Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 25 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 84
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا وے۔ فصل في النهي. نہي کی بحث مولانا۔ بھئی، نہي کی تعریف پہلے اپ کے حاشیہ نمبر پانچ میں دیکھ لیجیے دی ہوئی ہے نہي کی تعریف۔ دوسری تیسری سطر میں ہے: "وهو قول القائل لغيره لا تفعل على سبيل الاستعلاء." "وهو قول القائل لغيره لا تفعل" بھئی، امر کیا تھا؟ "هو قول القائل لغيره افعل" اور یہ کیا ہے؟ "لا تفعل على سبيل الاستعلاء." اور یہ لا تفعل کہنا کس طریقے پر ہو؟ استعلاء کے طریقے پر ہو کہ کہنے والا اپنے اپ کو کیا سمجھے؟ بلند سمجھے، بلند سمجھے بھئی۔ اچھا، تو یہ لکھ لیجیے بحث بھئی۔ یہ بحث اور جگہ اپ کو اس طرح نہیں ملے گی بھئی، سمجھنا ہے، آئندہ بھی اپ کے کام آئے گی، اس کو حفاظت سے محفوظ رکھنا۔ یاد رکھیے افعال دو قسم پر ہیں، جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ افعال دو قسم پر ہیں۔ افعال حسیہ اور افعال شرعیہ۔ فعل حسی اس کو کہتے ہیں، فعل حسی اسے کہتے ہیں کہ جس کے معنی میں کہ جس کے معنی میں ورود شریعت سے کوئی تغیر نہ آیا ہو، کہ جس کے معنی میں ورود شریعت، ورود بھئی وارد ہونا ورود، ورود شریعت سے کوئی تغیر، کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔ کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔ یعنی شریعت کے ورود سے پہلے یعنی شریعت کے یعنی شریعت کے ورود سے پہلے اس فعل کا جو معنی تھا، ورود شریعت سے پہلے اس فعل کا جو معنی تھا، ورود شریعت کے بعد بھی وہی معنی ہو۔ ورود شریعت کے بعد بھی وہی معنی ہو۔ جیسے زنا۔ زنا کہتے ہیں وطء في غير الملك کو، وطء في غير الملك، غیر ملک کے اندر بھئی، غیر ملک میں وطء کرنا۔ تو نزول اسلام سے پہلے بھی اس کا یہی معنی تھا، نزول اسلام سے پہلے بھی زنا کا یہی معنی تھا اور بعد میں بھی یہی معنی ہے۔ تو یہ فعل حسی ہے۔ تو یہ فعل حسی ہے۔ یعنی اس کا سمجھنا شریعت پر موقوف نہیں۔ یعنی اس کا سمجھنا شریعت پر موقوف نہیں۔ ہر سمجھدار شخص اسے جانتا ہے۔ ہر سمجھدار شخص اسے جانتا ہے۔ اور فعل شرعی وہ ہے، اور فعل شرعی وہ ہے کہ ورود شرع سے اس کے معنی میں تبدیلی آئی ہو۔ اس کے معنی میں تبدیلی آئی ہو۔ جیسے بیع۔ جیسے بیع۔ بیع و شراء ہے بھئی، جیسے بیع۔ بیع ورود شریعت سے پہلے بیع کا معنی تھا، ورود شریعت سے پہلے بیع مبادلة المال بالمال کو کہتے تھے۔ ورود شریعت سے پہلے بیع مبادلة المال بالمال کو کہتے تھے۔ شریعت نے آکر اس کے معنی میں تبدیلی پیدا کی، کہ "هو مبادلة المال بالمال بالتراضي." "هو مبادلة المال بالمال بالتراضي." ضاد کے ساتھ ہے، رضامندی، باہمی رضامندی۔ تو دیکھا شریعت نے بیع کے معنی میں تبدیلی پیدا کی، شریعت نے بیع کے معنی میں تبدیلی کی، اور بہت سی، اور بہت سی شرائط ذکر کیں بھئی، بیع کے صحیح ہونے کے لیے، اور کئی شرائط بیع کے صحیح ہونے کے لیے لگائیں بھئی۔ ادھر ہے برتن وغیرہ کے پاس۔ تو بیع فعل شرعی ہوا، تو بیع فعل شرعی ہے۔ کیونکہ اس کا، اور اس کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہے، اس کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہے۔ الگ سطر لکھو بھئی، الگ سطر۔ اب اس بات میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے، کا اتفاق ہے، کہ اگر فعل حسی سے منع آئے، اگر فعل حسی سے منع اور نہی آئے، تو وہ فعل، وہ فعل حسی حرام لعینہ، حرام لعینہ اور حرام لذاتہ ہو گا۔ عین لکھنا آتا ہے؟ عین اس پہ لام داخل کر دو، لعینہ۔ تو وہ حرام لعینہ اور حرام لذاتہ ہو گا۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے حرام ہو گا۔ یعنی اپنی ذات ہی کے اعتبار سے حرام ہو گا۔ جیسے زنا فعل حسی ہے، اور "لا تقربوا الزنا،" "لا تقربوا الزنا" تقربوا جمع کا صیغہ لکھو واؤ اور الف کے ساتھ بھئی۔ "لا تقربوا الزنا،" "لا تقربوا الزنا" لکھو بھئی۔ "لا تقربوا الزنا" میں نہی آئی ہے، میں نہی آئی، کہ نہی آئی ہے، "لا تقربوا الزنا" کی نہی آئی ہے، تو اس نہی کے بعد یہ حرام لعینہ ہے، یہ حرام لعینہ ہے۔ الگ سطر۔ افعال شرعیہ میں، افعال شرعیہ میں نہی آئے، تو اس میں اختلاف ہے، تو اس میں اختلاف ہے کہ یہ حرام لعینہ ہو گا یا حرام لغیرہ؟ حرام لعینہ ہو گا یا حرام لغیرہ؟ ہمارے نزدیک یہ حرام لغیرہ ہو گا۔ ہمارے نزدیک یہ حرام لغیرہ ہو گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حرام لعینہ ہو گا۔ جیسے بیع سے، سے منع کیا گیا ہے، جیسے بیع سے منع کیا گیا ہے وقت اذان جمعہ، یا جمعہ کی اذان کے وقت لکھ لیں، جیسے بیع سے منع کیا گیا ہے جمعہ کی اذان کے وقت، اور بیع فعل شرعی ہے، اور بیع فعل شرعی ہے، سو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بیع حرام لعینہ ہوئی، یہ بیع حرام لعینہ ہوئی۔ تو اور جو حرام لعینہ ہو، اور جو حرام لعینہ ہو وہ ذات کے اعتبار سے جائز نہیں ہوتا، وہ ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہیں ہوتا۔ لہذا بیع ہوئی ہی نہیں، لہذا ان کے نزدیک بیع ہوئی ہی نہیں، اور جب بیع ہوئی ہی نہیں تو مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنا، اور جب بیع ہوئی ہی نہیں، اور جب بیع ہوئی ہی نہیں تو مشتری مبیع کا مالک نہ بنا۔ اور ہمارے نزدیک یہ حرام لغیرہ ہے، حرام لغیرہ ہے۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہے، غیر کی وجہ سے، غیر کے سبب سے جائز نہیں۔ اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہے، غیر کے سبب سے جائز نہیں۔ تو اس بیع میں حرمت لغیرہ آئی، حرمت لغیرہ آئی، یعنی غیر کی وجہ سے حرمت آئی، یعنی غیر کی وجہ سے حرمت آئی۔ اور وہ غیر ترک سعی ہے۔ اور وہ غیر ترک سعی الى ذکر الله ہے۔ تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے جائز اور وصف کے اعتبار سے جائز نہیں۔ اور جب یہ بیع ذات کے اعتبار سے جائز ہوئی یعنی منعقد ہو گئی، تو اس نے ملک مشتری کا فائدہ بھی دیا۔ لہذا مشتری مبیع کا مالک بن گیا ہمارے نزدیک۔ الگ سطر لکھنا بھئی۔ دلیل امام شافعی رحمہ اللہ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہی تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے حرام ہونے کا۔ اور حرام دو قسم پر ہے: حرام لعینہ، حرام لغیرہ۔ اور کامل درجے کا حرام، حرام لعینہ ہے۔ لہذا منہی عنہ حرام لعینہ ہوگا۔ سمجھ میں آئی دلیل ان کی بھئی؟ یعنی کامل درجے کی حرمت مراد لی جائے گی، کیونکہ حرمت تو آ گئی۔ اب کس درجے کی ہے؟ تو ایک کامل ہے اور ایک ناقص ہے۔ تو لہذا اپ کس طرف پھیر دیں گے اس کو؟ کامل درجے کی طرف کہ کامل مراد لی جائے گی اس سے۔ جبکہ عند الاحناف نہی عن الافعال الحسیة تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح لعینہ ہونے کا، کہ وہ اصلاً ہی مشروع و جائز نہ ہو۔ اور نہی عن الافعال الشرعیة تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح لغیرہ ہونے کا۔ یعنی کہ وہ منہی عنہ ذات و اصل کے اعتبار سے تو مشروع ہے، البتہ وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے۔ مگر یہ کہ ان کے خلاف کوئی دلیل قائم ہو جائے۔ تو اس صورت میں فعل حسی میں نہی آنے کے باوجود وہ قبیح لغیرہ ہوگا۔ اور فعل شرعی میں نہی آنے کے بعد وہ قبیح لعینہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ انہوں نے کیا ذکر کیا؟ کہ افعال حسیہ کے اندر اگر نہی آ جائے، تو وہ منہی عنہ کیا ہوگا؟ قبیح لعینہ ہوگا۔ لیکن اگر اس کے خلاف کوئی دلیل قائم ہو جائے تو پھر یہ قبیح لغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور افعال شرعیہ کے اندر اگر نہی آ جائے، تو وہ فعل قبیح لغیرہ ہوگا۔ لیکن اگر اس کے خلاف کوئی دلیل قائم ہو جائے تو وہ قبیح لعینہ بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے، بس هذا هو المرام والله اعلم بالصواب۔
123 approved lectures · 61 of 123