واما المقتضى فهو زيادة على النص، لا يتحقق معنى النص إلا به، كأن النص اقتضاه ليصح في نفسه معناه، مثاله في الشرعيات قوله: "أنت طالق".
أچھا مولانا متعلقات نصوص ہم پڑھ رہے تھے، عبارت النص، اشارة النص، دلالة النص گزر چکے، آج ہم اقتضاء النص پڑھیں گے بھائی।
اقتضاء النص کہتے ہیں غیر مذکور کو مذکور ماننا تاکہ مذکور کیا ہو جائے؟ صحیح ہو جائے۔ یعنی کلام مذکور کی صحت کے لیے کہ صحیح ہونے کے لیے غیر مذکور کو مذکور ماننا بھئی، مذکور ماننا।
مذکور ماننا।
اس لیے کہ وہ نص جو مذکور ہے، اس کا معنی ہی صحیح نہیں بنتا جب تک اس غیر مذکور کو مانا نہ جائے۔
اس کا معنی ہی صحیح نہیں بنتا جب تک اس غیر مذکور کو نہ مانا جائے، تو نص ہوئی مقتضی، تقاضا کرنے والی، اور وہ غیر مذکور جس کو آپ نے مان لیا وہ کیا ہے؟ مقتضا ہے، یعنی جس کا نص نے تقاضا کیا، جس کا نص نے تقاضا کیا۔
تو کہتے ہیں واما المقتضى، مقتضا کیا ہے؟ جس کا نص نے تقاضا کیا، اور نص کیا ہوئی؟ مقتضی ہوئی، تقاضا کرنے والی۔ واما المقتضى، باقی مقتضا جو ہے فهو زيادة على النص، وہ زیادی ہے نص پر، لا يتحقق، صفت ہے زیادی کی، وہ ایسی زیادی ہے نص پر، لا يتحقق معنى النص إلا به، کہ پایا ہی نہیں جا سکتا، پایا جاتا، یعنی نص کا معنی پایا ہی نہیں جاتا إلا به مگر اس کے ساتھ، وہ غیر مذکور کا مانا جائے گا تو نص کا معنی بھی پایا جائے گا، اگر وہ غیر مذکور کو نہ مانا جائے تو نص کا معنی بھی، یعنی وہ غیر مذکور نہ مانیں تو نص کا اس کو نہ مانیں تو نص کا معنی بھی صحیح نہیں ہوتا۔
كأن النص اقتضاه، گویا کہ نص نے اس کا تقاضا کیا ہے، کیوں تقاضا کیا ہے؟ ليصح في نفسه معناه، أفي نفسه أي في ذاته، یعنی تاکہ فی ذاتہ نص کا معنی صحیح ہو جائے بھائی। تاکہ صحیح ہو جائے فی ذاتہ کس کا معنی؟ اس نص کا معنی صحیح ہو جائے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر اس غیر مذکور کو آپ نہیں مانتے تو مذکور کا معنی بھی صحیح نہیں بنتا۔
مثال اس کی جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں فتمتحرير رقبة، کفارہ یمین وغیرہ میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کفارہ ظہار میں فتمتحرير رقبة، ایک گردن کا آزاد کرنا ہے، اور گردن آزاد تبھی ہو سکتی ہے جبکہ پہلے وہ مملوک ہو، اگر مملوک ہی نہیں تو تحریر بھی نہیں، لہٰذا رقبة کے ساتھ کیا ماننا پڑے گا ہمیں؟ مملوکة، فتمتحرير رقبة مملوكة، اگر مملوکة کے یہاں پر زیادی نہ مانی جائے تو پھر تحریر رقبة کا معنی صحیح بنتا ہے؟ پھر تو یہ معنی ہی پایا نہیں جا سکتا، تو دیکھا یہ مملوکة کا تقاضا کس نے کیا؟ نص ہی نے کیا، تو نص ہوئی مقتضی، اور یہ مملوکة کی قید کا جو وصف کا یہ کیا ہوئی؟ مقتضا ہوئی مولانا، بات سمجھ میں ارہی ہے؟ مقتضا ہوئی۔
مثاله في الشرعيات، مثال اس کی کس کے اندر بھئی؟ شرعیات کے اندر بھئی، شرعی مسائل میں اس کی مثال، قوله، یہ قول ہے کسی خاوند کا جو اپنی بیوی سے کہے: "أنت طالق"، "أنت طالق"। اب یہاں اس نے طالق کا ذکر کیا، تو طلاق والی ہے، اور طالق ہے کیا؟ صفت ہے عورت کی، کس کی صفت ہے؟ عورت کی، عورت کو اس نے کہا تو طلاق والی ہے، تو طلاق والی۔
فإن هذا نعت المرأة، اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ عورت کی صفت ہے، إلا أن النعت يقتضي المصدر، مگر صفت نعت جو ہے وہ تقاضا کرتی ہے مصدر کا، کس کا تقاضا کرتی ہے؟ مصدر کا تقاضا کرتی ہے۔
مصدر کہتے ہیں مولانا آپ نے پڑھا ہے، حدث کو کہتے ہیں، حدث کو بھئی، یعنی وہ معنی جو قائم بالغیر ہو مولانا، قائم بالغیر، مصدر کا اپنا کوئی وجود نہیں الگ سے مولانا، یہ ایک وصف بنتا ہے کسی کا بھئی۔
کسی کا کیا بنتا ہے؟ بھئی زید ہے ضرب مثلاً، زید ہے ضرب تو پھر وہ ضرب بھی ہے جو زید نے لگائی، اگر زید نہیں تو ضرب بھی نہیں ہے بھئی۔
