گزشتہ سبق سمجھ میں آیا اچھی طرح؟ تکرار کیا ہے بھئی؟ کوئی مشکل تو نہیں اس میں؟
اچھا! آج ہم قضا کی بحث پڑھیں گے بھئی۔
واما القضاء فنوعان كامل وقاصر، فالكامل منه تسليم مثل الواجب صورة ومعنى، كمن غصب قفيز حنطة فاستهلكها وضمن قفيز حنطة، ويكون المؤدى مثلا للأول صورة ومعنى، وكذلك الحكم في جميع المثليات۔
یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ قضا جو ہے، قضا کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ مثلِ واجب کو سپرد کیا جاتا ہے۔ یہ قضا بھی دو قسم پر ہے: ایک قضاِ کامل ہے، ایک قضاِ قاصر ہے بھئی۔ قضاِ کامل اسے کہتے ہیں جس میں ایسا مثل دیا جائے، ایسا مثل دیا جائے جو صورۃً بھی مثل ہو اور معنًى بھی مثل ہو۔
جو صورۃً بھی مثل ہو اور معنًى بھی مثل ہو اس کا، یعنی صورت کے لحاظ سے بھی اس کے مثل ہو، معنی کے اعتبار سے بھی اس کے مثل ہو۔ یہ کیا ہے؟ قضاِ کامل ہے۔ ہے تو مثل، لیکن صورۃً بھی اس کی طرح ہے، معنًى بھی۔ اور اگر صرف معنًى اس کی طرح ہو، صورۃً اس کی طرح نہ ہو تو یہ قضاِ قاصر کہلاتا ہے۔
قضاِ کامل کسے کہتے ہیں بھئی؟ جو صورۃً بھی مثل ہو اس کے اور معنًى بھی۔ اور قضاِ قاصر کسے کہتے ہیں؟ جو صرف معنًى اس کے مثل ہو، صورۃً اس کے مثل نہ ہو۔ آسان بات ہے بھئی، آسان۔
جیسے اس کی مثال ذکر کی کہ کسی شخص نے دوسرے کے ایک قفیز گندم غصب کی، قفیز ایک پیمانہ ہے جس میں گندم ماپتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مختلف علاقوں میں اس کا، مختلف زمانوں میں، مختلف علاقوں میں یہ اس کا مختلف مختلف مقدار ہوتی تھی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی ایک نہیں، ہر علاقے کا کوئی فرق ہوتا ہے بعض میں اس۔ تو وہ ایک پیمانہ بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آج کل دودھ بیچتے ہیں، کس طرح بیچتے ہیں بھئی؟ لیٹر کے حساب، اس طرح، تو وہ ایک برتن ہوتا ہے خاص اس میں، اسی طرح ایک خاص برتن اس کے اندر جو مقدار آتی وہ قفیز کہلاتی۔
تو ایک شخص نے دوسرے کے ایک قفیز گندم غصب کر لی بھئی۔ اور پھر اس کو ہلاک کر دیا اس نے، استعمال کر لیا، کھا گیا یا کچھ کر دیا اس کو، کہتے ہیں اب اس پر ضمان آئے گا۔ اب عینِ گندم تو ہے نہیں تو ادا تو ہو نہیں سکتی۔ تو لہٰذا اب کیا دینا پڑے گا؟ اس کا مثل دینا پڑے گا، یعنی قضا آئے گی اور قضا میں اصل کیا ہے کہ کیا ہو؟ کامل ہو، کیا ہو؟ کامل ہو بھئی، کامل۔ اور قضاِ کامل کیا ہے کہ ایسا مثل دیا جائے جو صورۃً بھی ہو مثل اور معنًى بھی مثل ہو۔ تو لہٰذا وہ اتنی ہی گندم دے گا اس کو بھئی، اتنی ہی اس کو گندم دے گا۔
تو اب یہ گندم جو اس نے ادا کی یہ اس پہلی گندم کے مثل ہے صورت کے اعتبار سے بھی، کیونکہ وہ بھی گندم تھی، یہ بھی کیا ہے؟ گندم ہے۔ اور معنی کے اعتبار سے بھی اس کے مثل ہے، کیونکہ اس کی بھی یہی قیمت تھی، اس کی بھی یہی قیمت ہے بھئی۔ تو دیکھا! صورۃً بھی اس کے مثل ہوئی اور معنًى، یعنی قیمت کے اعتبار سے بھی اس کے مثل ہوئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں واما القضاء فنوعان، پس قضا جو ہے وہ دو قسم پر ہے: ایک کامل ہے اور ایک قاصر ہے۔ فالكامل منه، کامل قضا جو ہے تسليم مثل الواجب صورة ومعنى، وہ سپرد کرنا ہے مثلِ واجب کو صورت اور معنی دونوں اعتبار سے بھئی، دونوں اعتبار سے مثلِ واجب کو سپرد کرنا ہے۔ كمن غصب قفيز حنطة، جیسے کسی نے گندم کا ایک قفیز غصب کیا فاستهلكها، پس اس کو کیا کر دیا؟ ہلاک کر دیا۔ وضمن قفيز حنطة، ایک ہے ہلاک، ایک ہے استہلاک، فرق پتہ ہے بھئی؟ جی، جی! ہلاک جو خود ہلاک ہو جائے بھئی، استہلاک اس کو ہلاک کرنا، یعنی خود اس کو ختم کرے۔ یعنی کھا لیا وغیرہ خود۔
تو ہلاک تو یہ ہے مثلاً بھئی وہ گندم جل گئی۔ سمجھ میں آیا؟ گندم جل گئی اس سے یا یہ لے جاتے ہوئے اس سے دریا میں گر گئی، تو یہ اس نے جان بوجھ کر نہیں گرائی، یہ ہے ہلاک۔ اور ایک کیا ہے؟ ہاں، تو ایک قدرتی طور پر ہو جائے وہ ہے ہلاک اور ایک کیا ہے؟ قدرتی طور پر یا آفت کی وجہ سے آگ لگنے کی وجہ سے وہ ختم ہوئی تو یہ ہے ہلاک، اور ایک یہ خود اس کو کیا کرے؟ خود آگ لگاتا ہے تو اب ہے استہلاک، خود اس کو ختم کرتا ہے، کھا لیتا ہے تو یہ کیا ہے؟ استہلاک۔
فستهلكها، اس نے اس کو ہلاک کیا وضمن قفيز حنطة، تو ضامن ہوگا ایک قفیز گندم کا۔ ويكون المؤدى مثلا للأول صورة ومعنى، اور وہ جو ادا کی جائے گی وہ مثل ہوگی، وہ جو ادا کی گئی ہے مولانا یا ادا کی جائے گی مثلاً وہ مثل ہے للأول، کس کے؟ اول کے، وہ جو پہلی گندم اس نے غصب کی تھی یہ اس کے، جو ادا کر رہا ہے یہ گندم اس کے مثل ہے، صورۃً بھی اس کے مثل ہے، وہ بھی گندم تھی، یہ بھی گندم ہے، اور معنًى بھی اس کے مثل ہے، اس کی بھی یہی قیمت تھی اس کی، اور اس کی بھی وہی قیمت ہے۔
وكذلك الحكم في جميع المثليات، اور اسی طرح حکم ہوگا تمام مثلیات کے اندر بھئی۔ بھئی! چیزیں دو قسم پر ہیں: کچھ چیزیں مثلیات کہلاتی ہیں، کچھ ذوات القيم کہلاتی ہیں، قیمت والی، قیمت والی۔ جن کا مثل ممکن ہو وہ مثلیات کہلاتی ہیں، جن کا مثل ممکن نہ ہو وہ کیا کہلاتی ہیں؟ ذوات القيم بھئی، قیمت والی، قیمت والی۔
تو دیکھو! گندم جو ہے یہ مثلیات میں سے ہے، گندم کا مثل ملتا ہے یا نہیں بھئی؟ جی! چینی بھئی، یہ کس میں سے ہے؟ اس کا مثل مل جائے گا۔ لیکن اگر بکری غصب کی اور وہ ہلاک کی تو اس کے مثل موجود ہے مثلِ معنوی صوری بھئی؟ نہیں بھئی! ایک بکری دوسری بکری جیسی نہیں ہو سکتی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ذوات القيم میں سے ہے، کیونکہ دونوں بکریوں میں ایک جو غصب کی تھی اور ایک جو ادا کر رہا ہے لازمی بات ہے دونوں میں فرق ہوگا، جسامت میں فرق ہوگا، رنگ وغیرہ اور بہت سی خصوصیات میں ان میں کیا ہوگا؟ بالکل ایک جیسی ہو سکتی ہیں؟ نہیں۔
اگر ظاہراً بالکل ایک جیسی ہوں بھئی، لیکن پھر بھی ظاہری خصوصیات اگر بالکل ایک جیسی ہوں، ایک ہی سائز ہے مولانا، ایک ہی جیسا رنگ ہے اور سارا کچھ ایک جیسا ہے، پھر بھی باطنی خصوصیات میں ضرور اختلاف ہوگا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ باطنی خصوصیات الگ الگ ہوا کرتی ہیں، تو ایک بکری ہے مولانا وہ آرام سے دودھ دیتی ہے، دوسری آرام سے نہیں دودھ دیتی، ایک گائے ہے مولانا وہ آرام سے دودھ دیتی ہے اور ایک گائے آرام سے دودھ نہیں دیتی، بہت سی خصوصیات، ایک گائے ہے وہ قریب ہی اپنے نہیں آنے دیتی، تو لہٰذا ظاہری خصوصیات اگر ایک جیسی بھی ہوں باطنی خصوصیات ایک جیسی تو فرق ضرور ہوگا، تو یہ لہٰذا ان کا مثل، یہ ذوات القيم میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ تو یاد رکھو مثلیات تین چیزیں ہیں بس بھئی، تین چیزیں۔
