فصل في النهي، النهي نوعان: نهي عن الأفعال الحسية كالزنا وشرب الخمر والكذب والظلم، ونهي عن التصرفات الشرعية كالنهي عن الصوم في يوم النحر، والصلاة في الأوقات المكروهة، وبيع الدرهم بالدرهمين.
جي النهي کے بارے میں آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ افعال دو قسم پر ہیں: افعال شرعیہ اور افعال حسية۔ افعال حسية وہ ہیں کہ جن کے معنی شریعت سے جو پہلے تھے، وہی شریعت کے ورود کے بعد بھی ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اور افعال شرعیہ وہ ہیں کہ جن کی میں، کے معنی میں شریعت کے ورود کے بعد کیا آ گئے؟ تبدیلی آ گئی۔ جیسے بیع ہے، اس کے معنی میں شریعت نے تبدیلی کی، اور بيع کے تراضی ہو دونوں جانب سے، اور بہت سی شرائط وغیرہ ذکر کیں۔ معلوم ہوا کہ شریعت نے بتلایا بيع یہ چیز ہے بھئی، اس سے پہلے کسی کو بيع کا پتہ ہی نہیں تھا۔ وہ بیع نہیں ہے بھئی جسے تم سمجھتے آئے ہو، بیع یہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کا سمجھنا موقوف ہوا کس پر؟ شریعت پر۔
اور آپ کو بتلایا تھا کہ افعال حسية کے اندر النهي آ جائے، تو ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اتفاق ہے کہ یہ کیا ہوگا؟ کس سے کیا؟ حرام لعينه ہوگا، یا قبيح لعينه ہوگا، ذات کے اعتبار سے یہ مشروع نہیں رہے گا۔ البتہ افعال حسية کے افعال شرعیہ کے اندر النهي آ جائے، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وہ پھر وہ بھی کیا رہے گا؟ حرام لعينه رہے گا۔ البتہ ہمارے نزدیک وہ کیا ہوگا؟ حرام لغيره، یعنی حسن بنفسه اور حرام لغيره ہو جائے۔ یعنی ذات کے اعتبار سے مشروع رہے گا، وصف کے اعتبار سے مشروع نہیں رہے گا۔ دلیل آپ کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی تھی کل بھئی؟
اچھا، اب یہی بحث ہوگی کتاب کے اندر بھئی، کوئی نئی بات نہیں، دیکھتے جائیے۔ فصل في النهي، فصل نہی کے بارے میں ہے۔ یہ النهي نوعان بھئی۔ جی، تو یہ فصل ہے نہی کے بارے میں۔ النهي نوعان، نہی دو قسم پر ہے بھئی۔ نهي عن الأفعال الحسية، نہی افعال حسیہ سے، كالزنا جیسے کیا ہے؟ زنا۔ یہ افعال حسیہ میں سے ہے جو شریعت سے پہلے معنی تھا، یعنی غیر ملک میں وطی کرنا، وہی شریعت میں بھی ہے۔ وشرب الخمر، اور شراب کا پینا جو پہلے معنی تھا وہی اب بھی ہے۔ والكذب، اور جھوٹ بولنا جو یہ پہلے جس کا جو معنی تھا وہی اب بھی ہے بھئی۔ والنهي عن التصرفات الشرعية، اور دوسری قسم کیا ہے؟ نہی ہے عن التصرفات الشرعية سے نہی۔ كالنهي عن الصوم في يوم النحر، جیسے نہی آئی ہے روزہ رکھنے سے يوم النحر بھئی، قربانی والے دن بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ عید الاضحیٰ کے دن روزے رکھنے سے نہی آئی ہے بھئی۔
اب روزہ مطلق امساک کو کہتے تھے بھئی۔ شریعت نے آ کر اس کے معنی میں تبدیلی پیدا کی، کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک امساک ہو، اور جن سے ہو، تین چیزوں سے ہو مولانا— کھانا، پینا اور جماع، اور نیت کے ساتھ ہو، اس کو روزہ کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شریعت نے معنی میں تبدیلی کی بھئی۔
