Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-034

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 116
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصلٌ فِي الصَّرِيحِ وَالْكِنَايَةِ، الصَّرِيحُ لَفْظٌ يَكُونُ الْمُرَادُ بِهِ ظَاهِرًا كَقَوْلِهِ بِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ وَأَمْثَالُهُ۔ جی یہ فصل ہے صریح اور کنایہ کے بارے میں۔ میں نے بتلایا تھا استعمال کے لحاظ سے لفظ کی کتنی قسمیں ہیں؟ جی؟ چار قسمیں ہیں بھئی۔ حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ بھئی۔ حقیقت اور مجاز کی بحث ختم ہوئی، اب صریح اور کنایہ کے بارے میں بتلائیں گے بھئی۔ صریح وہ لفظ ہے مولانا، جس کی مراد ظاہر ہو۔ جس کی مراد کیا ہو؟ ظاہر ہو۔ یعنی جس کا معنی و مفہوم ظاہر ہو بھئی۔ دیکھیے، آج کا سبق آسان ہے بھئی، ساری باتیں متن میں آ رہی ہیں۔ اور کنایہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے وہ ہے جس کا معنی پوشیدہ ہو، جس کا معنی کیا ہو؟ پوشیدہ ہو۔ تو کہتے ہیں: "الصَّرِيحُ لَفْظٌ" صریح ایسا لفظ ہے، "يَكُونُ الْمُرَادُ بِهِ ظَاهِرًا" کہ جس سے مراد کیا ہو؟ کہ اس سے مراد ظاہر ہو مولانا، "كَقَوْلِهِ بِعْتُ وَاشْتَرَيْتُ" جیسے کسی کا کہنا "بِعْتُ" اور "اشْتَرَيْتُ"۔ "بِعْتُ" کا معنی ظاہر ہے مولانا، اس میں کوئی اور احتمال ہے؟ "اشْتَرَيْتُ" کا معنی ظاہر ہے۔ "بِعْتُ"، "اشْتَرَيْتُ" اور اس کے مثل اور لفظ جیسے، "وَحُكْمُهُ" حکم یہ ہے صریح کا مولانا "أَنَّهُ يُوجِبُ ثُبُوتَ مَعْنَاهُ" کہ واجب کرتا ہے اپنے معنی کے ثبوت کو "بِأَيِّ طَرِيقٍ كَانَ" جس طریقے سے بھی ہو مولانا، کسی بھی طریقے سے ہو، یہ کیا کرے، اس کو بولا جائے تو یہ اپنے معنی کو کیا کر دیتا ہے؟ ثابت کر دیتا ہے۔ "بِأَيِّ طَرِيقٍ كَانَ" جس طریقے سے بھی ہو، "مِنْ إِخْبَارٍ أَوْ نَعْتٍ أَوْ نِدَاءٍ" چاہے خبر کے طریقے پر ہو، نعت صفات، یا صفت کے طریقے پر ہو، "أَوْ نِدَاءٍ" یا نداء کے طریقے پر ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نداء کے طریقے پر ہو۔ آگے مثالیں آئیں گی۔ یہ ایک حکم مولانا، صریح کا کیا حکم ہے؟ یہ اپنے معنی کے ثبوت کو کیا کر دیتا ہے؟ واجب کر دیتا ہے، یعنی اس کا معنی ثابت ہو جاتا ہے، جس طریقے سے بھی اس کو بولا جائے، چاہے خبر کے انداز میں بولا جائے، چاہے صفت کے طریقے پر اس کو ذکر کیا جائے اور چاہے جی نداء کے طریقے پر۔ دوسری، دوسرا حکم: "وَمِنْ حُكْمِهِ أَنَّهُ يَسْتَغْنِي عَنِ النِّيَّةِ" یہ بے پرواہ کر دیتا ہے نیت سے مولانا، نیت کی اس میں حاجت، نیت کی ضرورت ہی نہیں ہے مولانا، نیت کے بغیر اس کا معنی ثابت ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی نیت کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے جہاں کئی احتمالات ہوں بھئی، جب کئی احتمالات ہوں تو پھر نیت کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ کسی ایک احتمال کو کیا کر دیا جائے؟ متعین کر دیا جائے، اور یہاں تو اور کوئی دوسرا احتمال ہے ہی نہیں، اس کا معنی مراد تو کیا ہے؟ ظاہر ہے، تو یہ اس کو ثابت، لہٰذا نیت کی ضرورت نہیں۔ "وَعَلَى هَذَا قُلْنَا" اسی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اس میں چونکہ نیت کی ضرورت نہیں "إِذَا قَالَ" ایک شخص نے کہا "لِامْرَأَتِهِ" اپنی بیوی سے "أَنْتِ طَالِقٌ" تو کیا ہے؟ طلاق والی ہے، تو مولانا اس کا معنی ظاہر ہے اور نیت کی بھی ضرورت نہیں، لہٰذا عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، اس کا معنی ثابت ہو جائے گا بھئی۔ "أَوْ" تو یہ دیکھو "أَنْتِ طَالِقٌ" یہ کیا ہے؟ جی؟ بطور وصف کے طور پر ذکر کیا، صفت ہے، "طَالِقٌ" تو کیا ہے؟ طلاق والی ہے۔ "أَوْ طَلَّقْتُكِ" میں نے تجھے کیا دے دی؟ طلاق دے دی، یہ خبر کے طریقے پر ذکر کیا تو بھی مولانا کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق، کیونکہ یہ صریح ہے، کیونکہ اس کا معنی مراد ظاہر ہے اور اس میں نیت کی ضرورت نہیں۔ "أَوْ يَا طَالِقُ" یا یہ مولانا نداء کے طریقے پر بھئی، اے طلاق والی، تو یہ بھی کیا ہے مولانا؟ اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی اس لیے کیونکہ یہ لفظ صریح ہے، اور صریح اللفظ جو ہے اپنے معنی کو کیا کر دیتا ہے؟ ثابت کر دیتا ہے جس طریقے پر بھی آئے، چاہے صفت کے طریقے پر، چاہے خبر کے طریقے پر، چاہے نداء کے طریقے پر، تو یہ اپنے معنی کو ثابت کرے گا۔ "يَقَعُ الطَّلَاقُ" طلاق کیا ہو جائے گی؟ جب کسی شخص نے یہ کہا تو طلاق واقع ہو جائے گی، یہ جزا ہے مولانا، "نَوَى بِهِ الطَّلَاقَ أَوْ لَمْ يَنْوِ" طلاق کی نیت کی ہو اس نے یا نیت نہ کی ہو مولانا، کیونکہ صریح کے اندر نیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں نے کیا بتلایا نیت کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کسی چیز میں کئی احتمالات ہوں اور یہاں تو اور کوئی دوسرا احتمال ہی نہیں، معنی مراد ظاہر ہے اس کا بھئی۔ "وَكَذَا لَوْ قَالَ لِعَبْدِهِ" اسی طرح اگر کسی نے اپنے غلام سے کہا "أَنْتَ حُرٌّ" تو کیا ہے؟ آزاد ہے، تو "حُرٌّ" ذکر کیا مولانا صفت کے طریقے پر "أَوْ حَرَّرْتُكَ" یا میں نے تجھے کیا کر دیا ہے؟ آزاد کر دیا ہے، "أَوْ يَا حُرُّ" یا نداء کے طریقے پر، تو چاہے تینوں صورتوں میں غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد، اس لیے کہ یہ لفظ صریح ہے، سمجھ میں آیا؟ صریح ہے، معنی ثابت ہو جائے گا، نیت کی ضرورت نہیں۔ تو صریح میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ نیت کی ضرورت نہیں۔ آپ بیگم کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، تسبیح پڑھ رہے ہیں مولانا، سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ، اچانک زبان پہ آ گیا "أَنْتِ طَالِقٌ"، فوراً کیا آ جائے گی؟ طلاق، وہ اب کہیں گے میری تو نیت نہیں تھی، نہیں بھئی یہاں کیا نیت کی ضرورت ہے، نیت کی تو ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی اور معنی ہو، یہاں تو اور کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ "وَعَلَى هَذَا قُلْنَا" اور اسی بناء پر کہتے ہیں، ہم کہتے ہیں "إِنَّ التَّيَمُّمَ يُفِيدُ الطَّهَارَةَ لِأَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ صَرِيحٌ فِي حُصُولِ الطَّهَارَةِ بِهِ" یاد رکھو، تیمم جو ہے تیمم، ہمارے نزدیک طہارتِ کاملہ ہے، طہارتِ مطلقہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ طہارتِ مطلقہ یعنی طہارتِ کاملہ ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طہارتِ مطلقہ نہیں ہے بلکہ یہ طہارتِ ضروریہ ہے یا یہ ساتر للحدث ہے، دو قول ہیں ان کے بارے میں، یا تو یہ طہارتِ ضروریہ ہے یا کیا ہے؟ ساتر للحدث ہے بھئی۔ بھئی ہمارے نزدیک یہ طہارتِ مطلقہ کیوں ہے؟ طہارتِ مطلقہ اس لیے کہ جب اللہ، جہاں اللہ یہ فرماتے ہیں "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا" کہ جب تم پاک پانی نہ پاؤ تو پھر کیا کر لو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ آگے اللہ فرماتے ہیں: "وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ" مگر اللہ ارادہ کرتے ہیں تمہیں پاک کرنے کا، اللہ کیا ارادہ فرماتے ہیں؟ تمہیں پاک کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں، تو "لِيُطَهِّرَكُمْ" ذکر ہوا ہے قرآن کے اندر، تطہیر آ گئی تطہیر، "طَهَّرَ يُطَهِّرُ تَطْهِيرًا" اور تطہیر کس چیز کو کہتے ہیں؟ تطہیر کا معنی پاک کرنا یعنی نجاست کو دور کرنا اور پاکی کو ثابت کرنا، وہاں پر کیا کرنا؟ نجاست کو دور کرنا اور پاکی کو ثابت، پھر ہی کہا جائے گا نا تطہیر، ورنہ تو ویسے تطہیر، تطہیر تو یہی ہے کہ نجاست ہو اس کو دور کر دیا اور پاکی وہاں پر ثابت ہو گئی، ثابت کر دی، تو یہ کیا کہلائے گی؟ تو اللہ نے قرآن میں تطہیر ذکر فرمایا ہے، معلوم ہوا تیمم سے کیا آئے گی؟ طہارت آئے گی، کیا آئے گی؟ طہارت آئے گی، اور تطہیر آیا، تطہیر کا کیا معنی؟ نجاست چلی گئی، پاکی ثابت ہو گئی، تو تیمم سے بھی جو حدث تھا وہ ختم ہوا اور پاکی ثابت ہو گئی۔ تو یہ لفظ صریح ہے، یہ لفظ کیا ہے؟ صریح ہے، معلوم ہوا تیمم سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے اور طہارتِ مطلقہ حاصل ہوتی ہے، کون سی طہارت؟ مطلقہ، مطلقا پاکی حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ فرما رہے ہیں پاک کرنا چاہتے ہیں اور تیمم کا حکم دیا، معلوم ہوا تیمم سے کیا حاصل ہو جائے گی؟ پاکی حاصل ہو جائے گی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی: "وَعَلَى هَذَا قُلْنَا" اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں "إِنَّ التَّيَمُّمَ يُفِيدُ الطَّهَارَةَ" وہ طہارت کا فائدہ دیتا ہے "لِأَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ صَرِيحٌ فِي حُصُولِ الطَّهَارَةِ بِهِ" یہ صریح ہے مولانا تیمم سے طہارت کے حاصل ہونے میں بھئی، تیمم سے طہارت حاصل ہونے میں کیا ہے؟ صریح ہے، یہ صریح ہے اور صریح کیا ہے اپنے معنی کو کیا کر دیتا ہے؟ ثابت کر دیتا ہے، تو طہارت بھی کیا ہوئی؟ ثابت ہو جائے گی۔ "وَلِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ قَوْلَانِ" اور امام شافعی رحمہ اللہ کے اس بارے میں دو قول ہیں "أَحَدُهُمَا" ایک یہ "أَنَّهُ طَهَارَةٌ ضَرُورِيَّةٌ" یہ کیا ہے طہارتِ ضروریہ ہے۔ یعنی یہ طہارت ضرورت کی بناء پر ہے، کس بناء پر ہے؟ بھئی آپ بے وضو ہیں اور آپ کو پانی نہیں مل رہا تو اللہ کیا فرماتے ہیں؟ تیمم کر لو، تو یہ ضرورت کی بناء پر ہے، کس بناء پر ہے؟ ضرورت کی بناء پر ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ضرورت۔ "وَالْآخَرُ" دوسرا قول یہ ہے "أَنَّهُ لَيْسَ بِطَهَارَةٍ" یہ طہارت نہیں ہے "بَلْ هُوَ سَاتِرٌ لِلْحَدَثِ" بلکہ یہ تیمم تو کیا ہے؟ حدث کو چھپانے والا ہے، ساتر ہے، ڈھانپنے والا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس پر پردہ ڈالنے والا ہے، حدث تو ابھی بھی موجود لیکن جب آپ نے تیمم کر لیا تو اس حدث پر کیا آ گیا؟ پردہ آ گیا، وہ چھپ گیا، اب آپ اس کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں؟ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہمارا کیا قول ہے بھئی اس بارے میں تیمم کے بارے میں؟ یہ کیا ہے طہارتِ مطلقہ ہے، کامل طہارت حاصل ہوتی ہے، جیسے وضو سے کامل طہارت حاصل ہوتی ہے اسی طرح تیمم سے بھی کیا حاصل ہو گی؟ کامل طہارت حاصل ہو گی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ یہ وضو کی طرح مطلق طہارت نہیں ہے بلکہ یہ تو کیا ہے؟ یہ طہارتِ ضروریہ ہے، ضرورت کی بناء پر ہو گی طہارت ورنہ نہیں، اور یا دوسرا قول کیا ہے؟ یہ ساتر للحدث ہے یعنی تیمم سے حدث دور ہوتا ہی نہیں ہے سرے سے، صرف اس حدث پر کیا پڑ جاتا ہے؟ پردہ پڑ جاتا ہے، وہ چھپ جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دو قول ہیں۔ "وَعَلَى هَذَا" اور اسی اختلاف پر "يُخَرَّجُ الْمَسَائِلُ عَلَى الْمَذْهَبَيْنِ" تخریج کی جائے گی مسائل کی دونوں مذہبوں پر بھئی۔ "مِنْ جَوَازِهِ قَبْلَ الْوَقْتِ" "مِنْ جَوَازِهِ" یعنی جائز ہونا تیمم کا وقت سے پہلے بھئی۔ تیمم کا وقت سے پہلے جائز ہونا، بھئی امام شافعی، ہمارے نزدیک وقت سے پہلے کوئی تیمم کر لے، ابھی نماز کا وقت نہیں ہوا، ظہر کا وقت نہیں ہوا، آپ گیارہ بجے وہ تیمم کر لیتے ہیں پانی نہیں مل رہا، تو مولانا یہ تیمم کیا ہے طہارت، اس سے کیا حاصل ہوتی ہے؟ طہارتِ، یہ طہارتِ مطلقہ ہے، پاکی حاصل ہو جائے گی، اب جب وقت ہو جائے آپ آرام سے کیا کر لیں؟ ظہر کی نماز پڑھ لیں، وقت سے پہلے بھی کرنا جائز۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ طہارتِ ضروریہ ہے مولانا اور ضرورت کے وقت ہی کیا جائے گا بغیر ضرورت کے نہیں، تو ابھی جب ظہر کا وقت ہی نہیں ہوا، نماز کی وقت ہی نہیں ہوا تو ضرورت ہے تیمم کی؟ وضو کی طہارت کی ضرورت ہے؟ جب طہارت کی ضرورت نہیں تو ابھی تیمم کرو گے بھی تو نہیں ہوگا، تیمم جائز ہی نہیں ہے اس سے پہلے کرنا، بلکہ جب نماز کا وقت ہو جائے گا اب ضرورت پیش آئی طہارت کی اور پانی تو مل نہیں رہا تو اب کیا کر سکتے ہو؟ تیمم کر سکتے ہو۔ تو جب وقت سے پہلے جائز ہونے کے بارے میں بھی اسی طرح، "وَأَدَاءِ الْفَرْضَيْنِ بِتَيَمُّمٍ وَاحِدٍ" اسی طرح مولانا دو فرضوں کا ادا کرنا ایک ہی تیمم کے ساتھ۔ ہمارے نزدیک مولانا تیمم طہارتِ مطلقہ ہے وضو کی طرح، جیسے ایک وضو کے ساتھ جتنی چاہیں آپ نمازیں پڑھ سکتے ہیں اسی طرح بھئی تیمم بھی طہارتِ مطلقہ ہے، ایک تیمم سے جتنی چاہیں نمازیں پڑھ سکتے ہیں، جب تک پانی نہ مل جائے یا اس کے استعمال پر قادر نہ ہو جائیں آپ اس کے ساتھ نمازیں پڑھتے رہیں بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ طہارتِ ضروریہ ہے، اور "الضروري يقدر بقدر الضرورة" ضرورت کے بقدر اس کو فرض کیا جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور ضرورت تھی مثلاً ظہر کے لیے کیا تو ظہر کی نماز کی ضرورت تھی، آپ نے پڑھ لی، اس کے بعد دوسری نماز بھی اسی سے پڑھنا چاہتے ہیں؟ اس تیمم سے دوسری نماز نہیں پڑھ سکتے، اس کے لیے آپ کو الگ کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم کرنا پڑے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صرف ایک فرض کے لیے ایک تیمم کرنا پڑے گا ان کے نزدیک، ہاں جو سنتیں اور نوافل ہیں وہ اسی کے تابع ہو جائیں گے، اسی کے تابع، اسی تیمم سے سنتیں اور نوافل اور فرض وہ پڑھ لیے، دوسرا فرض پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ اسی تیمم سے یہ درست نہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ "وَإِمَامَةِ الْمُتَيَمِّمِ لِلْمُتَوَضِّئِينَ" اور اسی طرح بھئی یعنی امامت کرنا تیمم کرنے والے کی وضو کرنے والوں کی، بھئی ہمارے نزدیک تو تیمم کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طہارتِ ضروریہ ہے، تو ہمارے نزدیک جب یہ طہارتِ مطلقہ ہے تو یہ وضو کی طرح ہوا، اب ایک شخص آیا تھا کہیں سے وضو کر کے اور آپ کو پانی نہیں ملا، آپ نے کیا کر لیا ہے؟ تیمم کر لیا ہے، اب آپ اس کے امامت کروا سکتے ہیں، نماز پڑھا سکتے ہیں بھئی، وہ آپ امام بن جائیں، وہ مقتدی، اس لیے کہ دونوں کی طہارت کامل درجے کی ہے، آپ کی بھی طہارت جو تیمم سے ہے وہ طہارتِ مطلقہ ہے کامل، اور اس کی بھی جو طہارت وضو سے آئی وہ بھی کیا ہے؟ کامل، تو تیمم کرنے والا کیا کر سکتا ہے؟ وضو کرنے والوں کی امامت کر سکتا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ تیمم طہارتِ ضروریہ ہے، طہارتِ مطلقہ، یہ ضرورت کی بناء پر ہے، لہٰذا یہ طہارت ناقص درجے کی ہوئی اور وضو والے کی طہارت کامل درجے کی ہوئی اور ناقص والا کامل طہارت والے کی امامت نہیں کر سکتا، ورنہ تو امام کیا لازم آئے گا؟ جی؟ امام کا ناقص طہارت پر ہونا لازم آئے گا اور مقتدی کا کامل طہارت پر ہونا لازم آئے گا تو امام ادنیٰ ہو گیا اور مقتدی کیا ہوا؟ اعلیٰ ہوا، جبکہ ہمارے نزدیک کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "وَإِمَامَةِ الْمُتَيَمِّمِ لِلْمُتَوَضِّئِينَ" اور امامت کرنا تیمم کرنے والے کی وضو کرنے والوں کی "وَجَوَازِهِ بِدُونِ خَوْفِ تَلَفِ النَّفْسِ أَوْ الْعُضْوِ بِالْوُضُوءِ" بھئی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہمارے نزدیک ہمارا یہ مسئلہ ہے کہ اگر پانی نہ ملے تو بھی تیمم کرو، اگر پانی تو مل رہا ہے لیکن آپ کو خوف ہے کہ اگر اتنی شدید سردی ہے کہ میں نے اس پانی اتنا ٹھنڈا پانی، اتنی سردی، میں نے وضو کیا تو میں ہلاک ہی مر جاؤں گا، پھر بھی کیا کر لو؟ تیمم کر لو، اگر آپ کو خوف یہ ہے کہ میں مروں گا تو نہیں لیکن کم از کم میرا ہاتھ ضرور یا پاؤں ضرور شل ہو جائے گا، برف ہے ہر طرف، اتنی سردی ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں ہمارے نزدیک؟ جان جانے کا خطرہ ہو تو بھی تیمم کر سکتے ہیں، عضو کے فوت ہونے کا خطرہ ہو پھر بھی کیا کر سکتے ہیں؟ تیمم کر سکتے ہیں۔ یا مولانا آپ بیمار یا عضو جانے کا خطرہ بھی نہیں ہے، خطرہ ہے میں بیمار ہو جاؤں گا اتنی سردی ہے تو پھر بھی کیا ہے ہمارے نزدیک تیمم کر سکتا ہے، یا مولانا بیمار پہلے سے ہی ہیں بیماری بڑھنے کا خدشہ ہے پھر بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ تیمم کر سکتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جان جانے یا عضو جانے کا خطرہ ہو پھر تو یہ ضرورت پیش آ گئی اور ضرورت کی تیمم کیا ہے؟ طہارتِ ضروریہ ہے تو وہ اب آپ کر سکتے ہیں، لیکن اگر صرف بیمار پڑنے کا خدشہ ہو یا بیماری زیادہ ہونے کا خدشہ ہو، تو پھر یہ ضرورت نہیں بھئی۔ صرف اس خطرے کی بناء پر آپ کیا کریں، تیمم کرنا شروع کر دیں وضو چھوڑ کر، یہ درست نہیں، یہ کوئی ضرورت نہیں ہے اور تیمم تو طہارتِ ضروریہ ہے۔ اور جب ضرورت نہیں تو تیمم بھی، طہارتِ ضروریہ بھی نہیں کر سکتے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ "وَجَوَازِهِ بِدُونِِ" اور جائز ہونا تیمم کا "بِدُونِ خَوْفِ تَلَفِ النَّفْسِ" بغیر خوف کے نفس کی ہلاکت کے "أَوْ الْعُضْوِ" یا عضو کی، بغیر عضو یا نفس کی ہلاکت کے خوف کے بھی تیمم کرنا جائز ہوگا "بِالْوُضُوءِ" تلف ہونا کس چیز کے ساتھ؟ وضو، یعنی تلف، جان جانے یا عضو جانے کا خوف ہے وضو کے ساتھ۔ "وَجَوَازِهِ لِلْعِيدِ وَالْجَنَازَةِ" اور جائز ہونا تیمم کا عید کے لیے اور نماز جنازہ کے لیے۔ نماز عید اور نماز جنازہ، بھئی ہمارے نزدیک کیا ہے؟ عید کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ کا وضو نہیں، تو آپ اگر وضو کرنے جاتے ہیں تو نماز عید نکل جائے گی، تو کیا حکم ہے ہمارے نزدیک؟ وہیں پر کیا کر لو؟ تیمم کر لو، کیونکہ اس کی قضا نہیں۔ اس کی قضا نہیں۔ جب قضا نہیں ہے، تو پھر کیا کریں گے؟ یہ تو نکل جائے گی، لہٰذا وہیں تیمم کر لو، ساتھ شریک ہو جاؤ۔ جنازہ ہے بھئی، جنازے کی بھی قضا کوئی نہیں، ایک دفعہ نکل گیا تو نکل گیا، تو لہٰذا اب اگر حدث ہے اور آپ کو خوف ہے کہ میں وضو کرنے جاؤں گا تو نماز جنازہ کیا ہو جائے گی؟ فوت ہو جائے گی، پھر فوراً کیا کر لیں وہاں پر؟ تیمم کر لیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہمارے نزدیک کیا ہے؟ نماز عید تو واجب ہے اور جنازہ کیا ہے؟ فرضِ کفایہ ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے، تو دیکھا، تو یہ ان کی قضا نہیں، لہٰذا اب تیمم کیا جائے گا بھئی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان کے نزدیک یہ فرض نہیں، جب فرض نہیں تو ضرورت نہیں تیمم کی، طہارت کی، جب طہارت کی ضرورت نہیں تو ان کے لیے تیمم کرنا بھی جائز نہیں ہوگا، تیمم نہیں کر سکتے۔ "وَجَوَازِهِ بِنِيَّةِ الطَّهَارَةِ" نیز ہمارے نزدیک مولانا، اور اسی طرح اس مسئلے میں کہ طہارت کے نیت کے ساتھ اس کا جائز ہونا، تیمم کا جائز ہونا طہارت کی نیت کے ساتھ۔ ہمارے نزدیک جائز ہے، ان کے نزدیک جائز، کیونکہ ہمارے نزدیک تیمم کیا ہے؟ طہارتِ مطلقہ ہے اور طہارتِ مطلقہ وضو کی طرح ہے، تو جب وضو بھی کرتے ہیں کیا نیت مثلاً کرتے ہیں؟ پاکی کی نیت، تو تیمم کے لیے بھی کیا کر لیں گے؟ ہاں، تیمم میں ضروری ہے نیت، وضو میں نیت ضروری نہیں۔ تو بس تیمم میں طہارت کی نیت کے ساتھ بھی تیمم کرنا جائز، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تو طہارتِ ضروریہ ہے، لہٰذا ضرورت کی بناء پر، نہیں، لہٰذا جب نیت کریں گے تو مطلق طہارت کی نیت نہیں کریں گے، بلکہ اس فرض کے لیے میں تیمم کر رہا ہوں، یہ نیت کریں گے جس کو آپ نے کیا کرنا ہے اس تیمم سے، جس کی بناء پر ضرورت پیش آئی ہے اس کی نیت کریں کہ میں اس فرض کے لیے کیا کر رہا ہوں؟ تیمم کر رہا ہوں، جبکہ ہمارے نزدیک اس فرض کے لیے کہنے کی، اس کی نیت ضروری نہیں بلکہ کیا ہے؟ مطلق طہارت کی نیت کے ساتھ تیمم صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 34 of 123