گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا
کہ حقیقت تین قسم پر ہے مولانا: متعذّرہ، مہجورہ اور مستعملہ۔
اگر اگر لفظ کے معنی حقیقی پر عمل کرنا مشکل ہو تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ حقیقتِ متعذّرہ۔ اور اگر اس کے معنی حقیقی پر عمل کرنا مشکل تو نہ ہو لیکن عرف میں یا شریعت میں متروک ہو، مہجور ہو تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ حقیقتِ مہجورہ۔ اور تیسرا ہے جو استعمال ہوتی ہو، وہ حقیقتِ یعنی اپنے معنی موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے بھئی۔
اور پہلے دو کے اندر حقیقتِ متعذّرہ اور مہجورہ کے اندر بھئی بالاتفاق کس کی طرف جائیں گے؟ معنی مجازی کی طرف۔ اور جب معنی مجازی کا ارادہ کر لیا جائے گا تو پھر ضابطہ ہے کہ حقیقت اور مجاز جمع نہیں ہو سکتے، تو پھر معنی حقیقی کا ارادہ نہیں ہوگا، معنی حقیقی کا ارادہ نہیں ہوگا۔
اور اگر حقیقتِ مستعملہ ہے، پھر اس کے لیے مولانا جو مجاز ہے، وہ مجاز اس سے اس سے مجاز بھی ہے، حقیقت بھی ہے۔ تو حقیقت مجاز سے زیادہ مشہور ہوگی یا حقیقت مجاز کے برابر ہوگی یا مجاز حقیقت سے زیادہ مشہور ہوگا۔ اگر زیادہ مشہور ہو تو یہ مجازِ متعارف ہے۔ یہ کیا ہے؟ مجازِ متعارف ہے، مشہور ہے۔
تو اگر مولانا حقیقت کے لیے مجازِ متعارف نہ ہو
یعنی چاہے اس کے برابر ہو مجاز یا اس سے کم ہو، دونوں صورتیں آ گئیں۔ تو جب حقیقت کے لیے مجازِ متعارف نہیں ہے تو پھر عمل کس پر کیا جائے گا؟ پھر تو حقیقت پر ہی عمل کیا جائے گا بالاتفاق۔ لیکن اگر حقیقت کے لیے کوئی مجازِ متعارف ہے تو پھر کس پر عمل کیا جائے گا؟ اس میں اختلاف ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں بھی حقیقت پر ہی عمل کیا جائے گا، کیونکہ حقیقت اولیٰ ہے کس سے؟ مجاز سے۔
اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت میں چونکہ مجازِ متعارف حقیقت بھی عمل ہوتا ہے اور مجاز بھی مشہور ہے، مجازِ متعارف ہے، تو اب عمل کیا جائے گا عمومِ مجاز پر، یعنی کوئی ایسا معنی مجازی لیا جائے گا جس میں حقیقت اور مجاز دونوں کیا ہو جائیں؟ داخل ہو جائیں جی۔
اور اس پر پھر کئی مثالیں ذکر ہوئی تھیں۔
آج آپ کو بتلائیں گے بھئی
کہ یہ بات تو یہاں تک یہ بات تو طے ہو گئی مولانا کہ مجاز فرع ہے حقیقت کی۔ حقیقت اصل ہے اور مجاز اس کی فرع ہے، فرع ہے۔
یعنی حقیقت اصل ہے اور مجاز اس کا خلیفہ ہے، مجاز اس کا خلیفہ ہے۔
اب یہ مجاز جو خلیفہ ہے حقیقت کا، کس چیز میں خلیفہ ہے بھئی؟ کس اعتبار سے؟ تو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا لفظوں کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟
لفظ کے اعتبار سے اس کا خلیفہ ہے، خلیفہ ہے۔
یعنی وہ جو لفظ جس پر آپ نے یعنی تکلم کے اعتبار سے، یعنی وہ لفظ صحیح ہیں، ان کی نحوی ترکیب صحیح ہے، کلامِ عربی درست ہے، تو پھر مجاز پر عمل کیا جائے گا بھئی۔
حقیقت چاہے ممکن ہو، حقیقی معنی چاہے ممکن ہو، چاہے ممکن نہ ہو، یہ نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔
مثالوں سے بات زیادہ سمجھ میں آئے گی، آگے آ جائیں گی بھئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا حکم کے اعتبار سے۔ یعنی معنی حقیقی فی ذاتہ ممکن ہوگا تو پھر مجاز کی طرف جایا جا سکتے ہیں آپ، ورنہ مجاز کی طرف نہیں۔ اگر حقیقی معنی پر ممکن ہی نہیں ہے، وہ ہو ہی نہیں سکتا، تو جب اصل ہی نہیں ممکن تو خلیفہ بھی نہیں آئے گا، اس کی طرف نہیں جایا جائے گا، کلام لغو ہو جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