والصلاة في الأوقات المكروهة، تو نہی آئی ہے نحر کے دن روزے سے، تو یہ کیا ہے؟ اور روزہ کیا ہے؟ افعال شرعیہ میں سے۔ اسی طرح نہی آئی ہے نماز سے في الأوقات المكروهة، مکروہ اوقات میں۔ مکروہ اوقات تین ہیں مولانا— سورج طلوع ہوتے وقت، عین زوال کے وقت دوپہر کے وقت بھئی سورج جب عین سر پر ہو، اور غروب کے وقت بھئی، تین۔ ان تین اوقات میں نماز سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تین آتش پرست اور جو سورج کی پرستش کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، وہ ان تین اوقات میں کیا کرتے ہیں؟ سورج کی عبادت کرتے ہیں۔ تو لہٰذا ان اوقات میں نماز پڑھنے سے کیا کر دیا گیا؟ منع کر دیا گیا۔ تو نہی آئی ہے نماز کے بارے میں ان اوقات میں، اور نماز کیا ہے؟ فعل شرعی ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے صلاۃ کس کو کہتے تھے؟ دعا کو کہا کرتے تھے۔ لیکن شریعت نے آ کر بتلایا صلاۃ کیا ہے؟ یہ نماز، یہ ارکان مخصوصہ ہیں بھئی، ان کا نام ہے بھئی۔ تو شریعت سے پہلے کوئی جانتا تھا بھئی اس کو؟ جی، نہیں جانتا تھا۔ تو معنی میں تبدیلی پیدا کی شریعت نے، تو یہ فعل شرعی ہوا، اس سے نہی آئی۔
وبيع الدرهم بالدرهمين، ایک بيع کی درہم دو درہموں کے بدلے میں بھئی۔ شریعت نے اسے کیا کیا ہے؟ منع کیا ہے، کیونکہ یہ کیا ہے؟ سود ہے بھئی۔ سود، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک جنس ہے، قدر بھی پائی جا رہی ہے، اور، اور— جی؟ ہاں— قدر بھی ہے، اور جنس بھی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قدر میں دو چیزیں آ گئیں نا— کیل اور وزن، کیلی اور وہ کیل اور وزن۔ اور جنس بھی ہے بھئی۔
تو یہ جو ہے، اب یہاں دیکھو بيع سے نہی آئی، اور اس بيع سے کہ ایک درہم کے بدلے دو درہم ہوں۔ اور بيع کیا ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، کیونکہ شریعت نے کیا کیا اس کے معنی میں تبدیلی کی ہے، تو یہ مثالیں ہیں اس کی۔
وحكم النوع الأول، اور نوع اول کا حکم، یعنی نہی جو عن الأفعال الحسية ہے، أن يكون المنهي عنه هو عين ما ورد عليه النهي، کہ منہی عنہ وہ کیا ہو؟ عین وہ چیز ہو جس پر نہی وارد ہوئی ہے۔ منہی عنہ کیا ہے؟ عین وہ چیز ہے جس سے نہی وارد ہوئی ہے۔ بھئی یاد رکھو، أن يكون المنهي عنه، المنهي عنه یہ يكون کا اسم ہے۔ هو ضمیر فصل ہے، اور عين، یہ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے بھئی۔ تو یہ ضمیر فصل ہے درمیان میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ضمیر فصل، جب مبتدا اور خبر، جب دونوں معرفہ ہوں، تو درمیان میں کیا لاتے ہیں؟ ضمیر فصل۔ تو یہاں بھی بھئی، عين کی اضافت ما ورد کی طرف ہو رہی ہے، اور اضافت کی وجہ سے یہ بھی معرفہ بن گیا، اور المنهي عنه بھی معرفہ، تو درمیان میں کیا لے آئے؟ ضمیر فصل بھئی۔ تاکہ بھئی یہ بتلا دے کہ یہ آگے عين ما، یہ منہی عنہ کی صفت نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے لیے خبر ہے۔