تو دیکھا؟ بغیر ذات کے، بغیر موصوف کے ضرب پائی جا سکتی ہے؟ نہیں، تو ضرب ایک مصدر ہے مولانا، تو اب یہاں پر دیکھیے مولانا، آپ نے ایک شخص نے عورت سے کہا أنت طالق، تو طلاق والی ہے، اور یہ طلاق والی کہنا تبھی ہو سکتا ہے صحیح جبکہ کیا ہو؟ پہلے طلاق مصدر پایا جائے، مثلاً مثال سے بات واضح ہو جائے گی، آپ کسی شخص کو کہتے ہیں أنت ضارب، أنت ضارب، آپ بتائیے جب اگر ضرب ہوگی تو أنت ضارب کہنا صحیح، اگر ضرب ہی نہ ہو تو پھر أنت ضارب کہنا صحیح ہے؟ أنت ضارب کہنا صحیح؟ تو أنت ضارب تبھی صحیح ہو سکتا ہے جبکہ پہلے کیا ہو؟ ضرب ہو، یعنی مصدر پہلے پایا جائے، یعنی وہ وصف جو اس کے ساتھ قائم ہے۔
تو یہاں پر بھی أنت طالق بھی أنت ضارب کی طرح ہے، وصف صفت ذکر ہوئی ہے مولانا تو طلاق والی ہے، اور یہ طلاق والی تبھی ہو سکتی ہے جب پہلے طلاق مصدر پایا جائے، طلاق ہوگی تو یہ بھی کیا ہے؟ طلاق والی ہے، طلاق ہی نہیں تو یہ بھی طلاق والی نہیں، تو یہاں تو أنت طالق تو طلاق والی ہے، یہ تو جملہ خبریہ ہے، تو یہ پہلے کس کا تقاضا کرتا ہے مولانا؟ جی؟ مصدر طلاق کا تقاضا کرتا ہے بھائی।
طلاق کا۔
تو اس أنت طالق یہ نص ہوئی مولانا، اور اس نص نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ مصدر کا تقاضا کیا، پھر ہی أنت طالق کہنا صحیح ورنہ أنت طالق کہنا صحیح؟ جیسے ضرب ہے تو أنت ضارب کہنا صحیح ورنہ اگر ضرب ہی نہیں ہے تو أنت ضارب کہنا بھی صحیح نہیں، تو اپنے صحیح ہونے کے لیے اس نے پہلے مصدر کا تقاضا کیا، اگر وہ مصدر ہے تو یہ صحیح ہے، اگر مصدر ہی نہیں تو پھر یہ بھی صحیح نہیں، جیسے ضرب ہی نہیں تو أنت ضارب کہنا بھی صحیح نہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں مولانا دیکھیے بھئی، فإن هذا نعت المرأة، یہ عورت کی صفت ہے، إلا أن النعت يقتضي المصدر، مگر نعت صفت جو ہے وہ تقاضا کرتی ہے مصدر کا، یعنی وہ معنی جو قائم بالغیر ہو، فكأن المصدر موجود بطريق الاقتضاء، پس گویا کہ مصدر موجود ہے کس طریقے پر؟ اقتضاء کے طریقے پر موجود ہے، یہ نص اس کا تقاضا کرتی ہے کر رہی ہے، اس کے بغیر اس کا معنی ہی صحیح نہیں بنتا۔
وإذا قال، اور یہ مثال ہے وإذا قال ایک شخص نے کہا دوسرے سے: "أعتق عبدك عني بألف درهم"، تو آزاد کر دے اپنے غلام کو میری طرف سے ایک ہزار درہم کے بدلے میں، فقال، تو دوسرے نے کہا: "أعتقت"، میں نے آزاد کر دیا، ایک شخص کے پاس غلام ہے، دوسرا اس کو کہتا ہے کہ اپنے غلام کو میری طرف سے ایک ہزار درہم کے بدلے آزاد کر دے، دوسرا کیا کہتا ہے؟ میں نے آزاد کر دیا، يقع العتق عن الآمر، تو آزادی کس کی طرف سے واقع ہوگی؟ حکم دینے والے کی طرف سے، فيجب عليه الألف، تو اس پر کتنے واجب ہو جائیں گے؟ ایک ہزار واجب ہو جائیں گے، ولو كان الآمر نوى به الكفارة يقع عما نوى، اور اگر حکم دینے والے نے نیت کی تھی کفارے کی، تو واقع ہو جائے گا، آزادی واقع ہو جائے گی عما اس چیز کی طرف سے نوى جس کی اس نے کیا کی تھی؟ نیت کی تھی، یعنی اس کفارے کی طرف سے جس کی اس نے نیت کی تھی، یہ آزادی واقع ہو جائے گی اور کفارہ ادا ہو جائے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں ارہی ہے بھئی؟ ایک شخص ہے تو اس نے دوسرے کو کہا اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دے، اس نے کہا آزاد کر دیا، اور اس نے کس کی نیت کی تھی؟ کفارے کی، تو اب یہ حکم دینے والے کی طرف سے آزاد ہوا ہے، لہٰذا کفارہ بھی ادا ہو گیا، اور چونکہ اس کی طرف سے آزاد ہوا ہے لہٰذا اس کو اب بدلے میں کیا دینے پڑیں گے؟ ایک ہزار درہم دینا پڑیں گے بھئی، درہم دینا پڑیں گے۔
یہ کیوں بھئی؟ اس لیے کہ یہاں اس نے کہا: "أعتق عبدك عني"، اپنے غلام کو کس کی طرف سے آزاد کر؟ میری طرف سے آزاد کر، اور یہ تو مالک نہیں ہے، مالک تو دوسرا ہے، تو اس کی طرف سے غلام آزاد نہیں ہو سکتا تھا، تو لہٰذا اب اس کو پہلے مالک بنانا پڑے گا، کیا ماننا پڑے گا؟ مالک، یا یوں سمجھو کہ دراصل جب اس نے کہا نہ "أعتق عبدك عني"، تو اپنے غلام میری طرف سے کتنے میں آزاد کر دے؟ ایک ہزار کے بدلے میں، گویا اس نے یوں کہا ہے: "بعه مني بألف"، اپنے غلام کو مجھ پر بیچ دے ایک ہزار کے بدلے، ثم كن وكيلي بالإعتاق، پھر تو کیا بن جا؟ میرا وکیل بالاعتاق بن جا، فأعتقه عني، پھر اس کو کیا کر دے میری طرف سے؟ آزاد کر دے۔
