Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-056

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 24 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 93
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مامور بہ، اج ہم مولانا مامور بہ کے حسن کے اعتبار سے قسمیں پڑھیں گے بھئی۔ صاحبِ کتاب آپ کو بتلائیں گے کہ جب حکم دینے والی ذات ایسی ہو جو حکیم ہو، حکمت والی ہو بھئی، تو یہ تقاضا کرتا ہے اس بات— یقیناً ایسی ذات جو ہے ایسی چیز کا حکم دے گی جس میں حسن ہو گا، جو چیز کیا ہو گی؟ اچھی ہو گی۔ جو چیز کیا ہو گی؟ اچھی ہو گی۔ کیونکہ حکم دینے والی ذات اگر حکیم ہے تو یقیناً وہ اچھی چیز ہی کا حکم دے گی، کسی قبیح چیز کا حکم نہیں دے گی۔ تو لہٰذا جب ایسی ذات نے کوئی حکم دیا جو حکیم ہے تو یقیناً اس مامور بہ میں حسن ہو گا بھئی۔ کیا پایا جائے گا؟ حسن پایا جائے گا۔ اب حسن کے اعتبار سے یہ مامور بہ دو قسم پر ہو گیا، ہوگا: ایک حسن بنفسہٖ ہے، ایک حسن بغیرہٖ ہے۔ یعنی جس میں حسن پایا جائے وہ کیا ہوئی؟ حسن ہوئی۔ تو یہ مامور بہ کیا ہوا؟ حسن ہوا۔ اب یہ حسن بنفسہٖ ہو گا یا حسن بغیرہٖ ہو گا؟ حسن بنفسہٖ وہ ہے کہ اس کی ذات ہی میں حسن پایا جائے۔ اس کی ذات ہی کیا ہو؟ حسن والی ہو۔ اور حسن بغیرہٖ وہ ہے کہ اس کی اپنی ذات میں تو حسن نہیں لیکن غیر کی وجہ سے، غیر کے واسطے سے اس کے اندر کیا آ گیا ہے؟ حسن آ گیا ہے۔ کیا بات ہوئی اب تک؟ کہ امر دینے والی ذات جب ایسی ہو جو حکیم ہو تو یقیناً وہ جس چیز کا حکم دے گی اس کے اندر کیا پایا جائے گا؟ حسن پایا جائے گا۔ وہ چیز اچھی ہو گی، وہ قبیح نہیں ہو سکتی۔ ہاں، تو معلوم ہوا ایسی ذات جب کسی چیز کا حکم دے تو یقیناً اس مامور بہ میں حسن ہو گا، تو مامور بہ میں جب حسن آیا تو وہ حسن ہوا، کیا ہوا؟ تو حسن مامور بہ کا حسن ہونا یقینی ہوا۔ اب یہ مامور بہ جو حسن ہے یہ دو قسم پر ہو گا: یا حسن بنفسہٖ ہو گا یا حسن بغیرہٖ۔ یعنی حسن بنفسہٖ کا کیا معنیٰ؟ کہ اس کی ذات ہی کے اندر کیا پایا جائے گا؟ حسن پایا جائے گا۔ اور دوسری حسن بغیرہٖ ہے، یعنی اس کی ذات میں تو حسن نہیں لیکن غیر کی وجہ سے اس کے اندر کیا آ گیا ہے؟ حسن آ گیا ہے۔ حسن بنفسہٖ کی مثال مولانا! جیسے نماز ہے۔ اللہ نے کیا حکم دیا؟ نماز پڑھو۔ اور اللہ کی ذات کیا ہے؟ حکیم ہے، تو معلوم ہوا نماز میں بھی کیا ہو گا یقیناً؟ حسن۔ اور یہاں حسن نماز کی ذات ہی کے اندر ہے، نماز کی ذات ہی، ذات ہی کے اعتبار سے حسین ہے مولانا، حسن ہے ذات کے اعتبار سے، اس لیے کہ اس میں اول تا آخر اللہ کی تعظیم کی جاتی ہے، اس کی عبادت ہے، تو یقیناً یہ کیا ہے؟ بذاتِ خود۔ اسی طرح سچ بولنا، تو یہ کیا ہے؟ حسن بنفسہٖ ہے بھئی، سچ بولنے کا حکم دیا گیا تو اس کی ذات ہی کیا ہے؟ حسن ہے، جی۔ کسی واسطے کی وجہ سے اس میں حسن نہیں آیا بلکہ یہ خود بخود ہی کیا ہے؟ حسن ہے، اس کی ذات کی حسن۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ایک وہ ہے جس میں حسن غیر کی وجہ سے آتا ہے، جیسے مثلاً جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اب جہاد اس کے اندر حسن آیا کس کی وجہ سے؟ غیر کی وجہ سے، اور وہ کیا ہے؟ اعلائے کلمۃ اللہ ہے بھئی، کلمۃ اللہ کو کیا کرنا ہے؟ بلند کرنا ہے۔ تو جہاد کی، جہاد کا بھی حکم دیا گیا، لیکن یہ حسن بنفسہٖ نہیں بلکہ یہ حسن بغیرہٖ، اس لیے کہ اس کی اپنی ذات میں حسن نہیں، جہاد کے اندر تو کیا کیا جاتا ہے؟ لوگوں کو قتل و غارت ہوتی ہے، شہر برباد ہوتے ہیں، بستیوں اجڑ جائیں گی بھئی۔ تو اس کی اپنی ذات کے اندر حسن نہیں، لیکن اس کے اندر حسن کس کی وجہ سے آیا؟ غیر کے واسطے سے حسن آیا، تو حسن تو ہے اس جہاد میں لیکن کس کے واسطے سے ہے؟ غیر کے واسطے سے حسن ہے، تو یہ کیا کہلایا؟ حسن بغیرہٖ۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب یہ یاد رکھو جو حسن بنفسہٖ ہے، وہ دو قسم پر ہے: ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال رکھتا ہے، ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال نہیں رکھتا۔ مامور بہ حسن ہے اور حسن بھی کون سا ہے؟ بنفسہٖ ہے، اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو۔ ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال رکھتا ہے، ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال نہیں رکھتا۔ دیکھو! نماز کے اندر حسن اس کی اپنی ذات ہی کی وجہ سے ہے، تو یہ حسن لغیرہٖ ہے یا حسن بنفسہٖ ہے؟ یہ حسن بنفسہٖ ہے، لیکن نماز ساقط ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ ساقط ہونے کا احتمال رکھتی ہے، کس طرح؟ جب آپ ادا کر دیں گے تو کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی یا نہیں ہو جائے گی آپ سے؟ آپ نے ظہر کی نماز پڑھ لی، تو آپ سے ساقط ہوئی یا ساقط نہ ہوئی؟ ساقط ہو گئی۔ یا مولانا! اللہ کی طرف سے حکم آ جاتا ہے کہ آپ سے نماز ساقط ہوئی، کسی وجہ سے، کسی عذر کی وجہ سے، تو بھی نماز کیا ہو جائے گی آپ سے؟ ساقط ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، مثلاً ایک عورت ہے مولانا! اس کو حیض، حیض کے ایام میں اس سے نماز کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط۔ تو نماز حسن بذاتہٖ ہے، بنفسہٖ ہے اور ساقط ہو رہی ہے، کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ حیض کے دنوں میں اس پر نماز پڑھنا واجب اور اس کی قضا وغیرہ بھی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھا! تو حسن بنفسہٖ کتنی قسم پر ہوا؟ ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال رکھتا ہو، اور ایک وہ جو ساقط ہونے کا احتمال نہ رکھتا ہو۔ جو ساقط ہونے کا احتمال نہ رکھے، وہ تو ادا ہی سے ساقط ہو گا اور کسی صورت اس میں— اور کوئی صورت نہیں، جبکہ جو سقوط کا احتمال رکھتا ہے وہ تو اس میں یا تو وہ ادا سے ساقط ہو گا یا اللہ کی جانب سے کوئی حکم آ جائے تو پھر ساقط ہو گا، ویسے ساقط نہیں ہوتا۔ حسن بنفسہٖ ہو اور سقوط کا احتمال نہ رکھے، اس کی کیا مثال ہے؟ اس کی مثال ایمان باللہ ہے، اللہ پر کیا لانا؟ ایمان لانا، یہ کسی حال میں بندے سے ساقط نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مامور بہ حسن کے اعتبار سے کتنی قسم پر؟ اول: حسن بنفسہٖ، وہ جس کی ذات ہی میں— دوسری قسم کون سی؟ جس میں غیر کے واسطے سے کیا ہے؟ اب حسن بنفسہٖ کتنی قسم پر؟ دو۔ ایک کیا؟ جو سقوط کا احتمال رکھتا ہو، دوسرا وہ جو سقوط کا احتمال نہ رکھتا ہو۔ دیکھیے بھئی! الامر بالشيء يدل على حسن المامور به. کسی چیز کا حکم دینا، یہ دلالت کرتا ہے اس مامور بہ کے حسن پر، اس کے اچھا ہونے پر دلالت کرتا ہے، اتکاب اذ كان الآمر حكيما، جبکہ آمر کیا ہو؟ حکم دینے والا حکیم ہو، لان الامر، اس لیے کہ امر جو ہوتا ہے، لبيان، وہ یہ بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، ان المامور به مما ينبغي ان يوجد، کہ مامور بہ جو ہے ان چیزوں میں سے ہے ينبغي ان يوجد کہ مناسب ہے ان کو وجود دینا۔ ان کو وجود دینا؟ بھئی، جب ایک ہزار ایک چیز حکیم دانہ ذات ایک چیز کا حکم کر رہی ہے، معلوم ہوا اس جس چیز کا حکم دیا جا رہا ہے اس میں کیا موجود ہے؟ حسن موجود ہے، اس چیز کو ہونا چاہیے، اس چیز کو ہونا چاہیے، تو جب وہ ذات حکم دے رہی ہے تو معلوم ہوا اس چیز میں حسن ہے اور اس چیز کو پایا جانا چاہیے بھئی، پایا جانا— تو یہی بات کر رہے ہیں کہ جب اس ذات حکم دے رہی ہے تو یہ حکم دینا، یہ اس کا امر کرنا کیا بیان کر رہا ہے؟ کہ یہ چیز حسن ہے، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ ہونا چاہیے، تم ایسا کرو، اس چیز کو ہونا چاہیے، یہ اچھی چیز ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنیٰ ہے، اس لیے کہ امر یہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے کہ مامور بہ مما ان چیزوں میں سے ہے ينبغي ان يوجد کہ مناسب ہے ان کا پایا جانا، ان کا پایا جانا مناسب ہے۔ فقتضى ذلك حسنه، پس اس نے تقاضا کیا مامور بہ کے حسن کا، کس نے تقاضا کیا؟ اس حکیم ہونے نے، آمر کے حکیم ہونے نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ مامور بہ کے— کہ جب وہ حکمت والی ذات ہے تو یقیناً مامور بہ بھی کیا ہو گا؟ حسن ہو گا، کیا ہو گا؟ اس میں حسن ہو گا۔ تو فقتضى تقاضا کیا، کس نے تقاضا کیا؟ حکمت الآمر بھئی، آمر کے حکیم ہونے نے، آمر کے حکیم ہونے نے تقاضا کیا حسنہ ای حسن المامور بہ، مامور بہ کے— ثم المامور به في حق الحسن نوعان، پھر مامور بہ حسن کے حق میں، حسن کے اعتبار سے دو قسم پر ہے: حسن بنفسه وحسن لغيره. فالنوع حسن بنفسه، حسن بنفسہٖ جو ہے، مثل الايمان بالله تعالى، جیسے کہ اللہ پر ایمان لانا ہے، والشور المنعم، اور نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کرنا، یہ بھی کیا ہے؟ اس کی ذات ہی کیا ہے؟ ذات ہی میں حسن ہے، ذات کے اعتبار سے اس میں حسن ہے، نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے؟ اسی طرح والصدق، سچ بھی کیا ہے؟ سچ بولنا بھی اس کی ذات ہی میں حسن ہے، ذات ہی اس کی اچھی ہے، والعدل، اور اسی طرح عدل کی ذات ہی میں کیا ہے؟ حسن ہے، والصلاة، اور اسی طرح نماز ہے، ونحوها من العبادات الخالصة. ونحوها ہونا چاہیے بھئی۔ چلیے، انہوں نے تو عطف لکھا ہے مجرور پر۔ ونحوها پڑھنا چاہیے بھئی، مثل الايمان پر، مثل پر عطف ہے۔ فالنوع حسن بنفسه ایمان باللہ کی مثل ہے ونحوها اور ان کے مثل ہے من العبادات الخالصة، کس میں سے؟ اس کی مثل یعنی کہ خالص عبادتیں جو ہیں، خالص، ان کی ذات ہی میں کیا ہے؟ حسن ہے۔ فحكم هذا النوع، پس اس نوع کا حکم یہ ہے کہ انه اذا وجب على العبد اداؤه، کہ جب یہ واجب ہو جائے بندے، جب واجب ہو جائے بندے پر اداؤہ ان کا ادا کرنا، لا يسقط إلا بالاداء، تو وہ ساقط نہیں ہو گی مگر کس کے ساتھ؟ ادا ہی کے ساتھ، وهذا، یہ اس حال میں ہے فيما لا يحتمل السقوط، جو کہ سقوط کا احتمال— میں نے بتلایا تھا نہ! ایک وہ جو سقوط کا احتمال رکھے، ایک وہ جو سقوط کا احتمال نہ رکھے، جو سقوط کا احتمال نہ رکھے وہ تو ادا ہی سے ساقط ہو گا، بغیر ادا کے ساقط— ہاں، جو سقوط کا احتمال رکھے، وہ ادا سے بھی ساقط ہو جاتا ہے اور شارع کی طرف سے کوئی حکم آ جائے پھر بھی کیا ہو جاتا ہے؟ جیسے نماز ہے، حیض نفاس والی عورتوں سے اور مجنون سے ان سے کیا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ ان اس میں ہے، اس قسم میں ہے جو سقوط کا احتمال نہ رکھے مثل الايمان بالله تعالى، جیسے کہ ایمان جیسے کہ اللہ پر— یہ کسی صورت میں ساقط— جب یہ واجب ہو گیا بندے پر تو یہ ساقط نہیں ہو گا مگر ادا کے ساتھ ہی، واما ما يحتمل السقوط، اور باقی وہ قسم جو سقوط کا احتمال رکھتی ہے، فهو يسقط بالاداء او باسقاط الآمر، تو وہ ادا سے ساقط ہو گی یا حکم دینے والے کے ساقط کر دینے کے ساتھ، وہ ساقط کر دے تو بھی کیا ہو جائے گی؟ وعلى هذا قلنا، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں اذا وجبت الصلاة في اول الوقت، کہ جب نماز واجب ہو گئی کس میں اولِ وقت؟ اس لیے کہ آپ نے پڑھا ہے نماز کا وجوب کس سے آیا کرتا ہے؟ وقت سے، تو جیسے ہی اول جز وقت کا آیا، فوراً کیا آ گیا؟ نفسِ وجوب آ گیا۔ اس میں ادا نہیں کرتا تو وہ وجوب منتقل ہوتا چلا جاتا ہے اگلے اگلے لمحے کی طرف بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی بنا پر ہم کہتے ہیں جب نماز واجب ہو گئی اولِ وقت میں سقط الواجب بالاداء، تو واجب ساقط ہو گا ادا کے ساتھ، او باعتراض الجنون والحيض والنفاس في آخر الوقت، یا جنون، حیض اور نفاس کے عارض ہو جانے کی وجہ سے، ان کے پیش آنے کی وجہ سے، جنون، حیض اور نفاس کے پیش ہو آنے کی وجہ سے فی آخر الوقت، کس میں؟ آخرِ وقت میں، باعتبار ان الشرع اسقطها، اس اعتبار کہ شریعت نے ساقط کر دیا ہے نماز کو عنہ اس شخص سے عند هذه العوارض، جبکہ یہ عوارض کیا آ جائیں؟ پیش آ جائیں، جب یہ عوارض پیش آ جائیں تو شریعت نے ان سے نماز کو کیا کر دیا ہے؟ ساقط کر دیا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو نماز کا وجوب چلتا رہا، آخر پہلے جز میں ادا نہیں کی، اگلے جز میں وجوب اگلا جز سبب بن گیا وجوب کا، اس سے اگلا جز، حتّٰی کہ آخرِ وقت آیا، اس آخرِ وقت میں بھی ابھی اس نے ادا نہیں کی تھی کہ جنون پیش آ گیا، وہ شخص کیا ہوا؟ مجنون ہو گیا، تو اب مجنون پر سے نماز کیا ہو گئی؟ کیونکہ اس مجنون پر کیوں؟ کیونکہ وجوب کا سبب کون سا وقت بن رہا تھا؟ آخری وقت، اور آخری وقت میں تو وہ صحیح ہی، تندرست ہی نہیں، وہ تو مجنون ہے، عاقل ہی نہیں، اور اس پر تو نماز بعاقل مکلف ہی— مجنون تو مکلف ہی نہیں، لہٰذا اس پر واجب بھی نہیں۔ یا آخری وقت میں عورت کو حیض آ گیا، تو یہ ظہر کی نماز جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کی تھی اب اس سے کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی۔ ولا يسقط بضيق الوقت وعدم الماء واللباس ونحوه، لیکن ساقط نہیں ہوتی یہ کیونکہ بھئی وہ حسن بنفسہٖ جو سقوط کا احتمال رکھے اس کے ساقط ہونے کی کتنی صورتیں تھیں؟ دو، یا تو ساقط ہو گا کس سے؟ ادا سے، یا کس کی وجہ سے؟ شارع کی طرف سے کیا ہو جائے اس کا؟ اسقاط آ جائے، اس کے ساقط کر دیں۔ اس کے علاوہ اور کسی عذر کی وجہ سے ساقط— مثلاً مولانا! وقت تنگ ہو گیا، ایک شخص نے نماز ظہر کی ادا نہیں کی کہ وقت اتنا تھوڑا رہ گیا ظہر کا کہ اب اس میں نماز ادا ہی نہیں ہو سکتی، تو کیا آپ کہیں گے کہ نماز اس سے ساقط ہو گئی؟ نماز اس سے ساقط نہیں، کیونکہ ان عوارض کی وجہ سے شریعت نے نماز کو ساقط— اور اس کے ساقط ہونے کے تو دو ہی طریقے تھے: یا ادا کر دے یا کیا کر دے؟ یا اللہ کی جانب سے کیا آ جائے؟ حکم آ جائے کہ اس عذر کی وجہ سے نماز کیا ہے تم سے؟ ساقط ہے، اور ضیقِ وقت کی وجہ سے آمر کی طرف سے کوئی حکم ایسا نہیں کہ یہ ایسا عذر ہو جس کی وجہ سے کہا جائے کہ اس سے نماز کیا ہو گئی؟ لہٰذا اب کیا کرے گا؟ قضا کی صورت میں اسے پڑھنا ہی پڑے گا۔ اسی طرح پانی نہیں ہے، بھئی پانی نہیں ہے، تو یہ عذر آ گیا، لیکن اس عذر کی وجہ سے جو نماز واجب ہوئی ہے وہ ساقط نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ پانی نہیں ہے وضو نہیں کر سکتا تو وضو کا خلیفہ تیمم ابھی بھی موجود ہے، تو شریعت نے پانی نہ ہونے کی صورت میں نماز کو کسی سے ساقط نہیں کیا بلکہ تیمم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کے پاس لباس ہی نہیں ہے، تو اب لباس نہ ہونے کی صورت میں شریعت نے اس سے نماز کو ساقط— بلکہ اس کو اختیار ہے کہ نماز تو پڑھنی ہی پڑے گی چاہے کھڑے ہو کر پڑھے، چاہے بیٹھ کر پڑھے، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اشارے کے ساتھ کیا کرے؟ ہاں پڑھنا پڑے گی۔ ولا يسقط بضيق الوقت وعدم الماء واللباس ونحوه، اور ساقط نہیں ہو گی وقت کی تنگی کی وجہ سے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے اور لباس نہ ہونے کی وجہ سے یا ان جیسے اور عوارض کی وجہ سے، سمجھ میں آیا؟ جیسے قبلے، ایک جگہ ہیں پر ہیں آپ، جنگل میں ہیں، اب کوئی پتہ نہیں قبلہ کس طرف ہے، کوئی صورت نہیں پتہ چلنے کی، یا کہیں پر کسی ایسی جگہ میں ہیں، تو قبلے کا پتہ نہیں، تو اس یہ تو عذر آ گیا، تو اس عذر کی وجہ سے شریعت نے نماز ساقط بلکہ شریعت نے کیا حکم دیا؟ تحری کرو اور تحری کر کے پھر کیا پڑھ لو؟ نماز پڑھ لو، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اور دوسری قسم، والثاني ما يكون حسنا بواسطة الغير، دوسری قسم کیا تھی مامور بہ حسن کی؟ جو مامور بہ حسن بغیر کی وجہ سے اس میں حسن آئے، اب یاد رکھو یہ جو غیر کی وجہ سے جس میں اس میں حسن آیا، یہ دو قسم پر ہے، یہ مامور بہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر، ایک تو وہ کہ اس مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر بھی ادا ہو جائے جس کی وجہ سے اس میں حسن آیا تھا۔ اس مامور بہ کی وجہ سے غیر بھی کیا ہو جائے؟ ادا ہو جائے، الگ کوئی فعل نہ کرنا پڑے۔ ایک وہ قسم ہے کہ جس میں اس غیر کو الگ سے باقاعدہ کرنا پڑتا ہے اس مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ ادا نہیں ہوتا، صورت سمجھ میں آئی؟ جیسے مولانا جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اب جہاد کے اندر فی ذاتہ حسن نہیں بلکہ اس میں حسن کس کی وجہ سے آیا؟ اعلائے کلمۃ اللہ کی وجہ سے آیا، تو یہ حسن بغیرہ ہوا اور حسن بغیرہ پھر کتنی قسم پر ہے؟ کہ اس مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر جس سے بھی خود بخود ادا ہو جائے، تو جہاد کرنے سے ہی اعلائے کلمۃ اللہ بھی کیا ہو گیا؟ ادا ہو گیا، اس کے لیے کوئی الگ فعل کرنا پڑے گا؟ نہیں، یہی جہاد ہی تو کیا ہے اعلائے کلمۃ اللہ ہے، جبکہ ایک وہ حسن بغیرہ ہے جس میں غیر کو باقاعدہ ادا کرنا پڑتا ہے، اس کی مثال جیسے وضو ہے بھئی، اب وضو کی ذات کے اندر کوئی حسن نہیں، وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وضو کرو نماز کے لیے، لیکن وضو تو یہ مامور بہ ہے لیکن اس کی ذات میں حسن نہیں، کیونکہ اس کے اندر تو پانی کا ضائع کرنا ہے بھئی، کیا کرنا ہے؟ پانی ضائع کر رہا ہے، اعضاء پہ بہا رہا ہے، ان کو ٹھنڈا کر رہا ہے بس، تو اس کی ذات میں کوئی حسن نہیں، لیکن اس میں حسن آیا اس کی وجہ سے غیر کی وجہ سے اور وہ کیا ہے؟ نماز ہے، کیونکہ یہ نماز کے لیے کیا ہے مفتاح ہے، چابی ہے، طہارت اس سے حاصل ہوگی، تو کیا کرو گے؟ نماز پڑھیں گے، تو نماز کی وجہ سے وضو کے اندر کیا آ گیا؟ حسن آ گیا، تو وضو کیا ہوا؟ حسن بغیرہ ہوا، نماز کی وجہ سے حسن ہوا اور یہاں مامور بہ وضو کو ادا کرنے سے نماز ادا نہیں ہو جاتی بلکہ نماز کو بعد میں باقاعدہ الگ ادا کرنا پڑتا ہے، تو وہاں اعلائے کلمۃ اللہ جہاد کے ساتھ ہی ادا ہو رہا تھا، الگ نہیں کرنا پڑتا تھا اور یہاں پر اس کو اس واسطے کو باقاعدہ الگ سے، تو جس کی وجہ سے حسن آیا یا تو وہ ساتھ ہی ادا ہو جاتا ہے یا اس کو الگ سے کرنا پڑتا ہے، دو قسمیں ہوئیں۔ تو پہلی قسم وہ ہے جس میں غیر کو باقاعدہ الگ سے کرنا پڑتا ہے، دیکھیے مثالیں۔ والنوع الثاني ما يكون حسنا بواسطة الغير، اور قسم ثانی وہ ہے جو حسن ہو غیر کے واسطے سے، وذلك مثل السعي إلى الجمعة، جیسے کہ جمعے کی طرف چلنا ہے، جمعے کی سعی کرنا ہے، تیاری کرنا اور چلنا ہے، اب بھئی چلنے کے اندر کوئی حسن ہے؟ حسن ہے فی ذاتہ؟ نہیں، فی ذاتہ اس میں حسن نہیں، لیکن چونکہ یہ پہنچانے والا ہے کس تک؟ جمعے کی ادائیگی تک، جمعے تک، لہذا اس کے اندر جمعے کی وجہ سے کیا آ گیا؟ حسن آ گیا، اور نیز اس چلنے کی وجہ سے کیا جمعہ ادا ہو گیا یا جمعہ الگ سے ادا کرنا پڑے گا؟ الگ سے ادا کرنا پڑے گا۔ مثال جس کی حسن بغیرہ کی مثال جیسے سعی ہے جمعے کے لیے، والوضوء للصلاة، اور وضو ہے نماز کے لیے، فإن السعي حسن بواسطة كونه مفضيا إلى أداء الجمعة، اس لیے کہ سعی حسن ہے کس واسطے سے؟ بواسطة كونه مفضيا، مفضیا پہنچانے والا، اس واسطے سے کہ یہ پہنچانے والا ہے إلى أداء الجمعة، کس تک؟ جمعے تک، تو جمعے کی ادائیگی تک پہنچانے کا واسطہ ہونے کی وجہ سے یہ حسن ہے۔ والوضوء حسن بواسطة كونه مفتاحا للصلاة، اور وضو حسن ہے کس واسطے سے؟ بواسطة كونه مفتاحا للصلاة، نماز کے لیے مفتاح ہونے کے واسطے سے، نماز کے لیے مفتاح کہتے ہیں چابی کو بھئی۔ وحكم هذا النوع، اس نوع کا حکم یہ ہے۔ أنه يسقط بسقوط تلك الواسطة، بھئی بسقوط کا لفظ ہے آپ کے نسخوں میں؟ ہونا چاہیے، لکھ لیجیے، یہ کتابت کی غلطی ہے رہ گیا ہے بھئی۔ بسقوط، جلدی لکھو بھئی، يسقط بسقوط، يسقط بسقوط، يسقط تو لکھا ہوا ہے، اس کے آگے بسقوط لکھو، کر لیے ٹھیک بھئی؟ اچھا، یہ دیکھیے بھئی، کیا حکم بتلا رہے ہیں بھئی؟ دیکھو، مامور بہ جو ہے مثلاً وضو ہے سعی إلى الجمعہ ہے، یہ حسن بنفسہ ہے یا حسن لغیرہ؟ حسن لغیر کی وجہ سے حسن آیا ہے، تو یہ مامور بہ کب ساقط ہوگا؟ کہہ رہے ہیں یہ اس وقت ساقط ہوگا جب وہ واسطہ ساقط ہو جائے جس کی وجہ سے اس میں حسن آیا تھا، جب وہ واسطہ ساقط ہو جائے گا تو یہ مامور بہ بھی کیا ہو جائے گا؟ اگر وہ واسطہ نہیں ساقط تو یہ مامور بہ بھی ساقط، جیسے مولانا یہ سعی کرنا واجب تھی کس کی وجہ سے؟ اس میں حسن کس وجہ سے آیا؟ جمعے کی ادائیگی کی وجہ سے کہ یہ پہنچانے والا ہے کس چیز تک؟ جمعے کی، تو جب تک جمعے کی ادائیگی ساقط نہیں ہوتی یہ سعی بھی ساقط نہیں ہوگی، جب جمعے کی ادائیگی ساقط ہو جائے گی جیسے کوئی مریض ہے یا مسافر ہے تو سعی بھی اس سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، تو ہر عاقل بالغ پر جمعے کے لیے، ہر عاقل بالغ مرد کے لیے یہ کیا تھا جمعے کے لیے سعی کرنا اس پر واجب تھا، لیکن اس کے اور یہ حسن اس میں حسن ہے لیکن حسن کس کی وجہ سے آیا؟ جمعے کی ادائیگی کی وجہ سے کہ یہ پہنچانے والا ہے کس چیز تک؟ جمعے کی ادائیگی، تو یہ جب تک وہ واسطہ جس کی وجہ سے حسن آیا وہ ساقط نہیں ہوتا، یہ مامور بہ یعنی سعی بھی ساقط، تو وہ جب ساقط ہو جائے گا جیسے مریض اور مسافر سے تو اس پر سے سعی إلى الجمعہ بھی کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، اسی طرح وضو کیا ہے مفتاح ہے کس کے لیے؟ تو وضو میں حسن آیا کس کی وجہ سے؟ نماز کی وجہ سے، تو جب تک نماز ساقط نہیں ہوگی وضو بھی ساقط نہیں ہوگا، جیسے حیض اور نفاس کی صورت میں نماز کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط، تو اس وقت وضو بھی کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وحكم هذا النوع، اس نوع کا حکم یہ ہے، أنه يسقط بسقوط تلك الواسطة، کہ یہ نوع ساقط ہو جاتی، یہ مامور بہ ساقط ہو جاتا ہے اس واسطے کے ساقط ہونے کے ساتھ، وہ واسطہ ساقط تو یہ مامور بہ بھی، وہ واسطہ ساقط نہیں تو یہ مامور بہ بھی ساقط نہیں، حتى أن السعي لا يجب على من لا جمعة عليه، یہاں تک کہ سعی واجب نہیں ہوگی اس شخص پر جس پر جمعہ واجب، کے نیچے کیا لکھا ہے؟ كالمريض والمسافر، جیسے مریض اور مسافر ہیں، ولا يجب الوضوء على من لا صلاة عليه، اور وضو واجب نہیں ہوگا اس شخص پر جس پر نماز واجب، جیسے کیا لکھا ہے؟ كالحائض والنفساء، جیسے حائضہ عورت ہے اور نفاس والی عورت ہے، ولو سعى إلى الجمعة، اگر کسی شخص نے کوشش کی سعی کی جمعے کی طرف، بھئی کیا ضابطہ بیان کیا اس قسم کا؟ کہ جب تک وہ واسطہ ساقط نہیں، یہ مامور بہ بھی ساقط، اب ایک شخص نے جمعے کے لیے چلا، مسجد میں پہنچ گیا، مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ کوئی شخص لوگ آئے، اس کو زبردستی مسجد سے اٹھایا اور دور چھوڑ کر آ گئے بھئی، دور چھوڑ کر، اب زبردستی اس کو چھوڑ کر آئے تو اب اس پر سے جمعے کی ادائیگی ساقط ہوئی؟ جمعے کی ادائیگی ساقط، لہذا سعی بھی اس سے ساقط، دوبارہ اس کو سعی کرنا پڑے گی، دوبارہ چلنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ولو سعى إلى الجمعة، اگر کسی نے سعی کی جمعے کی طرف، فحمل مكرها، پس اس کو اٹھایا گیا اس حال میں کہ وہ ہسپتال میں، مجبور تھا زبردستی اٹھایا گیا، إلى موضع آخر، دوسری جگہ تک، قبل إقامة الجمعة، جمعہ قائم ہونے سے پہلے پہلے، بھئی جمعہ ہی ہو گیا پھر تو پھر سعی تو واجب، وہ سعی تو کس لیے تھی؟ جمعے، تو اسی لیے کہا قبل إقامة الجمعة، جمعہ قائم ہونے سے پہلے، يجب عليه السعي ثانيا، تو اس پر سعی دوبارہ کرنا واجب ہوگا۔ اسی طرح بھئی جو اگر ایک شخص کیا تھا؟ اعتکاف، معتکف تھا کس میں؟ جامع مسجد کے اندر، وہاں جہاں جمعہ ادا ہوگا، اب اعتکاف معتکف جب ہیں تو وہ پہلے سے ہی وہاں موجود ہے، تو سعی إلى الجمعہ کس لیے واجب تھی بھئی؟ تاکہ جمعہ کیا ہو جائے؟ حاصل، اس کی ادا کر سکے، اور یہاں تو جمعے کی ادائیگی بغیر سعی کے ہی حاصل ہے، لہذا اس پر سعی کرنا واجب نہیں بھئی، ولو كان معتكفا في الجامع، اگر وہ معتکف تھا جامع مسجد کے اندر، يكون السعي ساقطا عنه، تو سعی اس سے کیا ہو جائے گی؟ اس لیے کہ مقصود پہلے سے ہی حاصل ہے۔ وكذلك لو توضأ، اسی طرح اگر کسی نے، بھئی وضو نماز کا وقت آئے تو وضو واجب ہو جاتا ہے، کیوں واجب ہوتا ہے؟ کہ کیا کی جائے تاکہ؟ نماز ادا کی جا سکے، اب اگر ایک شخص ہے اس نے وضو کیا نماز ادا کرنے سے پہلے اس کو حدث لاحق ہوا وضو ٹوٹ گیا، تو اب اس سے نماز ساقط ہوئی؟ جب نماز ساقط نہیں تو وہ مامور بہ جو حسن بغیرہ تھا وہ بھی ساقط نہیں، لہذا اب پھر اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا۔ وكذلك لو توضأ، اس نے وضو کیا، فأحدث قبل أداء الصلاة، اس کو حدث لاحق ہوا نماز ادا کرنے سے پہلے، يجب عليه الوضوء ثانيا، تو اس پر وضو دوبارہ واجب ہوگا، ولو كان متوضئا، اور اگر اس کے بجائے اگر وضو کرنا واجب تھا کیوں واجب تھا؟ کیونکہ وہ پہنچانے والا ہے کس چیز تک؟ نماز تک، تو اگر ایک شخص نے وضو کیا ایک نماز کے لیے اور پورا وقت اگلی نماز کا وقت آیا ابھی تک اس کا وضو ہے تو یہاں بھی مقصود حاصل ہے، مفتاح صلاۃ طہارت اس کو حاصل ہے، لہذا اب اس پر دوبارہ وضو کرنا واجب بھی نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیونکہ مقصود حاصل ہو رہا ہے۔ ولو كان متوضئا عند وجوب الصلاة، اور اگر وہ کیا تھا؟ وضو کیے ہوئے تھا نماز کے واجب ہونے کے وقت، یعنی پہلے سے ہی کیا تھا وضو کی حالت میں تھا، لا يجب عليه تجديد الوضوء، تو اس پر تجدید وضو واجب نہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ ید ید دو مرتبہ لکھا ہے، بعض نسخوں میں یہ کاٹ دیں بھئی، تجدید الوضوء لفظ ہے، وضو کو تجدید کا کیا معنیٰ؟ نئے سرے سے کرنا، دوبارہ کرنا۔ والقريب من هذا النوع، بھئی کس چیز کی بحث چل رہی ہے؟ حسن بغیرہ، اور حسن بغیرہ میں نے کیا بتایا تھا کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر، ایک وہ کہ جس میں اس مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر کو بھی ادا ہو جاتا ہے، اور ایک وہ قسم جو غیر ادا نہیں ہوتا بلکہ اس کو الگ سے، وہ دوسری قسم پہلے بیان ہو چکی کہ مامور بہ کے ادا کرنے سے جمعہ ادا نہیں ہوتا تھا، اسی طرح نماز ادا نہیں، ان کو الگ کرنا پڑتا تھا، اب وہ قسم بیان کرنے لگے ہیں جس میں مامور بہ کے ادا کرنے سے غیر بھی کیا ہو جائے؟ ادا ہو جائے، جیسے کیا تھا؟ جہاد بھئی، جہاد کریں گے تو اعلائے کلمۃ اللہ بھی کیا ہوا؟ ادا ہو گیا بھئی۔ اسی لیے اس قسم کو مصنف نے کہا والقريب من هذا النوع، اسی نوع کے قریب ہے یعنی کون سا؟ حسن بغیرہ کے قریب ہے، یہ فرق بتانے کے لیے کہ دونوں میں فرق ہے، وہاں پر کیا تھا؟ وہ دونوں علیحدہ علیحدہ تھے، یہاں وہ اسی کے ساتھ ہی کیا ہو رہا ہے؟ ادا ہو رہا ہے تو دونوں میں فرق ہے۔ والقريب من هذا النوع، اور اس نوع کے قریب ہی کیا ہے؟ الحدود والقصاص والجهاد، حدود ہیں، قصاص ہے اور جہاد ہے، تو ان میں حسن غیر کی وجہ سے آیا، فإن الحد، بھئی حد کے اندر حسن کیوں آیا؟ بھئی حد فی ذاتہ تو اس میں حسن نہیں، اس میں تو کیا کرتے ہیں آپ؟ کسی کا ہاتھ کاٹتے ہیں یا کسی کا ہاتھ اور پاؤں کاٹتے ہیں یا کسی پر کیا کرتے ہیں؟ سنگسار کرتے ہیں یا کسی کو کیا کرتے ہیں؟ کوڑے لگاتے ہیں، تو اس کے اندر تو تکلیف دینا ہے، عذاب دینا ہے، اس کی ذات میں حسن نہیں، لیکن حسن آیا اس کے اندر غیر کی وجہ سے اور وہ کیا؟ کہ اوروں کو تنبیہ ہو جائے گی بھئی اور یہ جرم نہیں کریں گے بھئی۔ فإن الحد حسن بواسطة الزجر عن الجناية، اس لیے کہ حد حسن ہے کس واسطے سے؟ الزجر کہیں ڈانٹ ڈپٹ کو، ڈانٹ عن الجناية، کس سے؟ جنایت، جرم سے، جرم سے ڈانٹ ہو جائے گی بھئی اس کے، جرم کے سے ڈانٹ ہونے کے واسطے سے اس میں حسن آیا یعنی، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح والجهاد حسن بواسطة دفع شر الكفرة وإعلاء كلمة الحق، جہاد حسن ہے کس واسطے سے؟ كفرة جمع ہے کافر کی، کافروں کے شر کو دفع کرنے کے واسطے سے اس میں کیا آ گیا؟ حسن آ گیا، اور اسی طرح إعلاء كلمة الحق کی وجہ سے جہاد میں کیا آ گیا؟ حسن آیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور اسی طرح قصاص میں بھی حسن ہے، کس وجہ سے آیا؟ غیر کی وجہ سے، اور وہ کیا؟ کہ قصاص کی وجہ سے باقیوں کو تنبیہ ہو جائے گی اور وہ قتل سے رک جائیں گے بھئی، جب پتہ ہے کہ اگر میں نے قتل کیا تو قصاص میں میری بھی گردن اڑائی جائے گی تو وہ کیا کر جائے گا؟ قتل سے رک جائے گا اور غیروں کی جانیں محفوظ ہو جائیں گی، تو قصاص میں کس کی وجہ سے حسن آیا؟ اس میں بھی حیات ہے، دوسروں کی زندگی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ولو فرضنا، اور کہتے ہیں اس قسم کا حکم یہ ہے، اس میں حسن کس کی وجہ سے آیا ہے؟ غیر کی وجہ سے، اگر وہ غیر نہ ہوگا تو یہ مامور بہ بھی باقی نہ رہے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ اگر کوئی ایسی صورت آپ فرض کر لیں کہ اعلائے کلمۃ اللہ باقی نہ ہو تو پھر جہاد بھی باقی فرض کر لیں، سمجھ میں آیا؟ مثلاً کیا ہے سارے دنیا کے لوگ مسلمان ہو گئے بھئی، دین حق پر آ گئے تو آپ مزید کہیں اعلائے کلمۃ اللہ کی ضرورت ہے؟ نہیں، اعلائے کلمۃ اللہ تو ہو چکا، تو جب اعلائے کلمۃ اللہ واجب نہ رہا تو اب جہاد بھی باقی واجب نہ رہا، اسی طرح اگر فرض کر لیا جائے کہ جرم کوئی پایا ہی نہ جائے تو اس صورت کے اندر حد بھی کیا ہوگی؟ حد کی بھی مامور بہ حد کا قائم کرنا بھی مامور بہ نہیں رہے گا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ولو فرضنا عدم الواسطة، اگر ہم فرض کر لیں واسطے کے عدم کو، واسطے کے نہ ہونے کو فرض کر لیں، لا يبقى ذلك مامورا به، تو وہ چیزیں، مذکورہ چیزیں بھی مامور بہ نہ رہیں گی، فإنه لولا الجناية لا يجب الحد، اس لیے کہ جب جنایت نہیں ہوگی تو حد بھی واجب، ولولا الكفر المفضي إلى الحراب، اور اگر وہ کفر نہ ہو المفضي جو پہنچانے والا ہو إلى الحراب، جنگوں تک، جنگ تک، لا يجب عليه الجهاد، تو امام پر جہاد کرنا بھی واجب نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ حراب مصدر ہے بھئی، حارب يحارب۔ آپ نے، آپ نے پڑھا ہے نا قاتل يقاتل مقاتلة باب مفاعلت کا ایک مصدر کیا آتا ہے؟ فعال، قتال بھی آیا کرتا ہے یہ بھی اسی طرح ہے حارب يحارب محاربة و حراب، تو وہ کفر نہ ہو جو جنگوں تک پہنچانے والا ہو یعنی ان کا شر وغیرہ نہ ہو تو جہاد بھی واجب نہیں رہے گا، چلیں مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 56 of 123