أچھا بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے مجمل اور محکم کے، مجمل اور متشابہ کے بارے میں پڑھا تھا بھئی
مجمل وہ ہے مولانا جس کی مراد پر واقف ہی نہیں ہوا جا سکتا جب تک کہ متکلم کی طرف سے کوئی بیان نہ آ جائے۔ تو متکلم کی طرف سے بیان آتا ہے پھر اس کی مراد پر انسان واقف ہوتا ہے۔ جی اور محکم، اور متشابہ وہ ہے جس کے اندر خفا مجمل سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔ یعنی اس میں تو بیان بھی کوئی نہیں آتا متکلم کی طرف سے، جب بیان ہی نہیں آیا تو پھر اس کے معنی پر واقف ہونا ممکن ہی نہ رہا بھئی، ممکن نہ رہا۔ جی۔
مجمل کی مثال دی تھی مولانا، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "حرم الربا" اللہ نے ربا کو کیا قرار دیا ہے؟ حرام قرار دیا ہے۔ اب ربا کا مفہوم تو ہے زیادی، بس مطلق زیادی۔ اور لیکن کیا مطلق زیادی یہاں مراد ہے؟ مطلق زیادی نہیں مراد بھئی، کیونکہ زیادی تو پھر ہر بیع کے اندر ہوتی ہے، ہر تاجر بیع وشراء اسی لیے کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اس کو کیا حاصل ہو؟ نفع حاصل ہو، زیادی ہوتی ہے اس میں۔ بلکہ مراد ایسی زیادی ہے جو خالی ہو عوض سے اور جن چیزوں کی بیع کے اندر ہو؟ مقدرات متجانسہ، یعنی قدر والی اور ہم جنس چیزوں میں ہو۔ ایک جیسی چیزوں میں۔
سمجھ میں آیا؟ اور یہ پتہ کہاں سے چلا بھئی؟ یہ بیان آیا بھئی، حدیث تھی: "الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا" "بيعوا الحنطة" یہ مفعول ہے "بيعوا" کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ حدیث میں ہے، بیچو تم گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور، نمک کے بدلے نمک، سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، بیچو "مثلا بمثل" اس طرح کہ وہ کیا ہوں آپس میں؟ برابر برابر ہوں بھئی، دونوں طرف برابر ہوں، مثل کے بدلے مثل ہو۔ اور "يدا بيد" اور ہاتھوں ہاتھ ہوں، یعنی نقد ہو، ادھار نہ ہو۔ "والفضل ربا" اور زائد کیا ہے؟ ربا ہے۔
تو یہاں سے ہم نے نکالا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے نکالا مسئلہ، کہ یہاں جتنی چیزیں ذکر ہوئیں وہ مکیلی ہیں، یعنی ان کو ماپا جاتا ہے کسی برتن وغیرہ میں یا وزنی ہیں، ان کا وزن کیا جاتا ہے۔ اور نیز جنس کے بدلے جنس بیان ہوئی۔ معلوم ہوا ربا وہاں ہے جہاں قدر بھی آئے اور جنس بھی آئے۔ سمجھ میں آیا؟ مکیلی یا موزونی چیزوں میں سے کوئی ایک ہو، تو قدر کا لفظ شامل ہے کیل کو بھی اور وزن کو، دونوں پر۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ورنہ تو تین لفظ بولنے پڑتے نا: کیل، وزن اور جنس۔ تو کیل اور وزن کو ایک ہی بنا دیا، کیا؟ قدر، قدر شامل ہے کیل کو بھی اور وزن کو بھی۔ تو قدر اور جنس بن گئی بھئی۔ جی۔
اور تو چنانچہ ان میں سے جب بھی چیزوں کو میں، اور میں نے مسئلہ آپ کو بتلایا تھا کہ جب جنس بھی ایک ہو اور قدر، جنس ایک ہے تو قدر بھی ہے مولانا، یعنی مکیلی یا موزونی چیز ہے، تو پھر وہاں پر کیا کرنا پڑے گا؟ ادھار بھی حرام اور کمی زیادی بھی حرام۔ آپ گندم کے بدلے گندم ہی بیچنا چاہتے ہیں تو دیکھو جنس بھی ہے اور قدر بھی ہے، کیل یا وزن ہے یا نہیں مولانا؟ کیلی چیز ہے۔ تو لہذا اب برابر گندم بیچیں گے بھئی۔ ایک طرف سے اگر 100 صاع ہے تو دوسری طرف سے بھی کتنی ہونی چاہیے؟ 100 صاع، اگر ایک نے 110 صاع دیے تو پھر 100 صاع تو 100 صاع کے بدلے ہو گئے اور یہ 10 صاع کیا ہیں؟ یہ ربا ہے، کیونکہ یہ ایسی زیادی ہے جو عوض سے خالی ہے اور جن چیزوں کی بیع میں ہے قدر والی اور ہم جنس چیزوں میں ہے بھئی۔
لیکن اگر صرف قدر تو پائی جائے، جنس نہ ہو، تو پھر اور ہاں تو اس میں کمی بیشی بھی جائز نہیں تھی اس گندم میں اور ادھار بھی جائز نہیں، 100 صاع کے بدلے 100 صاع ہی آپ لینا یا دینا چاہتے ہیں لیکن ایک آج دے رہا ہے، ایک دو دن بعد دے گا، ادھار کر رہا ہے، یہ بھی جائز نہیں، کیونکہ حدیث میں آیا: "يدا بيد"। لیکن اگر صرف قدر ہو، جنس نہ ہو، مثلا گندم دے رہے ہیں اور جو لے رہے ہیں، تو اب قدر تو ہے، یہ بھی کیلی اور وہ بھی کیلی، ہاں جنس الگ ہے۔ تو جب ایک چیز پائی جائے تو اس وقت پھر کمی بیشی تو جائز ہوتی ہے لیکن ادھار پھر بھی جائز نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب یہ جو اتنا لمبا معنی ربا کا کیا کہ وہ ایسی زیادی ہے جو خالی ہو عوض سے اور قدر والی چیزوں میں ہو اور ہم جنس چیزوں میں ہو، کیا صرف لفظ ربا سے یہ معنی سمجھ میں آ رہا تھا؟ وہ تو مطلق زیادی تھی، تو اس کی مراد پر مطلع ہی نہیں ہوا جا سکتا تھا جب تک کہ یہ بیان نہ آ گیا بھئی۔
یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مجمل کے اندر بیان آتا ہے بھئی دنیا کے اندر ہی بھئی اور بیان آیا بھئی۔ اور متشابہ وہ ہے مولانا جس کے مراد پر مطلع ہونا ہی ممکن نہیں دنیا کے اندر، کیونکہ بیان نہیں آیا بھئی شارع کی طرف سے اس کا کوئی بیان نہیں آیا بھئی۔ اور بتلایا تھا متشابہ پھر یہ حروف جیسے حروف مقطعات ہیں بھئی، یہ آیتوں کے شروع کے اندر بھئی، الف لام میم، یاسین وغیرہ بھئی۔ اور تو یہ متشابہ ہیں مولانا، اس سے کیا مراد ہے اللہ کی؟ یہ ہم نہیں جانتے بھئی، ہاں ان کے حق ہونے کا ہمیں یقین ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ برحق ہونے کا، اعتقاد، یقین۔