اس کا اس نے کلام نے تقاضا کیا بھئی، اس نے کہا تو دراصل یہ ہے میری طرف سے اپنے غلام کو آزاد کر دے ایک ہزار کے بدلے، لیکن اس قول نے کس بات کا تقاضا کیا؟ کہ کیا معنی ہے اس کے کلام کا؟ تو اپنے بیچ دے اپنے غلام کو مجھ پر، پھر میری طرف سے وکیل بن جا، پھر میری طرف سے وکیل بن کر اس غلام کو کیا کر دے؟ آزاد کر دے، آزاد کر دے۔
اور دوسرے نے گویا اس نے کہا: "أعتقت"، میں نے کیا کیا؟ آزاد کر دیا، گویا اس نے یوں کہا: "بُعْتُ منك بألف درهم"، میں نے تجھ پر بیچ دیا کتنے میں؟ ایک ہزار درہم میں، ثم صرتُ وكيلك بالإعتاق، پھر میں کیا بن گیا؟ تیرا وکیل بالاعتاق بن گیا، فأعتقتُ من جانبك، پھر میں نے کیا کر دیا تیری جانب سے؟ آزاد کر دیا، آزاد کر دیا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے کلام نے بعه عني بألف ثم كن وكيلي بالإعتاق فأعتقه عني اس کا تقاضا کیا، اور أعتقتُ نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ میں نے بیچ دیا، اور پھر تمہارا وکیل بن گیا، اور پھر میں نے تمہاری طرف سے کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا۔
بھئی انہوں نے اس کا تقاضا کیسے کیا؟ کیسے آپ نے ثابت کیا؟ کہتے ہیں دراصل جب پہلے نے کہا نہ "أعتق عبدك عني"، تو کیا کر میری طرف سے غلام کو؟ اس نے عنی کہا، میری طرف سے آزاد کر، اور حالانکہ یہ تو مالک نہیں ہے، مالک تو دوسرا ہے، اب لازمی بات ہے اس کے لیے پہلے ملکیت کو ثابت کرنا پڑے گا، اور ملکیت کو ثابت کریں گے ہم بیع کے ذریعے، بھئی سوال بیع کے ذریعے کیوں ثابت کرتے ہو؟ ہبہ وغیرہ کسی اور صورت سے کیوں نہیں ثابت کرتے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بألف درهم بھی تو ساتھ اس نے کہا ہے، بألف درهم کس پر دلالت کر رہا ہے؟ عوض پر دلالت کر رہا ہے، اور تملیک العين بالعوض یہ کیا کہلاتی ہے؟ بیع کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ بیع، کسی چیز کا دوسرے کو مالک بنانا عوض کے ساتھ، یہ کیا کہلاتی ہے؟ بیع کہلاتی ہے۔
تو تملیکات مولانا چار ہیں، وہ بھی یاد رکھیں، تمليك العين بالعوض، یا تمليك العين بلا عوض، تمليك العين بالعوض ہو تو یہ کیا ہے؟ بیع، اور تمليك العين بلا عوض ہو تو یہ کیا ہے؟ یہ ہبہ کہلاتا ہے، اور تمليك المنفعة بلا عوض ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اعارہ، صرف نفع کا مالک کسی کو بنائیں بھئی، عوض کے بغیر عوض کے، تو یہ کیا ہے؟ اعارہ، اور اگر تمليك المنفعة بالعوض ہو تو یہ کیا ہے؟ اجارہ، کہ نفع کا مالک کسی چیز کا دوسرے کو بنائیں تو عوض کے ساتھ یہ اجارہ ہے، اب یہاں پر اس نے بألف درهم کہا، عوض ذکر کر دیا، اور عوض جس کس کے اندر آیا کرتا ہے؟ بیع کے اندر، تو اقتضاءً ہمیں کیا ثابت کرنا پڑے گی؟ بیع، تو اقتضاءً بیع ثابت ہو گئی مولانا، کیا ثابت ہو گئی؟ اقتضاءً بیع ثابت ہو گئی بھئی۔
اچھا، اقتضاءً، تو بھئی اقتضاءً بیع ثابت ہوئی، اور ہاں، جی، اقتضاءً بیع، پھر جب اقتضاءً بیع ثابت ہو گئی، یہ کیا بن گیا مولانا؟ مالک بن گیا، کیا بن گیا؟ یہ امر دینے والا مالک بن گیا، جب مالک بن گیا، تو اب اعتاق کون کر رہا ہے؟ دوسرا، اعتاق تو وہی پہلے والا کر رہا ہے، اور مالک تو یہ بن گیا، اور دوسرا جب یہ مالک بن گیا تو پہلا اس کا اعتاق اس کو آزاد نہیں کر سکتا، جب نہیں کر سکتا کیونکہ اعتاق تو یا تو مالک کی طرف سے ہوتا ہے یا اس کے وکیل یا نائب وغیرہ کی طرف سے ہوتا ہے، تو پھر ہمیں یہاں توکیل کو بھی اقتضاءً ثابت کرنا پڑا، کس چیز کو؟ توکیل کو کہ اس کو وکیل بنا دیا اس نے کہ تو میرا وکیل بن جا، اور پھر میری طرف سے کیا کر دے؟ آزاد کر دے۔
تو یہاں اقتضاءً بیع کو بھی ثابت کرنا پڑا اور اقتضاءً توکیل کو بھی ثابت کرنا پڑا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
