر خون 10 دن سے پہلے رکا ہے اور حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت تو کتنی ہے؟ 10 دن، تو خون کے دوبارہ لوٹنے کا بھی امکان ہے۔ حیض کے دوبارہ لوٹنے کا ہو سکتا ہے ویسے ہی رکا ہو بھئی، حیض ابھی ختم ہی نہیں ہوا۔ لیکن جب وہ 10 دن میں پورا ہوا ہے تو اس کے تو دوبارہ آنے کا امکان ہی نہیں، کیونکہ وہ تو اکثر مدت ہے۔
تو لہذا جب تو تخفیف والی قراءت محمول ہے کس حالت تخفیف والی قراءت کا کیا معنی؟ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، تو پھر خاوند کے لیے قربت قریب جانا اس کے جائز ہے، اور وہ پھر کس حالت پر ہم نے محمول کیا؟ جب کہ اس کا حیض کتنے دنوں پر بند ہو؟ 10 دنوں میں، اب دوبارہ حیض کے آنے کا خون کے شروع ہونے کا امکان ہے؟ نہیں، لہذا اب مطلق پاکی ہو حاصل ہو چکی ہے، لہذا بغیر غسل کے ہی خاوند کے لیے قریب جانا، صحبت کرنا صحیح۔ اور اگر 10 دن سے کم میں آیا ہے، تو اس صورت میں خون کے دوبارہ شروع ہونے آنے ہے شروع ہونے آنے کا امکان ہے، تو لہذا جب تک وہ غسل نہ کر لے، خاوند کے لیے قریب جانا، صحبت کرنا جائز صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھا دونوں قراءتوں پر ہم نے عمل کیا بھئی۔
وكذلك قوله تعالى حتى يطهرن، ایک قراءت، اور حتى يطهرن، دوسری قراءت۔ قرئ بالتشديد والتخفيف، پڑھی گئی ہے یہ قول پڑھا گیا ہے مولانا تشدید کے ساتھ بھی، طاء اور حاء کی ت دونوں کی شد کے ساتھ، والتخفيف، اور طاء حاء دونوں کی تخفیف کے ساتھ بھی۔ فيعمل بقراءة التخفيف، پس عمل کیا جائے گا تخفیف والی قراءت پر، فيما، اس صورت میں، إذا كان أيامها عشرة، جب کہ عورت کے ایام کتنے ہوں؟ یعنی 10 دن میں ہو حیض بند ہو۔ وبقراءة التشديد، اور عمل کیا جائے گا تشدید والی قراءت پر، فيما، اس صورت میں، إذا كان أيامها دون العشرة، جب کہ اس کے ایام کیا ہوں؟ 10 سے کم ہوں۔
وعلى هذا، اور اسی بناء پر، قال أصحابنا، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: إذا انقطع دم الحيض، جب رک جائے حیض کا خون، لأقل من عشرة أيام، 10 دن سے کم میں، لم يجز وطء الحائض، جائز نہیں ہے حائضہ کی سے وطی کرنا، حتى تغتسل، یہاں تک کہ وہ کیا کر لے؟ غسل کر لے، لأن کمال الطهارة يثبت بالغتسال، اس لیے کہ کامل طہارت بھئی وہ ثابت ہو گی کس کے ساتھ؟ غسل کرنے کے ساتھ۔ وإن انقطع دمها لعشرة أيام جاز وطؤها قبل الغسل، اور اگر رکا، بند ہوا، منقطع ہوا اس کا خون لعشرة أيام، کتنے دنوں میں؟ 10 دن میں، جاز وطؤها قبل الغسل، تو اس کی سے وطی جائز ہے غسل سے پہلے، لأن مطلق الطهارة ثبت بانقطاع الدم، اس لیے کہ مطلق طہارت ثابت ہو چکی ہے خون کے بند خون بند ہو گیا، تو مطلق طہارت کیا ہوئی ہے؟ حاصل، خیر قدم ہوا۔
ولهذا قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: إذا انقطع دم الحيض، کہ جب منقطع ہو جائے حیض کا خون، لعشرة أيام، کتنے مدت میں؟ 10 دن میں، في آخر وقت الصلاة، نماز کے آخری وقت بھئی ایک عورت ہے اس کو حیض آیا اور 10 دن کے پورے ہونے پر حیض بند ہوا اور خون بند ہوا ہے، جب کہ ظہر کی نماز کا وقت ختم ہو چکا، صرف ایک دو منٹ باقی ہیں، کتنے باقی ہیں؟ دو منٹ یا تین منٹ یا پانچ منٹ باقی ہیں بھئی، اب یہ اتنا وقت نہیں ہے کہ عورت کیا کرے؟ غسل کرے اور اس میں تکبیر تحریمہ کہہ سکے بھئی۔
