فَصْلٌ فِی تَعْرِیْفِ طَرِیْقِ المُرَادِ بِالنُّصُوْصِ. اِعْلَمْ اَنَّ لِمَعْرِفَةِ المُرَادِ بِالنُّصُوْصِ طُرُقًا، طُرُقًا مِنْهَا اَنَّ اللَّفْظَ اِذَا کَانَ حَقِیْقَةً لِمَعْنًى وَمَجَازًا لِآخَرَ فَالْحَقِیْقَةُ اَوْلٰی.
اس فصل میں مصنف آپ کو بتلائیں گے کہ نصوص کی مراد کو پہچاننے کا کیا طریقہ ہے؟ نص آ جائے قرآن اور حدیث میں، اس میں کوئی حکم آ جائے، تو آپ اس کے ذریعے کس چیز اس نص کی مراد کیا ہے، کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے اس سے، اس پر مطلع ہونے کے طریقے بتلائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ تاکہ پتہ چلایا جائے بھئی حکم کس طرح نکالتے ہیں بھئی، حدیث اور قرآن سے۔
فَصْلٌ فِی تَعْرِیْفِ طَرِیْقِ المُرَادِ بِالنُّصُوْصِ. اَیْ هٰذَا فَصْلٌ۔ یہ فصل ہے نصوص کی مراد کے طریقے کے پہچاننے میں بھئی۔ نصوص کی مراد کا طریقہ کے... نصوص کی مراد بھئی، نصوص سے کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے، اس کے پہچاننے کے طریقے بھئی ذکر ہوں گے۔
اِعْلَمْ، جان لے تو، اَنَّ لِمَعْرِفَةِ المُرَادِ بِالنُّصُوْصِ طُرُقًا۔ نصوص کی مراد کو پہچاننے کے کئی طریقے ہیں۔ طُرُقًا جمع ہے طریق کی۔ یہ اَنَّ کا اسمِ مؤخر ہے، کیونکہ اَنَّ کے بعد لِمَعْرِفَةِ جار مجرور آ رہا ہے، اور اَنَّ، اِنَّ کے بعد جار مجرور آئے تو وہ کیا ہوتا ہے، خبرِ مقدم ہوتا ہے، اور اسم بعد میں مؤخر آیا کرتا ہے منصوب بھئی۔
اچھا، کہتے ہیں بھئی کئی طریقے ہیں بھئی۔ نصوص کی مراد کے پہچاننے کے کئی طریقے ہیں بھئی۔ ایک ان میں سے: مِنْهَا اَنَّ اللَّفْظَ اِذَا... دیکھو ضابطہ بتلانے لگے ہیں: اَنَّ اللَّفْظَ اِذَا کَانَ حَقِیْقَةً لِمَعْنًى وَمَجَازًا لِآخَرَ، جب لفظ حقیقت ہو ایک معنی کے لیے، وَمَجَازًا، اور جب لفظ کیا ہو، مجاز ہو لِآخَرَ اَیْ لِمَعْنًى آخَرَ، دوسرے معنی کے لیے، فَالْحَقِیْقَةُ اَوْلٰی، تو حقیقت کیا ہے؟ بھئی ایک ہی لفظ کے دو معنی ہیں، ایک حقیقی معنی ہے، ایک مجازی معنی ہے، تو اس سے کون سا معنی لینا بہتر ہے؟ حقیقی معنی لینا بہتر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بشرط، لیکن ایک شرط لگاؤ، شرط یہ کہ وہ مجاز متعارف نہ ہو بھئی، مشہور نہ ہو، مجازِ متعارف نہ ہو۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نیز کسی ایک کا قرینہ بھی نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی اگر مجاز کا قرینہ ہوا پھر تو مجازی معنی لینا پڑے گا، اگر حقیقت کا قرینہ ہوا پھر تو کون سا معنی لینا پڑے گا؟ حقیقی معنی لینا پڑے گا۔ تو یہ اس وقت ہے جب کوئی قرینہ بھی نہ ہو، نہ حقیقت کا کوئی قرینہ ہے، نہ مجاز کا کوئی قرینہ ہے، اور نیز کوئی مجاز... وہ مجاز متعارف بھی نہ ہو، مشہور نہ ہو۔ تو اس صورت میں اب حقیقی معنی بھی ہے، مجازی معنی بھی ہے، تو کیا لینا... کون سا معنی مراد لینا اولیٰ ہے؟ حقیقی معنی مراد لینا اولیٰ ہے۔
ضابطہ پتہ چل گیا بھئی؟ ضابطہ کیا ذکر کیا ہے انہوں نے؟ کہ جب ایک لفظ کے حقیقی معنی ہوں... ایک لفظ کے دو معنی ہوں، ایک حقیقی اور ایک مجازی معنی، تو اس صورت میں کون سا معنی لینا اولیٰ ہے؟ حقیقی معنی مراد لینا اولیٰ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ تھا ضابطہ۔