وذلك لأن قوله: "أعتق هو عني بألف درهم"، اس لیے کہ مولانا حکم دینے والے کا یہ کہنا: "أعتق هو عني بألف درهم"، کہ میری طرف سے آزاد کر دے ایک ہزار درہم کے بدلے، يقتضي، وہ تقاضا کرتا ہے معنى قوله، کہ اس کے قول کا کیا معنی ہے؟
بعه عني بألف، بیچ دے بعه مني ہونا چاہیے مولانا، یہ بع کا صلہ من آیا کرتا ہے، لیکن عن بمعنی من کے پھر ہم لے لیں گے، عن بمعنی من کے، بعه عني بألف اي بعه مني بألف، بیچ دے تو اس کو مجھ پر بألف ایک ہزار کے بدلے، ثم كن وكيلي بالإعتاق، پھر تو میرا وکیل بن جا بالاعتاق بن جا، فأعتقه عني، پھر اس کو تو آزاد کر دے میری طرف سے۔
فيثبت البيع بطريق الاقتضاء، تو بیع ثابت ہو جائے گی کس طریقے پر؟ اقتضاء کے طریقے پر، جی۔
تو جب مولانا پھر اشکال ہوتا ہے کہ قبول کدھر ہے؟ بھئی قبول بھی تو ہونا چاہیے، بیع تو ایجاب و قبول کا نام ہے، یہاں تو کوئی قبول وغیرہ ہی نہیں ہے، تو بیع کیسے منعقد ہو گئی؟ تو جواب دینے لگے ہیں آگے متن ہی کہ بھئی یہ بیع ہم نے اقتضاءً ثابت کی ہے، اور جب بیع اقتظاماً ثابت ہوئی تو ایجاب و قبول بھی کیسے ثابت ہوئے؟ اقتضاءً ثابت ہوں گے مولانا، کیونکہ بیع کے یہ ارکان ہیں، بیع ایجاب و قبول ہے تو بیع ہے، ایجاب و قبول نہیں تو بیع بھی نہیں۔
تو جب بیع ثابت ہوئی تو لازمی بات ہے اس کے ارکان بھی کیا ہو گئے؟ کیونکہ وہ نام ہی ایجاب و قبول کا ہے۔
تو کہتے ہیں فيثبت، جیسے بیع اقتضاءً ثابت ہوئی ہے، فيثبت القبول كذلك، تو قبول بھی اسی طرح ثابت ہوگا، لأنه ركن في باب البيع، اس لیے کہ وہ رکن ہے کس میں؟ باب البيع کے اندر، بیع کے اندر۔
سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یہ حاشیہ 2 اور 3 کو آپ تفصیل کے ساتھ یہ پورا مسئلہ ان میں ذکر ہے جس طریقے پر میں نے ذکر کیا۔ یہ بھی دیکھ لیجیے گا، بھئی۔
"ولہذا قال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی: إذا قال: أعتق عبدک عني بغیر شيء"، اسی بناء پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں "إذا قال"، جب ایک آدمی نے کہا دوسرے سے: "أعتق عبدک عني بغیر شيء"، اپنے غلام کو آزاد کر دے میری طرف سے بغیر کسی... بھئی! اوپر تھا "بألف درہم"، نیچے بھی بعینہ وہی عبارت ہے بس "بغیر شيء"، بغیر کسی چیز کے بدلے میں، اور بغیر کسی چیز کے بدلے میں اب کسی کو مالک بنایا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ ہبہ کہلاتا ہے، تو اوپر بیع تھی، تو یہاں کیا ثابت ہوگا اقتضاءً؟ ہبہ ثابت ہوگا۔
تو کہتے ہیں جب یہ کہا: "فقال: أعتقت"، دوسرے نے کہا: میں نے آزاد کر دیا، کہتے ہیں: "یقع العتق عن الأمر"، تو عتق کس کی طرف سے واقع ہوگا؟ حکم دینے والے کی طرف سے ہوگا، "ویکون ہذا مقتضیا للہبۃ"، اور یہ مولانا اس کا قول تقاضا کرنے والا ہے ہبہ کا، "والتوکیل"، اور کس چیز کا؟ توکیل کا بھی، کیونکہ جب ہبہ پایا گیا تو دوسرا پھر آزاد نہیں کر سکتا تو توکیل بھی ماننا پڑے گی۔
"ولا یحتاج فیہ إلى القبض"، اور اس میں کہتے ہیں بھئی قبضے کا بھی محتاج نہیں ہے بھئی، یاد رکھو ہبہ کے اندر قبضہ شرط ہے بھئی، قبضہ کیا ہے؟ ہبہ تام نہیں ہوتا جب تک قبضہ نہ پایا جائے۔
سمجھ میں آیا؟ تو ثبوتِ ہبہ تو ویسے ہو جائے گا لیکن بقائے ہبہ نہیں، بقائے ہبہ نہیں۔ بھئی قبضہ ہے تو ہبہ ہوا تام ہو گیا، نہیں تو ہبہ ختم ہوا۔
"ولا یحتاج فیہ إلى القبض"، اور اس میں قبضے کا بھی محتاج نہیں کیونکہ ہبہ کے اندر کیا شرط... کیا شرط تھی بھئی؟ قبضہ شرط، تو سوال پیدا ہوتا ہے یہاں تو قبضہ نہیں پایا گیا، تو وہ کیا کہتے ہیں بھئی؟ یہ جیسے بیع کے اندر ہم نے قبول کو اقتضاءً ثابت کیا تھا، یہاں پر قبضے کو بھی کس طریقے پر ثابت کریں گے؟ اقتضاءً ثابت کریں گے۔
"ولا یحتاج فیہ إلى القبض"، اور اس میں قبضے کی احتیاج نہیں ہے "لانہ بمنزلۃ القبول فی باب البيع"، اس لیے کہ وہ کس درجے میں ہے؟ قبول کے درجے میں ہے "فی باب البيع"، کس کے اندر؟ باب البيع، جی، جیسے قبول باب البيع کے اندر ہے، یہ ہبہ کے اندر قبضہ بھی اسی درجے میں ہے، جیسے قبول کس کے اندر ہے؟ باب البيع، اسی طرح ہبہ کے اندر قبضہ بھی... جی، جیسے...