پہلی اول میں کیا ہوگا؟ منہی عنہ وہ عین وہ چیز ہے ورد عليه النهي، جس پر کیا وارد ہوئی ہے؟ نہی وارد ہوئی ہے، فيكون عينه قبيحاً، تو اس کی عین ہی، اس کی ذات ہی کیا رہے گی؟ قبیح رہے گی۔ سمجھ میں آیا؟ ذات ہی قبیح ہو جائے گی، اس کی ذات ہی سے منع کیا گیا ہے۔ فلا يكون مشروعاً أصلاً، لہٰذا وہ مشروع جائز ہی نہیں رہے گی، اصلاً، یعنی ذات کے اعتبار سے ہی، قطعاً، اصلاً یعنی قطعاً، قطعی طور پر مشروع، مشروع ہی نہیں رہے گی بھئی۔ یعنی نہ ذات کے اعتبار سے مشروع، اور نہ وصف کے اعتبار سے مشروع بھئی۔
وحكم النوع الثاني، اور نوع ثانی کا حکم بھئی، یعنی جس میں نہی آئی تھی کس سے؟ افعال شرعیہ سے، أن يكون المنهي عنه غير ما أضيف إليه النهي، کہ منہی عنہ کیا ہوگا؟ منہی عنہ غیر ہوگا ما اس چیز سے أضيف إليه النهي، جس کی طرف نہی کی کیا کی گئی ہے؟ بھئی، منع کیا گیا ہے کس چیز سے؟ نماز سے، کس میں؟ اوقات مکروہہ میں۔ تو منع کس سے کیا گیا؟ نماز سے۔ اور کس میں؟ اوقات مکروہہ میں۔ اور یہ کیا ہے؟ افعال شرعیہ میں سے ہے نماز۔ اور افعال شرعیہ میں نہی آ جائے، تو منہی عنہ اس کی ذات نہیں ہوتی، بلکہ اس کا غیر ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ غیر ہوتا ہے۔ تو یہاں ذات نماز کی کیا ہے؟ مشروع ہے، رہے گی۔ البتہ وصف اس کی، جو کیا ہے اس مکروہ وقت میں پڑھنا، اس کی وجہ سے اس میں کیا آ گئی ہے؟ حرمت آ گئی ہے۔ کیا آ گئی ہے؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو عین اس کی ذات مشروع، ذات کے اعتبار سے یہ مشروع، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع۔
تو منہی عنہ عین نماز، صلاۃ ہوئی یا غیر صلاۃ بھئی؟ غیر صلاۃ، سمجھ میں آیا؟ عین صلاۃ منہی عنہ ہو جاتا، تو پھر تو وہ حرام لعينه— حرام لعينه بن جاتا، حالانکہ وہ تو حرام لعينه نہیں ہے بھئی۔
جیسے بطور مثال کے، نہی آئی تھی کہ يوم النحر کے دن روزہ مت رکھو۔ يوم النحر کے اندر دن روزہ مت رکھو، کیوں بھئی؟ اس کی علت کیا تھی؟ کیونکہ اس صورت میں اللہ کی مہمان نوازی سے اعراض لازم آتا ہے، یعنی منہ موڑنا لازم آتا ہے، اور اللہ کی مہمان نوازی سے منہ موڑنا یہ تو درست نہیں بھئی۔ تو دیکھو، اب نہی آئی ہے مولانا، کس کے بارے میں؟ روزے کے بارے میں۔ کس دن کے اندر؟ يوم النحر، قربانی والے دن، اور روزہ کس میں سے ہے؟ فعل— یہ افعال شرعیہ میں سے ہے بھئی۔ تو افعال شرعیہ میں سے ہے اور اس کے بارے میں نہی آ گئی، تو اب دیکھیے بھئی۔ تو نہی آئی ہے کس چیز کے بارے میں؟ روزے کے بارے میں۔ تو یاد رکھو، لیکن یہ ہے فعل شرعی، اور فعل شرعی کے اندر نہی آئے، تو منہی عنہ وہ فعل نہیں ہوتا، بلکہ غیر ہوتا ہے۔ یعنی قبیح وہ فعل نہیں ہوتا، بلکہ قبیح کیا ہوتا ہے؟ غیر ہوتا ہے۔ تو یہاں نہی آئی کس کے بارے میں؟ روزے کے بارے میں، اور روزہ کیا ہے؟ فعل— اور فعل شرعی کے بارے میں نہی آئے، تو قبیح وہ نہیں ہوتا، بلکہ غیر۔ تو یہ روزہ في ذاته یہ قبیح نہیں ہے، بلکہ قبیح کون ہے؟ اعراض اللہ کی ضیافت سے، اللہ کی مہمان نوازی سے منہ موڑنا، یہ ہے مولانا منہی عنہ۔ تو دیکھو، نہی کی نسبت تو ہوئی تھی روزے کی طرف کہ روزہ نہ رکھو، لیکن منہی عنہ وہ ہے جس کی طرف نہی کی نسبت ہوئی تھی، یا منہی عنہ وہ اعراض عن ضيافة الله ہے؟ تو دیکھو، نہی آئی تو روزے کے بارے میں، تو منہی— لیکن منہی عنہ، وہ چیز جس سے روکا گیا ہے، وہ منہی عنہ، وہ روزہ نہیں ہے، بلکہ اس کا علاوہ ایک چیز ہے، اور وہ کیا ہے یہاں پر؟ اعراض عن ضيافة الله، اللہ کی مہمان نوازی سے منہ موڑنا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟
تو دیکھو، نوع ثانی کے اندر منہی عنہ جو ہوتا ہے، غير ما أضيف إليه النهي، علاوہ اس کے ہوتا ہے جس کی طرف نہی کی نسبت کی جائے۔ تو یہاں پر نہی کی نسبت روزے کی طرف ہے، لیکن وہ منہی عنہ نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ ہے، اور وہ کیا میں نے بتلایا یہاں پر؟ اعراض عن ضيافة الله، فيكون هو حسناً بنفسه، تو لہٰذا وہ جو منہی عنہ، جس کے بارے میں نہی آئی ہے بھئی، یعنی وہ یہاں پر کیا ہے جیسے میں نے ذکر کیا، روزہ، وہ خود کیا ہوگا؟ حسناً بنفسه، حسن بذات کے اعتبار سے وہ حسن ہے، قبيحاً لغيره، اور غیر کی وجہ سے قبیح ہے۔ کون سا غیر یہاں پر جو میں نے ذکر کیا؟ اعراض بھئی، تو ہر ایک میں اسی طرح ہوگا۔ اپنی وہ فعل شرعی میں جب نہی آ جائے، تو منہی— منہی عنہ اس کی اپنی ذات نہیں ہوا کرتی، بلکہ منہی عنہ اس کے علاوہ ہوا کرتا ہے۔ تو جی، تو نماز جو ہے اوقات مکروہہ میں ہے، تو یہ نماز ذات کے اعتبار سے حسن ہے، لیکن اس وصف کے اعتبار سے کیا ہے یہ؟ قبیح ہے کہ کس وقت میں ادا کی جا رہی ہے؟ اوقات مکروہہ میں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
ويكون المباشر مرتكتباً للحرام لغيره لا لنفسه، مباشر: سرانجام دینے والا، کرنے والا۔ اور اس کو سرانجام دینے والا، اس پر عمل کرنے والا، یعنی اس وقت میں اگر کوئی نماز پڑھ لیتا ہے يا کیا کر لیتا ہے؟ روزہ رکھ لیتا ہے عید الاضحیٰ کے دن، یا ایک درہم کے بدلے دو درہموں کی بیع کر لیتا ہے، تو ان افعال کو سرانجام دینے والا، مرتكتباً للحرام لغيره، وہ کس چیز کا مرتکب ہے؟ حرام لغيره— حرام لغيره کا مرتکب ہے، لا لنفسه، حرام لنفسه کا مرتکب نہیں، کیونکہ ذات کے اعتبار سے یہ حرام نہیں، بلکہ وصف کے اعتبار سے حرام۔
وعلى هذا، اور اسی بناء پر، قال أصحابنا، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں: أن النهي عن التصرفات الشرعية يقتضي تقریرها، کہ تصرفات شرعیہ سے جو نہی ہے، وہ تقاضا کرتی ہے تقریرها بھئی، ان تصرفات شرعیہ کے اثبات کا بھئی۔ تقریر قرر يقرر تقریر کا کیا معنی؟ اثبات کرنا، برقرار رکھنا بھئی۔ وہ تقاضا کرتی ہے ان کے برقرار رکھنے کا، ان تصرفات کے، ان تصرفات کے اثبات کا تقاضا کرتی ہے کہ تصرفات کیا ہو جائیں؟ ثابت ہو جائیں، کیا ہو جائیں؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے نہی آئی ہے کس وقت؟ یا یوں کہو، جیسے نہی آئی ہے کہ مکروہ وقت میں نماز نہ پڑھیں، لیکن اس وقت میں کوئی پڑھ لیتا ہے، تو یہ نہی تقاضا کیا کرتی ہے؟ کہ یہ تصرف شرعی برقرار رہے، یہ ثابت ہو جائے، یعنی نماز تو ہو گئی، البتہ وصف کے اعتبار سے اس میں کیا آ گئی؟ کراہت آ گئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ذات کے اعتبار سے مشروع رہے گا، اور وصف کے اعتبار سے— سمجھ میں آیا؟ تو افعال شرعیہ میں نہی تقاضا کرتی ہے اس کے ذات کے مشروع رہنے کا، اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونے کا۔ ٹھیک ہے، یہی بات کر رہے ہیں کہ نہی تصرفات شرعیہ تقاضا کرتی ہے ان تصرفات شرعیہ کے اثبات کا، ويراد بذلك، اور ارادہ کیا گیا اس کے ساتھ، کس بات— اس سے کیا مراد ہے ان کی بھئی؟ یہ جو قول کیا ہمارے فقہاء نے، کہتے ہیں اس سے یہ ارادہ کیا گیا: أن التصرف بعد النهي يبقى مشروعاً، کہ وہ تصرف نہی کے بعد بھی باقی رہے گا مشروع ہو کر۔ یعنی کیا ہوگا؟ جائز ہو جائے گا، كما كان، جیسے کہ وہ تھا، جیسے کہ وہ— جیسے وہ پہلے مشروع تھا، نہی کے بعد بھی کیا رہے گا؟ مشروع رہے گا۔ لأنه لو لم يبق مشروعاً، اس لیے کہ اگر وہ باقی نہ رہا مشروع ہو کر، نہی کے بعد وہ مشروع ہو کر باقی نہ رہے گا، كان العبد عاجزاً عن تحصل المشروع، تو بندہ عاجز آ جائے گا اس مشروع کو حاصل کرنے سے۔ کیونکہ یہ تو فعل شرعی ہے، اور فعل شرعی میں اختیار کس کی جانب سے ہوتا ہے؟ شارع کی جانب سے۔ اور جب شارع کی جانب سے ہم کہہ دیں کہ یہ ذات کے اعتبار سے جائز نہیں، شارع کی طرف سے اجازت ہی نہیں ہے کرنے کی، تو پھر تو یہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوا؟ غیر مشروع ہوا، اور تو بندے کے اختیار میں ہی نہ رہا۔ کیونکہ شارع— یہ تو موقوف تھا کس پر؟ شریعت پر، اور شریعت نے تو اس کی اجازت نہیں دی۔ وہی دلیل جو بھئی میں نے آپ کو تقریر لکھوائی تھی، وہ ذہن میں ہو تو یہ باتیں سمجھ میں آتی چلی جائیں گی۔ اور یہ تو کیا ہے؟ ذات کے اعتبار سے ہی مشروع جب نہ رہا، تو شارع— تو گویا شریعت کی طرف سے اس کی اجازت تھی نہیں۔ جب شریعت کی طرف سے اجازت ہی نہیں، تو یہ بندے کے اختیار میں بھی نہیں۔ کیونکہ یہ فعل شرعی ہے، اس کا کس پر موقوف ہے؟ شریعت پر، اور شریعت نے اس کے کرنے کی اجازت نہیں دی، جب اجازت نہیں دی تو بندے کے اختیار میں بھی نہیں۔ جب بندے کے اختیار میں نہیں، تو بندہ اسے کرنے اور اس کے تحصیل سے کیا ہوا؟ عاجز ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہ تو نہی عاجز کو ہوئی، اور شارع کی جانب سے نہی عاجز کو ہو سکتی ہے؟ نہیں ہو سکتی۔
تو بندہ عاجز ہو جائے گا اس مشروع چیز کی تحصیل سے، وحينئذ كان ذلك نهياً للعاجز، اور اس صورت میں یہ نہی ہو جائے گی کس کے لیے؟ یہ نہی کس کے لیے ہوگی؟ عاجز کے لیے ہو جائے گی، وذلك من الشارع محال، اور یہ شارع کی جانب سے کیا ہے؟ محال ہے کہ شارع کیا کر دے؟ کہ عاجز کو کیا کرے؟ نہی کرے، کیونکہ عاجز کو نہی کرنا کیا ہے؟ قبیح ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