ایک مکیلات جن کو ماپا جاتا ہے بھئی، ماپا جاتا ہے۔ جیسے دودھ ہے بھئی، خاص برتن میں ماپا جاتا ہے بھئی، اس کا وزن تو نہیں کیا جاتا، بلکہ کیا کیا جاتا ہے؟ ماپا جاتا ہے، اسی طرح گندم ہے اس کو ماپا جاتا ہے بھئی، یہ مکیلات کہلاتی ہیں، ان کا کیل کیا جاتا ہے، کیل۔ اور دوسری ہیں موزونات بھئی، جن کا وزن کیا جاتا ہے بھئی، جیسے چینی ہے وغیرہ بھئی۔ اور تیسری معدودات بھئی، معدوداتِ متقاربہ۔ معدوداتِ متقاربہ جن کو گن کر بیچا جاتا ہے بھئی، مثلاً کیا ہیں؟ ہاں اخروٹ ہیں، انڈے ہیں، مالٹے ہیں، کیلے ہیں، تو یہ معدودات ہیں اور متقاربہ؟ ان میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں بھئی، کیا ہوتے ہیں؟ مشابہ ہوتے ہیں عموماً بھئی، قریب ایک دوسرے کے۔ ہوتا تو ہے لیکن بہت معمولی ہوتا ہے جس کو شمار نہیں کیا جاتا۔
تو یہ تین مثلیات ہیں، ان کے علاوہ باقی ساری چیزیں کیا ہیں؟ ذوات القيم ہیں، ذوات القيم ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وكذلك الحكم في جميع المثليات، اور اسی طرح حکم ہوگا تمام مثلیات کے اندر، یعنی مثلیات کے اندر مولانا کیا دینا پڑے گا؟ اسی کا مثل دینا پڑے گا جو صورۃً بھی ہو اس کی طرح اور معنًى بھی اسی کی طرح ہو، تو یہ قضاِ کامل ہوئی۔
واما القاصر، اور باقی قضاِ قاصر جو ہے فهو ما لا يماثل الواجب صورة ويماثل معنى، وہ ہے جو مماثل نہیں ہے، مشابہ نہیں ہے واجب کے صورۃً، بااعتبارِ صورت کے ويماثل معنى، لیکن اس کے مماثل ہے کس اعتبار سے؟ معنی کے اعتبار سے۔ دیکھو بھئی! ایک شخص نے دوسرے کی بکری غصب کی اور اس بکری کو ذبح کیا، پکا کر کھا گیا، اب یہ اس اس پر کیا آیا؟ ضمان، اس کو اس کا کیا دینا پڑے گا؟ مثل دینا پڑے گا، اب یہ مثل بعینہٖ اسی جیسی بکری ممکن ہے؟ نہیں دے سکتا، تو لہٰذا ادا قضاِ کامل ممکن نہیں، تو لہٰذا اس کی قیمت ادا کرے گا اور یہ قیمت بکری کا مثلِ معنوی ہے، معنی کے اعتبار سے اس کی طرح ہے، صورت کے اعتبار سے اس کی طرح؟ کیونکہ بکری تو جانور ہے اور سب یہ جو پیسے ادا کر رہا ہے یہ تو کیا ہے؟ تو صورۃً اس کے مثل نہیں ہے، بلکہ معنی کے اعتبار سے اس کی طرح۔
فالقضاء القاصر، وہ ہے جو واجب کی مثل نہ ہو صورت کے اعتبار سے اور مثل ہو بااعتبارِ معنی کے كمن غصب شاة، جیسے کسی شخص نے بکری غصب کی کسی کی فهلكت، پس وہ بکری ہلاک ہو گئی ضمن قيمتها، ضامن ہوگا اس کی قیمت کا والقيمة مثل الشاة، اور قیمت بکری ا شاة بتلایا میں نے بھئی، بھیڑ بکری دونوں کو کہتے ہیں، یہ قیمت جو ہے بھیڑ بکری کی مثل ہے من حيث المعنى، کس اعتبار سے؟ معنی کے اعتبار سے لا من حيث الصورة، صورت کے اعتبار سے نہیں۔ والاصل في القضاء الكامل، اور اصل قضا میں کیا ہے بھئی؟ کامل ہے، یعنی جب تک قضاِ کامل ممکن ہو قضاِ قاصر کی طرف نہیں جائیں گے بھئی، ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟
وعلى هذا قال ابو حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة: إذا غصب مثليا فهلك في يده وانقطع ذلك عن ايدى الناس ضمن قيمته يوم الخصومة۔
یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے ہمارے ائمہِ ثلاثہ کے اندر بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام محمد رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے درمیان۔
صورتِ مسئلہ یہ بھئی! ایک شخص نے دوسرے کی کوئی مثلی چیز غصب کی، کیا غصب کی؟ مثلی چیز غصب کی، تو آپ بتلائیے اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ کیا آئے گا؟ اول تو ادا کرنی پڑے گی، وہی مثلی چیز اس کو کیا کرے؟ واپس کرے، جب تک وہ موجود ہے قضا کی طرف ہم وہ ہی گندم اس کو واپس کرنا پڑے گی، لیکن اگر وہ گندم اس نے ہلاک کر ڈالی یا ہلاک ہو گئی تو اس پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا اور ضمان اب کس طرح قضا آئے گی؟ قضا آئے گی اس پر ادا تو ہو نہیں سکتا اور کون سی قضا آئے گی؟ قضاِ کامل آئے گی کہ اس اسی گندم کا مثل دینا پڑے گا جو صورۃً بھی اس کے مثل ہو اور معنًى بھی اس کے، یہ کیا ہوئی قضاِ کامل ہوئی، اتنی اور گندم دے دے۔
لیکن اگر وہ گندم مثلاً یہ گندم نہیں کوئی اور چیز مثلاً کر لو بھئی، مثلاً چینی تھی، کیا تھی؟ چینی تھی، یا چلو گندم بھی کر لیں، وہ بازار سے ختم ہو گئی، اب ملتی ہی نہیں، اب اس کا مثل ہی نہیں مل رہا کہیں سے بھئی، اب کیا کریں؟ لوگوں کے پاس ہے ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو اب کس کی طرف جائیں گے؟ قضاِ کامل تو ممکن نہ رہی، کیونکہ چینی مل ہی نہیں رہی کہیں سے، نہ لوگوں کے پاس ہے اور نہ بازار میں دستیاب ہے، اب کس کی طرف جائیں گے؟ قضاِ قاصر کی طرف، تو کیا دینی پڑے گی اس کی؟ قیمت دینی پڑے گی، جو اس کا مثلِ معنوی ہے، مثلِ صوری تو نہیں لیکن مثلِ۔ اب قیمت کون سے دن کی دے گا؟ اس میں اختلاف ہے۔
دیکھو! ایک دن اس نے کی تھی چینی غصب، اس غصب والے دن اس چینی کی قیمت تھی مثلاً 100 روپے، ایک اور دوسرا جس دن وہ ختم ہوئی بازار سے لوگوں کے پاس سے ان دنوں اس کی قیمت کیا تھی؟ 200 روپے تھی، قیمت بڑھ گئی تھی نا، چیز کم ہو گئی تو قیمت کیا ہو گئی؟ بڑھ گئی، تو ان دنوں اس کی قیمت کیا تھی؟ 200 روپے، اور تیسرا وہ دن جس دن پھر وہ شخص قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے کیا کیا جائے؟ میرے اس نے چیز غصب کی ہے مجھے اس سے دلائی جائے، مطالبہ کرتا ہے، اور مطالبے والے دن جو ہے چینی کی قیمت 300 روپے تک جا چکی ہے، اب اس پر کون سی قیمت آئے گی؟ غصب والے دن کی آئے گی؟ یا جس دن لوگوں کے ہاتھ سے منقطع ہوئی اور ختم ہوئی اس دن والی آئے گی؟ یا جس دن اس نے مطالبہ کیا اس دن والی قیمت آئے گی بھئی؟ صورت سمجھ میں آئی؟
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن اس نے مطالبہ کیا، قاضی کے پاس گیا، اس دن والی قیمت آئے گی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن لوگوں کے ہاتھ سے منقطع ہوئی، بازار میں ختم ہوئی اس دن والی قیمت آئے گی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن غصب کی تھی اس دن والی قیمت آئے گی۔
