گذشتہ سبق میں، میں نے آپ کو بتلایا تھا لفظ استعارہ کے بارے میں کہ لفظ استعارہ استعمال ہوتا ہے اصول فقہ کے اندر بھی اور علم بلاغت وغیرہ میں بھی۔
اصول فقہ والوں کے نزدیک استعارہ کی تعریف اور ہے۔ ان کے نزدیک استعارہ اور مجاز مترادف ہیں۔ مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو استعمال کرنا بمعنی غیر موضوع لہ میں اور یہی استعارہ ہے۔ لفظ کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا کیا ہے؟ مجاز۔
جبکہ علم بلاغت والوں کے نزدیک استعارہ مجاز کے مترادف نہیں بلکہ مجاز کی قسم ہے۔ مجاز تو کس کو کہتے تھے؟ لفظ کو بمعنی غیر موضوع لہ میں استعمال کرنا۔ پھر یہ جو معنی موضوع لہ ہے اور غیر موضوع لہ—ایک وہ معنی جس کے لیے اس کو وضع کیا تھا اور استعمال کس میں کر رہے ہیں؟ غیر موضوع لہ میں—ان دونوں میں کوئی اتصال ہوگا، کوئی مناسبت ہوگی، بغیر وجہ کے نہیں استعمال ہوتا، دونوں میں کیا ہوتی ہے ہمیشہ کوئی مناسبت ہوتی ہے۔
تو یہ مناسبت اگر تشبیہ کی ہو، علاقہ دونوں میں تشبیہ کا ہو، نسبت دونوں میں تشبیہ والی ہو تو پھر یہ کہلاتا ہے استعارہ، اور اگر تشبیہ نہ ہو تو پھر یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز مرسل کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
مثلاً میں کہتا ہوں، لفظ اسد بولتا ہوں اور اس سے مراد کیا لیتا ہوں؟ بہادر آدمی۔ اب لفظ اسد تو وضع ہے حیوان مفترس، ایک چیرنے پھاڑنے والے حیوان کے لیے، شیر جسے آپ کہتے ہیں، اور تو یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے، لیکن میں اس کو کس کے لیے استعمال کرتا ہوں؟ بمعنی غیر موضوع لہ، شجاع کے لیے۔ تو یہ کیا ہے؟ درمیان میں علاقہ کون سا ہے؟ تشبیہ والا علاقہ ہے دونوں میں، سمجھ میں آیا؟ یعنی میں اس شخص کو تشبیہ دے رہا ہوں شیر کے ساتھ بہادری کے اندر۔
تو علاقہ تشبیہ کا آیا۔ میں کہتا ہوں "زید اسد"، کیا معنیٰ؟ "زید رجل شجاع" بھئی! تو اصل میں ہے "زید کالاسد"، میں نے زید کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ، یعنی زید شیر جیسا ہے، تو علاقہ... سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اسد بول کر جب رجل شجاع مراد لیا تو یہ ہے استعارہ علم بلاغت والوں کے نزدیک۔ جبکہ مجاز مرسل میں اور علاقے ہوں گے، کل بول کر جز مراد ہوگا، کبھی جز بول کر کل مراد ہوگا بھئی، جیسے قرآن میں ہے: "يجعلون اصابعهم في آذانهم من الصواعق حذر الموت"، تو دیکھا؟ ڈالتے ہیں اپنی انگلیوں کو کانوں میں، بھئی انگلیاں ڈالتے ہیں یا پوریں اگلے بھئی؟ انگلی پوری کان میں جا سکتی ہے بھئی؟ نہیں، تو کل بول کر کیا مراد ہے؟ جز مراد ہے، سمجھ میں آیا؟