"ولکنّا"، یہاں سے رد کر رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا، طرفین فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کہ کہ بھئی وہاں تو ہم نے اقتضاءً قبول کو ثابت کیا تھا، اس لیے کہ وہاں پر قبول رکن ہے بیع کا، قبول ہے تو بیع ہے، قبول نہیں تو بیع بھی نہیں، کیونکہ بیع تو نام ہی اس ایجاب و قبول کا ہے تو یہ اس کے رکن ہیں، تو وہاں اقتضاءً جب بیع کو ثابت کیا تو قبول کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ اقتضاءً ماننا پڑے گا اور اس کے سوا چارہ ہی نہیں ہے، جبکہ یہاں پر ہبہ ہے مولانا، اور ہبہ کے اندر قبضہ جو ہے وہ اس ہبہ کا رکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے شرط ہے، تو ہبہ کے ثبوت سے قبضے کا ثبوت نہیں ہو سکتا، وہاں بیع کے اندر تو بیع کے ثبوت سے کس کا ثبوت آ جائے گا؟ قبول کا بھی ثبوت آ جائے گا، لیکن ہبہ کے اندر تو قبضہ ایک الگ چیز ہے، شرط ہے اس کے لیے، تو ہبہ کے ثبوت سے قبضے کا ثبوت... لہذا آپ کو اس مسئلے پر... اس مسئلے کو اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ مسئلہ بھی اسی مسئلے کی طرح ہے جیسے وہاں بیع اقتضاءً ثابت ہوئی تھی، توکیل اقتضاءً ثابت ہوئی تھی اور حکم دینے والے کی طرف سے غلام آزاد ہو گیا تھا، اور اگر اس نے کفارے کی نیت کی تھی تو اس کی طرف سے کفارہ بھی کیا ہوا؟ ادا ہو گیا، جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ نہیں یہ مسئلہ اس مسئلے کی طرح نہیں ہے، وہاں... یہاں پر جو ہے ہبہ کے اندر قبضہ شرط ہے اور یہاں پر قبضہ نہیں پایا گیا، لہذا یہ حکم دینے والے کی طرف سے غلام آزاد نہیں ہوگا بلکہ کس کی طرف سے؟ جو اصل پہلے سے مالک تھا اسی کی طرف سے آزاد ہوگا، جب اس کی طرف سے آزاد ہے تو اگر اس نے کفارے کی نیت کی ہے تو اس کا کفارہ بھی ادا... جب اس کی طرف سے غلام ہی نہیں آزاد ہوا تو اس کی طرف سے کفارہ بھی ادا نہیں ہوا۔
سمجھ میں آئی بات؟
"ولکنّا نقول"، ہم کہتے ہیں: "القبول رکن فی باب البيع"، کہ قبول جو ہے رکن ہے بیع کے باب میں، "فإذا أثبتنا البيع"، جب ہم نے بیع کو ثابت کر دیا اقتضاءً، "أثبتنا القبول ضرورتہ"، تو قبول کو بھی ہم نے ثابت کر دیا ضرورت کی بناء پر، کیونکہ اس کے بغیر تو بیع ہی نہیں ہو سکتی، "بخلاف القبض فی باب الهبۃ"، بخلاف قبضے کے باب الهبہ کے اندر، "فإنہ لیس برکن فی الهبۃ"، اس لیے کہ وہ ہبہ کے اندر رکن نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ شرط ہے، اور شرطِ شئے کیا ہوتی ہے؟ شئے سے خارج، تو شئے کے ثبوت سے شرط کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔
"لیکون"، تو یہ رکن نہیں ہے ہبہ کے اندر "لیکون الحكم بالہبۃ بطریق الاقتضاء حکما بالقبض"، یہ ترجمہ یہاں ذرا مشکل ہے، ترجمہ غور سے سننا، بھئی!
تو یہ رکن نہیں ہے ہبہ کے اندر "لیکون الحكم بالہبۃ"، کہ حکم بالہبہ وہ حکم بالقبض بھی ہو جائے، یعنی ہبہ کا حکم لگانا یہ قبضے کا حکم لگانا نہیں ہو سکتا، بھئی، صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ وہ ہبہ "بطریق الاقتضاء"، جو کس طریقے پر آیا ہے؟ اقتضاء کے طریقے پر، بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ "لیکون الحكم بالہبۃ بطریق الاقتضاء"، تاکہ وہ ہبہ جو اقتضاء کے طریقے پر ہے اس کا حکم وہ کیا ہو جائے؟ حکم بالقبض بھی ہو جائے، حکم بالہبہ کیا ہو جائے؟ حکم بالقبض، تو یہ رکن ہی نہیں ہے ہبہ میں کہ حکم بالہبہ، حکم بالقبض بھی ہو جائے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ درمیان میں ہبہ کے بارے میں بتلایا ہے کہ ہبہ کس طریقے سے ثابت ہے؟ "بطریق الاقتضاء"، تو یہ ہبہ کے اندر رکن نہیں ہے تاکہ حکم اس ہبہ کا جو اقتضاء کے طریقے سے ثابت ہے، وہ حکم بالقبض بھی ہو جائے۔
جی، یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آئی، بھئی؟
"وحکم المقتضى أنہ یثبت بطریق الضرورۃ فیقدر بقدر الضرورۃ"، مقتضیٰ کا حکم یہ ہے مولانا! کہ یہ ثابت ہوتا ہے ضرورت کے طریقے پر، بھئی کلام کے صحیح کرنے کے لیے ہمیں اس کی ضرورت پڑتی ہے، "فیقدر بقدر الضرورۃ"، تو مقدر بھی ہوگا کتنا؟ فرض کیا جائے گا بقدرِ... بقدرِ ضرورت ہی مقدر نکالا جائے گا، فرض کیا جائے گا، بقدرِ ضرورت ہی فرض کیا جائے گا۔