یہ محال لفظ پڑھنا محال۔ عربی میں محال ہے، اردو میں اب یہ استعمال ہوتا ہے محال، پھر سمجھ میں آیا؟ اردو میں محال استعمال ہوتا ہے بھئی۔
وذلك من الشارع محال، اور یہ شارع کی جانب سے محال ہے، وبه فارق الأفعال الحسية، اور اس سبب سے، اور اس کے ذریعے بھئی، فارق، جدا ہو گیا— جدا ہو گئے، کون جدا ہو گئے؟ نهي عن التصرفات الشرعية۔ نهي عن التصرفات— یہ جو نہی ہے افعال شرعیہ سے، یہ جدا ہو گئی کس سے؟ افعال حسیہ سے۔ کہ وہ جو نہی کس میں آتی ہے؟ افعال حسیہ۔
یا یوں کہو، وبه فارق الأفعال الحسية، وہ فعل شرعی جدا ہو گیا کس سے؟ افعال حسیہ سے۔ یعنی افعال حسیہ میں نہی آئی تھی، تو وہ کیا بن جاتا تھا؟ قبيحاً لعينه، اور فعل شرعی کے اندر نہی آئی، تو یہ کیا بن گیا؟ قبيحاً لغيره۔ جی، یہ تقریر انہوں نے کی کہتے ہیں۔ اس سے دونوں جدا ہو گئے آپس میں۔ لأنه لو كان عينها قبيحاً، اس لیے کہ اگر اس کی ذات ہی قبیح ہوتی، لا يؤدي ذلك إلى، ذات ہی اس کی قبیح قرار دے دی جائے، کس کی؟ فعل حسی کی۔ بھئی، فعل حسی کی ذات ہی کو ہم قبیح قرار دے دیں، تو بھی نہیِ عاجز لازم نہیں آئے گی۔
کیونکہ بندے کے اب بھی وہ کیا ہے؟ اختیار میں ہے۔ کیونکہ فعل حسی کے اندر اختیار کا کیا معنی ہے؟ کہ بندہ حسً اس کے کرنے پر قادر ہو اور فعل شرعی میں اختیار ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ شارع کی طرف سے اس کے کرنے کی اجازت ہو۔ تو اختیار ہر چیز میں اس کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ فعل شرعی میں اختیار کا کیا معنی ہے بھئی دہراؤ سارے بھئی؟ کہ بندہ حسً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ بس اب نہی چاہے آگئی شریعت کی طرف سے، ہم نے اس کو قبیح لعینہ بھی قرار دے دیا پھر بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بندہ اس کے کرنے سے عاجز ہے کیونکہ بندہ اب بھی، کیونکہ یہ فعل حسی ہے اور فعل حسی میں اختیار کس کو کہتے ہیں؟ بندہ اس کے حسً کرنے پر قادر ہو۔ بندہ اب بھی اس کے کرنے پر قادر ہے تو لہٰذا وہ عاجز نہیں، تو لہٰذا نہی عاجز بھی لازماً نہیں آئی۔
اس لیے کہ اگر اس فعل حسی یا افعال حسیہ کی عین بھی قبیح قرار ہو جائے لا يؤدي ذلك، یہ لے جانے والا نہیں ہے، یہ ان سے نہی، لا يؤدي ذلك، ذلك کس کو راجع ہے؟ النهي عن الأفعال الحسية۔ تو یہ نہی عن الافعال الحسیہ لے جانے والی نہیں ہے إلى نهي العاجز، کس چیز کی طرف؟ نہی عاجز کی طرف؛ لأنه بهذا الوصف لا يعجز العبد عن الفعل الحسي، اس لیے کہ یہ جو کہ وہ جو منہی عنہ اس وصف کے ساتھ ہو، کس وصف کے ساتھ؟ کہ اس کے عین ہی کو کیا قرار دے دیا جائے؟ قبیح قرار دے دیا جائے، پھر بھی بندہ اس کے کرنے سے عاجز نہیں لا يعجز العبد عن الفعل، تو اس وصف کے ساتھ یعنی اس کے عین کے قبیح ہونے کے باوجود جو ہے لا يعجز العبد عن الفعل الحسي، بندہ اس عاجز نہیں آتا کس سے بھئی؟ فعل حسی سے عاجز نہیں آتا بھئی۔ تو بندہ اس فعل حسی کے کرنے سے عاجز نہیں آتا بھئی۔