تو امام صاحب کے نزدیک مولانا مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا۔ صاحبین کے نزدیک بھی مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا۔ لیکن کس چیز میں ہے؟ اس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا کس چیز میں؟ لفظ کے اعتبار سے۔ اور صاحبین کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے حقیقت کا کس اعتبار سے؟ حکم کے اعتبار سے، حکم کے اعتبار سے۔
تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ حکم کو نہیں دیکھنا، لفظ کو دیکھنا ہے۔ حکم یعنی معنی اس کا ممکن ہو یا ممکن نہ ہو، اس کو نہیں دیکھنا، بلکہ کس کو دیکھنا ہے؟ لفظ کو، کہ یہ لفظ کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے یا نہیں، اس پر تکلم صحیح ہے یا نہیں، یہ نحوی ترکیب صحیح ہے یا نہیں۔ اگر نحوی ترکیب صحیح ہو، پھر چاہے معنی حقیقی ممکن ہو یا نہ ممکن ہو، پھر کیا کر سکتے ہیں آپ؟ مجاز کی طرف جا سکتے ہیں۔ جبکہ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ لفظوں کو نہیں دیکھنا، بلکہ اس کے حکم کو دیکھنا ہے، معنی کو دیکھنا ہے۔ اگر معنی ممکن ہو سکتا ہے تو اور لیکن کوئی مانع آ گیا، اب جب حقیقی معنی مراد نہیں لے سکتے تو پھر کس کی طرف چلے جائیں گے؟ مجاز کی طرف۔ لیکن اگر حقیقت ممکن ہی نہ ہو تو پھر مجاز کی طرف بھی نہیں جائیں گے۔
یہ بات سمجھ میں آ گئی؟
مثال اس کی یوں، مثال بہترین مثال ذکر کی مولانا صاحبِ کتاب نے۔ کہتے ہیں: ایک شخص ہے، اس کا غلام ہے ایک، اور غلام اس سے عمر میں بڑا ہے۔ غلام اس سے عمر میں بڑا ہے۔ اب اس غلام کو وہ شخص کہتا ہے: "ہٰذَا ابْنِی"، "یہ میرا بیٹا ہے"۔
یہ میرا بیٹا ہے۔ اب صاحبین فرماتے ہیں: دیکھو، یہاں تو غلام اس سے عمر میں بڑا ہے، تو یہاں حقیقی معنی ممکن ہے؟ کہ اس کا بیٹا بن سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے بھئی؟ تو یہاں حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے۔ اور تو یہ مولانا "ہٰذَا ابْنِی" کا ایک حقیقی معنی ہے کہ "یہ میرا بیٹا ہے"، اور ایک مجازی معنی ہے کہ "یہ آزاد ہے"۔ یہ کیا ہے؟ آزاد ہے، اس لیے کہ جب بیٹا ہے تو بیٹا تو مملوک نہیں ہوتا، وہ کیا ہوتا ہے؟ اپنے ہی باپ کا مملوک نہیں ہوتا، وہ تو آزاد ہے۔ تو اس کا مجازی معنی کیا ہے کہ یہ آزاد ہے۔ تو "ہٰذَا ابْنِی" کا ایک حقیقی معنی کہ "یہ میرا بیٹا ہے"، ایک مجازی معنی ہے کہ یہ آزاد ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں: حقیقی معنی، مجازی معنی اس وقت لیں گے جبکہ حقیقی معنی بھی ممکن ہو۔ اور یہاں پر حقیقی معنی ممکن ہے؟ یہ غلام جو اس سے عمر میں بڑا ہے، اس کا بیٹا بن سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے ایسا کہ یہ اس کا بیٹا ہو؟ یہ تو اس کا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ بیٹا ہمیشہ کیا ہوگا؟ باپ سے عمر میں چھوٹا ہوگا، اور یہ تو بڑا ہے۔ تو جب حقیقی معنی ممکن نہیں تو اب مجازی معنی حریت کی طرف بھی نہیں جائیں گے اور یہ غلام آزاد نہیں ہوگا۔
مجازی معنی کیا تھا؟ "یہ آزاد ہے"۔ لیکن اب مجازی معنی یہاں مراد نہیں لے سکتے، یہ غلام آزاد نہیں ہوگا، کیونکہ اس غلام کا بیٹا بننا ممکن نہیں، حقیقی معنی ممکن نہیں۔
امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، غلام آزاد ہو جائے گا۔
اس لیے کہ حقیقی معنی کیا ہے؟ "یہ میرا بیٹا"۔
اور میرا بیٹا، اور یہاں حکم کو نہیں دیکھیں گے کہ حقیقی معنی ممکن ہے یا نہیں، بلکہ لفظوں کو دیکھیں گے اور لفظ ٹھیک ہیں۔ "ہٰذَا" مبتدا ہے، "ابْنِی" اس کی خبر ہے مولانا۔ مبتدا اور خبر مل کر کیا بن رہے ہیں؟ جملہ عربی، قواعد کے اعتبار سے یہ ترکیب بالکل صحیح ہے: "ہٰذَا ابْنِی"۔ تو لفظ جب صحیح، ان پر تکلم صحیح، ان پر تلفظ صحیح، تو اب حقیقت ممکن ہو، معنی اس کا ممکن ہو یا معنی ممکن نہ ہو، لفظ صحیح ہیں تو اب آپ کس کی طرف جا سکتے ہیں؟ مجاز کی طرف۔ تو اب جائیں گے مجاز کی طرف اور وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیکھیے بھئی۔
ثُمَّ الْمَجَازُ عِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی رَحْمَةً وَّاسِعَةً خَلَفٌ عَنِ الْحَقِیْقَةِ فِیْ حَقِّ اللَّفْظِ وَعِنْدَهُمَا خَلَفٌ عَنِ الْحَقِیْقَةِ فِیْ حَقِّ الْحُكْمِ
پھر مجاز جو ہے، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خلیفہ ہے حقیقت سے فِیْ حَقِّ اللَّفْظِ، کس چیز میں مولانا؟ لفظ کے حق میں، یعنی لفظ کے اعتبار سے۔ وَعِنْدَهُمَا خَلَفٌ عَنِ الْحَقِیْقَةِ فِیْ حَقِّ الْحُكْمِ، اور صاحبین کے نزدیک خلیفہ ہے حقیقت سے فِیْ حَقِّ الْحُكْمِ، کس کے حکم کے حق میں؟ یعنی حکم کے اعتبار سے۔
حَتّٰی لَوْ كَانَتِ الْحَقِیْقَةُ مُمْكِنَةً فِیْ نَفْسِهَا، یہی صاحبین کی بات چل رہی ہے، یہاں تک کہ اگر حقیقت ممکن ہو فِیْ نَفْسِهَا، اَیْ فِیْ ذَاتِهَا، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے حقیقت کیا ہو؟ ممکن ہو۔
یعنی صاحبین کے نزدیک مجاز کی طرف کب جائیں گے؟ کہ جب حقیقت اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن تو ہے، اِلَّا اَنَّهُمَا امْتَنَعَ الْعَمَلُ بِهَا لِمَانِعٍ، لیکن اس پر عمل ممتنع ہو گیا کسی مانع کی وجہ سے۔ کسی مانع کی وجہ سے کیا ہے؟ ممکن عمل حقیقت پر عمل نہ ہو سکا، یُصَارُ اِلَى الْمَجَازِ، تو پھر کس کی طرف جایا جائے گا؟ مجاز کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ وَاِلَّا صَارَ الْكَلَامُ لَغْوًا، اور اگر حقیقت ممکن نہ ہو فی ذاتہا تو پھر کلام کیا بن جائے گا؟ لغو۔ وَاِنْ لَّمْ یَكُنْ كَذٰلِكَ بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ یاد رکھو، یہ اِلَّا سے پہلے واؤ آ جائے تو یہ اِلَّا استثنائیہ نہیں ہے بھئی، میں نے آپ کو بتایا ہوگا شاید پہلے بھی۔ آیا کہیں؟ نہیں آئی تو یہ بات یاد رکھو ضابطہ: اِلَّا سے پہلے واؤ آ جائے تو پھر یہ اِلَّا استثنائیہ نہیں ہے بھئی۔ کوئی آپ سے پوچھے یہ کون سا ہے؟ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے؟ تو آپ غور نہ کرنا شروع کر دینا۔ یہ واؤ جب آ جائے یہ بتلا دے گا یہ اِلَّا استثنا والا حرفِ استثنا نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل ہے: اِنْ لَا۔ دراصل کیا ہے؟ اِنْ لَا۔ اور آپ نے پڑھا ہے مولانا
کہ نونِ ساکن کے بعد اگر حروفِ یرملون میں سے کوئی آ جائے تو پھر کیا کرتے ہیں؟ نون کو بھی اس حرف سے بدل کر اس حرف میں ادغام۔ اور یہاں آیا نونِ ساکن "اِنْ" اور ان کے بعد لَا میں آ رہا ہے "لام"، اور لام بھی کس میں سے ہے؟ حروفِ یرملون میں سے ہے۔ تو نون کو بھی لام کر کے لام میں اس کا ادغام کر دیا، یہ کیا بن گیا: اِلَّا۔ اور اصل میں کلام یوں ہے: وَاِنْ لَّمْ یَكُنْ كَذٰلِكَ۔