اور یہ متشابہ میں نے بتلایا تھا دو قسم پر ہیں: ایک تو یہ متشابہ جو حروف مقطعات ہیں کہ جن کے معنی کا ہی ہمیں پتہ نہیں ہے، کیونکہ یہ تو حروف ہیں، حروف مبانی ہیں مولانا، یہ تو ترکیب کے لیے وضع ہیں، معنی کے لیے وضع نہیں ہیں، الف، با، تا، ثا، یہ کسی معنی کے لیے وضع نہیں ہیں بلکہ یہ تو ترکیب کے لیے کہ ان کو جوڑ کر ان سے لفظ بنائے جائیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ لفظ بنائے جائیں۔ اور ایک وہ متشابہ ہے جس کا معنی تو معلوم ہے لیکن مراد معلوم نہیں، جیسے ید اللہ کا ذکر آتا ہے: "ید اللہ فوق أیدیہم" اللہ کا ہاتھ بھئی، اور وجہ اللہ کا ذکر آتا ہے جی، اور وغیرہ بھئی۔ تو ان کا معنی تو معلوم ہے لیکن مراد معلوم نہیں بھئی، اللہ کا ہاتھ، اللہ کا چہرہ وغیرہ، ید کا معنی ہاتھ ہوتا ہے، وجہ کا معنی چہرہ، لیکن یہاں ہاتھ اور چہرہ مراد نہیں لے سکتے اس لیے کیونکہ اللہ کیا ہیں؟ "لیس کمثلہ شيء" اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے بھئی۔ تو اگر ہاتھ اور چہرہ اللہ کے لیے تسلیم کیے جائیں تو پھر تو اللہ کا جسم ہونا لازم آتا ہے اور اللہ جسم، جہت، مکان وغیرہ سے کیا ہیں؟ منزہ ہیں بھئی۔ تو اللہ کے لیے اگر جسم ثابت کریں گے تو پھر اللہ کا کیا ہونا حادث ہونا لازم آئے گا، حالانکہ ذات باری تعالی تو حادث نہیں بلکہ قدیم ہے مولانا، قدیم ہے۔ باقی چیزیں ساری کیا ہیں؟ حادث ہیں، ایک وقت تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا اور اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی بھئی۔
سمجھ میں آیا، اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے بھئی۔
اور پھر میں نے اختلافی بتلایا تھا کہ ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اختلاف ہے بھئی، کہ قرآن میں کس طرح ذکر آتا ہے؟ "وما يعلم تأويله إلا الله" ہمارے نزدیک یہ "إلا الله" پر وقف لازم ہے کہ یہ جو متشابہات ہیں ان کا مطلب سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتے، یعنی اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں بھئی۔ اور والراسخون فی العلم جو پختہ علم کے اندر پختگی ہے وہ کہتے ہیں: "يقولون آمنا به" ہم کیا کرتے ہیں اس پر؟ ایمان لاتے ہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں الراسخون کا عطف ہو رہا ہے لفظ اللہ پر بھئی، یہ الگ کلام نہیں، ہمارے نزدیک تو الگ بات ہے اور ان کے نزدیک یہ اسی پر عطف ہے، یعنی اللہ بھی جانتے ہیں اور راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں بھئی۔
اس کے بعد فصل ہم نے شروع کی تھی: "فيما يترك به حقائق الألفاظ" ان چیزوں کے بیان میں، ان قرائن کے بیان میں بھئی، ما کس سے عبارت ہے؟ قرینے سے، ما سے کیا مراد ہے؟ قرینہ، وہ قرائن جن کی وجہ سے لفظ کی حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے، وہ پانچ قسم پر ہیں بھئی، پانچ قرائن ہیں جو دلالت کرتے ہیں اس بات پر کہ یہاں لفظ کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بھئی۔ جی۔ قرینہ جانتے ہو کسے کہتے ہیں بھئی؟ "هو أمر يشير إلى المطلوب" وہ امر ہے جو اشارہ کرتا ہے کس کی طرف؟ مطلوب کی طرف اشارہ کرتا ہے بھئی۔
تو پانچ قسم پر ہیں بھئی وہ چیزیں، پہلا دلالت عرف ہے بھئی، عرف دلالت، عرف کی دلالت ہوتی ہے بھئی، عرف بتلاتا ہے کہ یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہے بھئی، بعض اوقات لفظ کا ایک معنی عرف کے اندر مشہور ہو جاتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جب عرف کے اندر ایک معنی مشہور ہو گیا تو اب متکلم بھی اسی عرف کا ایک حصہ ہے جب اس نے اس لفظ پر تکلم کیا، تو یقینا یہ وہی معنی مراد لے گا جو عرف والے مراد لیتے ہیں بھئی، کیونکہ یہ بھی کس کا حصہ ہے؟ بھئی یہ لوگوں میں سے ہے اور لوگ اس لفظ کا یہ معنی لیتے ہیں تو یہ بھی یقینا کیا کر رہا ہے اپنے لفظ سے؟ اسی معنی کا ارادہ کر رہا ہے جو عام لوگ اس سے مراد لیتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ تو اس معنی کا مشہور ہونا عرف کے اندر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ متکلم نے بھی کیا کیا ہے اسی معنی کا ارادہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص قسم اٹھاتا ہے: "والله لا أشتري رأسا" واللہ میں سری نہیں خریدوں گا بھئی، اب یہ رأس کا لفظ یہ تو عام ہے مولانا، ہر جانور کی سری کو شامل ہے، لیکن عرف میں کس جانور کی سری کو بیچا اور پکایا اور کھایا جاتا ہے؟ بھیڑ، بکری وغیرہ کے سری بھئی، تو عرف نے بتلایا کہ یہاں کیا مراد ہے رأس سے؟ بکرے کی سری مراد ہے، ہر جانور کی سری مراد نہیں، لہذا اب اگر اس نے مولانا کبوتر کی سری خرید لی یا چڑیا کی، تو پھر حانث نہیں ہو گا بھئی، اگرچہ یہاں حقیقی معنی کے اعتبار سے یہ بھی رأس ہیں، حقیقی معنی کے اعتبار سے یہ بھی کیا ہیں؟ رأس ہیں، لیکن یہ یہاں پر حقیقی معنی کو کیا کر دیا گیا؟ ترک کر دیا گیا دلالت عرف کی وجہ سے۔
