Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-058

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 83
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل آپ نے پڑھا بھئی، کہ واجب بحکم الامر دو قسم پر ہے: ادا اور قضا۔ اور ادا کس کو کہتے ہیں؟ عین واجب کو سپرد کرنا اس کے مستحق کے، اور قضا کسے کہتے ہیں؟ مثل واجب کو سپرد کرنا اس کے مستحق کے۔ اور پھر یہ ادا دو قسم پر ہے، آپ نے پڑھا تھا: ایک اداِ کامل اور ایک اداِ قاصر۔ اداِ کامل کس کو کہتے ہیں؟ کہ عین واجب کو سپرد کرنا مشروع طریقے پر، یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آئے بھئی، اس کی صفات میں۔ جی! اور اس پر اس کا حکم بتلایا تھا بھئی، اس نوع کا حکم یہ ہے کہ ادا کرنے والا اپنے ذمہ داری سے کیا ہو جائے گا؟ سبکدوش ہو جائے گا جب وہ ادا کر دے گا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد اس پر بہت سی مثالیں انہوں نے ذکر کی تھیں۔ پھر اس کے بعد آپ کو اداِ قاصر کے بارے میں بتلایا تھا، کہ وہ کیا ہے؟ عین واجب کو سپرد کرنا مستحق کے، ساتھ کس کے؟ صفت میں نقصان، صفت میں کوئی کمی آ جائے، تو یہ کیا ہے؟ اداِ قاصر۔ تو سپرد تو عین واجب ہی کو کر رہا ہے لیکن اس میں نقصان آیا۔ اور اسی پر اس کا حکم بتلایا تھا، کہ اگر اس یہ جو کمی آئی صفت کے اندر، یہ جو نقصان آیا، اس کی تلافی اگر مثل کے ساتھ ممکن ہو تو تلافی کی جائے گی۔ اگر تلافی ممکن نہ ہو، تو یہ کیا ہو جائے گا؟ نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا، البتہ بندہ گنہگار ہوگا بھئی۔ تو مثل پھر میں نے بتلایا، یا تو مثلِ عقلی ہوگا یا مثلِ شرعی۔ تو اگر مثلِ عقلی یا مثلِ شرعی موجود ہو، تو اس کے ساتھ نقصان کی تلافی کی جائے گی بھئی، ورنہ نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا، البتہ گناہ رہے گا باقی بھئی۔ اور اس پر پھر کئی مثالیں گزری تھیں بھئی۔ اچھا جی! کہتے ہیں: وعلى هذا لو أدى زيفا مكان جيد فهلك عند القابض فلا شيء له على المديون عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة، لأنه لا مثل لصفت الجودة منفردة حتى يمكن جبرها بالمثل۔ تو ضابطہ آپ نے پڑھا بھئی، کہ اداِ قاصر کے اندر بھئی کیا کیا جائے گا؟ صفت کے اندر کمی آ جاتی ہے، تو وہاں پر اگر بھئی مثل کے ذریعے صفت اس کمی کی تلافی ہو سکے، تو تلافی کی جائے گی، ورنہ نقصان کا حکم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا اور گناہ باقی رہے گا بھئی۔ چنانچہ فرماتے ہیں: وعلى هذا، اور اسی بنا پر: لو أدى زيفا مكان جيد بھئی، صورتِ مسئلہ یہ بھئی، ایک شخص کا دوسرے پر دین ہے بھئی، اور مثلاً اس نے ایک شخص نے دوسرے کے 100 درہم دینے ہیں، اور کس قسم کے درہم دینے ہیں؟ کھڑے درہم دینے ہیں بھئی۔ اب کھڑے درہم اس کو ادا کرنے چاہیے تھے، لیکن یہ مدیون کس قسم کے درہم لے آیا؟ زیف، کھوٹے درہم لے آیا بھئی، اور کھوٹے... تو زیف وہ درہم ہوتے ہیں جو جن کو تاجر لے لیتے ہیں، یعنی چلتے ہیں عام بازار وغیرہ میں، ہاں البتہ بیت المال نہیں لیتا بھئی۔ تو یہ قدیم قسم کے خاص قسم کے درہم ہوا کرتے تھے، جو چلتے تو تھے، البتہ ان کے صفت میں کمی ہوا کرتی تھی بھئی، بیت المال ان کو نہیں لیتا تھا بھئی۔ بالکل کھوٹے نہیں بھئی، جیسے آج کل کوئی آپ سکے کو کہیں بالکل کھوٹا ہے، وہ تو چلتا ہی نہیں ہے، ہاں یہ چلتے تھے، بیت المال البتہ نہیں دیتا تھا، تاجر لے لیا کرتے تھے بھئی۔ تو بھئی، وہ مدیون جو تھا اس کو کس قسم کے درہم ادا کرنے چاہیے تھے لا کر؟ کھڑے دینے چاہیے تھے، لیکن وہ کس قسم کے لے آیا؟ کھوٹے زیف لے آیا۔ اب اس نے ادا ادا بھی کیا کرنے چاہیے تھے؟ درہم، اور دیے بھی اس نے کیا بھئی؟ درہم۔ تو ادا تو پائی گئی، نفسِ ادا تو پائی گئی، لیکن صفت میں کیا آ چکی ہے؟ کمی آئی ہے، اور صفت میں کمی آ جائے، تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ اداِ قاصر بھئی، تو یہ اداِ قاصر ہوئی بھئی۔ اب اس دائن جو ہے وہ جس کو درہم ملے، قابض، اس نے قبضہ کر لیا، لے لیے مولانا دراہم، اور یہ دراہم اس کے پاس ہلاک ہو گئے، اسے پتہ نہیں چلا، وہ لے گیا، رکھے اپنے پاس، تو رات کو مولانا کوئی اٹھا کر لے گیا، یا لاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کہاں گر گئے؟ دریا میں گر گئے۔ اب دراہم اس کے پاس ہلاک ہو گئے اس قابض کے پاس بھئی۔ اب بھئی! اب امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدیون پر کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ وہ جس نے بھئی کھوٹے دراہم دیے ہیں، اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ یہاں پر اس پر واجب بھی کیا تھے؟ 