اسی طرح کبھی جز بول کر کیا مراد ہوتا ہے؟ کل۔ کبھی ظرف بول کر مظروف مراد ہوتا ہے، کبھی مظروف بول کر ظرف مراد ہوتا ہے۔ آپ سے کوئی کہتا ہے پانی پی لیجیے، آپ کہتے ہیں میں نے ایک گلاس پی لیا ہے۔ میں نے ایک گلاس پی لیا ہے۔ بھئی آپ نے گلاس پیا ہے یا پانی پیا ہے؟ پانی پیا ہے، لیکن آپ کہہ تو رہے ہیں میں نے گلاس پی لیا ہے۔
جی؟ پیا تو پانی ہے لیکن وہ گلاس اس کے لیے کیا ہے؟ ظرف ہے، تو ظرف بول کر کیا مراد ہے؟ مظروف، یا عام استعمال کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کو کہتے ہیں مجاز مرسل بھئی، یہ تقریباً 25 علاقے علماء نے شمار کیے ہیں جو آئندہ آپ پڑھیں گے اگلے سال کتابوں میں بھئی۔
تو یہ مجاز مرسل ہے۔ پھر آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے سبب، ایک ہے مسبب، ایک ہے علت، ایک ہے معلول۔ میں نے بتلایا تھا علت وہ ہے جو مفضی الی الشيء ہو بغیر واسطے کے۔ جب بھی علت پائی جائے گی، کیا پایا جائے گا؟ معلول پایا جائے گا۔
جیسے سورج کا نکلنا علت ہے دن کے لیے، جب بھی سورج نکلے گا، دن ہوگا۔ اور ایک ہے سبب۔ سبب وہ ہے جو مفضی الی الشيء ہو واسطے کے ساتھ، یعنی درمیان میں واسطے آئیں گے، اور اس کے لیے میں نے بہترین مثال ایک شعر ذکر کیا تھا:
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
اب دیکھیے، شہد کی مکھی کا باغ میں جانا، یہ سبب ہے پروانے کی موت کا، علت نہیں کہ جب بھی شہد کی مکھی جائے گی، کیا پروانے کی موت... سبب ہے، درمیان میں کئی واسطے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کئی واسطے ہیں۔
شہد کی مکھی باغ میں جائے گی، چھتا بنائے گی، پھولوں کا رس چوسے گی اور پھر چھتے کے اندر کیا کرے گی؟ شہد بنائے گی اور پھر انسان آئے گا، دیکھو کتنے واسطے بن رہے ہیں! پھر انسان آئے گا، پھر انسان شہد اس میں سے نکالے گا، پھر کیا کرے گا؟ چھتا خالی بچ جائے گا، اس کے کیا کرے گا؟ موم بنائے گا، پھر اس سے موم بتی بنائے گا، پھر اس کو جلائے گا، پھر پروانے آ کر اس پر مریں گے، سمجھ میں آیا؟ تو کتنے ہی واسطے آ گئے بھئی!
اب ایک ہے علت، جب بھی پائی جائے گی، معلول پایا جائے گا، لیکن سبب جب بھی پایا جائے، مسبب کا پایا جانا ضروری نہیں، کبھی ہوگا اور کبھی نہیں ہوگا۔
تو یہاں مولانا اتصال ہے، علت اور معلول میں مناسبت ہے، انہوں نے کیا کہا مولانا؟ جب بھی لفظ کو بمعنی غیر موضوع لہ میں استعمال کریں، درمیان میں کیا چاہیے؟ علاقہ چاہیے، اتصال چاہیے، نسبت چاہیے مولانا۔ یہ احکامِ شریعت میں دو طریقے سے استعارہ ہوگا، کبھی مولانا کس سے؟ علت اور معلول کے درمیان اتصال ہے، اس وجہ سے استعارہ کیا جائے گا، اور کبھی سبب اور مسبب کے درمیان بھی اتصال ہے، اس کی وجہ سے کیا کیا جائے گا؟ استعارہ کیا جائے گا، سمجھ میں آیا؟
