Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 24 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 82
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل آپ نے پڑھا کہ مامور بہ دو قسم پر ہے۔ بھئی ایک مطلق عن الوقت اور ایک مقید بالوقت۔ بھئی اور مطلق عن الوقت کا حکم کیا بتلایا تھا انھوں نے آپ کو کہ اس کی ادا واجب ہے علی التراخی بھئی۔ بشرطیکہ عمر بھر میں وہ فوت نہ ہو جائے۔ چنانچہ امام محمد فرماتے ہیں اگر کسی شخص نے منت مانی کس چیز کی کہ وہ ایک ماہ اعتکاف بیٹھے گا تو وہ اعتکاف جس مہینے میں بھی چاہے بیٹھ سکتا ہے۔ کیونکہ مطلق عن الوقت ہے۔ اور اسی طرح اگر کسی نے منت مانی کہ وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گا تو وہ جس مہینے میں بھی چاہے کیا کر سکتا ہے روزے رکھ سکتا ہے بھئی۔ اور اسی طرح آپ کو بتلایا تھا زکوۃ، صدقہ فطر اور عشر کے اندر مذہب معلوم یہ ہے کہ تاخیر سے بھی انسان کوتاہی کرنے والا گناہ گار نہیں ہوتا بھئی، گناہ گار نہیں ہوتا۔ دليل اس کی کیا ذکر کی تھی؟ اس لیے کہ اگر نصاب ہلاک ہو جائے تو واجب جو اس کے ذمے ہے وہ کیا ہو جایا کرتا ہے ساقط ہو جایا کرتا ہے بھئی، ساقط ہو جاتا ہے۔ واجب ساقط ہو جاتا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا صدقہ فطر کا یہ حکم نہیں وہ ساقط نہیں ہوتا باقی ساقط ہو جاتے ہیں۔ یہ دليل ہے اس بات کی کہ یہاں وجوب کیسا آیا تھا؟ مطلق عن الوقت آیا تھا بھئی۔ مامور بہ مطلق عن الوقت ہے۔ اگر مقید بالوقت ہوتا تو پھر بغیر ادائیگی کے یہ ساقط نہ ہوتا بھئی، ساقط نہ ہوتا۔ کیونکہ جو مقید بالوقت ہیں اس کے اندر تو پھر قضا ہوتی ہے اس کو ادا ہی کرنا پڑتا ہے، ہاں وہ پھر قضا کہلاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو بتلایا تھا کہ جب نماز کوئی نماز جو ہے اس کے وہ مقید بالوقت ہے بھئی۔ تو وہ جب قضا ہوئی تو قضا یہ قضا جو ہے اس کی وہ کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے جس وقت چاہے اس کی قضا کر سکتا ہے بھئی۔ تو جو قضا جب مطلق عن الوقت ہے تو وجوب کس قسم کا آیا؟ مطلق آیا بھئی۔ اور المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل بھئی۔ تو فرد کامل وجوب یعنی کامل آیا، وجوب کیا آیا؟ کامل آیا۔ تو اور کامل وجوب لہذا اس کے لیے ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل چاہیے تاکہ ادا وجوب کے مطابق ہو جائے۔ لہذا اب کامل وقت میں قضا ادا کرے گا تو ہو جائے گی اگر وہ ناقص وقت کے اندر ادا کرتا ہے تو پھر صحیح نہیں۔ اس لیے کہ وجوب تو آ رہا ہے کامل اور وقت مکروہ کے اندر جو ادا کرے گا وہ ادا کس قسم کی ہوگی؟ ناقص ہوگی تو ادا وجوب کے مطابق نہ ہوئی بھئی۔ لہذا اسی پر وہ مسئلہ بھی ذکر کیا تھا کہ عصر کی نماز اسی دن کی وہ احمرار شمس کے وقت بھی پڑھ سکتا ہے لیکن قضا نماز کسی اور عصر کی گزشتہ کوئی عصر کی نماز قضا تھی وہ اس وقت احمرار شمس کے وقت نہیں، کیونکہ وہ تو قضا تھی اور قضا میں کیا وہ قضا کیا ہوتی ہے؟ مطلق عن الوقت اور جب تو وجوب بھی کیسا آیا؟ مطلق عن الوقت آیا تو وجوب مطلق آیا اور جب مطلق المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل تو کس قسم کا وجوب آیا؟ کامل وجوب آیا اور لہذا ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل چاہیے تو ناقص میں ادا کریں گے تو ادا کامل نہ ہوئی بلکہ ادا کیا ہو گئی؟ ناقص ہو گئی تو ادا وجوب کے مطابق نہ ہوئی لہذا صحیح نہیں۔ لیکن اگر اسی دن عصر کی نماز ادا کرتا ہے احمرار شمس کے وقت تو یہ جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جائز ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے بھئی۔ اور جیسے ہی ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے تو جیسے ہی وقت آیا آپ پر کیا آ گیا فوراً نفس وجوب آ گیا اور پھر امر متوجہ ہوا کہ نماز ادا کرو۔ تو وجوب کس وقت کی وجہ سے آیا؟ وہ جو وقت نماز کے ساتھ متصل ہے۔ اگر اس میں آپ ادا نہیں کرتے تو پھر جیسے ہی اگلا لمحہ آتا ہے وہ اس سے نفس وجوب آ جائے گا۔ اس میں بھی ادا نہیں کیا تو اس سے اگلے میں تو یہ وجوب چلتا جائے گا آگے جوں جوں وقت بڑھتا چلا جائے گا۔ جو جو نماز کا متصل وقت ہے اس سے کیا آتا ہے؟ نفس وجوب اور وہ وقت اگر کامل ہوگا تو وجوب بھی کیسا آئے گا؟ کامل آئے گا اور اگر وہ وقت ناقص ہے تو وجوب تو اسی کی وجہ سے آ رہا ہے تو وجوب بھی کس قسم کا آئے گا؟ تو عصر کا یہ آخری وقت کیا ہے بھئی؟ ناقص ہے تو اب عصر ادا نہیں کی کسی نے وقت گزرتا چلا گیا یہاں تک کہ ناقص وقت آیا تو اب وجوب کا سبب کون سا وقت ہے؟ یہ ناقص وقت ہے۔ لہذا اب اس وقت میں عصر کی نماز اس نے پڑھنا شروع کی تو اب یہ ادا بھی کس قسم کی ہے؟ ناقص ہے تو وجوب بھی ناقص آیا تھا ادا بھی کیا ہوئی؟ ناقص ہوئی لہذا ادا ہو جائے گی، ادا کیا ہے؟ ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جب کہ تو ہمارے نزدیک مولانا مطلق عن الوقت کا مامور بہ جو مطلق عن الوقت ہو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ واجب ہے علی التراخی۔ جب کہ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ امر جو مطلق عن الوقت ہو اس میں واجب کیا ہے؟ علی الفور ہے۔ اس میں ادائیگی کیا ہوگی؟ علی الفور واجب ہوگی، علی الفور واجب ہوگی۔ دليل کیا ذکر کی؟ ہو سکتا ہے فوراً ہی ادا کرے، ہو سکتا ہے بھئی بعد میں زندہ ہی نہ رہے تو واجب اس کے ذمہ رہ جائے گا، گناہ گار ہوگا، فوراً ہی ادا کرے بھئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی آپ بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ امر کون سا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے۔ تو اب اگر ہم یہاں پر واجب علی الفور اس کو قرار دے دیں تو پھر تو یہ مطلق نہ رہے گا بلکہ کیا بن جائے گا؟ مقید بن جائے گا، مقید بن جائے گا۔ اور دوسرا یہ کہ یہاں پر جو اس کو مطلق عن الوقت ہے اس دوسری دلیل بھئی۔ مطلق عن الوقت شریعت نے اس کو کیوں رکھا ہے؟ تاکہ بندے کے لیے آسانی ہو بھئی۔ تو اگر اس کو علی الفور ہم واجب قرار دے دیں پھر تو آسانی نہیں ہوگی بلکہ کیا پیش آ جائے گی؟ بندے کے لیے مشکل ہو جائے گی بھئی۔ تو باقی کہتے ہیں یہ اختلاف جو ان کے ساتھ ہے وجوب کے اندر ہے بھئی۔ کس کے اندر ہے؟ وجوب کے اندر ہے باقی مستحب تو ہمارے نزدیک بھی یہی ہے کہ یہ اس کو کیا کرنا چاہیے؟ فوری ادا کرنا چاہیے، فوری ادا کرنا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ان کے نزدیک فوری ادا کرنا واجب، ہمارے نزدیک فوری ادا کرنا مستحب ہے، مستحب ہے۔ تو ان کے نزدیک اگر فوری واجب ادا نہیں کرتا تو فوری ادا نہیں کرتا تو اس صورت میں کیا ہوگا؟ گناہ گار ہوگا لیکن یہ گناہ کس قسم کا ہوگا؟ موقوف رہے گا۔ جب بھی ادا کر دے گا یہ گناہ کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں والخباف معہ فی الوجوب اختلاف ان کے ساتھ کس چیز میں ہے؟ وجوب میں ہے ولا خلاف فی أن المسارعة إلى الائتمار مندوب إليها اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جلدی کرنا إلى الائتمار حکم ماننے کی طرف مندوب إليها یہ مسارعت کیا ہے؟ مستحب ہے، مندوب ہے ہمارے نزدیک بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، یہ إليها یہ ہا ضمیر بھئی نائب فاعل ہے مندوب کے لیے بھئی۔ یہ راجع ہے مسارعت کو بھئی۔ کس کو راجع ہے؟ مسارعت کو راجع ہے۔ تو إلی جارا ہے ہا ضمیر مجرور ہے اور مجرور ہے تو مجرور محل قریب اس کا کیا ہے؟ مجرور اور محل بعید کیا ہے؟ مرفوع ہے کیونکہ نائب فاعل ہے مندوب کے لیے۔ کیا ہے؟ جی، یہ نائب فاعل ہے اس کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ مندوب اسم مفعول کا صیغہ ہے نا اور وہ کس کا تقاضا کرتا ہے؟ اس کے لیے کیا چاہیے؟ نائب فاعل چاہیے تو نائب فاعل یہ إليها آگے آ رہا ہے۔ وأما المؤقت باقی مامور بہ موقت، یہ تو تھا مطلق عن الوقت دوسرا کیا ہے؟ مقید بالوقت۔ اس کو اب بیان کرنے لگے ہیں تو وہ موقت ہے بھئی وقت۔ تو بھئی مقید بالوقت یا موقت کس کو کہتے ہیں؟ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر کیا ایسا وقت کہ اس وقت کے فوت ہو جانے سے مامور بہ بھی کیا ہو جائے؟ فوت ہو جائے۔ اس وقت میں ادا کرتا ہے تو یہ ادا کہلائے گا اس وقت کے بعد کرتا ہے تو یہ کیا کہلائے گا؟ قضا کہلائے گا فوت ہو چکا ہے وہ قضا ہے بھئی۔ اب یاد رکھو یہ مامور بہ موقت جو ہے یہ دو قسم پر ہے۔ ایک وہ جس کے لیے وقت ظرف ہو، ایک وہ جس کے لیے وقت معیار ہو بھئی۔ ایک وہ جس کے لیے وقت کیا ہو؟ ظرف ہو، ایک وہ جس کے لیے وقت کیا ہو؟ معیار۔ بھئی ظرف وقت ظرف ہونے کا یہ معنی ہے کہ مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد بھی وقت بچ جاتا ہو۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ مامور بہ کو ادا کر دیں پھر بھی وقت بچ جائے تو یہ کیا ہوا؟ وقت اس کے لیے ظرف ہوا اور اگر مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد وقت نہیں بچتا تو یہ وقت اس کے لیے معیار ہوا۔ اگر مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد وقت بچ جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ وقت اس کے کیا ہے؟ وقت اس کے لیے ظرف ہے اور اگر مامور بہ کو ادا کرنے کے بعد وقت زائد نہیں بچتا بلکہ وہ مامور بہ پورے وقت کو گھیر لیتا ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے کہ وقت اس کے لیے معیار ہے، معیار ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ مامور بہ وہ چیز جس کا حکم دیا جائے مثلاً ایک نماز ہے، ایک ہے روزہ۔ نماز میں دیکھیں نماز کا وقت ظہر کی نماز کا وقت کتنا طویل ہے۔ کیا نماز ادا کرنے کے بعد اس وقت میں کیا زائد وقت بچتا ہے یا نہیں بچتا؟ بچتا ہے۔ تو ظہر کی نماز جو ہے یہ مقید بالوقت ہے اور وقت اس کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے یا معیار ہے؟ ظرف ہے کیونکہ مامور بہ یعنی اس نماز کو ادا کرنے کے بعد بھی وقت کیا ہے؟ زائد تمام نمازوں میں اسی طرح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور ایک وہ ہے کہ جس میں مامور بہ کو ادا کریں تو وقت زائد بچتا ہی نہیں جیسے روزہ ہے۔ روزے کے لیے وقت کیا ہے؟ دن۔ روزے کے لیے وقت بھئی رمضان کا روزہ ہے اس کے لیے وقت متعین کر دیا تو یہ اب دن ہے اور اب آپ بتائیے جب دن میں روزہ رکھا صبح صادق سے غروب تک تو کیا دن کا کوئی جز باقی بچا؟ یا روزے نے سارے کا احاطہ کر لیا؟ سارے کا کیا کر لیا؟ تو دیکھا مامور بہ روزہ بھی ہے، مامور بہ نماز بھی ہے اور دونوں موقت ہیں، وقت متعین ہے لیکن ایک میں وقت زائد بچ جاتا ہے دوسرے میں وقت زائد نہیں بچتا۔ چلیے اب دیکھیے بھئی۔ وأما المؤقت فنوعان باقی مامور بہ موقت جو ہے یعنی جس کے لیے وقت متعین ہو فنوعان وہ دو قسم پر ہے نوع يكون الوقت ظرفاً للفعل ایک وہ نوع ہے کہ جس میں وقت کیا ہو؟ فعل کے لیے ظرف ہو حتى لا يشترط استيعاب كل الوقت بالفعل یہاں تک کہ شرط نہیں لگائی جاتی استیعاب کا معنی گھیرنا، گھیرنا، احاطہ کرنا۔ سارے وقت کا احاطہ کرنا بالفعل کس کے ساتھ بھئی؟ فعل، بھئی وہ جو مامور بہ ہے بھئی، وہ جو عبادت آپ پر لازم ہوئی ہے جس کا ادا کرنا وہ فعل مراد ہے۔ وہ فعل عبادت تو وہ سارے وقت کو گھیرنے کی فعل کے ساتھ اس کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً دیکھیے بھئی ظہر کی نماز کیا ہے؟ اس کے لیے وقت ظرف ہے یا معیار ہے؟ اس کے لیے وقت کیا ہے؟ ظرف ہے۔ تو لہذا تو کے ادا کرنے کے بعد بہت سا وقت بچ جاتا ہے۔ تو اس میں یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ ظہر کی نماز اس طرح ادا کرو کہ پورے وقت کا وہ احاطہ کر لے۔ یہ شرط یہ نہیں کہا جائے گا کہ ظہر کا وقت تو ہے مثلاً مولانا ساڑھے بارہ سے شروع ہوتا ہے پانچ بجے تک مثلاً یا ساڑھے چار تک ہے مثلاً تو اب یہ معنیٰ یہ شرط یہ کہ یوں نہیں کہا جائے گا کہ ٹھیک جیسے ہی ساڑھے بارہ ہوتے ہیں نماز شروع کر دو۔ اور یہ چار رکعتیں آپ نے پڑھنی ہیں اور کب تک پڑھتے چلے جاؤ یہ؟ عصر تک بھئی، اتنی طویل نماز پڑھو کہ سارے وقت کا کیا کر لے؟ یہ شرط لگائی گئی ہے بھئی؟ نہیں، یہ شرط نہیں لگائی کیونکہ وقت اس کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے بھئی۔ تو لہذا شرط نہیں لگائی جائے گی پورے وقت کو گھیرنے کی بالفعل کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ كالصلاة جیسے کہ کیا ہے؟ نماز ہے۔ اب آگے اس کے حکم بیان کرنے لگے ہیں بھئی مامور بہ موقت کی بات چل رہی ہے جس کے لیے وقت کیا ہو؟ ظرف ہو۔ تین حکم بتلائیں گے اس کے۔ دیکھیے، ومن حکم هذا النوع اور اس نوع کے حکم میں سے ہے أن وجوب الفعل فيه کہ اس کے اندر فعل کا واجب ہونا لا ينافي وجوب فعل آخر فيه یہ منافی نہیں ہے اس بات کے کہ کوئی اور فعل بھی واجب ہو اسی وقت کے اندر من جنسه اسی فعل کی جنس میں سے۔ اسی فعل کے بھئی دیکھیے! ظہر کے وقت میں کیا واجب ہے آپ پر؟ ظہر کی نماز، لیکن یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی اور نماز بھی آپ ادا کر لیں بھئی۔ کیا کوئی اور نماز بھی کوئی اور نماز بھی اپنے اوپر آپ واجب کر لیں یہ اس بات کے منافی نہیں کیونکہ ظہر کی نماز کے لیے وقت کیا ہے؟ ظرف ہے، ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد وقت کیا ہے؟ بچ جاتا ہے۔ لہذا اس اس وقت کے اندر اسی کی جنس میں سے یعنی نماز ہی کی جنس میں سے یعنی نماز ہی کوئی آپ اپنے اوپر کیا کر لیں؟ واجب کر لیں یہ اس بات کے منافی تو یہ مامور بہ اس کے منافی نہیں ہے بھئی۔ اس یعنی اسی وقت میں اور نمازیں بھی آپ اپنے اوپر واجب کر سکتے ہیں۔ مثلاً آپ نے منت مانی کہ اے اللہ! اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں ظہر کے وقت میں دس رکعات نفل پڑھوں گا۔ آپ کا وہ کام ہو گیا اب آپ پر ظہر کے وقت میں کتنے نفل پڑھنا واجب ہو گئے؟ 10 نفل پڑھنا واجب ہو گئے، لازم ہو گئے آپ پر بھئی۔ تو دیکھا! اس وقت کے اندر تو ظہر کی نماز بھی فرض تھی لیکن چونکہ اس کو ادا کرنے کے بعد وقت بچ جاتا ہے تو اس قسم کے جب وقت ظرف ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے اندر آپ اپنے اوپر اسی کی جنس میں سے، کس کی جنس میں سے؟ نماز کی جنس میں سے بھئی، نماز تھی نا مامور بہ کیا تھا؟ نماز، اسی کی جنس میں سے کوئی اور فعل بھی اپنے اوپر کیا کر سکتے ہیں؟ واجب کر سکتے ہیں، یہ اس کے منافی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ باخلاصہ حکم یہ کہ آپ اپنے اوپر کوئی اور بھی نماز واجب کر سکتے ہیں، یہ حکم ہے اس کا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ومن حکم هذا النوع اور اس نوع کے حکم میں سے یہ ہے أن وجوب الفعل فيه کہ اس کے اندر فعل کا واجب ہونا، بھئی دیکھو اس ظہر کے وقت میں کون سی نماز واجب ہے آپ پر؟ ہاں تو ظہر کی نماز کا واجب ہونا اس کے اندر لا ينافي وجوب فعل آخر یہ منافی نہیں ہے کسی اور فعل کے کے واجب ہونے کے، آپ کوئی اور نماز بھی اپنے اوپر کیا کر سکتے ہیں؟ واجب کر سکتے ہیں فيه اس وقت میں من جنسه اسی نماز کی جنس، حتى لو نذر یہاں تک کہ اگر کسی نے منت مانی أن يصلي كذا وكذا ركعة في وقت الظهر لزمه کہ وہ اتنی اتنی رکعات نماز پڑھے گا ظہر کے وقت میں لزمه تو یہ کیا ہو جائے گی اس پر؟ تو ظہر کے وقت میں ہی اس پر پڑھنا لازم ہو جائے گا کیونکہ ظہر کے وقت میں ظہر کی نماز کا واجب ہونا یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ کوئی اور نماز بھی آپ اپنے اوپر واجب نہ کر سکیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَمِنْ حُکْمِہِ دوسرا حکم یہ ہے۔ وَمِنْ حُکْمِہِ اَنَّ وُجُوْبَ الصَّلٰوۃِ فِيْهِ لَا یُنَافِيْ صِحَّۃَ صَلٰوۃٍ اُخْرٰى، کہ اس وقت میں کون سی نماز واجب ہے؟ ظہر کی۔ تو ظہر کی نماز کا ظہر کے وقت میں واجب ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ کوئی اور نماز اس وقت میں نہیں ہو سکتی۔ کوئی اور نماز بھی اس وقت میں ہو جائے بھئی، کوئی اور وقت بھی کوئی اور نماز بھی آپ اس وقت میں تو آپ اس وقت میں اور نمازیں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں پڑھ سکتے؟ تو دیکھو ظہر کی نماز اس وقت میں واجب ہے، لیکن یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ کوئی اور نماز بھی اس وقت میں پڑھی جائے، کوئی اور نماز بھی کیا کی جا سکتی ہے اس وقت میں؟ پڑھی جا سکتی ہے۔ کہ اس وقت کے اندر نماز کا وجوب جو ہے لَا یُنَافِيْ یہ منافی نہیں ہے صِحَّۃَ صَلٰوۃٍ اُخْرٰى فِيْهِ کسی دوسری نماز کے صحیح ہونے کا فِيْهِ اس وقت کے اندر بھئی۔ حَتّٰی لَوْ شَغَلَ جَمِیْعَ معلوم ہوا کوئی اور نماز بھی آپ اس وقت میں پڑھ سکتے ہیں۔ ظہر کی نماز تو اس وقت میں واجب ہے، لیکن اگر آپ کوئی اور نماز بھی پڑھیں تو وہ نماز بھی کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی کیونکہ وقت اس کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، جب ظرف ہے تو زائد وقت بچ جاتا ہے، تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اور نماز بھی اس وقت میں پڑھ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں۔ تو مثلاً اب آپ کیا کرتے ہیں ظہر کے وقت کے اندر نوافل پڑھنا شروع کرتے ہیں، قضا نمازیں پڑھنا شروع کرتے ہیں، تو کیا کر سکتے ہیں؟ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں پڑھ سکتے؟ پڑھ سکتے ہیں، یہ منافی نہیں ہے اس کے بھئی۔ حتیٰ کہ اگر آپ نے سارا ظہر کا وقت نفلوں میں گزار دیا یا قضا نمازوں میں گزار دیا، تو یہ بھی صحیح ہے، وہ قضا نمازیں ہو جائیں گی، وہ نفل کیا ہیں؟ ہو جائیں گے، کیونکہ ظہر کی نماز کا اس وقت میں واجب ہونا کسی دوسری نماز کے صحیح ہونے کے منافی، باقی نمازیں بھی ہو جائیں گی، جب باقی ہو جائیں گی تو کوئی پڑھتا ہی چلا گیا شروع سے آخر تک سارا وقت کیا کرتا رہا؟ نفل پڑھتا رہا یا سارا وقت کیا ہے؟ بس ضابطہ یہ بتلا دیا اور نمازیں بھی اس وقت میں صحیح ہو جائیں گی۔ اب چاہے سارے وقت میں اور نمازیں پڑھتے رہے، ظہر کی نماز ہی نہ پڑھے، تو بس ساری نمازیں اس کی کیا ہیں؟ صحیح ہو جائیں گی، ہاں ظہر کی نماز چھوڑنے کا گناہ الگ ہو گا کہ اس نے اس کو قضا کیا، لیکن باقی نمازوں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ ہو جائیں گی بھئی۔ حَتّٰی لَوْ شَغَلَ جَمِیْعَ وَقْتِ الظَّہْرِ جَمِیْعَ وَقْتِ الظَّہْرِ لِغَیْرِ الظَّہْرِ یَجُوْزُ، یہاں تک کہ اگر اس نے مشغول کر دیا سارے وقتِ ظہر کو غیرِ ظہر کے لیے، غیرِ ظہر میں مشغول کر دیا یَجُوْزُ تو کیا ہے؟ یعنی سارے وقت میں غیرِ ظہر ادا کرتا رہا تو بھی جائز ہے، یعنی وہ نمازیں ہو جائیں گی، ہاں ظہر کی نماز چھوڑنے کا گناہ الگ، وہ الگ بات ہے، لیکن بات یہ ہے کہ باقی ہوں گی یا نہیں؟ کہتے ہیں باقی ہو جائیں گی بھئی۔ وَمِنْ حُکْمِہِ یہاں سے تیسرا حکم بیان کر رہے ہیں: اَنَّہٗ لَا یَتَاَدَّى الْمَاْمُوْرُ بِہِ اِلَّا بِنِیَّۃٍ مُعَیَّنَۃٍ، کہ مامور بہ ادا نہیں ہو گا مگر نیتِ متعینہ کے ساتھ بھئی، یعنی نیت متعین کرنا پڑے گی، نیت کیا کرنا پڑے گی؟ آپ کو نماز ادا کرنے لگے ہیں ظہر کے وقت میں، تو پہلے نیت کرنا پڑے گی کہ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں، نفل پڑھ رہے ہیں، قضا پڑھ رہے ہیں یا آج کے دن کی ظہر پڑھ رہے ہیں بھئی۔ نیت کے ساتھ متعین کرنا ضروری ہو گا کون سی نماز آپ پڑھنے لگے ہیں۔ یہ کیوں متعین کرنا کیوں ضروری ہے؟ کہتے ہیں اس لیے دیکھو ابھی ہم نے آپ کو بتایا کہ اس وقت کے اندر اور نمازیں بھی آپ پڑھ سکتے ہیں، جب اور نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں، ظہر کی اپنی بھی تو پڑھنی ہے، اور بھی پڑھ سکتے ہیں، تو مقابل آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ تو جب آپ ادا کرنے لگے ہیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا، نیت نہیں کرتے کہ کون سی پڑھنے لگے ہیں، ظہر پڑھنے لگے ہیں، نفل پڑھنے لگے ہیں یا پھر قضا پڑھنے لگے ہیں یا کیا کرنے لگے ہیں؟ نذر منت کے جو واجب اپنے اوپر کیے ہیں وہ پڑھنے لگے ہیں، تو بغیر نیت کے پتہ ہی نہیں چلے گا کیونکہ ساروں کا اس وقت میں ادا کرنا صحیح ہے بھئی، سب کا کیا ہے ادا کرنا؟ صحیح ہے، تو بغیر نیت کے تعین ہی نہیں ہو گا، نیت کے ذریعے تو پتہ چلے گا کہ اب آپ کون سی پڑھنے لگے ہیں، کیونکہ پڑھنا تو سب کا صحیح تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نیت سے متعین کریں گے کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو صرف نماز کے لیے یاد رکھو مولانا نیت کرنا ضروری ہے بھئی، بغیر نیت کے، کیونکہ عبادت ہے اور اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ نیت ضروری ہے بھئی۔ اور لیکن تعداد وغیرہ یہ متعین کرنا ضروری نہیں ہے، بس صرف یہ نیت کی کہ میں کیا کرنے لگا ہوں؟ ظہر کی نماز پڑھنے لگا ہوں، بس بھئی، باقی تو معلوم ہی ہے کہ ظہر کی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں؟ چار ہوتی ہیں۔ کدھر گیا بھئی؟ وَمِنْ حُکْمِہِ اور اس قسم کا حکم یہ ہے مولانا: اَنَّہٗ لَا یَتَاَدَّى الْمَاْمُوْرُ بِہِ اِلَّا بِنِیَّۃٍ مُعَیَّنَۃٍ، کہ مامور بہ ادا نہیں ہو گا مگر نیتِ متعینہ کے ساتھ، یعنی متعین نیت کے ساتھ۔ لِاَنَّ غَیْرَہٗ لَمَّا کَانَ مَشْرُوْعًا فِی الْوَقْتِ، اس لیے کہ اس مامور بہ کے علاوہ، اس کا غیر بھی لَمَّا کَانَ مَشْرُوْعًا جب وہ بھی جائز ہے، اس کی وہ بھی مشروع کا کیا معنیٰ؟ جب اس کی بھی اجازت ہے فِی الْوَقْتِ اسی وقت کے اندر، لَا یَتَعَیَّنُ ھُوَ بِالْفِعْلِ، تو وہ بالفعل متعین متعین ہو رہا ہے، جیسے ظہر کا وقت میں آپ نیت باندھنے لگے ہیں تو کوئی متعین ہے آپ ظہر کی پڑھ رہے ہیں؟ جی؟ نہیں، اور بھی تو پڑھ سکتے ہیں، نفل بھی تو پڑھ سکتے ہیں، تو جب تک نیت کے ساتھ تعئین نہیں کریں گے ظہر کی نماز نہیں ہو گی بھئی۔ جب غیر بھی جائز ہیں اس وقت کے اندر، تو ظہر کی نماز متعین نہیں ہو گی بالفعل۔ وَاِنْ ضَاقَ الْوَقْتُ، اگرچہ وقت تنگ ہو جائے، اگرچہ وقت کیا ہو جائے؟ سوال، یہ دیکھو، سوال یہ پیدا ہوا کہ بھئی دیکھو آپ نے کیا کہا؟ مثلاً ظہر کا وقت ہے بھئی، کسی بھی نماز کا وقت آپ اس طرح لگا لیں، ظہر کا وقت ہے، ظہر کے وقت میں آپ نے کیا کہا؟ نیت کے ساتھ تعین کرنا ضروری ہے کہ میں کون سی نماز ادا کرنے لگا ہوں؟ کیونکہ یہ مامور بہ موقت ہے اور وقت اس کے لیے ظرف ہے اور اس کے اندر اور نمازیں بھی ادا کر سکتا ہے، جب اور ادا کر سکتا ہے تو مزاحم اور مقابل موجود ہیں، تو جب ادا کرے گا جب تک تعین نہیں کرے گا پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ کس چیز کو ادا کر رہا ہے، لہٰذا نیت کے ساتھ تعین کرنا، تو اب ایک شخص ہے اس کے ظہر کا وقت آیا، اس نے نماز ظہر کی ادا نہیں کی حتیٰ کہ آخری چار پانچ منٹ رہ گئے بھئی، آخری چار پانچ منٹ ظہر کے، کہتے ہیں بھئی اب تو وقت بڑا تنگ رہ گیا، اب تو اس وقت میں ظہر کے علاوہ اور نفل وہ پڑھ ہی نہیں سکتا، جب اس وقت میں ظہر کے علاوہ اور نفل نہیں پڑھ سکتا، تو اس وقت تو کم از کم نیت کا ساتھ تعین کرنا ضروری نہیں ہونا چاہیے، نیت کے ساتھ تعین کرنا کیونکہ اب تو وقت ہی اتنا بچا ہے جس میں صرف کس کو ادا کر سکتا ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے اشکال؟ کہ تو اس وقت تو نیت کا تعین نہیں ہونا چاہیے، کہتے ہیں نہیں بھئی، اس وقت بھی نیت کے ساتھ اس کا تعین کرنا ضروری ہے، کیونکہ ضابطہ ہم نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس وقت کے اندر کے اندر کوئی اور بات، کوئی اور نماز بھی ادا کر سکتا ہے، تو اب وقت اگرچہ تھوڑا ہے لیکن مزاحم اب بھی موجود ہے، اب بھی کوئی اور نماز وہ ادا کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ آپ کو بتلایا نہیں تھا بھئی، سارا وقت اگر کوئی نفل پڑھتا رہے تو نفل کیا ہو جائیں گے؟ صحیح ہو جائیں گے، تو اگرچہ وقت تنگ ہے لیکن پھر بھی مزاحم موجود، اور نماز نفل بھی اس وقت ادا کر لے گا تو وہ نفل بھی کیا ہو جائیں گے؟ صحیح ہو جائیں گے، جب وہ نفل صحیح ہو جائیں گے معلوم ہوا مقابل ابھی بھی موجود ہے۔ مقابل ابھی بھی موجود، تو جب، جب بغیر تعین کے اب ظہر کی نماز اب بھی ادا نہیں ہو گی، اگرچہ وقت تنگ ہو جائے، مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَاِنْ ضَاقَ الْوَقْتُ، اگرچہ وقت کیا ہو جائے؟ تنگ ہو جائے۔ تو اس لیے کہتے ہیں تو یہ ماقبل سے تعلق ہے، و وصلِیّہ ہے بھئی، اِن اِن وصلیہ ہے بھئی، ان وصلیہ، ان وصلیہ سے پہلے و آتا ہے بھئی۔ اس لیے دیکھو دوبارہ سنو بھئی، لِاَنَّ غَیْرَہٗ لَمَّا کَانَ مَشْرُوْعًا فِی الْوَقْتِ، اس لیے کہ غیرِ مامور بہ بھی جب جائز ہے اس وقت کے اندر، لَا یَتَعَیَّنُ ھُوَ بِالْفِعْلِ، تو متعین نہیں ہوتا مامور بہ بالفعل بھئی، وَاِنْ ضَاقَ الْوَقْتُ، اگرچہ وقت کیا ہو؟ تنگ ہی کیوں نہ ہو۔ لِاَنَّ اعْتِبَارَ النِّیَّۃِ بِاعْتِبَارِ الْمُزَاحِمِ، اس لیے کہ نیت کا اعتبار کیوں ضروری ہے بھئی؟ نیت کا کیوں اعتبار کیا جاتا ہے؟ مزاحم کے اعتبار سے، کس کے اعتبار سے؟ بھئی مزاحم موجود ہے، مقابل موجود ہے، نفل بھی پڑھا جا، پڑھے جا سکتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ قضا بھی پڑھی جا سکتی ہے اور وہ وقتی نماز بھی پڑھی جا سکتی ہے، تو مزاحم موجود، جب مزاحم موجود ہے تو اب کیا ضروری ہے؟ نیت کا کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ اعتبار نیت کا اعتبار جو ہے بِاعْتِبَارِ الْمُزَاحِمِ مقابل کے اعتبار سے ہے، وَقَدْ بَقِیَتِ الْمُزَاحَمَۃُ عِنْدَ ضِیْقِ الْوَقْتِ، اور مزاحمت تو اب بھی باقی ہے وقت کے تنگ ہونے کے وقت بھی بھئی، ضیق کا کیا معنیٰ؟ تنگی۔ وقت کی تنگی کے وقت بھی کیا ہے مزاحمت اب بھی باقی ہے، جب مزاحمت باقی ہے تو تعین کرنی پڑے گی۔ وَالنَّوْعُ الثَّانِيْ مَا یَکُوْنُ الْوَقْتُ مِعْیَارًا لَّہٗ بھئی، اور موقت کی قسمِ ثانی کون سی ہے؟ کہ جس کے لیے وقت کیا ہو؟ معیار ہو، معیار ہونے کا کیا معنیٰ میں نے بتلایا؟ کہ مامور بہ کی ادائیگی کے بعد وقت بچتا ہی نہ ہو، وقت اس کے لیے معیار، معیار اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے دوسری چیز کا اندازہ لگایا جائے بھئی، معیار کسے کہتے ہیں؟ جس چیز کے ذریعے دوسری چیز کا اندازہ لگایا جائے، تو یہاں پر بھی مولانا روزے کا اندازہ دن سے لگایا جاتا ہے، دن لمبا ہے تو روزہ بھی لمبا، دن چھوٹا ہے تو روزہ بھی چھوٹا ہے بھئی، تو وقت اس کے لیے معیار ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یاد رکھو وہ مامور بہ جس کے لیے وقت معیار ہو، یہ پھر دو قسم پر ہے بھئی، یہ بھی ایک مقید بالوقت ہے، ایک مطلق عن الوقت ہے بھئی۔ وہ مامور بہ جس کے لیے وقت کیا ہو؟ معیار ہو، یہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر، ایک وہ قسم جس کے لیے کیا ہو؟ جو مقید بالوقت، جیسے رمضان کا روزہ ہے مولانا، اس کے لیے وقت متعین ہے، یہ کس وقت ادا کرنا پڑے گا؟ جی؟ اسی رمضان کے مہینے میں، اور ایک ہے رمضان کی قضا، رمضان میں آپ بیمار ہو گئے، دو چار روزے رہ گئے، اب آپ کو کیا کرنے پڑیں گے اس کے؟ یہ بھی آپ کے ذمے میں واجب ہیں اور وقت اس کے لیے معیار ہے، لیکن یہ ہے قضا اور قضا کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے، جب بھی کوئی وقت متعین ہے کہ فلاں وقت رمضان کی قضا کرنا پڑے گی سارے سال میں؟ کوئی وقت مقرر مقرر نہیں، شریعت نے اس کو مطلق رکھا ہے، تو دیکھو روزہ بھی دو قسم پر ہوا بھئی۔ تو وہ عبادت جس کے لیے وقت کیا ہو؟ معیار ہو، وہ کتنی قسم پر ہوئی؟ دو، ایک مقید بالوقت اور ایک مطلق عن الوقت، مقید بالوقت کے کیا مثال ہے؟ رمضان کا روزہ، اور مطلق عن الوقت کے کیا مثال ہے؟ قضا روزہ بھئی، رمضان کا قضا روزہ بھئی۔ وَالنَّوْعُ الثَّانِيْ مَا یَکُوْنُ الْوَقْتُ مِعْیَارًا لَّہٗ، دوسری قسم مامور بہ موقت کی وہ ہے جس کے لیے وقت معیار ہو، وَذٰلِکَ اور وہ جو ہے مِثْلُ الصَّوْمِ جیسے کہ روزہ ہے، فَاِنَّہٗ یَتَقَدَّرُ بِالْوَقْتِ، اس لیے کہ اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے وقت کے ساتھ، دن لمبا ہو تو روزہ بھی لمبا اور دن چھوٹا ہو تو روزہ بھی چھوٹا، وَھُوَ الْیَوْمُ، اس کا اندازہ وقت سے لگایا جاتا ہے اور وہ وقت کیا ہے؟ وَھُوَ الْیَوْمُ وہ کیا ہے؟ یوم ہے، دن ہے۔ وَمِنْ حُکْمِہِ اس کا کیا حکم ہے جس کے لیے وقت معیار ہو؟ کہتے ہیں پہلی قسم بیان کرنے لگے ہیں بھئی، کون بھئی؟ مامور بہ جس کے لیے وقت معیار ہو وہ کتنی قسم پر ہے؟ ایک وہ جس کے لیے شریعت نے کوئی وقت مقرر کیا ہو، یعنی مقید بالوقت ہو، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ وَمِنْ حُکْمِہِ اور اس کا حکم یہ ہے: اَنَّ الشَّرْعَ اِذَا عَیَّنَ لَہٗ وَقْتًا، کہ شریعت نے جب اس کے لیے کوئی وقت متعین کر دیا ہو لَا یَجِبُ غَیْرُہٗ فِیْ ذٰلِکَ الْوَقْتِ، تو اس کے علاوہ کوئی اور واجب نہیں ہوتا اس وقت کے اندر، اسی کے جنس میں سے۔ اس کے علاوہ کوئی اور چیز واجب نہیں ہو سکتی اسی وقت کے اندر بھئی۔ وَلَا یَجُوْزُ اَدَاءُ غَیْرِہِ فِیْهِ، اور غیر کا ادا کرنا وَلَا وَلَا واؤ ہونا چاہیے بھئی، وَلَا یَجُوْزُ اَدَاءُ غَیْرِہِ فِیْهِ، اور اس کے علاوہ کا ادا کرنا جائز نہیں ہے اس وقت کے اندر بھئی، اس کے علاوہ کا ادا کرنا اس وقت میں صحیح نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھیے رمضان کا روزہ ہے، آپ پر مثلاً گزشتہ سال کا ایک روزہ باقی رہ گیا تھا، قضا ہو گیا تھا بیماری کی وجہ سے، آپ نے اس کو ادا کرنا ہے، آپ کیا کرتے ہیں؟ رمضان، اگلا رمضان آیا، اس میں کہتے ہیں: چلو، آج میں کیا کر لیتا ہوں؟ گزشتہ سال کے قضا روزے کی نیت کر لیتا ہوں، نہیں کر سکتا بھئی۔ اور یا مولانا آپ نے منت مانی تھی، میں کتنے روزے رکھوں گا؟ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں ایک روزہ رکھوں گا، تو اب وہ کام ہو گیا، روزہ آپ پر کیا ہوا؟ واجب ہو گیا، اب آپ رمضان میں نیت کرتے ہیں: چلو بھئی، روزے تو رکھ ہی رہے ہیں، آج میں کس کی نیت کرتا ہوں؟ اپنے اس منت والے روزے کی نیت کرتا ہوں، وہ بھی میرے اوپر واجب ہے، یہ بھی روزہ واجب ہے، چلو آج میں اس کی نیت کر لیتا ہوں۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ وہ قسم ہے مامور بہ کی کہ جس کے لیے وقت معیار ہے اور اس کے لیے شریعت نے وقت مقرر کر دیا ہے، تو جب اس وقت کے اندر وہ واجب ہے جو شریعت نے مقرر کیا ہے، تو غیر کو واجب نہیں کر سکتا، غیر کو اس وقت میں ادا اسی کو ادا کرنا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لَا یَجِبُ غَیْرُہٗ فِیْ ذٰلِکَ الْوَقْتِ، غیر اس وقت میں واجب نہیں ہوتا، وَلَا یَجُوْزُ اَدَاءُ غَیْرِہِ فِیْهِ، اور غیر اس وقت کے اندر ادا نہیں ہوتا، حَتّٰی اَنَّ الصَّحِیْحَ الْمُقِیْمَ لَوْ اَوْقَعَ اِمْسَاکَہٗ فِیْ رَمَضَانَ عَنْ وَاجِبٍ اٰخَرَ یَقَعُ عَنْ رَمَضَانَ لَا عَمَّا نَوٰی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص تندرست ہے، صحیح ہے، تندرست ہے، الْمُقِیْمَ اور کیا ہے؟ مقیم ہے، مسافر نہیں، صحیح کی قید لگائی مریض کو نکال دیا، مقیم کی قید لگائی مسافر کو نکال دیا، کہ اگر تندرست اور مقیم آدمی اگر وہ واقع کرے امساکہ اپنے امساک کو فِيْ رَمَضَانَ کس وقت میں بھئی؟ رمضان کے مہینے میں عَنْ وَاجِبٍ اٰخَرَ کسی اور واجب سے، کہ اپنے امساک کو اس نے رمضان سے واقع نہیں کیا بلکہ کس سے واقع کیا ہے؟ کہ میرے اوپر وہ قضا، میرے اوپر جو وہ منت کا روزہ ہے، میں اس واجب کے لیے یہ امساک کرتا ہوں، یَقَعُ عَنْ رَمَضَانَ، تو بھی یہ امساک کس کی طرف سے واقع ہو گا؟ رمضان سے واقع ہو گا لَا عَمَّا نَوٰی نہ کہ اس سے جس کی اس نے نیت کی ہے، یعنی رمضان ہی کا روزہ ادا ہو گا، وہ واجب روزہ ادا نہیں ہو گا، صورت سمجھ میں آئی؟ کیونکہ ہم حکم بتلا چکے ہیں کہ اس کے اندر کوئی اور چیز روزہ واجب نہیں ہو سکتا اور کوئی اور اس میں ادا نہیں کر سکتا۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں بھئی؟ بھئی یہاں سے ایک بات پتہ چل گئی کہ یہاں مزاحم کوئی نہیں۔ کوئی مزاحم مقابل ہے؟ کوئی اور روزہ ادا کر سکتا ہے؟ جب روزہ کوئی اور ادا ہی نہیں کر سکتا تو مقابل ہی کوئی نہیں رہا۔ جب مقابل کوئی نہیں رہا تو اب نیت کے ساتھ متعین کرنا ضروری نہیں، یہ کہنا ضروری نہیں کہ میں رمضان کا روزہ رکھتا ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رمضان کا روزہ رکھتا ہوں، متعین کرنا ضروری نہیں۔ ہاں مطلق روزے کی نیت کرنا ضروری ہے بھئی۔ یہ نہیں کہ اپ نیت ہی نہیں کرتے، نیت کریں گے، کیا نیت کریں گے؟ روزہ رکھتا ہوں۔ اور خود بخود ادا کون سا ہو گا؟ رمضان۔ لیکن تعین کرنا نیت میں میں رمضان کا روزہ رکھتا ہوں، یہ تعین کرنا ضروری نہیں۔ کیوں نہیں تھا ضروری؟ کیونکہ یہاں مقابل ہی کوئی موجود نہیں، اور کسی کا احتمال ہی نہیں۔ جب احتمال نہیں تو تعین کی کیا ضرورت؟ وإذا دفع المزاحم في الوقت سقط اشتراط التعين۔ تو جب مزاحم اٹھ گیا، مرتفع ہوا، دور ہو گیا۔ جب مزاحم دور ہوا وقت کے اندر سقط اشتراط التعين تو تعین کی شرط لگانا بھی کیا ہوئی؟ ساقط ہو گئی۔ فإن ذلك لقطع المزاحمة۔ اس لیے کہ وہ شرط کیوں لگائی گئی تھی؟ قطع مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے لگائی تھی بھئی۔ ظہر کے وقت میں مزاحمت موجود تھی، تو مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ہم نے کیا کہا؟ تعین کرو نیت کے اندر کہ کون سی نماز ادا کرنے لگے ہو؟ جب نیت کر لی تو مزاحمت کیا ہوئی؟ ختم ہو گئی، پتہ چل گیا کون سی نماز ادا کر رہا ہے۔ اور یہاں پر تو مزاحمت ہے ہی نہیں، تو مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے تعینِ نیت بھی ضروری نہیں بھئی۔ ولا يسقط اصل النية۔ یہ اب وہی اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی کہ بھئی تعین نہیں ضروری تو نیت کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے یہاں پر تو۔ یہاں تو سرے سے کوئی نیت کی ضرورت ہی، بغیر نیت کے امساک کر لیتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ عبادت ہے اور عبادت کے اندر نیت کا ہونا ضروری بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ عبادت کے ذریعے فرق نیت کے ذریعے فرق ہو گا کہ اپ عبادت ادا کر رہے ہیں۔ تو عادت ایک ہے عادت، ایک ہے عبادت۔ تو عادت سے فرق کس کے ذریعے آئے گا؟ نیت۔ ہو سکتا ہے ایک آدمی کی ویسے ہی عادت ہے سارا دن کچھ نہیں کھاتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ رات کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے۔ تو اس کو ہم روزہ نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ نیت نہ کرے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نیت کرنا ضروری ہے۔ نیت کے ذریعے تو عبادت ممتاز ہو گی عادت سے بھئی، پتہ چلے گا بھئی عبادت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث میں آیا ہے انما الاعمال بالنيات، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے بھئی۔ نیز مولانا عبادت ہے یہ اور عبادت کے اندر اخلاص ضروری ہے۔ اور اخلاص بغیر نیت کے نہیں ہو سکتا۔ اخلاص کسے کہتے ہیں؟ کسی چیز کو خالص اللہ کی رضا کے لیے کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ اخلاص کہلاتا ہے۔ تو عبادت کے اندر کیا ضروری؟ اخلاص ضروری، اور اخلاص بغیر نیت کے آ سکتا ہے بھئی؟ بغیر نیت کے نہیں آ سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ولا يسقط اصل النية اور اصلِ نیت ساقط نہیں ہو گی لان الإمساك لا يصير صوما إلا بالنية اس لیے کہ امساک وہ روزہ نہیں بنے گا إلا بالنية مگر کس کے ساتھ؟ نیت کے ساتھ فإن الصوم شرعا اس لیے کہ روزہ شرعاً جو ہے، روزے کے بتلا رہے ہیں روزہ کسے کہتے ہیں، تعریف کرنے لگے ہیں۔ هو الإمساك عن الأكل والشرب والجماع رکنا ہے کھانے سے اور پینے سے اور جامع سے نهارا کس وقت کے اندر؟ پورے دن کے اندر مع النية کس کے ساتھ؟ نیت کے ساتھ۔ تو روزے میں تین چیزیں آ گئیں: ایک امساک ہو تین چیزوں سے: کھانا، پینا اور... دوسرا کس وقت کے اندر ہو؟ دن پورے دن کے اندر ہو۔ اور تیسرا کیا ہے؟ نیت کے ساتھ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو رات کو بھی تو ایک آدمی جب اپ سو جاتے ہیں تو کچھ کھاتے پیتے ہیں؟ نہیں، جی تو اس وقت بھی تو امساک پایا جا رہا ہے جب انسان سویا ہو لیکن اس کو کوئی روزہ کہتا ہے؟ اس کو روزہ نہیں کہتا، تو یہ روزے میں تین چار چیزیں۔ یاد رکھو مصنف نے صحیح، مقیم کی قید لگائی بھئی۔ کس کی قید لگائی؟ صحیح اور مقیم ادمی اگر وہ کوئی اور روزہ اپنے اوپر واجب کرنا چاہے یا کوئی اور ادا کرنا چاہے تو دوسرے کو ادا اس لیے کہ اگر امام کے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر بیمار یا مسافر بھئی، صحیح کے ذریعے کس کو نکالا تھا؟ بیمار کو، اور مقیم کے ذریعے کس کو نکالا؟ مسافر کو، کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر مریض یا مسافر رمضان کے اندر کوئی اور واجب روزہ ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے۔ مثلاً وہ قضا گزشتہ کوئی رمضان کا قضا اس پر باقی تھی وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے تو اس وقت میں کر سکتا ہے، کیونکہ مریض ہے۔ تو مریض کو تو رخصت ہے بھئی کہ روزہ کیا کر سکتا ہے وہ ان دنوں میں؟ چھوڑ دے اور بعد میں اس کی کیا کرے گا؟ قضا کرے گا۔ اسی طرح مسافر ہے اس کو بھی شریعت نے رخصت دی ہے کہ اس وقت میں وہ روزہ نہ رکھے اور بعد میں کیا کرنا چاہیے؟ بعد میں روزہ رکھے بھئی۔ بعد میں، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی بیمار ہو یا مسافر ہو وہ اس رمضان کے اندر کسی واجب دوسرے واجب روزے کو ادا کرنا چاہتا ہے تو ادا کر سکتا ہے۔ رمضان کا روزہ تو نہیں رکھا اس نے، شریعت کی طرف سے رخصت آ گئی، تو اس نے سوچا چلو میں کون سا روزہ رکھ لیتا ہوں جو مجھ پر نذر کا ایک روزہ میں نے منت مانی تھی وہ روزہ میں اج رکھ لیتا ہوں، یا مریض نے رمضان کا نہیں رکھا تو سوچا چلو اج میں کون سا روزہ رکھ لیتا ہوں وہ جو مجھ پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا وہ میں رکھ لیتا ہوں، تو ان کی طرف اب انہوں نے یہ نیت کی تو کہتے ہیں ٹھیک ہے نذر کا روزہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ صحیح اور مقیم تو نہیں کر سکتا ایسا لیکن مسافر اور بیمار کیا کر سکتا ہے؟ کر سکتا ہے۔ یہ کس کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ اس لیے کہ ان کو شریعت نے رخصت دی ہے بیمار اور مسافر کو، اور کیوں رخصت دی ہے بھئی؟ مصلحتِ بدنی کی وجہ سے، بدن کی مصلحت کی وجہ سے بھئی، کیونکہ یہ ان کے لیے روزے رکھنے میں کیا ہو گی؟ مشقت ہو گی، تکلیف زیادہ ہو گی سفر میں ہے یا بیمار ہے، تو شریعت نے مصـ مصالحِ بدنی کے لیے مصلحتِ بدنی کے لیے ان کو کیا دے دی؟ رخصت۔ تو جب مصلحتِ بدنی کے لیے ان کو رخصت حاصل ہے تو مصلحتِ دینی کے لیے بطریقِ اولیٰ ان کو کیا حاصل ہو گی؟ جی؟ تو مصلحتِ دینی اولیٰ ہے یا مصلحتِ بدنی اولیٰ ہے بھئی؟ مصلحتِ دینی اولیٰ ہے لازمی بات ہے، تو جب مصلحتِ بدنی کی وجہ سے ان کو شریعت نے رخصت دے دی تو مصلحتِ بدنی دینی کے لیے بطریقِ اولیٰ کیا ثابت ہو گی؟ رخصت ہو گی۔ مصلحتِ دینی کیا ہے بھئی؟ بھئی اس پہ ایک روزہ واجب ہے اس کو ادا کر دے گا، کیا کر دے گا؟ اس کو ادا کر دے گا بھئی، گناہ وغیرہ سے بچ جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصلحت بطریقِ اولیٰ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے مولانا ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 54 of 123