اختلاف سمجھ میں آیا بھئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کس دن والی قیمت آئے گی؟ جس دن غصب کیا تھا۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کس دن والی قیمت آئے گی؟ جس دن جس دن منقطع ہوئی تھی۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کس دن والی قیمت آئے گی؟ جس دن اس نے مطالبہ کیا۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل، وہ دلیل یہ دیتے ہیں، یہ شخص پہ ضمان آ رہا ہے اور ضمان کس وجہ سے آ رہا ہے؟ غصب کی وجہ سے آ رہا ہے۔ کس وجہ سے آ رہا ہے؟ غصب کی وجہ سے آ رہا ہے بھئی، لہذا غصب والے دن کی قیمت معتبر ہو۔ ضمان کس وجہ سے آیا بھئی؟ غصب کی وجہ سے آیا نا، اس نے غصب کی ہے اس لیے اب اس پر کیا آئے گا؟ ضمان، تو ضمان کا سبب غصب بنا، لہذا غصب والے دن کی قیمت دی جائے گی اس کو بھئی۔
امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جس دن اس کی کیا تھا، لوگوں کے ہاتھوں سے منقطع ہوئی ہے اس دن والی قیمت دی جائے گی۔ اس دن والی۔ بھئی، وہ اس لیے، وہ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے تو مثل صوری دینا تھا۔ کیا دینا تھا؟ مثل صوری دینا تھا۔ تو اب مثل صوری سے ہم کس کی طرف بھئی چلے گئے؟ مثل معنوی کی طرف، اور یہ مثل معنوی کی طرف ہم کب گئے؟ جب مثل صوری ممکن نہ رہا، اور مثل صوری کب ممکن نہ رہا؟ جب لوگوں کے ہاتھ سے وہ چیز کیا ہوئی؟ ختم ہوئی۔ تو جس دن اس کا عجز ظاہر ہوا، جس دن جس دن عجز اس کے لیے ثابت ہوا اس دن والی قیمت دے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس سے پہلے تو کیا دینا تھا؟ مثل صوری ہی دینا تھا، لیکن ہم قیمت کی طرف، مثل معنوی کی طرف گئے کس وجہ سے؟ کیونکہ وہ مثل صوری دینے سے عاجز آ گیا، اور مثل صوری سے عاجزی کس دن ثابت ہوئی اس کی؟ جس دن لوگوں کے ہاتھ سے وہ چیز کیا ہوئی ہے؟ منقطع ہوئی ہے، لہذا اسی دن والی قیمت آئے گی اس پر۔ اسی دن مثل صوری سے انتقال ہوا ہے کس کی طرف؟ مثل معنوی کی طرف، اور وہی مثل معنوی اس پر آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کون سی قیمت دے گا؟ جس دن اس نے قاضی کے پاس جا کر کیا کیا؟ مطالبہ کیا ہے، کہتے ہیں اس لیے کہ اگرچہ جس دن لوگوں سے کے ہاتھوں سے ختم ہوئی تھی اس دن یہ عاجز آ گیا تھا۔ اب مثل صوری ادا کرنے پر یہ قادر نہیں تھا، لیکن اس کے عجز کا ابھی اظہار نہیں ہوا، ظاہر نہیں ہوا بھئی اس کا عجز، اس کا عجز کس دن آ کر ظاہر ہوا؟ جس دن اس نے کیا کیا؟ مطالبہ کیا۔ اس سے پہلے اس کا عجز ابھی ظاہر نہیں ہوا، کیونکہ ممکن تھا کسی نہ کسی سے وہ چینی کیا ہو جاتی؟ دستیاب ہو جاتی، کہیں سے حاصل ہو جاتی، تو ابھی پوری طرح عجز کا ظہور نہیں، اور عجز کا ظہور کس دن آ کر ہو رہا ہے؟ جس دن آ کر اس نے مطالبہ کر دیا، اب مطالبہ کر دیا اور یہ دینے پر قادر ہی نہیں ہے بھئی، اب عجز اس کا ظاہر ہو گیا۔ اب کیا ہوا اس کا عجز؟ ظاہر ہو گیا، لہذا اس مطالبے والے دن کی کیا آئے گی اس پر؟ قیمت آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مشکل تو کوئی نہیں۔
وعلیٰ هذا قال ابو حنيفة رحمة الله، اور اسی بناء پر، یہ جو ضابطہ طے کیا کہ اصل قضا کے اندر کیا ہے؟ کامل ہے، اور قاصر کی طرف کب جائیں گے؟ جب کامل قضا ممکن نہ رہے، اسی بناء پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اذا غصب مثلياً، جب کسی نے کوئی مثلی چیز غصب کی، فهلك في يده، وہ چیز اس کے قبضے میں ہلاک ہو گئی، وانقطع ذلك عن ايدي الناس، اور منقطع ہو گئی وہ چیز لوگوں کے ہاتھوں سے، ضمن قيمته يوم الخصومة، تو ضامن ہو گا اس کی قیمت کا خصومت والے دن کا، جس دن اس نے کیا کیا ہے؟ مقدمہ کیا ہے، خصومت کی ہے قاضی کے پاس، مطالبہ کیا ہے جس دن اس نے قاضی کے پاس، لان العجز عن تسليم المثل الكامل انما يظهر عند الخصومة، اس لیے کہ عجز، کس چیز سے عجز بھئی؟ مثل کامل کے سپرد کرنے سے، مثل کامل کے سپرد کرنے سے جو عجز ہے، انما يظهر عند الخصومة، یہ تو خصومت کے وقت ہی ظاہر ہوا ہے اس سے پہلے ظاہر نہیں ہوا، فاما قبل الخصومة فلا، خصومت سے پہلے، تو اس سے پہلے اس کا عجز ظاہر نہیں ہوا، اور اس کا عجز پوری طرح متحقق نہیں ہوا، لتصور حصول المثل من كل وجه، اس لیے کہ تصور ہو سکتا ہے مثل کے حصول کا، اس لیے کہ مثل کے حصول کا تصور ہو سکتا ہے، من كل وجه، مجموعی اعتبار سے، مجموعی اعتبار سے کیا ہے؟ مثل کا حصول اب بھی اس کے لیے، میں نے بتایا ہے یا نہیں بھئی، ہو سکتا ہے کہیں سے دستیاب ہو جائے، ہو سکتا ہے آ جائے، ابھی تک اس کا پوری طرح عجز ظاہر نہیں ہوا، عجز تب ظاہر ہوا جب اس نے مطالبہ کر دیا، تو اس سے پہلے امکان تھا، اس سے پہلے کیا تھا؟ امکان تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو من كل وجه کا کیا معنیٰ؟ مجموعی اعتبار سے، کسی نہ کسی طور پر، یوں کر لیں، کسی نہ کسی طور پر ممکن ہے بھئی۔
فاما ما لا مثل له لا صورةً ولا معنيً لا يمكن ايجاب القضاء فيه بالمثل، باقی وہ چیز جس کا نہ مثل صوری ہو نہ مثل معنوی ہو، وہاں پر قضا بالمثل واجب کرنا ممکن بھی نہیں۔ بھئی جس کا بھئی ہم نے کیا کہا بھئی؟ ادا کے بعد کس کی طرف جائیں گے؟ قضا کی طرف، اور قضا میں کیا دیا جاتا ہے؟ مثل، پہلے تو مثل صوری دیں گے، اگر وہ ممکن نہیں تو پھر کیا دیا جائے گا؟ مثل معنوی دیا جائے گا، اب بھئی ایک چیز کا نہ مثل صوری ہے نہ مثل معنوی ہے تو پھر وہاں پر قضا ہو سکتی ہے؟ قضا کہتے ہی کس کو ہیں؟ مثل کو دینا، اور جب اس کا مثل ہی نہیں ہے تو قضا ہو سکتی ہے؟ قضا ہو ہی نہیں سکتی، یہ ضابطہ ہے۔ جس کا ما لا مثل له لا صورةً ولا معنيً، جس کا مثل ہی نہ ہو نہ صورتاً مثل ہو اور نہ معناً مثل ہو، لا يمكن، ممکن نہیں ہے، ايجاب القضاء، قضا کا واجب کرنا، قضا کا واجب کرنا اس میں ممکن ہی نہیں ہے، بالمثل، کس کے ساتھ بھئی؟ مثل کے ساتھ، کیونکہ مثل کے ساتھ قضا کی جائے اس کا واجب کرنا ممکن ہی نہیں بھئی۔