جیسے اسد میں اور زید کے اندر کیا تھا؟ اتصال تھا کس چیز کے اندر؟ شجاعت میں، کس چیز میں؟ شجاعت میں۔ تو یہاں پر بھی علت معلول کے اندر میں بھی ان کے درمیان بھی اتصال، سبب مسبب میں بھی، تو احکامِ شریعت میں ان دو کے اندر استعارہ آئے گا بھئی، استعارہ آئے گا۔
تو یہاں پر یاد رکھنا، علت بول کر معلول، دونوں علت کے معلول میں دونوں طرف سے استعارہ جائز ہے۔ علت بول کر معلول بھی مراد ہو سکتا ہے اور معلول بول کر علت بھی مراد ہو سکتی ہے، لیکن سبب اور مسبب میں سبب بول کر مسبب تو مراد ہو سکتا ہے، لیکن مسبب بول کر سبب مراد نہیں ہو سکتا، تو وہاں سبب مسبب میں استعارہ ایک جانب سے ہے، جبکہ علت معلول میں استعارہ دونوں جانب سے ہے، دونوں جانب سے ہے۔
تو سبب مسبب میں سبب اصل ہے، مسبب اس کی فرع، تو اصل بول کر فرع تو مراد لے سکتے ہیں، لیکن فرع بول کر اصل مراد نہیں لے سکتے، جبکہ علت اصل ہے، معلول فرع، یہاں پر علت، اصل بول کر فرع بھی مراد لے سکتے ہیں اور فرع بول کر اصل بھی مراد لے سکتے ہیں۔
اب یہاں پر ایک ضابطہ یاد رکھیں بھئی، کہ ملکیت، ملکیت مولانا، تقاضا کرتی ہے اجتماعِ مملوک کا ملک میں۔ ملکیت کیا تقاضا کرتی ہے؟ اجتماعِ مملوک کا ملک میں، عرف کے اندر مولانا، عرف کے اندر، کسی چیز کا مالک کسی شخص کو اسی وقت کہا جاتا ہے جب وہ پوری چیز اس کی ملک میں جمع ہو جائے۔
عرف میں کسی چیز کا مالک کسی شخص کو اسی وقت کہا جاتا ہے جب وہ پوری چیز اس کی ملک میں جمع ہو جائے۔ ایک شخص کہتا ہے: "میں غلام کا مالک ہوں"، کیا معنیٰ؟ پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع ہے، پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع ہے۔ اگر آدھے غلام کا مالک ہے تو پھر وہ اس کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ "میں غلام کا مالک ہوں"، کیونکہ پورا غلام اس کی ملکیت میں جمع نہیں ہے، تو ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعِ مملوک کا کس میں؟ ملک میں۔
جبکہ ایک ہے شراء، خریدنا، شراء تقاضا نہیں کرتی اجتماعِ اشتراء کا ملک میں، جو چیز خریدی گئی ہے بھئی وہ کیا ہے؟ آپ خریدنے والے ہیں، آپ کیا کہلائیں گے؟ مشتری، جس چیز کو خریدا ہے وہ کیا ہے؟ اشتراء، تو شراء تقاضا نہیں کرتا اجتماعِ اشتراء کا ملک میں۔
کسی چیز کا خریدار آپ کو خریدنے والا، اسی وقت نہیں کہا جائے گا کہ جب وہ سارا اشتراء آپ کی ملک میں جمع ہو جائے، بلکہ شراء تقاضا کرتا ہے اجتماعِ اشتراء کا عقد میں، کس میں؟ عقد میں، عقد میں اس کو جمع ہونا چاہیے بھئی، عقد میں جمع ہو، اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو!