اِلَّ، یعنی اگر ایسا نہ ہو۔ پہلے کیا کہا؟ "اگر حقیقت فی نفسہا ممکن ہو"۔ اب کہہ رہے ہیں: وَاِنْ لَّمْ یَكُنْ كَذٰلِكَ، "اور اگر ایسا"، یعنی حقیقت فی نفسہا ممکن نہ ہو، صَارَ الْكَلَامُ لَغْوًا، تو کلام کیا بن جائے گا؟ لغو۔
وَعِنْدَهٗ یُصَارُ اِلَى الْمَجَازِ، اور امام صاحب کے نزدیک جایا جائے گا مجاز کی طرف، وَاِنْ لَّمْ تَكُنِ الْحَقِیْقَةُ مُمْكِنَةً فِیْ نَفْسِهَا، اگرچہ حقیقت جو ہے فی ذاتہا ممکن ہی نہ ہو۔
مِثَالُهٗ، مثال اس کی: اِذَا قَالَ لِعَبْدِهٖ، کہ جب کسی شخص نے کہا اپنے غلام سے، آقا نے کسی نے اپنے غلام سے کہا—
اِذْ حَالٌ، یہ واؤ حالیہ ہے—اِذْ حَالٌ میں کہ وَهُوَ اَكْبَرُ سِنًّا مِّنْهُ، کہ وہ اس سے بڑا ہے باعتبارِ عمر کے۔ غلام سے کہا، اس حال میں کہ وہ غلام اس سے عمر میں بڑا ہے۔ کیا کہا؟ مقولہ آگے آ رہا ہے: "ہٰذَا ابْنِی"، "یہ کیا ہے؟ میرا بیٹا ہے"۔ لَا یُصَارُ اِلَى الْمَجَازِ عِنْدَهُمَا، صاحبین کے نزدیک مجاز کی طرف نہیں رجوع کیا جائے، مجاز کی طرف نہیں جایا جائے گا، لِاسْتِحَالَةِ الْحَقِیْقَةِ، کیونکہ حقیقت کیا ہے؟ محال۔ تو حقیقت کے محال ہونے کی وجہ سے مجاز کی طرف، کیونکہ وہ اس کا بیٹا بن سکتا ہے، ممکن ہے؟ نہیں، وہ تو عمر میں بڑا ہے۔ وَعِنْدَهٗ یُصَارُ اِلَى الْمَجَازِ، اور امام صاحب کے نزدیک جایا جائے گا مجاز کی طرف، رجوع کیا جائے۔ حَتّٰی یُعْتَقَ الْعَبْدُ، یہاں تک کہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مجاز کی طرف وہ چلے گئے۔ صاحبین نے کہا غلام آزاد نہیں، کیونکہ آزاد ہونا تو یہ اس کا مجازی معنی تھا "اِبْنِی" کا، اور مجاز کی طرف تب جائیں گے جبکہ حقیقت ممکن ہو اور یہاں تو حقیقت ممکن ہی نہیں، لہٰذا مجاز کی طرف بھی نہیں۔ اور امام صاحب فرماتے ہیں: "ہٰذَا ابْنِی"، "ہٰذَا ابْنِی" کی ترکیب بالکل صحیح ہے عربی، عربی اعتبار سے۔ اور تو لہٰذا جب ترکیب صحیح ہو تو پھر مجاز کی طرف رجوع کیا جائے۔
وَعَلٰی هٰذَا یُخْرَجُ الْحُكْمُ فِیْ قَوْلِهٖ، اور اسی پر، اسی اختلاف پر نکالا جائے گا حکم فِیْ قَوْلِهٖ، کسی شخص کے اس قول کے اندر: لَهٗ عَلَيَّ اَلْفٌ اَوْ عَلٰی هٰذَا الْجِدَارِ وَقَوْلِهٖ عَبْدِیْ اَوْ حِمَارِیْ حُرٌّ۔
اب مولانا اس پر آپ حکم ضابطے کو ذہن میں رکھیں اور حکم لگاتے چلے جائیں ہر مسئلے پر۔ مثال کے طور پر ایک دو مسئلے اور وہ ذکر کر رہے ہیں بھئی اسی ضابطے پر نکالتے ہوئے۔ کیا؟ ایک شخص کہتا ہے:
"لَہٗ"، یعنی "لِزَیْدٍ" مثلاً، "لِزَیْدٍ عَلَیَّ اَلْفٌ اَوْ عَلٰی هٰذَا الْجِدَارِ"۔
"لِزَیْدٍ"، زید کے لیے "عَلَیَّ"، مجھ پر "اَلْفٌ"، کتنے روپے ہیں؟ کتنے درہم ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں، اقرار کر رہا ہے۔ کیا کر رہا ہے؟ زید کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار درہم ہیں "اَوْ عَلٰی هٰذَا الْجِدَارِ"، یا اس دیوار پر۔ مجھ پر یا اس مجھ پر یا اس دیوار پر زید کے کتنے روپے ہیں؟ ایک ہزار۔