کیا بات ہوئی، بھئی؟ مقتضیٰ کا حکم کیا ہے؟ کہ اس کو ثابت کیا کس بناء پر؟ "فیقدر بقدر الضرورۃ"، تو ضرورت کے بقدر ہی فرض کیا جائے گا، ضرورت سے زائد نہیں، جب یہ ضرورت کے بقدر فرض کیا گیا، معلوم ہوا اس کے اندر عموم نہیں، معلوم کیا ہوا اس کے اندر عموم نہیں ہے، صرف ضرورت کے بقدر ہم نے فرض کیا ہے، تو اس میں عموم نہیں ہوتا۔
"ولہذا قلنا"، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: "إذا قال"، جب کہا خاوند نے بیوی سے: "أنت طالق"، تو طلاق والی ہے، "ونوی بہ الثلاث"، اور نیت کتنے کی کی؟ تین کی کی اس نے اس سے، "لا یصح"، ہو صحیح نہیں، کتنی واقع ہوں گی؟ ایک ہی ہوگی، کیوں؟ کیونکہ یہاں "أنت طالق" کہا، اور "أنت طالق"، "طالق" صفت ہے عورت کی کہ تو طلاق والی ہے، اور صفت تقاضا کرتی ہے کس کا؟ مصدر کا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ مصدر کا، تو... اور تو طلاق ہونا... طلاق پائی جائے گی، طلاق کو پہلے کیا کیا جائے گا؟ مصدر کو اور کس طریقے پر؟ اقتضاءً ثابت کیا جائے گا، اور ضرورت ایک سے پوری ہو رہی ہے، تین کی ضرورت نہیں، بھئی اقتضاء کو، مقتضیٰ کو ہم نے کس وجہ... کس طریقے پر ثابت کیا ہے؟ ضرورت کے، اور ضرورت کتنے سے پوری ہو رہی ہے؟ ایک سے پوری ہو رہی ہے، لہذا اب ایک ہی طلاق واقع ہوگی، تین کی نیت کی تو تین واقع... مسئلہ سمجھ میں آیا، بھئی؟
"ولہذا قلنا"، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: "إذا قال: أنت طالق"، کہا: "ونوی بہ الثلاث"، اور خاوند نے نیت کی اس سے تین کی، "لا یصح"، یہ صحیح نہیں، "لأن الطلاق یقدر مذکورا بطریق الاقتضاء"، اس لیے کہ طلاق کو مقدر... فرض کیا گیا ہے مذکور، طلاق کو کیا فرض کیا گیا ہے؟ مذکور فرض کیا گیا ہے "بطریق الاقتضاء"، اقتضاء کے طریقے پر، "فیقدر بقدر الضرورۃ"، تو اس کو فرض کیا جائے گا بقدرِ ضرورت ہی، "والضرورۃ ترتفع بالواحد"، اور ضرورت اٹھ جاتی ہے مولانا! کس کے ساتھ؟ ایک ہی کے ساتھ، "فیقدر مذکورا فی حق الواحد"، تو اس کو فرض کیا جائے گا مذکور کتنے کے حق میں؟ ایک ہی کے حق میں، بھئی ایک سے ضرورت پوری ہو گئی تو ایک سے زائد فرض کرنے کی ضرورت نہیں۔
"وعلى ہذا یخرج"، اور اسی پر یہ حکم بھی نکالا جائے گا "فی قولہ"، خاوند کے اس قول میں: "إن أکلت"، مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا: "إن أکلت فأنت طالق"، اگر میں نے کھایا تو تجھے طلاق، یا کہتا ہے: "إن أکلت فأنت طالق"، اگر تو نے کھایا تو تجھے طلاق، طلاق، اب مولانا خاوند نے أکل ذکر کیا اور أکل بغیر ماکول کے ہو سکتا ہے؟ نہیں، کوئی جب تک کھانے والی چیز نہ پائی جائے أکل پایا جا سکتا ہے؟ نہیں، تو لہذا کوئی بھی ماکول یہاں کیا کیا جائے گا؟ فردِ مطلق اس کا مقدر، بھئی، مانا جائے گا، بھئی، کوئی بھی ماکول کھا لے، کوئی بھی طعام وہ کھا لے، اگر کہا تھا: "إن أکلت"، تو اگر خاوند نے اپنا بیان کیا تو خاوند کوئی بھی چیز کھا لے گا، بیوی کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق، یا اس نے اگر کہا تھا: "إن أکلت"، بیوی کی طرف نسبت کی، تو بیوی کوئی بھی چیز کھا لے گی، فوراً اس کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، طلاق ہو جائے گی۔
سمجھ میں آیا؟ اگر وہ کہتا ہے: نہیں، میں نے تو نیت کی تھی کہ اگر اس نے کڑھائی کھائی تو پھر اس کو کیا ہے؟ طلاق، دال کھاتی رہے اس پہ گزارا کرتی رہی تو اس کو طلاق نہیں، بھئی نہیں، یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ تخصیص کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ تخصیص کر رہے ہیں، اور تخصیص وہاں آیا کرتی ہے جہاں عموم ہو، اور یہاں تو عموم ہے ہی نہیں، کیونکہ... کیونکہ کیا ہے؟ "المقتضى یقدر بقدر الضرورۃ"، سمجھ میں آیا؟
مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا، بھئی؟