ولهذا المعنىٰ، اور اسی علت کی بناء پر بھئی، معنیٰ کا کیا لفظی ترجمہ میں نے آپ کو بتلایا بھئی؟ بھئی جی ہاں، قدیم کتابوں کے اندر معنیٰ کا لفظ بہت سی جگہ علت کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ہمارے قدیم فقہاء، ائمہ حضرات اس لفظ کو پسند نہیں کرتے تھے علت کے لفظ کو، کیونکہ یہ علت مناطقہ، فلاسفہ کے ہاں بہت کثیر الاستعمال ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ اس لفظ کو پسند نہیں کرتے تھے کہ اس کو وہ بھی استعمال کریں کہ یہ تو مناطقہ اور فلاسفہ والا لفظ ہے، ہم اس کو استعمال نہیں کرتے، لہذا وہ اس کے لیے عموماً معنیٰ کا لفظ لاتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ علت کا لفظ استعمال وہ نہ کریں۔ بعد میں پھر امام نے بتلایا تھا، امام طحاوی نے سب سے پہلے اس کا استعمال شروع کیا بھئی کہ یہ اچھا لفظ ہے، کیوں ہم اس کو ترک کرتے ہیں، ہمیں کرنا چاہیے اس کو استعمال، کوئی حرج نہیں، ضرورت پیش آتی ہے اس کی بھئی۔
ولهذا المعنىٰ، اسی علت کی بناء پر، قلنا، ہم نے کہا، ہم کہتے ہیں، ان المنافع لا تضمن بالاتلاف، کہ منافع کا ضمان نہیں آئے گا بالاتلاف بھئی، کس کے ساتھ بھئی؟ تلف کر دینے کے ساتھ بھئی، تلف کر دینے سے۔ یاد رکھو، منافع کا کوئی ضمان نہیں ہمارے نزدیک، منافع کا کوئی ضمان نہیں ہمارے نزدیک، مثلاً آپ کے، آپ کی سائیکل کسی نے غصب کر لی، ایک ماہ تک چلاتا رہا، ایک ماہ بعد اسی طرح ٹھیک ٹھاک سائیکل آپ کو واپس کر دی، اب اس نے ایک ماہ کے منافع آپ کے زائل کر دیے، تو آپ یہ منافع کا آپ اس سے ضمان طلب کریں، نہیں بھئی، آپ اس سے ضمان طلب نہیں کر سکتے۔ ایک شخص نے کسی کا غلام غصب کر لیا، ایک ماہ تک اس سے خدمت لیتا رہا، یہ خدمت کیا ہے؟ غلام کے منافع ہیں، تو اب ایک ماہ بعد اسی طرح ٹھیک ٹھاک غلام واپس کر دیتا ہے، تو اب آپ اس وہ شخص اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ مجھے ایک مہینے اس کی خدمت کا معاوضہ بھی دو، نہیں بھئی، معاوضے کا وہ مطالبہ، ضمان کا مطالبہ نہیں کر سکتا، کیونکہ منافع کا کوئی ضمان نہیں، ایک شخص نے دوسرے کا گھر غصب کر لیا، ایک ماہ، دو ماہ یا ایک سال تک وہ اس کے اندر رہائش اختیار کیے رکھی اس نے، ایک سال تک رہتا رہا، پھر سال بعد اسی طرح ٹھیک ٹھاک گھر اس نے واپس کر دیا، تو اب اس نے اس کے ایک سال گھر کے منافع جو تھے، گھر کا نفع کیا ہے بھئی؟ اس میں رہائش اختیار کرنا ہے، تو گھر کے منافع اس نے ایک سال کے ضائع کر دیے اس کے بھئی، لیکن اس کے باوجود اب اب وہ شخص اس سے مطالبہ کرے مجھے ایک سال کا کرایہ دو تم، نہیں بھئی، یہ مطالبہ نہیں کر سکتا، اس لیے کہ منافع کا ضمان نہیں ہوتا۔ بھئی منافع کا ضمان کیوں نہیں آیا کرتا؟ وجہ اس کی یہ کہ منافع کا نہ مثل صوری موجود ہے، نہ مثل معنوی موجود ہے۔
ضمان تو ہم نے تو کیا کہا تھا بھئی؟ سب سے پہلے ادا کرو، وہی چیز واپس کی جائے، ادا نہ ممکن ہو تو پھر کیا کرو؟ قضا کرو، اور قضا میں کیا دیا جاتا ہے؟ اس چیز کی مثل دی جاتی ہے، مثل صوری یا مثل معنوی، اور منافع کا نہ مثل صوری ممکن ہے، نہ مثل معنوی ممکن ہے بھئی۔ اب کیسے نہیں ممکن؟ اس کا یہ اہم نقطہ یاد رکھو ہمیشہ کے لیے، یاد رکھو، منا، اب آپ بتلائیے، ایک شخص نے دوسرے کے غلام کو ایک ماہ تک غصب کیا، تو اب اس کی ضمان کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ اپنا غلام اب اس کو ایک مہینے کے لیے دے دیں، جی؟ یہ مثل صوری ہے، لیکن یہ مثل صوری اس کا بن ہی نہیں سکتا، کیونکہ یہ اور غلام ہے وہ اور غلام ہے، اس کے اور منافع ہیں، اس کے اور منافع ہیں بھئی، دونوں کے منافع ایک جیسے ہو ہی نہیں سکتے بھئی، دونوں کے اخلاق و عادات میں فرق ہو گا، خدمت کے طریقے میں فرق ہو گا، خدمت لینے والے کی خدمت لینے کے اندر بھی کیا ہو گا؟ فرق ہو گا، تو دونوں ایک دوسرے کے مثل صوری بن سکتے ہیں؟ مثل صوری بن بن ہی نہیں سکتے، تو ایک چیز کے منافع دوسری چیز کے منافع سے کیا ہوتے ہیں؟ مختلف ہوا کرتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک چیز کے منافع دوسری چیز کے منافع سے کیا ہوتے ہیں؟ مختلف ہوتے ہیں، بہت سی باتوں کے اندر فرق آ جاتا ہے میں نے بتلایا بھئی، ایک غلام ہے کاہل ہے بھئی، آپ نے جس کو مثلاً ایک نے جس کو غصب کیا تھا، وہ بڑا کاہل غلام تھا، ایک مہینے بھی کیا ہے خاص کوئی اس نے خدمت نہیں کی، اور جب آپ کو اپنا غلام اب بدلے میں دینا پڑ رہا ہے، آپ کا غلام تو بڑا چست ہے بھئی، بڑی خدمت کرنے والا ہے، تو ہیں ایک جیسے منافع بھئی؟ نہیں، اس کی عادات اور تھیں، اس کی عادات اور ہیں، آپ کے خدمت لینے کا طریقہ اور تھا بھئی، آپ بڑی نرمی سے کام لیا کرتے تھے اس کے ساتھ، اور دوسرے کا طریقہ اور ہو گا، وہ کیا کرے گا؟ بڑی سختی سے اس سے خدمت لے گا، تو منافع ایک جیسے ہو ہی نہیں سکتے۔
تو ان کا مثل صوری بھی ممکن نہیں، مثل معنوی بھی ممکن نہیں، مثل معنوی کیا ہوا کرتی ہے؟ قیمت، کیا ہوتی ہے؟ قیمت، اب آپ سے کہے مجھے ایک مہینہ میرے غلام نے تمہاری خدمت کی ہے، مجھے اس کی قیمت دو، اس کی کرایہ دو، اس کی اجرت دو، نہیں بھئی، یہ بھی وہ نہیں کہہ سکتا، اس لیے کہ قیمت اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کا احح جس کا احراز ممکن ہو، کیا ممکن ہو؟ احراز کا معنیٰ اس کا محفوظ کرنا، اس کا جمع کر لینا، اور یہ منافع محفوظ اور جمع ہو سکتے ہیں بھئی؟ غلام کی ایک سال کی خدمت آپ اکٹھی کر لیں گے بھئی؟ اکٹھی کر لیں بھئی؟ خدمت نہ لیں، اکٹھی کرتے جائیں، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں بھئی، گھر میں ایک سال تک آپ رہائش نہ رکھیں، وہ رہائش اکٹھی کرتے جائیں بھئی، ہو سکتا ہے بھئی؟ نہیں، منافع تو ہر ہر لمحہ بدلتے ہیں، ایک لمحہ مکان کے اندر جو رہائش ہے، اگلا لمحہ میں آنے والی نئی رہائش ہے، اگلے لمحے میں آنے والی نئی رہائش ہے، تو ہر آن کے بدلنے سے کیا ہوتے ہیں؟ منافع نئے آتے ہیں، پرانے چلے جاتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ غلام سے آپ خدمت لے رہے ہیں، تو ہر آن کے اندر جو خدمت ہو رہی ہے، وہ نئی خدمت ہے، گزشتہ خدمت جا چکی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو منافع کے اندر احراز نہیں، ان کو محفوظ کر لینا اور جمع کر لینا ممکن نہیں، اور قیمت اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کو محفوظ کرنا اور جمع کرنا ممکن ہو بھئی۔