اور اسی طرح اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی: "والله لا آكل بيضا" واللہ میں انڈا نہیں کھاؤں گا، اب یہاں حقیقی معنی کے اعتبار سے ہر جانور کا، پرندے کا انڈا کیا ہے؟ وہ اس پر یہ لفظ صادق آ رہا ہے بيض کا لفظ بھئی، لیکن یہاں عرف کے اندر جب انڈے کا ذکر آ جائے تو اس سے کس چیز کا انڈا مراد ہوتا ہے؟ مرغی کا انڈا مراد ہوتا ہے، معلوم ہوا یہاں حقیقی معنی متروک ہیں بھئی، عرف نے دلالت کی اس بات پر، تو لہذا اب اگر وہ شخص مولانا کبوتر یا چڑیا کا انڈا کیا کرتا ہے؟ کھا لیتا ہے، تو اس صورت میں حانث نہیں ہو گا مولانا۔
اچھا، اور یہاں سے کہتے ہیں آپ کو ایک اور بات پتہ چل گئی کہ جب بھی حقیقت کو ترک کیا جائے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ ضروری طور پر اب کس کی طرف جایا جائے؟ مجاز کی طرف، بلکہ کبھی رجوع کس کی طرف ہوتا ہے؟ حقیقت قاصرہ کی طرف بھی رجوع ہوتا ہے، حقیقت قاصرہ کیسے ہے مولانا؟ کہ لفظ کی کیا؟ کہ لفظ کے ذریعے حقیقت کے بعض افراد مراد لینا، بھئی ابھی بھی ہم حقیقت سے خارج نہیں ہوئے، جب اس نے رأس کہا ہے تو رأس سے ہر سر مراد تھا، لیکن ہم نے صرف کون سا سر مراد لیا ہے؟ بکرے کا سر مراد لیا ہے، تو حقیقت سے ابھی بھی ہم خارج نہیں، لیکن کامل مطلق حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت قاصرہ ہے کہ بعض افراد کے ساتھ خاص کر لینا بھئی۔ اسی طرح بيض کا لفظ ہے، اب ہم مرغی کا انڈا مراد لے رہے ہیں تو یہ کوئی غیر حقیقی یا مجازی معنی نہیں ہے، یہ بھی کیا ہے اس کا؟ حقیقی معنی ہی ہے بيض انڈے، وہ بھی انڈا ہی ہے مولانا، لیکن کیا ہے؟ صرف وہ مراد لے رہے، حالانکہ بيض کا لفظ تو شامل تھا ہر انڈے کو، تو لفظ کو حقیقت کے بعض افراد کے ساتھ خاص کر دینا یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقت قاصرہ، یہ اسی طرح ہے جیسے مولانا عام کو کی تخصیص، عام کو بعض افراد کے ساتھ مقید کر دینا، یعنی اس کی تخصیص کر دینا، کیا کر دینا؟ تخصیص اس میں سے کر دینا بھئی، سمجھ میں آیا؟ بعض کو نکال دینا۔
دیکھیے آگے سبق مولانا:
"وكذلك لو نذر حجا أو مشيا إلى بيت الله أو أن يضرب بثوبه حطيم الكعبة يلزمه الحج بأفعال معلومة لوجود العرف"
اگر کسی شخص نے منت مانی کہ میں کیا کروں گا؟ میرا یہ کام ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ حج کروں گا۔ یا منت مانی کہ میرا یہ کام ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ جاؤں گا بیت اللہ کی طرف پیدل بھئی۔ یا کسی نے یہ قسم اٹھائی کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں کیا کروں گا؟ اپنا کپڑا ماروں گا کہاں پر؟ حطیم کعبہ پر بھئی، حطیم کعبہ جانتے ہو بھئی؟ جی، بیت اللہ کی اگر آپ تصویر دیکھیں بھئی، اللہ سب کو بیت اللہ کی بار بار زیارت نصیب فرمائے بھئی، حج اور عمرے کی بار بار اسباب نصیب فرمائے بھئی سب کو۔
تو بیت اللہ اگر آپ تصویر دیکھیں، آپ دیکھیں گے بیت اللہ جو ہے ایک چوکور کمرہ ہے لیکن اس کے ایک طرف ایک آدھی گول سی چھوٹی سی دیوار بھی ہو گی بھئی۔ چاک ہے بھئی، میں آپ کو بنا کر دکھاؤں گا۔
چلیے، تو دیکھو، یہ بیت اللہ دیکھو، یوں چوکور ہے بھئی۔ لیکن آپ دیکھیں اس کے ایک طرف یوں چھوٹی گول سی دیوار نظر آئے گی۔ یہ ہے حطیم مولانا، یہ کیا ہے؟ حطیم، لوگ یہاں باہر طواف کرتے ہیں بھئی بیت اللہ کے گرد، بالکل کمرے کے ساتھ تھوڑی سی جگہ بھئی۔ یہ حطیم کہلاتا ہے بھئی، کیا کہلاتا ہے؟ یہ دراصل کیوں اس طرح رہا؟ حضور نبی کریم، یہ اس زمانے میں بھئی بیت اللہ کی تعمیر کی گئی بھئی۔ مشرکین نے تعمیر کی بھئی، سمجھ میں آیا؟ فتح مکہ سے پہلے کی بات ہے بھئی۔ تو مشرکین، اس سے کافی پہلے کی بات ہے، مشرکین نے تعمیر کی بھئی بیت اللہ کی۔
سمجھ میں آیا؟ بیت اللہ کو کوئی نقصان پہنچا تھا کسی وجہ سے، تو پھر انہوں نے آپس میں پیسے وغیرہ اکٹھے کیے کہ دوبارہ اس کی تعمیر کی جائے بھئی، تعمیر کی جائے۔ تعمیر کی جائے۔
اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے بھئی۔
لیکن اتنا احترام کرتے تھے، اتنا احترام بھئی، عجیب اللہ کے اس گھر کی ہیبت تھی ان پر بھی بھئی۔ کہ اس کو بنانا ہے لیکن اس میں حرام ایک روپیہ نہیں لگانا، سارا کیا لگانا ہے؟ حلال کا مال، اب حلال کا مال اکٹھا کیا کیا، لیکن اتنا نہیں بنا کہ یہ ساری کی چار دیواری ہو جائے، یہ حطیم سمیت سارا کچھ ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو حرام نہیں بھئی، حلال صرف، تو پھر کہا کہ چلو یہی جو حصہ جتنے ہی پہ چھت بن سکتی ہے وہ بنا لیتے ہیں باقی کو چھوڑ دیتے ہیں بھئی، اور ہیں ہی نہیں پیسے، کیا کریں حلال؟
چنانچہ کہتے ہیں بھئی بیت اللہ کو انہوں نے پہلے سوچا گرائیں بھئی، اب بیت اللہ کی دیواریں شکستہ ہو چکی ہیں، کچھ گر گئی ہیں یا ٹیڑھی، کچھ گرنے والی ہیں، تو چنانچہ اب ڈر بھی رہے ہیں کہ گرائیں کیسے؟ ہمت ہی نہیں ہو رہی کہ بیت اللہ پہ کون اس کی دیوار کو گرانے کی، گرانے کی جرات کرے بھئی، اللہ کا عذاب نہ آ جائے کہیں اس پر، لیکن پھر ایک شخص نے ہمت کی مولانا اور پھر اس نے کئی دن تک ہمت نہیں ہو رہی تھی ان سے کہ کون، پھر ایک نے کہا بھئی ہمارا ارادہ تو نیکی کا ہے، کوئی برا، بری نیت ہماری نہیں، یقینا اللہ کوئی، کوئی عذاب نہیں آئے گا، چنانچہ اس نے پھر وہ چلائی بھئی، کیا، کس کیا، کس سے بھئی؟ وہ اوزار کیا ہوتے ہیں بھئی؟ کلہاڑی وغیرہ یا کیا جو بھی جس چیز سے، ہتھوڑے۔ ہتھوڑے سے کہاں گرا۔