ويتفرع من هذا حكم البيع الفاسد والإجارة الفاسدة والنذر بصوم يوم النحر وجميع صور التصرفات الشرعية مع ورود النهي عنها۔ اور اسی پر متفرع ہوگا بھئی، اسی سے نکلے گا بھئی، کس چیز کا حکم؟ بیع فاسد کا حکم بھی نکلے گا کیونکہ بیع کیا ہے؟ افعال شرعیہ میں، اور اجارہ فاسدہ کا حکم بھی نکلے گا، اجارہ بھی کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، والنذر بصوم يوم النحر، یوم النحر کے دن روزے کی نذر کا مسئلہ بھی، حکم بھی نکلے گا کیونکہ روزہ بھی کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، وجميع صور التصرفات الشرعية، اور تمام تصرفات شرعیہ کی صورتیں، کی صورتوں کا حکم بھی مع ورود النهي عنها ساتھ نہی ان سے نہی کے وارد ہونے کے، یعنی ان کے بارے میں کیا ہے؟ نہی وارد ہو افعال شرعیہ میں ان ساری صورتوں کا حکم بھی اس سے معلوم ہوگا، کہ وہ ذات کے اعتبار سے کیا ہوں گے؟ مشروع ہوں گے، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوں گے بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیا حکم نکلیں گے؟ دیکھیے اب آپ مجھے بتاتے جائیے، بیع فاسد کس کو کہتے ہیں؟ جس میں کوئی شرط وغیرہ ایسی لگا دی، یا کئی بہت سی صورتیں بنتی ہیں، مثلاً کوئی شرط ایسی لگا دی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو، ایک آدمی نے دوسرے کو سائیکل بیچی لیکن کیا کہا؟ ایک مہینے تک اسے میں استعمال کروں گا۔ بیع فاسد کا حکم بھی اس سے نکل آیا۔ بیع فاسد میں بھئی ایسی ایسی شرط لگا دی جو کیا تھی؟ مقتضائے عقد کے خلاف تھی، تو بیع کیا قرار دی ہے شریعت نے؟ فاسد، اور اس بیع سے منع کیا ہے، کیونکہ شریعت نے شرط وغیرہ سے بیع کے اندر شرط لگانے سے منع کیا ہے۔ اب اس صورت میں یہ شرط لگا کر کسی نے بیع کر لی، تو ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، جب ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی تو مشتری اس مبیع کا کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا اور قیمت لازم قیمت لازم۔
اچھا، پھر اب اس لہٰذا چونکہ یہ حرام لغیرہ کا ارتکاب کر رہا ہے، لہٰذا اس پر ضروری ہے دونوں پر کہ اس بیع کو کیا کر دیں؟ فسخ کر دیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بیع کو فسخ کر دیں۔ تو مالک بن جائے گا، مبیع کا کیا بن جائے گا؟ کیونکہ ذات کے اعتبار سے بیع کیا ہوئی؟ مشروع ہوئی، اگر ذات کے اعتبار سے مشروع نہ ہوتی تو وہ مالک ہی نہ ہوتا، صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح دیکھیے اجارہ فاسدہ ہے، کسی نے ایک دوسرے کو مکان کرائے پر دیا لیکن ساتھ شرط لگا دی کہ میں تمہیں مکان کرائے پر دیتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ تم مجھے اتنے ہزار روپے قرضہ دو گے، تو یہ شرط کے ساتھ اجارہ کرنے سے شریعت نے کیا کیا ہے؟ منع کیا ہے، اور اجارہ ہے فعل شرعی، لہٰذا اگر کسی نے شرط لگا کر اجارہ کر لیا تو یہ اجارہ فاسدہ ہوا، اور اجارہ فاسدہ کے اندر سے تو منع کیا گیا ہے تو یہ ذات کے اعتبار سے مشروع ہوگا اور وصف کے اعتبار سے مشروع نہیں رہے گا، تو لہٰذا اس کو فسخ کرنا ان دونوں پر واجب ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
