Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-036

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 130
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی مولانا! استعمال وضع کے اعتبار سے اور اپ کو میں نے بتلایا تھا بھئی کہ لفظ اور معنی میں پانچ قسم کے تعلقات ہیں بھئی۔ وضع کا ہے، استعمال کا ہے، ظهور کا ہے، خفاء کا ہے اور دلالت کا ہے۔ وضع اور استعمال کے اعتبار سے لفظ کی قسمیں ہم پڑھ چکے ہیں، وضع کے اعتبار سے چار قسمیں اپ نے پڑھیں: خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ استعمال کے اعتبار سے اپ نے چار قسمیں پڑھیں بھئی: حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ۔ آج مولانا! تیسری اور چوتھی قسم کے اعتبار سے یعنی ظهور اور خفاء کے اعتبار سے جو قسمیں ہیں وہ پڑھیں گے۔ ظہور کے اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں: ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ اور خفاء کے اعتبار سے بھی مولانا! چار قسمیں ہیں۔ ظہور کے اعتبار سے چار قسمیں کہ معنی لفظ سے کتنا ظاہر ہے؟ کون سی چار قسمیں ہیں بھئی متن کے اندر ارہی ہیں؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ اور خفاء کے اعتبار سے بھی چار قسمیں ہیں: مشکل، مجمل، متشابہ اور ا... جی؟ جی خفی۔ خفاء کے اعتبار سے چار قسمیں ہیں: خفی، مشکل، مجمل اور ا... متشابہ، متشابہ۔ چار قسمیں ہیں۔ تو یہ قسمیں مولانا! چار ہوئیں ظہور کے اعتبار سے اور چار قسمیں ہوئیں کس اعتبار سے؟ خفاء کے اعتبار سے۔ اور ان کو ایک ہی فصل میں اکٹھا ذکر کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں، کیونکہ ظہور کی جو چار قسمیں ہیں وہ مقابل ہیں کس کے؟ خفاء کے چار قسموں کے۔ ظہور اور خفاء بھئی، کہ لفظ سے معنی کتنا ظاہر ہے اور خفاء کہ معنی کتنا خفی ہے خفی ہے۔ تو یہ چار قسمیں ظہور کی مقابل ہیں چار قسموں کے خفاء کی۔ ظاہر، ظہور کی چار قسمیں کون سی ہیں؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ اور خفاء کی چار قسمیں کون سی ہیں؟ خفی، مشکل، مجمل اور متشابہ۔ تو ظاہر مقابل میں ہے کس کے؟ کس کا مقابل ہے؟ خفی کا۔ نص مقابل ہے مشکل کے، اور مفسر مقابل ہے مجمل کا، اور محکم مقابل ہے کس کا؟ متشابہ کا۔ تو اس لیے انہیں متقابلات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ متقابلات کہتے ہیں، کہ مقابل ہیں مولانا متضاد ہیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فصل فی المتقابلات، یہ فصل ہے متقابلات کے بارے میں۔ نعنی بها، ہماری مراد ان سے ساتھ کیا ہے؟ الظاهرة، ظاہر ہے، والنص والمفسر والمحكم، یہ چار مراد ہیں۔ مع ما يقابلها، متقابلات بتلا رہے ہیں متقابلات سے کیا مراد ہیں بھئی؟ چار قسمیں ظہور کے اعتبار سے ظاہر، نص، مفسر اور محکم ہیں مع ما يقابلها، ساتھ ان کے جو ان کے مقابل ہیں یعنی کہ وہ کون سی ہیں؟ یعنی کہ خفی ہے، مشکل ہے، مجمل ہے اور ا... متشابہ ہے بھئی، متشابہ ہے۔ اب یہ کس کو کہتے ہیں؟ ظاہر کسے کہتے ہیں؟ نص وغیرہ کسے کہتے ہیں؟ آسان بات ہے۔ خود بتلا رہے ہیں، دیکھیے فالظاهر اسم لكل كلام، ظاہر نام ہے ہر اس کلام کا، ظهر المراد به، جس کی مراد کیا ہو؟ ظاہر ہو، للسامع، سامع کے لیے، سننے والے کے لیے، بنفس الاستماع، صرف سننے کے ساتھ ہی کیا ہو؟ ظاہر ہو اس کی مراد، من غير تأمل، بغیر غور و فکر کے۔ بھئی وہ کلام جس کا معنی مراد ظاہر ہو بھئی، کیا ہو معنی مراد؟ بغیر غور و فکر کے وہاں ضرورت نہ پڑے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ ظاہر کہلاتا ہے، ظاہر کہلاتا ہے۔ والنص، اچھا ایک بات یاد رکھیے بھئی! بھئی یہ جو چار قسمیں ظہور کی بیان ہوئیں کون کون سی ہیں؟ ظاہر، نص، مفسر اور محکم۔ یاد رکھو! ان میں سب سے ادنیٰ ہے ظاہر، ترتیب سے ہیں، اس سے اعلیٰ ہے نص، اس سے اعلیٰ ہے مفسر، اور اس سے اعلیٰ ہے محکم۔ اسی طرح خفاء کے اندر سب سے ادنیٰ ہے خفی، اس سے اعلیٰ ہے مشکل، اس سے اعلیٰ ہے مجمل، اور اس سے اعلیٰ کیا ہے؟ متشابہ، متشابہ۔ تو ظہور میں سب سے ادنیٰ کون؟ ظاہر، اور سب سے اعلیٰ کون؟ محکم۔ اور خفاء کے اندر سب سے ادنیٰ کون؟ خفی، اور سب سے اعلیٰ کون؟ متشابہ۔ اور یاد رکھو! ہر اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ موجود ہے۔ ہر اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ موجود ہے۔ ظاہر سے اعلیٰ کون؟ نص، تو نص کے ضمن میں ظاہر بھی ہو گا۔ نص کے ضمن میں کیا ہو گا؟ اور نص سے اعلیٰ کیا ہے؟ مفسر، تو مفسر کے ضمن میں کیا ائے گا؟ نص ائے گی۔ اس کے اندر ا جائے گی۔ اور محکم سب سے اعلیٰ ہے، تو ہر محکم کے اندر کیا ا جائے گا؟ مفسر ا جائے گا، کیا ا جائے گا؟ تو ہر اعلیٰ، ہر ادنیٰ اعلیٰ کے پیٹ میں موجود ہے، اس کے ضمن میں موجود ہے، اس کے اندر موجود ہے، بات سمجھ میں آئی؟ کیا بات ہوئی؟ کہ ہر... ہر اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ موجود ہے۔ اب سب سے پہلے ظاہر کی تعریف کی، ظاہر کون سا کلام کو کہتے ہیں جس کی مراد کیا ہو سامع پر ظاہر ہو، اس کو کسی غور و فکر کرنے کی ضرورت نہ پڑے، اس کو ظاہر کہتے ہیں۔ والنص ما سيق الكلام لأجله، اور نص وہ ہے جس کے لیے کلام کو چلایا جائے۔ نص وہ ہے، سيق الكلام، کہ چلایا جائے کلام کو، لأجله، اس کی وجہ سے، اس کی... جس کی وجہ سے۔ بھئی کلام کے مقصود کو نص کہتے ہیں، کلام کے مقصود کو کیا کہتے ہیں؟ جس مقصد کے لیے کلام کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ وہ نص کہلاتی ہے، یعنی وہ کلام کا مقصد، کلام کی غرض وہ کیا کہلاتی ہے؟ ظاہر کس کو کہتے ہیں؟ وہ کلام جس کی مراد کیا ہو؟ ظاہر ہو بغیر غور و فکر کے ہی سامع کو اس کی وہ بات سمجھ میں ا جائے، غور و فکر کی ضرورت نہیں۔ اور نص کس کو کہتے ہیں؟ کلام کی غرض، جس مقصد کے لیے کلام کو چلایا جائے۔ دیکھیے مثالوں سے بات سمجھ میں ائے گی: مثالہ فی قوله تعالى، اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے: وأحل الله البيع وحرم الربا. دیکھیے! نچلی سطر کے آخر میں ا رہا ہے، کفار کہا کرتے تھے: إنما البيع مثل الربا. کفار کیا کہا کرتے تھے؟ البيع تو الربا جیسی ہی ہے، البيع تو... بھئی کفار سودی کام کیا کرتے تھے، سودی کاروبار وغیرہ معاملات کرتے تھے، اور کیا کہا کرتے تھے بھئی؟ البيع تو... اور اس کو جائز سمجھتے تھے، کیا سمجھتے تھے؟ جائز سمجھتے تھے۔ بھئی یہ تشبیہ مقلوب ہے، یاد رکھنا! تشبیہ مقلوب، تشبیہ مقلوب بھئی یہ اپ آگے جا کر پڑھیں گے۔ جس میں مشبہ... بھئی تشبیہ کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز کو مشابہ بتلانا دوسری کے، میں کہتا ہوں: زيد كالأسد، زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، زید شیر کی طرح ہے، تو زید کون ہوا؟ مشبہ، اور تشبیہ ہم نے کس کے ساتھ دی؟ شیر کے ساتھ، وہ کون ہے؟ مشبہ بہ، وہ کیا ہے؟ مشبہ بہ۔ یہ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ بتلانا، تشبیہ دینا، جس کو تشبیہ دی وہ ہے مشبہ، جس کے ساتھ تشبیہ دی وہ مشبہ بہ۔ اور یاد رکھو! میں نے کہا: زید شیر جیسا ہے، کس چیز میں شیر جیسا ہے؟ بہادری جیسا... بہادری میں بھئی، کس میں؟ بہادری میں، تو یہ بہادری وجہ تشبیہ ہے، یہ بہادری کیا ہے؟ وجہ تشبیہ ہے۔ اور یاد رکھو! مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے مشبہ سے وجہ تشبیہ کے اندر۔ بھئی بہادری میں زید اعلیٰ ہے یا شیر اعلیٰ ہے؟ شیر اعلیٰ ہے، اس کی بہادری کی زیادہ شہرت ہے، تو اسی لیے اپ اب زید کی بھی بہادری بتلانے کے لیے اس کو کس کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں؟ شیر کے ساتھ، جو کہ بہادری میں مشہور ہے، جو کہ بہادری میں مشہور ہے، سمجھ میں ایا بھئی؟ تو اب زید ہوا مشبہ اور شیر کیا ہوا مشبہ بہ، اور وجہ تشبیہ کیا ہوئی؟ بہادری اور شجاعت، بہادری شجاعت ہوئی بھئی شجاعت ہوئی۔ کبھی کبھی... تو مشبہ بہ اعلیٰ ہوتا ہے وجہ تشبیہ میں۔ کبھی کبھی اس کا عکس کر دیتے ہیں، مشبہ کو مشبہ بہ بنا دیتے ہیں اور مشبہ بہ کو کیا بنا دیتے ہیں؟ مشبہ، میں کہتا ہوں: الأسد كزيد، شیر کس کی طرح ہے؟ زید کی طرح ہے، کس چیز میں؟ بہادری میں۔ کس چیز میں؟ تو میں نے دیکھو بھئی تشبیہ کے اندر اصل کون ہوتا ہے؟ مشبہ ہوتا ہے یا مشبہ بہ؟ مشبہ بہ اصل ہے، یعنی وہ وجہ تشبیہ کے اندر اعلیٰ ہے، تو یہاں پر میں نے کیا کیا؟ شیر کو مشبہ بنا دیا اور زید کو کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ، کیوں بنایا؟ کیونکہ مشبہ بہ وجہ تشبیہ کے اندر کیا ہوتا ہے؟ اعلیٰ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اعلیٰ ہوتا ہے، تو گویا میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ شیر زید جیسا ہے یعنی زید بہادری کے اندر شیر سے بھی زیادہ کامل ہے، کیا ہے؟ شیر سے بھی... اتنا بہادر ہے، اتنا بہادر ہے کہ بہادری میں وہ اصل ہے اور شیر اس کے مشابہ ہے، شیر اس کے... وجہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کبھی کبھی تشبیہ کو الٹا دیا جاتا ہے، قلب کیا جاتا ہے، مشبہ کو مشبہ بہ بنا دیا جاتا ہے اور مشبہ بہ کو مشبہ، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، کس لیے؟ اس کو تشبیہ مقلوب کہتے ہیں، اور یہ کیوں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ وجہ تشبیہ کے اندر بھئی، وجہ تشبیہ میں کون اعلیٰ ہوتا ہے؟ مشبہ بہ، تو اپ نے جب مشبہ کو مشبہ بہ بتلا دیا، بنا دیا، تو گویا اپ کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ جو مشبہ ہے وجہ تشبیہ کے اندر اس سے اعلیٰ ہے، اس سے... تو دیکھو زید تھا تو مشبہ لیکن میں نے کیا بنا دیا؟ مشبہ بہ، کیا بتلانے کے لیے؟ میرا دعویٰ یہ ہے کہ اس بہادری کے اندر اصل اور زیادہ کون ہے؟ زید۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو یہاں پر بھی دیکھو تشبیہ مقلوب ہے، کفار نے کہا کہ البيع تو الربا جیسی ہی ہے، البيع تو... تو دیکھو اصل یوں ہے کہ بھئی الربا کے اندر بات چل رہی ہے کہ مسلمان کہتے ہیں: الربا حرام، کفار کہتے ہیں: نہیں، الربا کیا ہے؟ حلال، وہ کہتے تھے: الربا... یہ تو البيع جیسی ہی ہے، البيع میں بھی کیا ہوتا ہے ایک آدمی دوسرے سے نفع کماتا ہے، الربا کے اندر بھی کیا کرتا ہے؟ دوسرے سے نفع اٹھاتا ہے، نفع کماتا ہے۔ تو لہٰذا الربا کس کی طرح ہوئی؟ البيع کی طرح، الربا کس کی طرح ہوئی؟ تو کلام یوں ہونا چاہیے تھا: إنما الربا مثل البيع، الربا تو کس کی طرح ہے؟ الربا کس کی طرح ہے؟ اور البيع تو جائز ہے، معلوم ہوا الربا بھی کیا ہے؟ جائز ہے، جواز کے اندر، بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو مشبہ تھا الربا، اور مشبہ بہ کیا؟ البيع، لیکن انہوں نے اس کا عکس کر دیا اور تشبیہ کو الٹ دیا، مشبہ کو مشبہ بہ بنا دیا اور مشبہ بہ کو مشبہ، کہ البيع الربا جیسی ہے، گویا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ الربا جواز میں اصل ہے، الربا کیا ہے؟ جواز میں اصل ہے اور البيع بھی اس کی طرح جائز ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وجہ تشبیہ کے اندر انہوں نے کیا کر دیا؟ مشبہ کو اعلیٰ بتلانے کے لیے کیا بنا دیا اس کو؟ مشبہ بہ بنا دیا، بات سب کو سمجھ میں ا گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو یہ تشبیہ مقلوب ہے، تو کہنا وہ یہ چاہتے تھے کہ الربا البيع جیسی ہے، الربا کس کی طرح ہے؟ البيع کی طرح، جیسے البيع جائز ہے، تو اسی طرح الربا بھی جائز ہے، الربا بھی جائز ہے۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی! البيع الربا کی طرح نہیں ہے، دونوں میں فرق اللہ کرتے ہیں، تفریق کرتے ہیں دونوں میں، اللہ فرماتے ہیں: وأحل الله، وأحل الله البيع وحرم الربا، اللہ نے البيع کو حلال قرار دیا ہے اور الربا کو حرام قرار دیا ہے، تو یہ آیت چلائی گئی کس مقصد کے لیے؟ کفار کہتے تھے کہ الربا کس کی طرح ہے؟ البيع کی طرح ہے، اس کے اس قول کے جواب میں یہ اللہ فرماتے ہیں کہ کیا کہ اللہ نے دونوں میں تفریق فرما دی کہ دونوں ایک جیسے نہیں ہیں، دونوں ایک جیسے... اللہ نے البيع کو حلال قرار دیا ہے اور الربا کو کیا قرار دیا ہے؟ تو دونوں میں تفریق کر دی، تو اس آیت کی غرض کیا ہے؟ اس کی مقصد کیا ہے نازل کرنے کا؟ تفریق کرنا کس چیز کے درمیان؟ البيع اور... تو یہ غرض غرض تفریق ہوئی، البيع اور الربا کے اندر فرق بتلانا کیا ہوا؟ غرض، غرض کیا ہوئی اس کلام کے؟ تفریق اس کلام کے الربا اور سود، الربا اور البيع ایک جیسے نہیں بلکہ دونوں الگ الگ ہیں، البيع حلال ہے اور الربا کیا ہے؟ حرام، تو مقصد ہوا تفریق بھئی! ان دونوں میں فرق بیان ہو رہا ہے، ان دونوں میں کیا ہو رہا ہے؟ فرق بیان ہو رہا ہے۔ اور ظاہر اس کلام سے کیا ہے؟ کیا چیز ظاہر ہو رہی ہے؟ بغیر غور و فکر کے کیا پتہ چل رہا ہے؟ کہ البيع حلال ہے اور الربا کیا ہے؟ حرام، لیکن مقصد کیا ہے؟ دونوں میں فرق بیان کرنا، مقصد کلام کا کیا ہے؟ دونوں میں فرق بیان کرنا، اور بغیر غور و فکر فرق تو پتہ چل گیا اور ساتھ ہی کیا فوراً پتہ چل گیا؟ کہ البيع حلال ہے، أحل الله البيع، اور... اور الربا کیا ہے؟ حرام، تو ظاہر کیا ہے؟ ظاہر یہ البيع کا حلال ہونا اور الربا کا حرام ہونا، اور نص کیا ہے یہاں پر؟ تفریق، بات سمجھ میں ا گئی سب کو؟ ومثاله في قوله تعالى، اور اس کی مثال اللہ کے اس قول کے اندر ہے: وأحل الله البيع وحرم الربا، اللہ نے حلال قرار دیا ہے البيع کو اور حرام قرار دیا ہے الربا کو، الآية، أي اقرأ الآية...، اچھا فالآية، فالآية سيقت لبيان التفرقة بين البيع والربا، آیت جو ہے وہ چلائی گئی ہے فرق بیان کرنے کے لیے بين البيع والربا، کس کے درمیان؟ البيع اور الربا کے درمیان، رداً، بھئی رد کس لیے بھئی چلائی گئی ہے؟ فرق بیان کرنے کے لیے تاکہ رد کیا جائے، لما ادعاه، رد کرنے کے لیے اس چیز کو جس کا دعویٰ کیا تھا الكفار، کس نے؟ کفار نے، بھئی کس چیز کا دعویٰ کیا تھا؟ من بیان ہے، من التسوية بينهما، یعنی کہ ان دونوں کے بیچ برابری کا، وہ کیا کرتے تھے؟ دونوں ایک... ایک جیسی ہیں، ایک جیسی ہیں، حيث قالوا، اس طور پر کہ انہوں نے کہا تھا: إنما البيع مثل الربا، کہ البيع تو الربا ہی کے مثل ہے، تو یہ میں نے بتایا تشبیہ مقلوب ہے، اصل میں کیا ہے؟ الربا کس کی طرح ہے؟ البيع کی طرح ہے جائز ہونے میں، جیسے البيع جائز، الربا بھی جائز، لیکن تشبیہ کو الٹ دیا یہ بتلانے کے لیے کہ جواز میں الربا اصل ہے اور البيع تو کیا ہے؟ اس کے مشابہ ہے۔ وقد علم حل البيع وحرمة الربا بنفس الاستماع، تو مقصد کیا ہوا آیت کا؟ فرق بیان کرنا، کس کے درمیان؟ بيع اور ربوا۔ اور ایک اور چیز ظاہر ہے بتلا رہے ہیں، اور تحقیق جان لیا گیا بيع کی حلت کو اور ربوا کی حرمت کو بنفس السماع صرف سننے سے ہی، بغیر غور و فکر کرنا پڑا؟ نہیں۔ فصار ذلك نصا في التفرقة۔ تو یہ آیت نص ہوئی تفرقہ کے اندر یعنی تفریق بیان کرنے میں۔ ظاهرا في حل البيع وحرمة الربوا۔ اور ظاہر ہوئی کس کے اندر؟ بيع کی حلت اور ربوا کی حرمت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وكذلك دوسری مثال وكذلك قوله تعالى اور اسی طرح اللہ کا قول ہے: فانكحوا ما طاب لكم من النساء۔ پس نکاح کرو جو تم جو تمہیں پسند ہوں، جو تمہیں پس نکاح کرو ان سے طاب لكم جو تمہارے لیے جائز ہوں بھئی، کیا ہوں؟ جائز ہوں بھئی۔ طاب کا معنی پسند ہے بھئی، لیکن یہاں جائز کا معنی کریں بھئی۔ پس نکاح کرو وہ ان سے جو تمہیں پسند، جو جائز ہوں تمہارے لیے۔ اس لیے کہ پسند ہونے پس جو تمہارے لیے پسندیدہ ہوں، دیکھیے ابھی پہلے آیت کر لیجیے میں پھر بتلاتا ہوں۔ پس نکاح کرو تم جو تمہارے لیے پسندیدہ ہوں یعنی تم جو تمہارے لیے جائز ہوں، من النساء بھئی یعنی کہ عورتوں سے، عورتوں سے میں سے۔ مثنى وثلاث، مثنى دو دو، وثلاث اور تین تین، ورُباع اور چار چار۔ خواہ دو دو ہوں، تین تین ہوں یا چار چار ہوں بھئی۔ تو نکاح کے بارے میں بتلا دیا گیا کہ نکاح کر لو ان عورتوں سے جو تمہارے لیے جائز ہوں خواہ دو دو سے کرو، تین تین سے کرو یا چار چار سے کرو بھئی۔ تو یہاں میں نے طاب کا معنی کیا کیا؟ جو تمہارے لیے جائز ہوں، جائز۔ پسندیدہ نہیں بھئی، جائز کا معنی اس لیے پسندیدہ کون سی شرعاً پسندیدہ ہوں، کون سی ان عورتوں سے کرو جو شرعاً تمہارے لیے پسندیدہ ہیں اور شرعاً پسندیدہ کون سی عورتیں ہیں جن سے نکاح کرنا جائز ہے بھئی، جن سے نکاح کرنا جائز ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ورنہ تو بہت سی عورتیں ہیں جو پسندیدہ بھی ہیں لیکن شرعاً ان سے نکاح کرنا جائز نہیں، شریعت نے ان سے نکاح کو کیا قرار دے دیا ہے؟ حرام قرار، جیسے محرم وغیرہ بھئی۔ پس نکاح کرو ان سے جو تمہارے لیے جائز ہوں یعنی کہ عورتوں میں سے، مثنى خواہ دو دو سے کرو یا تین تین سے یا چار چار سے۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہاں کہ دو دو کا ذکر کیا، تین تین کا ذکر کیا، چار چار کا ذکر کیا، ایک کا تو ذکر ہی نہیں کیا۔ مطلب دو دو سے ہی کرو، ایک سے نہیں کرنا؟ بھئی ایک کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ فانكحوا آ گیا صیغہ، نکاح کرو تم۔ اور نکاح کے لیے کم از کم کیا چاہیے؟ ایک عورت تو ضرور بغیر کسی عورت کے ہو سکتا ہے نکاح؟ نہیں۔ تو جب فانكحوا سے ایک کا پتہ چل گیا تھا لہذا اس ایک کو ذکر نہیں کیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ پھر اس پر اشکال ہوا: مثنى کا معنی ہے دو دو۔ بھئی آپ نے وہ وصف میں نہیں پڑھا تھا؟ جی؟ عدل میں عدل میں، مثنى کیا تھا؟ مثنى وثلاث، یہ اسی قبیل سے ہے۔ مثنى وثلاث ورُباع، دو دو ہے اس کا معنی، ثلاث کا معنی تین تین اور رُباع کا معنی تو دیکھو درمیان میں واؤ آ رہا ہے اور واؤ کس لیے آیا کرتا ہے؟ جمع کے لیے۔ دو اور دو کتنی ہو گئیں؟ چار۔ ثلاث تین اور تین کتنی ہو گئیں؟ چھ، چھ اور چار 10۔ رُباع چار چار کتنی ہو گئیں؟ آٹھ۔ آٹھ اور 10 کتنی ہو گئیں؟ 18۔ بھئی 18 سے نکاح جائز ہونا چاہیے، آپ کیا کہہ رہے ہیں چار سے ہونا چاہیے؟ چار سے زیادہ جائز ہی نہیں۔ آیت سے تو کیا معلوم ہو رہا ہے؟ 18 سے جائز۔ ہاں بھئی یہ واؤ بمعنی 'او' کے ہے، یہ واؤ بمعنی 'او'۔ دو دو یا تین تین یا چار چار سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا! چلو یہ واؤ بمعنی 'او' کے ہے، تو دو دو سے کرو، تو دو اور دو کتنی ہوئیں؟ چار سے کرو يا واؤ بمعنی 'او' کے، تین تین کیا معنی؟ تین اور تین چھ یا چھ سے کر سکتے ہو، او او رُباع یا چار اور چار آٹھ سے کر سکتے ہو، تو پھر بھی کتنی کم از کم ہو گئیں؟ آٹھ۔ نہیں بھئی، آٹھ بھی نہیں چار زیادہ سے زیادہ، یہ تقسیم بیان ہو رہی ہے اور تقسیم کے موقع پر اسی طرح چیز کو بیان کیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ پیسے لو بھئی، طلباء کے اندر دو دو روپے تقسیم کر دو، کیا معنی ہوتا ہے چار چار دو ہر ایک کو؟ نہیں، بلکہ کیا معنی ہوتا ہے؟ دو دو دو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جب بھی کوئی چیز تقسیم کی جاتی ہے تو پھر اسی طرح بیان ہوتی ہے، سمجھ میں آیا؟ دو دو یا تین تین یا چار چار روپے دو ہر طالب علم کو تو کیا معنی ہوتا ہے؟ دو دو، کسی دو دے دو یا تین دے دو یا چار ہر ایک چار چار دیتے جاؤ۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اشکال ختم ہوا؟ جی۔ اچھا! اب یہ آیت کس لیے چلائی گئی ہے؟ اس کی غرض کیا ہے؟ عدد بیان کرنا ہے کہ کتنی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو زیادہ سے زیادہ، کتنی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ تو بیانِ عدد یہ نص ہے مولانا، بیانِ غرض کیا ہے اس کلام کی؟ نص۔ جی؟ بیانِ عدد ہے بھئی، کیا ہے بیانِ عدد؟ عدد بیان کرنا ہے کہ کتنی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: صيغ الكلام لبيان العدد، اس کلام کو چلایا گیا ہے عدد کو بیان کرنے کے لیے۔ وقد علم الاطلاق والاجازة، اطلاق کا معنی اباحت، اباحت، اباحت، مباح ہونا، مباح ہونا، جائز ہونا۔ تو آیت مولانا اس آیت کے چلانے کا مقصد کیا ہوا؟ بیانِ عدد ہوا کہ کتنی عورتوں سے نکاح کرنا جائز، اور ساتھ ساتھ بغیر غور و فکر کے یہ بھی پتہ چل گیا کہ نکاح کرنا جائز ہے۔ کیا پتہ چل گیا؟ نکاح کرنا جائز، فانكحوا نکاح کرو، کیا پتہ چلا نکاح کرنا جائز ہے، تو نکاح کا مباح ہونا اور نکاح کی اجازت یہ کیا ہوئی مولانا؟ ظاہر ہے، یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ پتہ چل گیا اس کلام سے بغیر غور و فکر کے، بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو کہتے ہیں: وقد علم الاطلاق والاجازة بنفس السماع، اور نکاح کا اور مباح ہونا، کس چیز کا مباح ہونا؟ نکاح کا، والاجازة اور اجازت کا ہونا، اجازت اس کو جان لیا گیا بنفس السماع صرف سننے سے ہی بغیر غور و فکر کے۔ فصار ذلك ظاهرا، تو یہ مولانا آیت کیا ہوئی؟ ظاہر ہوئی کس چیز میں؟ في حق الاطلاق، مباح ہونے کے حق میں، مباح ہونے کے حق میں ظاہر ہوئی، ونصا في بيان العدد، اور نص ہوئی کس کے اندر؟ بیانِ عدد کے اندر۔ وكذلك قوله تعالى، اسی طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں: لا جناح عليكم، تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے، ان طلقتم النساء، اگر تم طلاق دے دو عورتوں کو، ما لم تمسوهن، جبکہ تم نے ان کو نہ چھوا ہو یعنی جب تم نے جماع نہ کیا ہو، مس سے کیا مراد ہے یہاں مولانا؟ جماع، جبکہ تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو، او تفرضوا لهن فريضة، یا تم نے مقرر تفرضوا کا عطف ہے تمسوا پر، لم تفرضوا، یعنی تم نے مقرر نہ کیا ہو لهن ان کے لیے فريضة، اي مهراً بھئی، ان کے لیے مہر مقرر نہ کیا ہو۔ اللہ فرما رہے ہیں مومنوں سے بھئی کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم طلاق دے دو عورتوں کو جب تک کہ جبکہ تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو یا ان کے لیے ان کے لیے مہر مقرر نہ کیا ہو، تو پھر بھی کیا کر سکتے ہو؟ ان کو طلاق دے سکتے ہو۔ تو یہ آیت کس لیے چلائی گئی مولانا؟ غیر وہ عورت جس کا مہر ذکر نہیں ہوا اس کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ وہ عورت جس کا مہر بیان ذکر بھئی نکاح کرتے ہیں نکاح میں ہمیشہ کیا ذکر کرتے ہیں؟ مہر ذکر کرتے ہیں، لیکن وہ عورت جس کے ساتھ ایک شخص نے نکاح کر لیا اور مہر ذکر نہیں کیا تو مہر کے بغیر تو نکاح صحیح نہیں، مہر خود بخود مہرِ مثل وہاں آ جایا کرتا ہے، کیا آ جایا کرتا ہے؟ مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے۔ تو یہاں پر بتلایا کہ وہ عورتیں جن کے لیے تم نے کوئی مہر نکاح کر لیا اور مہر کا ذکر ہی نہیں کیا، مقرر ہی کوئی نہیں کیا، ان کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ ان کے کیا طلاق وغیرہ دے سکتے ہو یا طلاق نہیں دے سکتے وغیرہ، سمجھ میں آیا؟ تو یہ غرض ہوئی اس آیت کی، تو یہ نص ہے، یہ کیا ہے؟ نص ہے۔ تو کہتے ہیں: تو یہ جو آیت اسی طرح اللہ کا یہ قول نصٌ، یہ اس کی خبر ہے، یہ اللہ کا جو قول ہے یہ کیا ہے؟ نص ہے، في حكم من، ان عورتوں کے حکم میں، لم يسم لها المهر، جن کے لیے مہر کو ذکر جن کے لیے مہر مقرر نہیں ہوا ان کا حکم کیا ہے؟ ان کے بارے میں یہ آیت ان کے حکم میں یہ آیت نص ہے، وظاهر في استبداد الزوج بالطلاق، اور ظاہر کیا ہے بغیر غور و فکر کے ایک بات اس آیت سے پتہ چل رہی ہے اور وہ کیا؟ کہ طلاق دینے میں خاوند طلاق دینا خاوند کا حق ہے۔ طلاق دینا کس کا حق ہے؟ خاوند کا، وہ مستقل ہے طلاق کے اندر، عورت کا کوئی حصہ نہیں، کیونکہ طلقتم فرمایا، طلقتم مذکر کا صیغہ ہے، مؤنث کا صیغہ ہے؟ مذکر کا کہ اے مومنو! اے خاوندو! اگر تم کیا کرو؟ طلاق دو، تو کس کی طرف اسناد ہوا طلاق کا؟ جی؟ مرد کی طرف، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تو پتہ چلا طلاق دینے کے اندر کون مستقل ہے؟ کس کا حق ہے طلاق دینا؟ خاوند کا۔ تو یہ ظاہر ہے، تو یہ کیا ہے؟ ظاہر ہے، غور و فکر کرنا پڑا؟ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ آیت نص ہے اس چیز میں اس عورت کے حکم کے میں جس کے لیے مہر کو ذکر نہیں کیا گیا یعنی اس کے لیے یہ آیت چلائی گئی ہے اس کے حکم کو بیان کرنے کے لیے، وظاهر في استبداد، استبداد کا معنی ہے استقلال، في استبداد الزوج، خاوند کے مستقل ہونے کے اندر، کس چیز میں؟ بالطلاق، طلاق کے ساتھ۔ طلاق میں خاوند کے مستقل ہونے کے اندر یہ آیت کیا ہے؟ کہ خاوند مستقل ہے طلاق دینے میں، اسی کو طلاق دینے کا حق ہے عورت کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اس میں یہ آیت کیا ہے؟ ظاہر ہے، کیا ہے؟ بھئی باتیں سمجھ میں آ رہی ہیں یا نہیں سمجھ میں آ رہی ہیں؟ جی۔ واشارة، نیز مولانا اور اشارہ ہے اس بات کی طرف اس آیت یہ آیت اشارہ ہے کہ الى ان النكاح بدون ذكر المهر يصح، کہ نکاح بغیر مہر کے ذکر کے بھی صحیح ہو جاتا ہے۔ کیا ہے؟ بھئی بتلایا نا کہ کوئی حرج نہیں کہ تم طلاق دو عورتوں کو جبکہ تم نے ان کا مہر مقرر جن کا مہر مقرر نہیں ہوا ان کے لیے طلاق کی بات چل رہی ہے، معلوم ہوا طلاق آتی ہے نکاح کے بعد، معلوم ہوا بغیر ذکرِ مہر کے بھی ان کا نکاح کیا ہو گیا تھا؟ صحیح ہو گیا تھا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بغیر مہر کے بھی نکاح صحیح ہوا تھا تو اب طلاق دی جا رہی ہے نا ورنہ تو نکاح ہی نہیں ہوا تھا تو پھر طلاق نہیں ہو سکتی، تو یہ اشارہ ہے اس اس بات کی طرف یہ کہ نکاح بغیر مہر کے ذکر کے بھی کیا ہو جاتا ہے؟ صحیح ہو جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو ظاہر اور اشارہ، ظاہر وہ ہے تھا جس میں غور و فکر نہیں کرنا پڑا اور اشارہ وہ ہے جس میں تھوڑا سا غور کرنا پڑا ہے، یہاں تھوڑا سا غور کرنا پڑا تو پتہ چل گیا ہاں دیکھا کہ کہ طلاق کا ذکر آ رہا ہے اور طلاق تو کس کو دی جاتی ہے جس کے ساتھ نکاح ہو جائے، معلوم ہوا بغیر ذکرِ مہر کے جو نکاح ہوا تھا وہ کیا ہو گیا تھا؟ صحیح ہو گیا تھا، اب طلاق دینا طلاق بھی دی جا سکتی ہے، بات سمجھ میں آئی بات بھئی؟ وكذلك قوله عليه السلام، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: من ملك ذا رحم محرم منه عتق عليه، جو مالک ہوا کس کا مالک ہوا؟ ذو قریبی ذو رحم کس کو کہتے ہیں؟ قریبی رشتہ دار، ذو رحم کس کو کہتے ہیں؟ قریبی رشتہ دار، ایسا قریبی رشتہ دار محرم جو کیا ہو؟ محرم بھی ہو، محرم وہ جس کو کیا شریعت نے قرار دے دیا ہے؟ جس سے نکاح کو حرام قرار دے دیا ہے، دو صفات ہیں دونوں کا ہونا ضروری۔ اچھا تو جو مالک بنا ایسے قریبی رشتہ دار کا محرم جو کیا ہو؟ محرم بھی ہو محرم بھی ہو اس شخص کا، عتق عليه، تو وہ کیا ہو جائے گا اس پر؟ بھئی دیکھو محرم ایک شخص ہے، اس نے مثلاً بہن ہے، اس کا بھئی کیا ہوا؟ غلام ہے مثلاً، کوئی صورت فرض کر لو قید ہوا وغیرہ، کفار نے پکڑ لیا قید، اس نے پھر جا کر وہاں سے خریدا بھئی، تو وہ یہ کیا ہے اس کا قریبی رشتہ دار ہے، کیا ہے قریبی؟ رشتہ دار ہے، اور محرم بھی ہے مولانا، بہن کے بھئی کے ساتھ نکاح جائز ہے؟ نہیں، محرم، حرام ہے اس پر، تو دونوں شرطوں کا ہونا ضروری، دونوں شرطیں پائی جائیں گی، قریبی رشتہ دار ہو اور محرم ہو، تو خریدے گا تو جیسے ہی خریدے گا مالک بنے گا اور مالک بنتے ہی فوراً وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا! تو مولانا یہ حدیث کے اندر آیا، حضور فرماتے ہیں: من ملك ذا رحم محرم منه عتق عليه، وہ اس پر آزاد ہو جائے گا، آزاد ہو جائے گا۔ یہ اس حدیث کی غرض کیا ہے؟ نص کیا ہے؟ کس مقصد کے لیے کلام ذکر کیا گیا؟ جی؟ کہ قریبی عزیز جو ہے وہ آزادی کا مستحق ہوگا۔ وہ کیا ہوگا؟ آزادی کا مستحق، آزاد ہو جائے گا نا، کس مقصد کے لیے بتلائی یہ حدیث لائی گئی؟ کہ وہ آتے ہی فوراً کیا ہو جائے گا؟ یعنی آزادی کا مستحق ہے وہ بھئی، ملک میں آتے ہی فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ بتلانا اس کے لیے استحقاقِ عتق کے لیے آئی، قریبی عزیز کے استحقاقِ عتق کے لیے یہ آیت یہ حدیث چلائی گئی، یہ ذکر کی گئی۔ اور ظاہر اس سے کیا ہوا؟ ظاہر کیا ہے؟ کہ ملک بھی ثابت ہوگی، من ملك ذا رحم، بھئی غرض تو یہ تھی کہ وہ آزادی کا مستحق ہوگا اور ظاہر کیا ہوا حدیث کے الفاظ سے؟ کہ مالک بھی بنے گا، مالک بنے گا تو فوراً کیا ہو جائے گا؟ ہاں حدیث میں ہے من ملك ذا، جو مالک بنے گا معلوم ہوا وہ کیا بن جائے گا؟ مالک بنے گا، تو مالک بنتے ہی پھر فوراً کیا ہو جائے گا؟ تو ثبوتِ ملکیت یہ ظاہر ہے اس کا اور مولانا استحقاقِ عتق وہ کیا ہے؟ نص ہے، نص ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ جو اسی طرح یہ حضور علیہ السلام کا یہ قول جو ہے نصٌّ في استحقاق العتق القريبُ، کس چیز کے اندر بھئی؟ استحقاقِ عتق کے اندر، کس کے لیے ہے استحقاقِ عتق بھئی؟ القريبُ، یہ فاعل ہے استحقاق کا۔ کون مستحق ہے مولانا آزادی کا؟ جی؟ جی۔ سمجھ میں آیا؟ استحقاق العتق القريبُ، استحقاق ہوگا، مستحق کون ہوگا؟ وہ قریبی عزیز، یہ ہے فاعل۔ اور کس چیز کا مستحق ہوگا؟ آزادی کا، یہ کیا ہے؟ مفعول۔ تو مصدر کی اضافت ہو رہی ہے فاعل کی طرف یا مفعول کی طرف؟ مفعول کی طرف، آزادی کا مستحق ہوگا، کون ہوگا آزادی کا مستحق؟ القريبُ، جو کیا ہے قریبی رشتہ دار ہے۔ تو مصدر کبھی فاعل کی طرف مضاف ہوتا ہے، کبھی مفعول کی طرف۔ مصدر بھی فعل کی طرح عمل کرتا ہے اپنے فاعل جیسے فعل فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو کیا دیتا ہے؟ نصب، اسی طرح مصدر بھی فاعل کو رفع دیتا ہے اور مفعول کو نصب دیتا ہے۔ ہاں، استعمال کرتے وقت اس کی اضافت کی جاتی ہے فاعل کی طرف یا، تو جس کی طرف اضافت کر دی وہ تو مجرور ہو جائے گا، مضاف الیہ بن جائے گا، اور دوسرا اگر فاعل ہے تو مرفوع رہے گا اور اگر مفعول ہے تو منصوب رہے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں یہ مرفوع رہے گا۔ تو یہ آیت نص ہے کس چیز کے اندر؟ کہ آزادی کا مستحق ہوگا، قریبی رشتہ دار کے آزادی کے مستحق ہونے میں نص ہے۔ و ظاہرٌ في ثبوت الملك له، اور ظاہر ہے یہ حدیث کس چیز کے اندر؟ کہ ملک ثابت ہو جائے گی اس شخص کے لیے جس نے اس کو کیا کیا ہے؟ خریدا ہے، اس کے لیے کیا ہے؟ خریدا ہے۔ اس قریبی رشتہ دار کے لیے ملکیت ثابت ہو جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی یہاں ایک نحوی بات بتلا دوں، ہمیشہ یاد رکھنا۔ حدیث کیا ہے؟ من ملک ذا رحمٍ، جو مالک بنا ایسے قریبی رشتہ دار کا، محرمٍ، یہ مولانا یہ محرمًا ہونا چاہیے تھا۔ کیا ہونا چاہیے تھا؟ یہ صفت ہے نا ذو رحم کی کیا ہے؟ ذا رحم کی یہ صفت ہے، اور ذا رحم کیا ہے؟ منصوب، ذو کا بھئی ذو کا اعراب اسماءِ ستہ مکبرہ میں سے ہے، حالتِ نصبی میں کس کے ساتھ آتا ہے؟ الف سے، دیکھا ذا رحمٍ، کیا آ رہا ہے حالتِ نصبی میں۔ اور ذو رحم، یہ قریبی رشتہ دار ایسا ہو محرمًا، جو کیا ہو؟ محرم ہو، جو کیا ہو؟ محرم ہو۔ تو یہ محرم صفت ہے ذا رحم کی، اور ذا رحم منصوب ہے، تو محرم کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ منصوب ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آئی؟ لیکن یہ مجرور پڑھا گیا یہاں، اس کو کہتے ہیں جرِ جوار۔ کیا کہتے ہیں؟ جرِ جوار۔ جرِ جوار کہتے ہیں، یاد رکھنا ہمیشہ۔ کبھی کبھی ایک اسم پر کوئی اور اعراب آ رہا ہوگا، لیکن اس کے پڑوس والے پر جر ہوتا ہے، تو اس کو بھی جر دے دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی؟ کیا بات ہوئی؟ جرِ جوار کس کو کہتے ہیں بھئی؟ آسان سی بات ہے، جوار کس کو کہتے ہیں؟ پڑوس کو۔ ایک اسم پر کوئی اور اعراب آ رہا تھا، نصب آ رہا تھا یا کیا آ رہا تھا؟ ضمہ آ رہا تھا، لیکن اس کے پڑوس والے پر کیا آ رہا ہے؟ ساتھ والے پر کیا آ رہا ہے؟ جر، کسرہ، تو اس پر بھی کیا پڑھ دیا جاتا ہے؟ کسرہ، جر پڑھ دیا جاتا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جرِ جوار کہتے ہیں۔ تو یہ محرمٍ پر جرِ جوار ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ ورنہ اس کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ منصوب، کیا ہونا چاہیے تھا؟ منصوب۔ تو یہ محل کے اعتبار سے یہ منصوب ہے، صفت ہے کس کی؟ ذا رحم کی۔ بات سمجھ میں آئی؟ جرِ جوار کا پتہ چل گیا؟ یہ یاد رکھنا ہمیشہ، یہ جرِ جوار بھی کبھی عربی میں آیا کرتا ہے بھئی اس طرح بھئی۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 36 of 123