تو مجھے بھی پتہ ہے، نام بتاؤ۔ تو کئ وغیرہ یا جو بھی چیز تھی بھئی، اس کے ذریعے وہ چلایا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کئ۔ تو پھر اس پر کوئی دیکھا لوگوں نے کہ بھئی اس پہ تو کوئی عذاب نہیں آیا، پھر باقی بھی سارے شریک ہوئے، دیواریں گرا دی گئیں اور پھر مولانا نیچے تک کھدائی، زمین کے اندر بھی کھدائی کی بھئی۔ زمین کے اندر کہ گہرائی سے بنائیں گے، مضبوط بھئی۔
تو کافی زمین کے اندر کھدائی کرنے کے بعد پھر سبز رنگ کے پتھر بنیادوں میں نظر آئے مولانا۔ اب ان پر کئ چلائی کہ ان کو بھی نکالیں، جب ان پہ کئ چلائی، ان کو کئ لگی تو پورا مکہ لرزنے لگا مولانا۔ سمجھ گئے کہ بس اس سے زیادہ اب آگے، اگر اس کو ہم نے چھیڑا تو پھر یقیناً تو اللہ کا عذاب نہ آ جائے، یہ معلوم ہوا ان بنیادوں کو اسی طرح رہنے دیں گے۔ پھر انہی کے اوپر انہوں نے کیا کی مولانا؟ تعمیر شروع کر دی اور یہ چوکور کمرہ بنایا بھئی، اور یہ ایک حصہ خالی رہ گیا بھئی۔
لیکن اس کا فائدہ ہو گیا مولانا۔ فائدہ یہ ہوا کہ یہ بیت اللہ کا حصہ ہے مولانا۔ آپ کا دل چاہتا ہے کہ میں بیت اللہ کے اندر جا کے نماز پڑھوں بھئی، اب تو صرف بادشاہوں کے لیے کھولتے ہیں، تو کوئی شخص اندر نہ پڑھ سکتا، لیکن اب یہ حصہ ہے مولانا، راستہ کھلا ہے ادھر سے، اور جس شخص کا دل چاہتا ہے اندر کیا کرتا ہے جا کر؟ نوافل وغیرہ پڑھ سکتا ہے وہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ جی، نوافل پڑھ سکتا ہے۔
تو یہ حطیم کہلاتا ہے، یہ حصہ کیا کہلاتا ہے؟ حطیم کہلاتا ہے بھئی، حطیم کہلاتا ہے۔
تو اس نے قسم اٹھائی کہ میں کیا کروں گا؟ ایک شخص نے، میں اس حطیم پر کپڑا ماروں گا۔ کیا کروں گا؟ کپڑا ماروں گا۔ اب ایک شخص دیکھو کیا قسم، کیا نذر، منت کیا مانی ہے اس نے؟ کہ میں حج کروں گا، بھئی حج کا معنی تو لغوی معنی ہے ارادہ کرنا۔ کیا کرنا؟ ارادہ کرنا۔ لیکن عرف کے اندر حج سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟ وہ خاص مخصوص عبادت مولانا، وہ مخصوص عبادت جو مخصوص جگہ پر ہوتی ہے، مخصوص زمانے کے اندر مولانا، مخصوص افعال کے ساتھ بھئی، سمجھ میں آیا؟ "فالحج هو زيارة مكان مخصوص في زمن مخصوص بفعل مخصوص"
تو یہ مراد لیا جاتا ہے، تو یہاں حقیقی معنیٰ کو کیا کیا جائے گا؟ ترک کیا جائے گا دلالتِ عرف کی وجہ سے۔ اسی طرح ایک شخص نے منت مانی کہ میں کیا کروں گا؟ پیدل جاؤں گا بیت اللہ، تو یہاں تو لغوی معنیٰ تو صرف کیا ہیں؟ پیدل جائے گا بس، لیکن عرف میں اس سے مراد حج لیا جاتا ہے، تو وہ کام ہوا تو اس پر حج کیا ہو جائے گا؟ صرف پیدل جانا نہیں بھئی، جانے سے بھی حالانکہ لغوی معنیٰ کیا ہے؟ حج کہا اس نے؟ نہیں، لیکن اس سے عرف میں کیا مراد لیا جاتا ہے؟ پیدل بیت اللہ کے لیے پیدل جانے سے مراد لوگ حج لیتے ہیں۔ یا ایک شخص نے قسم، منت مانی کہ میں کیا کروں گا اگر یہ کام ہو گیا تو حطیم پہ کپڑا ماروں گا۔ تو یہ تو صرف کپڑا مارنے اور اس کپڑے کو لغوی معنیٰ کیا ہے؟ کپڑا مارنا ہے، لیکن عرف میں اس سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟ حج مراد لیا جاتا ہے کہ وہاں جا کر حج کروں گا، مطلب یہ ہے بھئی۔ تو یہاں عرف کی وجہ سے اس حقیقی معنیٰ کو ترک کر دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، "وكذلك لو نذر حجا أو مشيا إلى بيت الله تعالى أو أن يضرب بثوبه حطيم الكعبة يلزمها الحج" تو اس پر کیا ہو جائے گا لازم؟ حج لازم ہو جائے گا "بأفعال معلومة" معلوم افعال کے ساتھ بھئی، سمجھ میں آیا؟ جو معلوم افعال ہیں اس کے مولانا، احرام باندھنا پڑے گا اور بیت اللہ کا طواف کرنا پڑے گا اور عرفہ جانا پڑے گا، یہ تین تو فرض ہیں اس میں بھئی، یہ ضروری ہیں۔ کیوں؟ حج کیوں لازم ہو گا؟ "لوجود العرف" بھئی، عرف کے پائے جانے کی وجہ سے۔
سمجھ میں آیا؟ یہاں تک بات ہو گئی، پہلی بحث ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے کتنی چیزوں کی وجہ سے؟ پانچ چیزوں، ایک کیا ہے؟ دلالتِ عرف۔ جی۔
"والثاني: تترك الحقيقة بدلالة في نفس الكلام" کبھی کبھار حقیقت کو ترک کر دیا جاتا ہے ایسی دلالت کے ساتھ "في نفس الكلام" جو نفسِ کلام میں ہوتی ہے، کلام کا مادہ ہی اس پر کیا کر رہا ہوتا ہے؟ دلالت کر رہا ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ دلالت کر رہا ہوتا ہے۔
دیکھیے بھئی! اس سے پہلے دو تین باتیں سمجھ لو بھئی، آسان آسان ہیں۔
بھئی ایک تو عام غلام ہے اور باندی، ایک ہے مکاتب۔ مکاتب جانتے ہو؟ وہ غلام جس کو آقا نے کہہ دیا کہ اتنے پیسے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مکاتب کہتے ہیں، مکاتب کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو یہ جو مکاتب ہوتا ہے پھر یہ آزاد شخص کی طرح ہوتا ہے، آقا اس میں تصرف نہیں کر سکتا، اس سے خدمت نہیں لے سکتا مولانا، سمجھ میں آیا؟ خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا، اور خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ یہ اب جائے گا کمائے گا اور پیسے لا کر دے گا، اپنی آزادی کے لیے کوشش کرے گا۔
