Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-045

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 23 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 102
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں ہم نے متعلقاتِ نصوص کی بحث شروع کی تھی، کتاب اللہ کی نظم کی پانچویں تقسیم بھئی۔ وہ کس اعتبار سے ہے؟ دلالت کے اعتبار سے، اور اس اعتبار سے چار قسمیں ہیں مولانا۔ ایک عبارتُ النص ہے، اشارتُ النص ہے، دلالتُ النص ہے اور اقتضاءُ النص ہے۔ وجہِ حصر میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ حکم ثابت ہوگا یا نظم سے یا معنیٰ سے۔ اگر نظم سے ثابت ہے تو وہ نظم اسی مقصد کے لیے لائی گئی ہوگی یا اسی مقصد کے لیے نہیں لائی گئی ہوگی۔ اگر اسی مقصد کے لیے لائی گئی ہے تو وہ عبارتُ النص ہے اور اگر اسی مقصد کے لیے نہیں لائی گئی تو وہ اشارۃُ النص ہے۔ اور اگر حکم ثابت ہو معنیٰ سے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ معنیٰ مفہوم ہوگا باعتبار لغت ہی کے یا ایسا نہیں ہوگا۔ اگر باعتبار لغت ہی کے وہ معنیٰ مفہوم ہو رہا ہے، یعنی ہر لغت والا اس کو سمجھ رہا ہے تو اس کو کہتے ہیں دلالتُ النص اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ ہے اقتضاءُ النص بھئی۔ تو عبارتُ النص کی باقاعدہ تعریف کی مصنف نے کہ "فہو ما سیق الکلام لاجلہ و ارید بہ قصداً" جس کے لیے کلام کو چلایا گیا ہو، اس کا ارادہ کیا گیا ہو بھئی، جی ارادہ کیا گیا ہو قصداً۔ اور تو یہ تعریف میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ عبارتُ النص کی تعریف نہیں کی انہوں نے، دراصل تعریف کس کی کر دی ہے؟ اس حکم کی کی ہے جو عبارتُ النص سے ثابت ہوا، البتہ اس سے عبارتُ النص کی تعریف بھی سمجھ میں آگئی کہ وہ جو نظم ہے وہ اب کیا کہلائے گی؟ عبارتُ النص کہلائے گی بھئی، نظم جی۔ اور اشارۃُ النص بتلایا تھا جو نظم میں نص کی نظم سے ثابت ہو بغیر کسی زیادتی کے اور من کل وجہ ظاہر بھی نہ ہو، من وجہ ظاہر ہو اور من وجہ کیا ہو؟ مخفی ہو، پوشیدہ ہو اور کلام کو اس کے لیے چلایا بھی نہ گیا ہو۔ اس کی مثال آئی تھی، اللہ کیا فرماتے ہیں: "للُفقراءِ المھاجرینَ الذینَ اخرجوا من دیارھم"۔ اب یہ آیت کس لیے چلائی گئی بھئی؟ یہ نظم کس لیے چلائی گئی؟ مالِ غنیمت کا استحقاق بیان کرنے کے لیے کہ مالِ غنیمت کے مستحق کون ہیں، بتلایا گیا وہ مہاجرین ہیں جو اپنے گھروں سے نکالے گئے، جنہوں نے ہجرت کی اس جی تو فقراءِ مہاجرین ہیں بھئی۔ تو یہ عبارتُ النص ہوئی مولانا اس کے لیے۔ اور یہاں اشارۃً ایک بات بھی معلوم ہوئی اور وہ کیا؟ جی؟ کہ ان کے لیے فقراء کا لفظ لایا گیا، معلوم ہوا کہ جو مال ان کی ملکیت میں تھا، جو وہ اپنے وطن میں چھوڑ آئے وہ ان کی ملکیت سے نکل چکا ہے۔ اگر نہ نکلا ہوتا تو ان کو فقراء نہ کہا جاتا، نہ کہا جاتا۔ اور جب یہ مال ان کی ملکیت سے نکل گیا تو ثابت ہوا کہ مال کس کی ملکیت میں جا چکا ہے؟ کفار کی جنہوں نے اس مال پر قبضہ کیا، مال ان کی ملکیت میں چلا گیا ہے۔ اس پر اشکال میں نے ذکر کیا تھا کہ ٹھیک ہے فقراء سے یہ تو ثابت ہو رہا ہے کہ مال ان کی ملکیت سے نکل گیا، یہ کہاں سے ثابت ہو رہا ہے کہ کفار اس کے مالک بن گئے؟ میں نے بتلایا تھا "الشيء إذا ثبت ثبت بجميع لوازمه"، جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے سارے لوازم کے ساتھ کیا ہے؟ جو جو چیز اس کے ساتھ لازم ہوتی ہے، وہ بھی ثابت ہو جایا کرتی ہے اور جب مال ان کی ملک سے نکلا تو لازم ہے کہ ان کفار کی ملک میں چلا گیا، کیونکہ اگر یہ بات مانی نہ جائے تو زوالِ شئے لا إلی مالک لازم آئے گا۔ زوالِ شئے؟ اور اس کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں کہ مال کسی کی ملکیت سے نکلے بھی اور دوسرے کی ملکیت میں داخل بھی نہ ہو۔ جب بھی کسی کی ملکیت سے نکلے گا ہمیشہ کیا آئے گا؟ دوسرے کی ملکیت میں داخل ہوگا بھئی۔ اب اس مہر تو یہ اشارۃُ النص اس میں، اب اس پر کئی احکام نکلتے ہیں، کہتے ہیں "و یخرج منہ الحكم فی مسألة الاستيلاء"، سمجھ میں آیا؟ استیلاء استفعال ہے اور اس کا ہمزہ وصلی ہے وہ گر جائے گا، تو سین بھی ساکن، استیلاء کا ہمزہ بھی گر گیا، الف لام تعریف کا ہمزہ بھی گر گیا تو لام کو کسرا دیں گے، لام اور سین دونوں ساکن ہوئے بھئی۔ الف لام کا لام رہ گیا اور استیلاء کا سین یہ دونوں ساکن رہ گئے تو لام کو کسرا دیں گے کیونکہ "الساکن إذا حرک حرک بالکسر"، تو "فی مسألةِ لِستیلاءِ، لِستیلاءِ"، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، یہ عبارتوں کے اندر عام ہے شائع، رائجہ غلطی "فی مسألةِ الاستیلاء" پڑھتے ہیں بھئی، یہ بات نہیں بھئی۔ ہمزہء وصلی کو درجِ عبارت میں برقرار رکھنا یہ غلطی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، علامہ ابنِ حاجب نے کتاب شافیہ کے اندر اس کی تصریح فرمائی ہے بھئی۔ "و ابقاؤہ وصلاً لحنٌ" بھئی کیا ہے؟ اس ہمزہء وصلی کو باقی رکھنا "ابقاؤھا وصلاً لحنٌ"، وصل کی حالت میں یہ کیا ہے؟ لحن ہے، غلطی ہے بھئی۔ جی۔ تو یہ اس سے نکالا جائے گا حکم مسئلہ استیلاء میں، استیلاء کا معنیٰ میں نے بتلایا غلبہ پانا، غلبہ حاصل کرنا۔ یہ غلبہ حاصل کرنے کا حکم بھی نکالا جائے گا، یعنی جب کافر، کفار جب کفار مسلمانوں کے مال پر غلبہ پا لیں، اس کو لے لیں تو پھر وہ کیا بن جایا کرتے ہیں؟ اس کے مالک بن جاتے ہیں بھئی مالک بھئی۔ تو مسلمانوں اپنا مال چھوڑ آئے تھے وہاں ہجرت کی، کفار نے ان پر غلبہ پایا تو اب وہ اس مال کے کیا بن گئے؟ مالک بن گئے۔ "و حکم ثبوت الملک للتاجر بالشراء منھم"، جی اور یہ مسئلہ بھی اس سے نکل آئے گا، اب وہ کفار کسی تاجر پر اس مال کو بیچتے ہیں، تاجر وہ مال خرید کر لایا ان سے، تو تاجر اب اس مال کا مالک بن گیا، کیونکہ اس نے مال کو کس سے خریدا ہے؟ مالک ہی سے تو خریدا ہے، وہ کفار کیا بن گئے تھے مال کے؟ مالک بن گئے تھے، تو مالک سے کوئی چیز آپ خریدیں تو اب آپ کیا بن جائیں گے اس چیز کے؟ آپ مالک بن جائیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب وہ تاجر خرید کر لایا تو اب آپ وہ، آپ کا مال تھا، آپ ہجرت کر کے آئے تھے، کفار نے قبضہ کر لیا، کوئی تاجر وہاں سے خرید کر لایا تو اب آپ اس کو کہتے ہیں: "لاؤ بھئی یہ تو میرا مال ہے بھئی، یہ تو میں کفار کے پاس چھوڑ کر آیا تھا بھئی۔" نہیں بھئی، اب آپ اس سے مال کو نہیں لے سکتے، تاجر کیا بن چکا ہے اس مال کا؟ مالک۔ کیوں مالک بنا ہے؟ کیونکہ اس نے خریدا بھی کس سے ہے؟ مالک ہی سے خریدا ہے بھئی، اب آپ نہیں لے سکتے۔ اب لینا ہے تو اب آپ کو بیع کے ساتھ لینا پڑے گا۔ "و حکم ثبوت الملک للتاجر بالشراء منھم"، اور مولانا تاجر کے لیے ملکیت کے ثبوت کا حکم "بالشراء منھم" ان سے خریدنے کے سبب سے، ان سے جب خریدے گا تو تاجر کے مالک ہونے کا ثبوت آئے گا، مالک ہونا ثابت ہوگا۔ یہ حکم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تاجر کے لیے ان سے خریدنے کے ساتھ ملکیت کے ثبوت کا حکم بھی ثابت ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ ترجمہ دیکھیے، پھر دیکھ لو بھئی۔ تاجر کے لیے بسبَب خریدنے کے ان سے، ملکیت کے ثبوت کا حکم بھی نکالا جائے گا۔ "و تصرفاتہ من البيع و الھبۃ و الاعتاق"، اور اسی طرح تاجر کے تصرفات کا حکم بھی نکالا جائے گا بھئی۔ بھئی وہ کیا کرتا ہے؟ وہاں سے ایک چیز خرید کر لایا ہے، آگے کیا کر سکتا ہے اس چیز کو؟ بیچ بھی سکتا ہے، اب یہ مالک بن چکا ہے اس چیز کا۔ بھئی وہ کسی کو ہبہ بھی کر سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ مالک بن چکا ہے۔ باندی، غلام خرید کر لایا تو اس کو آزاد بھی کر سکتا ہے، آپ نہیں جا کر کہہ سکتے: "یہ تو میری باندی ہے یا میرا غلام ہے، اس کو آپ کیسے آزاد کر رہے ہو؟" نہیں بھئی وہ مالک بن چکا ہے، کیا کر سکتا ہے؟ اپنے سارے تصرفات اس کے اندر جی، اور اس کے تاجر تصرفات ہی کی "ہ" ضمیر تاجر کو راجع ہے، اور اس کے جو تاجر کے تصرفات ہیں، یعنی کہ بیع، ہبہ اور اعتاق ان کا حکم بھی نکالا جائے گا، وہ بیع بھی کر سکتا ہے، ہبہ بھی کر سکتا ہے، اعتاق ان کو آزاد بھی کر سکتا ہے۔ "و حکم ثبوت الاستغنام"، لِستغنام بھئی، اور استغنام کا معنیٰ ہے غنیمت شمار کرنا۔ استغنام کا معنیٰ ہے غنیمت شمار کرنا۔ اور غنیمت شمار کرنے کا حکم بھی نکالا جائے گا بھئی۔ کیا شمار کرنے کا؟ بھئی دیکھیے آپ مولانا ہجرت کر کے گئے، کہیں سے آپ کا مال وہاں بڑا باقی تھا، کفار نے اس پر قبضہ کر لیا، تو کفار اس کے کیا بن گئے؟ مالک بن گئے، اب مالک بننے کے بعد اب پھر آپ مسلمانوں نے وہاں پر حملہ کیا اور ان سے وہ سارا مال چھین لیا، کفار کو ختم کیا بھئی۔ جب سارا مال چھین لیا اب وہ مالِ غنیمت ہے، وہ سارا جو آپ کا بھی مال تھا وہ بھی کیا شمار ہوگا؟ مالِ غنیمت شمار ہوگا اور چنانچہ غازیوں میں تقسیم کیا جائے گا، جب تقسیم ہوگا تو جب اگر کسی کے حصے میں وہ مال آگیا تو وہ مالِ غنیمت شمار ہوگا بھئی۔ اب کسی کے حصے میں وہ مال آگیا، آپ جا کر کہتے ہیں: "لاؤ بھئی یہ تو میرا مال ہے، یہ تو میری باندی ہے، یہ تو میری گاڑی ہے بھئی۔" نہیں بھئی، اب آپ اس سے یہ چیز نہیں لے سکتے مولانا، ہاں قبل التقصیم آپ لے سکتے ہیں۔ ایک دفعہ تقسیم ہوگیا، غازی کو دے دیا گیا کسی کو کہ یہ تمہارا حصہ ہے تو اب نہیں لے سکتے اس سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں غنیمت آگئی ابھی تقسیم نہیں ہوئی کہ آپ پہنچ گئے، آپ نے کہا: "یہ میرا مال تھا، یہ یہ یہ میرا مال ہے۔" تو اب آپ کو دے دیا جائے گا وہ مال آپ کا، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ ہاں تو غنیمت شمار ہوگا بھئی۔ جی اور غنیمت شمار کرنے کا حکم بھئی، "و ثبوت الملک للغازی"، اور غازی کے لیے ملکیت کے ثبوت کا حکم بھی نکالا جائے گا بھئی، غازی کو جب وہ مال دے دیا جائے گا تو وہ اس کا کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا، اب آپ اس سے نہیں لے سکتے بھئی، مالک بننے سے اس کے مالک بننے سے پہلے اس کو دینے سے پہلے میں نے بتایا آپ لے سکتے ہیں، لیکن بعد میں نہیں۔ "و عجز المالک عن انتزاعہ من یدہ"، اور مالک کے عاجز ہونے کا حکم، کس چیز سے عاجز ہونا؟ "عن انتزاعہ من یدہ" اس غازی کے ہاتھ سے چھیننے کے، چھیننے سے عاجز ہونا۔ اس غازی کے ہاتھ سے چھیننے سے عاجز ہونا مالک کا۔ مالک کا عاجز ہونا غازی کے ہاتھ سے چھیننے سے، مالک اس غازی کے ہاتھ سے اس مال کو چھین نہیں سکتا کہ: "یہ تو میرا مال ہے، میرے حوالے کرو۔" بلکہ غازی کیا بن گیا ہے اس مال کا؟ مالک بن گیا ہے، مسئلہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ آسان سی باتیں ہیں بھئی۔ "و تفریعاتہ"، اور اسی طرح مولانا اس کے حکم اس کے تفریعات بھی نکالی جائیں گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تفریعات بھی نکالی جائیں گی اس مسئلے کی۔ مثلاً اور کیا؟ کوئی باندی خرید کر لایا ہے تاجر، اس کے لیے وطی کرنا حلال ہو جائے گا، یا آزاد کرنا بھی ہے، یا جیسے مولانا کافر یہ کافر نے آپ کے مال پر قبضہ کیا تو وہ مالک بن گیا، اگر باندی ہے تو اس کے لیے کیا ہوگا؟ جی؟ وہ اس کو آزاد وغیرہ کر سکتا ہے، وطی کر سکتا ہے، اور وہ مال اگر وہ ضائع کرتا ہے تو اس پر ضمان بھی کوئی نہیں آئے گا، یا وہ غازی آتا ہے غازی ہے مولانا، اس کے لیے بھی اگر باندی ہے وطی کرنا کیونکہ مالک بن گیا ہے تو وطی کرنا حلال، اس کے لیے آزاد کرنا جائز ہے اور ضمان بھی نہیں آئے گا اگر وہ اس کو ضائع کرتا ہے۔ "و کذلک قولہ تعالی"، اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ"۔ جی۔ یہاں آیت پوری ذکر نہیں ہوئی بھئی۔ سورۃ البقرہ کے اندر آیت نمبر 187 ہے، اللہ فرماتے ہیں: "أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ"، حلال کر دیا گیا ہے اے مومنو تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں، روزے کی راتوں میں "الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ" جماع کرنا اپنی بیویوں کے ساتھ۔ "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ"، وہ تمہارے لیے لباس ہیں، وہ تمہارے لیے پردہ ہیں "وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ" اور تم ان کے لیے پردہ ہو۔ "عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ"، اللہ کو خبر تھی کہ تم خیانت کرتے تھے اپنے نفسوں کے ساتھ، "فَتَابَ عَلَيْكُمْ"، تو اللہ نے تم پر عنایت فرمائی "وَعَفَا عَنكُمْ"، اور تمہیں کیا کر دیا؟ اور تمہیں معاف کر دیا۔ "فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ"، پس اب تم ان سے جماع کرو "وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ"، اور طلب کرو اس کو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، تجاویز کر دیا ہے، "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا"، اور طلب کرو تم اس کو جو اللہ نے تمہارے لیے تجویز کر دیا ہے "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا" اور کھاؤ اور پیو "حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ"، یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے، ظاہر ہو جائے تمہارے لیے سفید دھاگا یعنی سفید خط بھئی، مراد کیا ہے مولانا؟ فجر کی سفیدی مراد ہے بھئی، جو کہ افق کے کناروں پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے خط کی شکل میں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ صبحِ صادق مراد ہے، صبحِ کاذب ستون کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور صبحِ صادق ہے خط کی صورت میں چووڑائی میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا یا سفید خط ممتاز ہو جائے کس سے؟ سیاہ خط سے، سیاہ خط سیاہ دھاگے سے "مِنَ الْفَجْرِ" فجر میں سے۔ "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ"، پھر تم پورا کرو روزے کو کہاں تک؟ رات تک پورا کرو بھئی، رات تک پورا کرو۔ تو دیکھو یہ آیت مولانا، یہ آیت چلائی گئی ہے اس مقصد کے لیے کہ رمضان کی راتوں میں کھانا، پینا اور جماع کرنا جائز ہے بھئی۔ ابتدائے اسلام میں ایسا نہیں تھا مولانا، سونے سے پہلے تو کھا پی سکتے تھے آپ، جماع کر سکتے تھے، لیکن سونے کے بعد پھر اس کے بعد کھانا، صبح سے پہلے پہلے، سونے ایک دفعہ سو گئے ہیں تو پھر کھانا، پینا اور جماع کرنا جائز نہیں تھا، بعد میں آسانی کا حکم آیا مولانا جس میں بڑی آسانی آگئی کہ فجر تک اب تم کیا کر سکتے ہو؟ کھا بھی سکتے ہو، پی بھی سکتے ہو اور جماع بھی کر سکتے ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فجر تک کر سکتے ہو، معلوم ہوا فجر کے بعد کھا بھی نہیں سکتے، پی بھی نہیں سکتے اور جماع بھی، کیونکہ روزہ ہے، معلوم ہوا روزہ کس چیز کا نام ہوا؟ ان تین چیزوں سے رکنے کا، روزہ کس چیز کا نام ہے؟ جی نیت کے ساتھ مولانا ان تین چیزوں کے ساتھ رکنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ روزہ، کون سی تین چیزیں ہیں؟ کھانا، پینا اور جماع بھئی، یہ بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ اچھا اس آیت سے ایک بات پتہ چل گئی، اللہ کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ بھئی عبارتُ النص کیا ہوئی؟ کس لیے یہ آیت ذکر کی گئی بھئی؟ حکم کیا معلوم ہوا عبارتُ النص سے؟ مقصد کیا ہے کہ رمضان کی راتوں میں کھانا، پینا اور جماع کرنا جائز ہے، جائز ہے۔ تو اس سے اشارۃ النص سے یہ حکم بھی ثابت ہو گیا کہ جنابت روزے کے منافی نہیں ہے۔ جنابت روزے کے منافی؟ وہ یہ حکم کیسے معلوم ہوا؟ بھئی، اشارۃ النص سے، بھئی۔ بھئی، دیکھو اللہ نے فرمایا روزے کی راتوں میں کھانا، پینا اور جماع کرنا؟ معلوم ہوا رات کے کسی بھی جز کے اندر جماع کرنا جائز ہے۔ رات کے کسی بھی جز میں؟ اور اب ایک شخص رات کے آخری جز کے اندر جماع کرتا ہے۔ اب اس کے فوراً بعد کیا ہو رہی ہے؟ فجر طلوع ہو رہی ہے، تو اب اتنا وقت ہے، تو یہ مولانا! اس کے لیے جائز ہے یا نہیں آخری وقت میں جماع کرنا؟ جائز ہے کیونکہ جب جائز ہے تو لازمی بات ہے، جب روزے کا پہلا جز پایا جائے گا، وہ کس کے ساتھ پایا جائے گا فجر ہوتے ہی؟ جنابت کے ساتھ پایا جائے گا یا نہیں؟ لازمی بات ہے وہ جنابت کے ساتھ پایا جائے گا، تو معلوم ہوا جنابت روزے کے منافی نہیں، کیونکہ رات کے ہر ہر جز میں کس چیز کی اجازت ہے؟ جماع کی اجازت۔ جب رات کے آخری جز میں پھر جماع پایا جائے گا، تو لازمی بات ہے پہلا جز کس کے ساتھ پایا جائے گا؟ جنابت کی حالت میں پایا جائے گا، تو معلوم ہوا جنابت روزے کے منافی نہیں ہے، بھئی۔ دیکھیے، بھئی: "وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى" اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ" حلال کر دیا گیا تمہارے لیے روزے کی رات میں "الرَّفَثُ" جماع کرنے کو "إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى" اللہ کے اس قول "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ" پھر تم پورا کرو روزے کو "إِلَى اللَّيْلِ" کہاں تک؟ رات تک۔ "فَالإِمْسَاكُ" امسک، یمسک، امساک کا معنی رکنا، رکنا۔ سمجھ میں آیا؟ تو روزہ امساک کا نام ہے۔ کتنی چیزوں سے امساک کا؟ تین چیزوں سے۔ "فَالإِمْسَاكُ فِي أَوَّلِ الصُّبْحِ يَتَحَقَّقُ مَعَ الْجَنَابَةِ" پس رکنا، امساک جو ہے "فِي أَوَّلِ الصُّبْحِ" اولِ صبح کے اندر جو پایا جائے گا "يَتَحَقَّقُ" اس کا تحقق ہو گا، وہ پایا جائے گا "مَعَ الْجَنَابَةِ" کس کے ساتھ؟ جنابت کے ساتھ۔ "لِأَنَّ مِنْ ضَرُورَةِ" ضرورت کا معنی لازم کے کر لیں۔ "لِأَنَّ مِنْ ضَرُورَةِ حِلِّ الْمُبَاشَرَةِ إِلَى الصُّبْحِ" کہ صبح تک مباشرت، جماع کو کہتے ہیں، بھئی۔ صبح تک جماع کے حلال ہونے کے ساتھ لازم ہے، اس کے لوازمات میں سے ہے، کیا؟ "أَنْ يَكُونَ الْجُزْءُ الأَوَّلُ مِنَ النَّهَارِ مَعَ وُجُودِ الْجَنَابَةِ" کہ جزِ اول نہار میں سے جو ہو، وہ کس کے ساتھ پایا جائے؟ جنابت کے وجود کے ساتھ، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ صبح تک جماع کے حلال ہونے کے ساتھ لازم ہے کہ جزِ اول نہار کا کس کے ساتھ پایا جائے؟ جنابت کے ساتھ پایا جائے۔ "وَالإِمْسَاكُ فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ صَوْمٌ" اور یہ جو امساک ہے اس جز کے اندر، یہ کیا ہے؟ بھئی، یہ جزِ اول صبح کے فجر کے اولِ جز میں امساک کس کو، کیا کہتے ہیں؟ یہ روزہ ہی ہے نا؟ روزہ شروع ہو گیا تو اولِ جز میں جو امساک پایا گیا، وہ کیا ہے؟ وہ روزہ ہی ہے، "وَأُمِرَ الْعَبْدُ بِإِتْمَامِهِ" وہ روزہ ہے جس کے حکم کا، جس کے لیے کہ بندے کو اس کے پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ "وَالإِمْسَاكُ فِي ذَلِكَ الْجُزْءِ صَوْمٌ" اور آگے "صَوْمٌ" نکرہ ہے، نکرہ کے بعد "أُمِرَ" فعل آ رہا ہے، تو یہ اس کے لیے کیسا، کیا بن جائے گا؟ صفت بن جائے گا۔ تو امساک اس جز کے اندر وہ روزہ ہے کہ حکم دیا گیا ہے بندے کو اس کے پورا کرنے کا، بھئی۔ بندے کو اس کے پورا کرنے کا؟ آگے آیا نہیں: "أَتِمُّوا الصِّيَامَ" روزہ کیا کرو؟ پورا کرو۔ تو اولِ جز میں امساک یہ روزہ ہے جس کے پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ "فَكَانَ هَذَا إِشَارَةً" تو یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف "أَنَّ الْجَنَابَةَ لا تُنَافِي الصَّوْمَ" کہ جنابت کیا ہے؟ روزے کے منافی نہیں۔ "وَلَزِمَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ لا يُنَافِي بَقَاءَ الصَّوْمِ" اور اس کے ساتھ یہ لازم ہے، مولانا! بھئی، جب جنابت پائی گئی، کس میں پائی گئی؟ روزے کے اولِ جز کے اندر کیا پائی گئی؟ جنابت پائی گئی۔ تو لازمی بات ہے اب غسل کرنا پڑے گا، بھئی۔ کیا کرنا پڑے گا؟ نماز وغیرہ کے لیے غسل کرنا پڑے گا اور جب غسل کرے گا تو غسل کے اندر فرض ہے کلی کرنا بھی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی فرض ہے۔ تو وہ بھی کرنا پڑیں گے، بھئی۔ جب کہ وہ کرنا پڑیں گے، معلوم ہوا کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا روزے کے منافی نہیں، اس سے روزہ ٹوٹتا نہیں۔ "وَلَزِمَ مِنْ ذَلِكَ" اور اس کے ساتھ لازم ہے کہ "أَنَّ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ" کہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا "لا يُنَافِي بَقَاءَ الصَّوْمِ" یہ کیا ہے؟ روزے کی بقا کے منافی نہیں ہے۔ "وَيَتَفَرَّعُ مِنْهُ" اور اسی پر متفرع ہو گا یہ مسئلہ بھی: "أَنَّ مَنْ ذَاقَ شَيْئًا بِفَمِهِ لَمْ يَفْسُدْ صَوْمُهُ" کہ جس نے کسی چیز کو چکھ لیا اپنے منہ سے "لَمْ يَفْسُدْ صَوْمُهُ" اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا بشرطیکہ حلق سے نہ اترے وہ چیز، بھئی۔ کوئی شخص زبان سے کوئی چیز چکھ لیتا ہے، حلق سے نہ اترے، اس کا روزہ بھی فاسد نہیں۔ کیوں؟ یہ کیسے معلوم ہوا؟ بھئی، ابھی تو آپ کو بتایا کہ جب جنابت روزے کے منافی نہیں، تو کیا کرنا پڑے گا؟ غسل کرنا پڑے گا۔ جب غسل کرے گا تو پھر اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ کلی کرنا پڑے گی اور ناک میں پانی ڈالنا پڑے گا اور جب کلی کرے گا یہ تو بعض اوقات بعض علاقوں کا پانی کھاری ہوتا ہے، نمکین ہوتا ہے۔ تو جب وہ کلی کرے گا تو نمک کا ذائقہ منہ میں پائے گا یا نہیں پائے گا؟ نمک کا ذائقہ منہ میں پائے گا اور تو یہ اس صورت میں، مولانا! تو کلی کرنے سے کیا روزہ فاسد ہو رہا ہے؟ نہیں، تو اب تو لازمی ہے اس کے ساتھ وہ کس چیز کا ذائقہ پائے گا؟ نمک کا، معلوم ہوا کسی چیز کے، کسی زبان سے چکھنے سے کیا ہوا؟ روزہ فاسد نہیں ہوا، کیونکہ آپ چکھ رہے ہیں یا نہیں چکھ رہے اس صورت میں زبان پر سے، بھئی؟ نمکین ذائقہ محسوس کر رہے ہیں اس کو، بھئی۔ تو معلوم ہوا اب کوئی کھانے کی چیز چکھ لے، بشرطیکہ حلق سے نہ اترے۔ حلق سے اتر گئی تو پھر تو روزہ فاسد ہے۔ تو "وَيَتَفَرَّعُ مِنْهُ" اس سے یہ حکم بھی متفرع ہو گا کہ "أَنَّ مَنْ ذَاقَ شَيْئًا" جس نے کسی چیز کو چکھا "بِفَمِهِ" منہ سے "لَمْ يَفْسُدْ صَوْمُهُ" اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا "فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ الْمَاءُ مَالِحًا" اس لیے کہ اگر وہ پانی کیا ہو؟ اگر وہ پانی نمکین تھا تو "يَجِدُ طَعْمَهُ عِنْدَ الْمَضْمَضَةِ" تو وہ اس کے ذائقے کو پائے گا کلی کرتے ہوئے "عِنْدَ الْمَضْمَضَةِ" پائے گا اور یہ "لا يَفْسُدُ بِهِ الصَّوْمُ" اس کے ساتھ روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ جب اس کے ذائقے چکھنے سے روزہ فاسد نہیں ہو رہا، تو غیر چیز کے چکھنے کے ساتھ بھی روزہ فاسد نہیں ہوا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس سے ایک مسئلہ بھی علماء نے نکالا، بھئی۔ کیا؟ کہ اگر ایک عورت ہے اور اس کا خاوند بے انتہا سخت ہے، تو وہ کھانا وغیرہ بناتی ہے، تو اس کو چکھ کر دیکھ سکتی ہے کہ نمک، مرچ وغیرہ ٹھیک ہیں یا ٹھیک نہیں، ہاں بشرطیکہ حلق سے نہ اترے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ورنہ تو اگر بیچاری چکھتی نہیں ہے، دیکھتی نہیں ہے، پھر تو خطرہ ہے پتہ نہیں آ کے میرے کہ زبردست پٹائی نہ ہو جائے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو بعض لوگ بہت زیادہ سخت ہوتے ہیں حد سے زیادہ۔ اچھا، بھئی! "وَعُلِمَ مِنْهُ حُكْمُ الاِحْتِلاَمِ وَالاِحْتِجَامِ وَالدِّهَانِ" اسی سے احتلام، احتجام، دہان کا حکم بھی معلوم ہو گیا، بھئی۔ احتلام کا معنی آپ جانتے ہیں، احتجام کا معنی ہے سینگی لگانا، پچھنے لگوانا، مولانا! یہ خاص طریقہ علاج تھا۔ یَرحَمُکَ اللہ۔ خاص طریقہ علاج تھا قدیم زمانے کے اندر، بھئی۔ کوئی خاص رگ وغیرہ کاٹتے تھے اور اس کے ذریعے کسی کوئی آلہ ہوتا تھا، وہ آلہ لگا کر خون کو چوس کر کھینچ کر نکالتے تھے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو فاسد خون بدن سے نکل جاتا تھا اور بہت سی بیماریوں، بہت سی بیماریوں سے اس کی وجہ سے کیا ہو جاتی تھی؟ شفاء اس کے سبب سے حاصل ہوتی تھی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی۔ تو اس کو احتجام کہتے تھے، کیا کہتے تھے؟ پچھنے لگوانا، سینگی لگوانا، سینگی۔ اچھا، سینگی لگوانا اور ان کا حکم بھی معلوم ہوا۔ دہان کہتے ہیں تیل لگانا، بھئی۔ آپ نے سر پہ تیل لگایا بالوں پہ، ان سب کا حکم معلوم ہو گیا۔ ان کا حکم بھی اس سے معلوم ہو گیا۔ احتلام کا حکم، بھئی! احتلام سے آئے گی جنابت اور یہ جنابت اختیار سے آئی ہے یا غیر اختیار سے؟ غیر اختیار سے، تو جب وہ جنابت جو اختیار کی وجہ سے تھی، وہ روزے کے منافی نہیں، تو غیر اختیاری جنابت تو بطریقِ اولیٰ روزے کے منافی نہیں۔ نیز مولانا! احتجام کی صورت میں کیا کیا جاتا ہے؟ خون نکالا جاتا ہے رگ کاٹ کر اور دہان میں صرف آپ نے تیل لگایا، بھئی۔ تو اب ان دو صورتوں میں کیا اس امساک پر کوئی اثر پڑا؟ کھانا، پینا یا جماع، روزہ تو ان تین چیزوں سے رکنے کا نام تھا اور سینگی لگواتے ہیں، اس صورت میں بھی پیٹ میں کوئی چیز نہیں جا رہی، تیل لگا رہے ہیں، اس صورت میں بھی پیٹ میں کوئی چیز نہیں جا رہی، لہٰذا ان کا حکم بھی معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا، بھئی۔ جی۔ دیکھیے! خود کیوں بتلا رہے ہیں، بھئی؟ اور اسی سے احتلام، احتجام اور دہان کا حکم بھی معلوم ہو گیا "لِأَنَّ الْكِتَابَ لَمَّا سَمَّى الإِمْسَاكَ" اس لیے کہ جب کتاب نے، کتاب اللہ نے قرار نام رکھا کس چیز کا؟ امساک کا۔ اگلی سطر سے نچلی سطر کے شروع میں آ رہا ہے "صَوْمًا"، یہ مفعولِ ثانی ہے، امساک کیا ہے؟ مفعولِ اول اور "صَوْمًا" آگے آ رہا ہے، وہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی۔ جب کتاب اللہ نے اس امساک کو نام صوم رکھا ہے، کیا نام رکھا ہے؟ جی۔ تو یہ، وہ، جب نام اس کا صوم رکھا ہے، بھئی۔ تو یہ میں نے بتلایا، امساک مفعولِ اول ہے اور صوم کیا ہے؟ مفعولِ ثانی ہے۔ اب درمیان میں اور بات آ رہی تھی، لمبی تھی، میں اب اس لیے وہ آپ کو بتلا دیا، بھئی۔ دیکھیے! اس لیے کہ کتاب اللہ نے جب نام رکھا ہے اس امساک کا "اللازِمَ بِوَاسِطَةِ الاِنْتِهَاءِ عَنِ الأَشْيَاءِ الثَّلاَثَةِ" جو لازم آ رہا ہے، کس کے واسطے سے لازم آ رہا ہے؟ تین اشیاء سے باز رہنے کے واسطے سے، رکنے کے واسطے سے لازم آ رہا ہے۔ "الْمَذْكُورَةِ فِي أَوَّلِ" "الْمَذْكُورَةِ" جو کیا ہوئیں؟ تین چیزیں جو مذکور ہوئیں، ذکر ہوئیں، بھئی۔ اس تو کتاب اللہ نے، دیکھو ترجمہ پھر غور سے، جب کتاب اللہ نے نام رکھا ہے اس امساک کا جو لازم آ رہا تھا بواسطة رکنے کے تین چیزوں سے جو مذکور ہوئیں اور کس وقت میں؟ "فِي أَوَّلِ الصُّبْحِ" اولِ صبح کے اندر اس کا کیا نام رکھا ہے؟ صوم، صوم رکھا ہے۔ "عُلِمَ" تو یہ جان لیا گیا "أَنَّ رُكْنَ الصَّوْمِ يَتِمُّ بِالاِنْتِهَاءِ عَنِ الأَشْيَاءِ الثَّلاَثَةِ" کہ رکنِ صوم وہ پورا ہو جاتا ہے تین چیزوں سے رکنے کے ساتھ۔ رکنِ صوم پورا ہو جاتا ہے؟ تین چیزوں کے ساتھ رکنے سے پورا ہو جاتا ہے اور احتلام، احتجام اور دہان، یہ کوئی بھی اس کے منافی نہیں، کوئی بھی ان کے منافی نہیں۔ "وَعَلَى هَذَا يُخَرَّجُ الْحُكْمُ فِي مَسْأَلَةِ التَّبْيِيتِ" اور اسی پر مولانا! نکالا جائے گا مسئلہ تبییت بھی۔ مسئلہ تبییت، یہ تبییت کہتے ہیں مولانا! رات کو نیت کرنا۔ تبییت کس کو کہتے ہیں؟ رات کو نیت کرنا۔ ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: روزے کے لیے رات سے نیت کرنا ضروری ہے۔ وہ روزہ جو فرض ہو، اس کی نیت رات، تو وہ کیا فرماتے ہیں؟ رات ہی کو کرنا ضروری ہے۔ ہاں، نفل کے اندر کہتے ہیں، دن کو بھی روزہ کر، نیت کر سکتے ہیں زوال سے پہلے، بھئی۔ اس لیے کہ حدیثوں میں آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کئی دفعہ گھر دن کے وقت، صبح کے وقت تشریف لے جاتے، پوچھتے: کچھ کھانے کو ہے؟ وہ جواب، اگر کھانے کی کوئی چیز ہوتی تو کھا لیتے، اگر نہ ملتے کھانے کی کوئی چیز تو فرماتے کہ: میں روزہ رکھتا ہوں چلو پھر، میں کیا کرتا ہوں؟ روزہ رکھتا ہوں، تو روزہ رکھ لیتے، معلوم ہوا نفل روزے کے لیے رات سے نیت ضروری نہیں، بھئی، اسی وقت نیت فرما لیتے، تو نفل میں وہ سب ہے۔ لیکن باقی فرض روزے جو ہیں، لازمی روزے ہیں جو واجب ہیں، مولانا! ان کے اندر وہ کیا فرماتے ہیں؟ رات ہی سے نیت کرنا ضروری ہے، ورنہ روزہ نہیں، فرض لازم ہے، لازم ہے۔ جب کہ احناف کے ہاں وہ روزے جن کا وقت متعین ہو، ان میں رات سے نیت کرنا ضروری نہیں، وہ روزے جن کا وقت متعین ہو، وہ فرض روزے، ان میں کیا ہے؟ رات سے نیت کرنا ضروری نہیں، ہاں، دن کو زوال سے پہلے بھی کر سکتے ہیں۔ مثلاً رمضان ہے، بھئی، رمضان کے روزوں کا کیا ہے؟ وقت متعین ہے، مقرر ہے، تو یہاں اب کسی اور روزے کا احتمال ہے؟ کسی اور روزے کا احتمال نہیں، تو لہٰذا اب یہاں پر دن کے زوال سے پہلے بھی نیت کر سکتے ہیں۔ امام، ہماری دلیل، بھئی! ہماری دلیل سب سے پہلے، ہماری دلیل ہے قرآن میں آیا ہے: "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ" پھر پورا کرو کس کو؟ روزے کو۔ امر آ رہا ہے مولانا! امر، اتمام، پورا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور پورا کرنے کا حکم اسی وقت دیا جاتا ہے جب کسی چیز کا کچھ جز پہلے ہو چکا ہو۔ بھئی، میں آپ کو کہتا ہوں: یہ کام پورا کرو، معلوم ہوا کچھ آپ شروع کر چکے ہیں، ورنہ یوں نہیں کہوں گا کہ پورا کرو، بلکہ کیا کہوں گا؟ یہ کام کرو، لیکن جب کہا جا رہا ہے: پورا کرو، معلوم ہوا وہ کچھ کام پہلے، تو "أَتِمُّوا" اتمام کا حکم ہے، معلوم ہوا کچھ جزِ روزہ پہلے گزر چکا، تو "أَتِمُّوا" کا امر کب متوجہ ہو گا مولانا؟ جی؟ روزہ شروع ہونے سے پہلے متوجہ ہو گا یا جب پہلا جز روزے کا گزر جائے؟ پھر متوجہ ہوگا؟ پھر متوجہ ہوگا، کیونکہ پورا کرو اور پورا کرنا تب ہوتا ہے جب کچھ جزء پہلے بھی تو یہ پہلا جزء گزرنے کے بعد یہ امر متوجہ ہوگا ہماری طرف، مولانا۔ اور مامور بہ یعنی وہ چیز جس کی ادائیگی کا حکم دیا جائے، وہ چیز جس کا حکم دیا جائے اس کو کیا کہتے ہیں، مولانا؟ مامور بہ، اور مامور بہ کی ادائیگی کی نیت اس وقت لازم ہوتی ہے جب امر متوجہ ہو جائے۔ مامور بہ بھئی، وہ چیز جس کا حکم دیا گیا، مامور بہ کی ادائیگی کی نیت کرنا کب لازم ہوتی ہے؟ جی؟ دیکھیے، یہ ساری بات کتاب میں آئے گی بھئی، یہ لفظ یاد رکھنا، مامور بہ کی ادائیگی کی، بھئی مامور بہ کو ادا کرنے کی نیت کرنا کب ضروری ہوتا ہے؟ جب امر متوجہ ہو جائے، اور امر کب متوجہ ہو رہا ہے؟ پہلے جزء کے گزرنے کے بعد متوجہ ہو رہا ہے، تو نیت بھی اسی وقت لازم ہوگی، اس سے پہلے نیت کرنا ضروری نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جی؟ مامور بہ کی ادائیگی کے ادا کرنے کی نیت کرنا کب ضروری ہوتا ہے؟ جب امر متوجہ ہو جائے، اور امر کب متوجہ ہو رہا ہے؟ جزء اول کے گزرنے کے بعد، تو معلوم ہوا نیت بھی اب کرنا ضروری ہے، پہلے کرنا ضروری نہیں۔ ہاں، کر لو تو بہتر ہے بھئی۔ یہ دلیل ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ دیکھیے، وعلى هذا يخرج الحكم في مسئله التبييت، بھئی، اور اسی پر نکالا جائے گا حکم مسئلہ تبییت، رات سے نیت کرنے کے مسئلے میں بھی، فإن قصد الاتيان بالمامور به، اس لیے کہ ارادہ کرنا، قصد کا کیا معنی؟ ارادہ کرنا، اتیان کا صلہ باء آ جائے تو یہاں مراد ہے ادائیگی، اتیان بالمامور به، مامور بہ کی ادائیگی کا ارادہ کرنا، مامور بہ کی ادائیگی کا ارادہ کرنا یعنی اس کی نیت کرنا، إنما يلزمه، اس شخص پر کب لازم ہوگی جس کو حکم دیا گیا ہے؟ اس پر لازم ہوگی، عند توجه الأمر، جب امر کیا ہو جائے؟ تو مامور بہ کی ادائیگی کی نیت اس شخص اس مامور پر اس وقت لازم ہوگی جب امر متوجہ ہو جائے، والأمر إنما يتوجه بعد الجزء الأول، اور امر متوجہ ہو رہا ہے کس کے بعد؟ جزء اول کے بعد، یعنی صبح صادق کا ایک جزء گزر جائے پھر امر متوجہ ہوگا، کیوں؟ لقوله تعالى، اللہ کے اس قول کی وجہ سے، ثم أتموا الصيام إلى الليل، پھر تم پورا کرو روزے کو رات تک، تو أتموا آ رہا ہے اور أتموا اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ کام کچھ ہو چکا ہو، معلوم ہوا کچھ روزہ گزر جائے پھر أتموا کا امر ہماری طرف متوجہ ہوگا اور تو مامور بہ کے ادا کرنے کی نیت اس وقت ضروری اور لازم ہو جاتی ہے جب اس کا، جب امر کیا ہو جائے؟ متوجہ ہو جائے، اور امر کب متوجہ ہو رہا ہے جبکہ جزء اول گزر جائے، معلوم ہوا دن میں نیت کرنا اب ضروری ہوا، تو ہمارے عند الاحناف زوال سے پہلے، وہ روزے جو فرض ہوں اور متعین ہوں ان کے اندر کیا ہے؟ زوال سے پہلے نیت کر لے تو یہ بھی جائز ہے، یہ نیت کرنا جائز ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو دن کے اکثر حصے میں زوال سے پہلے اس لیے کہ اب اکثر حصے میں کیا پائی گئی؟ نیت پائی گئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اکثر حصے میں نیت پائی گئی بھئی، تو یہ کافی ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ دلیل دیتے ہیں بھئی، حدیث آتی ہے بھئی، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: لا صيام لمن لم ينو الصيام من الليل، بھئی، جی، لا صيام لمن لم ينو الصيام من الليل، بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ حاشیے میں بھی آپ کے حدیث موجود ہے، تین نمبر حاشیے میں بھئی۔ حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں؟ لا صيام لمن لم ينو الصيام من الليل، روزہ نہیں ہے اس شخص کا جس نے نیت نہ کی روزے کی رات سے ہی۔ حدیث میں کیا آیا مولانا؟ جس نے رات ہی سے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں، کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا بھئی حدیث آ گئی، معلوم ہوا رات سے نیت نہیں کرو گے تو روزہ ہی نہیں ہوگا، اس لیے وہ فرماتے ہیں رات ہی سے نیت کرنا ضروری ہے، یہ ان کی دلیل ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں مولانا، کہ ہمارا حکم، ہم نے جو حکم ثابت کیا وہ کس سے ثابت کیا ہے؟ جی؟ اشارۃ النص سے، اور آپ نے جو حکم ثابت کیا وہ جو آپ کی دلیل کیا ہے؟ خبر واحد ہے، اور خبر واحد ظنی ہے، ہاں یہ بات یاد رکھو مولانا، یہ جو عبارت النص اور اشارۃ النص یہ قطعی ہیں، یہ کیا ہیں؟ قطعی ہیں، تو ہماری دلیل یہ آیت اس سے ہوئی مولانا کتاب اللہ سے اور وہ قطعی ہے بھئی اشارۃ النص سے اور وہ قطعی ہے، اور آپ کی دلیل خبر واحد ہے اور خبر واحد ظنی ہے، اور خبر تو اور ان دونوں کے درمیان اب تقابل آ جائے تو پھر کس کو ترجیح دی جائے گی؟ جی؟ کتاب اللہ اور اشارۃ النص کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہ کیا ہے؟ قطعی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ ایک جواب یہ مولانا، بہت سے جوابات اس حدیث کے ہم دیتے ہیں بھئی۔ ہمارے نزدیک رمضان کے اندر دن میں نیت کر سکتے ہیں بھئی، ہماری دلیل وہ حدیث ہے بھئی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دن کے وقت دیہاتی آیا ایک بھئی، اور اس نے آ، کسی کو چاند نظر نہیں آیا تھا رمضان کا بھئی، اگلے دن دن کو آ کر ایک دیہاتی نے بتایا کہ میں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا بھئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اعلان کروایا صحابہ میں بھئی کہ جس شخص نے کچھ کھا لیا ہے تو وہ شام تک اب کچھ نہ کھائے، اور جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے، دیکھا؟ دن کو روزہ رکھنے کا حکم ہوا، اب نیت رات کو ہو ہی نہیں سکتی تھی، معلوم ہوا نیت بھی کب پائی گئی؟ دن میں پائی گئی، ثابت ہوا رمضان کی نیت دن کے اندر بھی کر سکتے ہیں، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک جواب یہ ہے، بہت سے جوابات ہیں، ایک جواب یہ دیتے ہیں ہم اس حدیث کا جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کی، کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ہماری احادیث ناسخ ہیں بھئی، جن میں دن کے اندر ہی نیت کرنے کا ثبوت ملتا ہے، دن کے اندر ہی کیا کرنے کا؟ نیت کرنے کا ثبوت ملتا ہے، جی، ایک یہ جواب ہوا۔ نیز ہم یہ بھی جواب دیتے ہیں بھئی، جی، ہم یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ بھئی روزے دراصل دو قسم پر ہیں بھئی، کچھ روزے وہ ہیں جن کا وقت متعین ہے اور کچھ روزے وہ ہیں جن کا وقت متعین نہیں ہے، وہ روزے جن کا وقت متعین ہے مثلاً رمضان کے روزے ہیں بھئی، یا کسی نے نذر معین متعین منت مانی ہے کہ میں فلاں دن سے فلاں تک کیا کروں گا اگر یہ کام ہو گیا تو روزے رکھوں گا، تو یہ نذر معین ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو جن روزوں کا وقت مقرر ہو اس میں رات کو نیت کرنے کی ضرورت نہیں، اور وہ روزے جن کا وقت مقرر ہے ان میں رات کو نیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تعین ہو جائے، مثلاً قضاءِ رمضان ہے بھئی، رمضان کا کوئی روزہ قضا ہو گیا تھا اب اس کی قضا اس شخص پر واجب ہے، لیکن اس کا کوئی وقت متعین ہے؟ کوئی وقت متعین نہیں، تو اس کے لیے اب رات سے نیت کرنا ضروری ہے تاکہ تعین ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کہ فلاں روزہ رکھ رہا ہوں۔ يا اسی طرح کسی نے منت مانی ہے کہ میں اتنے روزے رکھوں گا لیکن دن نہیں متعین کیے، تو یہ نذر مطلق ہے اور نذر مطلق تو یہ بھی واجب ہو گئی اس شخص پر، لیکن اب اس کے اندر چونکہ دن متعین نہیں تو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ رات سے نیت کرنا پڑے گی تاکہ تعین ہو جائے اس کی بھئی، تعین ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو روزے دو قسم پر ہو گئے، کچھ وہ ہیں جن کا وقت متعین ہے، کچھ وہ ہیں جن کا وقت متعین نہیں، نفل بھی اول قسم میں سے ہیں، نفلوں کے اندر وسعت ہے، ان کا وقت متعین نہیں ہے، احادیث سے ثابت ہوتا ہے کئی مرتبہ حضور علیہ السلام گھر تشریف لاتے، پوچھتے کھانے کو کچھ ہے؟ جب کھانے کو کچھ نہ ہوتا تو فرماتے: اچھا، میں روزہ رکھتا ہوں۔ معلوم ہوا دن کو بھی روزہ نفل روزہ رکھ سکتے ہیں، نیت کر سکتے ہیں۔ تو نفلوں میں وسعت ہے، ہاں واجب کے اندر میں نے بتلایا پھر دو قسم پر ہے، کچھ کے وقت متعین ہوتا ہے جیسے رمضان ہے اور قضا اور نذر معین ہے، اور کچھ وہ واجب روزے ہیں جن کا وقت متعین نہیں ہے جیسے قضاءِ رمضان ہے یا نذر مطلق ہے بھئی جس میں وقت متعین نہیں ہوتا، ان کے اندر رات سے نیت کرنا ضروری ہے، اور حدیث میں یہی روزے مراد ہیں۔ حدیث میں لو بھئی، اب تعارض ہی ختم ہو گیا احادیث کے اندر، تعارض ختم ہو گیا۔ بس جن سے ثبوت دن کو روزہ نیت کرنے کا ثبوت ملتا ہے اور اس کے اندر حکم ہو رہا ہے رات کو نیت کرو، اب تو تعارض باقی ہی نہ رہا، جی۔ نیز ایک یہ جواب ہم دیتے ہیں کہ یہ حدیث اولویت پر مبنی ہے بھئی، یعنی اولیٰ یہ ہے کہ کب رکھا جائے، کب کی جائے نیت بھئی؟ رات سے نیت کی جائے، رات سے نیت کی جائے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ رات سے نیت کی جائے۔ اور اسی طرح ایک جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث کا وہ معنی نہیں ہے جو فریق مخالف نے سمجھا کہ رات سے نیت کرنا ضروری ہے، بلکہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ کسی نے مثلاً دن کو نیت کی، نیت کس وقت کر رہا ہے مثلاً؟ صبح نو بجے کر رہا ہے، نیت نو بجے کر رہا ہے اور رات سے روزے کی نیت نہیں کر رہا بلکہ اس وقت سے روزے کی نیت کر رہا ہے کہ اس وقت سے میرا روزہ ہے، یہ نہیں کہہ رہا کہ کیا ہے؟ رات سے میرا، نیت کس وقت کر رہا ہے؟ دن کو کر رہا ہے اور صوم من الليل کی نیت نہیں کر رہا بلکہ صوم من النهار کی نیت کر رہا ہے، تو یہ تو عندنا بھی باطل ہے، روزہ تو نو بجے نہیں شروع ہوتا، روزہ تو رات سے شروع ہو جاتا ہے، لہٰذا دن کو بھی نیت کرے تو کب کی نیت کرے گا؟ رات کی نیت کرے گا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس مراد اس حدیث سے یہ ہے کہ دن کو اگر کوئی نیت کرتا ہے تو رات ہی کی نیت کرنا پڑے گی، دن کی نیت معتبر کیونکہ دن سے اج نو بجے سے روزہ شروع ہو ایسا نہیں ہوتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اب تو اس پر تو ہمارا بھی عمل ہے اس حدیث پر، اے شوافع! ہم بھی اس حدیث پر عمل کرتے ہیں کہ اگر کوئی دن کو نیت کرے تو صوم من الليل کی نیت کرنا پڑے گی، صوم من النهار کی نیت جائز نہیں، تو اس پر تو ہم بھی عمل کرتے ہیں، لو بھئی، اب بھی تعارض ختم ہوا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا اس کا ایک جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ یہ اس حدیث میں کمال کی نفی ہے بھئی، کس چیز کی نفی ہے؟ کہ اس شخص کے روزے نہیں یہ معنی نہیں کہ روزہ ہوتا ہی نہیں، معنی یہ ہے کہ کامل روزہ نہیں جس نے رات سے روزے کی نیت کی، کامل روزہ یہ ہے کہ کب سے نیت کی جائے؟ رات سے نیت کی جائے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بہت سے جوابات ہم اس حدیث کے دیتے ہیں، اور ایک اہم جواب جو کتاب میں گزر گیا کہ یہ خبر واحد ہے حدیث، اور خبر واحد ظنی ہوتی ہے، جبکہ ہم نے جو دلیل ذکر کی کتاب اللہ کے ذریعے وہ قطعی تھی، اور قطعی کو ترجیح ہوتی ہے کس پر؟ ظنی پر، تو ہم نے کتاب اللہ پر عمل کیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس، هذا ما أردنا واللہ أعلم بحقيقۃ الکلام۔
123 approved lectures · 45 of 123