اب مسئلہ آگے یہ ذکر ہوگا مثال کے طور پر، بھئی... ایک شخص ہے اس نے... بھئی یوں کہو، ہاں، ایک لڑکی ہے وہ زنا سے پیدا ہوئی ہے، زنا سے۔ اب یہ لڑکی بڑی ہو گئی تو کیا اس کا نکاح اس زانی کے ساتھ جائز ہے یا جائز نہیں، جس کے نطفے سے یہ پیدا ہوئی؟ تو ہمارے یہاں، احناف کا مذہب یہ ہے کہ یہ لڑکی اس زانی پر حرام ہے، اس زانی کا اس سے نکاح جائز نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اس کے نطفے سے پیدا ہوئی ہے، یہ اس کی بیٹی ہے۔ یہ کیا ہے اس کی؟ بیٹی ہے۔ اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ، تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں تم پر حرام کر دی گئی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مائیں اور بیٹیاں حرام کر دی گئی ہیں، ان سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ اور یہ بھی لڑکی جو زنا سے پیدا ہوئی، اسی شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی، تو یہ اس کی بیٹی ہوئی، اور بیٹی کے ساتھ تو نکاح جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زانی کا اس لڑکی سے نکاح جائز ہے۔ زانی کا کیا ہے اس لڑکی سے نکاح؟ جائز ہے۔ اس لیے وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ بھئی یہاں... کہ یہ بیٹی اس کو کہتے... اس کو کہتے ہیں عرف میں اور شریعت میں، جس سے... جو... جس کے لیے اس شخص کا... جس کا اس شخص سے نسب ثابت ہو۔ جس کا اس شخص سے کیا ثابت ہو؟ نسب ثابت ہو، عرف میں بھی کیا کہلاتی ہو اس شخص کی؟ بیٹی کہلاتی ہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ یہ فلاں شخص کی بیٹی ہے۔ جبکہ زنا سے جو پیدا ہوئی ہے، اس کے نسبت کسی شخص کی طرف نہیں کی جاتی کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
کیا مسئلہ ہوا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس شخص کا اس سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ عرفاً اور شرعاً اس شخص کی بیٹی نہیں بھئی۔ اس شخص کی بیٹی عرفاً اور شرعاً نہیں۔ کیونکہ بیٹی اس کو کہتے ہیں، جس کی نسبت بھی اس شخص کی طرف کی جاتی ہو۔ اور زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی کی نسبت کسی کی طرف نہیں کی جاتی عرفاً بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کسی کی طرف۔
تو لہٰذا یہ اس شخص کی بیٹی نہ ہوئی، نہ عرفاً... عرف میں بھی اس کی طرف نسبت نہیں کی جاتی، اور شرعاً بھی یہ اس کی بیٹی نہیں۔ اس لیے کہ شریعت میں بیٹی کون ہے؟ جو ثابت النسب بھی ہو، جس کا نسب بھی اس شخص سے ثابت ہو، اور عرف میں بھی کہتے ہوں۔
احناف جواب دیتے ہیں بھئی، وہی جواب بھئی، کہ یہاں بنت کے دو معنی ہیں، ایک حقیقی معنی ہے، ایک مجازی معنی ہے۔ حقیقی معنی... بیٹی کسے کہتے ہیں؟ وہ مونث ہے جو کسی... اس شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی ہو۔ کسے کہتے ہیں بھئی؟ یہ تعریف لکھ لو بھئی۔