"وعلى ہذا یخرج الحكم فی قولہ: إن أکلت"، اور اسی پر نکالا جائے گا حکم مولانا خاوند کے اس قول کے اندر: "إن أکلت"، آگے پورا جزا کیا ہے؟ "فأنت طالق" یا وغیرہ جو بھی، "ونوی بہ طعاما دون طعام"، اور نیت کی اس نے کسی ایک کھانے کی نہ کہ دوسرے کی، یعنی کسی خاص کھانے کی نیت کر لی مولانا، کسی عام دوسرے کھانوں کی نیت نہیں کی، یہ... تو یہ نیت کرنا اس کا صحیح نہیں، جو بھی کھانا کھا لے وہ طلاق ہو جائے گی، "لأن الأکل یقتضي طعاما"، اس لیے کہ أکل کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ طعام، کوئی ماکول ہونا چاہیے، کوئی چیز ہو، بھئی! "فکان ذلک ثابتا بطریق الاقتضاء"، تو یہ ماکول کس طریقے پر ثابت ہوا؟ اقتضاء... اقتضاء کے طریقے پر، "فیقدر بقدر الضرورۃ"، تو اس کو مقدر مانا جائے گا بقدرِ ضرورت ہی، "والضرورۃ ترتفع بالفرد المطلق"، اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے، اٹھ جاتی ہے کس کے ساتھ، بھئی؟ ایک کسی بھی فردِ مطلق کے ساتھ، کوئی بھی ماکول پایا جائے، "ولا تخصیص فی الفرد المطلق"، اور فردِ مطلق کے اندر کوئی تخصیص نہیں، "لأن التخصیص یعتمد العموم"، کیونکہ تخصیص کا اعتماد کس پر ہوتا ہے؟ عموم پر، تخصیص تو وہاں آتی ہے جہاں عموم ہو، اور یہاں تو مقتضیٰ کے اندر عموم ہی نہیں، وہ تو کیا ہے؟ مقدر ہے بقدرِ ضرورت ہی، تو اس میں عموم ہی نہیں، جب عموم نہیں تو تخصیص بھی نہیں ہو سکتی، لہذا کوئی بھی چیز کھائے، طلاق ہو جائے گی۔
صورتِ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گئی؟
"ولو قال بعد الدخول: اعتدي"، اور اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا "بعد الدخول"، بھئی صحبت کے بعد کہا اس نے، بھئی! کیا کہا؟ "اعتدي"، تو شمار کر، کیا کہا؟ اچھا! یاد رکھو، بھئی! یہ "اعتدي" کنایہ ہے طلاق میں، بھئی، کیا ہے؟ کنایہ ہے، "اعتدي"، "اعتدي" کا معنی ہے: تو شمار کر، تو شمار کر، تو کنایہ بھی اسی کو کہتے ہیں جس کی مراد پوشیدہ ہو، یعنی جس میں اور بھی احتمال ہوں، تو یہاں پر بھی مولانا طلاق کا بھی احتمال ہے اور غیرِ طلاق کا بھی... کیونکہ معنی کیا ہے؟ تو شمار کر، اب کس چیز کو شمار کر؟ یا تو اپنی عدت کو شمار کر، پھر تو یہ طلاق کے لیے... سے کا ارادہ ہوگا، یا اس کا یہ معنی ہو سکتا ہے: تو شمار کر، یعنی اللہ کی نعمتوں کو اپنے اوپر شمار کر، یا تو میرے احسانات کو اپنے اوپر شمار کر، یا تو میرے مال کو شمار کر، کئی احتمال آ گئے یا نہیں آ گئے، بھئی؟ شمار کر، تو اس... یہ کنایہ ہے، کنایہ، بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو اگر خاوند نے کہا بیوی سے دخول کے بعد: "اعتدي"، تو شمار کر، "ونوی بہ الطلاق"، اور نیت کی اس سے طلاق کی، "فیقع الطلاق"، تو اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی، بھئی، تو "اعتدي" کا معنی ہے: تو شمار کر۔
یہ مولانا کنایات میں سے ہے، کس میں سے ہے "اعتدي"؟ کنایات میں سے ہے، کنایات میں سے، اور تمام کنایات سے طلاقِ بائن ہوا کرتی ہے، سوائے تین کنایات ہیں، بھئی، تین کنایات ہیں، بھئی، ان میں سے ایک "اعتدي" بھی ہے، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ "اعتدي" سے بھی کون سی طلاق واقع ہوا کرتی ہے؟ ہے کنایہ، لیکن اس سے طلاقِ رجعی واقع ہوا کرتی ہے۔
اس پر نص آئی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ نص بھئی نص، حدیث میں اس سے اعتدّی حضور نے اعتدّی کہا تھا اپنی بعض ازواج سے اور پھر رجوع فرما لیا تھا، معلوم ہوا کہ اس سے کون سی طلاق ہوا کرتی ہے؟ رجعی ہوتی ہے، اگر بائن ہوتی پھر تو رجوع ہی نہ تھا بھئی۔ اچھا، اب اعتدّی بھئی یہ اعتدّی سے طلاق یہ ہے تو کنایہ لیکن اس سے کون سی طلاق ہوتی ہے؟ رجعی ہوتی ہے، کیوں ہوتی ہے؟ آج آپ کو بتلائیں گے بھئی دیکھیں۔ "ولو قال بعد الدخول"، اگر اس نے بیوی سے صحبت کے بعد کہا "اعتدي"، تو شمار کر، "ونوى بہ الطلاق"، اور اس کے ساتھ نیت کی طلاق کی، سمجھ میں آیا کنایہ، اور کنایہ کے اندر آپ نے پڑھا ہے نیت کا ہونا یا کسی دلالت کا ہونا ضروری ہے، تو نیت مثلاً کی، نیت کی "فیقع الطلاق اقتضاء"، تو طلاق کس طریقے پر واقع ہوگی؟ اقتضاءً کے طریقے پر، کیوں؟ کہتے ہیں "لأن الاعتداد یقتضي وجود الطلاق"، عدت کون گزارا کرتی ہے مولانا؟ بغیر طلاق والی یا طلاق والی بھئی؟ جب اس نے کہا عدت گزار، معلوم ہوا اس سے پہلے کیا ماننا پڑے گا؟ طلاق کو ماننا پڑے گا ورنہ عدت گزارنے کی بات صحیح نہیں۔ "لأن الاعتداد یقتضي وجود الطلاق"، اس لیے کہ عدت کا گزارنا وہ تقاضا کرتا ہے طلاق کے پائے جانے کا، "فیقدر الطلاق موجودا ضرورۃ"، لہذا مقدر مانا جائے گا طلاق کو، فرض کیا جائے گا طلاق کو موجود فرض کیا جائے گا طلاق کو ضرورۃً کس بناء پر؟ ضرورت کی بناء پر۔ اچھا، ٹھیک ہے بھئی طلاق تو واقع ہو گئی۔ لیکن کون سی طلاق واقع ہوئی؟ رجعی، طلاق بائن واقع کیوں؟ اس لیے کہ بائن ایک وصف زائد ہے، کیا ہے وصف؟ زائد ہے، اور ضرورت ہماری طلاق سے پوری ہو رہی ہے تو وصف اور ضرورت، تو وصف زائد کو ثابت نہیں کیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو وصف زائد۔ "ولہذا کان الواقع بہ رجعیا"، لہذا اس کے ذریعے واقع جو ہوگی طلاق وہ رجعی ہوگی، "لأن صَفۃ البینونۃ زائدۃ على قدر الضرورۃ"، اس لیے کہ بینونت جدا بینونت کی صفت وہ زائد ہے علی قدر الضرورۃ، ضرورت کے مقدار سے کیا ہے؟ ضرورت کے مقدار سے زائد ہے، جب طلاق سے ہماری ضرورت پوری ہو رہی ہے، طلاق سے کیا آ جائے گی فوراً عدت آ جائے گی، تو ایک وصف زائد کہ طلاق بائن، بائن کا وصف زیادہ فرض کرنے کی ضرورت نہیں، "فلا یثبت بطریق الاقتضاء"، لہذا یہ بینونت کی صفت ثابت نہیں ہوگی اقتضاء کے طریقے پر، "ولا یقع إلا واحد"، اور نہیں واقع ہوگی مگر ایک ہی، "لما ذکرنا"، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کی بھئی کہ ایک ہی واقع ہوگی کیونکہ ایک ہی طلاق سے کیا ہوگی ضرورت پوری ہو گئی، اور بینونت کی صفت بھی زائد ہے اس کی بھی ضرورت نہیں اور مقتضىٰ تو کیا ہوتا ہے؟ یقدر بقدر الضرورۃ بھئی، بقدر ضرورت مقدر مانا جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دیکھیے متن میں "ولو قال بعد الدخول اعتدي"، دخول کے بعد اس نے کہا ہے مولانا جماعت کے بعد کہا ہے عدت گزار، اس لیے کہ اگر صحبت سے پہلے اس نے کہا "اعتدي"، تو اس صورت میں اس سے طلاق بائن ہوگی، سمجھ میں آیا؟ وہ عورت جس سے نکاح تو ہو گیا ہو آدمی کا لیکن ابھی ملاقات نہیں ہوئی، تو اس کو طلاق دی جائے تو فوراً طلاق بائن ہوا کرتی ہے، کیا ہوا کرتی ہے؟ طلاق بائن، اس میں تو رجعی ہے ہی نہیں، کیوں؟ بھئی اس لیے کہ طلاق کے بعد عدت گزارنا پڑتی ہے اور عدت کے اندر رجوع کیا جا سکتا ہے، اور عدت کیوں گزارنا پڑتی ہے؟ کیونکہ خاوند اس سے ملاقات کر چکا ہے تو شاید کہ یہ حاملہ نہ ہو، شاید کیا ہو یہ؟ حاملہ، اور اس سے تو خاوند نے ملاقات ہی نہیں کی، جب ملاقات ہی نہیں کی تو عدت بھی نہیں، جب عدت نہیں ہے تو فوراً طلاق ہوتے ہی وہ کیا ہو جائے گی؟ بائن، دوسری عورت کو تو طلاق رجعی دو تو عدت کے پورا ہونے کے بعد کیا ہو جائے گی طلاق، پہلے تو پھر بائن ہو جائے گی لیکن یہاں پر عدت ہے ہی نہیں لہذا طلاق ہوتے ہی فوراً کیا ہو جائے گی؟ بائن ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آئی؟ لہذا "بعد الدخول" کی قید لگائی مولانا، کیونکہ اگر "قبل الدخول" ہو تو "اعتدي" سے طلاق واقع ہوگی لیکن کون سی ہو جائے گی؟ بائن واقع ہوگی کیونکہ غیر مدخول بہا میں تو طلاق رجعی ہے ہی نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو غیر مدخول بہا میں مولانا جو طلاق ہوگی "اعتدي" کہا، تو وہ طلاق مجاز کے طریقے پر ہوگی، اقتضاء کے طریقے پر نہیں ہوگی، مجاز کے طریقے پر ہوگی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ وہاں اس پر عدت ہے غیر مدخول بہا پر؟ جب عدت ہے ہی نہیں تو وہاں اقتضاء کے طریقے پر طلاق بھی ثابت نہیں، بلکہ وہاں طلاق ثابت ہے مجازاً، اس لیے کہ خاوند نے کہا عدت گزار، اور عدت یہ ہے مسبب، عدت کیوں آیا کرتی ہے اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ طلاق، تو یہاں خاوند مسبب بول رہا ہے اور مراد کیا ہے؟ سبب ہے، تو مسبب بول کر سبب کا ارادہ کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز کہلاتا ہے، تو وہاں جو طلاق ثابت ہوگی کس طریقے پر ہوگی؟ مجاز کے طریقے پر ہوگی، اقتضاء کے طریقے پر نہیں ہوگی، تو وہاں بائن ہوگی طلاق۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