قیمت کس چیز کی ہوا کرتی ہے؟ بھئی جو محفوظ ہو کوئی، جس کے اندر بقا تو ہو تھوڑی سی، کچھ بقا ہو گی تو ہم کیا لگائیں گے اس کے ساتھ؟ میں آپ کے ساتھ عقد کر رہا ہوں، وہ منافع تو گزرتے جا رہے ہیں بھئی، ہر آن میں نیا نفع آ رہا ہے، جی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو عقد تو اس چیز پہ ہوتا ہے، مثلاً میں آپ سے اس کتاب پہ عقد کر رہا ہوں، تو یہ کتاب کتاب بقا ہے اس کے اندر، یہ باقی رہے گی، عقد کیا، عقد کے بعد میں نے آپ کے حوالے کر دی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور منافع کے اندر کوئی بقا ہے؟ ان کا جمع کر لینا ممکن ہے؟ نہیں، وہ تو منافع ہیں، وہ چیز تو ٹھیک ہے، وہ گھر تو ہے، وہ غلام تو ہے، وہ سائیکل تو ہے، لیکن تو وہ تو عینِ شے ہے، اور جو اس کے منافع ہیں، وہ تو ہر ہر لمحے کے اندر نئے منافع ہیں اس کے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کہ مشکل ہے بھئی؟ جی؟ تو منافع کے اندر بقا نہیں بھئی، منافع کے اندر بقا نہیں، ان کو جمع کر لینا ممکن ہے؟ جمع کرنا اور محفوظ کرنا ممکن ہے؟ نہیں، آپ اپنی سائیکل لیں اس کو کھڑا کر دیں کہ بھئی اس سے دس سال جب اکٹھی ہو جائے گی ساری اس کی اس کے نفع، وہ میں اکٹھے اس سے لے لوں گا، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ منافع جو وقت گزر رہا ہے، وہ گزرتے چلے جا رہے ہیں، ان کے اندر کوئی بقا نہیں۔ یہ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا، تو قیمت تو اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کے اندر بقا ہو، اور منافع کے اندر بقا نہیں، لہذا ان کی قیمت بھی کوئی نہیں ہو سکتی۔
ان کی کوئی قیمت بھی نہیں ہو سکتی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو لہذا مثل معنوی بھی ممکن ممکن نہیں منافع کا، کیونکہ قیمت کیا تھی؟ مثل معنوی تھا، قیمت کیا تھی؟ مثل معنوی تھا، تو مثل صوری تو میں نے بتلایا ممکن نہیں، ایک چیز کے منافع دوسری چیز کے منافع سے کیا ہوتے ہیں؟ مختلف، مثل معنوی بھی ممکن نہیں، اس لیے کہ منافع میں بقا نہیں، جب بقا نہیں تو ان کی قیمت نہیں، اور قیمت ہی تو مثل معنوی تھا، تو لہذا ان کی مثل معنوی بھی ممکن نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور نیز کوئی اب آپ اس کے بدلے میں اپنا غلام ہی اگر دے دیں، چلو منافع نہیں، یہ غلام ہی کے تم مالک ہو گئے، بھئی غلام تو عین ہے، آپ نے تو کیا طلب کیے تھے؟ منافع، اور دے کیا رہے ہیں؟ غلام، عین، اور منافع اور عین کے اندر کوئی مماثلت ہے؟ نہ صورتاً مماثلت ہے اور نہ، آپ نے صرف خدمت لی تھی اور حوالے میں عین کر رہے ہیں، خدمت کے تو کیا تھے؟ منافع تھے، اور یہ تو کیا ہے؟ عین ہے، عین اور منافع کے اندر کوئی مماثلت ہے صورتاً یا معناً؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا اگر کوئی شخص کسی کے کسی چیز کے منافع کو تلف کر دے غصب کر کے، تو اس پر کوئی ضمان نہیں، ہاں عند اللہ وہ گناہ گار ہو گا بھئی، گناہ ہو گا اس کو، لیکن یہاں قضا ممکن نہیں، نہ اس کو صورتاً وہ مثل دے سکتا ہے، نہ معناً مثل دے سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نہ ہی کوئی عین اس کے بدلے میں دے سکتا ہے۔
دیکھیے بھئی، فاما ما لا مثل له صورةً ولا معنيً، جس کی نہ صورتاً مثل ہو اور نہ معناً، لا يمكن ايجاب القضاء فيه بالمثل، وہاں پر قضا بالمثل واجب کرنا ممکن ہی نہیں ہے، ولهذا المعنىٰ، اور اسی علت کی بناء پر، قلنا، ہم نے کہا، ان المنافع لا تضمن بالاتلاف،
کہ منافع کا ضمان نہیں دی دیا جائے گا بالإتلاف، بھئی کس کے ساتھ بھئی؟ تلف کر دینے کے ساتھ۔ لأن إيجاب الضمان بالمثل متعذر، اس لیے کہ ضمان کا ایجاب، ضمان کا واجب کرنا مثل کے ساتھ متعذر، یہ ممکن ہی نہیں، نہ مثل صوری ممکن ہے اور نہ مثل معنوی ممکن ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وإيجابه بالعين كذلك اور اسی طرح بھئی اس، ایجاب عين کے، ضمان عين کے ساتھ واجب کرنا وہ بھی اسی طرح ہے وہ بھی ممکن، بھئی ہم یہ کہیں کہ اس نے ایک ماہ کے منافع تلف کیے ہیں، بدلے میں اپنا، اپنا غلام اس کو پکا پکا دے دو بھئی، اسی کو مالک بنا دو۔ تو آپ منافع کے عوض میں کیا دے رہے ہیں؟ عين کو۔ اور عين منافع کے ساتھ کوئی مماثلت مثل ہے صورۃً یا معنۃً؟ لہٰذا عين دینا بھی ممکن، تو اسی طرح بھئی عين کا ضمان واجب، عين کے ساتھ ضمان واجب کرنا بھی اسی طرح ہے، ممکن نہیں ہے۔ یعنی ممکن نہیں۔ لأن العين لا تماثل المنفعة
لان العين لا تماثل المنفعة، اس لیے کہ عين مماثل نہیں ہے منفعت، نفع کے، لا صورۃ ولا معنىً نہ تو صورۃً اس کے مما، اس جیسا ہے اور نہ معنۃً۔ كما إذا غصب عبدا، جیسے کسی نے کوئی غلام غصب کیا، فاستخدمه شهرا، پس اس سے کیا کی؟ خدمت لی ایک ماہ تک، او دارا یا کسی نے کیا غصب کیا کسی کا؟ گھر غصب کیا، فسكن فيها شهرا، پس رہائش اختیار کی اس کے اندر ایک ماہ تک، ثم رد المغصوب المالک، پھر مغصوب کو واپس کر دیا مالک کو، لا يجب عليه ضمان المنافع، تو اس پر منافع کا ضمان واجب خلافا للشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، کہ ان کے نزدیک کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔
ان کے نزدیک کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ضمان دینا پڑے گا بھئی، ایک مہینہ تم نے اس کے غلام سے خدمت لی ہے اور ایک ماہ تک اس کے گھر میں رہے ہو، ضمان دو۔ کیا ضمان دیں؟ کہتے ہیں بھئی ایک ماہ تک غلام کے ایک ماہ کی خدمت کی جتنی اجرت بنتی ہے وہ دے دو۔ گھر میں ایک ماہ رہنے کی جو اجرت بنتی ہے وہ اس کو دے دو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ بھئی کیسے دے دیں؟ کہتے ہیں بھئی آپ خود بھی تو کرتے ہیں اس طرح، کرائے پر گھر نہیں دیتے آپ؟ اجارہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو وہ اجارے پر اس کو قیاس کرتے ہیں کہ اجارے میں دیکھو جیسے اجارے میں منافع پر عوض دیا جاتا ہے۔ بھئی کسی کو گھر آپ کرائے پر دیں تو پورا گھر اس کو دے دیتے ہیں اس کو مالک بنا دیتے ہیں یا صرف منافع دیتے ہیں ایک مدت تک؟ ایک کسی کو اپنا غلام دے دیتے ہیں خدمت کے لیے تو اس کو غلام کا مالک بنا دیتے ہیں یا صرف اس کے منافع دیتے ہیں اس کو؟ منافع دیتے، کہتے ہیں اجارہ کے اندر آپ خود تو کرتے ہیں بھئی، منافع کے عوض کیا لے لیتے ہیں؟ قیمت لے لیتے ہیں۔ وہاں کہتے ہیں قیمت، یہاں کہتے ہیں قیمت ہی کوئی نہیں منافع کی، اور وہاں کیا کہتے ہیں؟ اجارے کے اندر آپ کیا کہتے ہیں؟ قیمت ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ اس کو قیاس کرتے ہیں اجارہ پر، کس پر؟ جیسے اجارہ میں منافع کی قیمت ہوتی ہے، یہاں بھی منافع کی کیا ہے؟ قیمت، اس کو دینا پڑے گی بھئی۔