البِنْتُ هِیَ الاُنْثَى المَخْلُوْقَةُ مِنْ مَاءِ الرَّجُلِ۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وہ مونث ہے جو پیدا ہوئی ہو اس شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی ہو، وہ کیا کہلاتی ہے؟ بیٹی۔ یہ لغت... حقیقی لغوی معنی ہے بیٹی کا۔ لغوی معنی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اس کا حقیقی معنی ہوا۔
اور ایک ہے مجازی معنی بیٹی کا، اور وہ مجازاً کس کو بیٹی کہتے ہیں؟ جس کا اس شخص سے نسب بھی ثابت ہو، عرف میں بیٹی کہلاتی ہو، عرف میں بیٹی کہلاتی ہو، یعنی اس شخص سے نسب ثابت ہو کہ یہ فلاں کی بیٹی ہے۔ یہ فلاں کی بیٹی ہے۔ لکھ لیا بھئی؟
تو بھئی بنت کا لفظ آیا ہے بھئی: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ۔ بنات کا لفظ آیا، اور بنت حقیقت... حقیقت میں کسے کہتے ہیں؟ جو کسی شخص کے نطفے سے... اس شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی ہو۔ اور شریعت میں بیٹی اور عرف میں بیٹی کس کو کہتے ہیں؟ جس کی کسی اس شخص کی طرف نسبت بھی... نسبت بھی کی جاتی ہو، اگر نسبت نہ کی جاتی ہو تو وہ اس کی بیٹی... اور زنا سے پیدا شدہ کی تو نسبت نہیں کی جاتی، لیکن حقیقت کے اعتبار سے تو وہ کیا ہے، اس شخص کے نطفے سے پیدا ہے۔
تو بنت کا ایک معنی ہے حقیقی اور ایک معنی ہے مجازی۔ حقیقی وہ جو اسی شخص کے نطفے سے پیدا ہو، اور مجازاً وہ جس شخص... جس کی اس شخص کی طرف نسبت کی جاتی ہو۔ تو یہاں بنت کا لفظ، بنات کا لفظ آیا جو جمع ہے بنت کی، اور بنت کا ایک حقیقی معنی ہے اور ایک مجازی معنی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر کس معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے؟ حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ تو اور وہ کون ہے؟ جو اس شخص کے نطفے سے پیدا ہوئی ہو۔ تو یہ بھی اس شخص کی بیٹی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لہٰذا یہ بھی اس کے تحت... اس آیت کے حکم کے تحت داخل ہوئی، اور اس کے ساتھ بھی اس شخص کا نکاح کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
اور نیز یہ مقام حرمت کا ہے۔ مقام کس چیز کا ہے؟ بھئی ہم کہہ رہے ہیں حرام ہے نکاح، امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کیا ہے نکاح؟ اس شخص کا اس لڑکی سے نکاح جائز ہے بھئی۔ تو یہاں احتمال ہے بھئی۔ حرمت... جہاں جواز کا احتمال ہے، تو حرمت کا بھی احتمال ہے۔ تو احتیاط ہمارے مسلک کے اندر ہے بھئی۔ احتیاط ہمارے مسلک کے اندر احتیاط ہے بھئی۔
مِثَالُهُ مَا قَالَ عُلَمَاؤُنَا، مثال اس کی بھئی جس کو... وہ جو کہا ہے ہمارے علماء و فقہاء نے، اَنَّ البِنْتَ المَخْلُوْقَةَ مِنْ مَاءِ الزِّنَا یَحْرُمُ عَلَى الزَّانِیْ نِکَاحُهَا، کہ وہ لڑ... بیٹی جو پیدا ہوئی ہو زنا کے نطفے سے، حرام ہے زانی پر اس کا نکاح، اس سے نکاح کرنا زانی پر حرام ہے۔
وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رحمہ اللہ یَحِلُّ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ حلال ہے، جائز ہے اس سے نکاح کرنا۔