اسی طرح والنذر بصوم يوم النحر، یوم النحر کے دن کے روزے کی نذر، منت ماننا بھئی، یہ مصنف نے مثال ذکر کی یہ درست نہیں اس مقام پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یوم النحر کے اندر روزہ رکھنا یہ جو ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے، لیکن صرف منت ماننا؟ بھئی یہ تو ایک مشروع چیز روزے کی منت مان رہا ہے، لہٰذا منت کے اندر کسی قسم کے یہ یہ یہ تو حرام لغیرہ بھی نہ ہوا، یہ تو جائز، ایک شخص نے منت مانی اگر میرا یہ کام ہوگیا تو میں عید کے دن روزہ رکھوں گا، بھئی منت ماننا اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن عید کے دن پھر اس کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں، ہاں پھر کسی اور دن اس کی قضا کرے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو وہ روزہ رکھنا اس وقت روزہ رکھے گا تو وہ حرام کا ارتکاب ہوگا، لیکن یہ جو منت مان رہا ہے منت تو کس چیز کی مان رہا ہے؟ روزے کی، اور مشروع چیز ہے روزہ جائز ہے، اس کی منت ماننے میں کوئی خرابی نہیں، لہٰذا یہ مثال یہاں درست نہیں بنتی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
یا یوں کہو نذر بولے لیکن مراد اس سے جو روزہ رکھے گا وہ مراد لیا بھئی۔ کیا مراد لیا؟ منت ماننا ذکر تو منت ماننا ہے لیکن مراد اس کیا ہے اس سے؟ جب وہ اس پر عمل کرے گا، کیا لیا اس پر؟ عمل کرے گا، وہ والا نہ قبیح لغیرہ ہوا، کیا ہوا روزہ رکھنا عید کے دن؟ ہاں منت ماننا نہ قبیح لعینہ ہے نہ قبیح لغیرہ ہے، یہ تو بالکل جائز ہے بھئی۔ ہاں آگے روزے جب وہ عمل کرتا ہے اس پر اور عید کے دن روزہ رکھ رہا ہے اور عید کے دن تو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ سال میں پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے شریعت نے بھئی، ایک عید چھوٹی عید ہے بھئی عید الفطر اور ایک عید الاضحیٰ ہے اور ایام تشریق ہیں ساتھ تین دن بھئی، کل کتنے دن ہیں؟ پانچ دن ہیں بھئی ان میں منع کیا گیا ہے، تو یہ اور یہ تو یہ یوم النحر کے دن بھئی روزے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے یہ کھانے پینے اور جماع کے دن ہیں، یعنی یہ اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہے ساری مخلوق کی، جانور ذبح کریں اللہ کے لیے اور پھر کیا کریں اس کا؟ گوشت کھائیں بھئی، تو یہ اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہے تو اس دن میں روزہ رکھنے سے گویا کہ وہ شخص اللہ کی مہمان نوازی سے کیا کر رہا ہے؟ اعراض کر رہا ہے لہٰذا منع کیا گیا ہے۔ تو روزہ رکھنا وہ کیا ہوگا؟ قبیح لغیرہ، اور اسی پر متفرع ہوگا اور بھی بھئی تمام تصرفات شرعیہ کی صورتیں جن میں کیا وارد ہوئی ہو؟ نہی وارد ہوئی ہو، صورت سمجھ میں آگئی؟ چلیے مولانا ھذا ہو المرام والله اعلم بحقيقة الکلام۔