جواب دیتے ہیں مولانا، ہم امام شافعی رحمہ اللہ کو کئی جوابات دیتے ہیں، دو چار میں ذکر کر دیتا ہوں بھئی۔
جواب اول، پہلا جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ اجارے کا ثبوت نص سے آیا ہے، حدیث سے آیا ہے بھئی، حدیث سے آیا ہے۔ حدیث بھی لکھ لیجیے مولانا، حدیث بھی لکھ لیجیے: أعطوا الأجير، أعطوا جمع کا صیغہ لکھو بھئی، أعطوا أمر کا جمع کا صیغہ بھئی، عين، ط، واؤ، الف، عين، ط، واؤ، الف، أعطوا الأجير الأجير الأجير أجره أجره قبل أن يجف قبل أن يجف قبل أن يجف عرقه
لکھ لی بھئی حدیث؟ بس بھئی، حدیث اتنی ہے۔ أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه، مزدور کو اس کی مزدوری دے دو قبل خشک ہونے اس کے پسینے کے۔ جف يجف کا کیا معنی ہے؟ خشک ہونا۔ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو بھئی۔
امم، اچھا بھئی، اب ادھر توجہ کرو بھئی، تو بھئی یہ جواب ہم دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو، وہ کس پر قیاس کر رہے ہیں اس کو؟ غصب کو، اس غصب کے اندر جو منافع ضائع ہوئے اس کو وہ قیاس کر رہے ہیں اجارہ پر، ہم کہتے ہیں آپ یہ قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کہ اجارہ ثابت ہوا ہے حدیث کے ساتھ اور اس کا ثبوت خلاف القياس ہے بھئی، خلاف القياس ہے اور جو چیز خلاف القياس ہوا کرتی ہے، وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، اس پر مزید آگے کسی کو قیاس، جب وہ خود خلاف القياس ہے تو اس پر کسی اور کو کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟
اجارہ خلاف القياس ہے، ابھی تو میں نے آپ کو بتلایا کہ اس میں تو اجارے کے اندر تو منافع پر قیمت لی جاتی ہے اور منافع کی تو کوئی قیمت ہونی نہیں چاہیے، قیاس تو یہ کہتا ہے کہ منافع کی کوئی قیمت نہیں ہونی چاہیے، اس لیے کیونکہ ان میں بقا ہی نہیں، ان کے اندر احراز ہی نہیں، ان کو جمع کرنا اور محفوظ کرنا ممکن ہی، جب ان کے اندر احراز نہیں تو ان کی قیمت بھی کوئی نہیں ہونی چاہیے، قیاس یہ کہتا ہے، لیکن نص میں آ گیا أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه، پھر اس سے پہلے کہ اس کا پسینہ خشک ہو مزدور کو کیا کرو اس کی مزدوری ادا، تو یہ حکم جو نص کے اندر آیا یہ قیاس کے مطابق آیا ہے یا خلاف القياس آ گیا؟ خلاف القياس آ گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور جو خلاف القياس حکم ہو وہ اپنے مورد پر بند، اپنے محل پر بند رہتا ہے، اس سے تجاوز نہیں کرتا، اس پر قیاس اور چیزوں کو، بھئی قیاس کیسے کیا جا سکتا ہے جب وہ خود خلاف القياس ہے تو اس پر آگے مزید کسی کو کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ پہلا جواب یہ تھا بھئی۔
جواب ثانی، جواب ثانی یہ مولانا کہ ضمان کا سبب غصب ہوتا ہے اور منافع کا غصب ہی ممکن نہیں تو پھر وہاں ضمان کیسا؟ جلدی جلدی لکھو بھئی، اشارات لکھو بھئی، وقت نہیں ہے، سبق رہ جائے گا۔
جواب ثانی بھئی، غصب ضمان کا سبب کیا ہوا کرتا ہے؟ غصب، اور منافع کے اندر تو غصب ممکن ہی نہیں ہے تو ضمان کہاں سے آئے گا بھئی؟ کیونکہ احراز نہیں، کیونکہ احراز و بقا نہیں۔ کیونکہ احراز و بقا نہیں۔
جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ منافع کے اندر آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ ضمان آئے گا، ہم کہتے ہیں یہاں پر ضمان نہیں آ سکتا کیونکہ منافع کا ضمان نہیں، ضمان تو وہاں آتا ہے، امم، ضمان تو کہاں آتا ہے؟ جی؟ ضمان تو وہاں آئے گا جہاں غصب ہو سکے اور منافع کو تو غصب ہی کوئی نہیں کر سکتا، وہ تو ہر آن بدل رہے ہیں، تو جس وقت تک غصب نہیں کیا تھا وہ منافع گزر چکے ہیں اور غصب کرتے ہی وہ نئے منافع ہیں مولانا، یہ وہ تو پہلے تھے ہی نہیں، وہ تو کیا ہیں؟ یہ تو نئے منافع ہیں، تو اس نے جو چیز غصب کی ہے منافع غصب ہوئے ساتھ؟ منافع غصب، غصب وہ چیز ہو سکتی ہے جس کے اندر بقا ہو، یہاں تو منافع کے اندر بقا ہی نہیں ہے، وہ اور تھے منافع تھے پہلے والے وہ گزر چکے، یہ اور منافع ہیں، یہ تو اس کے پاس آ رہے ہیں اس چیز کے اندر بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو منافع کے اندر بقا ہے، احراز ہی نہیں، لہٰذا اس میں غصب بھی نہیں، جب غصب ہی نہیں تو ضمان تو اس میں آتا ہے جس کا غصب ممکن ہو، یہاں تو منافع کا غصب ممکن نہیں، عين کا غصب ہے، منافع کا غصب نہیں۔
جواب ثالث بھئی، منا، یہاں غصب، ز، اجارہ، تو اجارہ میں اجازت دی نص کی وجہ سے، اجا، اجارہ میں منافع کے قیمت آئی یا نہیں آئی بھئی اجارہ کے اندر؟ وہ کس وجہ سے آئی؟ نص کی وجہ سے خلاف القياس اور نیز استحساناً، استحسان کی وجہ سے، استحسان کہتے ہیں قیاس خفی کو۔ استحسان کس کو کہتے ہیں؟ قیاس خفی کو، قیاس خفی کو، استحساناً کی اجازت دی بھئی، قیاس تو اس کی اجازت نہیں دے رہا تھا لیکن استحسان کے ذریعے ہم نے اس کی کیا کر دی؟ اجازت، اس لیے کہ حاجت تھی، ضرورت تھی مولانا، اجارے کی کیا ہے؟ ضرورت ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی اجارے میں کیا ہوتا ہے؟ منافع کے عوض کیا لی جاتی ہے؟ قیمت، حالانکہ منافع کے اندر تو احراز ہی نہیں، اس کے اندر تو قیمت نہیں ہونی چاہیے، قیاس یہ کہتا ہے، لیکن استحسان کی بنا پر اجازت ہم نے دے دی، استحسان کیا ہے؟ بھئی لوگوں کو حاجت ہے، ضرورت ہے، کسی آدمی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں وہ اپنا گھر لے سکے تو پھر اسے کیا ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ کرائے پر لے کر رہے، ایک آدمی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ غلام خرید سکے تو وہ اس کو کیا کرے گا؟ کرائے پر لے گا، ایک آدمی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ کرائے پر، کہ وہ اپنی گاڑی خرید سکے تو وہ کیا کرے گا؟ کرائے پر گاڑی لے گا، تو جو لوگوں کی حاجت شدیدہ تھی اس میں میں لہٰذا استحسان کی بنا پر ہم نے کیا کر دی؟ حاجت شدیدہ، ضرورت کی بنا پر یوں کہیں ضرورت کی بنا پر ہم نے کیا کر دی؟ اجازت دے دی ورنہ قیاس تو اجازت نہیں دے رہا تھا۔
