Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-052

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 24 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 93
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ ہمارے نزدیک امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا اور نہ ہی تکرار کا احتمال رکھتا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک امر تکرار کا تقاضا تو نہیں کرتا لیکن تکرار کا احتمال رکھتا ہے، احتمال رکھتا ہے، کوئی قرینہ آ جائے تو تکرار بھی آ جائے گا بھئی۔ چنانچہ اس پر پھر کئی مثالیں ذکر کیں، مثلاً کسی شخص نے کسی دوسرے کو وکیل بنایا اور کہا: طلق امرأتي، "تو میری بیوی کو طلاق دے دے"، تو اس نے ایک مرتبہ طلاق دے دی، تو اب دوبارہ وہ اس عورت سے نکاح کر لیتا ہے، تو اب وکیل اسی امر کی وجہ سے دوبارہ اس کو طلاق نہیں دے سکتا کیونکہ امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر کسی وکیل سے کہا: زوجني امرأةً، کہ "میرا کسی عورت سے نکاح کروا دے"، تو اس نے ایک نکاح کروا دیا، دوبارہ اسی زوجني پر نیا نکاح نہیں کروا سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، وکیل صاحب حرکت میں آ گئے! وہ تو پہلے ہی انتظار میں تھا بھئی! تو دوبارہ نہیں کروا سکتا۔ ولو قال لعبده، اسی طرح اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا: تزوج، "تو کیا کر لے؟ نکاح کر لے"، تو ایک ہی مرتبہ نکاح کرے گا، دوبارہ اسی امر کی وجہ سے وہ نکاح نہیں کر سکتا۔ تو اور پھر آپ کو بتلایا، دلیل بتلائی کہ امر تکرار کا تقاضا کیوں نہیں کرتا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ امر جب کسی کام کا کیا جائے تو دراصل وہاں ایجادِ فعل کو طلب کیا جاتا ہے مختصر طریقے پر بھئی۔ مختصر طریقے پر ایجادِ فعل کو، اس فعل کو وجود دے دو، طلب کیا جاتا ہے۔ تو یہ مختصر ہے مطول سے، تو افعل مختصر ہے کس سے؟ افعل فعل الضرب سے، اور وہاں مطول اور مختصر فائدے کے اندر برابر ہیں، اور مطول کے اندر تو تکرار کا تقاضا نہیں، تو مختصر کے اندر بھی تکرار کا تقاضا نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ وہاں پر مصدر آیا، افعل فعل الضرب، الضرب مصدر آیا، یا ایک شخص وکیل کو کہتا ہے: طلق امرأتي، "میری بیوی کو کیا دے دے؟ طلاق"، تو وہاں پر بھی ہے: افعل فعل الطلاق، تو کیا کر؟ طلاق والا فعل کر۔ تو یہاں پر بھی مصدر آیا، اور مصدر جو ہے میں نے بتلایا، یہ اسمِ جنس ہے، کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے مولانا، اور اسمِ جنس دو معانی کا احتمال رکھتا ہے، یا تو اس سے فرد مراد ہوتا ہے یا اس سے جنس مراد ہوتی ہے۔ کیا مراد ہوتی ہے؟ یا فرد مراد ہوتا ہے، فرد مولانا، ایک فرد اس کا، اور یا جنس مراد ہوتی ہے بھئی۔ تو جنس، تو یہاں پر بھی مولانا فرد ہی مراد ہوا، اب فرد کی دو قسمیں ہیں: ایک فردِ حقیقی اور ایک فردِ حکمی۔ فردِ حقیقی تو ہے ادنیٰ ایک، وہ کیا ہے؟ ایک بھئی، اور ایک، اور فردِ حکمی کیا ہے؟ مجموعہ جنس بھئی، کیونکہ مجموعہ بھی ایک ہے، مجموعہ بھی ایک ہے، تو دو افراد ہوئے، ایک تو اسمِ جنس جب بھی بولا جائے گا، اس سے فرد ہی مراد ہو گا، یا تو اس سے فردِ حقیقی مراد ہو گا یا فردِ حکمی، اور حکمی، اور فردِ حقیقی ہے ایک، اور فردِ حکمی کیا ہے؟ کلِ جنس بھئی، سارے جنس فی ضمن جميع الأفراد، تمام افراد کے ضمن میں بھئی۔ تو اب یہاں پر مولانا جب اسمِ جنس کو مطلق بولا جائے، تو اس صورت میں ایک فرد، فردِ حقیقی تو قطعی طور پر مراد ہے، البتہ فردِ حکمی کا بھی اس میں کیا ہے؟ احتمال ہے، یعنی ارادہ فرد ہی کا ہو گا، لیکن یہ فرد پھر دو قسم پر ہے، یا فردِ حقیقی ہے یا فردِ حکمی ہے۔ تو فردِ حقیقی تو ہے ایک، اور فردِ حکمی کیا ہے؟ کلِ جنس، تو لہٰذا جب مطلق بولا جائے اسمِ جنس کو، تو فردِ حقیقی تو اس سے یقیناً مراد ہے، البتہ فردِ حکمی کا بھی اس میں احتمال ہے، اسی لیے کہتے ہیں اگر ایک شخص نے نیت کی: لا أشرب الماء، کہ "واللہِ لا أشرب الماء"، "واللہ! میں پانی نہیں پیوں گا"، تو اب یہاں پر ادنیٰ فرد تو قطعی طور پر مراد ہے، لہٰذا ایک قطرہ بھی پی لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حانث، لیکن کلِ افراد کا بھی احتمال ہے، کلِ جنس کا بھی، کیونکہ وہ بھی فردِ حکمی ہے، عدد مراد ہم نہیں لے رہے، پھر بھی کیا مراد لے رہے ہیں؟ فرد ہی مراد لے رہے ہیں، لیکن وہ فرد حقیقتًا ہوتا ہے کبھی اور کبھی حکماً، تو حکماً فرد کا ارادہ بھی وہاں ممکن ہے کہ کلِ جنس مراد لی جائے، یعنی "تمام عالم کا پانی میں پی جاؤں، نہیں پیوں گا"، تو اب وہ سارا پینے کی صورت میں حانث ہو گا، ایک دو قطرے یا تھوڑا پانی پینے سے وہ حانث نہیں ہو گا، اور یہ تو واقعتاً ممکن ہی نہیں ہے کہ تمام عالم کا وہ پانی پی جائے، لہٰذا حانث بھی نہیں ہو گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو فردِ حکمی کا احتمال تھا، تو نیت کے ذریعے اس نے بتلا دیا کہ میری نیت تمام افراد، تمام جنس کی تھی، تو اس صورت میں حانث نہیں ہو گا۔ اسی طرح جب ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: طلقي نفسك، طلقي نفسك، "اپنے نفس کو طلاق دے دے"، یعنی افعلي فعل الطلاق، "تو طلاق والا فعل کر"، تو اب یہاں پر مولانا ایک فرد تو یقیناً مراد ہے، فردِ حقیقی تو یقیناً مراد ہے، لیکن فردِ حکمی کا بھی کیا ہے؟ احتمال ہے، تو لہٰذا اگر خاوند نے تین کی نیت کر لی تو یہ نیت بھی صحیح ہے اور تین واقع ہو جائیں گی۔ اسی طرح ایک وکیل کو کہا: طلق امرأتي، "میری بیوی کو طلاق دے دے"، تو اصل میں یہ کیا ہے؟ افعل فعل الطلاق، تو یہاں مصدر آیا اور مصدر جنس ہے، اور اسمِ جنس کا کس پر اطلاق ہوتا ہے؟ قلیل و کثیر، تو یہاں پر بھی فرد یعنی فردِ واحد، فردِ حقیقی بھی مراد ہو سکتا ہے اور فردِ حکمی بھی، لہٰذا ایک طلاق تو یقیناً اس سے مراد ہے، لیکن اگر خاوند نے تین، یعنی کلِ طلاق، اور ایک عورت کے لیے کتنی ہے کلِ طلاق؟ جنسِ طلاق تین ہے عورت کے لیے کلِ طلاق، تو تین کی بھی نیت کر لے تو یہ نیت کرنا بھی صحیح، کیونکہ یہ بھی فردِ حکمی ہے، عدد نہیں، معلوم ہوا امر میں جنس سے تصرف کا حکم دیا جاتا ہے، اور جنس کے اندر کیا ہو گا؟ فرد ہی کا ارادہ کیا جا سکتا ہے، عدد کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا، تو لہٰذا جب عدد کا ارادہ ہی نہیں وہاں صحیح، تو معلوم ہوا یہ تکرار کا تقاضا بھی وہاں، وہاں تکرار آئے گا ہی نہیں۔ تو لہٰذا اگر طلاق دے دے میری بیوی کو، دو اس نے کہا، اس نے ایک میری بیوی کو، اگر اس نے نیت کتنے کی کی؟ تین کی کی تو تین کی نیت بھی صحیح، لیکن اگر دو کی نیت کی تو یہ نیت صحیح نہیں، کیونکہ دو عدد ہے، نہ یہ فردِ حقیقی ہے اور نہ فردِ حکمی ہے۔ ہاں، البتہ اگر اس کی بیوی کسی کی باندی تھی، کسی کی باندی سے اس نے نکاح کیا تھا، تو اس صورت میں دو کا ارادہ بھی صحیح، لیکن اس وجہ سے نہیں دو کا ارادہ کہ دو عدد ہے، اس وجہ سے کہ یہ فردِ حکمی ہے، یہ کلِ جنس ہے باندی کے لیے، اس کی کل طلاقیں ہی کتنی ہیں؟ دو ہیں۔ اس پر اشکال ہوا تھا بھئی کہ پھر یہ عبادات میں تکرار کیوں آتا ہے؟ قرآن میں تو آیا ہے: أقيموا الصلاة، سمجھ میں آیا؟ نمازوں کا، "نماز ادا کرو"، آتوا الزكاة، "زکوٰۃ ادا کرو"، وغیرہ، وہاں تو ایک امر ہے، یہ پھر بار بار ہم ہر سال زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ہم ہر دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، یہ تکرار پھر کیوں آ رہا ہے جب امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا اور نہ احتمال رکھتا ہے؟ تو جواب دیا مولانا کہ بھئی یہاں دراصل دو چیزیں ہیں: ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آیا کرتا ہے؟ اسباب کی وجہ سے، اور امر کے ذریعے وجوبِ ادا آتا ہے، یعنی جب بھی نماز کا وقت آپ پر آئے گا، آپ پر نماز واجب ہو جائے گی، نماز کیا ہو جائے گی؟ یعنی نفسِ وجوب آپ پر آ گیا، اب نماز واجب ہے۔ اب امر متوجہ ہو گا کہ وہ جو نماز آپ کے ذمہ واجب ہے اس کو ادا کرو، اس کو کیا کرو؟ تو امر جو ہے وجوبِ ادا کے لیے آیا کرتا ہے، نفسِ وجوب کے لیے نہیں آتا، تو نفسِ وجوب امر کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آتا ہے؟ اسباب، اور اسباب میں اگر تکرار پایا جائے تو عبادت میں بھی تکرار آئے گا، اگر سبب میں تکرار نہیں تو عبادت میں بھی تکرار نہیں، تو یہ جو عبادات میں تکرار آتا ہے، ان کے اسباب میں تکرار کی وجہ سے آتا ہے، یہ امر میں تکرار کی وجہ سے نہیں، کیونکہ امر تو تکرار کا تقاضا ہی، تو یہ جو نمازیں بار بار واجب ہوتی ہیں اس لیے کہ ان کا وقت بار بار ہم پر آتا ہے، جب وقت آتا ہے ہم پر نفسِ وجوب اس کا آ جاتا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ نفسِ وجوب آ جاتا ہے۔ یہ کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے بیع کے اندر نفسِ وجوب عقد سے آیا کرتا ہے اور وجوبِ ادا کس سے آئے گا؟ جب دوسرا شخص اس کو کہے: أد إلي الثمن، "مجھے ثمن کیا کر دو اب؟"، تو عقد کرتے ہی جیسے ہی آپ نے ایک شخص سے عقد کیا، ایجاب و قبول پایا گیا، آپ پر نفسِ وجوب آ گیا ثمن کا، لیکن وجوبِ ادا نہیں، ادا کرنا ابھی واجب نہیں، ہاں لیکن جب اس نے کہا: أد إلي الثمن، "مجھے ثمن ادا کرو"، تو اب ثمن کا ادا کرنا بھی کیا ہو گیا آپ پر؟ واجب ہو گیا۔ تو نفسِ وجوب آیا عقد کی وجہ سے اور وجوبِ ادا کس کی وجہ سے آیا؟ امر کی وجہ سے۔ اور اسی طرح بھئی نکاح کے اندر، نکاح کرتے ہی بیوی کا نفقہ خاوند پر واجب، تو نفسِ وجوب آیا نکاح کی وجہ سے، اور وجوبِ ادا کس کی وجہ سے آئے گا؟ جی طلب کی وجہ سے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ طلب کی وجہ سے۔ اس پر پھر اشکال ہوا مولانا، آپ نے کیا کہا؟ جی؟ کہ نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا میں فرق ہے، اور یہ عبادات میں نفسِ وجوب امر کی وجہ سے نہیں آتا، کس کی وجہ سے آتا ہے؟ اسباب، ٹھیک ہے، ہم مان لیتے ہیں، اسباب بار بار آتے ہیں، عبادت بار بار واجب ہو جایا کرتی ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ لیکن نفسِ وجوب کے بعد اب وجوبِ ادا بھی آئے گا یا نہیں آئے گا؟ وہ کس کی وجہ سے آئے گا؟ امر کی وجہ سے، تو بار بار امر آ رہا ہے یا نہیں آ رہا بھئی؟ جب بھی نفسِ وجوب، تو ٹھیک ہے، وقت بار بار آ رہا ہے، لیکن وجوبِ ادا بھی بار بار آ رہا ہے یا نہیں آ رہا بھئی؟ کہ اس کو ادا بھی کرو بھئی، یہ بھی تو آ رہا ہے، امر بھی تو متوجہ ہو رہا ہے، تو وجوبِ ادا تو بار بار آ گیا، تو مولانا تکرار آ گیا بھئی، کیا آ گیا؟ تکرار، بار بار امر وجوبِ ادا کا تقاضا کر رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ آپ نے کیا کہا تھا کہ نفسِ وجوب سبب سے آتا ہے، امر سے؟ ٹھیک ہے، ہمیں یہ بات منظور ہے، نفسِ وجوب کس سے آتا ہے؟ سبب سے، لیکن پھر جب نفسِ وجوب آ جائے گا پھر فوراً کیا آئے گا؟ وجوبِ ادا بھی ساتھ ہی آئے گا، اور وجوبِ ادا تو کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ امر کی وجہ سے آ رہا ہے، تو بار بار آ رہا ہے یا نہیں آ رہا؟ بار بار وجوبِ ادا آ رہا ہے، بار بار آپ کیا کرتے ہیں؟ نماز دن میں پانچ مرتبہ ادا کرتے ہیں، تو وجوبِ ادا میں تکرار تو آ گیا، تو امر نے تکرار کا تقاضا، امر کی وجہ سے تکرار تو آ گیا، حالانکہ آپ نے کہا تھا امر تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو بھئی؟ اچھی طرح؟ تو جواب دیتے ہیں بھئی ہم نے آپ کو شروع میں بتلایا تھا کہ یہ فعل مختصر ہے، مثلاً أقيموا الصلاة، یہ کیا ہے؟ مختصر ہے کس سے؟ افعلوا فعل الصلاة سے، کس سے؟ یا افعلوا فعل الصلاة سے یہ مختصر ہے، اور وہاں پر آیا مصدر، اور مصدر کیا ہے؟ اسمِ جنس ہے، اور اسمِ جنس کا اس سے جب مطلق بولا جائے تو اس سے فردِ واحد، فردِ حقیقی تو قطعی مراد ہے، لیکن فردِ حکمی کا بھی وہ احتمال رکھتا ہے، تو یہاں بھی فردِ حکمی مراد ہے، کیا مراد ہے؟ یعنی کلِ جنس مراد ہے، یعنی تمام نمازیں جو آپ کے ذمہ واجب ہوں زندگی بھر میں، وہ ادا کرنا، وہ ادا کرو۔ آپ پر زندگی بھر میں جتنی جنسِ صلوٰۃ، وہ شامل ہے ساری زندگی کی نمازوں کو، سمجھ میں آیا؟ تو ساری جنس کو جب شامل ہوا تو ایک ہی مرتبہ میں مطالبہ ہو گیا ساری زندگی کی فرض نمازوں کا، ساری زندگی کی فرض نمازوں کا، تو اب مطالبہ ایک ہی مرتبہ ہوا، لیکن نفسِ وجوب کیا آ رہا ہے؟ جب سبب آئے گا، اس وقت کی نماز کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی، اس وقت کی نماز کیا، جیسے ہی ظہر کا وقت آئے گا، ظہر کی نماز کیا ہو جائے گی؟ نفسِ وجوب آ گیا، اب وجوبِ ادا اسی امر کی وجہ سے ہے، کیا امر ہوا تھا؟ جتنی نمازیں آپ پہ واجب ہیں ان کو کیا کرو؟ ادا کرو۔ کلِ جنس مراد ہے وہاں مولانا، فردِ حکمی، تو ساری زندگی کی نمازیں وہاں پر مراد ہوئیں، تو اب جو بھی نفسِ، جس نماز کا بھی نفسِ وجوب ہم پر آئے گا، وہ نماز ہم پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی، اور امر ہمیں کیا ہوا تھا؟ کہ زندگی بھر کی نمازوں کو ادا کرنا، تو اب پھر کیا وجوبِ، اسی امر کی وجہ سے وجوبِ ادا بھی آ گیا۔ امر وہی ایک ہے، لیکن اسی ایک امر نے احاطہ کر لیا کلِ جنس کا، کس کا؟ کلِ جنس کا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو امر میں تکرار نہیں آیا۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب بھی عبادت کا امر دیا جاتا ہے، وہ پوری جنس کو شامل ہوتا ہے، پوری جنس کو۔ بھئی سب کو سمجھ آ گئی بات؟ ثم الأمر لما، یہی بات اب کرنے لگے ہیں، دیکھیے۔ ثم الأمر لما كان يتناول الجنس، پھر امر جب وہ شامل ہے جنس کو، یعنی تمام افرادِ جنس کو وہ شامل ہے، يتناول جنس ما وجب عليه، تو یہ شامل ہو گا اس چیز کی جنس کو وجب عليه جو اس پر واجب ہوئی ہے، اس ساری کی جنس کو، اور وہ کیا ہیں؟ سارے عبادات بھئی، سارے، سارے نمازوں کا امر آیا تو ساری نمازوں کو شامل ہے، روزوں کا امر آیا تو ساری زندگی کے روزوں کو شامل ہے بھئی۔ ومثاله، اور مثال اس کی: ما يقال، وہ جو کہا گیا، کہا جاتا ہے کہ: إن الواجب في وقت الظهر هو الظهر، کہ واجب ظہر کے وقت میں کیا ہے؟ ظہر کی نماز ہے، فتوجه الأمر لأداء ذلك الواجب، تو امر متوجہ ہوا اس واجب کو کی ادا کے لیے، ثم إذا تكرر الوقت، پھر جب مولانا وقت میں تکرار آیا، تكرر الواجب، تو واجب بھی کیا ہوا؟ واجب بھی مکرر، جب وقت مکرر ہوا میں تکرار آیا، تو واجب میں بھی کیا آیا؟ یعنی پھر دوبارہ نفسِ وجوب آئے گا یا نہیں جب؟ وقت کیا ہے؟ سبب، تو نفسِ وجوب جب بھی وقت آ جائے گا، کیا آ جائے گا؟ جی، تو تکرارِ وقت سے تکرارِ واجب آئے گا، فيتناول الأمر ذلك الواجب الآخر، تو یہ وہ امر جو ہے شامل ہو گا اس دوسرے واجب کو بھی۔ بھئی ایک مرتبہ آپ پر بس ایک نماز آپ نے ظہر کی ادا کر لی، اگلے دن پھر ظہر کا وقت ہوا، تو ظہر کا وقت وہ سبب ہے کس چیز کا؟ نفسِ وجوبِ صلوٰۃِ ظہر کا، تو نفسِ وجوب آ گیا صلوٰۃِ ظہر آپ پر کیا ہو گئی؟ واجب۔ آپ پھر وہ جو امر ہوا تھا، وہ اس کو بھی شامل ہوا، اس کو بھی کیا ہوا؟ شامل، کیونکہ وہ کیا حکم ہوا تھا؟ جی؟ کلِ جنس وہاں مراد تھی کہ کل زندگی کی نمازیں ادا کرو، وہی امر پھر ادھر بھی متوجہ ہو گیا کہ یہ بھی زندگی کی نمازوں میں داخل ہوئی، لہٰذا اس کو بھی کیا کرو؟ ادا کرو۔ فيتناول الأمر، تو شامل ہو گا امر، ذلك الواجب الآخر، اس دوسرے واجب کو بھی، کیوں؟ ضرورت تناولہ کل الجنس الواجب علیہ۔ ضرورة تناوله، تناوله، اس امر کا شامل ہونا، ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ امر کو۔ امر تناوُل کا کیا معنیٰ؟ شامل ہونا۔ تناوله، أي تناول الأمر، امر کا شامل ہونا، کس کو شامل ہونا؟ کل الجنس الواجب علیہ، اس ساری جنس کا جو اس پر کیا ہوئی ہے؟ واجب ہوئی، بھئی امر کس چیز کا دیا گیا تھا؟ کلِ جنس کا دیا گیا تھا، تو امر کے کلِ جنس وہ ساری جنس جو اس پر واجب تھی، اس ساری جنس کو شامل ہونے کی ضرورت کی بنا پر، شامل ہونے کی ضرورت کی، کے ضروری ہونے کی بنا پر بھئی، ساری جنس کو وہ امر شامل تھا، تو لہٰذا جب بھی وقت آ جائے گا، اگلی نماز بھی اس کی ادا بھی کیا ہو جائے گی اس پر؟ واجب ہو جائے گی۔ پس امر شامل پس شامل ہو گا امر اس دوسرے واجب کو، بوجہ ضروری ہونے کے کہ اس کے شمول کے بوجہ ضروری ہونے کے اس کے شامل ہونے کو کلِ جنس کو جو اس پر واجب ہوئی ہے صوماً کان أو صلاةً، چاہے وہ روزہ ہو یا نماز ہو، فكان تكرار العبادة المتكررة بهذا الطريق، تو تکرار اس عبادت کا جو متکرر ہے اس طریقے پر ہو گا، لا بطريق، نہ اس طریقے پر، عن الأمر يقتضي التکرار، کہ امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ تکرار کا، تو اس طریقے پر نہیں ہے کہ امر تکرار کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ امر تو تکرار کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ کس وجہ سے ہے؟ جو ہم نے ذکر کیا کہ عبادت کا وجوب کس سے آتا ہے؟ سبب سے، اور سبب کیا ہے؟ وقت ہے، اور وقت میں تکرار آئے گا تو نفسِ وجوب میں تکرار آئے گا، نئے پھر نفسِ وجوب آیا، اور امر ہوا تھا کہ سارے واجب نمازوں کو کیا کرنا؟ ادا کرنا، تو وہی امر پھر متوجہ ہوا، کیونکہ وہ ساری زندگی کی واجب نمازوں کو، فرض نمازوں کو شامل تھا، اب پھر اسی امر کی وجہ سے کیا کرنا پڑے گا؟ اس نماز کو ادا، تو امر میں تکرار آیا یا وہ ایک ہی امر سب کو شامل تھا؟ ایک ہی امر سب کو شامل تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ظہر کی نماز کے لیے مثلاً کیا امر آیا ہے قرآن میں؟ أقم الصلاة لدلوك الشمس، نماز قائم کیجیے سورج ڈھلنے کے وقت میں، اس سے کون سی نماز ہے؟ ظہر کی، تو اب آج آپ جیسے ظہر کا وقت آپ نے پایا، آپ پر، تو یہ سبب ہے، اور آپ پر نفسِ وجوب آ گیا، ظہر کی نماز آپ پر کیا ہوئی؟ واجب ہو گئی، ابھی امر آپ کی طرف متوجہ ہوا، نماز قائم کیجیے سورج ڈھلنے کے وقت میں، یعنی کلِ جنس مراد ہے یہاں پر، تمام وہ نمازیں جو آپ پر زندگی بھر میں واجب ہوں سورج ڈھلنے کے وقت میں، ان کو کیا کیجیے؟ ادا کیجیے، تو امر متوجہ ہوا، اگلے دن پھر نفسِ وجوب آئے گا، پھر یہی امر، کیونکہ یہ بھی اس میں داخل ہے، تو یہ ساری کیا ہیں اس کے اندر داخل ہیں امر کے اندر، تکرار نہیں، نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جی، ایک یہ ہے، بعض علماء اور جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں ہر روز جب نماز نفسِ وجوب آئے گا تو وہی حکم حقیقتاً تو حکم ایک ہی دفعہ ہوا لیکن حکماً گویا دوبارہ اللہ کی طرف سے حکم آ جاتا ہے نماز ادا کرو، پھر آ جاتا ہے أقم الصلاة لدلوك الشمس، پھر اگلے دن ظہر کا وقت جیسے ہی آئے گا نفسِ وجوب آئے گا، پھر اللہ کی طرف سے حکم متوجہ ہو جاتا ہے أقم الصلاة، گویا حکماً حکم بار بار آتا ہے، نیا حکم آتا ہے ہر مرتبہ، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بعض یہ جواب دیتے ہیں، اور انہوں نے کیا صورت بنائی؟ انہوں نے کہا کہ حکم کس چیز کا ہے؟ کلِ جنس کا ہے، تمام افراد کا، ایک ہی امر سب کو شامل ہو گیا بھئی، چلیے بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔...
123 approved lectures · 52 of 123