اب یہاں پر آیا مولانا "اَوْ"، اور "اَوْ" آتا ہے تردید کے لیے، یعنی ایک چیز کو دائر کر دیتا ہے دو چیزوں میں، لَا عَلَى التَّعْیِیْنِ، تعیین نہیں ہوتی۔ میں کہتا ہوں: "جَاءَنِیْ زَیْدٌ اَوْ عَمْرٌو"، میرے پاس زید آیا یا عمر۔ معلوم ہوا یہ مجیئت یا تو زید کے لیے ثابت ہے یا کس کے لیے ثابت ہے؟ یہ مولانا "اَوْ" نے بتلایا کہ "اَوْ" نے کیا بتلایا کہ یہ جو مجیئت ہے، یہ دائر ہے ان دو میں سے کسی ایک میں، کسی ایک کے لیے ثابت ہے، اور کس کے لیے ہے، کوئی تعیین کی اس نے؟ تعیین نہیں، تو لَا عَلَى التَّعْیِیْنِ یہ مجیئت ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے ثابت۔ تو اس کلام کے اندر بھی مولانا "اَوْ" آیا۔ اور "اَوْ" کس لیے آتا ہے؟
کہ لَا عَلَى التَّعْیِیْنِ کیا کرتا ہے؟
جی؟
ایک چیز کو دائر کر دیتا ہے دو چیزوں کے درمیان۔ تو کہنے والا یہ کہہ رہا ہے: مجھ پر یا اس دیوار پر، تعیین نہیں کر رہا، مجھ پر یا اس دیوار پر زید کے کتنے روپے ہیں؟ ہزار۔
یہ ہے اس کا حقیقی معنی، تعیین نہیں ہے۔ کہ مجھ پر ہیں یا دیوار پر ہیں، یہ اس کا حقیقی معنی ہے۔ اور مجازی معنی اس کا ہے کہ مجھ پر ہیں، کیونکہ دیوار پر آ سکتے ہیں؟ دیوار پر، تو مجازی معنی کیا ہے کہ مجھ پر ہیں۔
حقیقی معنی کیا ہے کہ مجھ پر ہیں یا تعیین نہیں، لیکن مجازی معنی کیا ہوئے؟ مجھ پر ہیں۔
اب آپ بتلائیے مولانا، یہ عربی تو امام صاحب کے نزدیک مولانا یہ ترکیب صحیح ہے، عربی اعتبار سے یہ جملہ بالکل صحیح ہے، اور تو اور تو لہٰذا جب جملہ بالکل صحیح ہے تو اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ مجاز کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ تو حقیقی معنی تو ہو نہیں سکتا تو اب مجاز کی طرف چلے گئے، تو لہٰذا اب اس شخص پر کتنے واجب ہو جائیں گے؟ ایک ہزار روپے واجب ہو جائیں گے۔
صاحبین فرماتے ہیں: بھئی، لفظوں کو نہیں دیکھنا، معنی کو دیکھنا ہے، اور حقیقی معنی یا ممکن ہی نہیں ہے۔
حقیقی معنی تو کیا تھا؟ مجھ پر ہیں یا کس پر ہیں؟ دیوار پر ہیں، اور دیوار پہ ہزار ہو سکتے ہیں؟ ممکن ہے؟ اس پر تو ہزار روپے کسی کے واجب ہو ہی نہیں سکتے، تو حقیقی معنی یہاں پر ممکن ہی نہیں۔ جب حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے تو مجاز کی طرف بھی، جب مجاز کی طرف نہیں جائیں گے تو اس شخص پر ایک ہزار روپے واجب بھی نہیں رہیں گے۔
یا اسی طرح ایک شخص کہتا ہے:
"عَبْدِیْ اَوْ حِمَارِیْ حُرٌّ"، "میرا غلام یا میرا گدھا آزاد ہے"۔
میرا غلام یا میرا گدھا؟ اب "اَوْ" آیا، اور "اَوْ" آتا ہے تردید کے لیے مولانا، ایک چیز کو دائر کر دیتا ہے دو چیزوں میں بھئی، لَا عَلَى التَّعْیِیْنِ۔ تو آزادی دائر ہوئی بَیْنَ الْغُلَامِ اَوْ بَیْنَ حِمَارِہٖ، اس کے گدھے یا اس کے غلام کے درمیان کیا ہوئی؟
ہاں، دائر ہوئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
اور اس کلام کا حقیقی معنی کیا ہے بھئی؟ امام صاحب کے نزدیک پہلے آئیں۔ امام صاحب کے نزدیک یہ ترکیب بالکل صحیح ہے عربی اعتبار سے۔ جب ترکیب صحیح ہے، تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ مجاز کی طرف جا سکتے ہیں، تو اور حقیقی معنی کیا ہے؟ میرا، میرا غلام یا میرا گدھا، ان میں سے کوئی ایک آزاد ہے لا علی التعیین، لا علی التعیین۔ یہ تو حقیقی معنی اور مجازی معنی کیا ہے؟ میرا غلام کیا ہے؟ آزاد ہے، کیونکہ گدھا جو ہے آزاد تو وہ ہوگا جو غلام ہو سکے اور گدھا تو غلام نہیں ہو سکتا، گدھا تو گدھا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ گدھا تو گدھا ہے، تو وہ جب غلام نہیں بن سکتا تو آزاد بھی آزادی بھی اس کے لیے کیا ثابت کرنی۔