وَالصَّحِیْحُ مَا قُلْنَا، اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا، لِاَنَّهَا بِنْتُهُ حَقِیْقَةً، اس لیے کہ یہ اس کی بیٹی ہے باعتبار حقیقت کے۔ تو دیکھا، ایک لفظ ہے اس کے دو معنی آئے، اور کون سا معنی اولیٰ ہے؟ حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ لہٰذا ہم یہاں بنت کا حقیقی معنی مراد لیتے ہیں، اور حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک لڑکی کیا ہے، اس شخص کی بیٹی ہے۔ جب بیٹی ہے تو اس کے ساتھ اس کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔
فَتَدْخُلُ تَحْتَ قَوْلِهِ تَعَالَى: تو پس یہ بھی داخل ہوئی اللہ کے اس قول کے تحت: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّهَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ، حرام کر دی گئی ہیں تمہارے اوپر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں۔ تو یہ بھی کیا ہوئی؟ بیٹی ہوئی باعتبار حقیقت کے، تو یہ بھی اس شخص پر کیا ہو گئی؟ حرام ہو گئی۔
وَیَتَفَرَّعُ مِنْهُ الاَحْکَامُ عَلَى المَذْهَبَیْنِ، اور متفرع ہوتے ہیں، نکلتے ہیں اس سے احکام دونوں مذاہب پر بھئی۔ دونوں مذاہب پر اس کے مطابق اب احکام مرتب ہوں گے بھئی۔ ہمارے نزدیک اس سے کیا ہے نکاح جائز نہیں، ان کے نزدیک نکاح جائز ہے۔ تو احکام دونوں مذہبوں پر اس کے مطابق نکالے جائیں گے۔ کون سے احکام؟ مِنْ بیانیہ ہے بھئی۔ مِنْ کیا ہے؟ احکام... کون سے احکام؟ یعنی کہ مِنْ حِلِّ الوَطْءِ، وطی کا حلال ہونا۔ بھئی ہمارے نزدیک اس سے نکاح کیا تو نکاح ہوا ہی نہیں، لہٰذا وطی بھی جائز نہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح کیا، نکاح ہو گیا، تو نکاح... وطی بھی کیا ہو گئی؟ جائز۔ تو وطی کا حلال ہونا ہمارے نزدیک... ان کے نزدیک بھئی، نہ کہ ہمارے نزدیک۔
وَوُجُوْبِ المَهْرِ، اور مہر کا... یہ حکم بھی نکلے گا۔ ان کے نزدیک نکاح ہو گیا، وطی کی تو کیا ہو جائے گا؟ مہر واجب ہو جائے گا۔ ہمارے نزدیک نکاح ہی نہیں ہوا، لہٰذا مہر بھی واجب نہیں۔
وَلُزُوْمِ النَّفَقَةِ، اور نفقے کا واجب ہونا۔ ان کے نزدیک نکاح ہو گیا، اس نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا، تو لہٰذا مہر بھی واجب اور نفقہ بھی خاوند پر کیا ہو گیا؟ واجب۔ ہمارے نزدیک نکاح ہی نہیں ہوا تو مہر... نفقہ بھی واجب نہیں۔
وَجَرَیَانِ التَّوَارُثِ، اور وراثت کا جاری ہونا، باہمی وراثت کا... بھئی ان کے نزدیک نکاح ہو گیا اور ان میں سے کوئی ایک مر جائے تو میاں بیوی کیا ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک نکاح ہی نہیں، یہ میاں بیوی نہیں ہیں، تو ان میں سے کوئی مر جائے تو دوسرے کا وارث بھی نہیں۔
وَوِلَایَةِ المَنْعِ عَنِ الخُرُوْجِ وَالبُرُوْزِ، اور نکلنے، خروج و بروز... بروز کا معنی ظاہر ہونا، ظاہر ہونا۔ یہ عطفِ تفسیری ہے، خروج اور بروز کا ایک معنی ہے بھئی، نکلنا، ظاہر ہونا، باہر نکلنا۔
بھئی اب اس... امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نکاح ہو گیا، تو خاوند کیا کر سکتا ہے، اس کو باہر نکلنے سے، گھر سے منع کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک نکاح ہی نہیں، لہٰذا اس کو باہر نکلنے سے منع کرنے کی ولایت بھی اسے حاصل نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سارے مسائل نکلیں گے بھئی۔ ان کے نزدیک وطی بھی حلال، مہر بھی واجب، نفقہ بھی لازم، وراثت بھی جاری ہوگی اور وہ خاوند اس کو باہر نکلنے سے منع بھی کر سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک بھئی وطی بھی نہیں حلال، مہر بھی نہیں واجب، نفقہ بھی نہیں لازم، بھئی وراثت بھی جاری نہیں ہوگی اور اس کو باہر نکلنے سے روکنے کی ولایت بھی اسے حاصل نہیں۔