اور ایک ہے مدبر، مدبر کسے کہتے ہیں بھئی؟ ہاں، جسے آقا نے کہہ دیا میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، تو یہ مدبر ہے، مدبر۔ یہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گا۔
اور ایک ام ولد ہے بھئی، ام ولد، وہ باندی، باندی جس سے آقا کا بچہ پیدا ہوا اور پھر آقا نے اقرار بھی کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جب آقا نے اقرار کر لیا تو یہ ام ولد بن گئی، بغیر اقرار کے نہیں۔ جب آقا نے اقرار کر لیا تو یہ کیا بن گئی؟ ام ولد بن گئی بس، اب مولانا یہ آقا کے مرتے ہی یہ بھی کیا ہو جائے گی؟ آزاد ہو جائے گی۔
سمجھ میں آیا؟ تو مکاتب وہ اگر بدلِ کتابت لا دے تو آزاد ہو جاتا ہے، جبکہ مدبر اور ام ولد کیا ہیں؟ مرنے کے بعد آزاد ہوتے ہیں۔
اب اس کے بعد یہ بات یاد رکھیں مولانا! مکاتب میں برقیت کامل ہے لیکن ملک کامل نہیں۔
جی، جلدی لکھ لو یہ ایک دو جملے بس۔
مکاتب میں برقیت کامل ہے، ملک کامل نہیں، جبکہ مدبر اور ام ولد میں، جبکہ مدبر اور ام ولد میں ملک کامل ہے اور برقیت کامل نہیں، اس کا عکس ہے پہلے کا۔
ملک کامل ہے اور برقیت کامل نہیں۔
لکھ لیا بھئی؟ بس اب سنو بھئی، باقی خود لکھتے رہنا۔ دیکھو، میں نے کیا کہا مولانا؟ مکاتب کے اندر کیا کامل ہے؟ برقیت کامل ہے لیکن ملک کامل نہیں، برقیت، غلامی، غلامی کامل ہے اس کے اندر مولانا۔ برقیت کیوں کامل ہے؟ دیکھو، اس کو آقا نے کیا کہا ہے کہ اگر کوئی اتنے پیسے لے آئے تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے۔ تو اس کے اندر برقیت کامل ہے، برقیت غلامی میں ابھی بھی کوئی نقصان نہیں آیا کیونکہ ہو سکتا ہے یہ عاجز آ جائے، آ کر کہہ دے مجھ سے یہ کام، اتنے پیسے میں نہیں، جب عاجزی کا اظہار کر دے گا لو بھئی مولانا کتابت ختم ہوئی، وہ پھر عام غلام بن گیا۔ سمجھ میں آیا؟ یا مولانا فسط کر دیتا ہے اس کو کیا کر دیتا ہے وہ جو آقا نے کیا کہا تھا؟ کہ اتنے پیسے لے کر آؤ وہ اس بات اس کو کیا کر دیتا ہے؟ اس کو فسط کر دیتا ہے وہ جو اس کے ساتھ بات ہوئی تھی بھئی، تو پھر بھی یہ کیا بن گیا مولانا؟ پھر وہی پہلے والا عام غلام جیسا بن گیا۔ تو بھئی برقیت میں برقیت میں کوئی نقصان آیا؟ برقیت میں کوئی نقصان نہیں آیا، جبکہ مدبر اور مکا، مدبر اور ام ولد ان میں برقیت ناقص ہو گئی اب، کہ انہوں نے ہر صورت میں آزاد ہونا ہے مرنے کے بعد، اب کوئی صورت نہیں اس کو منسوخ کرنے کی مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر صورت میں۔ تو مکاتب میں کیا ہے مولانا؟ برقیت کامل ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کیا ہو؟ عاجز آ جائے یا یہ عقد کیا ہو جائے؟ فسط ہو جائے، سمجھ میں آیا؟ اور ام ولد اور مدبر کے اندر برقیت کیا ہے؟ ناقص ہے، اب برقیت ناقص، انہوں نے ہر صورت میں کیا ہونا ہے؟ غلامی ناقص ہو گئی، اب ختم ہونے والی ہے عنقریب، ہر صورت میں انہوں نے آزاد ہونا ہے، کوئی صورت ہے بھئی کہ جس سے ایسا نہ ہو؟ نہیں بھئی۔ ہاں ملکیت جو ہے وہ مکاتب کے اندر ناقص ہے، اس لیے کہ اب آقا اس میں تصرف کا مالک نہیں، آقا اس میں تصرف کا مالک نہیں، اس سے خدمت نہیں لے سکتا، وہ جائے گا اب کیا کرے گا؟ مال کمائے گا اپنے لیے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اگر وہ باندی ہے مولانا، باندی ہے تو اب اس سے آقا وطی بھی نہیں کر سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ آزاد۔ اور اگر جبکہ، تو یہ کیا بات ہوئی؟ مکاتب کے اندر برقیت تو کیا ہے؟ کامل ہے، لیکن ملک کیا ہے؟ ناقص ہے، کیوں بھئی؟ کیونکہ آقا اس کے اندر اب تصرف نہیں کر سکتا، جبکہ مدبر اور ام ولد کے اندر برقیت تو ناقص تھی لیکن ملک کامل ہے، آقا ان میں کیا کر سکتا ہے؟ تصرف کر سکتا ہے، ان سے خدمت لے سکتا ہے اور اگر باندی ہے تو اس کے ساتھ وطی بھی کر سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
اب ایک ضابطہ یاد رکھو: "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل" "المطلق إذا يطلق" بڑا قیمتی ضابطہ ہے، ہمیشہ ہر وقت آپ کو یاد ہونا چاہیے۔ "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل"
مطلق کا جب اطلاق کیا جائے مولانا، جب اس کو بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فردِ کامل مراد ہوتا ہے۔ تو اس سے مطلق جب بولا جائے تو اس سے فردِ کامل مراد ہوتا ہے۔ بھئی مطلق کے بارے میں ایک اور ضابطہ بھی آپ نے یاد کیا تھا، وہ کیا؟ "المطلق يجري على إطلاقه" بھئی وہ ضابطہ بھی یاد رکھو اور یہ بھی "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل" مطلق جب بولا جائے تو اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فردِ کامل مراد ہوتا ہے۔ یہاں تک ساری باتیں سمجھ میں آ گئیں آپ کو بھئی؟