مثلاً آپ نے ایک کتاب، ایک غلام کو نصف خریدا، غلام کو نصف خریدا، پھر نصف خرید کر بیچ دیا، پھر باقی کا نصف بھی خرید لیا، تو اب سارا غلام آپ کے عقد میں جمع ہو گیا۔
اگرچہ متفرق طور پر ہوا، لیکن کیا ہوا؟ پورا جمع، تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نہ ہو، لیکن کیا ہوا؟ پورا غلام آپ کے عقد میں... نصف پہلے آیا تھا اور نصف بعد میں، تو اب ملک، وہ اشتراء ملک کے اندر تو اس وقت پورا نہیں، کیونکہ آدھا تو آپ خرید کر کیا کر چکے ہیں؟ بیچ چکے ہیں، لیکن اور اس وقت صرف کتنے کے مالک ہیں؟ آدھے کے، لیکن شراء جو ہے وہ تقاضا کس چیز کا کرتی ہے؟ اجتماعِ اشتراء کا کس چیز میں؟ عقد میں، کہ عقد میں وہ چیز پوری جمع ہونی چاہیے، اگرچہ متفرق طور پر ہی کیوں نہ ہو، تو یہاں پر بھی وہ پورا غلام آپ کے عقد میں جمع ہو چکا ہے، اگرچہ متفرق ہی ہے، پہلے صرف آدھا تھا اور باقی آدھا بعد میں آیا، لیکن عقد میں تو کیا ہوا؟ پورا غلام جمع ہو گیا، اگرچہ متفرق طور پر جمع ہوا، پورا اگرچہ متفرق طور پر...
تو اب آپ کو غلام کو کیا کہا جائے گا؟ غلام خریدنے والا، کیا کہا جائے گا؟ غلام خریدنے والا کہا جائے گا کہ یہ پورا غلام خریدنے والا ہے، پورا غلام خریدنے والا ہے۔
صورت سمجھ میں آئی؟ عرف میں بھی اسی طرح ہے مولانا، عرف میں، عرف میں بھی اگر آپ غور کریں تو اسی طرح ہے، چنانچہ امام ابو بکر اسکاف بھئی، یہ بلخ میں امام تھے بھئی، جب طلباء کے سامنے یہ مسئلہ آیا کرتا تھا تو اپنے دربان کو بلایا کرتے بھئی، دروازے پر دربان ہوتا، عام دیہاتی سادہ سا آدمی تھا، اسحاق نام تھا، اس سے آتے، وہ آتا، اس سے پوچھتے: "هل ملكت مائتي درهم؟" کیا تو دو سو درہم کا مالک بنا ہے؟ وہ کہتا: "نہیں۔"
دو سو درہم کا میں کبھی مالک... کیوں؟ کیونکہ دو سو درہم کبھی اکٹھے اس کی ملک میں نہیں آئے تھے، اگرچہ زندگی بھر میں تو وہ ہو سکتا ہے اس نے کیا، تھوڑے تھوڑے کر کے ہزاروں ہی کا مالک بنا ہے، لیکن عرف کے اندر مالک بننا، کسی چیز کا مالک ہونا تبھی کہلاتا ہے جبکہ وہ پوری چیز اس کی ملک میں کیا ہو جائے؟ جمع ہو جائے، تو جب اس سے پوچھتے "هل ملكت مائتي درهم؟" طلباء کے سامنے، عام دیہاتی سا آدمی ہے، طلباء کو عرف سمجھاتے کہ عرف میں اس طرح ہے مسئلہ، کہ "هل ملكت مائتي درهم؟" کیا تو دو سو درہم کا مالک بنا ہے؟ وہ کہتا: "نہیں۔" کبھی بھی میں مالک نہیں بنا۔
پھر اسی وقت اس سے پوچھتے: "هل اشتريت بمائتي درهم شيئا؟" کیا تو نے دو سو درہم کی خریداری کی ہے؟ وہ کہتا: "ہاں۔"
دو سو درہم میں کی ہے بھئی، متفرق طور پر دو سو درہم نہیں بلکہ بہت زیادہ خریداری کی ہے میں نے، تو عرف میں خریدنے کے اندر اس چیز کا جمع ہونا ضروری نہیں، بلکہ تھوڑا تھوڑا بھی ہوتا رہے تو کیا کہا جاتا ہے؟ اس چیز کا خریدنے والا کہا جاتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آئی؟
صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اس مسئلے کو... تو یہ امام ابو بکر اسکاف جو بلخ کے علاقے میں تھے اور ان کے بواب کا کیا نام تھا، دربان کا؟ اسحاق، تو یہ مسئلہ اسکافیہ یا مسئلہ اسحاقیہ کے نام سے مشہور ہے، مسئلہ اسکافیہ یا مسئلہ اسحاقیہ کے نام سے مشہور ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو امام صاحب پہلے اس سے کیا پوچھتے؟ "کیا تو دو سو درہم کا مالک بنا ہے؟" وہ کہتا: "نہیں۔" کیونکہ عرف میں دو سو درہم کا مالک کسے کہیں گے جبکہ دو سو درہم اکٹھے اس کی ملک میں... اور اگر اس سے پوچھتے: "کیا تو نے دو سو درہم کی خریداری کی ہے؟" اب بات سمجھ میں آئے گی آپ کو، "کیا تو نے دو سو درہم کی خریداری کی ہے؟" وہ کیا کہے گا؟
آپ سے میں پوچھتا ہوں، کیا آپ نے 20,000 کی خریداری کی ہے؟ آپ کہیں گے: "20,000 سے تو کئی گنا ہم نے زیادہ آج تک خریداری کی ہوگی ساری ملا کر۔" تو آپ کیا کہیں گے؟ "ہاں، میں نے خریداری کی ہے۔" لیکن اگر میں آپ کو کہتا ہوں: "کیا 20,000 کے مالک بنے ہو؟" تو آپ کیا کہیں گے؟ "نہیں بھئی، 20,000 کے مالک نہیں بنے۔"
البتہ 20,000 کی میں خریداری بلکہ اس سے بھی زیادہ کی... بھئی آپ تھوڑے تھوڑے خرچ کرتے رہتے ہیں تو یہ کتنے ہی بن جاتے ہیں!
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو ضابطہ کیا ہوا؟ ملکیت تقاضا کرتی ہے اجتماعِ مملوک کا کس کے اندر؟ ملک میں، جبکہ شراء تقاضا نہیں کرتی کس چیز کا؟ اجتماعِ اشتراء کا ملک میں، ہاں شراء تقاضا کرتی ہے اجتماعِ اشتراء کا عقد میں، اگرچہ متفرق ہی کیوں نہ ہو۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: مثال الاول، پہلے کی مثال، جہاں اتصال پایا جا رہا ہے علت اور معلول میں، علت اور حکم میں، معلول یہاں کیا ہے؟ حکم ہے۔ اذا، ایک شخص کہتا ہے: "ان ملكت عبدا فهو حر"، اگر میں مالک بنا کسی غلام کا تو وہ آزاد ہے، "فملك نصف العبد"، تو وہ مالک بنا کس کا؟ آدھے غلام کا، "فباعه"، اس نے اس کو بیچ دیا، "ثم ملك النصف الآخر"، پھر وہ مالک بنا نصف آخر کا، باقی آدھے کا، "لم يعتق اذ لم يجتمع في ملكه"، "لم يعتق" مولانا اس کو معروف کا صیغہ پڑھیں، آزاد ہونا، آزاد ہونا، "لم يعتق"، وہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔
بھئی اس نے پہلے ایک شخص نے کیا کیا بھئی؟ "ان ملكت عبدا فهو حر"، اگر میں غلام کا مالک بنا تو آزاد ہے، اب اس نے کیا کیا؟ آدھا غلام خرید لیا اور آدھا خرید کر بیچ دیا، پھر باقی کا آدھا بھی خرید لیا، اب مولانا یہ باقی آدھا آزاد نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس نے "ملكت" کہا تھا اور ملکیت تقاضا کرتی ہے کس چیز کا؟ اجتماعِ مملوک کا ملک میں، اور یہاں اجتماعِ مملوک ملک میں نہیں، پورا غلام اس وقت اس کی ملک میں نہیں، لہٰذا وہ باقی آدھا غلام آزاد نہیں ہوگا، اس نے تو "ملكت" کہا تھا جبکہ "میں پورے غلام کا مالک ہوں تو وہ آزاد ہے"، اور یہ پورے غلام کا مالک نہیں ہوا۔
