Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلِهَذَا قُلْنَا لَوْ شَرَعَ فِي النَّفْلِ فِي هَذِهِ الْأَوْقَاتِ لَزِمَهُ بِالشُّرُوعِ وَارْتِكَابُ الْحَرَامِ لَيْسَ بِلَازِمٍ لِلُزُومِ الْإِتْمَامِ فَإِنَّهُ لَوْ صَبَرَ حَتَّى حَلَّتِ الصَّلَاةُ بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ وَغُرُوبِهَا وَدُلُوكِهَا أَمْكَنَهُ الْإِتْمَامُ بِدُونِ الْكَرَاهَةِ. یہ مولانا سوال مقدر کا جواب ہے۔ مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ افعال شرعیہ میں نہی آ جائے تو یہ نہی تقاضا کرتی ہے اس فعل شرعی کے قبیح لغیرِہ ہونے کا، یعنی وہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوتا ہے، غیر مشروع۔ تو لہذا یہ نماز ان اوقات میں ذات کے اعتبار سے تو مشروع ہے، لیکن وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوئی بھئی، تو اس کو کہتے ہیں مکروہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مکروہ۔ ایک تو ہوا حرام لعينہ، اس کو ہم حرام کہتے ہیں عام فقہ کی اصطلاح میں، اور یہ جو مشروع، یہ جو حرام لغيرہ ہوتا ہے، اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ مکروہِ تحریمی جس کے نام سے آپ جس کو پہچانتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ یعنی ذات کے اعتبار سے یہ حرام نہیں ہے، بلکہ کسی اور وجہ سے اس کے اندر کیا آئی ہے؟ حرمت آ گئی ہے، تو فقہ میں اس کو آپ مکروہِ تحریمی کے نام سے جانتے ہیں بھئی۔ تو بھئی، اب ایک سوال پیدا ہوا کہ اے احناف! آپ کہتے ہو کہ اوقاتِ مکروہہ میں نفل پڑھتا ہے، نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہ ہے، حرام لغیرِہ ہے بھئی، کیا ہے؟ حرام لغیرِہ۔ جب یہ حرام لغیرِہ ہے اور مسئلہ یہ ہے بھئی کہ نفل جب کوئی شروع کر دے تو وہ نفل اس پر کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان اوقات میں جب کوئی نفل پڑھتا ہے تو وہ اس وقت ایک حرام کا ارتکاب کر رہا ہے، حرام لغیرِہ کا۔ کس چیز کا ارتکاب کر رہا ہے؟ حرام لغیرِہ کا۔ جب ان اوقات میں نفل شروع کیے تو وہ نفل لازم نہیں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ اتمامِ نفل کے ساتھ ارتکابِ حرام لازم ہے۔ نفل پورا کرے گا تو کیا کرے گا ساتھ ساتھ؟ حرام کام کا ایک ارتکاب کر رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی یا نہیں بھئی؟ حرام لغیرِہ کا۔ تو لہذا ان اوقات میں آپ کہتے ہیں کہ کوئی نفل شروع کر دے تو نفل اس پر لازم ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ نفل اس پر لازم نہیں ہونے چاہئیں، کیوں نہیں ہونے چاہئیں؟ کیونکہ وہ کیونکہ نفلوں کے اتمام کے ساتھ کیا چیز لازم ہے؟ ان کو پورا کرے گا تو کیا کرنا پڑے گا اس کو؟ ایک حرام کام کا ارتکاب کرنا چاہیے۔ بھئی شروع کر دیے، آپ کہتے ہیں جیسے ہی شروع کیے یہ نفل اس پر کیا ہو گئے؟ لازم، واجب، حالانکہ یہ واجب اس پر نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اتمامِ نفل، نفل کے پورا کرنے کے ساتھ کیا لازم ہے؟ حرام کا ارتکاب ہے یا نہیں بھئی اس وقت میں جب ادا کر رہا ہے؟ تو کیا لازم آئے گا؟ ایک حرام فعل کا وہ ارتکاب کر رہا ہے، تو لہذا اتمام لازم نہیں ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور جب اتمام لازم نہیں تو بعد میں ان کی قضا بھی لازم نہیں ہونی چاہیے جب ان کو توڑ دے بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ احناف جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، جواب صاحبِ کتاب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، نماز ان اوقات میں کوئی شروع کر دے تو بھی اتمام کے ساتھ ارتکابِ حرام لازم، یعنی یہ ضروری نہیں کہ نماز پورا کرنے کے ساتھ ساتھ فعلِ حرام کا ارتکاب بھی ہو۔ وہ کس طرح؟ کہتے ہیں وہ یوں کہ نماز شروع کر دے اور شروع کرنے کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑا رہے۔ یہاں تک کہ وہ چند منٹ ہوتے ہیں وہ مکروہ وقت کے، وہ جب نکل جائے تو اس وقت کے نکلنے کے بعد اب کیا کر دے؟ نماز پوری کر لے بھئی، تو دیکھو اتمام آیا اور اس اتمام کے ساتھ ارتکابِ حرام بھی لازم نہیں آیا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لہذا اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ نفل شروع کر دیے تو لازم ہو جائیں گے اس لیے کہ اتمامِ نفل کے ساتھ ارتکابِ حرام لازم نہیں، بخلاف صوم کے، یوم النحر کے دن بھئی، یا ایامِ تشریق میں، اس لیے کہ وہاں ان دنوں میں روزہ رکھے گا تو اس کے ساتھ اس کے اتمام کے ساتھ ارتکابِ حرام لازم ہے، روزہ پورا کرے گا تو کیا لازم ہوگا؟ ارتکابِ حرام اعراضاً عن ضیافت اللہ لازم آئے گا، اللہ کی مہمان نوازی سے اعراض کرنا لازم آئے گا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور یہ اس سے جدا ہو سکتا ہے؟ کسی طرح کوئی ایسی صورت ہے کہ روزہ بھی پورا ہو جائے اسی دن میں اور ارتکابِ حرام سے بھی ہم بچ جائیں؟ ایسا، روزہ تو شام تک کا نام ہے، آدھے دن کا نام نہیں، کچھ لمحوں کا نام نہیں، بلکہ صبحِ صادق سے لے کر شام تک، اور روزے کے پورا کرنے کے ساتھ کیا لازم ہے؟ ارتکابِ حرام لازم ہے، لہذا اب کوئی شخص روزہ رکھتا ہے اور پھر توڑ دیتا ہے تو اس پر اس روزے کی قضا بھی واجب، نفلی روزے، نفلی نفل کی بات کر رہا ہوں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ قضا واجب نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں وَلِهَذَا قُلْنَا لَوْ شَرَعَ فِي النَّفْلِ فِي هَذِهِ الْأَوْقَاتِ اگر شروع ہوا کوئی نفلوں کے اندر ان اوقات میں لَزِمَهُ بِالشُّرُوعِ لازم ہو جائیں گے اس پر وہ نفل شروع ہونے کے ساتھ وَارْتِكَابُ الْحَرَامِ لَيْسَ بِلَازِمٍ اور اس کے ساتھ ارتکابِ حرام بھی لازم نہیں لِلُزُومِ الْإِتْمَامِ کس کے ساتھ بھئی؟ اتمام کے لازم ہونے کے ساتھ ارتکابِ حرام بھی لازم نہیں آئے گا۔ ہم نے کیا کہا؟ اس کا پورا کرنا لازم ہے، کیا کہا؟ اور اس پورا کرنے کے ساتھ یہ جو ہم نے پورا کرنا لازم قرار دیا، اس کے ساتھ ارتکابِ حرام بھی لازم نہیں آئے گا۔ فَإِنَّهُ لَوْ صَبَرَ اس لیے کہ اگر وہ صبر کرے، ٹھہر جائے کچھ دیر، رکا رہے نماز کے اندر اس میں حَتَّى حَلَّتِ الصَّلَاةُ یہاں تک کہ نماز جائز ہو جائے بِارْتِفَاعِ الشَّمْسِ سورج کے بلند ہو جانے کے ساتھ، جبکہ اس نے نماز کس وقت شروع کی تھی؟ طلوع کے وقت شروع کی تھی، تو پھر اس وقت تھوڑی دیر رک جائے تاکہ سورج چند منٹوں میں بلند ہو جائے وَغُرُوبِهَا یا مولانا کچھ دیر انتظار کرے یہاں تک کہ سورج کیا ہو جائے؟ غروب، جب اس نے کب شروع کی تھی؟ غروب کے قریب شروع کی تھی وَدُلُوكِهَا یا مولانا نماز جائز ہو جائے کس کے ساتھ؟ سورج کے ڈھلنے سے، جبکہ اس نے کب شروع کی تھی؟ عین جبکہ آفتاب کہاں تھا؟ نصف النہار پر تھا بھئی، عین دوپہر کے وقت بھئی۔ أَمْكَنَهُ الْإِتْمَامُ تو ممکن ہے اس کے لیے پورا کرنا، اگر صبر کرے کچھ دیر یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے اور نماز یا سورج غروب ہو جائے یا سورج ڈھل جائے اور نماز جائز ہو جائے تو اب ممکن ہے اس کے لیے پورا کرنا بِدُونِ الْكَرَاهَةِ بغیر کسی کراہت کے وَبِهِ فَارَقَ صَوْمَ يَوْمِ الْعِيدِ اور اس سے جو ہم نے یہ جو دلیل ذکر کی بھئی، اس سے جدا ہو گیا صومُ یومِ العید، کون سا روزہ بھئی؟ عید کے دن کا روزہ اس نماز سے جدا ہو گیا، یہ جو نماز مکروہ وقت میں ہے اور وہ روزہ مکروہ وقت میں ہے، دونوں میں فرق آ گیا فَإِنَّهُ لَوْ شَرَعَ فِيهِ اس لیے کہ اگر اس روزے میں شروع ہو گیا لَا يَلْزَمُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لازم نہیں ہوگا اس پر صاحبین/طرفین کے نزدیک لِأَنَّ الْإِتْمَامَ لَا يَنْفَكُّ عَنْ ارْتِكَابِ الْحَرَامِ اس لیے کہ پورا کرنا جدا نہیں ہو سکتا کس سے؟ ارتکابِ حرام سے، روزہ پورا کرے گا تو اتمام تو ارتکابِ حرام بھی اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے، اعراضاً عن ضیافت اللہ بھی اس کے ساتھ لازم ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَمِنْ هَذَا النَّوْعِ وَطْءُ الْحَائِضِ اور اسی نوع سے ہے حائضہ کے ساتھ وطی بھی۔ مسئلہ بھئی سمجھ میں آیا؟ تو اوپر کیا مسئلہ ذکر ہوا؟ اچھا، اور اسی نوع سے ہے، یعنی جس میں نہی غیر کی وجہ سے آئی ہو۔ اوپر بھئی نماز میں نہی کس کی وجہ سے آئی تھی؟ غیر کی وجہ سے، وقت کی وجہ سے۔ روزے میں نہی کس کی وجہ سے آئی تھی؟ غیر، اور وہ کس وجہ سے؟ وہ یوم النحر کی وجہ سے۔ اسی نوع سے ہے کہ یعنی اس میں بھی نہی غیر کی وجہ سے آئی ہے وَطْءُ الْحَائِضِ، بھئی دراصل یوں کہیں، یہ سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ کہ اے احناف! آپ نے کیا کہا؟ فعلِ حسی کے اندر اگر کیا آ جائے؟ نہی آ جائے، تو وہ کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ حرام لعينہ ہونے کا، ذات کے اعتبار سے وہ جائز نہیں ہوتا۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں آپ اپنا قانون خود توڑ رہے ہیں۔ وطی دیکھو وطی، وطی ایک فعلِ حسی ہے، اور اس فعلِ حسی سے نہی آئی ہے کہ حیض کی حالت میں وطی کرنا جائز، سمجھ میں آیا بھئی؟ قرآن میں کیا اللہ فرماتے ہیں؟ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ اے پیغمبر! یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں قُلْ هُوَ أَذًى آپ کہہ دیجیے وہ گندگی ہے فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ پس آپ دور رہیے اپنی اَ... فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ پس تم لوگ دور رہو اپنی بیویوں سے فِي الْمَحِيضِ حیض کے اندر وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ اور ان کے قریب نہ جاؤ حَتَّى يَطْهُرْنَ یہاں تک کہ وہ کیا ہو جائیں؟ پاک ہو جائیں۔ تو دیکھا، تو قرآن میں نہی آئی ہے بھئی، اب وطی فعلِ حسی ہے، اور فعلِ حسی سے نہی آ جائے تو وہ کیا ہوگا؟ حرام لعينہ، لہذا حیض کی حالت میں وطی کو کیا ہونا چاہیے؟ حرام لعينہ ہونا چاہیے، لیکن اے احناف! آپ کیا کہتے ہو؟ یہ حرام لغیرِہ ہے۔ جواب یہ مولانا، وہی جواب، ہم نے کہا تھا کہ فعلِ حسی کے اندر نہی آ جائے تو وہ حرام لعينہ ہوگا بشرطیکہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، دلیل نہ ہو، اور یہاں پر اس کے خلاف کیا ہے؟ دلیل قائم ہے، دلیل کیا؟ کہ یہاں پر اللہ خود علت بیان فرما رہے ہیں کہ یہ وطی کے اندر حرمت اس کی ذات کی وجہ سے نہیں ہے، یہاں وطی میں حرمت ہے گندگی کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ گندگی کی وجہ سے، بھئی حیض میں وہ عورت کو حیض آئے گا، وہ کیا ہے؟ گندگی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں علت بیان کر دی، دلیل قائم ہو گئی جس نے بتایا کہ یہ وطی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ جی؟ ذات کے اعتبار سے حرام نہیں ہے، بلکہ کس وجہ سے یہ حرام ہے؟ غیر، اور وہ غیر کیا ہے؟ گندگی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لہذا حیض کی حالت میں وطی یہ کیا ہوئی؟ حرام لعينہ ہوئی یا حرام لغیرِہ ہو گئی؟ حرام لغیرِہ ہوئی، صورت سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ وَمِنْ هَذَا النَّوْعِ اور اسی نوع میں سے ہے، یعنی جس کے اندر نہی غیر کی وجہ سے آئی ہو، اسی نوع میں سے ہے وَطْءُ الْحَائِضِ اور حائضہ کی حائضہ سے وطی کرنا، حائضہ کی وطی بھئی فَإِنَّ النَّهْيَ عَنْ قِرْبَانِهَا بِاعْتِبَارِ الْأَذَى اس لیے کہ نہی جو ہے عن قربانھا، قربان یعنی قریب، قربت قربت بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کی قربت سے جو نہی آئی ہے، یعنی اس سے قربت کرنے سے، یعنی اس سے صحبت کرنے سے، اس سے صحبت کرنے سے جو نہی آئی ہے بِاعْتِبَارِ الْأَذَى یہ کس اعتبار سے ہے؟ گندگی کے اعتبار سے ہے لِقَوْلِهِ تَعَالَى بموجب اللہ کے اس قول کے يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ اے پیغمبر! یہ سوال کرتے ہیں آپ سے حیض کے بارے میں قُلْ هُوَ أَذًى آپ فرما دیجیے کہ وہ تو گندگی ہے فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ پس تم لوگ دور رہو اپنی بیویوں سے حیض کے دنوں میں، حیض میں وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ اور ان کے قریب نہ جاؤ، قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَلِهَذَا... تو بھئی اب بتاؤ، حیض کے اندر وطی کیا ہوئی؟ جی، حرام لعينہ ہوئی یا حرام لغیرِہ؟ حرام لغیرِہ ہوئی، سمجھ میں آیا؟ یعنی ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوئی بھئی۔ اچھا، وَلِهَذَا... جب ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی تو اسی وجہ سے اس پر احکام بھی مرتب ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ اگر کوئی شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے تو اس پر کیا ہوں گے؟ احکام بھی مرتب ہوں گے۔ وَلِهَذَا يَتَرَتَّبُ الْأَحْكَامُ عَلَى هَذَا الْوَطْءِ لہذا احکام بھی مرتب ہوں گے اس وطی پر فَيَثْبُتُ بِهِ إِحْصَانُ الْوَاطِئِ واطی ہونا چاہیے بھئی، وطی نہیں، إِحْصَانُ الْوَاطِئِ وطی کرنے والا، پس ثابت ہو جائے گا اس کے ساتھ وطی کرنے والے کا محسن ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔ کیا ثابت ہو جائے گا؟ بھئی آپ نے پڑھا ہے، غیر شادی شدہ اگر زنا کرتا ہے تو اس کو کیا سزا دی جائے گی؟ سو کوڑے، اور اگر شادی شدہ کرتا ہے زنا تو اس کو سزا کیا دی جائے گی؟ رجم، سمجھ میں آیا؟ تو جو محصن ہوگا، یعنی شادی شدہ، سمجھ میں آیا؟ احصان جس کے لیے احصان کی صفت ثابت ہو جائے گی، پاک دامن عفت ثابت ہو، پاکدامنی اور عفت ثابت ہو گئی، اس کے لیے، یعنی شادی شدہ جو ہے اب اس کو ہم کیا کریں گے؟ رجم کریں گے اگر اس نے زنا کیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کو، تو یہ جو شخص ایک آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان جب ایک پاک دامن عورت سے نکاح کر لے اور اس کے ساتھ وطی کر لے تو اس کا محصن ہونا ثابت ہو جاتا ہے، کیا ثابت ہو جاتا ہے؟ محصن ہونا ثابت ہو جاتا ہے، ایک مرتبہ جب اس سے جماع کر لیا، اب یہ محصن بن گیا، اب اس سے پہلے اگر وہ غلطی کرتا تو اس کی سزا کوڑے تھی، لیکن اب اگر غلطی کرے گا تو اس کی سزا کیا ہے؟ رجم ہے۔ تو احصان ثابت ہوئی، اس کی پاکدامنی ثابت ہوئی، یعنی شادی شدہ، یوں کہیں شادی شدہ ہونا کب ثابت ہوتا ہے؟ جب کیا کر لے؟ جی، ایک آزاد، عاقل، بالغ مسلمان کس سے وطی کر لے ایک جی؟ پاک دامن اپنی پاک دامن بیوی سے وطی کر لے تو اس کے لیے جی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب سوال... اب تو اب یاد رکھو، یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو حیض کی حالت میں وطی کی، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی اور یہ وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوئی، تو اس پر احکام بھی مرتب ہوں گے، اور ایک آدمی ہے اس نے نکاح کیا ایک عورت سے اور نکاح کے وقت وہ عورت کیا تھی؟ حالتِ حیض میں تھی، اور اس نے اس کے بعد اس سے وطی کر لی حالتِ حیض ہی کے اندر بھئی، اب اس حالتِ حیض میں وطی کرنے سے بھی اس شخص کا کیا ہونا ثابت ہو جائے گا؟ محصن ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اب یہ محصن بن گیا بھئی، اب یہ زنا کر کے غلطی کرتا ہے تو اس صورت میں اس کو کیا کیا جائے گا؟ رجم کیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو خواہ اس حالتِ حیض میں وطی سے بھی اس پر بھی حکم مرتب ہوا اور خاوند کا محسن ہونا ثابت ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فیثبت بہ احسان الواطی، پس ثابت ہو جائے گا اس کے ساتھ وطی کرنے والے کا شادی شدہ ہونا، یوں کر لیں معنیٰ، یا عفیف اور پاک دامن ہونا، جو مترجم ترجمہ کر لیں، ٹھیک ہے بھئی؟ وتحل المرۃ للزوج الأول، اور حلال ہو جائے گی عورت پہلے خاوند کے لیے۔ بھئی ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور آپ نے پڑھا ہے کہ یہ عورت واپس اپنے پہلے خاوند کے پاس جانا چاہے تو کیا کرنا پڑے گا؟ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ جماع بھی کرے، پھر اس کے بعد طلاق دے تو اب یہ کیا ہے عِدت گزار کے پھر اپنے پہلے خاوند کے پاس یعنی ثانی خاوند کا جماع ضروری ہے۔ اب ثانی خاوند جو تھا اس نے حیض میں جماع کیا۔ نکاح کیا اور پھر کس حالت میں تھی؟ حیض میں تھی اور اس نے اسی حالت میں جماع کیا اور پھر طلاق دے دی، تو کہتے ہیں بھئی اس پر بھی کیا ہو جائے گا؟ اس حالت میں بھی اس نے وطی کی لیکن یہ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے اس پہ حکم مرتب ہوا، اب یہ خاوند چھوڑ بھی دیتا ہے صرف ایک ہی دفعہ وطی کی حالتِ حیض میں تو بھی پہلے خاوند کے لیے یہ کیا ہو چکی ہے؟ حلال ہو چکی ہے۔ ویثبت بہ حکم المہر والعدۃ والنفقۃ، اور اسی پر ثابت ہو جائے گا حکم مہر کا بھی، عِدت کا بھی اور نفقے کا بھی۔ بھئی اس حالت میں، ایک شخص نے ایک عورت سے کیا کیا؟ حالتِ حیض میں وطی کر لی، نکاح کیا اور نکاح کے بعد وہ کس حالت میں تھی؟ حیض میں، اور اس نے حیض میں کیا کر لی؟ وطی کر لی، مہر اس پر لازم ہو جائے گا۔ حکم کیا ہوا؟ مرتب ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اب اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے بھئی اسی حال میں، اب اس پر عِدت بھی کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی۔ اسی طرح اب عورت کا نفقہ بھی اس خاوند کے ذمے لازم ہو گیا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو کیا کر دیا؟ سپرد کر دیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ ویثبت بہ حکم المہر والعدۃ والنفقۃ، اور ثابت ہو جائے گا اس سے مہر کا اور عِدت کا اور نفقے کا حکم بھی۔ ولو امتنعت عن التمکین لأجل الصداق کانت ناشزۃ عندہما فلا یستحق النفقۃ، یاد رکھو ایک مسئلہ، ناشزہ کہتے ہیں نافرمان کو، نافرمان۔ اچھا، یاد رکھو، ایک عورت کا ایک شخص سے نکاح ہوا بھئی، نکاح کے بعد اب وہ شخص اس عورت کے پاس گیا، اس نے لیکن عورت کیا کرتی ہے؟ اس کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی، کہتی ہے پہلے پہلے میرا مہر حوالے کرو پھر میرے قریب آنا، تو عورت کو یہ حق ہے کہ اس شخص کو کیا کر سکتی ہے؟ روک سکتی ہے اور مہر کا مطالبہ پہلے کر سکتی ہے۔ لیکن ایک مرتبہ عورت نے اس کو قربت کی اجازت دے دی، اس نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، اس کے بعد اب عورت دوبارہ اس شخص کو روکنا چاہتی ہے کہ اب بھئی اس نے کہا صحبت کر لی، دوبارہ صحبت کے لیے آیا تو اس نے کہا کہ نہیں بھئی، پہلے میرا مہر حوالے کرو، کہتے ہیں نہیں بھئی، اب روکنے کا حق، شریعت نے اس کو حق دیا ہے لیکن اس نے خود ہی اپنے حق کو پہلی مرتبہ میں کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ دوبارہ اب روک، اب روکے گی تو ناشزہ کہلائے گی، نافرمان کہلائے گی۔ اب خاوند کے ذمے اس کا نفقہ بھی نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب یہی مسئلہ، ایک شخص نے بیوی سے حال، نکاح کیا اور اس وقت وہ حالتِ حیض میں تھی اور اسی میں اس نے وطی کی اور بیوی نے اس کو قدرت دے دی، تو سوال: کیا اب بھی اس کو روکنے کا حق حاصل ہے یا روکنے کا حق حاصل نہیں؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اب ایک دفعہ اس نے اجازت دے دی ہے چاہے حالتِ حیض میں اس نے جماع کیا، لیکن اب دوبارہ اس کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اب دوبارہ اگر وہ صحبت چاہتا ہے اور بیوی اس کو اپنے اوپر قدرت نہیں دیتی، اپنے قریب نہیں آنے دیتی تو بیوی کیا کہلائے گی؟ ناشزہ کہلائے گی کیونکہ اس نے خود اپنے اس حق کو کیا کر دیا؟ ساقط کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اب وہ مہر کی وجہ سے اس کو آنے نہ دے، یہ نہیں کر سکتی۔ ہاں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کر سکتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ وہ وطی کس میں ہے؟ حیض کے اندر ہے بھئی، حیض کے اندر، تو لہٰذا دوبارہ، بس۔ ولو امتنعت عن التمکین، تمکین کا معنیٰ قدرت دینا، قدرت دینا۔ امتنعت کا معنیٰ ہے باز رہنا، رکنا۔ اور اگر وہ رک گئی یا باز رہی عن التمکین، کس سے؟ اس خاوند کو قدرت دینے سے اپنے اوپر، لأجل الصداق، مہر کی وجہ سے، صداق کس کو کہتے ہیں؟ مہر، مہر کی وجہ سے، کانت ناشزۃ عندہما، تو وہ عورت ناشزہ ہوگی، نافرمان ہوگی صاحبین کے نزدیک، فلا یستحق النفقۃ، تو لہٰذا وہ نفقے اور سکنیٰ وغیرہ کی مستحق نہیں ہوگی۔ لیکن ایک مسئلہ یاد رکھنا بھئی، میں نے کیا بتلایا آپ کو مسئلہ؟ کہ یہ حرام لغیرہٖ کو ہم کیا کہتے ہیں؟ ایک تو حرام لعینہٖ ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حرام، اور حرام لغیرہٖ کو ہم کیا کہتے ہیں؟ مکروہِ تحریمی کہتے ہیں۔ لہٰذا اس تقریر ہوئی جو، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ وطی حیض کی حالت میں اس کو کیا قرار دیا جائے؟ مکروہِ تحریمی قرار دیا جائے، اس کو حرام نہ قرار دیا جائے۔ یہی نکلا نہ مسئلہ، کیونکہ یہ حرام لعینہٖ ہے یا لغیرہٖ؟ جب یہ لغیرہٖ ہے اس کو کیا کہنا چاہیے؟ مکروہِ تحریمی کہنا چاہیے، لیکن یاد رکھو، یہ وطی جو ہے، یہ حرام ہے۔ یہ مکروہِ تحریمی نہیں، بلکہ حرام قرار دیا ہے اس کو ہمارے فقہاء نے بھی مولانا، کیوں؟ وجہ یہ، بوجہِ اجماعِ امت کے مولانا۔ اجماع کیا ہے اس پر تمام فقہاء نے، اس لیے ورنہ تو قیاس کا تقاضا تو کیا تھا؟ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ مکروہِ تحریمی، لیکن خیر، لیکن یہاں پر بھئی اجماعِ امت کی وجہ سے اس کو کیا قرار دے دیا؟ حرام قرار دیا، صورت سمجھ میں آئی؟ اور اسی طرح عمل کرتے ہوئے نص پر بھئی، نص میں کیا آیا ہے؟ فلا تقربوھن، تو ان کے قریب نہ جاؤ، تو عمل کرتے ہوئے نص پر خلاف القیاس ہم نے اس کو کیا قرار دے دیا؟ حرام قرار دے دیا۔ مسئلہ یاد رہے گا بھئی؟ اب یہ آگے ایک اور سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ کہ بھئی یہ ایک فعلِ حرام آپ نے بتلایا، حیض کے اندر وطی کیا ہے؟ فعلِ حرام ہے، اور حرام پر احکام مرتب کر رہے ہیں آپ۔ حیض کے اندر وطی کیا ہے؟ حرام، اور اس پر آپ نے کیا احکام مرتب کیے؟ یہ پانچ چھ مسئلے آپ کے سامنے ذکر ہوئے کہ خاوند کا محسن ہونا ثابت ہو جائے گا، عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی، یہ تو آپ ایک حرام فعل پر کیا، کس چیز کا ترتب کر رہے ہیں؟ احکامِ شرعیہ کا، اور احکامِ شرعیہ تو نعمت ہیں مولانا اللہ کی طرف سے بھئی، عظیم نعمت ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس نعمت کا ترتب حرام پر کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو درست نہیں، مسئلہ، اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہ احکام مرتب ہو رہے ہیں حرام فعل پر اور احکامِ شرعیہ تو کیا ہیں؟ نعمت ہیں، اور نعمت کا ترتب کس سے، کس پر ہو رہا ہے؟ حرام پر، حرام پر تو نعمت مرتب نہیں ہونی چاہیے، تو جواب دے رہے ہیں بھئی نہیں، فعل کے حرام ہونا احکام کے مرتب ہونے کے منافی نہیں ہے بھئی، دیکھیے۔ وحرمۃ الفعل لا تنافی ترتب الأحکام، اور فعل کا حرام ہونا یہ منافی نہیں ہے احکام کے مرتب ہونے کے، کطلاق الحائض، جیسے حائضہ کو طلاق دینا۔ بھئی دیکھو، حائضہ عورت کو طلاق دینا کیا ہے؟ حرام ہے بھئی، منع کیا گیا ہے بھئی کہ حیض کی حالت میں، طلاق کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ کس وقت دینی چاہیے؟ طہر میں، لیکن حیض میں منع کیا گیا ہے، لیکن اگر کوئی دے دیتا ہے تو طلاق کیا ہو جائے گی؟ واقع، تو دیکھو ایک فعلِ حرام ہے لیکن اس پر شرعی حکم کیا ہوا؟ مرتب ہو گیا، اور کطلاق، والوضوء بالمیاہ المغصوبۃ، اور اسی، میاہ جمع ہے ماء کی، اور اسی طرح وضو کرنا غصب کیے ہوئے پانی کے ساتھ بھئی۔ اب دیکھو ایک شخص نے دوسرے کا پانی غصب کر لیا، چھین لیا اس سے مولانا، اب یہ پانی اس کے لیے استعمال کرنا حرام ہے، لیکن اس پانی سے اگر وہ وضو کر لیتا ہے تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ اب فعل حرام ہے اس کا بھئی، فعل کیا ہے؟ لیکن اس پر حکم مرتب ہوگا اور اس کو طہارت حاصل ہو جائے گی، اب اس سے نماز پڑھنا چاہے تو نماز پڑھ سکتا ہے، قرآن کو چھونا چاہے تو قرآن کو چھو سکتا ہے۔ والوضوء بالمیاہ المغصوبۃ، اور جیسے وضو ہے مغصوب پانیوں کے ساتھ، والاستیاد بقوس مغصوبۃ، اور اسی طرح مولانا شکار کرنا غصب شدہ کمان کے ساتھ، قوس کہتے ہیں کمان کو۔ بھئی دیکھو ایک شخص نے دوسرے کی کمان غصب کر لی، چھین لی، اب اس سے وہ کیا کرتا ہے؟ شکار کرتا ہے، یہ ایک فعلِ حرام ہے کیونکہ کس کے ذریعے کر رہا ہے؟ غصب شدہ کمان کے ذریعے، لیکن اس پر حکم مرتب ہوگا، اس کمان سے اگر اس نے کوئی جانور شکار کر لیا تو وہ جانور حلال ہو جائے گا اور یہ اس کا کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ دیکھا، تو فعلِ حرام پر کیا مرتب ہوا؟ شرعی حکم مرتب ہوا، معلوم ہوا کہ فعلِ شرعی کا حرام پر مرتب ہونا، فعل کے حرام ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اس پر کیا مرتب ہو جائے؟ حکمِ شرعی مرتب ہو جائے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح والذبح بسکین مغصوبۃ، اسی طرح کس نے ذبح کیا بھئی غصب شدہ چھری کے ساتھ، تو بھی اب یہ فعل حرام ہے غصب شدہ چھری کے ساتھ ذبح کرنا لیکن وہ جانور کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا۔ والصلاۃ فی الأرض المغصوبۃ، اسی طرح نماز پڑھنا بھئی کس کے اندر؟ مغصوبہ زمین کے اندر، اب کسی کی زمین ہتھیا لی، کسی نے غصب کر لیا اور اس پر اس میں نماز پڑھ رہا ہے اس غصب شدہ زمین میں، تو اب یہ کیا ہے؟ فعل حرام ہے، لیکن کیا ہوگا؟ نماز ہو جائے گی۔ والبیع فی وقت النداء، اسی طرح جمعے کی اذان کے وقت بیع سے منع کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اگر اس وقت کوئی بیع کر لیتا ہے تو کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا، تو دیکھو حکم اس پر مرتب، فإنہ یترتب الحکم علی ہذہ التصرفات، اس لیے کہ حکم مرتب ہو جاتے ہیں ان تصرفات پر، مع اشتمالہا علی الحرمۃ، باوجود ان کے، ان تصرفات کے مشتمل ہونے کے کس چیز پر؟ اگرچہ یہ سارے تصرفات حرمت پر مشتمل ہیں لیکن اس کے باوجود کیا ہو جائے گا؟ ان پر احکام مرتب ہو جائیں گے بھئی۔ وباعتبار ہذا الأصل قلنا فی قولہ تعالی، اور اسی اصل کے اعتبار کرتے ہوئے، کس اصل کا بھئی؟ ہم نے کیا ضابطہ ابھی ذکر کیا تھا کہ فعلِ شرعی کے اندر اگر نہی آ جائے تو وہ کیا ہوگا؟ حرام لغیرہٖ ہوگا، اسی اصل پر کی بناء پر ہم کہتے ہیں فی قولہ تعالی، اللہ کے اس قول میں: ولا تقبلوا لہم شہادۃ أبدا، بھئی دیکھو، محدود فی القذف، ایک شخص جس نے دوسرے پر کیا کیا؟ تہمت لگائی زنا کی اور وہ اس کو قاضی کے پاس لے گیا، اب قاضی کے پاس وہ گواہ تو پیش نہ کر سکا، یا گواہ پیش نہیں کر سکا تو اب اس کو کیا کیا جائے گا؟ اسی کوڑے لگائے جائیں گے، حدِ قذف لگائی جائے گی، اور حدِ قذف کے والوں کے بارے میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ولا تقبلوا لہم شہادۃ أبدا، ان کی کبھی بھی شہادت قبول نہ کرو۔ اور شہادت ہے ایک فعلِ شرعی، شریعت نے خاص قیودات ذکر کی ہیں شہادت کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ایک فعلِ شرعی ہے، اب اس فعلِ شرعی کے بارے میں نہی آئی ہے، نہی آئی ہے، سمجھ میں آیا؟ اور نہی آ جائے فعلِ شرعی میں یہ تقاضا کیا کرتی ہے؟ وہ ذات کے اعتبار سے مشروع، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، تو بھئی آپ یہ معلوم ہوا کہ یہ جو فاسق ہیں بھئی یا یہ جس نے تہمت لگائی تھی جس پہ حدِ قذف جاری ہوئی، یہ اہل شھادت ہے، شہادت کا اہل ہے، شہادت دینے کی اس میں صلاحیت ہے، کیا ہے؟ صلاحیت، بھئی دیکھو نا، قرآن میں منع کیا گیا ہے اور منع وہی ہو سکتی ہے جہاں صلاحیت ہو۔ اگر ایک میں شہادت دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے پھر منع کرنے کا کیا معنیٰ؟ کیونکہ پھر تو یہ نہی عاجز لازم آئے گی، اندھا دیکھ ہی نہیں سکتا اور اس کو کہا جائے تو نہ دیکھ، یہ تو اس طرح بن جائے گا، اگر ان میں شہادت کی صلاحیت ہی، معلوم ہوا ان میں شہادت کی صلاحیت ہے، وہ شہادت دینے کے اہل ہیں، اس لیکن پھر شریعت نے کیا کیا ہے؟ ان سے شہادت ان کی قبول کرنے سے منع فرمایا ہے، معلوم ہوا وہ کیا ہیں؟ اہل، اگر وہ اہل شہادت ہی نہ ہوتے تو پھر یہ نہی آتی، نہ آتی، مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ ولا تقبلوا، لہٰذا یہ یاد رکھو، یہ حد کا تتمہ ہے، یہ حد کا حصہ ہے، ہمارے نزدیک 80 کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کبھی بھی ان کی گواہی قبول، تو یہ لہٰذا اب یہ فاسق دو محدود فی القذف ہیں، وہ کسی شخص کا نکاح تھا، اس میں گواہ بن گئے اور کوئی گواہ نہیں، یہ دونوں گواہ ہیں تو کیا نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں نکاح منعقد ہو جائے گا، اس لیے کہ نکاح کے اندر دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور یہ دونوں اہل شہادت ہیں یا نہیں ہیں بھئی؟ اہل شہادت ہیں، البتہ ان کی گواہی قبول نہیں ہوگی، اب اس نکاح کو مکہ مسئلہ اگر قاضی کے پاس چلا گیا کہ بھئی ثابت کرو تم دونوں نے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے یا نکاح، اب یہ دونوں گواہی دینے پہنچ گئے جو محدود فی القذف ہیں۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب ان کی گواہی سنی، اداءِ شہادت یہ نہیں کر سکتے، البتہ یہ اہل شہادت ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں: ولا تقبلوا لہم شہادۃ أبدا، کہ کبھی بھی قبول نہ کرو ان کی شہا، کہ ولا تقبلوا لہم شہادۃ، ان کی گواہی قبول نہ کرو أبدا، کبھی بھی، إن الفاسق من أهل الشهادة، ہم یہ کہتے ہیں کہ إن الفاسق من أهل الشهادة، کہ فاسق کس میں سے ہے؟ اہل شہادت میں سے ہے، صلاحیت ہے، فینعقد النكاح بشهادة الفساق، پس نکاح منعقد ہو جائے گا فاسقوں کی شہادت سے، لأن النهي عن قبول الشهادة بدون الشهادة محال، اس لیے کہ نہی آئی ہے کس سے؟ قبولِ، نہی کا آنا، نہی ہونا روک، منع کرنا قبولِ شہادت سے بدون الشهادة، بغیر شہادت کے، یہ کیا ہے؟ محال ہے، وإنما لم تقبل شہادتهم لفساد فی الأدای، اور قبول نہیں کی جاتی ان کی شہادت بوجہِ ادا کے اندر فساد کے، کیونکہ ان کی ادا کے اندر کیا آ گیا؟ فساد آ گیا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ حد کا حصہ ہے، کیا ہے؟ 80 کوڑے بھی ہیں اور ساتھ ان کی شہادت بھی کبھی بھی اب قبول نہیں ہوگی۔ لا لعدم الشهادة أصلا، اس وجہ سے نہیں کہ یہ سِرے سے شہادت ہی ان کی نہیں، شہادت تو ہے لیکن قبول نہیں کی جائے گی، وعلى هذا لا يجب عليهم اللعان، اور اسی وجہ سے ان پر لعان بھی واجب نہیں ہوتا، لأن ذلك أدائ الشهادة، اس لیے کہ یہ لعان شہادت کا ادا کرنا ہے، وَلَا أَدَاءَ مَعَ الْفِسْقِ اور فسق کے ساتھ اداءِ شہادت نہیں ہو سکتی۔ دیکھو بھئی لعان جانتے ہو بھئی؟ خاوند نے بیوی پر زنا کی تہمت لگا دی بھئی۔ اب ضروری ہے کہ بیوی قاضی کے پاس چلی گئی، اس نے مجھے کیا کہا ہے زنا کی تہمت اس نے میرے اوپر لگائی ہے۔ قاضی خاوند کو طلب کرے گا بھئی تم نے اس پر کیا کی ہے زنا کی تہمت لگائی ہے، چار گواہ لے کر آؤ زنا کے۔ چار گواہ لے آیا پھر تو مسئلہ ٹھیک تھا بھئی، عورت کو کیا کیا جائے گا؟ رجم کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ چار گواہ نہیں لایا تو پھر... اب لعان کروائے گا قاضی۔ لعان کی یہ صورتیں، پانچ قسمیں خاوند کھائے گا اور پانچ ہی قسمیں کون کھائے گی؟ بیوی کھائے گی بھئی۔ اور خاوند کیا قسم کھائے گا؟ قسم کے ساتھ وہ گواہی دے گا۔ خاوند کیا کرے گا؟ قسم کے ساتھ چار یہ گواہی ہے بھئی، پانچ گواہیاں دے گا۔ کتنی دے گا؟ پانچ گواہیاں قسموں کے ساتھ۔ پہلی گواہی کیا دے گا؟ کہ قسم کھا کر کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس عورت پر جو زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں میں سچا ہوں۔ پھر کہے گا، میں قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ اس عورت پر جو میں نے زنا کا الزام لگایا ہے، اس میں میں کیا ہوں؟ سچا ہوں۔ پھر کہے گا، پھر کہے گا، چار مرتبہ یوں کہے گا اور پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر میں اپنی اس قسم کے اندر اس الزام کے اندر جھوٹا ہوں، تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور عورت بھی چار قسمیں کھائے گی کہ قسم کھا کر گواہی دے گی کہ یہ شخص کیا ہے اس نے مجھ پر جو الزام لگایا ہے، اس میں وہ جھوٹا ہے۔ اور اگر یہ شخص، اور پانچویں میں کہے گی اگر یہ شخص سچا ہے، تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ غضب ہو۔ تو یہ بھی اداءِ شہادت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ أَبْهَدُ کے لفظ کے ساتھ کہتے ہیں، گواہی دیتا ہوں کے لفظوں کے ساتھ کہتے ہیں۔ تو اب ایک شخص جو محدود فی القذف ہے، وہ لعان ان کے درمیان نہیں ہو سکتا۔ اس نے اگر اپنی بیوی پر کیا کیا بھئی؟ الزام لگا دیا کس چیز کا؟ زنا کا، تو اب گواہ کہیں گے گواہ نہیں لا سکا، تو اس پر حد قذف پھر جاری کر دی جائے گی۔ اب یہ نہیں کہا جائے گا لعان کر لو آپس میں۔ لعان، ہاں جب لعان آپس میں کر لیتے ہیں میاں بیوی، تو اس کے بعد قاضی ان میں جدائی کا حکم کروا دیتا ہے بھئی۔ دونوں کے درمیان کیا ہو جاتی ہے؟ جدائی ہو جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا، اب وہ خاوند، ایک شخص وہ محدود فی القذف ہے، اس نے بیوی پر الزام لگایا، قاضی کے پاس گئی چلی بیوی۔ قاضی نے کہا، لاؤ بھئی زنا کے چار گواہ لے کر آؤ۔ کہتے ہیں میرے پاس تو گواہ نہیں ہے۔ اب کیا صورت تھی، لعان کروانا چاہیے تھا، لیکن یہاں لعان نہیں کروایا جائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ خاوند کی تو شہادت ہی قبول نہیں، اور لعان تو نام ہی کس چیز کا ہے؟ شہادتوں کا نام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ لہٰذا، اب وہ لعان نہیں ہوگا۔ وَعَلَى هَذَا لَا يَجِبُ عَلَيْهِمَا اللِّعَانُ اور ان میں لعان بھی واجب نہیں، لِأَنَّ ذَلِكَ أَدَاءُ الشَّهَادَةِ اس لیے کہ وہ اداءِ شہادت ہے، وَلَا أَدَاءَ مَعَ الْفِسْقِ اور کوئی اداء نہیں کس کے ساتھ؟ فسق کے ساتھ۔ چلیں، وَهَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
123 approved lectures · 65 of 123