صورت سمجھ میں آئی؟ اور ضرورت کی بنا پر اجازت ہم نے اس طرح دی ہے مولانا کہ اصل عقد عين شے پر واقع ہوا کرتا ہے، عين شے کو ہم نے منافع کا خلیفہ بنا دیا۔ بھئی میں نے آپ کو غلام اپنا سپرد کیا ایک ماہ کی خدمت کے لیے اور کتنی اجرت دیں گے مثلاً آپ ایک ہزار روپے، تو اب جو ہے میں نے آپ، آپ چاہتے کیا ہیں؟ منافع پر، عقد کس پر کرنا چاہتے ہیں؟ منافع پر، لیکن منافع پر اگر عقد کیا تو جائز ہی نہیں ہوگا، ہم نے عين شے کو منافع کا نائب بنا دیا۔ عين شے کو کیا کر دیا؟ منافع کا نائب بنا دیا، عين تو عقد غلام پر ہوگا، یوں کہیں گے: میں آپ کو اپنا غلام ایک ماہ کے لیے دیتا ہوں اتنی اجرت پر، تو عقد کس پہ ہو رہا ہے؟ عين پر ہو رہا ہے یا میں منافع کا نام لے رہا ہوں؟ عين پر، تو عقد ہوگا عين پر اور عين سے منتقل ہو جائے گا کس کی طرف؟ منافع کی طرف، تو عين کو کیا بنا دیا؟ خلیفہ بنا دیا کس کا؟ منافع کا اور پھر عقد اس پر کیا، پھر عقد، لہٰذا اگر کوئی شخص یوں عقد کرے کہ میں آپ کو اس غلام کے منافع دیتا ہوں ایک ماہ کے لیے اتنے پیسوں کے بدلے تو یہ عقد جائز نہیں ہے مولانا، یہ عقد جائز، تو ہم کیا کرتے ہیں؟ عين شے کو کیا بنا دیتے ہیں؟ منافع کا نائب بنا دیتے ہیں اور عقد پھر کر لیتے ہیں اس عين شے پر، پھر اس عين شے سے عقد منتقل ہو جاتا ہے کس کی طرف؟ منافع کی طرف۔
تو عقد کس پر کرنا ضروری ہے؟ آپ ایک شخص کو گھر کرائے پر دے رہے ہیں تو عقد گھر، تو وہ چاہیے کیا اس کو؟ گھر میں رہائش، کیا چاہیے؟ منافع چاہیے، لیکن وہ منافع پر عقد واقع نہیں ہو سکتا کیونکہ منافع کے اندر بقا ہے نہیں، تو منافع کا نائب کس کو بنا دیا؟ عين کو یعنی گھر کو ہی بنا دیا اور عقد گھر پر کیا کہ میں یہ گھر آپ کو ایک مہینے کے لیے کتنے پر دیتا ہوں؟ ایک ہزار روپے کے بدلے، تو عقد عين شے پر ہوگا اور پھر عين شے سے عقد منتقل ہو جائے گا کس کی طرف؟ منافع کی طرف منتقل ہو جائے گا، ہاں اگر منافع ہی پر عقد کیا کہ میں اس گھر کے منافع آپ کو ایک مہینے کے لیے دیتا ہوں اتنے پیسوں کے بدلے تو یہ عقد ہی باطل ہے بھئی، کیونکہ منافع کے اندر تو بقا ہے نہیں۔
جواب رابع مولانا، بھئی اجارے کی اس لیے بھی اجازت دی کیونکہ وہاں دونوں جانب سے رضامندی ہے بھئی، جبکہ غصب میں تو دونوں جانب سے رضامندی نہیں بھئی۔
کیونکہ وہاں تو عقد ہوتا ہے باہمی رضامندی کے ساتھ، اس لیے کہ وہاں پر تو عقد ہوتا ہے دونوں کی باہمی رضامندی سے، کیونکہ وہاں پر عقد ہوتا ہے دونوں کی باہمی رضامندی سے، اور یہاں پر بھئی غصب کے اندر عقد ہوا؟ کوئی باہمی رضامندی ہے؟ نہیں، یہاں تو بلکہ لڑائی ہے بھئی، وہ چھین کر لے گیا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ کتنے جوابات لکھوائے؟ چار، چلیے بھئی، یہ یاد رکھنا بھئی۔
خلافا للشافعي، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے لیے، فبقي الإثم حكما له، تو گناہ باقی رہے گا اس کے لیے، غصب کے لیے حکم بن کر۔ یا وہ تلف کرنے کے لیے گناہ کا رہے گا، تو بھئی نہ مثل صوری ممکن ہے نہ مثل معنوی ممکن ہے ہمارے نزدیک، لہٰذا اب کیا رہے گا صرف؟ اس کے گناہ باقی رہ جائے گا، اس پر ضمان نہیں آئے گا کہ وہ گھر جو اس نے ایک مہینے تک غصب کیا تھا اس کا کرایہ دے یا اس غلام کی اجرت دے بھئی۔
بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وانتقل جزاؤه إلى، جزاؤه إلى دار الآخرة، اور منتقل ہو جائے گی اس کی جزا، اس کا بدلہ دار الآخرۃ یعنی آخرت کی طرف بھئی۔
آخرت میں اس شخص کو کیا کیا جائے گا؟ اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے دوسرے کی چیز کے منافع تلف کیے تو اس کی جزا اسے کہاں ملے گی؟ آخرت میں ملے گی۔
ولهذا المعنى، اور اسی علت کی
کی بناء پر قلنا لا تضمن منافع البضع۔ضمان نہیں آئے گا بھئی کس کا بھئی؟جی ضامن نہیں ضمان نہیں آئے گا بضع کے منافع کا۔بالشهادة الباطلة على الطلاق طلاق پر شہادتِ باطلہ کے ساتھ ولا بقتل منكوحة الغير ولا بالوطء۔
بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ منافع کا نہ مثلِ صوری ممکن ہے اور نہ مثلِ معنوی۔لہٰذا اگر کسی نے کسی کے منافع تلف کر دیے، تو پھر اس پر صرف گناہ ہو گا، اس پر ادا یا قضا، کوئی صورتِ قضا ہو نہیں سکتی بھئی۔
لہٰذا ایک اہ بیوی نے کیا کیا مثلاً، خاوند کے ساتھ جھگڑا ہے، اب ہے تو اس کی بیوی، لیکن اس نے مقدمہ کر دیا قاضی کے پاس کہ اس نے مجھے طلاق دی ہے اور دو گواہ بھی جھوٹے لے آئی اٹھا کر کہیں سے، انہوں نے قاضی کے سامنے آ کر گواہی دی کہ اس خاوند نے ہمارے سامنے اس عورت کو طلاق دی ہے بھئی۔تو قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا طلاق کا اور ان دونوں میں جدائی کروا دی، کیا کر دی ان میں؟جدائی کروا دی، تو بس ان دونوں میں جدائی آ گئی مولانا، قاضی کا فیصلہ کرتے ہی بھئی۔صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب بعد میں آ کر ان گواہوں نے آ کر قاضی کے پاس رجوع کیا، ہم سے غلطی ہو گئی، ہم نے جھوٹی گواہی دے دی بھئی، جھوٹی گواہی۔تو ٹھیک ہے جھوٹی گواہی پر جو سزا قاضی وغیرہ دے، وہ تو الگ بات ہے، بات یہ ہے، مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ان گواہوں نے اپنی گواہی کے ذریعے خاوند کے منافعِ بضع کو فوت کر دیا۔خاوند کے منافعِ بضع کو کیا کر دیا؟خاوند ان منافع کا مالک تھا، لیکن اب کیا ہوئے؟وہ منافع فوت ہو گئے، تو کیا اب اس پر کوئی ضمان آئے گا؟کہتے ہیں، نہیں بھئی منافع کا کوئی ضمان نہیں آتا، ہاں وہ گناہ گار ہوں گے بھئی۔صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ضمان نہیں آئے گا بس یہ بات یاد رکھیں۔
یا اسی طرح کسی نے غیر کی منکوحہ کو قتل کر دیا، تو قتل کی وجہ سے ٹھیک ہے اس کو قتل کیا جائے گا، اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے یا غلطی سے قتل کیا ہے تو اس پر دیت آ جائے گی، وہ الگ بات ہے۔لیکن سوال یہ کہ اس نے خاوند کے بھی تو منافعِ بضع کو فوت کر دیا یا نہیں کر دیا؟اب اس پر سمجھ میں آیا بھئی؟تو خاوند بھی تو منافعِ بضع کا مالک تھا یعنی بیوی سے صحبت کرنے کا مالک تھا، اس کے یہ منافع فوت ہو گئے، تو اب ان منافع کا بھی کوئی ضمان آئے گا الگ سے؟کہتے ہیں، نہیں بھئی منافع کا کوئی ضمان نہیں، کیونکہ ان کا نہ صورتاً مثل ہے اور نہ معناً مثل ہے۔