"لم يعتق"، غلام آزاد نہیں ہوگا، "اذ لم يجتمع في ملكه كل العبد"، اس لیے کہ جمع نہیں ہوا اس کی ملکیت میں پورا کا پورا غلام۔
"ولو قال"، اور اگر اس نے یوں کہا: "ان اشتريت عبدا فهو حر"، اگر میں نے غلام کو خریدا تو وہ کیا ہے؟ آزاد ہے، اب "فاشتري نصف العبد"، پس اس نے خرید لیا نصف غلام کو، "فباعه"، اس کو بیچ دیا، "ثم اشترى النصف الآخر"، پھر نصف آخر، باقی نصف کو بھی خرید لیا، "نصفِ آخر باقی نصف کو بھی خرید لیا، عَتَقَ النِّصْفُ الثَّانِي تو آدھا نصف کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، آزاد ہو جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟
کیوں؟ کیونکہ اس نے شراء کا، إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا اگر میں نے غلام خریدا۔ اب اس وقت آدھا اس نے پہلے خریدا اور بیچ دیا اور باقی آدھا پھر خریدا، تو اب پورا غلام تو اس کی ملکیت میں جمع نہیں، لیکن کوئی بات نہیں، اس نے کیسے ذکر کیا تھا؟ شراء، اور شراء تقاضا نہیں کرتی اجتماعِ مشتریٰ کا۔ خریدی ہوئی چیز کا ملکیت میں پورا جمع ہونے کا تقاضا؟ اور یہاں بھی پورا غلام کوئی نہیں، کوئی حرج نہیں، ہاں البتہ شراء تقاضا کس چیز کا کرتی ہے؟ اجتماعِ مشتریٰ کا عقد میں، اگرچہ متفرق ہی، اور پورا غلام اس کے عقد میں کیا ہو چکا ہے؟ جمع ہو چکا ہے، اگرچہ متفرق طور پر ہی، تو جیسے ہی پورا ہوا عقد کے اندر غلام، تو وہ حصہ جس کا وہ مالک تھا، وہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ تو آدھ، نصفِ ثانی آزاد ہو جائے گا، نصفِ ثانی کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب یاد رکھو مولانا! شراء علت ہے اور ملکیت، مالک بننا یہ معلول ہے۔ جب بھی آپ کوئی چیز خریدیں گے، کیا بن جائیں گے اس کے؟ مالک، تو شراء علت ہے اور مالک ہونا اس کا حکم ہے یعنی اس کا معلول ہے، معلول ہے۔ تو جب بھی شراء پائی جائے گی، کیا پایا جائے گا؟ مالک ہونا بھی پایا جائے گا۔ تو یہ علت ہوئی اس کے لیے، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں، لہٰذا چونکہ شراء علت ہے اور مالک ہونا، ملک جو ہے معلول ہے اور علت، تو یہ علت معلول ہوئے، اور علت اور معلول میں استعارہ دونوں جانب سے صحیح ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ملک بول کر شراء مراد لے لے یا شراء بول کر ملک مراد لے لے، تو دونوں صحیح ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ صحیح، شراء بول کر ملک بھی مراد ہو سکتی ہے اور ملک بول کر، کیونکہ ملک، شراء کیا ہے؟ ملک کے لیے علت ہے، اور علت اور معلول کے اندر استعارہ دونوں جانب سے ہوتا ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے، وَلَوْ عَنَى بِالْمِلْكِ الشِّرَاءَ، اگر اس شخص نے ارادہ کیا ملک کے ساتھ کس چیز کا؟ شراء کا، أَوْ بِالشِّرَاءِ الْمِلْكَ، یا شراء کے ساتھ کس کا ارادہ کیا؟ ملک کا، صَحَّتْ نِيَّتُهُ، تو اس کی نیت کیا ہے؟ صحیح ہے، بِطَرِيقِ الْمَجَازِ، کس طریقے پر؟ مجاز کے طریقے پر، لِأَنَّ الشِّرَاءَ عِلَّةُ الْمِلْكِ، اس لیے کہ شراء ملک کی علت ہے، وَالْمِلْكُ حُكْمُهُ، اور ملک اس کا حکم ہے، یعنی اس کا معلول ہے، فَعَمَّتِ الِاسْتِعَارَةُ بَيْنَ الْعِلَّةِ وَالْمَعْلُولِ، پس عام ہوا استعارہ علت کے درمیان اور معلول کے درمیان، مِنَ الطَّرَفَيْنِ، دونوں جانب سے۔ لہٰذا ایک آدمی کہتا ہے إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، کہتا ہے بھئی یہاں مَلَكْتُ سے میں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا؟ اشْتَرَيْتُك۔ یا ایک آدمی کہتا ہے إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، اور کیا کہتا ہے؟ میں نے اشْتَرَيْتُ سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ ملک کا ارادہ کیا ہے، مَلَكْتُ کا ارادہ کیا ہے، تو اس کا، اس کی نیت، نیت یہ ہے، تو کہتے ہیں ٹھیک ہے استعارہ، اس کیا کہا جائے گا کہ یہ جی، تو دونوں جانب سے استعارہ صحیح ہے، مگر یاد رکھو! اب مفتی کے پاس فتویٰ لینے آئے، فتویٰ لینے آئے تو فتویٰ اس کے قول کے مطابق، اس کی نیت کے مطابق دیا جائے گا۔
اس کے، لیکن اگر معاملہ بات جاتی ہے قاضی تک، تو قاضی اس صورت میں جس میں تہمت کا خدشہ ہو، یعنی جس صورت میں اس کے لیے آسانی ہو، وہ اخ، یہ شخص ایسی صورت بتا رہا، بتا رہا ہے جس سے اس کو آسانی ہو رہی ہے، تو قاضی پھر اس پر فیصلہ نہیں کرے گا، قاضی اس کے خلاف فیصلہ دے گا، کیسے؟ صورتِ مسئلہ دیکھو پھر بات سمجھ میں آئے گی۔
مثلاً ایک آدمی کہتا ہے: إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، اگر میں غلام کا مالک بنا تو غلام آزاد ہے۔ آپ کھڑے ہوئے تھے، آپ کو پتا چلا، اچھا، چلو بھئی! اس کو آزماتے ہیں، آپ نے اپنا ایک غلام فوراً اس کو دے دیا، ہدیہ، ہبہ کر دیا مولانا، وہ غلام کا مالک بنا یا نہیں؟ غلام کو فوراً کیا ہونا چاہیے؟ آزاد، لیکن وہ کہتا ہے: نہیں بھئی! میں نے مَلَكْتُ بول کر اشْتَرَيْتُ کا ارادہ کیا تھا۔ سمجھ میں آیا؟ اس نے اصول الشاشی پڑھی ہوئی تھی، اس نے کیا کہا؟ میں نے مَلَكْتُ سے کس چیز کا ارادہ کیا تھا؟ اشْتَرَيْتُ کا ارادہ کیا تھا، تو کہتے ہیں مولانا! اس کی بات ٹھیک ہے، یہاں کیا معنیٰ لیا جائے گا اب؟ اب مفتی کے پاس آپ چلے گئے مفتی صاحب کے پاس فوراً، بھئی دیکھو! اس نے مَلَكْتُ کہا تھا اور اس کے غ، کہ مالک بنا غلام کا، اور میں نے غلام دے دیا، یہ مالک بن گیا، لیکن یہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے مَلَكْتُ سے کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ اشْتَرَيْتُ، مفتی صاحب اس کے قول پر فتویٰ دیں گے۔ کہ جو اس کی نیت ہے، سمجھ میں آیا؟ دیانۃً کیا ہے؟ اس کی تصدیق کرے گا، مفتی کیا کرے گا اس کی؟ تصدیق کرے گا، اور یہ باقی معاملہ جو بھئی وہ کہہ رہا ہے ہم اس پر فتویٰ دیں گے، باقی اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ واقعی اس کی یہ نیت تھی یا نیت نہیں تھی، یہ اللہ جانتے ہیں، اس کے مطابق اس کے ساتھ کیا ہوگا؟ جی؟ سلوک ہوگا جی جی، بدلہ ملے گا اس کے مطابق۔