تو لہٰذا حقیقی معنی تو ممکن نہیں، لہٰذا کس کی طرف جائیں گے؟ مجاز کی طرف۔
تو صاحبین کیا فرماتے ہیں؟
جی! مجاز کی طرف جائیں گے یا نہیں جائیں گے؟ غلام آزاد ہوگا یا نہیں ہوگا؟ کیونکہ حقیقی معنی ممکن ہی نہیں ہے۔ لا علی التعیین کسی کے لیے یہاں پر آزادی ہو ہی نہیں سکتی۔ جب لا علی التعیین کسی ایک کے لیے نہیں ہو سکتی یعنی حقیقی معنی ممکن نہیں ہے تو پھر مجاز کی طرف بھی نہیں جائیں گے، لہٰذا یہ غلام بھی آزاد نہیں ہوگا۔
وعلی هذا يخرج الحكم في قوله اور اسی پر نکالا جائے گا حکم بھئی کسی کہنے والے کے قول میں کہ "له علي ألف" فلاں کے مجھ پر کتنے ہیں؟ ایک ہزار ہیں۔ "أو على هذا الجدار" یا اس دیوار پر۔ "وقوله" اور اسی طرح اس قول میں بھی حکم نکالا جائے گا۔ کس قول میں؟ "عبدي أو حمار حر" میرا غلام یا میرا گدھا آزاد ہے۔
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آئی؟ جی۔
تو امام صاحب کے نزدیک مجاز خلیفہ ہے کس میں؟ تلفظ میں، تکلم میں، لفظ میں۔ اور صاحبین کے نزدیک خلیفہ ہے کس چیز میں؟ حکم میں۔
اس پر آگے ایک اشکال ذکر کریں گے امام صاحب پر اور اس کا جواب دیں گے بھئی۔
اشکال یہ ہوتا ہے کہ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کہ عربی ترکیب صحیح ہونی چاہیے۔ جب عربی ترکیب صحیح ہو تو پھر مجازی معنی مراد لے سکتے ہیں۔ تو ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: "هذه ابنتي" بیوی کے نسب معروف ہے، سب کو پتہ ہے یہ تو فلاں کی بیٹی ہے، اور یہ کیا کہہ رہا ہے؟ "هذه ابنتي" یہ کیا ہے میری بیٹی ہے۔ بیٹی ہے۔
تو اب یہ بیٹی تو ہو نہیں سکتی مولانا، کیونکہ اس کا نسب تو معروف ہے۔ تو پھر اس کا مجازی معنی کیا ہے؟ کہ اس کو طلاق ہے۔ اس کو کیا ہے؟ طلاق ہے۔ کیونکہ بیٹی ہے، تو بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے؟ نکاح نہیں ہو سکتا۔ تو معلوم ہوا یہ مجھ سے جدا ہے اور جدائی کس سے آئے گی بھئی؟ طلاق سے آئے گی۔ تو کیا معنی لیا؟ کہ اس کو طلاق۔ تو حقیقی معنی ہے یہ میری بیٹی ہے اور مجازی معنی ہے اس کو طلاق ہے، طلاق ہے۔
اب یہاں پر حقیقی معنی تو ممکن نہیں۔ یہ اس کی بیٹی بن سکتی ہے بھئی؟ نہیں، کیونکہ اس کا تو نسب معروف ہے۔ چاہے عمر میں چھوٹی ہی کیوں نہ ہو مولانا، پھر بھی کیا ہے حقیقی معنی نہیں لے سکتے مراد۔
لیکن یہ لفظ تو صحیح ہیں۔ "هذه" مبتدا ہے، "ابنتي" اس کی خبر ہے، دونوں مولانا ترکیب صحیح ہے ہر لحاظ سے عربی قوانین کے اعتبار سے۔ اور اے امام صاحب! آپ نے کیا فرمایا تھا کہ جب لفظ کیا ہو؟ ترکیب صحیح ہو، قواعدِ عربیہ کے مطابق ہو کلام، تو پھر مجازی معنی کی طرف جا سکتے ہیں۔ یہاں اب حقیقت ممکن تو نہیں لیکن ترکیب صحیح ہے، تو کس کی طرف جانا چاہیے؟ مجازی معنی کی طرف جانا چاہیے اور اس عورت کو کیا ہو جانی چاہیے؟ طلاق ہو جانی چاہیے! لیکن آپ فرماتے ہیں اس صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔
یہ تو آپ نے اپنے ہی ضابطے کو کیا کر دیا؟ توڑ دیا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ جی۔
جواب دیتے ہیں اس کا مولانا، کہتے ہیں جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں پر حقیقی اور مجازی معنی میں منافات ہے، اور جب دونوں حقیقی اور مجازی معنی کے اندر منافات ہو تو پھر جو معنی آپ مراد لینا چاہتے ہیں، جو مجازی معنی، ان میں جب منافات ہو تو پھر ایک لفظ سے اس کا منافی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا۔