یعنی المطلق إذا يطلق يراد به، مطلق جب بولا جائے اس سے کیا مراد ہوتا ہے؟ فردِ کامل، یعنی جب مطلق کے ایسے معنی کے لیے وضع ہے کہ جس کے افراد میں وہ معنی کمی بیشی کے ساتھ پایا جاتا ہے، تو جب مطلق بولا جائے تو فردِ کامل مراد ہو گا۔ کیا مراد ہو گا؟ مثلاً سفید، اب سفید کے افراد جو بھی چیز سفید ہو گی اسے آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟ یہ سفید ہے، کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ لیکن بعض چیزوں میں سفیدی زیادہ ہے، بعض چیزوں میں سفیدی کم ہے، تو جب مطلق سفید بولا جائے تو کون سا فرد مراد ہو گا؟ جو کامل ہو، جس میں سفیدی کیا ہو؟ کامل درجے کی ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جس میں ناقص ہے وہ مراد نہیں، تو دیکھو سفید کے افراد مختلف تھے، بعض میں سفیدی کم تھی، یہ معنی کم تھا سفید ہونے کا، بعضوں میں یہ معنی زیادہ تھا، ایسے موقع پر جب مطلق بولا جائے تو کون سا فرد مراد لیا جاتا ہے؟ کامل فرد مراد لیا جاتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
اور ضابطہ یاد کیا آپ نے؟ مکاتب مولانا، ملکیت کس کے اندر کامل ہے؟ کس کے اندر ناقص ہے؟ مکاتب میں کیا ہے؟ ملکیت ناقص اور ام ولد اور مدبر کے اندر ملکیت کامل ہے، اب دیکھیے بھئی، ایک شخص کہتا ہے: "كل مملوك لي فهو حر" میرا ہر مملوک آزاد ہے، میرا ہر مملوک کیا ہے؟ آزاد ہے۔
کیا بات ہوئی؟ ایک شخص نے کہا میرا ہر مملوک آزاد ہے، اس نے مملوک کا لفظ بولا مولانا، اب دیکھو مملوک اس کا مدبر بھی ہے، مکاتب بھی ہے، ام ولد بھی ہے، اور عام غلام بھی ہے، چار قسم کے غلام ہیں مولانا اور اس نے کیا کہا؟ میرا ہر مملوک آزاد ہے، آزاد ہے۔ اب یہاں مملوک کا لفظ بولا، مطلق بولا اور "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل" تو اس سے فردِ کامل مراد ہو گئے، یعنی جس میں ملکیت کامل درجے کی پائی جائے اور ملکیت کامل درجے کی کس کے اندر پائی جا رہی ہے بھئی؟ مدبر میں اور ام ولد میں اور عام غلام میں، لہٰذا وہ تو آزاد ہو جائیں گے لیکن مکاتب آزاد نہیں، کیونکہ اس میں ملکیت کامل درجے کی نہیں ہے اور ضابطہ ہے "المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل" اور وہ اس کا فردِ کامل نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
تو دیکھو ملکیت کا معنی ہر ایک میں پایا جا رہا ہے لیکن بعض میں ناقص ہے اور بعض میں کامل ہے اور لہٰذا کون سا مراد لیا جائے گا؟ کامل مراد لیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بھئی، دیکھیے اب۔
”والثاني: قد تترك الحقيقة بدلالة في نفس الكلام“ کبھی کبھار ترک کر دیا جاتا ہے حقیقت کو ایسی دلالت کے ساتھ جو کس کے اندر ہوتی ہے؟ نفس کلام ہی میں ہوتی ہے، تو دیکھو مملوک تو ہر مملوک کو شامل تھا لیکن کلام ہی کے اندر دلالت ہے کہ اس سے ہر مملوک مراد نہیں کیونکہ لفظ کو کیسا بولا گیا ہے؟ مطلق اور ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“ لہٰذا وہ جس میں کامل درجے کی ملک پائی گئی وہ تو آزاد ہوں گے، باقی آزاد نہیں ہوں گے۔
”إذا قال“ ایک شخص نے کہا: ”كل مملوك لي فهو حر“ کہ ہر وہ مملوک جو میرا ہے پس وہ آزاد ہے، ”لم يعتق“ ہونا چاہیے بھئی، ”لم يعتق“ آپ کی کتاب میں ہے؟ غلط ہے، کہاں سے آزاد بھئی، آزاد نہیں کیا جائے گا ”مكاتبوه“ اس کے مکاتبوں کو کیونکہ ان کے اندر ملکیت کیا ہے؟ ناقص ہے۔ بھئی آزاد کیا نہیں جائے گا، آزاد کہتے ہی خود بخود آزاد ہو جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، یہ نہیں ایک دفعہ جب کہہ دیا اس کے بعد پھر کیا آزاد کرنے کا مقصد؟ کیا مطلب؟ یہ جملہ کہتے ہی خود بخود سارے کیا ہو جائیں گے؟ آزاد، لیکن مکاتب آزاد نہیں ہوں گے، آزاد کیے نہیں جائیں گے نہیں، ”لم يعتق مكاتبوه“ تو آزاد نہیں ہوں گے اس کے مکاتب بھئی۔
یہ غلط ہے وہاں پر کتابت۔
”ولا من أعتق بعضه“ اسی طرح وہ جس کا ”ولا من أعتق بعضه“ جس کے بعض کو آزاد کیا گیا ہے وہ بھی نہیں، بھئی ایک شخص تھا، اس نے نصف غلام آزاد کیا، تو یاد رکھو جو نصف غلام آزاد کیا جائے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وہ بھی مکاتب کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ مکاتب کی طرح، یعنی اب وہ بقیہ نصف کے لیے کمائے گا اور لا کر دے گا اور کیا ہو جائے گا پورا؟ آزاد ہو جائے گا، تو مکاتب بھی آزاد نہیں ہوں گے، ”ولا من أعتق بعضه“ اور وہ غلام بھی آزاد نہیں ہوں گے جس کے بعض کو آزاد کیا جا چکا ہے، ”إلا إذا نوى دخولهم“ مگر اس وقت جبکہ ان کے داخل کرنے کی نیت کر لے، بھئی نیت کر لے پھر تو ٹھیک ہے، مملوک تو ہے وہ بہرحال داخل تو ہو سکتا ہے، نیت تو ٹھیک ہے۔
”لأن لفظ المملوك مطلق“ اس لیے کہ مملوک کا لفظ مطلق آیا ہے، ”يتناول المملوك من كل وجه“ اور وہ شامل ہے، مملوک کو ”من كل وجه“ جو ہر اعتبار سے کیا ہو؟ مملوک ہو، یعنی کامل مملوک کو شامل ہے جو ہر اعتبار سے کیا ہو؟ مملوک ہو، یعنی کامل مملوک ہو، ”والمكاتب ليس بمملوك من كل وجه“ اور مکاتب تو ہر لحاظ سے مملوک نہیں، سمجھ میں آیا؟ ہر لحاظ سے ہے؟ تصرف کے اعتبار سے وہ مملوک ہے؟ تصرف کیا جا سکتا ہے اس میں؟ نہیں بھئی، تو ”من كل وجه“ مملوک نہیں، ”ولهذا لم يجز تصرفه فيه“ اسی لیے جائز نہیں ہے اقا کے لیے اس مکاتب کے اندر تصرف کرنا، معلوم ہوا یہ مملوک ”من كل وجه“ نہیں، ”ولا يحل له وطء المكاتبة“ اسی طرح اقا کے لیے جائز نہیں ہے مکاتبہ کے ساتھ وطی کرنا بھی، تو دیکھو وطی بھی تصرف ہے، یہ تصرف اس کے لیے جائز نہیں، معلوم ہوا وہ ”من كل وجه“ مملوک نہیں۔