یہی بات کر رہے ہیں، ولهذا المعنى قلنا اسی علت کی بناء پر ہم نے کہا لا تضمن منافع البضع کہ ضمان نہیں آئے گا کس کا ضمان نہیں ہو گا منافعِ بضع، ضمان نہیں دیا جائے گا منافعِ بضع کا بالشهادة الباطلة کس کے ساتھ بھئی؟شہادتِ باطلہ کے سبب سے على الطلاق کس پر؟طلاق پر جب اس نے جھوٹی گواہی دے دی ولا بقتل منكوحة الغير اور نہ غیر کی منکوحہ کے قتل سے، بھئی غیر کی منکوحہ کو اس نے قتل کر دیا تو اس میں بھی اس نے کیا کر دیا، منافعِ بضع کو کیا کر دیا، فوت کر دیا اس پر پھر بھی ضمان نہیں آئے گا ولا بالوطء اور نہ ہی وطء کے سبب سے۔
بھئی ایک شخص ہے اس نے غیر کی بیوی سے وطء کر لی، صحبت کر لی، اب دیکھو یہ وطء کرنا بیوی سے یہ خاوند کا حق تھا، یہ صحبت کرنا کس کا حق تھا؟خاوند، تو یہ منافع اس کے تھے، لیکن اس نے خاوند کے یہ منافع ضائع کر دیے، یہ یعنی کیا بھئی، جب اس نے خاوند کی جگہ صحبت کر لی تو یہ صحبت کرنا تو منافع تھے صرف خاوند کے لیے، تو لہٰذا اب اس نے منافع تلف کیے، تو کیا اس پر کوئی ضمان آئے گا؟بھئی وہ الگ بات ہے اس کو سزا وغیرہ ملے گی اس کے مطابق جو بھی ہوا، بات یہ ہے کہ خاوند کے جو منافع تلف کیے ہیں، ان کا الگ سے کوئی ضمان آئے گا؟کہتے ہیں ان کا الگ سے کوئی ضمان نہیں آئے گا۔
ولا بالوطء اور نہ ہی وطء کے سبب سے بھی، جی۔سمجھ میں آیا بھئی؟کہ ضمان نہیں آئے گا منافعِ بضع کا بالوطء کس کے ساتھ؟وطء کے سبب سے۔حتى لو وطئ زوجة انسان حتى کہ اگر کسی نے صحبت کر لی بھئی، کسی انسان کی بیوی سے لا يضمن للزوج شيئاً تو وہ ضامن نہیں ہو گا خاوند کے لیے کسی بھی چیز کا الا کسی بھی چیز کا، إلا إذا ورد الشرع بالمثل مگر جب کہ شریعت وارد ہوئی ہو مثل کے ساتھ، یعنی شریعت لائی ہو کسی مثل، شریعت نے کسی چیز کو مثل مقرر کیا ہو۔
بھئی منافع کا ہاں، بھئی دیکھو بات یہ ہے کہ جس چیز کا مثلِ صوری یا مثلِ معنوی ممکن ہو، تو مثلِ صوری اور مثلِ معنوی اس کو اس کے بدلے میں دیا جائے گا۔لیکن بعض اوقات شریعت ایک چیز کو دوسری چیز کا مثل قرار دے دیتی ہے، اب وہ شریعت نے جسے مثل قرار دیا چاہے وہ نہ صورتاً اس کے مماثل ہو نہ معناً مماثل ہو، پھر بھی اسی کو ادا کیا جائے گا کیونکہ شریعت نے اس کو اس چیز کا کیا قرار دے دیا ہے؟مثل قرار دے دیا ہے۔
مثلاً یہ شیخِ فانی ہے، بہت بوڑھا شخص ہے، وہ روزے نہیں رکھ سکتا۔وہ روزے نہیں رکھ سکتا، تو اس پر کیا ہے؟ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے بھئی۔سمجھ میں آیا؟وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين تو وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے، يطيقونه کیا معنیٰ؟اطاق يطيق کا معنیٰ طاقت نہ رکھنا بھئی۔بابِ افعال کا ہمزہ کبھی سلبِ ماخذ کے لیے بھی آتا ہے۔تو اطاق يطيق اس کا کیا معنیٰ ہے؟ہمزہ سلبِ ماخذ کے لیے ہے، یعنی طاقت نہ ہو۔سلب آیا یا نہیں آیا بھئی؟طاقت نہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟تو یہاں ہمزہ افعال کا کس کے لیے آیا، سلبِ ماخذ کے لیے۔
جیسے مولانا، بڑی پیاری مثال ہے اس کی، فلوس کس کو کہتے ہیں؟پیسوں کو کہتے ہیں، لیکن اسی کو بابِ افعال میں لے جاؤ افلس يفلس إفلاساً، یہ کس کا کیا معنیٰ ہے؟پیسے نہ ہونا، سمجھ میں آیا؟تو یہ ہمزہ کس لیے آیا؟سلبِ ماخذ کے لیے آیا بھئی۔
افلس يفلس إفلاساً فهو مفلس، مفلس کس کو کہتے ہیں جس کے پاس پیسے ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے بھئی؟ نہیں ہوتے، تو یہ دیکھو جس کے، تو مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس پیسے نہ ہوں بھئی، تو یہ بابِ افعال کا ہمزہ یہاں کس لیے آیا؟سلبِ ماخذ کے لیے آیا بھئی۔
تو یہاں پر بھی وعلى الذين يطيقونه اور وہ لوگ جو اس کی طاقت یعنی روزے کی طاقت نہیں رکھتے، ان پر کیا ہے؟فدية طعام مسكين ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ دینا ہے۔صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟تو وہ کیا ہے، نصفِ صاع گندم وغیرہ دے گا بھئی، اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں اور مذکور، تو نصفِ صاع دے گا، صورت گندم دے گا بھئی۔
آپ دیکھو، روزے کے وہ، شیخِ فانی روزہ نہیں رکھ سکتا، روزہ نہیں رکھ سکتا، تو شریعت نے اس فدیے کو کیا قرار دیا بھئی؟اس کا مثل، حالانکہ یہ نہ اس کے صورتاً مثل ہے اور نہ معناً اس کے مثل ہے۔اسی طرح ایک شخص دوسرے کو غلطی سے قتل کر دیتا ہے، شریعت کہتی ہے دیت دو، ایک سو اونٹ بھئی، غلطی سے قتل کیا ہے، ختاً، قتلِ ختا ہے، تو کیا دینے پڑیں گے؟ایک سو اونٹ دینے پڑیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟جو اس کے سارے قوم والوں سے مل کر وصول کیے جائ، ملا کر سب سے وصول کیے جائیں گے بھئی۔
تو اب یہ جو دیت مقرر کی، یہ اس نفس، اس جان کے مثل ہیں کسی بھی لحاظ سے بھئی؟جی، وہ تو ایک انسانی جان گئی اور اس کے بدلے میں کیا دے رہے ہیں؟سو اونٹ دے رہے ہیں، نہ یہ اس کا مثلِ صوری ہے اور نہ مثلِ معنوی، لیکن مثلِ شرعی ہے، یعنی شریعت نے اس کو اس کا کیا قرار دے دیا ہے؟مثل قرار دے دیا ہے، تو اس کے ساتھ کیا کی جائے گا اس کو؟یہ ادا کیے جائیں گے بھئی۔
إلا إذا ورد الشرع بالمثل مگر شریعت مثل کے ساتھ وارد ہو مع أنه لا يماثله صورة ولا معنىً باوجود اس کے کہ، مع أنه باوجود اس کے کہ وہ لا يماثله صورة ولا معنىً کہ وہ چیز نہ اس کے مثل ہو صورتاً اور نہ بھئی شریعت نے کسی چیز کو مثل قرار دیا باوجود اس کے کہ یہ چیز نہ اس کے صورتاً مثل ہے اور نہ معناً مثل ہے فيكونمثلاً له شرعاً تو یہ اس کے لیے کیا ہو جائے گی، مثلِ شرعی ہو جائے گی فيجب قضاؤه بالمثل الشرعي تو واجب ہو گی اس شخص پر اس کی قضا کرنا مثلِ شرعی کے ساتھ ونظيره اور اس کی نظیر ما قلنا وہ جو ہم نے کہا کہ إن الفدية في حق الشيخ الفاني کہ فدیہ جو ہے شیخِ فانی کے حق میں، شیخِ فانی بہت بوڑھا ہے بھئی جو مرنے والا ہے، بہت بوڑھا ہو چکا ہے۔
تت، بہت بوڑھا، کمزور ہے، روزہ وغیرہ نہیں رکھ سکتا، کہ ہم نے کیا کہا کہ فدیہ شیخِ فانی کے حق میں مثل الصوم یہ کیا ہے، صوم کے مثل ہے، یہ شریع، تو یہ مثلِ شرعی ہے۔والدية في القتل خطأً اور دیت جو ہے قتل کے اندر جب کہ وہ ختاً ہوا ہو مثل النفس یہ کیا ہے؟نفس کے مثل ہے مع أنه لا مشابهة بينهما باوجود اس کے کہ ان میں کوئی مشابہت نہیں، نہ صورتاً اور نہ معناً، لیکن شریعت نے اس کو اس کا مثل قرار دیا ہے، لہٰذا یہ کیا کرے گا اس کو؟مثلِ شرعی اب ادا کرے گا بھئی۔چلیے مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