Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-048

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 97
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصلٌ فِي الأَمْرِ اس فصل میں امر کے بارے میں بحث کریں گے بھئی۔ یاد رکھو امر اور نہی خاص کی قسم ہیں، امر اور نہی خاص کی قسم ہیں۔ ان کو یہاں بعد میں الگ ذکر کیا اہمیت کی وجہ سے بھئی، اہمیت کی وجہ سے الگ فصل لے کر آئے، اور اس کی بڑی طویل ابحاث ہیں، تو ان کو اب مستقلا ذکر کر رہے ہیں الگ فصلوں میں بھئی۔ تو پہلے امر ذکر کریں گے، آگے جا کر پھر کافی طویل بحث ہے امر کی، پھر نہی کی بحث آئے گی۔ تو کہتے ہیں: "الأَمْرُ فِي اللُّغَةِ قَوْلُ الْقَائِلِ لِغَيْرِهِ: اِفْعَلْ" امر ایک لغوی تعریف ہے، ایک اصطلاحی تعریف ہے بھئی۔ لغت میں امر کسے کہتے ہیں؟ "قَوْلُ الْقَائِلِ" کہنے والے کا کہنا "لِغَيْرِهِ" غیر سے "اِفْعَلْ" کیا کہنا؟ "اِفْعَلْ" کہنا، "اِفْعَلْ" کہنا۔ یعنی "اِفْعَلْ" سے مراد وہ امر کے صیغے ہیں، امر حاضر کے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چاہے وہ اس وزن پر ہوں یا اس وزن پر نہ ہوں۔ مثلاً بھئی "اِفْعَلْ" نصر سے آئے تو یہی کیا ہوگا؟ "اُنْصُرْ"، باب افعال سے ہوگا تو کیا ہوگا؟ "أَفْعِلْ"، "أَكْرِمْ"۔ اسی طرح باب استفعال سے ہوگا تو کیا آئے گا؟ "اِسْتَفْعِلْ"، "اِسْتَخْرِجْ" بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو "اِفْعَلْ" سے مراد وہ امر کے صیغے ہیں بھئی جو اس وزن... جو آئیں بھئی۔ اور تو کسی کہنے والے کا غیر سے "اِفْعَلْ" کہنا یہ کیا کہلاتا ہے لغت میں مولانا؟ امر کہلاتا ہے، یعنی "اِفْعَلْ" یا "اِفْعَلْ" جیسا کوئی صیغہ کہنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ امر کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ لغت میں یہ کہتے ہیں امر ہے، امر دیا ہے۔ اچھا، اس نے اس کو حکم دیا ہے، کیا دیا ہے؟ "اِفْعَلْ" کہا تو حکم دیا۔ اور یاد رکھو، اس کے اندر ایک قید ضروری ہے "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ"، استعلاء کے طریقے پر کہے دوسرے کو "اِفْعَلْ" ایسا کر! اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے، اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہوئے؟ بلند سمجھتے ہوئے، چاہے بلند ہو یا نہ ہو لیکن بلند سمجھتے ہوئے کہتا ہے "اِفْعَلْ"، تو اس کو کیا کہیں گے؟ امر کہیں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ دوسرے کو کیا کہے؟ "اِفْعَلْ" کہے اور اپنے آپ کو... یعنی "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ" ہو، اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے کہے، چاہے بلند ہو یا بلند نہ ہو، یہ بات نہیں، بس کہا اس طریقے پر ہے جیسے اپنے آپ کو بلند سمجھا ہے، تو یہ "اِفْعَلْ"... یہ امر کہلائے گا۔ اور یاد رکھو، اگر "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ" نہ ہو، برابری کے طریقے پر ہو، تو پھر یہ... پھر یہ کہلائے گا التماس بھئی۔ برابری کے طریقے پر کسی کو "اِفْعَلْ" کہا تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ التماس کہلائے گا، التماس بھئی۔ اور اگر عاجزی کے طریقے پر کسی کو "اِفْعَلْ" کہا، تو یہ دعا کہلائے گا۔ اے اللہ ایسا کر دے! وہاں بھی امر کا صیغہ آیا، لیکن عاجزی کے طریقے پر ہے مولانا، وہ کیا کہلائے گا؟ دعا۔ بات سب کو سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ "اِفْعَلْ" کا صیغہ بھئی ذات باری تعالی کے لیے بھی آپ استعمال کرتے ہیں، اللہ یہ کام کر دے، اے اللہ ایسا کر دے، اللہ ایسا فرما دیجیے، تو وہاں بھی صیغہ امر کا آیا، لیکن کیا "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ" آیا یا "عَلَى سَبِيلِ الخُضُوعِ" اور عاجزی کے طریقے پر آیا بھئی؟ خضوع اور عاجزی کے... تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ دعا۔ اور اگر برابری کے طریقے پر کہا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ التماس کہلاتا ہے۔ اور اگر "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ" ہو تو پھر؟ امر کہلاتا ہے۔ فرق سمجھ میں آیا تینوں کا بھئی؟ تو یہ تھا لغت... لغت میں امر اس کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں، اصطلاح شریعت میں خود بتلا رہے ہیں: "وَفِي الشَّرْعِ: تَصَرُّفُ إِلْزَامِ الْفِعْلِ عَلَى الْغَيْرِ" غیر پر فعل کے لازم کرنے کے تصرف جو ہے۔ ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں مولانا: غیر پر فعل کے لازم کرنے کا تصرف کرنا، تصرف کرنا۔ بھئی یاد رکھو، یہ جو تصرف کی اضافت ہے الزام کی طرف، مضاف مضاف الیہ ہیں آپس میں، یہ اضافت بیانیہ ہے۔ یہ کیا ہے مولانا؟ اضافت بیانیہ۔ اضافت بیانیہ جانتے ہو بھئی؟ اضافت بیانیہ اس کو کہتے ہیں جس میں مضاف الیہ جو ہوتا ہے وہ مضاف کا بیان کرتا ہے۔ جس میں مضاف الیہ کیا کرتا ہے مضاف الیہ کا؟ بیان کرتا ہے بھئی۔ تو یہ "إِلْزَامُ الْفِعْلِ"، الزام جو ہے، یہ تفسیر ہے تصرف کی۔ شریعت میں تصرف کا نام ہے، بس! شریعت میں کس چیز کا نام ہے؟ وہ تصرف کیا ہے؟ غیر پر فعل کو لازم کرنا۔ جب غیر پر آپ نے فعل کو لازم کیا تو تصرف کیا یا نہیں کیا مولانا؟ جی؟ تصرف کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو شریعت میں وہ غیر پر فعل کے لازم کرنے کا تصرف ہے جی، اور یہ بھی "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ" کی قید اس میں بھی ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ یہ بھی کس طریقے پر ہو غیر پر فعل کا لازم کرنا؟ استعلاء کے طریقے پر ہو بھئی۔ یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ لغت میں کس کو کہتے ہیں امر؟ غیر کو کیا کہنا "عَلَى سَبِيلِ الاِسْتِعْلَاءِ"؟ "اِفْعَلْ"۔ اور اصطلاح شریعت میں یہ کس چیز کا نام ہے امر؟ تصرف کا نام ہے اور وہ تصرف کیا ہے؟ غیر پر فعل کو لازم کرنا اور یہ لازم کرنا کس طریقے پر ہو؟ استعلاء کے طریقے پر ہو بھئی۔ "وَذَكَرَ بَعْضُ الأَئِمَّةِ" اور ذکر کیا ہے بعض ائمہ نے، "رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى" بھئی بھئی... بھئی بعض ائمہ سے مراد علامہ فخر الاسلام بزدوی، علامہ فخر الاسلام بزدوی ز کے ساتھ، ز کے ساتھ بھئی، علامہ فخر الاسلام بزدوی اور شمس الأئمۃ اور شمس الأئمۃ علامہ سرخسی "رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً"، یہ مراد ہیں۔ کون بھئی؟ فخر الاسلام علامہ بزدوی اور شمس الأئمۃ علامہ سرخسی بھئی۔ سین ر خ سین یا، سرخسی، سین ر خ سین یا۔ "وَذَكَرَ بَعْضُ الأَئِمَّةِ" اور ذکر کیا ہے بعض ائمہ نے "أَنَّ الْمُرَادَ بِالأَمْرِ يَخْتَصُّ بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" کہ امر کی جو مراد ہے وہ خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ۔ بعض ائمہ نے کیا ذکر کیا مولانا؟ "أَنَّ الْمُرَادَ بِالأَمْرِ يَخْتَصُّ بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" کہ امر سے جو مراد ہے، امر کی جو مراد ہے "يَخْتَصُّ" وہ خاص ہے "بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" اسی صیغہ یعنی "اِفْعَلْ" کے صیغہ کے ساتھ، اسی صیغہ کے ساتھ خاص ہے۔ بائی، اب دیکھیے، مشکل مقام ہے، توجہ سے سمجھنا اس بات کو۔ بعض ائمہ کا یہ قول ذکر کیا مصنف نے، انہوں نے یہ بات کی ہے، کیا؟ انہوں نے لکھا ہے: "أَنَّ الْمُرَادَ بِالأَمْرِ يَخْتَصُّ بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" کہ امر کی مراد خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ۔ اب اس جملے کا کیا معنیٰ؟ اس کی کیا تشریح ہے؟ علماء نے تین تشریحات کی ہیں بھئی، کتنی تشریحات؟ تین تشریحات۔ بعض نے ایک تشریح کی، بعض نے دوسری تشریح کی، بعض نے تیسری تشریح کی۔ مصنف تینوں کو ذکر کریں گے، پہلی کو بھی رد کریں گے، دوسری کو بھی رد کریں گے، اور پھر بتلائیں گے تیسری شرح درست ہے، تیسری شرح کیا ہے؟ درست ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تین شروحات ہوئی ہیں، تشریحات ہوئی ہیں اس کی بھئی، اور تیسری کو قبول کریں گے، پہلی دو کو رد کریں گے۔ تو ذکر کیا بعض ائمہ نے "أَنَّ الْمُرَادَ بِالأَمْرِ يَخْتَصُّ بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" کہ امر کی مراد جو ہے خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ بھئی۔ "وَاسْتَحَالَ أَنْ يَكُونَ مَعْنَاهُ" دیکھا؟ اور محال ہے اس کا یہ معنیٰ ہونا، آگے ذکر کرنے لگے ہیں وہ تشریح بھئی کہ یہ تشریح ہونا کیا ہے؟ محال ہے، وہ کیا؟ کہ "أَنَّ حَقِيقَةَ الأَمْرِ يَخْتَصُّ بِهَذِهِ الصِّيغَةِ" کہ امر کی جو حقیقت ہے وہ خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ بھئی۔ امر کی حقیقت کیا ہے؟ خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ، یعنی امر کی حقیقت کیا ہے؟ طلب بھئی، طلب۔ امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ طلب کے لیے۔ آپ کسی کو کوئی کام کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس میں کیا ہے؟ کام کرنے کی طلب ہوتی ہے۔ آپ کہتے ہیں "اِفْعَلْ" ایسا کر، کیا معنیٰ؟ طلب کر رہے ہیں، اس فعل کو آپ اس سے کیا کر رہے ہیں؟ طلب کر رہے ہیں۔ تو بعض ائمہ نے یہ کہا، یہ مف... معنیٰ بیان کیا کہ حقیقت... کہ ائمہ کے قول کا یہ معنیٰ، یرحمکم اللہ، کہ حقیقتِ امر خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ۔ حقیقتِ امر کیا ہے؟ یعنی یوں کہو، حقیقتِ امر کیا ہے؟ طلب۔ یعنی یہ صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر بھی نہیں بھئی، خاص ہے نا اسی کے ساتھ، جب خاص ہے تو کیا معنیٰ؟ یہی صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر بھی نہیں، یا یوں کہو، یہ صیغہ ہے تو طلب ہے، یہ صیغہ نہیں تو طلب بھی نہیں، کیونکہ اسی کے ساتھ خاص ہے، جب اسی کے ساتھ خاص ہے تو اسی کے ساتھ آئے گی، بغیر... اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں آئے گی، جب کسی اور کے ساتھ... تو معلوم ہوا جب یہ صیغہ ہے تو طلب ہے، یہ صیغہ نہیں تو طلب بھی نہیں، یہ صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر بھی نہیں، کہتے ہیں یہ معنیٰ کیا اور یہ معنیٰ کرنا محال ہے، محال ہے بھئی۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے: "فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مُتَكَلِّمٌ فِي الأَزَلِ عِنْدَنَا" اس لیے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہیں ازل میں ہمارے نزدیک۔ ازل کس کو کہتے ہیں؟ ازل وہ جس کی ابتدا کوئی نہ ہو، ہمیشہ سے ہو اس کو ازلی کہتے ہیں۔ جو ہمیشہ سے ہو مولانا، اس کو ازلی کہتے ہیں۔ ازل وہ زمانہ جس کی کوئی ابتدا نہ ہو۔ ہمیشہ سے ہے، ازل کہلاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ابد ہے ابد، ابد جو ہمیشہ رہے اس کو کیا... وہ کیا ہے ہمیشہ؟ ابد، جو ہمیشہ چیز رہے اسے ابدی کہتے ہیں ابدی۔ یہ بات سمجھ میں آگئی سب کو؟ ازل کس کو کہتے ہیں؟ زمانہ ہے زمانہ، ازل بھی زمانہ، ابد بھی زمانہ۔ ازل کون سا زمانہ؟ ابتدا نہ ہو۔ اور ازل... ابد کسے کہتے ہیں جس کی انتہا نہ ہو؟ تو ازلی کس کو کہتے ہیں؟ جو ہمیشہ سے ہو۔ ابدی کس کو کہتے ہیں؟ جو ہمیشہ رہے۔ ہمیشہ رہے۔ اور یہ بات یاد رکھو، ذات باری تعالیٰ ازلی و ابدی ہے، قدیم ہے، اسی کو دوسرے لفظوں میں کیا کہہ دو؟ قدیم۔ قدیم اس کو کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو۔ کبھی ایسا زمانہ نہیں کہ جس میں ذات باری تعالیٰ موجود نہ ہو، ایسا نہیں۔ ہمیشہ سے ہے اللہ کی ذات بھئی، ہمیشہ سے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قدیم۔ قدیم کس کو کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، عدم کبھی نہ آیا ہو۔ اور اللہ کی ذات قدیم ہے تو اللہ کی صفات بھی قدیم ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ کا علم ہے، اللہ کا... صفت اللہ کے علم ہے اور کلام ہے وغیرہ، جو صفات ہیں وہ بھی ساری کیا ہیں؟ قدیم ہیں، کیونکہ جب وہ ذات قدیم ہے تو اس کی صفات بھی کیا ہیں؟ قدیم ہیں۔ ایسا نہیں کبھی بھی ہوا، کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ ذات تو اللہ کی موجود اور اس کی یہ صفات موجود... جب ہمیشہ سے یہ ذات ہے تو ہمیشہ سے یہ صفات ہیں۔ تو اللہ کی ذات بھی قدیم، اللہ کی صفات بھی قدیم۔ اس کے مقابلے میں باقی ساری چیزیں وہ حادث کہلاتی ہیں ث کے ساتھ، حادث۔ حادث کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جس پر ایک زمانہ آیا ہو کہ وہ نہ ہو، عدم آیا ہو اس پر مولانا، کبھی بھی آیا ہو، چاہے اربہا سال پہلے کیوں نہ آیا ہو، عدم آگیا یا نہیں آگیا؟ ہاں تو گیا۔ تو اس کے مقابلے میں ساری چیزیں کیا ہیں؟ حادث ہیں حادث۔ حادث۔ تو کہتے ہیں دیکھیے بھئی، کہتے ہیں اور محال ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہو کہ حقیقتِ امر خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ، یعنی یہ صیغہ ہے تو طلب اور امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو طلب بھی نہیں، امر بھی نہیں۔ کیوں؟ "فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مُتَكَلِّمٌ فِي الأَزَلِ عِنْدَنَا" اس لیے کہ اللہ ازل سے ہمارے نزدیک متکلم ہیں، یعنی ازل سے کیا ہے اللہ کے لیے صفت کلام ثابت ہے، ازل سے کیا ہے اللہ کے لیے صفت کلام ثابت ہے۔ "وَكَلَامُهُ أَمْرٌ وَنَهْيٌ وَإِخْبَارٌ وَاسْتِخْبَارٌ" اور اللہ کا کلام امر بھی ہے، نہی بھی ہے، اخبار بھی ہے، استخبار بھی ہے، استخبار کیا معنیٰ؟ طلب خبر، کیا معنیٰ؟ یعنی استفہام بھئی۔ "وَاسْتَحَالَ" سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اللہ کا کلام امر... اللہ کی صفت کلام کیا ہے اللہ کے لیے؟ کلام کی صفت ازل سے ثابت ہے، تو ازل سے اللہ متکلم ہیں، اور کلام اللہ کا کیا ہے؟ امر بھی ہے، نہی بھی ہے، ہر قسم کا، سمجھ میں آیا؟ ہر نوع کا کلام ہے اس میں، امر بھی ہے، نہی بھی ہے، اور اخبار، استخبار وغیرہ ہیں بھئی، یہ سب ہیں۔ اور تو معلوم ہوا امر اللہ کے لیے کلام ہمیشہ سے ہے، ثابت ہے صفت کلام، اور یہ کلام کیا ہے؟ اس میں امر بھی ہے، اس میں کیا ہے؟ امر بھی ہے بھئی، اور تو معلوم ہوا امر بھی کب سے ہے؟ ازل سے ثابت ہے باری تعالیٰ کے لیے، اور ازل کے اندر یہ "اِفْعَلْ" کا صیغہ تو نہیں ہو سکتا۔ اس صیغہ کا ازل میں ہونا ممکن نہیں، کیونکہ یہ جو ہم "اِفْعَلْ" صیغہ بولتے ہیں یہ مرکب ہے، یاد رکھو، حروف سے اور صوت أصوات سے، آوازوں سے۔ حروف اور آوازوں سے مرکب ہے اور یہ حادث ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ حادث ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ حادث ہے۔ ختم ہو گیا یا نہیں؟ میں نے "اِفْعَلْ" کہا، گزر گئے یہ لفظ نہیں بھئی؟ جی۔ میرے کہنے سے پہلے ابھی نہیں تھا یہ "اِفْعَلْ"، اب میں نے "اِفْعَلْ" کہا، آگیا، پھر ختم بھی ہو گیا۔ "اِفْعَلْ" میں نے ال... جب "اِفْعَلْ" کے ہمزہ پہ تلفظ کر رہا تھا تو ابھی ف نہیں آئی تھی، جب ف پہ پہنچا تو ہمزہ ختم ہو گیا، گزر گیا۔ ع پہ پہنچا مولانا تو ف بھی چلی گئی، الف بھی چلا گیا۔ ع پہ پہنچا ہوں تو ابھی لام نہیں آیا، اس کا وجود نہیں، جب لام پہ تکلم کیا تو اب وہ ع جا چکا، ختم ہو چکا۔ تو یہ کس سے مرکب ہے "اِفْعَلْ" مولانا؟ حروف اور اصوات سے مولانا، اور یہ حادث ہے کیونکہ یہ الفاظ کیا ہیں؟ حادث ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو معلوم ہوا اللہ کے لیے تو امر ثابت ہے ازل سے، اور ازل میں اس صیغہ کا ہونا محال، اس لیے کہ یہ صیغہ مرکب ہے حروف و اصوات سے، تو یہ صیغہ کیا ہے؟ حادث، اور جب یہ حادث ہے تو حادث اللہ کی صفت نہیں بن سکتی، کیونکہ جو ذات قدیم ہوگی اس کے ساتھ صفت بھی کیسی قائم ہوگی؟ قدیم، اور یہ صیغہ ہے حادث، تو یہ قدیم ذات کے ساتھ قائم نہیں ہو سکتا۔ تو جو ذات حادث ہوگی، اس کے اوصاف بھی حادث ہوں گے۔ انسان حادث ہے، تو اس کے اوصاف بھی حادث ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی سب کو؟ تو یہ لفظ یہ حادث، یہ قائم، تو یہ صیغہ تو ہوا حادث۔ تو لہذا، اس صیغے کا قیام ذات باری تعالی کے ساتھ صحیح درست نہیں، بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ یہ بعضوں ائمہ نے کیا کہا تھا؟ کہ مراد بالامر وہ خاص ہے اسی صیغے کے ساتھ۔ اس کی بعضوں نے کیا تشریح کی؟ کہ حقیقت امر خاص ہے اسی صیغے کے ساتھ، یہ صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر بھی، یہ صیغہ ہے تو طلب ہے، یہ صیغہ نہیں تو طلب بھی۔ کہتے ہیں یہ معنی کرنا صحیح نہیں، معنی کرنا صحیح نہیں، کیونکہ امر ازل سے اللہ کے لیے ثابت ہے اور اگر اسی صیغے کے ساتھ خاص ہو تو اس صیغے کا ازل میں ہونا لازم آئے گا، حالانکہ ازل سے تو یہ صیغہ نہیں، کیونکہ یہ تو مرکب ہے کس سے؟ حروف اور اصوات سے۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "واستحال وجود هذا الصيغة في الازل" اور محال ہے اس صیغے کا ہونا ازل کے اندر۔ یہ ایک تشریح رد کر دی۔ بعضوں نے اور تشریح کی تھی۔ بعضوں نے کہا تھا بھئی امر آتا ہے وجوب کے لیے۔ امر کس کے لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے۔ تو ائمہ کے کہنے کا یہ معنی ہے کہ وجوب اسی صیغے کے ساتھ خاص ہے۔ وجوب کیا ہے اسی صیغے کے ساتھ؟ خاص ہے۔ دیکھو اوپر ائمہ کے قول پہ نظر رکھو۔ ائمہ نے کیا کہا؟ کہ مراد بالامر، امر سے کیا مراد ہوتی ہے؟ کس چیز کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ دوسرے پر کام کو واجب کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ واجب۔ تو مراد بالامر یعنی وجوب يختص بهذه الصيغة، وہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ یعنی یہ صیغہ ہے، "افعل" ہے، تو وجوب آئے گا دوسرے پہ۔ "افعل" نہیں، تو وجوب بھی نہیں، یہ معنی کیا بعض نے، بھئی۔ مصنف اس کو بھی رد کرتے ہیں، کہتے ہیں یہ ہونا یہ معنی محال ہے کہ وجوب اسی صیغے کے ساتھ خاص ہے۔ یہ صیغہ ہے، وجوب ہے۔ یہ صیغہ نہیں، تو وجوب بھی نہیں۔ کیوں محال ہے؟ کہتے ہیں اس لیے، اس صیغے کے بغیر بھی وجوب آ رہا ہے۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ کہتے ہیں وہ شخص جس تک دعوت ایمان نہیں پہنچی، اس تک "آمنوا" کا صیغہ امر نہیں پہنچا، "آمنوا"، "آمن"، ایمان لے کر آ، اس تک یہ دعوت نہیں پہنچی، پھر بھی اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ اس پر ایمان لانا کیا ہے؟ واجب۔ یاد رکھو! امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو، یہاں کہ اگر کہ اگر اللہ رسولوں کو نہ بھیجتے مولانا، اگر اللہ رسولوں کو نہ بھیجتے تو پھر بھی عقل والوں پر اپنی عقل کے ذریعے اللہ کی ذات کو پہچاننا اور اس پر ایمان لانا واجب تھا، بھئی۔ پھر بھی کیا تھا؟ واجب۔ یہ تو رسولوں کے ذریعے اللہ نے معاملہ آسان فرما دیا، انہوں نے آ کر خود ہمیں سمجھایا، دعوت دی۔ اگر رسول نہ بھی آتے تو بھی انسان پر کیا تھا؟ اپنی عقل کے ذریعے وہ ان چیزوں میں غور کرتا، اتنا حسین و جمیل نظام چل رہا ہے، ہوائیں چل رہی ہیں، بارش برس رہی ہے، خوراک پیدا ہو رہی ہے وغیرہ، اور یہ حسین و جمیل نظام، یہ آبشار، کوہسار، مرغزار وغیرہ سب، ان میں انسان غور و فکر کر کے اس پر ذات باری تعالی کو جاننا، اس کی معرفت حاصل کرنا کہ یقیناً کوئی ایک ذات ہے جو اس سارے نظام کو کیا کر رہی ہے؟ چلا رہی ہے، اس کو جاننا، اس کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اس پر ایمان لانا کیا تھا اس کے لیے؟ واجب تھا، واجب تھا۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ۔ تو معلوم ہوا دیکھو، ایک شخص پہاڑوں، جنگلوں میں رہتا ہے مولانا، اس تک "آمنوا" یا "آمن"، ایمان لے آ، صیغہ امر کا نہیں پہنچا، دعوت نہیں پہنچی، پھر بھی اس پر کیا لانا واجب ہے؟ ایمان لانا، تو دیکھو وجوب آ گیا اس کے لیے، اور امر کا صیغہ ہے؟ نہیں، امر کا صیغہ نہیں، اس کو دعوت بھی نہیں پہنچی لیکن اس پر وجوب آ چکا۔ کس چیز کا؟ ایمان کا۔ تو دیکھا معلوم ہوا اس صیغے کے بغیر بھی وجوب آ جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا بعضوں نے جو تشریح کی تھی کہ ائمہ کے اس قول کا کیا معنی؟ وجوب اسی صیغے کے ساتھ خاص ہے، یہ صیغہ ہے تو وجوب آئے گا، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں آئے گا۔ معلوم ہوا یہ تشریح درست نہیں، اس صیغے کے بغیر بھی وجوب آ رہا ہے، ہم نے آپ کو دکھا دیا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو، بھئی؟ "واستحال ايضا" اور یہ معنی بھی محال ہے کہ یہ بھی محال ہے "ان يكون معناه" کہ اس کا معنی یہ ہو "ان المراد بالامر للآمر" کہ امر کی جو مراد ہے "ان المراد بالامر" امر سے جو مراد ہے "للآمر" کس کے لیے؟ آمر، حکم دینے والے کے لیے۔ حکم دینے والے کی امر سے کیا مراد ہوتی ہے؟ وجوب، کیا ہوتی ہے؟ وجوب۔ اس کا میں نے وجوب معنی کیا، اسی لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ مراد "المراد بالامر للآمر" آمر کی امر سے مراد۔ آپ کسی کو حکم دیتے ہیں مولانا، آپ ہیں آمر اور "افعل" کا جو صیغہ کہا، وہ کیا ہے؟ امر، اور اس امر سے آپ کی مراد کیا ہے؟ وجوب، کیا ہے؟ وجوب۔ تو مراد جو امر کے ساتھ ہے آمر کی "يختص بهذه الصيغة" وہ خاص ہے اسی صیغے کے ساتھ، یہ معنی بھی کیا ہے؟ محال ہے، یعنی یہ صیغہ ہے تو وجوب ہے، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں، یہ معنی بھی محال ہے۔ "فان المراد للشارع بالامر" اس لیے کہ شارع کی مراد امر سے کیا ہے؟ "وجوب الفعل على العبد" بندے پر فعل کا واجب کرنا ہے "وهو معنى الابتلاء عندنا" اور یہی ابتلاء کا معنی ہے ہمارے نزدیک۔ یہ ہمارے نزدیک کس کا معنی ہے؟ بھئی، شارع ذات باری تعالی نے اپنے امر کے ذریعے کس کے ذریعے؟ جب امر دیتے ہیں کسی کام کا، تو کیا مراد ہوتی ہے؟ وجوب ہوتا ہے کہ بندے پر یہ فعل کیا ہے؟ واجب ہے، اب وہ بندہ وہ اس فعل کو کرے گا تو مکلف بن گیا، بندہ کیا بن گیا؟ مکلف۔ اس کو آزمائش میں ڈال دیا گیا مولانا، اب اگر وہ اس امر پر عمل کرتا ہے، اس کام کو سرانجام دیتا ہے تو اسے ثواب ملے گا اور انعام ملے گا، اور اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اسے کیا ملے گی؟ سزا ملے گی۔ تو سمجھ میں آیا؟ تو یہی معنی ہے ابتلاء کا ہمارے نزدیک، ابتلاء کا معنی آزمائش میں ڈالنا، مکلف بنانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بندے کو مکلف بنا دیا جاتا ہے اس پہ ایک چیز کو واجب کر کے، یہ تم نے کیا کرنا ہے؟ یہ کام تمہیں کرنا ہے، یہ کام تمہیں کرنا ہے، آزمائش میں ڈال دیا یا نہیں بھئی؟ کرے گا تو کیا ملے گا؟ ثواب، نہیں کرے گا تو سزا ملے گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اس لیے کہ شارع کی مراد امر سے جو ہے، وہ فعل کا واجب کرنا ہے بندے پر "وهو معنى الابتلاء عندنا" اور یہی ابتلاء کا معنی ہے ہمارے نزدیک "وقد ثبت الوجوب بدون هذه الصيغة" اور تحقیق وجوب ثابت ہو چکا ہے بغیر اس صیغے کے۔ "اليس" کیا ایسا نہیں ہے؟ استفہام انکاری ہے، یعنی ایسا ہے۔ استفہام انکاری، کیا ایسا نہیں، "اليس انه وجب الايمان" کیا ایسا نہیں ہے کہ ایمان واجب ہے "على من لم تبلغه الدعوة" اس شخص پر اس شخص پر جس تک دعوت نہیں پہنچی؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ اس پر دعوت واجب ہے؟ یا کیا اس پر ایمان لانا واجب ہے؟ یعنی یقیناً ایسا ہے، اس پر ایمان کا لانا واجب ہے۔ "بدون ورود السمع" بغیر وارد ہوئے سمع کے، یعنی کوئی سمعی دلیل کے آئے بغیر، کسی سمع کے پہنچے۔ ورود کا معنی پہنچنا، بغیر کسی سمعی دلیل کے پہنچے، بغیر کیا اس کے بغیر؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی بغیر کسی کی طرف سے دعوت پہنچے۔ دعوت جب پہنچ گئی، پھر تو یہ سمعی دلیل بن گئی، کیا بن گئی؟ اس نے خود سن لیا، اور دوسرا اس کو دعوت دے رہا ہے، وجوب بتلا رہا ہے۔ تو بغیر سننے کے ہی ایمان لانا واجب نہیں؟ "قال ابو حنيفۃ رحمه الله" امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں "لو لم يبعث الله تعالى رسولا" اگر اللہ کسی رسول کو نہ بھیجتے "لوجب على العقلاء" تو واجب تھا عقل رکھنے والوں پر "معرفته" کس کا؟ اللہ کی معرفت۔ صرف معرفت نہیں مولانا، معرفت سے مراد یہاں ایمان ہے، لیکن ایمان کا سبب کیا ہوا کرتا ہے؟ معرفت۔ بھئی، معرفت اللہ کی حاصل ہوگی تو پھر یہ سبب بن جائے گی کس چیز کا؟ ایمان لانے کا۔ پہچانے گا تو پھر کیا لائے گا؟ ایمان لائے گا۔ تو معرفت ہے سبب اور ایمان اس کا مسبّب، تو یہاں دیکھو سبب بول کر مراد کیا ہے؟ مسبّب، یہ کہتے ہیں، یہ ہے مجاز مولانا، یہ کیا ہے؟ مجاز، بھئی۔ تو اگر اللہ کوئی رسول نہ بھیجتے تو بھی واجب تھا عقل والوں پر اللہ پر ایمان لانا "بعقولهم" کس کے ساتھ؟ اپنے عقلوں کے ساتھ، اپنے عقلوں کے سبب سے ایمان لانا واجب تھا۔ "فيحمل ذلك" اب وہ تیسری شرح کرنے لگے ہیں بھئی، کہ اس قول کو محمول کیا جائے گا اس تشریح پر، اس معنی پر۔ کیا؟ "فيحمل ذلك" پس مولانا، اس کو اس قول کو محمول کیا جائے گا "على ان المراد بالامر" کہ امر کی جو مراد ہے، امر کی کیا مراد ہے؟ وجوب، کیا ہے؟ وجوب "يختص بهذه الصيغة" وہ خاص ہے اسی صیغے کے ساتھ "في حق العبد" کس کے حق میں؟ بندوں کے حق میں۔ معلوم ہوا وہ پہلی تشریح سے جو خرابی لازم آ رہی تھی، اس کو نکال دیا۔ پہلی سے کیا خرابی لازم آ رہی تھی؟ کہ یہ صیغہ ہے تو امر ہے، یہ صیغہ نہیں تو امر بھی نہیں، اور ازل میں تو یہ صیغہ نہیں ہو سکتا، تو بتلایا بھئی ہم اللہ کی ذات باری تعالی کی بات ہی نہیں کرتے، بلکہ کس کی بات کر رہے ہیں؟ بندے کی۔ بندے کے حق میں اس صیغے کا ہونا ضروری ہے، بندے کے لیے اس صیغے کا ہونا ضروری ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ "في الشرعيات" اور کس کے اندر مولانا؟ شرعی مسائل میں، یعنی فرعی مسائل میں۔ ایک فرعی مسائل، بھئی، سمجھ میں آیا؟ فرعی مسائل جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے بھئی، عمل سے۔ اور ایک ہیں اعتقادی مسائل، جن کا تعلق اعتقاد سے ہوتا ہے۔ بھئی، ایمان، ایمان باللہ یہ اعتقادی مسئلہ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا تعلق تو عقیدے سے ہے، عمل سے نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو کچھ، ایک ہے عقیدہ، ایک ہے عمل بھئی۔ عقیدہ اور چیز ہے، عمل اور۔ تو بتلایا یہ جو وجوب آ رہا ہے، کس کے اندر آئے گا اس صیغے سے؟ بندے کے حق میں آئے گا اور جن میں آئے گا، فرعی مسائل میں یعنی جن کا تعلق عمل سے ہے، جن کا تعلق عقیدے سے ہے، ان کی بات ہم نہیں کر رہے۔ تو اب وہ جو دوسری سے خرابی لازم آ رہی تھی، وہ بھی ختم ہوئی، کیونکہ وہاں کیا کہا تھا انہوں نے؟ تشریح کیا کی تھی؟ کہ امر ہے تو وجوب ہے، امر نہیں تو وجوب، یہ صیغہ ہے تو وجوب ہے، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں۔ تو بھئی وجوب بھی نہیں۔ یہ صیغہ ہے تو وجوب ہے، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں۔ تو انہوں نے بتلایا تھا دیکھو ایمان کا لانا واجب ہے، تو وہاں وجوب آ رہا تھا بغیر اس صیغے کے۔ کہتے ہیں بھئی، وہ اعتقاد کے اندر آ رہا تھا، کس مسئلے کس مسئلے میں آ رہا تھا؟ اعتقادی مسئلے میں وجوب آ رہا تھا، ہم اعتقادی مسئلے کی بات ہی نہیں کر رہے، ہم کس کی بات کر رہے ہیں؟ شرعی مسئلے کے اندر، وہاں پر شرعی مسائل جن کا تعلق عمل سے ہو، نماز پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، ان میں کیا آئے گا؟ وجوب کس کے ساتھ آئے گا؟ "افعل" صیغے کے ساتھ ہی آئے گا، اس کے بغیر نہیں آئے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ صورت سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی لیے کہا، دوبارہ دیکھو "فيحمل ذلك" اس قول کو محمول کیا جائے گا "على ان المراد بالامر يختص بهذه الصيغة" کہ مراد جو امر کی ہے، وہ خاص ہے اسی صیغے کے ساتھ "في حق العبد" کس کے حق میں؟ بندوں کے بندوں کے حق میں "في الشرعيات" کس میں؟ شرعی مسائل، یعنی شرعی فرعی مسائل مراد ہیں بھئی۔ عقائد کے فروع فقہیہ مراد ہیں، عقائد مراد نہیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو یہاں اللہ کی معرفت تو اس شخص پر واجب ہے، لیکن نماز تو نہیں ہوگی، نماز تو اسے بیچارے کو طریقہ ہی نہیں آتا، ایک آدمی جنگل میں، پہاڑوں میں رہتا ہے، اس تک دعوت ہی نہیں پہنچی، تو پھر تو اللہ پر ایمان لانا واجب ہوا، لیکن نماز واجب ہوگی؟ نہیں، اس کو طریقہ ہی نہیں معلوم، ہاں جب دعوت پہنچ گئی، رسول آ گیا، پھر اب کیا ہو جائے گا؟ جی؟ اب رسول آ کے اس کو بتائے گا نماز پڑھو، یہ نماز کا طریقہ ہے، زکوۃ ادا کرو، یہ کرو۔ ان چیزوں کا پتہ عقل سے تو نہیں لگ سکتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ "حتى لا يكون فعل الرسول" یاد رکھو "فعل الرسول" آیا بھئی۔ فعل رسول بھی وجوب کی دلیل ہے یا نہیں؟ یہ فعل، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل، وہ "افعلوا" کی طرح ہے یا "افعلوا" کی طرح نہیں ہے؟ بھئی "افعلوا" سے کیا آتا تھا؟ وجوب۔ تو کیا فعل رسول سے بھی وجوب آئے گا یا نہیں آئے گا؟ احناف کے نزدیک فعل رسول سے وجوب نہیں آئے گا۔ ہاں، دو شرطوں کے ساتھ وجوب آ سکتا ہے۔ فعل رسول سے بھی کیا آ سکتا ہے؟ وجوب آ سکتا ہے مولانا، دو شرطیں ہیں، کون کون سی دو شرطیں؟ ایک حضور نے مواظبت فرمائی ہو، پابندی فرمائی ہو مولانا، کبھی بھی ترک نہ کیا ہو، یہ دلیل ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی، عیدین کی نماز بھئی، ان پر کیا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ مواظبت کی ہے، پابندی کی ہے، مداومت کی ہے مولانا، بغیر ترک کے، بغیر کسی، کبھی چھوڑا بھی نہیں، ہاں اگر حضورِ پاک کی پابندی تو فرماتے ہیں لیکن کبھی ترک بھی—کر دیتے کبھی، تو یہ اس کے سنت ہونے کی دلیل ہے۔ اگر واجب ہوتا تو حضور اس کو ترک نہ فرماتے۔ سمجھ میں آیا؟ تو فعلِ رسول سے وجوب آیا کرتا ہے دو وجہ، دو دلی—دو اس میں ہوں، مولانا۔ ایک کیا؟ حضور نے کیا فرمائی ہو اس پر؟ مواظبت بغیر ترک کے فرمائی ہو، اور دوسرا کہ کوئی اختصاص کی دلیل بھی نہ ہو۔ ایسا نہ ہو حضور کے ساتھ ہی وہ خاص ہو فعل، بھئی۔ حضور کے ساتھ ہی کیا ہو وہ فعل؟ خاص ہو۔ جیسے مولانا، تہجد ہے۔ تہجد حضور—باقی امت پر واجب نہیں، مولانا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا ہے؟ واجب۔ اب دیکھو حضور نے تہجد پر بھی مواظبت فرمائی ہے، پابندی فرمائی ہے بغیر کسی ترک کے، لیکن اس کے باوجود امت کے لیے اس سے وجوب ثابت نہیں ہو رہا۔ کیوں؟ کیونکہ تہجد خاص تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم—حضور پر ہی واجب تھا، باقی امت پر واجب نہیں ہے، بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ اور رات میں کیا کیجیے؟ تہجد پڑھیے نَافِلَةً لَكَ یہ آپ کے لیے زائد ہے۔ یہ آپ کے لیے، یہ زائد حکم ہے آپ کے لیے، باقی امت کے لیے ایسا نہیں۔ تو یہاں تہـ—سمجھ میں آیا، بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو حضور کا فعل سے بھی کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا، لیکن وہ کیا ہے؟ دو شرطیں ہیں۔ کون کون سی؟ حضور نے مواظبت فرمائی ہو بغیر کسی ترک کے، اور نمبر دو اس میں اختصاص کی کوئی دلیل بھی وہاں پر نہ ہو۔ اگر اختصاص کی دلیل آ گئی تو پھر بھی وجوب نہیں آئے گا۔ جبکہ دوسرا مذہب ہے امام مالک رحمہ اللہ کا اور بعض شوافع کا، بھئی۔ کس کا مذہب ہے دوسرا؟ امام مالک رحمہ اللہ اور بعض فقہائے شوافع کا یہ مذہب ہے۔ امام مالک اور فقہائے، بعض فقہائے شوافع فرماتے ہیں کہ فعلِ رسول بھی کس سے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے آیا کرتا ہے، بھئی۔ فعلِ رسول سے بھی کیا آیا کرتا ہے؟ وجوب۔ دلیل دیتے ہیں، مولانا، دلیل۔ کہتے ہیں غزوہ خندق کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چار نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء فوت ہو گئیں۔ بعد میں حضور نے سب کو صحابہ کے ساتھ باجماعت ترتیب سے ادا فرمایا۔ پہلے ظہر کی پڑھی قضا، پھر عصر کی، پھر مغرب کی، پھر عشاء کی ترتیب کے ساتھ ادا فرمایا باجماعت، اور صحابہ سے پھر فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي۔ کیا فرمایا؟ صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي "تم بھی نہ، سب بھی نماز پڑھو جیسے کہ تم نے مجھے دیکھا، جیسے میں نے نماز پڑھی، جیسے میں نماز پڑھتا ہوں۔ تم بھی اسی طرح، تم بھی نماز پڑھو جیسے کہ تم مجھے دیکھتے ہو، میں نماز پڑھتا ہوں۔ تم بھی اسی طرح، یعنی ترتیب سے پڑھو، بھئی، جب رہ جائے تو کیا کر لو؟ ترتیب سے پڑھو۔" صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو کہتے ہیں دیکھا، فرماتے ہیں فعلِ رسول سے وجوب آیا یا نہیں؟ حضور نے ایک فعل فرمایا اور صحابہ کو کہہ رہے ہیں تم بھی اسی طرح کرو، اسی طرح نماز پڑھو۔ اپنے فعل کے بارے میں حضور فرما رہے ہیں، اسی طرح پڑھو۔ معلوم ہوا وہ فعلِ رسول کس کے لیے ہے؟ وجوب کے لیے۔ احناف جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہاں وجوب جو آ رہا ہے وہ فعلِ رسول کی وجہ سے نہیں آ رہا، وہ "صلوا" کے صیغہ کی وجہ سے آ رہا ہے۔ "صلوا" امر کا صیغہ آیا یا نہیں آیا؟ تو وجوب خاص ہے اسی صیغہ کے ساتھ۔ یہ صیغہ ہے تو وجوب ہے، یہ صیغہ نہیں تو وجوب بھی نہیں۔ تو یہ بندے کے حق میں، شرعی مسائل میں، تو یہاں جو وجوب آیا وہ کس کی وجہ سے آیا؟ "صلوا"، حضور نے خود "صلوا" کا صیغہ فرمایا، وجوب اس سے آیا، وہ فعلِ رسول سے نہیں۔ اور فعلِ رسول سے وجوب نہیں آتا، دلیل اس کی کیا ہے؟ ہم دلیل بھی دوسری سے قائم کرتے ہیں، شوافع کو یہ تو ہم نے ابھی جواب دیا، اور دلیل کیا ہے، بھئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے، نماز کے دوران آپ نے اپنے جوتے اتار دیے، ایک طرف رکھ دیے، بھئی۔ یاد رکھو، مولانا، ابتدائے اسلام کے اندر صحابہ کے حضور کے طور میں جوتوں سمیت نماز پڑھا کرتے تھے، بھئی۔ اس لیے کہ وہاں کی ریتلی زمین تھی، ریتلی، اور ریت کے اندر جوتے اسی طرح اس پر گرد وغیرہ تو لگ جاتی ہے، کوئی اور—سمجھ میں آیا؟ جوتے اسی طرح صاف رہتے ہیں، بھئی، صاف رہتے ہیں۔ ہاں، نجاست لگی ہو تو پھر تو نہیں، ویسے صاف۔ تو انہی کے اندر کیا کرتے تھے صحابہ وغیرہ؟ نماز پڑھا کرتے تھے۔ ہاں، بعد میں پھر آہستہ آہستہ اس کو—اب ان کے بغیر پڑھتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ جوتے ہی پہنے ہوتے تھے، مسجدِ نبوی کے اندر بھی ساری ریت ہی ہوا کرتی تھی، اسی پر نماز ادا کرتے تھے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرما رہے تھے، نماز کے دوران ہی اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار دیے، ایک طرف، بھئی۔ صحابہ نے دیکھا، انہوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے، تو صحابہ پر رد فرماتے—کو فرمایا اور کہا: تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟ رد فرمایا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ، آپ نے جوتے اتارے تھے، اس لیے ہم نے بھی اتار دیے۔ حضور نے فرمایا: مجھے تو جبریل نے آ کر ابھی بتلایا کہ آپ کے جوتے پر نجاست لگی ہے، اس لیے میں نے اپنے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیے۔ تو دیکھو حضور نے اپنے فعل کی متابعت پر رد فرمایا، صحابہ کو کیا کیا؟ رد فرمایا یا نہیں کہ تم نے کیوں جوتے اتارے، بھئی؟ اگر فعلِ رسول وجوب کے لیے ہوتا، تو حضور کبھی رد نہ فرماتے۔ فعلِ رسول ہی کے تو وہ متابعت کر رہے تھے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا کہ وجوب شرعی مسائل کے اندر، فقہی معـ—مسائل کے اندر اسی صیغہ کے ساتھ آیا کرتا ہے؟ ہم آپ کو دکھاتے ہیں، اس صیغہ کے بغیر بھی وجوب آ رہا ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ جی؟ وجوب اسی صیغہ کے ساتھ ہے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں، بغیر اس صیغے کے کیا ہو رہا ہے؟ وجوب آ رہا ہے۔ وجوب آ رہا ہے۔ ایک تو یہی، ابھی آپ نے خود بتلا دیا، فعلِ رسول سے بھی کیا آیا کرتا ہے، بھئی؟ وجوب آتا ہے یا نہیں؟ وجوب آتا ہے۔ کب؟ جبکہ حضور نے اس پر کیا فرمائی ہو؟ مداومت فرمائی ہو، بغیر ترک کے، اور حضور—کوئی اختصاص کی دلیل بھی وہاں پر نہ ہو۔ تو دیکھو بغیر اس صیغے کے وجوب آپ نے بھی مان لیا۔ نیز، مولانا، قرآن میں آیا ہے: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ، تمہارے اوپر روزے کیا کر دیے گئے؟ فرض کر دیے گئے۔ وجوب آ گیا یا نہیں آ گیا؟ اور كُتِبَ امر کا صیغہ ہے یا ماضی کا؟ ماضی کا صیغہ ہے۔ یا اسی طرح آتا ہے، مولانا: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ، تمہارے اوپر قتال کیا کر دیا گیا؟ جہاد، قتال فرض کر دیا گیا۔ تو دیکھو كُتِبَ کے ساتھ قتال فرض ہو رہا ہے، اور یہ امر کا صیغہ ہے؟ امر کا صیغہ—یہ تو وجـ—یہ تو دیکھو اس کے بغیر آیا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ آپ نے کہا تھا وجوب اسی صیغہ—اسی صیغہ کے ساتھ خاص ہے، ہم نے بتلایا، بھئی، آپ نے ابھی خود ہی بتلا دیا فعلِ رسول سے بھی کیا آیا کرتا ہے؟ وجوب، اور قرآن میں بھی آیا: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ، بھئی۔ ان میں دیکھو فرض—یہ وجوب آ رہا ہے اور بغیر اس صیغے کے۔ تو جواب، مولانا، کہ عمـ—امر جو ہے عام ہے، چاہے حقیقتاً امر ہو، چاہے حکماً امر ہو۔ امر چاہے حقیقتاً ہو، چاہے حکماً ہو۔ تو فعلِ رسول جب بغیر ترک کے، مواظبت کے ساتھ آ گیا، تو یہ بھی حکماً امر ہے۔ یہ بھی کیا ہے؟ حکماً امر ہے، اور كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ وغیرہ جو ہیں، یہ بھی اگرچہ صورتاً تو ماضی ہیں، لیکن حکماً کیا ہیں؟ امر ہیں، حکماً کیا ہیں؟ امر ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی سب کو؟ بس، چلیں، مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 48 of 123