”ولو تزوج المكاتب بنت مولاه“ اگر مکاتب نے نکاح کر لیا مولانا اپنے اقا کی بیٹی سے، ”ثم مات المولى“ پھر اس کا اقا مر گیا، ”وورثته البنت“ اور اس کی وارث ہو گئی کون بھئی؟ بیٹی وارث ہو گئی، بھئی وہ اسی سے اس نے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے بیٹی سے اور غلام تو ہے اقا کا، اس نے مکاتب بنایا ہوا ہے، اس نے بیٹی سے اس کے نکاح کر لیا، اب اقا کے مرنے کے بعد بیٹی کیا ہو گئی اس کی وارث ہو گئی اور ضابطہ ہے کہ جب میاں یا بیوی میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کا مملوک ہو جائے تو فوراً نکاح کیا ہو جایا کرتا ہے؟ فاسد ہو جاتا ہے، نکاح کیا ہے؟ فسخ ہو جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ نکاح ٹوٹ جایا کرتا ہے، تو لہٰذا اگر یہ مملوک ہوتا ہر لحاظ سے تو یہ نکاح بھی کیا ہونا چاہیے؟ بیٹی وارثہ بن گئی، تو کیا ہونا چاہیے تھا نکاح؟ فاسد، لیکن علماء کیا لکھتے ہیں؟ نکاح فاسد نہیں ہو گا، معلوم ہوا وہ ہر لحاظ سے مملوک، اگر ہر لحاظ سے مملوک ہوتا پھر تو نکاح فاسد ہونا چاہیے۔
”وورثته البنت لم يفسد النكاح“ نکاح فاسد نہیں ہو گا، اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا ایک اشکال، سمجھ میں آیا؟ اشکال یہ کہ بھئی حدیث میں آتا ہے اور ہمارا مذہب ہے یہ کہ مکاتب میں میراث جاری نہیں ہوتی، وہ اس میں میراث جاری نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا؟ تو بیٹی کیسے اس کی وارثہ ہو گئی؟ جب سمجھ میں آیا بھئی؟ بیٹی کیسے اس کی وارثہ ہو گئی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ مکاتب کے اندر میراث جاری نہیں ہوتی، جب میراث ہی اس میں جاری نہیں ہوتی تو بیٹی کیسے وارث بن گئی اس کی؟ جواب یہ مولانا، معنی یہ ہے بیٹی بدل کتابت کی وارث ہو گئی، اس نے بدل کتابت لانا ہے یا نہیں لانا بھئی؟ جو پیسے طے ہوئے تھے وہ لائے گا یا نہیں لائے گا؟ ان پیسوں کی وارث کون بن گئی؟ بیٹی بن گئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اب وہ بیٹی کو لا کر دینے پڑیں گے۔
”وإذا لم يكن مملوكا من كل وجه لا يدخل تحت لفظ المملوك المطلق“ اور جب مکاتب مملوک نہیں ہے ”من كل وجه“ ہر لحاظ سے، ”لا يدخل تحت لفظ المملوك المطلق“ تو مملوک لفظ جو مطلق ہے اس کے تحت یہ داخل بھی نہیں، لہٰذا آزاد بھی نہیں، ”وهذا بخلاف المدبر وأم الولد“ اور یہ بخلاف مدبر اور ام ولد کے، ”فإن الملك فيهما كامل“ اس کے لیے کہ ان کے اندر ملکیت کیا ہے؟ کامل ہے، ”ولهذا حل وطء المدبرة وأم الولد“ اور اسی وجہ سے مدبرہ اور ام ولد کے ساتھ وطی کرنا بھی معلوم ہوا بھئی ان میں ملکیت کامل ہے اقا ان میں تصرف کر سکتا ہے اسی لیے تو وطی کرنا بھی جائز ہے، ”وإنما النقصان في الرق“ اور جو نقصان آیا ہے وہ کس کے اندر آیا ہے؟ کمی کس چیز میں آئی ہے؟ برقیت میں آئی ہے، ”من حيث إنه يزول بالموت لا محالة“ اس حیثیت سے کہ یہ برقیت زائل ہو جائے گی اقا کی موت کے ساتھ ”لا محالة“ قطعی طور پر، قطعاً۔
”وعلى هذا قلنا“ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں، بھئی دیکھو کفارہ یمین اور کفارہ ظہار قرآن میں آیا ہے، کیا آیا ہے؟ ”فتحرير رقبة“، کیا آیا ہے؟ ”فتحرير رقبة“، کیا کرنا ہے؟ گردن کا آزاد کرنا ہے، آزاد۔ تو یہاں تحریر کا لفظ مطلق آیا اور ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، اچھا تو ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“ تو اس سے مراد فرد کامل ہوتا ہے، تو معلوم ہوا تحریر بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے، بھئی قرآن میں کیا آیا ہے ظہار اور یمین کا کفارہ؟ تحریر رقبة، اور تحریر کیا آیا ہے؟ مطلق، معلوم ہوا تحریر کس قسم کی ہونی چاہیے؟ کامل، اور کامل تحریر وہاں پائی جائے گی جب غلام بھی کیا ہو؟ کامل ہو اور کامل غلام کون سا ہے؟ رقیت کی بات آ گئی مولانا، غلامی رقیت کس کے اندر کامل ہے؟ مکاتب کے اندر رقیت کامل اور ام ولد میں تو اور مدبر میں تو ہر حال میں کیا ہیں؟ آزاد، تو ان میں رقیت کیا آئی؟ ناقص، اور قرآن میں آیا تحریر کا لفظ مطلق اور ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“ تو لہٰذا تحریر کون سی ہوئی؟ کامل، اور کامل تحریر وہاں ہو گی جہاں غلام بھی کس قسم کا آزاد کیا جائے؟ جو کامل غلام ہو اور کامل غلام کون کون سے ہیں؟ مکاتب ہے یا عام غلام ہے، لہٰذا اگر ام ولد یا مدبر کو آزاد کرے تو یہ جائز نہیں، کفارہ ادا نہیں ہوا کیونکہ ان میں رقیت ہی کامل نہیں، انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔
دیکھو، ”وعلى هذا قلنا إذا أعتق المكاتب عن كفارة يمينه أو ظهاره جاز“ اسی بناء پر ہم کہتے ہیں اگر آزاد کر دیا مکاتب کو کفارہ یمین کے اندر یا اپنے کفارہ ظہار کے اندر، جاز، ”ولا يجوز فيهما إعتاق المدبر وأم الولد“ اور اس کے اندر مولانا مدبر کو آزاد کرنا اور ام ولد کو آزاد کرنا جائز نہیں، ”لأن الواجب هو التحرير“ اس لیے کہ واجب کیا ہے مولانا؟ وہ تحریر ہے، آزاد کرنا، ”وهو إثبات الحرية بإزالة الرق“ اور وہ آزادی کو، حریت کہتے کسے ہیں؟ کہتے ہیں وہ آزادی کو ثابت کرنا ہے رقیت کے ازالے، ختم کرتے ہوئے، ”فإذا كان الرق في المكاتب کاملا كانت تحريره تحريرا من جميع الوجوه“ جب رقیت غلام کے، مکاتب کے اندر کامل تھی تو اس کے اندر تحریر بھی ہر اعتبار سے پائی گئی یعنی تحریر کامل پائی گئی، کیا پائی گئی؟ کامل، ”وفي المدبر وأم الولد لما كان الرق ناقصا لا يكون التحرير تحريرا من كل الوجوه“ اور مدبر اور ام ولد کے اندر جب رقیت ناقص تھی تو ”لا يكون التحرير تحريرا من كل الوجوه“ تو تحریر جو پائی گئی وہ تحریر ”من كل الوجوه“ نہیں تھی، کامل تحریر نہیں تھی۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو؟ اچھی طرح؟
جی، اس پر ایک اشکال ہوتا ہے مولانا، اشکال یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو آپ نے ہمیں اور ضابطہ لکھوایا تھا بتلایا تھا اور اب اور ضابطہ بتلا رہے ہیں، پہلے تو ضابطہ تھا: ”المطلق يجري على إطلاقه“ مطلق کیا ہو گا؟ وصف اطلاق پر جاری ہو گا، یعنی کوئی بھی فرد مراد دیا جا سکتا ہے مطلق پر کا، سمجھ میں آیا؟ اور اب کیا کہہ رہے ہیں؟ ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“ کہ اب اس سے کون سا مراد لیا جائے گا؟ فرد کامل، یہ تو دونوں ایک دوسرے کے منافات آ گئے، بالمقابل ہو گئے بھئی۔
اطلاق، مطلق ایک قانون کیا ہے؟ ”المطلق يجري على إطلاقه“ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے، کوئی بھی مملوک ہو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ آزاد ہونا چاہیے۔ کوئی بھی غلام تحریر رقبة، کوئی بھی غلام آزاد کرے اسے کیا ہونا چاہیے؟ اس قانون کا تو یہ تقاضا ہے اور آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ دوسرا ضابطہ: ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، تو یہ تو سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جواب یہ مولانا، یاد رکھنا ہمیشہ، یہ ضابطہ جو ہے نا ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“ یہ اس وقت لگایا جاتا ہے جب مطلق کے افراد آپس میں مساوی نہ ہوں، آپس میں مساوی نہ ہوں بھئی، اگر افراد آپس میں مساوی ہیں پھر تو وہی ضابطہ جاری ہو گا: ”المطلق يجري على إطلاقه“ کوئی بھی فرد لے لیں وہاں پر، صحیح، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا، یہ کب ہے؟ جبکہ افراد آپس میں کیا ہوں؟ مساوی ہوں، لیکن اگر افراد آپس میں مساوی نہیں ہیں، وہ معنی ان میں کمی بیشی کے ساتھ پایا جا رہا ہے پھر تو معلوم ہوا اس صورت میں ”المطلق يجري على إطلاقه“ والا قائدہ نہیں لگے گا بلکہ کیا لگے گا؟ ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، جیسے دیکھیے ابھی اس نے کیا کہا؟ ”كل مملوك لي فهو حر“، میرا ہر مملوک کیا ہے؟ اور مملوکیت کے اندر مولانا تمام افراد برابر ہیں؟ غلام کئی قسم کے ہیں: عام غلام ہے، مدبر ہے، ام ولد ہے، مکاتب ہے، تو ان ساروں میں مملوکیت کیا برابر ہے؟ معلوم ہوا تمام افراد مملوکیت میں مساوی نہیں، جب مساوی نہیں تو کون سا قانون لگے گا؟ ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، جب کمی بیشی ہے تو کامل مراد دینا پڑے گا اور کامل جس میں مملوکیت ہے وہ آزاد ہو جائیں گے۔
اور جب تمام افراد برابر ہوں پھر کون سا ضابطہ لگتا ہے؟ ”المطلق يجري على إطلاقه“، معلوم ہوا اب وہ مملوک جو ہے یہ عام غلام ہے مثلاً، تو چاہے کافر ہے، چاہے مومن ہے، چاہے مرد ہے، چاہے عورت ہے، سارے برابر مملوکیت میں، کافر ہو تو اس میں بھی مملوکیت عام غلام، کامل، مسلمان ہے تو اس میں بھی مملوکیت عام غلام، برابر ہے مملوکیت، باندی ہے اس کے اندر بھی مملوکیت برابر، غلام ہے مرد ہے اس کے اندر بھی مملوکیت، تو ان ساروں میں برابر، تو اب ان کے سلسلے میں ”المطلق يجري على إطلاقه“، یہ سارے مولانا آزاد ہو جائیں گے، چاہے کافر ہو چاہے مومن ہو، چاہے مرد ہو چاہے عورت ہو، اطلاق اسی طرح پر اطلاق پر رہے گا۔
اسی طرح کون سے آزاد ہونے تھے؟ مدبر؟ جی، اور ام ولد؟ جی، تو مدبر وہ چاہے کیا ہو؟ مومن ہو، چاہے کافر ہو، چاہے کیا ہو؟ مرد ہو، چاہے عورت ہو، ان ساروں کے اندر مملوکیت کیا ہے؟ کامل ہے، برابر ہے، سب کے اندر مملوکیت برابر ہے، اور جب برابر ہو تو کون سا قائدہ لگا کرتا ہے؟ ”المطلق يجري على إطلاقه“، یہ سارے مولانا آزاد ہو جائیں گے، سمجھ میں آیا؟ اور جی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو وہ قائدہ اس وقت لگتا ہے جب تمام افراد مساوی ہوں، آپ تمام افراد مساوی لے آئیں، مطلق کو اپنے اطلاق پر جاری کر دیں، اور اگر مولانا کمی بیشی ہے ان افراد کے اندر معنی کے اندر، پھر کیا کیا جائے گا؟ پھر وہ دوسرا قانون لگے گا: ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“۔
چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