100 درہم، اور اس نے ادا بھی کتنے کیے ہیں؟ 100 درہم، تو نفسِ ادا تو پائی گئی۔ البتہ صفت کے اندر کمی آ گئی کہ ادا اسے کھڑے کرنے چاہیے تھے، اس نے کس قسم کے ادا کر دیے؟ کھوٹے درہم ادا کر دیے ہیں بھئی۔ تو صفت میں کمی آئی، تو یہ اداِ قاصر ہوئی بھئی، یہ کیا ہوئی؟ اداِ قاصر، اور اداِ قاصر کا آپ نے کیا حکم پڑھا ہے؟ کہ وہ جو نقصان آیا ہے، وہ جو کمی آئی ہے، اس کی تلافی مثل کے ذریعے کی جائے گی، اس کا مثل دیا جائے گا، اور اگر تلافی ممکن نہ ہو تو نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا، البتہ بندہ گنہگار ہوگا مولانا۔ تو یہاں پر بھی اس نے ادا تو کر دی، لیکن یہ اداِ قاصر ہے، کیونکہ دراہم کی صفت میں کمی آ چکی تھی، لہٰذا اب اس کے مثل کے ساتھ اس کی تلافی کی جائے گی، لیکن یہاں پر کھڑے پن کا کوئی مثل ہے ہی نہیں! اکیلا کھرا پن کہیں سے ملتا ہے کہ وہ لے آئے اور یہاں لا کر اس کو دے دے بھئی؟ جی؟ تو لہٰذا اب یہ جو قابض تھا اس کو بعد میں پتہ چل گیا کہ بھئی! اس نے تو مجھے کس قسم کے دراہم دیے تھے؟ کھوٹے دراہم دیے تھے، تو کہتے ہیں بھئی، کچھ اب کچھ نہیں ہو سکتا، اب یہ کسی قسم کا ضمان اس مدیون سے نہیں لے سکتا، ہاں! تو اس پر گناہ ہوگا۔ کیونکہ یہ کون سی ادا پائی گئی؟ اداِ قاصر پائی گئی، اور اداِ قاصر کے اندر کیا ضابطہ آپ نے پڑھا؟ کہ نقصان کی تلافی مثل کے ذریعے ممکن ہو تو تلافی کی جائے گی، اگر مثل کے ذریعے تلافی ممکن نہ ہو تو پھر نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا اور وہ گناہ البتہ باقی رہے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی کھرا پن اکیلا نہیں ہوتا، وہ تو کھرا پن تو ہمیشہ دراہم کی صفت ہوتی ہے، وہی دراہم ٹھیک ہیں تو کھڑے کہلاتے ہیں، وہی دراہم خراب ہیں تو کیا کہلاتے ہیں؟ کھوٹے کہلاتے ہیں، تو کھرا اور کھوٹا ہونا یہ الگ ہوا ہے کبھی دراہم سے؟ یہ الگ ملتے ہی نہیں، اب وہ کہاں سے کھرا پن لے کر آئے اور اس کے حوالے کرے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں مثل ممکن نہیں، نہ مثل عقلاً ممکن ہے، عقلاً میں نے بتلا دیا کہ اکیلا کھرا پن پایا ہی نہیں جاتا، جب بھی پایا جائے گا کس کے ساتھ ہوگا؟ دراہم کے ساتھ ہوگا، دراہم تو وہ دے چکا ہے، اب صرف کیا باقی ہے مولانا؟ کھرا پن، تو اس کا کوئی مثل ممکن ہی نہیں عقلاً، اور شریعت نے بھی کسی چیز کو اس کا مثل قرار نہیں دیا بھئی۔ شریعت نے بھی نہیں کسی چیز کو اس کا مثل قرار دیا، چنانچہ حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اموالِ ربویہ، وہ مال جن کے اندر ربوا، سود جاری ہو، سود آتا ہو بھئی، ان کے بارے میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: جيدها ورديها سواء بھئی، کہ ان اموالِ ربویہ کا جید، عمدہ، یعنی کھرا، اور ردی جو ہے وہ کیا ہیں آپس میں؟ برابر ہیں، تو دیکھو! عمدہ اور ردی دونوں کو برابر قرار دیا گیا حدیث کے اندر بھئی۔ تو دراہم بھی کس میں سے ہیں؟ اموالِ ربویہ میں سے ہیں، ایک آدمی ایک کو دوسرے کو 10 درہم دے اور دوسرے سے 11 درہم لے لے، یہ جائز نہیں، آپ پڑھ چکے ہیں کیونکہ ربوا لازم آئے گا، تو یہ بھی اموالِ ربویہ میں سے ہے۔ تو مولانا! یہاں پر اس کھڑے کھڑے پن کا مثل نہ عقلاً ممکن ہے اور نہ شرعاً ممکن ہے، جب مثل ممکن نہیں تو تلافی نہیں ہو سکتی، جب تلافی نہیں ہو سکتی تو نقصان کا حکم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، البتہ وہ شخص کیا ہوگا ادا کرنے والا؟ گنہگار، اس پر گناہ رہے گا باقی بھئی۔ یہ امام صاحب فرماتے ہیں بھئی۔ البتہ صاحبین فرماتے ہیں اس مسئلے میں کہ بھئی وہ جو قابض ہے، جس کو کھوٹے درہم دیے گئے بھئی، وہ کیا کرے؟ اسی جیسے کھوٹے درہم کہیں سے حاصل کر لے، اور وہ لا کر پھر مدیون کو دے کہ بھئی تم نے مجھے یہ کھوٹے دراہم دیے تھے، یہ لو، کھوٹے دراہم واپس لے لو اور مجھے کس قسم کے لا کر دو؟ کھڑے لا کر دو۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک نہیں بھئی، اب ضمان کیا ہو چکا؟ ساقط ہو چکا بھئی، اور صاحبین نے بتلایا طریقہ بھئی کہ کہیں اور سے کھوٹے لا کر اسے واپس کرے اور اس سے کھڑے لے لے، صورتِ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! تو کہتے ہیں: وعلى هذا، اور اسی بنا پر: لو أدى زيفا، اگر ادا کر دیے مدیون نے بھئی، زيفا، کس قسم کے دراہم بھئی؟ کھوٹے، مكان جيد، عمدہ درہموں کی جگہ بھئی، جید: عمدہ بھئی، یعنی کھڑوں کی جگہ پر کیا ادا کر دیے؟ لو أدى زيفا، اگر کھوٹے ادا کر دیے، مكان جيد، کھڑوں کی جگہ پر، فهلك عند القابض، پس وہ ہلاک ہو گئے بھئی کھوٹے دراہم، عند القابض، کس کے پاس بھئی؟ قابض، وہ قبضہ کرنے والے کے پاس، یعنی جس کے اس نے حوالے کیے بھئی، فلا شيء له على المديون عند أبي حنيفة رحمه الله، تو اس قابض کے لیے کوئی چیز نہیں ہے مدیون پر، یعنی مدیون پر اب اور کوئی ضمان اس کے لیے نہیں آئے گا، عند أبي حنيفة رحمه الله، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ نفسِ ادا تو پائی گئی ہے، نفسِ ادا اس نے کر دی ہے یا نہیں بھئی؟ ہاں! تو نفسِ ادا پائی گئی ہے، لہٰذا اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا، صرف کھرا پن باقی ہے، لیکن آگے کیا فرما رہے ہیں: لأنه لا مثل لصفت الجودة، جودت کہتے ہیں کھڑے پن کو، کھرا پن۔ اس لیے کہ کوئی مثل نہیں ہے کھڑے پن کی صفت کا، منفردة، اکیلا، اکیلے کھڑے پن کے صفت کا کوئی مثل نہیں بھئی، حتى يمكن جبرها بالمثل، یہاں تک کہ ممکن ہو سکے اس کی تلافی کس کے ساتھ؟ مثل کے ساتھ بھئی۔ تو اکیلے بھئی کھڑے پن کا کوئی مثل ہے ہی نہیں کہ اس کے ذریعے ہم کیا کر سکیں؟ اس کھڑے پن کی تلافی کر سکیں بھئی، ہے ہی نہیں۔ یہ معنی ہے، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ لأنه لا مثل لصفت الجودة، اس لیے کہ کوئی مثل نہیں ہے کھڑے پن کی صفت کا، منفردة، اکیلا، اکیلے کھڑے پن کا کوئی مثل نہیں، حتى يمكن جبرها، یہاں تک کہ ممکن ہو اس کا اس کی تلافی، بالمثل، کس کے ذریعے؟ مثل کے ساتھ، مثل کے ذریعے، ولو سلم العبد مباح الدم... جی! یہاں بھئی اب دو مسئلے آپ کو اکٹھے بتلا رہے ہیں بھئی، ایک ہی قسم کے دو مسئلے بھئی۔ صورتِ اول یہ مولانا، ایک آدمی ہے اس کا مثلاً آپ کا ایک غلام ہے بھئی، وہ غلام آپ سے کوئی غصب کر کے لے گیا، کوئی چھین کر لے گیا۔ جب وہ غلام چھین کر لے کر گیا، تو اس وقت وہ غلام محفوظ الدم تھا، یعنی اس کا قتل کرنا، اس کا خون کرنا کسی کے لیے جائز نہیں تھا۔ تو وہ محفوظ الدم غلام کو غصب کر کے لے گیا بھئی۔ وہاں پر بھئی، غاصب کے پاس اس غلام نے جنایت کی، کسی شخص کو قتل کر دیا بھئی۔ اب قتل کی وجہ سے یہ غلام کیا بن گیا بھئی؟ جان بوجھ کر قتل کیا تو یہ مباح الدم بن گیا، اب اس کو بھی قصاص میں کیا کیا جائے گا بھئی؟ اب اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا، تو یہ غلام اب مباح الدم بن گیا۔ اب یہ غلام اس نے واپس مالک کے حوالے کر دیا لا کر۔ تو غاصب جب غلام لے کر گیا تھا، تو کس قسم کا لے کر گیا تھا؟ محفوظ الدم غلام لے کر گیا تھا، لیکن جب وہ واپس لے کر آیا اور مالک کے حوالے کیا، تو کس قسم کا غلام حوالے کیا؟ مباح الدم غلام واپس کیا بھئی۔ تو دیکھو! غاصب جب غلام کو لے گیا تھا، تو اس پر کیا واجب تھا؟ کہ جس قسم کا غلام لے کر گیا ہے، اسی قسم کا غلام واپس کرے۔ یا تو غلام بھی وہی ہونا چاہیے اور صفات بھی وہی ہونی چاہئیں۔ اور مالک ہے اس کا مستحق بھئی، تو اس عین واجب کو اس کی صفات کے ساتھ مستحق کے کیا کرتا؟ سپرد کرتا۔ تو اب اس نے عین واجب کو مستحق یعنی مالک کے سپرد تو کیا ہے، لیکن اسی صفات کے انھی صفات کے ساتھ یا صفات میں کمی آ چکی بھئی؟ صفات میں کیا ہوئی ہے؟ کمی آ چکی ہے بھئی۔ تو یہ ادا کون سی ہوئی بھئی؟ اداِ قاصر ہوئی بھئی، کہ عین واجب کو سپرد کر رہا ہے، اسی غلام کو سپرد کر رہا ہے جس کو لے کر گیا تھا، تو نفسِ ادا تو پائی گئی۔ لیکن اس کی صفت میں کیا آ چکی ہے؟ کمی آ چکی ہے بھئی، تو یہ اداِ قاصر ہوئی مولانا، اداِ قاصر۔ اب یہ غلام بھئی مالک کے پاس ہلاک ہو گیا خود بخود بھئی۔ قصاص نہیں قصاص نہیں لیا گیا تھا اس سے ابھی مولانا، مالک کے پاس خود بخود کیا ہوا یہ غلام بھئی؟ ہلاک ہو گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہلاک ہو گیا۔ تو بھئی اس صورت کے اندر بھئی اب چونکہ نفسِ ادا پائی گئی بھئی، اداِ قاصر پائی گئی یا نہیں؟ نفسِ ادا تو پائی گئی ہے، البتہ صفت میں کمی آئی ہے بھئی، اور تو ادا یہ اداِ قاصر ہوئی، اور اداِ قاصر کا کیا حکم پڑھا آپ لوگوں نے؟ کہ اگر مثل کے ساتھ تلافی ہو سکے تو تلافی کی جائے گی، ورنہ نقصان کا حکم ساقط ہو جائے گا۔ تو یہاں پر بھی مثل کے ساتھ نقصان کی تلافی ممکن نہیں، لہٰذا نقصان کا حکم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا، لہٰذا غاصب پر کسی قسم کا کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ محفوظ الدم غلام لے کر آیا گیا تھا، مباح الدم واپس لے کر آیا اور حوالے کر دیا، اور پھر یہ غلام خود بخود طبعی موت مر گیا مالک کے پاس، تو اس غاصب پر اب کسی قسم کا کوئی ضمان، آقا یہ نہیں کہہ سکتا، اس پر مقدمہ کر دے کہ یہ مجھ سے کس قسم کا غلام لے کر گیا تھا؟ محفوظ الدم، اور جب مجھے واپس دیا، تو بعد میں مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ کس قسم کا اس نے واپس کیا تھا؟ مباح الدم بھئی، تو اب ضمان دے مجھے اس کا، نہیں بھئی! اب غاصب پر کوئی ضمان نہیں، کیونکہ نفسِ ادا پائی گئی بھئی، اور مثل ہے نہیں کہ جس کے ذریعے تلافی ہو سکے۔ اسی طرح بھئی! اگر بھئی بائع جو ہے، میں نے آپ کو ایک غلام بیچا بھئی، عام غلام آپ کو بیچا، تو وہ محفوظ الدم ہے بھئی، آپ نے مجھ سے ایک لاکھ روپے میں خرید لیا۔ آپ کے ساتھ میری بیع ہو گئی، عقد ہو گیا، لیکن ابھی میں نے غلام آپ کے حوالے نہیں کیا، مثلاً فرض کرو غلام دوسری جگہ پر ہے، اب وہاں سے میں نے غلام کو بلوایا، اور تو اس دوران ابھی آپ کے حوالے نہیں کیا تھا کہ غلام نے میرے پاس ہوتے ہوئے ایک شخص کو قتل کر دیا بھئی، آپ کے سب آپ کو سپرد کرنے سے پہلے غلام نے کیا جنایت کی بھئی؟ قتل کر دیا ایک شخص کو بھئی، تو بھئی میں ہوں بائع، آپ نے میرے ساتھ عقدِ بیع کیا ہے، اب میری ذمہ داری ہے کہ وہ مبیعہ صحیح سالم آپ کے سپرد کروں، یعنی جن صفات کے بیع تقاضا کر رہی تھی، انھی صفات کے ساتھ وہ غلام آپ کے حوالے کروں۔ تو بیع کے میں تو عام غلام کی بیع ہوئی تھی، تو کس قسم کا غلام مجھے دینا چاہیے؟ محفوظ الدم غلام دینا چاہیے، لیکن میں وہ غلام جس نے قتل کر دیا اب مباح الدم ہو چکا، اس کا خون کرنا جائز ہے، قتل کرنا جائز ہو چکا، کیونکہ قصاص لیا جائے گا، اسے قتل کیا جائے گا، وہی غلام میں نے آپ کے حوالے کر دیا، آپ کو تو پتہ نہیں، آپ نے لے لیا بھئی۔ تو بھئی نفسِ ادا پائی گئی، کیا ہوئی؟ نفسِ... تو وہ جس غلام کی بیع ہوئی تھی، اسی غلام کو میں نے آپ کے حوالے کر دیا بھئی، تو نفسِ ادا پائی گئی، لیکن صفت میں کیا آ گئی بھئی؟ تو سپرد تو میں نے عین واجب ہی کو کیا، لیکن اس کی صفت میں اس کے کمی آ چکی ہے، تو عین واجب کو سپرد کیا جائے اور صفت میں اس کے کمی آئی ہو، تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ کون سی ادا ہے؟ یہ اداِ قاصر ہوئی، تو اداِ قاصر بھئی، تو اداِ قاصر کا کیا حکم آپ نے پڑھا ہے؟ کہ اگر جی، تو وہ غلام میں نے آپ کو دے دیا، آپ کو ابھی پتہ نہیں، واپس نہیں کیا تھا، یا میرے حوالے نہیں کیا، یا وہ مقتول کے جو ولی ہیں، ان کے حوالے غلام... ان کے حوالے غلام کو نہیں بھئی دیکھو، اگر غلام کسی کو قتل کر دے، کسی سے جنایت کر دے تو اس غلام کو ہی ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ ان کو کیا کیا جاتا ہے؟ اقا یا تو کیا کریں؟ ان کو پیسے دے دے بھئی جتنی تاوان بنتا ہے، وہ ان کو دے دے بھئی ، جتنا دیت یا جتنا عرش وغیرہ بنتا ہے، یا تو ان کے حوالے کر دے یا پھر غلام کو بدلے میں کیا کرے؟ دے۔ مثلاً غلام نے کسی شخص کا ہاتھ کاٹ لیا۔ اب اقا کی مرضی ہے، چاہے تو کیا کرے؟ اس غلام کو دے دے بھئی، کیونکہ وہ عرش آئے گا یا نہیں آئے گا، مولانا؟ جی؟ اچھا، تو غلام اگر جنایت کر لے تو پھر کیا کیا جاتا ہے؟ میں نے کیا مثال ذکر کی؟ غلام نے مثلاً کسی کا ہاتھ کاٹ لیا تو بدلے میں کیا کیا جائے گا؟ اب اسی غلام کو ان کے حوالے یا کیا کر دے؟ اقا خود اپنی جیب سے فدیہ دے دے اور غلام کو چھڑوا لے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کسی کا ہاتھ کاٹا ہے تو اس کو اب اس کے عرش دینا پڑے گا بھئی، اور چاہے تو اقا عرش دے دے یا غلام کو اس کے حوالے کر دے۔ تو اب بھئی، میں نے آپ کو کس کے، میں بائع تھا، میں نے کس قسم کا غلام آپ کے سپرد کیا ہے؟ کرنا کس طرح کا چاہیے تھا؟ محفوظ الدم، اور سپرد کس طرح کا کیا ہے؟ مباح الدم، اور وہ غلام آپ کے پاس طبعی موت مر گیا بھئی۔ مثلاً اس کو ہارٹ اٹیک ہوا، مر گیا بھئی آپ کے پاس۔ بعد میں آپ کو کسی نے بتایا بھئی کہ یہ جو غلام اس نے بائع نے آپ کو دیا تھا، کس قسم کا تھا؟ مباح الدم غلام آپ کو دیا بھئی، اس کو تو محفوظ الدم دینا چاہیے تھا، اس نے مباح الدم دیا بھئی۔ تو بھئی، اس صورت کے اندر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بائع پر کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ مشتری پر ثمن لازم ہو چکے، کیونکہ بائع نے کیا کیا ہے؟ نفسِ ادا کر دی ہے اس عینِ واجب، اسی غلام کو جس کی بیع ہوئی تھی، کس کے سپرد کر دیا ہے؟ مشتری کے سپرد کر دیا ہے، ہاں صرف اس کی صفت میں کمی آئی ہے، لیکن وہ ہلاک ہو چکا بھئی۔ اور اس نقصان کی اب تلافی ممکن نہیں، اور اب نقصان کی تلافی ممکن نہ ہو تو نقصان کا حکم کیا ہو جایا کرتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔ لہذا، اب چونکہ نفسِ ادا پائی گئی، بائع غلام کو مشتری کے حوالے کر چکا ہے اور مشتری کے پاس وہ ہلاک ہوا ہے تو اب مشتری کو کیا دینے پڑیں گے؟ ثمن دینے پڑیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مشتری کو کیا دینے پڑیں گے؟ ثمن اب دینے پڑیں گے، اس پر لازم ہو جائیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے، یہ دونوں مسئلے اکٹھے ذکر کر رہے ہیں۔ وَلَوْ سَلَّمَ الْعَبْدَ اور اگر سپرد کر دیا وہ غلام، سپرد کر دیا غلام کو مُبَاحَ الدَّمِ اس حال میں کہ وہ غلام کیا ہو بھئی؟ مباح الدم ہو بِجِنَايَةٍ سپرد کیا مولانا، چاہے وہ سپرد کرنے والا کون ہو؟ غاصب ہو یا بھئی، دو مسئلے ہیں نا، غصب کے اور بیع کے، دونوں کو اکٹھا ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَلَوْ سَلَّمَ اگر سپرد کیا بھئی، اوپر کیا لکھا ہے؟ اَلْغَاصِبُ أَوْ الْبَائِعُ، تو اکٹھے مسئلے چل رہے ہیں۔ اگر سپرد کیا غاصب نے مسئلہ اولیٰ میں اور اگر سپرد کیا بائع نے مسئلہ ثانیہ میں، کس کو؟ وہ غلام، اس غلام کو مُبَاحَ الدَّمِ اس حال میں کہ وہ کیا ہے غلام؟ مباح الدم ہے، کیوں مباح الدم ہے؟ بِجِنَايَةٍ عِنْدَ الْغَاصِبِ بوجہ ایسی جنایت کے جو کس کے پاس اس نے کی ہے؟ غاصب کے پاس کی ہے أَوْ عِنْدَ الْبَائِعِ بَعْدَ الْبَيْعِ یا کس کے پاس کی ہے اس نے؟ بائع کے پاس کی ہے بیع کے بعد۔ تو دیکھیے، غلام سپرد کر دیا مباح الدم کو غاصب نے یا بائع نے، فَإِنْ هَلَكَ عِنْدَ الْمَالِكِ پھر پس وہ غلام اگر ہلاک ہو گیا کس کے پاس؟ غاصب نے مالک کو دے دیا، لیکن لے کر کس قسم کا گیا تھا؟ محفوظ الدم، اور دیا کس قسم کا؟ اب یہ ہلاک ہو گیا مالک کے پاس أَوْ الْمُشْتَرِي یا بائع نے دینا تو محفوظ الدم تھا، لیکن دیا کس قسم کا؟ مباح الدم، اور وہ ہلاک ہو گیا مشتری کے پاس قَبْلَ الدَّفْعِ قبل حوالے کرنے کے، قبل کس کے؟ بھئی دیکھو، غلام جب مباح الدم ہوا تو اس کو کس کے سپرد کیا جائے گا؟ بھئی، غلام کس کو دیا جائے گا؟ اس نے جنایت کی ہے۔ تو جس کی جنایت کی ہے، اس کے ولی کے کیا کیا جائے گا؟ سپرد کیا جائے گا۔ تو مشتری کے، میں نے، میں بائع تھا، میں نے مشتری کو وہ غلام دے دیا، مشتری نے آگے ابھی اس ولی کے سپرد اسی کے پاس ہلاک ہو گیا، یا غاصب کو مالک کو دے دیا تھا، مالک نے ابھی اس کس کے سپرد نہیں کیا؟ اس مقتول کے ولی کے سپرد نہیں کیا کہ اس کے پاس ہی وہ ہلاک ہو گیا۔ لَزِمَهُ الثَّمَنُ تو مشتری پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ حوالے کرنے سے پہلے ان کے پاس ہلاک ہو گیا، لَزِمَهُ الثَّمَنُ تو مشتری پر ثمن لازم ہو جائیں گے کیونکہ نفسِ ادا پائی گئی ہے، غلام اس کے بائع نے حوالے کر دیا تھا۔ وَبَرِئَ الْغَاصِبُ اور دوسری، غصب والی صورت میں وَبَرِئَ الْغَاصِبُ، غاصب کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا۔ بھئی کیوں بھئی، یہ مشتری پر ثمن لازم کیوں ہوں گے اور غاصب بری کیوں ہو گا؟ کہتے ہیں بِاعْتِبَارِ أَصْلِ الأَدَاءِ، کس اعتبار سے؟ اصلِ ادا کے اعتبار سے، یعنی نفسِ ادا تو پائی گئی۔ بیع ہوئی تھی غلام کی اور بائع کے حوالے کر چکا غلام حوالے کر چکا، اور غاصب کس کو لے کر گیا تھا؟ جس غلام کو لے کر گیا تھا، اسی غلام کو کیا کیا اس نے؟ واپس، تو نفسِ ادا تو پائی گئی، لہذا دونوں بری۔ وَإِنْ قُتِلَ بِتِلْكَ الْجِنَايَةِ اسْتَنَدَ الْهَلاَكُ، یہ دوسری صورت بھئی۔ پہلے صورت تو یہ تھی کہ غلام خود بخود دونوں کے پاس ہلاک ہوا۔ اب یہ کہ غلام کو قصاصاً قتل کیا گیا۔ غلام کو کیا کیا گیا؟ قصاصاً قتل کیا گیا۔ اچھا بھئی، صورت کیا تھی؟ ایک شخص نے دوسرے کا غلام غصب کیا اور وہ محفوظ الدم تھا جب غصب کیا۔ اور پھر وہ غلام کیا کیا اس نے؟ اس غاصب کے پاس قتل کر دیا اور غاصب نے پھر وہ مباح الدم غلام لا کر کس کے حوالے کر دیا؟ مالک کے حوالے کر دیا بھئی۔ جب مالک کے حوالے کر دیا تو یہاں پر وہ قصاص لینے والے آ گئے مولانا، وہ ولی آ گئے مقتول کے کہ ہم اس سے قصاص لیں گے بھئی، قاضی کے پاس لے گئے، مقدمہ چلا اور غلام کو کیا کر دیا گیا؟ قصاصاً قتل کر دیا گیا۔ تو اب دیکھیے مولانا، غلام ہلاک ہوا یہاں، قتل ہوا، کس سبب سے؟ قصاص کے سبب سے، کس سبب سے؟ قصاص کی وجہ سے قصاص لیا گیا تو وہ قتل ہوا، ہلاک ہوا بھئی۔ تو غلام کی ہلاکت کا سبب ہے قصاص، اور قصاص کا سبب ہے وہ جرم بھئی، وہ جو اس غلام نے قتل کیا تھا۔ اور وہ جرم کس کے پاس کیا تھا اس نے؟ غاصب کے پاس کیا گیا، غاصب کے پاس کیا تھا بھئی۔ تو غلام کے قتل کا سبب ہے قصاص، اور قصاص کا سبب ہے وہ جرم، اور وہ جرم کس کے پاس پایا گیا ہے؟ غاصب کے پاس پایا گیا۔ تو یہ گویا اسی طرح ہوا کہ وہ غلام بھی کس کے پاس قتل ہوا؟ غاصب ہی کے پاس قتل ہوا، اس نے مالک کو واپس کیا ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ غلام کے قتل کا سبب کیا ہوا؟ قصاص، اور قصاص کا سبب کیا تھا؟ وہ جنایت تھی، وہ جرم تھا، اور وہ جرم کس کے پاس کیا تھا قتل والا غلام نے؟ غاصب کے پاس، تو جب غاصب کے پاس جرم کیا تھا تو اس قتل کی نسبت بھی اسی سبب کی طرف کی جائے گی، کیونکہ سبب کا سبب بھی غلام کے قتل کا سبب قصاص، اور قصاص کا سبب وہ جرم، تو سبب کا سبب بھی کیا ہوا کرتا ہے؟ سبب ہوا کرتا ہے یا یوں کہو علت کی علت بھی علت ہوا کرتی ہے۔ تو یہاں اس قتل کی نسبت اس جرم کی طرف کی جائے گی اور وہ جرم کس کے پاس پایا گیا؟ غاصب کے پاس پایا گیا، تو یوں ہی سمجھا جائے گا کہ قتل بھی غلام کس کے پاس ہوا؟ غاصب ہی کے پاس ہوا، جب غاصب ہی کے پاس قتل ہوا تو ادا ہوئی؟ غاصب نے مالک کو دیا ہے؟ گویا کہ مالک کو اس نے دیا ہی، جب غاصب کے پاس ہی قتل ہوا تو مالک کو اس نے دیا؟ نہیں بھئی، تو یہ اس کی جو ادا ہے، وہ عدم ہو جائے گی مولانا، اس نے دیا ہی نہیں کیونکہ اس سبب کی وجہ سے غلام کو کیا کہہ، کیا کر دیا گیا؟ ہلاک کر دیا گیا، قتل کر دیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اسی طرح بھئی، میں نے آپ کو غلام بیچا تھا محفوظ الدم، لیکن آپ کو دینے سے پہلے غلام نے کیا کیا بھئی؟ قتل کر دیا، اب وہ مباح الدم ہو چکا، میں نے غلام آپ کو دے دیا۔ وہ غلام آپ کے پاس آیا تو پھر اس پر مقدمہ چلا اور اس غلام کو کیا کر دیا گیا؟ قصاصاً قتل کر دیا گیا۔ اب بھئی، غلام کے قتل کا سبب کیا ہے؟ قصاص، اور قصاص کا سبب کیا ہے؟ وہ جنایت ہے، تو وہ سبب کا سبب، اور سبب کا سبب بھی کیا ہوتا ہے؟ سبب ہوتا ہے، تو گویا قتل کا سبب وہ جنایت ہے، اور وہ جنایت کس کے پاس پائی گئی تھی؟ بائع کے پاس پائی گئی تھی، تو یہ اسی طرح ہے گویا بائع نے مبیع حوالے ہی نہیں کیا، غلام اسی کے پاس قتل ہو گیا بھئی، گویا غلام جب غلام اسی کے پاس قتل ہو گیا تو ادائی نہیں ہوئی، جب ادائی نہیں ہوئی تو اب مشتری پر ثمن لازم ہیں؟ ثمن لازم نہیں، صورت سمجھ میں، غلام تو میں آپ کو دے چکا تھا، لیکن چونکہ اس کے قتل کا سبب دینے والے کے پاس پایا گیا، تو گویا کہ اس نے غلام کو دیا ہی، جب دیا ہی نہیں تو مشتری کو اگر دیا ہوتا تو اس پر ثمن لازم ہوتے، جب دیا ہی نہیں تو مشتری پر ثمن بھی لازم نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بیع ہی ختم ہو جائے گی، کیونکہ مبیع ہی ختم ہوا بھئی۔ یہ ہے مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا، ان کے نزدیک ایسا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَإِنْ قُتِلَ بِتِلْكَ الْجِنَايَةِ اور اگر قتل کر دیا غلام کو بھئی اس جنایت کی وجہ سے اسْتَنَدَ الْهَلاَكُ إِلَى أَوَّلِ سَبَبِهِ تو نسبت، اسناد ہوگا ہلاکت کا اس ہلاکت کے سببِ اول کی طرف فَصَارَ كَأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الأَدَاءُ تو یہ اسی طرح ہو گیا گویا کہ ادا پائی ہی نہیں گئی عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، کس کے نزدیک بھئی؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ اسی طرح اگلا مسئلہ بھی ہے، ایک شخص نے دوسرے کی باندی کو غصب کر لیا اور پھر یہ جو مغصوبہ باندی تھی، اس کے ساتھ کسی نے زنا کیا غاصب کے پاس اور یہ حاملہ ہو گئی۔ اب اس نے یہ حاملہ باندی جو تھی، مالک کو کیا کر دی؟ واپس کر دی۔ تو اب دیکھو تو باندی میں کیا آ چکا ہے؟ جی، اس کے وصف میں کمی آ چکی ہے۔ اب اس یہ باندی جب اس بچے کو جنم دیتے ہوئے باندی ہلاک ہو گئی بھئی، باندی کیا ہو گئی؟ ہلاک ہو گئی، تو اس صورت میں دیکھو ہلاکت کا سبب کیا ہے؟ ولادت، اور ولادت کا سبب کیا ہے؟ وہ فعلِ زنا ہے، وہ حاملہ ہونا ہے، اور وہ حاملہ ہونا کہاں پر پایا گیا بھئی؟ غاصب کے پاس، تو وہ سببِ اول ہے بھئی، اور سبب کا سبب بھی کیا ہوتا ہے؟ سبب ہوتا ہے۔ لہذا اس صورت میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، غاصب پر کیا آ جائے گا؟ ضمان آ جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ کیا آ جائے گا؟ ضمان آئے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ مشکل تو نہیں ہے بھئی؟ وَالْمَغْصُوبَةُ إِذَا رُدَّتْ اور مغصوبہ باندی کو جب واپس کیا گیا حَامِلاً اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی بِفِعْلٍ ای بفعل الزناءِ بھئی، کس کے سبب سے؟ کسی فعل کے سبب سے، یعنی مراد ہے فعلِ زنا کی وجہ سے عِنْدَ الْغَاصِبِ تو زنا کے فعل سے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ہاں، اگر حلال وطی کی وجہ سے وہ حاملہ ہوئی ہے، پھر نہیں بھئی، حلال وطی کے یعنی اس کے خاوند نے اس سے وطی کی اس میں غصب کے بعد بھئی۔ تو ہلاک ہو گئی، جب واپس کی گئی اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی بِفِعْلٍ کسی فعل کی وجہ سے، یعنی فعلِ زنا کی وجہ سے ایسا فعل عِنْدَ الْغَاصِبِ جو کس کے پاس ہوا؟ غاصب کے پاس، فَمَاتَتْ بِالْوِلاَدَةِ عِنْدَ الْمَالِكِ پس وہ مر گئی ولادت کے سبب سے مالک کے پاس، اس نے واپس کر دی، اب مالک کے پاس ولادت ہوئی ہے اور وہاں پر کیا ہوئی ہے وہ؟ مر گئی۔ لاَ يَبْرَأُ الْغَاصِبُ عَنِ الضَّمَانِ بری نہیں ہوگا غاصب ضمان سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، بلکہ اس سے کیا کیا جائے گا؟ ضمان لیا جائے گا۔ جی۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک بھئی ضمان نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ ہلاکت کا سبب ولادت ہے، وہ اس سببِ قریب کی طرف نسبت کرتے ہیں، اور امام صاحب کس کی طرف نسبت کرتے ہیں؟ سببِ، سببِ اول کی طرف بھئی۔ ثُمَّ الأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ پھر اصل ضابطہ جو ہے اس باب کے اندر، پھر اصل اس باب کے اندر هُوَ الأَدَاءُ وہ کیا ہے؟ ادا ہے کَامِلاً كَانَ أَوْ نَاقِصاً، بھئی ضابطہ بتلا رہے ہیں بھئی، اصل کیا ہے ادا اور قضا میں سے؟ ادا ہے بھئی، چاہے ادائے کامل ہو، چاہے ادائے قاصر ہو۔ تو جب تک ادا ممکن ہے، قضا کی طرف نہیں جائیں گے، اور جب ایک مرتبہ قضا کی طرف چلے گئے، پھر ادا کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ کہ اس باب میں اصل کیا ہے؟ ادا اور قضا میں، اصل کیا ہے؟ ادا، ادا چاہے کامل ہو جائے، چاہے ناقص ہو جائے، بس ادا ہے اصل، ادا ہونی چاہیے۔ اور قضا کی طرف ہم کب جائیں گے؟ جب ادا ممکن نہ رہے، اور ایک دفعہ جب قضا کی طرف چلے گئے تو پھر دوبارہ ادا، یہ ضابطہ یاد رکھنا بھئی۔ ثُمَّ الأَصْلُ فِي هَذَا الْبَابِ هُوَ الأَدَاءُ پھر اصل اس باب کے اندر وہ ادا ہے کَامِلاً كَانَ أَوْ نَاقِصاً، کامل ہو وہ یا ناقص ہو۔ وَإِنَّمَا يُصَارُ إِلَى الْقَضَاءِ عِنْدَ تَعَذُّرِ الأَدَاءِ اور رجوع کیا جائے گا قضا کی طرف عند تعذر الاداء، جب ادا کیا ہو جائے؟ متعذر ہو جائے، ممکن نہ رہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس لیے کیونکہ ادا ہے اصل اور قضا ہے اس کا خلیفہ، اور جب تک اصل پر عمل ممکن ہو، قضا کی طرف، اس کے خلیفہ کی طرف نہیں جائیں گے۔ جب اصل خود موجود ہے تو قضا کی طرف جا نہیں سکتے بھئی۔ وَلِهَذَا اسی وجہ سے، دیکھیے اگلا مسئلہ دیکھو بھئی، اگلے مسئلے میں ایک بات یاد رکھو کہ عقد کے اندر یہ درہم و دنانیر متعین نہیں ہوتے بھئی، عقد کے اندر کیا ہے؟ درہم و دنانیر متعین نہیں ہوتے، نہیں ہوتے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ نہیں کہ وہ آپ نے کسی کو کوئی چیز درہم و دنانیر کے ساتھ خریدی کسی سے اور وہ کہتا ہے مجھے تو وہی درہم چاہیے جو آپ نے مجھے اس وقت دکھائے تھے، تو وہ دینا آپ کے ذمے لازم نہیں ہے، ہاں اتنے ہونے چاہئیں، اس کے مثل ہونے چاہئیں۔ البتہ ودیعت، وکالت اور غصب، ان تینوں کے اندر ہمارے نزدیک درہم و دنانیر متعین ہو جاتے ہیں۔ کن تینوں کے اندر بھئی؟ دیکھیے، خود آگے آ رہا ہے، ودیعت، وکالت اور غصب کے اندر۔ بھئی، ودیعت کس کو کہتے ہیں؟ امانت رکھوانا، جو امانت امانت کسی کے پاس رکھوائی۔ بھئی، آپ نے کسی کے پاس اپنے درہم و دنانیر امانت رکھوائے تو اس اب امانت کے باب میں درہم و دنانیر متعین ہو جاتے ہیں، اس شخص کے ذمے لازم ہے کہ وہی درہم آپ کو واپس کرے جو آپ نے اس کے پاس رکھوائے تھے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح توکیل کے، وکالت کے باب میں، کسی شخص کو آپ نے وکیل بنایا کہ یہ درہم لے جاؤ، میرے لیے فلاں چیز لے آؤ، میرے وکیل ہو بھئی تم میرے اس کام میں جاؤ، اب وہ شخص اس پر لازم ہے کہ انہی دراہم کے بدلے کیا کرے وہ چیز آپ کے لیے لے کر آئے۔ اسی طرح کسی شخص نے آپ کے درہم غصب کیے تو اس شخص پر لازم ہے کہ انہی دراہم کو کیا کرے؟ مالک کو واپس کرے، سمجھ میں آیا؟ تو ان تینوں کے اندر دراہم و دنانیر کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں۔ تو، جی۔ وَلِهَذَا اور اسی وجہ سے يَتَعَيَّنُ الْمَالُ فِي الْوَدِيعَةِ وَالْوَكَالَةِ وَالْغَصْبِ مال متعین ہو جاتا ہے کس کے اندر بھئی؟ ودیعت کے اندر، وکالت کے اندر اور غصب کے اندر، غصب کے اندر۔ وَلَوْ أَرَادَ الْمُودَعُ اور اگر ارادہ کیا مودَع نے، مُودَعْ، مُودَعْ جس کے پاس امانت رکھوائی جائے۔ مُودِعْ جس نے امانت رکھوائی بھئی... گر مُودَعْ جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اس نے ارادہ کیا۔ وَالْوَكِيلُ اور کس نے؟ یا وکیل نے۔ وَالْغَاصِبُ یا کس نے؟ غاصب نے ارادہ کیا أَنْ يُمْسِكَ الْعَيْنَ کہ وہ اس عین ان کو روک لے، ان متعین دراہم کو کیا کر لے؟ روک لے۔ وَيَدْفَعَ مَا يُمَاثِلُهُ اور سپرد کر دے، حوالے کر دے مَا يُمَاثِلُهُ وہ درہم جو اس کے مماثل ہوں، اس جیسے ہوں۔ لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ بھئی درہم و دنانیر عام طور سے عقود میں متعین نہیں ہوتے لیکن کس کے اندر متعین ہو جاتے ہیں؟ ودیعت، وکالت اور غصب میں۔ لہذا اب وہ کیا کرنا چاہتا ہے کہ جو درہم آپ نے دیے تھے ان کو روک کر ان کے مثل آپ کو دینا چاہے تو وہ ایسا کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے اس لیے کہ اصل کیا ہے؟ ادا ہے یا قضا ہے بھئی؟ ادا۔ اور ادا کس کو کہتے ہیں؟ عینِ واجب کو دینا یا مثلِ واجب کو دینا؟ عینِ واجب کو۔ جب تک عینِ واجب دینا ممکن ہے تو عینِ واجب ہی دیا جائے گا۔ اور جب عینِ واجب ممکن نہ رہے، وہ ہلاک ہو گئے یا کچھ، تو پھر اس صورت میں کس کی طرف جایا جاتا ہے؟ مثلِ واجب کی طرف۔ تو اب یہاں جب عینِ دراہم ہیں تو عینِ واجب ہی اس کو کیا کرنا پڑے، عینِ دراہم ہی اس کو لوٹانے پڑیں گے۔ ہاں جب اگر وہ غاصب کے پاس وہ دراہم کیا ہو گئے؟ ہلاک ہو گئے، اب تو عین دینا ممکن نہیں، اور جب عین، جب ادا ممکن نہ رہے تو پھر کس کی طرف جایا جاتا ہے؟ قضا کی طرف، پھر اب وہ قضا کس کو کہتے ہیں؟ مثلِ واجب کو، تو اب ان کے مثل یعنی اتنے ہی اور درہم دے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جب تک ادا ممکن ہے قضا کی طرف نہیں جائیں گے۔ وَلَوْ بَاعَ شَيْئاً اسی طرح اگر خریدی کسی نے کوئی چیز وَسَلَّمَهُ اور کیا کر دیا؟ سپرد کر دیا، حوالے بھی کر دیا۔ بیچی کسی نے کوئی چیز اور حوالے بھی کر دی۔ فَظَهَرَبِهِ عَيْبٌ تو اس میں کیا عیب ظاہر ہوئے، کیا چیز ظاہر ہوئی؟ عیب ظاہر ہوا، فَكَانَ الْمُشْتَرِي بِالْخِيَارِ تو مشتری کو اختیار ہوگا بَيْنَ الأَخْذِ وَالتَّرْكِ فِيهِ اس میں لینے کا اور ترک کرنے کا۔ اس چیز میں مشتری کو لینے کا بھی اختیار ہے اور ترک کرنے کا بھی اختیار ہے، اختیار ہے۔ بھئی ایک شخص سے آپ نے کوئی چیز خریدی، چیز خریدنے کے بعد پتہ چلا اس نے مجھے عیب دار چیز میرے حوالے کی ہے۔ تو اب آپ کو اختیار ہے، چاہیں تو چیز جتنے میں اس نے دی ہے اتنے ہی پیسوں میں اپنے پاس رکھیں، اور چاہیں تو چیز کو واپس کر کے اس سے کیا کر لیں؟ اپنے ثمن واپس لے لیں۔ آپ اس سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس چیز میں تو عیب ہے، یہ لے لو مجھے اس کی مثل دوسری چیز دو۔ اس کی مثل عیب سے پاک اس جیسی کوئی اور عیب سے پاک اس کی مثل دے دو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ آپ اس کو نہیں کہہ، کیوں نہیں کہہ سکتے؟ اس لیے کہ جب عین موجود ہے، ادا ممکن ہے، تو قضا کی طرف نہیں جائیں گے، تو جب وہ عینِ شے موجود ہے تو اگر اب کیا کہیں ہم کہ کیا کرے گا وہ؟ کیا کرے وہ؟ اس کا مثل دے دے، تو یہ تو آپ کس کی طرف چلے گئے؟ قضا کی طرف، کیونکہ قضا میں کیا دیا جاتا ہے؟ مثل دیا جاتا ہے، اور جب تک ادا ممکن ہو قضا کی طرف جانا جائز نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کو لے لے، کہ اسی کو روکے، اسی کو رکھ لے یا اس کو کیا کر دے؟ واپس کر دے، یہ اختیار ہم نے دے دیا کیونکہ اس کے چیز کے اندر کیا ہے، وصف میں کیا آ چکی ہے؟ کمی آ چکی ہے۔ وَبِاعْتِبَارِ أَنَّ الأَصْلَ هُوَ الأَدَاءُ اور اسی اعتبار سے کہ اصل جو ہے وہ ادا ہے، يَقُولُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً اسی بنا پر کیا فرماتے ہیں؟ جی، چلیے، بس مولانا۔ بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 58 of 123