وَمِنْهَا، یہ ایک تھا بھئی۔ ضابطہ کیا ذکر ہوا تھا؟ جب ایک لفظ کے حقیقی معنی اور ایک مجازی معنی ہوں تو کس معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے؟ حقیقی معنی۔
دوسرا بھئی: وَمِنْهَا، اور ان طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ: اَنَّ اَحَدَ المَحْمَلَیْنِ اِذَا وَجَبَ تَخْصِیْصًا فِی النَّاسِ دُوْنَ الآخَرِ فَالْحَمْلُ عَلَى مَا لَا یَسْتَلْزِمُ... بھئی یہاں لَا ہونا چاہیے، آپ کی کتابوں میں ہے؟ مَا یَسْتَلْزِمُ ہے میرے نسخے میں بھئی، لیکن یہ مَا لَا یَسْتَلْزِمُ ہونا چاہیے بھئی، لَا یَسْتَلْزِمُ۔ یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ مَا لَا یَسْتَلْزِمُ التَّخْصِیْصَ اَوْلٰى۔
بھئی یاد رکھو، ایک نص آئی مثلاً، اور نص کے اندر دو احتمال ہیں بھئی۔ نص کے اندر دو احتمال ہیں۔ اور ایک احتمال کی صورت میں تخصیص کرنا پڑتی ہے، دوسرے احتمال کی صورت میں تخصیص نہیں کرنا پڑتی۔ تو اس کو اس احتمال پر رکھنا، اس صورت پر محمول کرنا جس پہ تخصیص نہ ہو، یہ اولیٰ ہے۔ یہ کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔
کیا مسئلہ ذکر ہوا، کیا ضابطہ ذکر کیا ہے انہوں نے؟ کہ جب ایک نص میں کتنے احتمال ہوں؟ دو احتمال، اور ایک احتمال کی صورت میں کیا کرنا پڑتی ہو؟ تخصیص کرنا پڑتی ہو، اور دوسرے احتمال کی صورت میں کوئی تخصیص نہیں کرنا پڑتی، تو کون سا احتمال اولیٰ ہے؟ جس میں تخصیص نہ ہو بھئی، جس میں تخصیص نہ ہو۔ بھئی مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، دیکھیے بھئی۔ یعنی ایک صورت میں وہ اپنے تمام افراد کو شامل ہوتی ہے، کوئی تخصیص نہیں کرنا پڑتی، ہر فرد اس حکم کے تحت داخل ہے۔ اور ایک وہ صورت ہے کہ بعض افراد کو اس سے کیا ...
کرتا ہے، اس کے بغیر درست نہیں، تو اس صورت میں کون سا اولٰی ہے، جس میں اس کو اپنے عموم پر برقرار رکھا جائے، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہ کرنی پڑتی ہو، مثال کے طور پر اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "اِذَا جَاءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا"۔ تو دیکھا، "جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آئے، او لمستم النساء، یا تم اپنی عورتوں کو کیا کر لو؟ چھو لو۔"
اب یہاں "لامستم" آیا، لمس کا ایک معنی کیا ہے؟ ہاتھ سے چھونا۔ اور یہ حقیقی معنی۔ اور دوسرا معنی کیا ہے؟ مجازی معنی، اور وہ کیا ہے؟ جماع، جماع۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ اس کو حقیقی معنی اس سے مراد لیتے ہیں، کہ ہاتھ سے چھونا مراد ہے، کسی نے بھی عورت کو چھو لیا بغیر حائل کے، تو اس صورت میں اس کا وضو کیا ہو گا؟ ٹوٹ جائے گا، جبکہ ہم کہتے ہیں یہاں مراد کیا ہے؟ جماع ہے جو اس کا مجازی معنی ہے، تو اب جماع کی صورت میں اس کی طہارت ٹوٹے گی، صرف چھونے سے طہارت نہیں ٹوٹے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟
اب امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اگر معنی لیں، تو اس صورت میں انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ لامس کا کیا معنی ذکر کیا لامست کا؟ ہاتھ سے چھونا، لیکن اس صورت میں نص اپنے عموم پر باقی نہیں رہتی بلکہ وہ تخصیص کرتے ہیں۔ عموم تو یہ تھا کہ جب بھی کسی بھی عورت کو چھو لے، کیا ہونا چاہیے؟ طہارت زائل ہو جانی چاہیے، کیا ہونی چاہیے؟ زائل ہونی چاہیے، لیکن وہ اس میں تخصیص کرتے ہیں، کچھ افراد کو نکال دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں اگر محرم کو ہاتھ لگا دیا تو اس صورت میں وضو طہارت زائل نہیں ہوگی، مثلاً ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، بموقعہ سفر سے ان سے ہاتھ ملا لیا، وہ کہتے ہیں نہیں بھئی اب یہ چونکہ محرم ہے، لہٰذا وضو نہیں ٹوٹے گا، یا اسی طرح ایک بچی ہے بہت صغیرہ، مشتہاۃ نہیں ہے، چھوٹی سی ہے، سال کی ہے، دو سال کی ہے، اس کو بھی چھو لیا تو اس صورت میں بھی طہارت زائل نہیں ہوگی۔
تو دیکھو نص تو تقاضا کر رہی ہے کس چیز کا؟ کہ جس عورت کو بھی چھو لے وضو کیا ہونا چاہیے؟ ٹوٹنا، لیکن وہ کیا کرتے ہیں اس کے اندر؟ تخصیص کرتے ہیں، تو حقیقی معنی مراد لیتے ہیں چھونا، لیکن اس کے اندر کیا کرتے ہیں وہ؟ تخصیص کرتے ہیں، اور ہم اس سے کون سا معنی مراد لیتے ہیں؟ جماع والا، اور اس صورت میں کوئی تخصیص ہم نہیں کرتے، جب بھی جماع کر لے گا، طہارت کیا ہو جائے گی؟ زائل ہو جائے گی۔ تو اس کے اندر دو احتمال تھے، حقیقی معنی کا بھی اور مجازی معنی کا بھی، لیکن حقیقی معنی مراد لیں تو اس صورت میں کیا کرنی پڑتی ہے؟ تخصیص، اور مجازی معنی مراد لیں تو تخصیص نہیں کرنا پڑتی، تو کس معنی پر محمول کرنا اولٰی ہے؟ اس صورت میں جس میں تخصیص نہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو ہمارے نزدیک جب بھی جماع پایا جائے، جس سے بھی پایا جائے، فوراً طہارت کیا ہو جائے گی؟ زائل، کوئی تخصیص نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے تو خود ابھی ضابطہ ذکر کیا تھا، ایک حقیقی معنی ہو، ایک مجازی معنی ہو، تو کس پر محمول کرنا اولٰی ہے؟ حقیقی معنی پر، اب یہاں پر لمس کا حقیقی معنی ہے چھونا اور مجازی معنی ہے جماع، اور آپ کس معنی پر محمول کر رہے ہیں؟ مجازی معنی پر محمول کر رہے ہیں، تو ابھی آپ نے جو ضابطہ ذکر کیا تھا، خود ہی اس کو توڑ دیا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، ابھی اوپر میں نے ذکر کیا تھا کہ حقیقت یا مجاز کا کوئی وہاں پر قرینہ بھی نہ ہو، یہاں مجاز کا قرینہ بھی موجود ہے مولانا، "لامس" آیا، "لامستم"، "لامس یلامس ملامسۃ" باب مفاعلہ آیا، اور باب مفاعلہ کس کو چاہتا ہے؟ فعل کو جانبین سے چاہتا ہے، فعل کو کس سے چاہتا ہے؟ جانبین سے چاہتا ہے، اور جانبین سے چھونا یہ عام چھونے میں ہوگا یا جماع کے اندر ہوگا بھئی؟ جماع کے اندر ہے، معلوم ہوا یہاں مجازی معنی کا کیا موجود ہے؟ قرینہ بھی موجود ہے بھئی۔