اب اتنا وقت اگرچہ نہیں ہے، لیکن اس کو کیا ہے؟ مطلق طہارت کیا ہے؟ حاصل ہو چکی ہے اور لہذا اب اس پر یہ نماز فرض ہو گئی، کیونکہ اس نے ظہر کے وقت کو کیا کر لیا؟ بھئی مسئلہ آپ کو پتہ ہے عورت پر حیض کے ایام کی نمازیں، نمازوں کی قضاء نہیں ہوتی، البتہ روزوں کی کیا ہوتی ہے؟ قضاء، کیونکہ روزے سال میں ایک مرتبہ آتے ہیں اور حـ جب کہ نمازیں تو پھر ہر روز پانچ پڑھنا پڑتی ہیں، تو حیض کے ایام ہر مہینے اس کو اتنی قضاء نمازیں ادا کرنا پڑیں تو اس پر کیا ہو، اس کے لیے کیا ہو جائے گی؟ مشقت۔ تو حیض کے ایام کی نمازوں کی قضاء اس پر نہیں ہے، لیکن روزوں کی کیا ہوا کرتی ہے؟ قضاء ہوتی ہے۔
تو اب جو نمازیں وقت حیض میں آئیں ان کی قضاء نہیں، لیکن اگر اس نے 10 دن کے پورے ہونے پر حیض بند ہوا اور پانچ منٹ کیا تھے، چار منٹ باقی تھے، تو اس صورت میں کیا ہو گا؟ جی؟ اب اگرچہ غسل کا وقت نہیں ہے اس، لیکن کیا؟ اب اس کو مطلق طہارت کیا ہے؟ حاصل ہو چکی ہے، لہذا اب یہ ظہر کی نماز اس پر کیا ہو جائے گی؟ فرض ہو گئی، لہذا اس کی بعد میں قضاء کرے گی، کیونکہ اس نے ظہر کے وقت کو پا لیا، ظہر کے وقت کو پاکی کی حالت میں پا لیا ہے۔
اور اگر اس کا حیض 10 دن سے کم میں بند ہوا ہے اور صرف چار پانچ منٹ باقی ہیں، اتنا وقت نہیں ہے جس میں وہ غسل کر کے تکبیر تحریمہ کہہ سکے، تو اس صورت کے اندر اب اس پر وہ ظہر کی نماز بھی فرض نہیں ہوئی، کیونکہ اس نے اتنا وقت ہی نہیں پایا جس میں غسل کر کے کیا کہہ سکے؟ تکبیر تو کامل پاکی اس کو ابھی حاصل ہی نہیں۔
ولہذا یہی مسئلہ بیان کیا، ولهذا قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں، إذا انقطع دم الحيض لعشرة أيام، جب منقطع ہو جائے حیض کا خون 10 دنوں میں، في آخر وقت الصلاة، نماز کے آخری وقت کے اندر، لزمتها فريضة الوقت، تو اس عورت پر لازم ہو جائے گا وہ وقت، اس وقت کا فرض فریضہ، اس وقت کی فرض نماز، وإن لم يبق من الوقت، اگرچہ باقی نہ ہو وقت میں سے، مقدار ما تغتسل فيه، اتنی مقدار کہ جس کے اندر کیا کر سکے؟ غسل کر سکے، وإن انقطع دمها، اور اگر منقطع ہوا اس کا خون، لأقل من عشرة أيام، 10 دنوں سے کم کے اندر، في آخر وقت الصلاة، نماز کے آخری وقت میں، إن بقي من الوقت، اگر باقی تھا وقت میں سے، مقدار ما تغتسل فيه، اتنی مقدار جس کے اندر وہ کیا کر سکے؟ غسل کر سکے، وتحرم للصلاة، اور نماز کے لیے کیا کر سکے؟ تکبیر تحریمہ کہہ سکے، باندھ سکے، لزمتها الفريضة، تو اس پر وہ فرض نماز کیا ہو جائے گی؟ لا اتنی مقدار، اتنا وقت پا لیا ہے تو نماز فرض ہو جائے گی، وإلا فلا، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر نماز بھی فرض نہیں، یعنی اتنا وقت نہیں پایا جس میں غسل کر کے تحریمہ کہہ سکے، تو پھر اس پر وہ نماز بھی فرض نہیں۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