Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-050

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 95
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
تو گزشتہ سبق میں بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ امر 16 معانی کے لیے آتا ہے، جیسے وجوب ہے، ندب ہے، اباحت ہے، تحدید ہے، تعجیز ہے، ارشاد ہے، ہاں، اور اہانت ہے، اکرام ہے، وغیرہ ذلک کے۔ 16 معانی کے لیے آتا ہے۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا امر دو قسم پر ہے: ایک امر مطلق ہے، ایک امر مقید ہے۔ امر مقید وہ ہے جس کے ساتھ کوئی قرینہ ہو جو بتلائے کہ یہ امر کس لیے آیا ہے، وجوب کے لیے ہے، ندب کے لیے ہے، اباحت وغیرہ کے لیے ہے۔ اور ایک امر مطلق ہے، امر مطلق وہ ہے جس کے ساتھ کوئی لزوم یا عدم لزوم کا قرینہ نہ ہو۔ اب امر مطلق کے بارے میں اختلاف ہے، یعنی وہ امر جس کے ساتھ نہ کوئی لزوم کا قرینہ ہے اور نہ عدم لزوم کا، اس کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ وہ کس لیے آئے گا۔ بعض فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ یہ ندب کے لیے آئے گا، بعض کہتے ہیں کہ یہ امر مطلق جو ہے وہ اباحت کے لیے ہوگا، بعض فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ یہ وجوب کے لیے ہوگا، اور بعض فقہاء کرام کیا فرماتے ہیں کہ اس میں توقف کیا جائے گا کیونکہ 16 معانی ہیں، پتہ نہیں کون سا معنی مراد ہے، جب تک مراد متعین نہ ہو جائے اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ تو جمہور کا ان میں کیا مسلک ہے؟ کہ یہ کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے آئے گا، اور ہمارے نزدیک بھی مطلق امر وجوب کے لیے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ہم بھی جمہور کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں۔ جی، اس لیے کہ وجوب اس کا حقیقی معنی ہے اور جب کوئی اور قرینہ نہیں ہے تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ اس کے حقیقی معنی یعنی وجوب پر ہی محمول کیا جائے گا۔ اور پھر اس کے مصنف رحمہ اللہ نے دو مثالیں ذکر کی تھیں: پہلی "وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"، اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے، یہاں "فَاسْتَمِعُوا" امر آیا، "وَأَنصِتُوا" امر آیا، اور یہ امر قرینے سے خالی ہے، لہٰذا یہ کس لیے ہوگا؟ وجوب کے لیے، تو قرآن جب پڑھا جائے اس کا توجہ سے سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس مسئلے میں احتیاط کیا کرو بھئی، عموماً پروا نہیں کرتے لوگ، قرآن پڑھا جا رہا ہوتا ہے آپس میں گپ شپ لگاتے ہیں، جب قرآن پڑھا جائے واجب ہے آپ پر، فرض ہے آپ پر خاموش رہنا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خاموش ہو سب، کوئی کلام کرے اس کو منع کر دو بھئی، ختم! بڑا ہو یا چھوٹا ہو اس کو منع کر دو بس، اللہ کا حکم آ گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے خاموش رہو، توجہ سے سنو، اس کو سمجھاؤ بھئی کہ قرآن پڑھا جا رہا ہے، اس وقت کلام نہیں صحیح۔ اور اسی طرح دوسری مثال ذکر کی تھی "وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ"، اور نہ ہو تم قریب اس درخت کے تو پس تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے، یہاں پر "لَا تَقْرَبَا" آیا، اس پر اشکال ہوا کہ بحث چل رہی ہے امر کی اور مصنف نے مثال کس کی ذکر کر دی؟ نہی کی، میں نے بتلایا کہ نہی عن الشيء دراصل امر بضد الشيء ہوتا ہے بھئی، امر بضد الشيء، جب کسی چیز سے نہی آ جائے تو یہ دراصل اس کی ضد کا حکم دیا جا رہا ہے، یعنی جب یہاں "لَا تَقْرَبَا" کہا گیا کہ قریب نہ جاؤ، یعنی ترکِ قرب کا حکم دیا جا رہا ہے، کس چیز کا؟ ترکِ قرب کا حکم دیا جا رہا ہے بھئی۔ تو یعنی "لَا تَقْرَبَا" کس معنی میں ہوا؟ "اجْتَنِبَا"، اجتناب کرو، دور رہو، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دور رہو بھئی۔ تو پھر مصنف نے بتلایا کہ صحیح یہ مذہب ہے بھئی کہ یہ امر مطلق جو ہے وجوب کے لیے آئے گا، مگر اگر کوئی دلیل قائم ہو جائے اس کے خلاف تو پھر اس دلیل کے مطابق یعنی ندب یا اباحت کے لیے ہو سکتا ہے، ورنہ مطلق امر تو یہ کس لیے آئے گا؟ وجوب کے لیے۔ اور پھر مصنف نے مولانا دو دلیلیں ذکر کیں: ایک دلیلِ عرفی ہے اور ایک دلیلِ عقلی ہے بھئی، اور میں نے آپ کو دلیلِ نقلی بھی بتلا دی بھئی، نقلی دلیل جو منقول ہوئی ہے یعنی قرآن و حدیث سے آئی ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ "وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ" بھئی، کہ نہیں ہے کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں کہ ان کو کوئی اختیار ہو ان کے معاملے میں، یعنی پھر جب اللہ اور رسول فیصلہ فرما دیں تو پھر معاملے میں کوئی اختیار نہیں، معلوم ہوا اختیار کا نہ ہونا یہ تو وجوب میں آیا کرتا ہے کہ وجوب میں بندے کو اختیار نہیں ہوتا، ندب اور اباحت وغیرہ میں تو بندے کو اختیار ہوتا ہے، کرے یا نہ کرے، تو معلوم ہوا اختیار جب اللہ اور رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں یعنی کوئی حکم دے دیں تو اب بندے کو کوئی اختیار نہیں، معلوم ہوا واجب ہے اس پر کیا ہے یہ کام؟ واجب، معلوم ہوا امر وجوب کے لیے آیا کرتا ہے بھئی۔ اور پھر مصنف نے عرفی دلیل دی تھی کہ عرف کے اندر بھی بھئی کوئی امر پر امر دیا جائے اور پھر اس پر کوئی عمل نہ کرے تو اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ نافرمان، عاصی کہا جاتا ہے، تو کہ وہ معصیت کرنے والا ہے۔ اور اگر کوئی اس پر عمل کر لے تو اس کو اطاعت کرنے والا کہا جاتا ہے، معلوم ہوا کہ امر وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، اسی لیے اس کے نہ کرنے والے کو معصیت کرنے والا کہتے ہیں، نافرمان کہتے ہیں، اگر امر وجوب کے لیے نہ ہوتا تو اس کے نہ کرنے والے کو کوئی بھی نافرمان نہ کہتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ پھر تو اختیار ہوتا، لیکن معلوم ہوا اس میں اختیار نہیں ہوتا، اسی لیے نہ کرنے والے کو نافرمان کہا جاتا ہے، چنانچہ حماسی کے اشعار ذکر کیے جس کے اندر اطاعت نہ کرنے والے کو کیا کہا گیا ہے؟ اس پر عصیان کرنے والا کہا گیا ہے، معصیت کرنے والا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ آگے کیا ہے عبارت آپ کی کتاب میں بھئی اشعار کے بعد؟ اچھا بعض نسخوں کے اندر یہ عبارت بھئی کتابت کی غلطی سے رہ گئی ہے، میری کتاب میں ہے "سَبَبٌ لِلْعِقَابِ"، ہے کسی کتاب میں؟ ہاں یہ "سَبَبٌ لِلْعِقَابِ" سے پہلے عبارت ہے بھئی رہ گئی ہے، "وَالْعِصْيَانُ فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى حَقِّ الشَّرْعِ"، جی جن کے نہیں ہے وہ اس کے شروع میں عبارت لگا لیں بھئی، اوپر لکھ لیں، نشان لگا دیں بھئی، "وَالْعِصْيَانُ فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى حَقِّ الشَّرْعِ"، بس یہ عبارت ہے۔ "وَالْعِصْيَانُ فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى حَقِّ الشَّرْعِ سَبَبٌ لِلْعِقَابِ"، باقی عبارت موجود ہے کتاب میں بھئی۔ سمجھ میں آئی عبارت بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں "وَالْعِصْيَانُ فِيمَا يَرْجِعُ إِلَى حَقِّ الشَّرْعِ سَبَبٌ لِلْعِقَابِ"، اور نافرمانی کرنا فیما اس چیز کے اندر يَرْجِعُ جو لوٹنے والی ہو إِلَى حَقِّ الشَّرْعِ حقِ شرع کی طرف، شریعت کی طرف، سَبَبٌ لِلْعِقَابِ یہ سبب ہے کس چیز کا؟ عقاب کا بھئی، ایسی چیز میں نافرمانی کرنا جو حقِ شرع ہے، جو شریعت نے واجب کی ہے آپ پر، سَبَبٌ لِلْعِقَابِ یہ کس چیز کا سبب ہے؟ عقاب یعنی سزا کا سبب ہے، سزا کا سبب ہے، یعنی شریعت نے ایک چیز آپ پر واجب کی ہے آپ اس پر عمل نہیں کرتے، یہ کس چیز کا سبب ہے؟ سزا پھر ملے گی بھئی اس پر بھئی۔ "وَتَحْقِيقُهُ"، تحقیق اس کی یہ ہے بھئی، انہوں نے کیا کہا بھئی؟ ترکِ امر معصیت ہے، کیا ہے ترکِ امر؟ معصیت ہے، اب اس کی تحقیق کر رہے ہیں بھئی کس طرح بھئی؟ "وَتَحْقِيقُهُ"، تحقیق اس کی یہ ہے "أَنَّ لُزُومَ الْإِئْتِمَارِ"، ائتمار کا کیا معنی میں نے بتلایا تھا؟ جی؟ حکم ماننا، کہ یعنی فرمانبرداری کرنا، "أَنَّ لُزُومَ الْإِئْتِمَارِ"، فرمانبرداری کا لازم ہونا "إِنَّمَا يَكُونُ بِقَدْرِ وِلَايَةِ الْآمِرِ عَلَى الْمُخَاطَبِ"، یہ آمر کی مخاطب پر ولایت کے بقدر ہوگی، یعنی جتنی حکم دینے والے کو مخاطب پر ولایت حاصل ہوگی اسی کے بقدر فرمانبرداری بھی لازم ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی ایک آدمی ہے آپ کو اس پر ولایت حاصل ہے، آپ کا ملازم ہے مولانا، آپ کا غلام ہے، آپ اس کو حکم دیتے ہیں کسی کام کا تو اب اس پر اس کام کا کرنا بھی لازم ہے، اگر وہ کام نہیں کرتا تو شرعاً بھی سزا کا کیا ہے؟ مستحق ہے، اور عرفاً بھی وہ سزا کا مستحق ہے، عرف میں بھی لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس کو کیا کرنی چاہیے؟ اس نے آپ کی نافرمانی کی حالانکہ یہ آپ کا غلام ہے لہٰذا اس کو کیا ملنی چاہیے؟ سزا، اور شریعت بھی کیا کہتی، کیا اس کے بارے میں؟ سزا کا حکم دیتی ہے بھئی، سزا دے سکتے ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جتنی آمر کو مخاطب پر، میں نے آپ سے کہا "افْعَلْ"، یہ کام کر، تو دیکھو میں ہوا آمر اور آپ کیا ہوئے؟ مخاطب، تو جتنی آمر کو مخاطب پر ولایت حاصل ہوگی اسی کے بقدر فرمانبرداری بھی لازم ہوگی، اگر ولایت نہیں تو فرمانبرداری بھی لازم، لہٰذا ایک اجنبی شخص ہے، ایک عام آدمی ہے، آپ کا ساتھی ہے، آپ اس کو کہتے ہیں کہ بھئی "افْعَلْ"، یہ کام کر، چونکہ آپ کو اس پر ولایت نہیں لہٰذا اس کے لیے آپ کے حکم کی فرمانبرداری کرنا بھی لازم نہیں، تو جتنی ولایت اس کے قدر کیا ہوگی؟ فرمانبرداری بھی لازم ہوگی، حکم دینے والا عالی ہے تو حکم پر عمل کرنا لازم، برابر ہے تو پھر مستحب ہوگا اور اگر بہتر ہے پھر بہتر ہے، اور اگر کم درجے کا ہے تو پھر تو نہیں ہے بھئی، پھر مباح ہوگی پھر، پھر مباح بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ "وَتَحْقِيقُهُ أَنَّ لُزُومَ الْإِئْتِمَارِ إِنَّمَا يَكُونُ بِقَدْرِ وِلَايَةِ الْآمِرِ عَلَى الْمُخَاطَبِ"، کہ فرمانبرداری کا لازم ہونا آمر کی مخاطب پر ولایت کے بقدر ہی ہوگی، جتنی آمر کو مخاطب پر کیا ہے؟ ولایت حاصل ہے۔ "وَلِهَذَا"، اور اسی وجہ سے "إِذَا وَجَّهْتَ صِيغَةَ الْأَمْرِ"، اگر جب آپ متوجہ کریں امر کے صیغے کو "إِلَى مَنْ لَا يَلْزَمُهُ طَاعَتُكَ أَصْلًا"، اس شخص کی طرف جس پر آپ کی اطاعت سے لازم ہی نہیں، اصلاً یعنی قطعاً جس کے پر آپ کی بھئی ایک دوست، ساتھی ہے آپ کا، کیا اس پر آپ کی اطاعت لازم ہے؟ نہیں، جس پر آپ کی اطاعت قطعی طور پر لازم نہیں "لَا يَكُونُ ذَلِكَ مُوجِبًا لِلْإِئْتِمَارِ"، تو یہ جو مولانا امر کا متوجہ کرنا ہے یہ مثبت للائتمار نہیں، واجب کرنے والا نہیں ہوگا فرمانبرداری کو، آپ نے اس کو کہا اپنے ساتھی کو "افْعَلْ"، تو صیغہ امر کو متوجہ کیا اپنے ساتھی کی طرف، تو یہ صیغے کا اس کی طرف متوجہ کرنا کیا اس پر فرمانبرداری کو لازم کرے گا؟ فرمانبرداری کو لازم کیونکہ آپ کو اس پر ولایت ہی حاصل نہیں۔ تو یہ مولانا "لَا يَكُونُ ذَلِكَ مُوجِبًا لِلْإِئْتِمَارِ"، تو یہ مولانا واجب کرنے والا نہیں ہے فرمانبرداری کو، "وَإِذَا وَجَّهْتَهَا إِلَى"، اور جب آپ اس کو متوجہ کریں "إِلَى مَنْ يَلْزَمُهُ طَاعَتُكَ"، اس شخص کی طرف جس پر آپ کی اطاعت لازم ہے "مِنَ الْعَبِيدِ"، یعنی کہ غلاموں کی طرح، جی، عبد کی جمع ہے عبید، اور من یہ بیان ہے من کا، اس شخص کی طرف جس پر آپ کی اطاعت لازم ہے یعنی کہ غلام، یعنی کہ آپ کے "لَزِمَهُ الْإِئْتِمَارُ"، تو اس پر فرمانبرداری کرنا لازم ہے "لَا مَحَالَةَ"، قطعی طور پر، "حَتَّى لَوْ تَرَكَهُ اخْتِيَارًا يَسْتَحِقُّ الْعِقَابَ"، حتیٰ کہ اگر اس نے اس فرمانبرداری کو ترک کر دیا اختیار اپنے اختیار سے "يَسْتَحِقُّ الْعِقَابَ"، تو وہ مستحق ہوگا کس چیز کا؟ سزا کا "عُرْفًا وَشَرْعًا"، عرفاً بھی اور شرعاً بھی، "فَعَلَى هَذَا عَرَفْنَا"، پس اس ان مثالوں سے ہم نے جان لیا "أَنَّ لُزُومَ الْإِئْتِمَارِ بِقَدْرِ وِلَايَةِ الْآمِرِ"، کہ فرمانبرداری کا لازم ہونا آمر کی ولایت کے بقدر ہوگا، "إِذَا ثَبَتَ هَذَا"، جب یہ بات ثابت ہو گئی۔ بھئی کیا بات ثابت ہوئی؟ جتنی ولایت ہوگی اتنا ہی حکم کا ماننا بھی لازم ہوگا، تو بھئی دیکھو ایک شخص غلام ہے آپ کا، آپ کی اس کی ملکیت، آپ کی ملکیت اس کے اندر حالانکہ ناقص ہے، کیا ہے؟ ناقص ہے، پھر بھی وہ آپ کا حکم نہ مانے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے اور اس پر آپ کا، اس کا حکم ماننا لازم ہوتا ہے اور نہ مانے تو کس چیز کا مستحق ہوتا ہے؟ سزا کا، تو اب آپ خود بتلائیے اللہ تعالیٰ جو ہر ہر چیز کو پیدا کرنے والے ہیں اور اس ذات کی ہر ہر چیز میں ملکیت کامل درجے کی ہے تو اس کے علاوہ حکم نہ ماننے پر کیا سزا، اس کا حکم ماننا لازم ہوگا یا نہیں بھئی؟ جب ملکِ ناقص، آپ کی ملکیت غلام کے اندر ناقص ہے، اللہ کی ملکیت اس کے اندر ہر بندے میں کامل ہے تو جب آپ کی ناقص ملکیت کی وجہ سے اس پر حکم کا ماننا لازم ہوتا ہے تو جس کی ملکیت کامل ہے اس کا حکم ماننا تو بطریقِ اولیٰ لازم ہوگا، اور آپ کے حکم نہ، کا حکم نہ ماننے پر وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے تو اللہ کا حکم نہ ماننے پر بطریقِ اولیٰ کس کا مستحق ہوگا؟ سزا کا، یہی بات کر رہے ہیں۔ "إِذَا ثَبَتَ هَذَا"، جب یہ بات ثابت ہو گئی "فَنَقُولُ"، ہم کہتے ہیں "إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى مِلْكًا كَامِلًا"، کہ اللہ کے لیے کامل ملک ہے "فِي كُلِّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْعَالَمِ"، عالم کے اجزاء میں سے ہر جز کے اندر اس کی ملکیت کیا ہے بڑی؟ "إِنَّ لِلَّهِ"، یہ للہ میں آپ کے تین لام لکھے ہوئے ہیں؟ تین نہیں ہونے چاہئیں، غلط ہیں مولانا غلط ہے، خیال رکھیں آپ بھی بھئی، جب بھی لکھیں بھئی، للہ اسی طرح لکھیں جیسے اللہ میں لکھتے ہیں بس پہلے لام کے نیچے کسرہ ڈال دیں، سمجھ میں آیا؟ یہ ایک الگ لام لکھنے کی ضرورت نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یہ لفظِ اللہ جو ہم لکھتے ہیں یہ لفظِ اللہ کی خصوصیت ہے ہم اس کو لکھتے ہیں، میں نے بتلایا تھا جیسے وہ ذاتِ عظیم ہے مولانا، اس کے نام بھی بڑا عظیم ہے بھئی، اس کے نام کی بھی ایسی خصوصیات ہیں جو عربی کے عام الفاظ میں آپ کو نہیں ملیں گی بھئی، قوانین ہیں بھئی بہت سے، ان میں سے ایک خاصہ اس لفظ کی رسم الخط ہے بھئی، ضابطے کے مطابق تو صرف ایک لام لکھنا چاہیے مشدد: اللہ، کیا لکھنا چاہیے؟ ایک لام مشدد، بھئی لامِ مشدد کتنے لام ہوتے ہیں دراصل؟ دو لام، تو یہاں بھی کتنے ہیں؟ دو ہی ہیں، اَ لـ لٰہ، کتنے لام ہیں؟ تو ایک ہی لام مشدد لکھنا چاہیے تھا ضابطے کے مطابق، لیکن یہ نام مولانا اس ذات کا ہے جو سب سے ممتاز ہے تو یہ نام بھی باقی اسماء سے ممتاز ہوا اور اس کے اندر کتنے نام لکھے جاتے ہیں؟ دو لام لکھے جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب للہ کہیں تو اسی لام کے نیچے پہلے کے نیچے کسرہ ڈال دیں بھئی، الگ لام یہ بہت سے لوگ، علماء غلطی کرتے ہیں بھئی، یوں نہ لکھیں بھئی۔ پس ہم کہتے ہیں اللہ کے لیے کامل ملکیت ہے عالم کے تمام اجزاء کے اندر "وَلَهُ التَّصَرُّفُ كَيْفَمَا شَاءَ"، اور اللہ کے لیے حق ہے کہ وہ تصرف کرے کیَفْمَا شَاءَ جیسے وہ چاہے "وَأَرَادَ"، اور جیسے ارادہ کرے، "وَإِذَا ثَبَتَ"، اور جب یہ بات ثابت ہو گئی "أَنَّ مَنْ لَهُ الْمِلْكُ الْقَاصِرُ فِي الْعَبْدِ" کہ وہ شخص جس کی ملکیت کیا ہے؟ قاصر ہے، کم درجے کی ہے "فِي الْعَبْدِ" غلام کے اندر "كَانَ تَرْكُ لِإِئْتِمَارِهِ سَبَبًا لِلْعِقَابِ"، تو اس کی فرمانبرداری کا ترک کرنا سبب تھا کس چیز کا؟ سزا کا، "فَمَا ظَنُّكَ فِي تَرْكِ أَمْرِ مَنْ"، پس کیا گمان ہے آپ کا کس چیز میں؟ "فِي تَرْكِ أَمْرِ مَنْ" اس ذات کے امر کو ترک کرنے کے بارے میں "أَوْجَدَكَ" جس نے "أَوْجَدَكَ" آپ کو وجود دیا "مِنَ الْعَدَمِ"، کس سے؟ عدم سے، آپ نہیں تھے، اس نے آپ کو پیدا کیا، وجود دیا، "وَأَدَرَّ عَلَيْكَ"، اور برسایا آپ پر، بہایا آپ پر، "أَدَرَّ" کا کیا معنیٰ؟ بہانا، برسانا ادرار کا معنیٰ۔ تو آپ پر برسایا "شَعَابِيبَ النِّعَمِ"، نعمتوں کی بارش، بھئی "شَعَابِيبَ النِّعَمِ"، نعمتوں کی تو جس نے آپ کو وجود دیا اور آپ پر نعمتوں کی بارش برسائی، اس کی فرمانبرداری کیا ہے؟ اس کے حکم پر عمل کرنا بطریقِ اولٰی لازم ہے، اور نہ ماننے پر بطریقِ اولٰی سزا کا مستحق ہے، بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ "أَدَرَّ"، ادرار کا کیا معنیٰ ہے، بھئی؟ بہانا، برسانا اور شَعَابِيبَ، یاد رکھو، جمع ہے شُعْبُوب کی، شُعْبُوب کہتے ہیں "أَوَّلُ الْمَطَرِ" کو، کس کو کہتے ہیں؟ "أَوَّلُ الْمَطَرِ"، ابتدائی بارش، جب بارش شروع ہو جو ابتدائی حصہ ہو وہ کیا کہلائے گا؟ شُعْبُوب کہلاتا ہے۔ شُعْبُوب اور یہ اولِ مطر اشرفِ مطر ہے، مولانا، اعلیٰ حصہ ہے بارش کا بھئی، بارش کا سب سے اعلیٰ حصہ کون سا ہے؟ اولِ مطر، بھئی، ابتدائے بارش کیونکہ وہ خوشی اور راحت کا باعث بنا کرتی ہے، بعد میں تو کبھی تکلیف بھی ہو جاتی ہے، مولانا، بارش طویل ہو گئی وغیرہ بھئی، لیکن اولِ مطر کیا ہے اس کا؟ اعلیٰ حصہ ہے بھئی۔ چلیے، مولانا بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا سب کو؟ اچھی طرح؟ تو یہاں تو تین دلیلیں میں نے ذکر کر دیں، ایک نقلی دلیل، مولانا، جو کتاب میں مذکور نہیں وہ بھی آپ کو بتلا دی، ایک، مولانا، عرفی دلیل بتلا دی، عرف میں بھی نافرمانی کرنا امر پر عمل نہ کرنے والے کو کیا کہتے ہیں؟ معصیت، معلوم ہوا امر کس کے لیے آتا ہے؟ اور ایک عقلی دلیل بھی آ گئی کہ عقلی دلیل بھی مصنف نے بتلایا کہ دیکھو، جتنی ولایت ہوگی اتنا ہی حکم ماننا لازم ہوا کرتا ہے، آپ عام لوگوں میں بھی دیکھ لیں۔ تو جب جس کی ملکیت ناقص ہے اس کا حکم ماننا لازم ہے، تو جس کی ملکیت کامل ہے اس کا حکم ماننا کیا ہوگا بطریقِ اولٰی؟ یہ عقل بھی آپ کے اس بات کی گواہی دیتی ہے، تو یہ عقلی دلیل تھی بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ چلیے بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 50 of 123