Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-046

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 106
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
متعلقاتِ نصوص کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ گزشتہ سبق میں آپ نے اشارۃ النص کی کچھ مثالیں پڑھیں۔ جی۔ کہ اور کہ مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ یہ آیت کہاں تک؟ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ تک۔ تو اس کے اندر اس آیت کو کس لیے لایا گیا ہے؟ یہ بتلانے کے لیے کہ رمضان کی راتوں میں کھانا، پینا اور جماع کرنا جائز ہے، جائز ہے۔ تو معلوم ہوا جب رات کے رات کے رات کے اندر جماع کرنا جائز ہے، تو ہر ہر حصے میں جماع کیا ہوا؟ جائز ہوا، تو جب ہر حصے میں جماع جائز ہے، تو لازمی بات ہے کہ رات کے آخری جز میں بھی کیا ہے؟ جماع کرنا جائز ہے۔ جائز ہے صبح سے پہلے پہلے بھئی۔ اب ایک شخص اس وقت کے اندر جماع کرتا ہے، تو اب اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر سکے؟ غسل کر سکے، تو لازمی بات ہے وہ روزے کے اندر داخل ہو گا کس حالت میں؟ جنابت کی حالت میں، معلوم ہوا جنابت روزے کے منافی نہیں۔ معلوم ہوا جنابت روزے کے منافی نہیں ہے بھئی، یہ اشارۃ النص سے ثابت ہوا؟ نیز یہ بھی پتہ چل گیا اس سے کہ اب مضمضہ اور استنشاق، ناک میں پانی ڈالنا اور کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا، یہ بھی کیا ہے روزے کے منافی نہیں ہے، اس سے روزے کی بقا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ جب وہ جنابت کی حالت میں روزے میں داخل ہوا ہے، تو لازمی بات ہے نماز وغیرہ کے لیے اس کو غسل کرنا پڑے گا اور غسل کے اندر کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، یہ تو فرض ہے۔ تو ان کو بھی ادا کرنا پڑے گا، معلوم ہوا یہ بھی روزے کے منافی نہیں ہے۔ نیز اس سے ایک اور بات بھی پتہ چل گئی کہ کوئی چیز چکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ وہ چیز حلق سے نہ اترے۔ اس لیے کہ اگر کسی علاقے کا پانی کھاری ہے، نمکین ہے اور وہ پھر کیا کرتا ہے؟ جب کلی کرے گا یقیناً اس کا ذائقہ پائے گا، تو دیکھو ذائقہ پانے کے باوجـ باوجـ وجود روزہ نہیں ٹوٹ رہا، معلوم ہوا کسی اور چیز کو بھی چکھے اور لیکن حلق سے نہ اترے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ نیز اس سے مولانا احتلام کا حکم بھی معلوم ہوا، کیونکہ جنابت جب جماع کیا تو وہ جنابت اختیاری تھی، وہ جب روزے کے جنابتِ اختیاری جب روزے کے منافی نہیں تو یہ غیر اختیاری ہے، یہ تو بطریقِ اولیٰ روزے کے منافی نہیں۔ اسی طرح احتجام، پچھنے لگوانے والی، دہان، تیل لگانے کا حکم بھی معلوم ہوا، کیونکہ روزہ نام ہے تین چیزوں سے رکنے کا، کھانا، پینا اور جماع سے نیت کے ساتھ اور یہ یہ ان یہ جو سینگی لگوائی یا تیل لگوایا، اس سے کوئی روزے کے منافی ان میں سے کوئی بھی اس امساک پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا اس سے بھئی۔ نیز اس سے مسئلہ تبییت کا بھی پتہ چلا تھا بھئی۔ مسئلہ تبییت، تبییت کا کیا معنیٰ بھئی؟ رات کو نیت کرنا، تو یاد رکھو۔ احناف کے نزدیک وہ روزے جن کے دن متعین ہوں ان میں رات کی سے نیت کرنا ضروری نہیں، بلکہ زوال سے پہلے پہلے اس دن میں نیت کر لے، یہ بھی صحیح ہے بھئی، جائز ہے بھئی۔ ہاں! رات سے کر لے تو اوـ باولیٰ ہے بھئی۔ تو اس دن کو بھی کر سکتا ہے بھئی۔ جبکہ امـ ہاں! نفل اور اسی طرح نفل ہیں۔ کیونکہ نفل روزوں میں تو وسعت ہے بھئی۔ تو جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نفل میں وہ بھی وسعت مانتے ہیں، کیونکہ احادیث میں صراحتاً آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھانے پینے کی چیز نہ ہوتی تو کیا فرماتے کہ میں روزہ رکھتا ہوں۔ ہاں البتہ یہ جو رمضان وغیرہ کے روزے ہیں ان میں وہ فرماتے ہیں کہ رات سے نیت کرنا ضروری۔ اور دلیل ان کی کیا ہے؟ دلیل ان کی ہے لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُنَوِّ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، اس شخص کا روزہ ہی نہیں جس شخص نے رات سے روزے کی نیت نہیں کی بھئی۔ یہ ان کی دلیل ہے بھئی۔ اور ہماری دلیل کیا ہے؟ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، أَتِمُّوا امر آیا اور یہ امر متوجہ ہو رہا ہے ہماری طرف کب؟ جبکہ روزے کا ایک جز گزر جائے، کیونکہ اتمام کا حکم آیا اور اتمام اس وقت ہوتا ہے جب کوئی چیز پہلے سے کچھ پائی جائے، شروع ہو چکی ہو، معلوم ہوا روزہ شروع ہو چکا پھر امر متوجہ ہوا اور اور مامور بہ کی ادائیگی کی نیت کرنا اس وقت لازمی ہوتا ہے جب امر متوجہ ہو جائے اور امر متوجہ ہو رہا ہے جزِ اول کے بعد، تو معلوم ہوا جزِ اول کے بعد اب نیت کرنا ضروری ہو گیا، پہلے نیت کرنا ضروری نہیں تھا بھئی، تو رات زوال سے پہلے تک کر سکتا ہے کیونکہ اکثر حصے دن کے اکثر حصے میں پھر کیا پائی جائے گی؟ نیت پائی جائے گی۔ اور باقی جو امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر کی، اس دلیل کا جواب میں نے بتلایا تھا، ایک جواب تو یہ کہ ان کی دلیل خبرِ واحد ہے اور ہماری کیا ہے؟ جی؟ نص ہے، اشارۃ النص سے ثابت ہوا، تو لہٰذا جی۔ جی؟ تو یہ قطعی ہے اور وہ ظنی ہے، لہٰذا کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قطعی، جی، قطعی کو۔ اور دوسرا جواب میں نے بتلایا تھا کہ یہ نفی کمال کی ہے بھئی، نفسِ روزہ کی نفی نہیں کی، نفسِ روزہ ہی نہیں ہو گا، ہاں! کامل روزہ نہیں ہو گا، کامل روزہ کیا ہے؟ کب سے نیت کی جائے؟ رات سے ہی نیت کی جائے یا یہ نفی ہے مولانا اولویت کی، کہ اولیٰ نہیں ہے، کہ اولیٰ ہے کب سے نیت کرے؟ رات سے، اگر رات سے اس نے نیت نہیں کی تو یہ اولیٰ اور افضل نہیں ہے۔ یا اس کا یہ معنیٰ مولانا! کہ کوئی شخص اس رات سے نیت نہیں کرتا، نیت دن کو کرتا ہے اور مثلاً آٹھ بجے۔ اور یہ کہتا ہے اب اس اب سے میرا روزہ، کیا ہے؟ اب سے میرا روزہ، تو یہ تو ہمارے نزدیک بھی باطل ہے، یوں نہیں کہتا میرا روزہ رات سے ہی ہے، بلکہ کیا کہہ رہا ہے؟ اب اس وقت سے میرا روزہ، تو یہ تو ہمارے نزدیک بھی صحیح نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں! روـ دن کو نیت کرے اور کہے کیا کہے میری رات سے ہی میرا روزہ ہے، پھر یہ صحیح ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس سے مراد وہ ہے، یعنی رات سے روزے کی نیت نہ کرے، نیت دن کو ہی کر رہا ہے لیکن کب سے کـ کب سے شروع ہے روزہ ہونے کی، کب سے کر رہا ہے؟ کہ رات سے ہی میرا روزہ ہے، جی سمجھ میں آیا بھئی؟ وَأَمَّا دَلَالَةُ النَّصِّ فَهِيَ مَا عُلِمَ عِلَّةً لِلْحُكْمِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ لُغَةً لَا اجْتِهَادًا اور باقی دلالۃ النص، فھی، تو یہ جو ہے "ما"، "ما" عبارت ہے معنیٰ سے، معنیٰ مراد ہے بھئی، اس سے کیا مراد ہے؟ معنیٰ، تو یہ اس معنیٰ کا نام ہے عُلِمَ عِلَّةً لِلْحُكْمِ جس کو کیا جانا گیا ہے؟ علت حکم کے لیے۔ یہ اس معنیٰ کا نام ہے جس کو بطورِ علت کے حکم کے لیے جانا گیا ہے، وہ حکم الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ جس پر نص آئی ہے بھئی، جس کو نص لائی گئی ہے، یعنی جو نص میں آیا ہے بھئی۔ جس کو نص میں جس کو نص میں لایا گیا ہے وہ حکم جو نص میں لایا گیا ہے۔ اور یہ علت کا جاننا لغۃً ہو، اجتہاداً نہ ہو۔ یعنی ہر لغت جاننے والا بھی اس علت کو جان لے، اس کو جاننے کے لیے فقیہ ہونا، مجتہد ہونا ضروری نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ معنیٰ جس کو حکم کی علت کے طور پر جانا گیا ہے وہ دلالۃ النص ہے بھئی۔ آگے مثالوں سے بات آپ کو سمجھ میں آئے گی بھئی اور یہ علت کے طور پر جس چیز کو جانا گیا ہے وہ اجتہاد اور استنباط کے طریقے پر نہ ہو، بلکہ کس اعتبار سے ہو؟ یعنی لغت کا جاننے والا بھی جان لے کہ اس اس بات کی جو کا جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی علت یہ ہے، سنتے ہی سمجھ جائے اس کام کی علت یہ، یہ ہے، جی تو یہ جو علت ہے بھئی یہ دلالۃ النص ہے بھئی۔ دیکھیے بڑی بہترین مثالیں آئیں گی، بات خوب واضح ہو جائے گی۔ مِثَالُهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى اس کی دلالۃ النص کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے: فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا، والدین کے بارے میں بھئی اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ فَلَا تَقُلْ لَهُمَا نہ تم کہو ان دونوں کو أُفٍّ، اف نہ کہو وَلَا تَنْهَرْهُمَا اور نہ انہیں جھڑکو، نہ ڈانٹو بھئی، ان دونوں کو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ والدین کو۔ تو اف کلمہ ہے عربی زبان میں جو ناراضگی اور غصے کے وقت بولا جاتا ہے، ناگواری کو ظاہر کرنے کے لیے مولانا یہ لفظ بولا جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اف بولا جاتا ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں والدین کو اف بھی نہ کہو۔ یہ کلام سنتے ہی آپ سمجھ گئے۔ کہ اف کہنے سے کیوں منع کیا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس سے والدین کو کیا ہو گی؟ تکلیف ہو گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا والدین سے تکلیف اور اذیت کو دور کرنے کے لیے اف کو کیا قرار دیا گیا؟ حرام قرار دیا گیا، اف کہنے کو کیا قرار دیا گیا؟ تو بھئی یہ بات لغت کا جاننے والا ہی فوراً سمجھ جاتا ہے یا نہیں بھئی؟ والدین کو اف نہ کہو، کیوں؟ کیونکہ وہ کـ لفظ تو وضع ہے کس کے لیے؟ غصے اور ناگواری کے اظہار کے لیے، تو معلوم ہوا جب غصے اور ناراضگی کا اظہار کرو گے ان کو کیا ہو گی؟ تکلیف بھئی، اس لفظ کلام سنتے ہی علت کا پتہ چل گیا، کیوں منع کیا گیا اف کہنے سے؟ کیونکہ اس سے کیا ہو گی انہیں؟ تو جی۔ فَالْعَالِمُ بِأَوْضَاعِ اللُّغَةِ پس وہ شخص جو جاننے والا ہو لغت کی وضعوں کو، لغت کی وضعوں کو، کیا معنیٰ؟ یعنی کہ کون سا لفظ کس معنیٰ کے لیے وضع ہے، جس کو پتہ ہے یہ عربی میں یہ لفظ کس لیے وضع ہے، یہ لفظ ہاں! یعنی عربی جاننے والا ہو۔ پس وہ شخص جو جاننے والا ہو لغت کی وضعوں کو يَفْهَمُ بِأَوَّلِ الِاسْتِمَاعِ اولِ استماع سے ہی وہ سمجھ جاتا ہے کہ أَنَّ تَحْرِيمَ التَّأْفِيفِ کہ یہ جو اف کہنے کو حرام قرار دیا گیا ہے لِدَفْعِ الْأَذَى عَنْهُمَا وہ ان والدین سے اذیت کو دور کرنے کے لیے ہے، تاکہ انہیں تکلیف نہ ہو۔ وَحُكْمُ هَذَا النَّوْعِ عُمُومُ الْحُكْمِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ لِعُمُومِ عِلَّتِهِ اور اس دلالۃ النص کا حکم یہ ہے مولانا! کہ حکم عام ہو گا، وہ حکم جو منصوص علیہ ہے عام ہو گا علت کے عام عموم کے ساتھ۔ علت عام ہو گی تو حکم بھی کیا ہو گا؟ عام، یعنی جہاں جہاں علت پائی جائے گی، وہاں وہاں حکم بھی لگا دیا جائے گا۔ اف کہنے کو حرام قرار دیا گیا اور علت کیا تھی؟ تکلیف کو دور کرنا، تو جس جس کام سے والدین کو اب تکلیف ہوتی ہے وہ سارے حرام ہو جائیں گے بھئی۔ کیونکہ اف کہنے کی علت کیا تھی؟ تکلیف کو دور کرنا، تو جی معلوم ہوا تکلیف نہیں دینی، اب جس جس تو علت اس کی یہ ہے مولانا! دفعِ أذیٰ اور تو جہاں جہاں یہ علت آئے گی، وہاں وہاں کیا ہے؟ حکم بھی لگاتے جائیں گے آپ، جہاں جہاں جس کام سے والدین کو تکلیف ہوتی ہے ان سب پہ آپ حرمت کا حکم لگاتے جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو حکم اس نوع کا عموم ہے مولانا! حکم وہ حکم جو منصوص علیہ ہے، منصوص علیہ جو میں نے بتلایا بھئی جس کو نص میں لایا گیا ہے، جی جس پر نص لائی گئی ہے۔ عموم ہو گا اس حکمِ منصوص علیہ کا لِعُمُومِ عِلَّتِهِ کس کی وجہ سے؟ عمومِ علت کی بنا پر۔ وَلِهَذَا الْمَعْنَى اور اسی علت کی بنا پر کہتے ہیں ہم قُلْنَا، معنیٰ کا کیا ترجمہ کرو یہاں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی۔ فقہ، اصولِ فقہ کی قدیم کتابیں دیکھو مولانا! اس میں آپ کو معنیٰ کس کا لفظ کس لیے کس کس کی جگہ استعمال ہوتا ہے؟ علت کی جگہ، علت کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے بھئی۔ ہر جگہ نہیں لیکن اکثر جگہ دیکھیں گے۔ اور اسی علت کی بنا پر قُلْنَا ہم کہتے ہیں، ہم نے کہا بِتَحْرِيمِ الضَّرْبِ والدین کو دـ مارنا بھی حرام، کیونکہ اس سے ہی کیا ہے؟ تکلیف، تکلیف، تو یہاں بھی وہی حکم لگا دیا، وَالشَّتْمِ والدین کو گالی دینا بھی حرام بھئی۔ کیوں بھئی؟ کیونکہ اس سے بھی انہیں کیا ہوتی ہے؟ تکلیف ہوتی ہے بھئی۔ اسی طرح مولانا! والدین سے خدمت لینا اجارے کے طور پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ اجارے کے طور بھئی، مزدوری کے طور پر کہ باـ جیسے مزدور سے کام لیا جاتا ہے پیسوں کے بدلے، اسی طرح ان سے خدمت لینا اجارے کے طور پر یہ بھی کیا ہوا؟ حرام، کیونکہ اس میں بھی کیا ہے؟ تکلیف ہے، اسی طرح مولانا! والد، والدہ نے آپ کا قرض لیا اور وہ مقروض ہیں، وہ قرض ادا نہیں کر رہے، اب آپ قاضی کے پاس جائیں کہ ان کو کیا کرو؟ جیل میں ڈالو، بند کرو، یہ میرا قرضہ نہیں ادا کر رہے، تو عام مقروض کو تو آپ حبس کروا سکتے ہیں، والدین کا حبس جائز کیونکہ اس میں بھی ان کی تکلیف ہے، اسی طرح کوئی والد اپنے بیٹے کو قتل کر دیتا ہے، اپنی اولاد کو، تو قصاصاً اس کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا، کیوں نہیں قتل کیا جائے گا؟ کیونکہ اس میں اس کی تکلیف ہے اور بیٹے کی وجہ سے اولاد کی وجہ سے اس کو تکلیف نہیں دی جا سکتی بھئی۔ بس مسئلہ سمجھ میں آیا؟ وَلِهَذَا الْمَعْنَى قُلْنَا اور اسی علت کی بنا پر ہم نے کہا ہے بِتَحْرِيمِ الضَّرْبِ وَالشَّتْمِ ضرب اور شتم کے حرام ہونے کا قول کیا ہے وَالاسْتِخْدَامِ عَنِ الأَبِ بِسَبَبِ الإِجَارَةِ اور خدمت لینا باپ سے اجارہ کے سبب سے، اس کی بھی حرمـ حرمـ حرمت کا قول ہم نے کیا ہے وَالْحَبْسِ بِسَبَبِ الدَّيْنِ اور قید کروانا قرضے کے سبب سے، اس کی بھی حرمت کا قول ہم نے کیا أَوِ الْقَتْلِ قِصَاصًا یا قصاصاً قتل کروانا، اس کے بھی کس کا؟ حرمت کا حرمـ حرام ہونے کا ہم نے کہا ہے۔ ثُمَّ دَلَالَةُ النَّصِّ بِمَنْزِلَةِ النَّصِّ حَتَّى صَحَّ إِثْبَاتُ الْعُقُوبَةِ بِدَلَالَةِ النَّصِّ پھر یاد رکھو! دلالۃ النص، نص کے درجے میں ہے مولانا! کس کے درجے میں ہے؟ نص کے درجے میں ہے، جیسے نص قطعی ہے، دلالۃ النص بھی کیا ہے؟ قطعی ہے۔ اور قطعی کے ساتھ مولانا حدود کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ ثابت کیا جا سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جہاں شبہ آئے، حدود تو شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتی ہیں، لیکن یہ قطعی ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، لہٰذا ان کے ذریعے حدـ حـ حدود کو جاری کرنا صحیح ہے بھئی۔ ثُمَّ دَلَالَةُ النَّصِّ بِمَنْزِلَةِ النَّصِّ پھر دلالۃ النص، نص کے درجے میں ہے حَتَّى صَحَّ إِثْبَاتُ الْعُقُوبَةِ بِدَلَالَةِ النَّصِّ یہاں تک کہ عقوبت کا ثابت کرنا صحیح ہے، بِدَلَالَةِ النَّصِّ کس کے ساتھ؟ دلالۃ النص کے ساتھ بھئی، مثال انہوں نے ذکر بھئی، مثال محشی ذکر کرتے ہیں بھئی۔ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، حضور صـ عجیب صحابہ، عجیب لوگ تھے مولانا! گناہ ہو گیا، فوراً حضور کے پاس آئے، حاضر ہوئے بھئی، ان سے زنا سرزد ہوا، حضور کے پاس آئے، یا رسول اللہ! مجھ سے زنا ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پھیر لیا، چہرہ مبارک، پھر دوسری طرف آئے بھئی، دوسری طرف رخ کیا حضور نے، ادھر آئے، پھر کاـ زنا کا اقرار کیا، پھر حضور نے چہرہ پھیر لیا، پھر اقرار کیا، پھر پھر حضور نے چہرہ پھیر لیا، پھر آئے کہا میں نے، دوسری طرف آئے سامنے آئے اور عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بھئی تم نے کوئی بوسہ وغیرہ لیا ہوگا یا کچھ زنا نہیں کیا ہوگا، کہا نہیں یا رسول اللہ مجھ سے زنا ہوا ہے۔ یہ شادی شدہ تھے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم فرمایا بھئی۔ کیسے عجیب لوگ تھے بھئی، حیران ہوتا ہے انسان بھئی، جی، خود اپنے آپ کو سنگسار کرنے کے لیے پیش کر دیا بھئی۔ اچھا، جی۔ تو معلوم ہوا اس نص سے، کیا معلوم ہوا؟ کہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ کو رجم کیا گیا، کس وجہ سے؟ کہ انہوں نے شادی شدہ ہو کر کیا کیا تھا؟ زنا کیا تھا۔ تو اس زنا کے اس رجم کرنے کی علت کیا معلوم ہوئی آپ کو؟ زنا کرنا، شادی شدہ کا زنا کرنا۔ تو اب یہ علت جہاں جہاں پائی جائے گی یہ حکم آپ لگاتے جائیں گے، کوئی بھی شادی شدہ زنا کرے گا آپ اس پر کیا حکم لگا دیں گے؟ رجم کا حکم لگائیں گے، اس کو رجم کیا جائے گا قاضی، اس کو رجم۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قال اصحابنا، ہمارے فقہاء ہمارے اصحاب فرماتے ہیں وجبت الكفارة بالوقاع بالنص کہ کفارہ واجب ہوتا ہے بالوقاع بسبب جماع کے بالنص، کس کے ساتھ بھئی؟ نص کے ساتھ، وبالاكل والشرب بدلالة النص اور اکل و شرب میں دلالة النص کے ساتھ بھئی۔ اچھا۔ بھئی یہ حدیث ہے حضرت سلمہ ابن صخر البیاضی، یہ صحابی ہیں دیہاتی صحابی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہا یا رسول اللہ، میں ہلاک ہو گیا۔ حضور نے فرمایا کیا ہوا؟ کہا میں نے رمضان میں دن کے اندر جان بوجھ کر اپنی بیوی سے جماع کر لیا، جانتے بوجھتے ہوئے بھئی۔ کیا کر لیا؟ جماع کر لیا۔ یرحمک اللہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کرو، ایک گردن آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں تو اپنی اس گردن کے علاوہ اور کسی کا مالک نہیں، میرے پاس تو کوئی غلام نہیں بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ کہنے لگے: یا رسول اللہ، یہ جو مسئلہ پیش آیا، روزے ہی کی وجہ سے تو پیش آیا ہے، میں دو ماہ کے روزے اب کہاں سے رکھوں؟ وہ تو اور مشکل کام ہو جائے گا میرے لیے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، چلو 60 مسکینوں کو کھانا کھلا دو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ 60 مسکین، وہ کھانا کھلا دو۔ تو اس نے کہا: میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، میں کہاں سے 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤں؟ صحابہ نے بڑی مشکل زندگیاں گزاری ہیں مولانا، جی، نعرے۔ تو حضور نے فرمایا: اچھا، انتظار کرو بھئی۔ کچھ دیر بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص کھجور کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا۔ حضور نے فرمایا: لو بھئی، یہ ٹوکرا لو اور یہ مسکینوں میں، کو کھلا دو، ان میں تقسیم کرو بھئی، ان کو کھلاؤ۔ تو کہنے لگے کہ واللہ یا رسول اللہ، مدینہ کے اندر میرے سے زیادہ کوئی مسکین اور غریب تو ہے ہی نہیں۔ حضور نے فرمایا، حضور مسکرائے اور فرمایا: اچھا، چلو جاؤ، خود اور اپنے گھر والوں وغیرہ کو کھلا دو، لیکن تیری طرف سے تو یہ جائز ہو جائے گا، تیرے بعد آئندہ کبھی کسی کی طرف سے یہ جائز نہیں ہوگا کہ خود ہی کفارہ خود ہی کھا لے، عجیب بات۔ اچھا جی، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو روزے کا کفارہ، روزہ جان بوجھ کر توڑنے کا کفارہ کیا بیان ہوا ہے بھئی؟ گردن آزاد کرنا، اگر وہ نہ ملے، ترتیب ہے مولانا، اگر وہ نہ ہو تو پھر کیا کرے؟ 