لیکن مفتی یہ کہے کہ نہیں بھئی! تم اپنے لیے آسانی طلب کر رہے ہو تاکہ غلام نہ جائے ہاتھ سے، نہیں بھئی! مفتی ایسا، لیکن اگر قاضی کے پاس چلا جاتا ہے اور یہاں پر وہ صورت اختیار کر رہا ہے جس میں اس آدمی کو کیا ہے؟ آسانی ہے، کیا ہے؟ آسانی ہے، اس کے ہاتھ سے غلام نہیں نکلتا، تو اب قاضی فیصلہ دے گا غلام کے آزاد ہونے کا، غلام کے آزاد ہونے کا، کیونکہ وہ شخص اپنے لیے آسانی طلب کر رہا ہے، تہمت کا خدشہ ہے، کس چیز کا؟ کہ یہ اس نے کیا کیا ہے؟ جھوٹ بولا ہے، کیوں جھوٹ بولا ہے؟ اپنی آسانی کے لیے، تو تہمت کا خدشہ آ گیا، اس وجہ سے قاضی اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا، اس کی تصدیق نہیں کرے گا قاضی، یہ اس وجہ سے نہیں کہ استعارہ صحیح نہیں، استعارہ تو صحیح ہے مولانا! صرف اس وجہ سے کہ تہمت کا خدشہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یا مولانا! اس کا عکس کوئی شخص کہتا ہے، کہتا ہے: إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، اس نے آدھا غلام خریدا اور پھر اس کو بیچ دیا، بقیہ آدھا خریدا، تو وہ کیا ہونا چاہیے؟ آپ کہیں گے: لو بھئی! آپ کا تو یہ آدھا غلام آزاد ہوا، آپ نے کہا تھا إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ، وہ کہے گا: نہیں! میں نے اشْتَرَيْتُ سے کس چیز کا ارادہ کیا تھا؟ مَلَكْتُ کا ارادہ کیا تھا، اور پورا غلام تو اس وقت میرے ملک میں جمع نہیں، لہٰذا یہ آزاد بھی نہیں۔ تو مفتی کے پاس بات گئی تو مفتی اس کی تصدیق کرے گا کیونکہ استعارہ صحیح ہے، لیکن قاضی کے پاس گئی بات تو قاضی اس کی تصدیق نہیں کرے گا کیونکہ اس میں خطرہ ہے، کس چیز کا؟ تہمت کا، تہمت کا معنیٰ پایا۔
إِلَّا، تو کہتے ہیں: فَعَمَّتِ الِاسْتِعَارَةُ بَيْنَ الْعِلَّةِ وَالْمَعْلُولِ مِنَ الطَّرَفَيْنِ، تو استعارہ عام ہے علت اور معلول کے درمیان دونوں طرف سے، إِلَّا، مگر اس صورت میں، أَنَّهُ فِيمَا يَكُونُ تَخْفِيفًا، مگر اس صورت کے اندر جس کے اندر تخفیف ہو فِي حَقِّهِ، کہنے والے کے حق میں، لَا يُصَدَّقُ، اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی فِي حَقِّ الْقَضَاءِ، قضاء کے حق میں خاص طور پر بھئی! یعنی قضاء کے اعتبار سے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، لِمَكَانِ التُّهْمَةِ، کس وجہ سے؟ تہمت کے معنیٰ کے پائے جانے کی وجہ سے، لَا لِعَدَمِ صِحَّةِ الِاسْتِعَارَةِ، اس وجہ سے نہیں کہ استعارہ ہی صحیح نہیں، استعارہ تو صحیح ہے لیکن تہمت کا خدشہ ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ چلیے مولانا! بس ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔"...