نیز مولانا وہ اس مقام پر تھا جب حقیقت اور مجاز عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر ہوں بھئی، حقیقت اور مجاز کیا ہوں؟ عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر ہوں، تو پھر کون سا معنی اولٰی ہے؟ حقیقی معنی، لیکن یہاں پر تو دونوں عموم و خصوص کے اعتبار سے برابر نہیں، اگر حقیقی معنی مراد لیں تو کیا کرنا پڑتی ہے؟ تخصیص، عموم میں کمی آ جاتی ہے، اور اگر ہم اس کا مجازی معنی کریں تو پھر اس صورت میں کیا ہے؟ تخصیص نہیں کرنا پڑتی، عموم اسی طرح برقرار رہتا ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟
"وَمِنْهَا" اور ان طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ "اَنَّ اَحَدَ الْمَحْمَلَيْنِ اِذَا وَجَبَ تَخْصِیْصًا فِي النَّصِّ" جب دو محملوں میں سے ایک بھئی، جب واجب کرتا ہو، ثابت کرتا ہو تخصیص کو کس کے اندر بھئی؟ نص میں، "دُوْنَ الْاٰخَرِ" نہ کہ دوسرا محمل، "فَالْحَمْلُ عَلٰى مَا لَا يَسْتَلْزِمُ التَّخْصِيْصَ" پس محمول کرنا اس کو اس محل پر "لَا يَسْتَلْزِمُ التَّخْصِيْصَ" جو تخصیص کو مستلزم نہیں، جس کے ساتھ تخصیص لازم نہیں، "اَوْلٰى" وہ کیا ہے؟ اولٰی ہے۔ "مِثَالُهُ فِيْ قَوْلِهٖ تَعَالٰى" مثال اس کی اللہ کے اس قول میں ہے: "اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ"، "فَالْمُلَامَسَةُ لَوْ حُمِلَتْ عَلَى الْوِقَاعِ" پس ملامست کو اگر محمول کیا جائے وقاع یعنی جماع پر، "كَانَ النَّصُّ مَعْمُوْلًا بِهٖ فِيْ جَمِيْعِ صُوَرِ وُجُوْدِهٖ" تو نص معمول بہ ہوگی یعنی اس پر کیا ہوگا؟ عمل ہوگا، "فِيْ جَمِيْعِ صُوَرِ وُجُوْدِهٖ" یعنی وجود الوقاع، جماع کے وجود کی تمام صورتوں میں، جماع کے پائے جانے کی تمام صورتوں میں نص کیا ہوگی؟ معمول بہ ہوگی یعنی اس پر کیا ہوگا؟ عمل ہوگا۔ "وَلَوْ حُمِلَتْ عَلَى الْمَسِّ بِالْيَدِ" اور اگر اس کو محمول کیا جائے کس پر؟ مس بالید پر، ہاتھ سے چھونے پر محمول کیا جائے، "كَانَ النَّصُّ مَخْصُوْصًا بِهٖ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الصُّوَرِ" تو نص مخصوص ہو جائے گی بہت سی صورتوں میں، کیسے؟ "فَاِنَّ مَسَّ الْمَحَارِمِ" اس لیے کہ چھونا کس کو بھئی؟ محرموں کو چھونا، محرم عورتوں کو چھونا، "وَالطِّفْلَةِ الصَّغِيْرَةِ" یعنی مس الطفلۃ الصغیرۃ، "جِدًّا" اور بہت چھوٹی بچی کو چھونا، "غَيْرُ نَاقِضٍ لِّلْوُضُوْءِ" یہ ناقض للوضوء نہیں ہے، "فِيْ اَصَحِّ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ"، "فی" ہے آپ کی کتابوں میں؟ "فی" ہونا چاہیے بھئی، فی فی۔
"فِيْ اَصَحِّ قَوْلَيِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى" امام شافعی کے دو قولوں میں سے زیادہ صحیح قول میں بھئی، زیادہ صحیح، بھئی ان کے دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق کیا ہے؟ ان سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا چاہے محرم ہی کیوں نہ ہو، صغیرہ جداً ہی کیوں نہ ہو، اور ایک قول کیا ہے؟ ان دو کو چھونے سے نہیں ٹوٹے گا، اور وہ زیادہ صحیح قول ان کا ترجیح دی گئی ہے جسے، اس قول کے مطابق ان دونوں کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، تو تخصیص لازم آئی بھئی، تو ایک صورت میں تخصیص ہے، اور ہمارے ہمارے والے معنی پر محمول کریں تو پھر تخصیص نہیں، لہٰذا وہ اولٰی ہے۔ "وَيَتَفَرَّعُ مِنْهُ الْاَحْكَامُ عَلَى الْمَذْهَبَيْنِ" اور اس اختلاف پر متفرع ہوں گے دونوں مذہبوں پر احکام بھئی، "مِنْ اِبَاحَةِ الصَّلَاةِ" وہ احکام کیا ہیں؟ من بیانیہ ہے، یعنی نماز کا جائز ہونا، نماز کا مباح ہونا، بھئی ایک عورت کو چھو لیا، بیوی کو کسی نے چھو لیا، ہمارے نزدیک وضو ٹوٹا؟ نہیں ٹوٹا، لہٰذا نماز پڑھ سکتا ہے، نماز پڑھنا مباح ہے، باوضو شخص تھا بیوی کو چھوا تو وضو نہیں، اور ان کے نزدیک ٹوٹ جائے گا، تو نماز کا مباح ہونا۔ "وَمَسِّ الْمُصْحَفِ" اور قرآن کا چھونا بھئی، ہمارے نزدیک اس کے باوضو شخص نے بیوی کو چھوا تو قرآن کا چھونا اب بھی، کیونکہ طہارت زائل ہی، اور ان کے نزدیک طہارت زائل ہو چکی۔ "وَدُخُوْلِ الْمَسْجِدِ" یہ اولٰی خلافِ اولٰی بھئی، سمجھ میں آیا؟ کراہتِ تنزیہی مراد ہے، بھئی ایک شخص نے اپنی بیوی کو چھوا باوضو شخص نے، تو ان کے نزدیک طہارت کیا ہو گئی؟ زائل، لہٰذا اب اس بغیر وضو کی حالت میں اس شخص کا مسجد میں داخل ہونا یہ کیا ہے؟ خلافِ اولٰی ہے، مکروہِ تنزیہی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور ہمارے نزدیک وضو ابھی بھی باقی ہے، لہٰذا بغیر کراہت کے ہی وہ کیا ہے مسجد میں؟ باوضو ہے وہ تو۔ "وَصِحَّةِ الْاِمَامَةِ" امامت کا صحیح ہونا، ان کے نزدیک طہارت زائل ہوئی لہٰذا اب یہ شخص امامت بھی، ہمارے نزدیک کیا کر سکتے ہیں؟ امامت کروا سکتے ہیں، امامت صحیح ہے۔ "وَلُزُوْمِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ" اور پھر اس شخص پر اب بھئی نماز کا وقت آ گیا، باوضو تھا، عورت بیوی کو چھوا، اور پھر اگلی نماز کا وقت آیا، تو ہمارے نزدیک اب اس پر کیا کرنا لازم ہے؟ اور پانی نہیں ملا، طہارت تو زائل ہو چکی، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پانی نہیں ہے اب کیا کرنا لازم ہے اس پر؟ تیمم کرنا لازم ہے، ہمارے نزدیک تو طہارت ہی نہیں زائل ہوئی، تو لہٰذا تیمم کرنا بھی اس پر لازم نہیں، "وَلُزُوْمِ التَّيَمُّمِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ" اور تیمم کا لازم ہونا پانی نہ ہوتے وقت بھئی، "وَتَذَكُّرِ الْمَسِّ فِيْ اَثْنَاءِ الصَّلَاةِ" اثناء: بیچ میں بھئی، نماز کے بیچ میں، یا تذکر کا معنی یاد آنا، یاد آنا، اور چھونا یاد آنا نماز کے بیچ میں بھئی، ایک شخص باوضو ہے، اس نے کیا کیا؟ اپنی بیوی کو چھوا، لیکن پھر بعد میں وہ بھول گیا، بھول کر اس نے نماز شروع کر دی، نماز کے بیچ میں اس کو یاد آیا کہ میں نے تو کیا کیا تھا عورت کو؟ چھوا تھا، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا تو وضو ہی ٹوٹ چکا تھا، لہٰذا نماز ہی اس کی نہیں ہوگی، سمجھ میں آیا؟ نماز توڑے، وضو کرے اور پھر نماز ادا، اور ہمارے نزدیک نماز کے بیچ میں یاد آ جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ وضو ٹوٹا ہی نہیں، تو یاد بھی آیا تو کوئی حرج نہیں بھئی، وضو اس کا ہے ابھی بھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا، ھذا ھو المرام والله اعلم بحقیقۃ الکلام۔