60 روزے رکھے اور یہ بھی یاد رکھو، ایک قضا کا الگ بھی رکھنا پڑے گا۔ 60 روزے تو کفارہ ہے اور ایک وہ جو توڑا ہے نا اس کی قضا بھی کرنا پڑے گی بھئی، 61 روزے۔ تو 60 روزے رکھے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو پھر کیا کرے؟ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کھانا کھلائے گا بھئی، دو وقت، دو وقت کا کھانا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ایک دن کی ضرورت اس کی پوری کرے گا۔ اچھا بھئی، دو وقت کا۔ اب دیکھو، یہاں کفارہ ثابت ہو رہا ہے اور کس وجہ سے؟ جماع کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ جماع کے سبب سے کفارہ آیا، یہ تو حدیث سے پتہ چل گیا، لیکن ہم نے علت نکالی تو کیا علت نکلی حکم کی؟ کیوں ان کو ان پر کفارہ یہ لازم کیا گیا بھئی؟ جان بوجھ کر روزے کو توڑا، کیا تھا؟ جان بوجھ کر روزے کو توڑا تھا، تو اب یہ علت جہاں جہاں پائی جائے گی وہ حکم بھی لگایا جائے گا کفارے والا۔ اب کھانا ہے، اس کے ساتھ جان بوجھ کر کچھ کھا لے، جان بوجھ کر پی لے، تو وہ علت پائی گئی، لہذا اب وہی حکم لگایا جائے گا کہ اس پر کیا ہے کفارہ لازم ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو بھئی نص سے تو ثابت ہوا صرف جماع کی وجہ سے کفارہ، باقی اکل و شرب کی وجہ سے جو کفارہ لازم آئے گا، وہ کس سے ثابت ہو رہا ہے؟ دلالۃ النص سے، کس سے؟ کہ وہ علت یہاں بھی پائی جا رہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے وہاں پر کیا تھا؟ روزے کی بے حرمتی تھی، یہاں پر بھی جان بوجھ کر کھانے پینے میں بھی کیا ہے روزے کی بے حرمتی ہے، تو یہاں پر بھی وہ حکم لگایا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ عجیب واقعہ بھی آپ کو سنائیں بھئی۔ اندلس کے حکمران تھے بھئی عبدالرحمن ابن معاویہ، جس کو آج کل سپین کہتے ہیں، سپین بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو روزہ کیا کر لے کوئی شخص جان بوجھ کر جماع کر لے، یا کھا لے پی لے، تو اس پر کیا ترتیب ہے بھئی کفارے کی؟ پہلے رقبہ آزاد کرنا پڑے گا، اگر وہ نہ ہو تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ 60 روزے، اگر وہ بھی اس کی بھی استطاعت نہ ہو، پھر کیا کرے گا؟ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے گا، چنانچہ اندلس کے حکمران عبدالرحمن ابن معاویہ اور انہوں نے غلطی سے انہوں نے جماع کر لیا روزے کی حالت میں، مفتی حضرات کو بلوایا، علماء، فقہاء کو کہ اب میں کیا کروں، مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔ فقہاء جمع تھے مولانا، یحییٰ ابن یحییٰ رحمہ اللہ تعالیٰ جو راوی ہیں موطاء امام مالک کے مولانا، اور رئیس الفقہاء تھے، وہ بھی تشریف لائے ہوئے ہیں، سب کے سامنے مسئلہ ذکر کیا کہ مجھ سے یہ جماع ہو گیا ہے، اب میں کیا کروں؟ تو جواب میں کیا کہتے؟ کہ کیا کرنا چاہیے سب سے پہلے؟ ایک گردن کا آزاد کرنا، لیکن اس سے پہلے کہ کوئی بولتا اور جواب دیتا، رئیس الفقہاء یحییٰ ابن یحییٰ رحمہ اللہ فوراً بول اٹھے: 60 روزے رکھنا پڑیں گے تمہیں۔ کیا کرنا پڑے گا؟ 60 روزے رکھنا پڑے گا۔ سارے بھئی علماء حیران رہ گئے کہ یہ غلط فتویٰ کیوں دے دیا آپ نے بھئی، لیکن کسی کی جرات نہ ہوئی مولانا کہ ان کے سامنے بول سکے، بڑا رعب اور دبدبہ تھا ان کا مولانا، قاضی القضاۃ تھے بھئی، چنانچہ سارے خاموش ہو گئے، چلے گئے وہاں سے، بعد میں بعض نے پوچھا کہ حضرت! یہ آپ نے کیسا فتویٰ دیا؟ یہ تو گردن آزاد کرنی چاہیے، اس کو یہ فتویٰ دیتے کہ گردن آزاد کریں۔ کہا بھئی! کہ اگر میں اس کو گردن آزاد کرنے کا فتویٰ دے دیتا تو اس کے ہاں غلاموں کی کیا کمی ہے، کل پھر جماع کرتا پھر غلام آزاد کرتا، پھر جماع کرتا پھر کیا کرتا غلام آزاد کرتا، تو میں نے اس کو زجراً میں نے اس کو کس چیز کا فتویٰ دیا کہ یہ 60 روزے رکھے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فتویٰ دینے کے لیے بھی مولانا دانائی چاہیے، تو اب 60 روزوں سے اس کو عبرت حاصل ہوگی، آئندہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ قال اصحابنا، ہمارے فقہاء فرماتے ہیں وجبت الكفارة بالوقاع بالنص جماع کے ساتھ کفارہ واجب ہوا ہے نص کے ساتھ، وبالاكل والشرب بدلالة النص اور اکل و شرب کے ساتھ کفارہ واجب ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص سے بھئی، اس کا تو نص میں ذکر نہیں آیا نا کہ کھانے یا پینے سے کفارہ آیا ہے، جی؟ لیکن علت کا پتہ چل گیا کہ وہاں کفارہ کیوں آیا تھا؟ جان بوجھ کر روزہ توڑا تھا، اور جہاں جان بوجھ کر روزے کا توڑنا پایا جائے گا، وہاں پر کیا لازم آئے گا وہی حکم بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، تو یہ لغت کے اعتبار سے ہی ہمیں علت سمجھ میں آئی تھی، سمجھ میں آیا؟ کوئی اجتہاد و استنباط کرنے کی ضرورت نہیں، ظاہر سی بات تھی۔ وعلى اعتبار هذا المعنى وعلى اعتبار هذا المعنى قيل يدار الحكم على تلك العلة اور اسی معنی کا اعتبار کرتے ہوئے قيل کہا گیا ہے يدار الحكم على تلك العلة کہ حکم جو ہے مرتب ہوگا اس علت پر مولانا، حکم دائر کا مدار کس پر ہوگا؟ حکم کا مدار ہوگا اس علت پر، حکم مرتب ہوگا اس علت پر، یعنی علت پائی جائے گی تو حکم بھی ہوگا، علت نہیں پائی جائے گی تو حکم بھی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو جب بھی کوئی حکم کسی علت پر مرتب ہوتا ہے، تو جب وہ علت پائی جاتی ہے تو حکم بھی پایا جاتا ہے، علت نہیں پائی جاتی تو حکم بھی نہیں پایا جاتا بھئی۔ چنانچہ فرماتے ہیں قال الامام القاضی ابو زید رحمہ اللہ تعالی، قاضی امام ابو زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں لو ان قوما يعدون التافيف کرامة لا يحرم عليهم تافيف الابوين، اگر کوئی قوم ایسی ہو جو شمار کرتی ہو اف کہنے کو عزت بھئی، تو ان پر حرام نہیں ہوگا والدین کو اف کہنا۔ بھئی کوئی ایسی جگہ ہے، کوئی ایسی زبان والے یا ایسے لوگ ہیں جہاں پر اف کہنا کیا ہو؟ عزت والا کلمہ شمار ہوتا ہو، تو وہاں پر ان کو اف وہاں والدین کو اف کہنا حرام، کیونکہ وہاں تو عزت والا کلمہ ہے، اور یہاں پر کیا معلوم ہوا تھا؟ علت کیا معلوم ہوئی تھی اف کہنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟ کیونکہ ان والدین کو تکلیف ہوتی ہے، اب اس اس دوسری جگہ والے اف کہہ رہے ہیں بظاہر تو نص کے خلاف ہے، لیکن یہاں پر نص کے اندر جو حکم دیا گیا وہ کس علت کی بناء پر دیا گیا ہے؟ تکلیف کی بناء پر، تو اب وہ علت پائی جائے گی تو حکم بھی ہوگا، علت نہیں تو حکم بھی، اگرچہ بظاہر نص کی مخالفت ہی کیوں نہ معلوم ہو بھئی۔ وكذلك قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں فی قولہ تعالی، اللہ کے اس قول میں: يا ايها الذين امنوا اذا نودي، جی، کس طرح؟ يا ايها الذين امنوا اذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع۔ تو اے ایمان والو! جب ندا دی جائے نماز کے لیے، یعنی اذان دی جائے، کب؟ جمعے کے دن بھئی، تو کیا کرو؟ جلدی کرو، دوڑو الى ذکر اللہ، کس کی طرف؟ اللہ کے ذکر، نماز کی طرف دوڑو بھئی، وذروا البيع اور بیع کو کیا کر دو؟ چھوڑ دو، چھوڑ دو۔ یہ کلام سنتے ہی مولانا آپ کو سمجھ میں بات آ گئی کہ یہ بیع کو چھوڑنے کا حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس سے سعی الى ذکر اللہ میں خلل آتا ہے، کیا آتا ہے؟ ہاں، اگر بیع میں مصروف ہوگا تو سعی ہو سکے گی؟ سعی، اسی لیے مولانا سعی تو یہ اس حکم کی علت کیا معلوم ہوئی آپ کو؟ کہ بیع چھوڑنے کا حکم کیوں دیا جا رہا ہے؟ کیونکہ اس میں سعی الى الجمعہ کے اندر کیا آئے گا؟ خلل آ رہا ہے، تو لہذا وہ بیع کو یا وہ کوئی بھی عقد جس کی وجہ سے سعی الى الجمعہ میں خلل آئے گا، وہاں وہ یہی حکم آپ لگاتے جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، اور جہاں یہ حکم نہیں پایا جائے گا، وہاں جہاں یہ علت نہیں پائی جائے گی، وہاں حکم بھی نہیں پایا جائے گا، لہذا اس وقت ہمارے فقہاء لکھتے ہیں یہ بیع وغیرہ میں مشغول ہونا مکروہ ہے بھئی، کیا ہے؟ مکروہ تحریمی ہے بھئی، مکروہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مکروہ۔ اور لہذا اگر کوئی ایسی بیع پائی جائے جس کے اندر خلل الى سعی الى الجمعہ میں خلل نہ آئے، تو وہ مکروہ بھی نہیں، مثلاً آپ بس میں جا رہے ہیں کہیں، جمعہ پڑھنے کے لیے ہی جا رہے ہیں، آپ بس کے اندر بیٹھے بیٹھے ایک شخص سے بیع کر لیتے ہیں، تو کیا سعی الى الجمعہ میں خلل آیا؟ خلل نہیں، لہذا اس صورت میں کیا ہوگی؟ یہ بیع مکروہ، یا آپ کشتی میں جا رہے ہیں، جمعے کے لیے ہی جا رہے ہیں تیار ہو کر، تو آپ اس کشتی کے اندر بیع کر رہے ہیں، تو کیا کوئی خلل آ رہا ہے؟ خلل نہیں، تو لہذا اب وہ حکم بھی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ولو فرضنا بيعا، اگر ہم فرض کر لیں کوئی ایسی بیع لا يمنع العاقدين عن السعي الى الجمعة، جو منع نہ کرنے والی ہو عقد کرنے والے کو سعی الى الجمعہ سے، بأن كانا في سفينة، بیں صورت مولانا کہ وہ دونوں ایسی کشتی میں ہوں تجري الى الجامع، جو کس کی طرف جا رہی ہو؟ جامع مسجد کی طرف، لا يكره البيع، تو بیع مکروہ نہیں ہوگی، وعلى هذا قلنا، اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اذا حلف لا يضرب امرأته، ایک شخص نے قسم اٹھائی، ایک شخص نے قسم اٹھائی واللہ لا اضرب امرأتی، میں اپنی بیوی کو کی پٹائی نہیں کروں گا، آپ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ پٹائی کرنے سے یہ قسم اس نے کیوں اٹھائی ہے؟ مقصد کیا ہے؟ مراد اس کی یہ ہے کہ میں اپنی بیوی کو تکلیف نہیں دوں گا، اپنی بیوی کو تکلیف نہیں دوں گا، لہذا اب وہ جو بھی کام کرے جس سے بیوی کو تکلیف ہو، وہ حانث ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، حانث ہو جائے گا۔ لہذا اگر بیوی کے بال کھینچتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو لڑائی میں کہ بھئی مارنے کی تو میں نے قسم کھائی ہے، بال ہی کھینچتا ہوں زبردست، نہیں بھئی، کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، کیونکہ اس حکم کی علت کیا تھی؟ تکلیف سے بچانا تھا بھئی، اس قسم کی، تو یہاں تکلیف پائی گئی، تو حانث۔ یا مولانا چک کاٹ دیتا ہے اس کو بھئی کہ مار تو نہیں سکتا، چلو چک ہی کاٹوں بھئی، نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو بعض لوگ بڑا خطرناک چک کاٹتے ہیں۔ اچھا جی، چک نہیں کاٹے، پھر بھی حانث۔ یا مولانا پٹائی تو کر نہیں سکتا، چلو گلا دباتا ہوں اس کا خوب اچھی طرح، مولانا پھر بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، کیونکہ تکلیف دینا پایا گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اسی بنا پر ہم کہتے ہیں ایک شخص نے جب قسم اٹھائی "لا یضرب امرأتہ" کہ وہ اپنی بیوی کی پٹائی نہیں کرے گا، "فمد شعرہا" پس اس کے بالوں کو کھینچا، "أو العضہا" یا چک لگایا، اس کو چک کاٹا، "أو خنقہا" یا اس کا گلا دبایا، "یحنس" وہ حانث ہو جائے گا، "إذا کان بوجہ الإیلام" جب کہ یہ کس کس طریقے پر ہو؟ تکلیف دینے کے طریقے پر ہو۔ لیکن اگر مولانا ایسی صورت پائی گئی جس میں تکلیف دینا نہیں ہے مولانا، تو پھر حانث بھی نہیں، مثلاً کیا کرتا ہے؟ کھیل کود کے اندر چک کاٹا ہے بھئی یا بال کھینچے ہیں یا گلا دبایا ہے، تو اس صورت میں حانث نہیں۔ "ولو وجد صورة الضرب" کھیل کود میں اگر ضرب کی صورت پائی گئی، اگر پائی گئی ضرب کی صورت، "ومد الشعر" یا بال کھینچنے کی "عند الملاعبة" کھیل کے دوران، کھیل کود کے دوران "دون الإیلام" ایلام کے علاوہ، "لا یحنس" تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی "واللہ لا أضرب فلاناً" واللہ میں فلاں کی پٹائی نہیں کروں گا، پتہ چلا بھئی یہ پٹائی کس لیے یہ قسم کیوں اٹھا رہا ہے؟ کہ میں اس کو مطلب ہے تکلیف نہیں دوں گا، تو وہ شخص مر گیا، بھئی سمجھ میں آیا؟ مرنے کے بعد جب وہ مر گیا، اب جا کر اس کو 10 جوتے لگا دیتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو اب حانث ہو گا یا حانث نہیں ہو گا؟ حانث نہیں ہو گا، کیونکہ مرنے کے بعد تکلیف نہیں ہے بھئی۔ "ومن حلف لا یضرب فلاناً" جس نے قسم اٹھائی کہ فلاں کی پٹائی نہیں کرے گا، "فضربہ بعد موتہ" اس کی پٹائی کی مرنے کے بعد، "لا یحنس" تو حانث نہیں ہو گا، "لانعدام معنی الضرب" اس لیے کہ ضرب کا معنی ہی نہیں پایا گیا بھئی۔ "واھو الإیلام" بھئی ضرب کا کیا معنی ہے؟ وہ ایلام تکلیف دینا ہے، کیا ہے؟ تکلیف دینا ہے۔ اسی طرح بھئی ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فلاں سے کلام نہیں کروں گا، وہ شخص جب مر گیا تو مرنے کے بعد اس کی میت کے پاس کھڑا ہو کے اس نے بڑی زبردست کیا کیا؟ تقریر شروع کر دی، اس سے اس کے ساتھ کلام کیا، باتیں کیں مولانا، تو حانث ہو گا یا نہیں؟ حانث نہیں ہو گا، کیونکہ تکلم وہ ہے جس میں سمجھنا پائے، دوسرا سمجھے بھی اس کو اور یہاں تو اب میت سمجھ ہی نہیں رہی۔ سمجھ میں آیا؟ تو قسم کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے، یہ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ عرف کے اندر کیا سمجھا جا رہا ہے؟ میت کی کوئی پٹائی کرے تو کیا سمجھا جاتا ہے؟ میت کو تکلیف نہیں ہو رہی، میت سے کوئی کلام کرے تو اس کو میت کو سمجھنے والا نہیں سمجھتے لوگ بھئی کہ یہ سمجھنے والا ہے۔ "وکذا لو حلف لا یتکلم فلاناً" اسی طرح اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ فلاں سے کلام نہیں کرے گا، "فکلمہ بعد موتہ" پس اس سے کلام کیا اس کی موت کے بعد، "لا یحنس" حانث نہیں ہو گا، "لعدم الإفہام" کیونکہ سمجھانا، افہام، بات کا سمجھانا نہیں پایا گیا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی، یہ عرف پر، قسم کا دارومدار عرف پر ہے، عرف کے اعتبار سے مولانا میت نہ سن، نہ تکلیف ہے اس کو مارنے سے اور نہ اس کو سمجھ ہے بات کی۔ لیکن احادیث وغیرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ میت کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور وہ سمجھتی بھی ہے بات کو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی لیے آیا ہے احادیث میں کہ غسل بھی نرمی سے دو بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کو کیا ہوتی ہے؟ نرمی سے اس کو ملو، اس کو تکلیف ہوتی ہے، جنازے کو لے کر چلو، تیز نہ چلو بھئی، اچھلنے وغیرہ سے میت کو کیا ہوگی؟ تکلیف ہوگی بھئی، معلوم ہوا اس کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور اسی طرح روایات میں آیا ہے مردہ کے پاس جب کوئی شخص جائے قبر میں ہو، تو وہ جو آنے والوں کے وہ جوتوں کی آواز تک سنتا ہے، باقی باتیں تو سنتا ہی ہوگا، جوتوں کی آواز تک بھی، تو حدیث میں ہے کہ جوتوں تک کی آواز بھی سنتا ہے، معلوم ہوا جب جوتوں کی آواز سنتا ہے تو باقی باتیں کیا ہوگا؟ بطریق اولیٰ سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اب آپ اس سے یہ نہ کہیں یہ تو حانث ہو گیا، حدیث میں آیا ہے سن بھی رہا ہے، اس کو تکلیف بھی ہو رہی ہے، تکلم بھی ہوا اور ضرب میں ایلام بھی پایا گیا، آخر نہیں بھئی، قسم کا دارومدار عرف میں ہوتا ہے، عرف کے اندر اس کو کیا نہیں سمجھا جاتا؟ کہ میت کو تکلیف نہیں ہو رہی اور وہ بات کو سمجھ نہیں رہی، اس لیے۔ "وباعتبار ہذا المعنی" اور اسی معنی کا اعتبار کرتے ہوئے "یقال" کہا جائے گا "إذا حلف" کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا یأکل لحماً" ایک آدمی نے قسم اٹھائی واللہ "لا آکل لحماً" میں لحم، گوشت نہیں کھاؤں گا، پھر اس نے مولانا مچھلی کھالی یا ٹڈی کھالی، تو حانث نہیں بھئی، حانث نہیں ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ گوشت اس کو کہتے ہیں مولانا جو خون سے بنا ہو، اور مچھلی اور ٹڈی میں خون نہیں، گوشت کس کو کہتے ہیں؟ جو کس سے بنا ہو؟ خون سے، ہاں لغت کا جاننے والا سمجھ جاتا ہے فوراً گوشت سے مراد وہ چیز ہے جو خون سے بنی ہو، اور مچھلی اور ٹڈی میں تو خون نہیں، آپ کہیں گے مچھلی کے اندر تو ہمیں خون نظر آتا ہے بھئی، بھئی وہ خون نہیں ہوتا، خون کی علامت یہ ہے کہ اس کو دھوپ میں رکھا جائے تو وہ سیاہ ہو جاتا ہے، آپ کا خون نکلے کبھی نپکن پر دیکھتے ہیں یعنی بعد میں سیاہ ہو جاتا ہے، لیکن مچھلی کا خون بعد میں سفید ہو جاتا ہے، معلوم ہوا وہ خون نہیں، ویسے ہی کوئی رطوبت وغیرہ ہے سرخ رنگ کی، سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو اس نے مچھلی کھا لی تو حانث نہیں ہوگا۔ اور قسم کھائی ہے اور قسم کا دارومدار کس پر ہے مولانا؟ عرف پر ہے، اور عرف میں مچھلی کو گوشت کہتا ہے کوئی؟ جی؟ کوئی گوشت نہیں کہتا، آپ بھی جب کوئی مچھلی کھائیں کیا کہتے ہیں اپنے ساتھیوں کو آکر؟ میں نے مچھلی کھائی، کوئی یہ کہتا ہے میں نے گوشت کھایا؟ کوئی بھی نہیں، معلوم ہوا عرف میں اس کو کوئی بھی گوشت نہیں کہتا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، قرآن میں تو اللہ فرماتے ہیں "لحماً طریاً" بھئی کہ اس سے کیا نکالتے ہو اس پانی سے تم؟ تازہ گوشت بھی، سمندر وغیرہ سے اور مچھلی مراد ہے، مچھلی کا تازہ گوشت بھئی، "لحماً طریاً"، تو وہاں تو لحم کا لفظ آیا مچھلی کے لیے بھئی؟ تو میں نے جواب دیا، بتلا دیا کہ بھئی یہ ہے قسم کی بات، ٹھیک ہے، کتاب اللہ میں اطلاق آیا ہے اس پر لحم کا، لیکن وہ باعتبار صورت کے ہے، کس اعتبار سے ہے؟ وہ صورت کے اعتبار سے اس کو لحم کہا گیا ہے، اور یہ ہے قسم کی بات اور قسم کا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ عرف پر، کس پر؟ اور عرف میں اس کو کوئی لحم نہیں کہتا، بس۔ "یقال إذا حلف" ایک شخص نے جب قسم اٹھائی "لا یأکل لحماً" وہ لحم نہیں کھائے گا، "فأکل لحم السمك أو الجراد" اس نے مچھلی یا ٹڈی کا گوشت کھا لیا، "لا یحنس" وہ حانث نہیں ہوگا، "ولو أکل لحم الخنزیر أو الإنساني یحنس" اور اس کے بجائے اگر اس نے کس کا گوشت کھا لیا؟ خنزیر یا انسان کا گوشت بھی کھا لیا تو بھی کیا ہو جائے گا؟ کیونکہ وہ بھی گوشت ہے، کس سے بنا ہے؟ خون سے، "لأن العالم بأول السماع یعلم" اس لیے کہ جاننے والا پہلے ہی مرتبہ سننے کے ساتھ ہی یہ جان لیتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ سننے کے ساتھ ہی جان لیتا ہے "أن الحامل علی ہذا الیمین" کہ وہ چیز جو ابھارنے والی ہے اس قسم پر، "إنما ہو الاحتراز عما ینشأ من الدم" وہ تو احتراز، بچنا ہے اس چیز سے جو خون سے پیدا ہوئی ہے، یہ قسم اس نے کیوں کھائی ہے؟ کیونکہ وہ اس چیز کے کھانے سے بچنا چاہتا ہے جو کس سے بنی ہو؟ خون سے، مقصد اس کا یہ گوشت نہ کھاؤں، نہیں کھاؤں گا، کیا معنی؟ وہ چیز نہیں کھاؤں گا جو کس سے بنی ہو؟ گوشت سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ "فیکون الاحتراز عن تناول الدمویات" تو لہٰذا احتراز کس سے ہوگا؟ تناول کا معنی کھانا، دمویات خون سے بنی ہوئی چیز، خون سے بنی ہوئی چیز کے کھانے سے احتراز ہوگا، "فیدار الحكم علی ذلك" تو حکم کا مدار بھی اسی پر ہوگا، حکم مرتب بھی اسی علت پر ہوگا، جب وہ کوئی ایسی چیز کھائے گا جو خون سے بنی ہے، سمجھ میں آیا؟ اور خون سے بنا ہوا گوشت وغیرہ تو حانث ہوگا، ورنہ مچھلی وغیرہ کھانے کی صورت میں حانث نہیں ہوگا مولانا، چلیے مولانا، "ہذا ہو المرام والله أعلم بحقیقة الکلام"۔
123 approved lectures · 46 of 123