جب دو معانی کے اندر منافات ہو مولانا، تو ایک کے لفظ سے دوسرے معنی کا ارادہ جیسے مولانا آگ اور پانی ہے۔ آگ پانی میں منافات ہے، تو آگ بول کر پانی مراد نہیں لے سکتے اور پانی بول کر آگ مراد، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، کیوں؟ اس طرح کہ یہاں کس طرح کیسے اس طرح ہے؟ دیکھو کہا اس نے کہا: یہ میری بیٹی ہے، یہ میری بیٹی ہے۔
بیٹی ہے۔ تو بیٹی ہونے میں اور طلاق میں منافات ہے۔ بیٹی ہونے میں اور طلاق میں کیا ہے؟ اس لیے کہ طلاق آیا کرتی ہے نکاح کے بعد۔ طلاق کس کے بعد آیا کرتی ہے؟ نکاح کے بعد آیا کرتی ہے۔ اور یہاں اور حقیقی بیٹی کے ساتھ نکاح ممکن ہے؟ وہاں تو نکاح جائز ہی نہیں۔ تو بیٹی ہونا نکاح کے منافی ہے۔ بیٹی ہونا کس کے منافی ہے؟ نکاح کے منافی ہے۔ اور نکاح ثابت ہوگا تو طلاق آئے گی، تو جب بیٹی ہونا نکاح کے منافی ہے، تو اس کا جو حکم ہے نکاح کا، طلاق کس کا حکم ہے؟ طلاق کس کے بعد آیا کرتی ہے؟ نکاح عقد ہوگا تو طلاق آیا کرے گی۔ تو جب بیٹی ہونا نکاح کے منافی ہے، تو اس کا جو حکم ہے طلاق، اس کے بھی کیا ہوئی؟ منافی ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ اور جب دو معانی میں منافات ہو، تو ایک کے لفظ سے دوسرے معنی کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا۔
تو یہاں پر جب نکاح ہی نہیں ممکن، تو پھر طلاق بھی اس سے مراد، نکاح جائز نہیں ہے، تو طلاق بھی اس سے، طلاق بھی نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔
سمجھ میں آیا؟ جی۔ اچھی طرح؟ ذرا گہری بات ہے۔
دیکھو، یہاں آپ نے کیا کہا؟ "هذه ابنتي" ترکیب صحیح ہے، لہذا اب اس سے کیا مجازی معنی طلاق ہو جانی چاہیے، اس سے طلاق مراد لینی چاہیے۔ جواب یہ مولانا، کہ یہ دو معانی ایسے ہیں جن میں آپس میں منافات ہے۔ اور جب دو معانی میں منافات ہو، تو ایک کا لفظ بول کر دوسرے معنی کا ارادہ، جیسے آگ اور پانی کے اندر منافات ہے، تو آگ بول کر پانی کا معنی مراد نہیں لے سکتے یا پانی بول کر آگ مراد نہیں لے سکتے۔ یہاں پر بھی مولانا، بیٹی ہونا طلاق کے منافی ہے۔ اس لیے کہ طلاق وہاں آئے گی جہاں نکاح ہو، اور نکاح وہاں آئے گا جہاں وہ بیٹی نہ ہو۔ بیٹی ہوگی تو نکاح آ ہی، تو بیٹی ہونا نکاح کے منافی ہوا، جب بیٹی ہونا نکاح کے منافی ہے، تو جو نکاح کا حکم ہے طلاق، اس کے بھی کیا ہوا؟ بیٹی ہونا طلاق کے بھی کیا ہوا؟ منافی ہوا۔ تو جب یہاں نکاح ہی نہیں ہو سکتا، تو اس سے طلاق بھی نہیں ہو سکتی۔ آپ نکاح کو ثابت کر دیں، ہم طلاق کو مان لیں گے اس سے۔ یہاں نکاح ہو سکتا ہے؟ جب نکاح نہیں، تو طلاق بھی نہیں اس سے ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
دیکھیے متن میں بات آ جائے گی، اور واضح ہو جائے گی۔
"وعلى هذا" اور اسی بنا پر "إذا قال لامرأته" جب ایک شخص نے کہا اپنی بیوی سے "هذه ابنتي" یہ کیا ہے میری، "ولها نسب معروف" اور اس کا نسب کیا ہے؟ اس حال میں کہ اس کا نسب معروف ہے۔ "من غيره" غیر خاوند سے، خاوند کے علاوہ کسی اور سے معروف ہے کہ یہ تو عمر کی بیٹی ہے۔ "حيث لا تحرم عليه" اس طور پر کہ وہ اس پر حرام نہیں ہوگی، "ولا يجعل ذلك مجازا عن الطلاق" اور اس کو مولانا، اس کلام کو مجاز طلاق سے نہیں بنایا جائے گا "سواء كانت المرأة صغرى السن منه أو كبرى" برابر ہے کہ چاہے عورت اس سے عمر میں کم ہو یا چھوٹی ہو یا عمر میں، دونوں صورتوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟ "لأن هذا اللفظ لو صح معناه" اس لیے کہ یہ لفظ اگر صحیح ہو جائے اس کا معنی، "لكان منافيا للنكاح" تو پھر تو یہ نکاح کے ہی منافی ہوا۔ "هذه ابنتي" بیٹی ہونا تو کس کے منافی ہو گیا؟ یہ تو نکاح کے منافی ہے۔ "فيكون منافيا لحكمه" تو جب یہ نکاح کے منافی ہے، تو حکم، ها ضمیر نکاح کو راجع ہے، تو پھر یہ نکاح کے حکم کے بھی منافی ہوئی۔ یہ کلام کیا ہوا؟ نکاح کے حکم کے بھی منافی ہوا، "وهو الطلاق" اور کیا حکم ہے نکاح کا مولانا؟ طلاق نکاح کا حکم ہے۔ "ولا استعارة مع وجود التنافي" اور کوئی استعارہ نہیں، کوئی مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا منافات کے پائے جاتے ہوئے۔
استعارہ کہتے ہیں لفظ بول کر مجازی معنی مراد لیا جائے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ۔ سمجھ میں آیا؟ میں نے اسد کہا، اور مراد اس سے بہادر شخص لیا، تو یہ کیا ہے؟ استعارہ۔
تو یہاں بھی ابنی بول کر، ابنتی بول کر طلاق مراد لی جائے، تو پھر یہ کیا بن جائے گا؟ استعارہ۔ اور ان دونوں کے میں تو منافات ہے، لہذا دو منافی چیزوں، جن چیز، دو چیزوں میں منافات ہو دو معانی میں، وہاں پر استعارہ نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
"بخلاف قوله" اچھا جی، اس پر پھر اشکال ہوتا ہے۔ اچھا، آپ نے کیا کہا؟ کہ بیٹی ہونے میں اور طلاق کے اندر کیا ہے؟ منافات۔ کیوں؟ کیونکہ طلاق حکم ہے نکاح کا، اور نکاح میں اور بیٹی ہونے میں کیا ہے؟ منافات۔ تو جب نکاح اور بیٹی ہونے میں منافات ہے، تو اس نکاح کا جو حکم ہے یعنی طلاق، اس میں اور بیٹی ہونے میں بھی کیا آ جائے گا؟ منافات آ جائے گی۔ جب بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی۔
تو پھر تو هذا غلام کو یہ کہنا: "هذا ابني"، یہاں پر بھی اس سے ابنی سے کیا مراد لے رہے ہیں؟ حقیقی معنی کیا؟ بیٹا ہونا، اور مراد کیا لے رہے ہیں مجازی معنی؟ آزاد ہونا۔ تو یہاں پر بھی تو آزاد ہونے کا معنی منافی ہے بیٹا ہونے کے۔ اس لیے کہ آزاد ہونا حکم ہے مملوک ہونے کا۔ کوئی مملوک ہوگا تو پھر اس کو کیا کیا جائے گا؟ آزاد۔ اور بیٹا اور مملوک ایک دوسرے کے منافی ہیں۔ جو بیٹا ہے وہ مملوک نہیں، جو مملوک ہے وہ بیٹا نہیں۔ جب وہ مملوک نہیں، تو بیٹا مملوک ہونے میں منافات، اور مملوک کا حکم کیا تھا؟ آزاد ہونا، تو بیٹا ہونے میں اور آزاد ہونے میں بھی کیا آ گئی؟ منافات۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔
تو اگر یہاں مجاز، یہاں تو آپ کہتے ہیں مجازی معنی مراد لے لیتے ہیں، اور "هذه ابنتي" کے اندر طلاق والا مجازی معنی مراد کہتے ہیں نہیں، یہ آپ کو غلط فہمی ہو گئی۔ بیٹا ہونا مملوک ہونے کے منافی نہیں۔
بیٹا ہونا مملوک ہونے کے منافی، لہذا جب مملوک ہونے کے منافی نہیں، تو حریت کے منافی بھی، اور جب منافی نہیں ہے حریت کے، تو بیٹا بول کر حریت مراد لی جا سکتی ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں باپ مالک بن جاتا ہے کئی دفعہ اپنے بیٹے کا۔ بیٹا جنگ میں گیا تھا مولانا، اور گرفتار ہوا دشمن کے ہاتھوں، انہوں نے غلام بنا لیا اس کو۔ جب غلام بنا لیا، وہ بکتے بکتے آیا، باپ کو کہیں نظر آیا، اب باپ نے اس سے خرید لیا۔ باپ نے اس سے، تو جیسے ہی خریدا، بیٹا کیا بن گیا اس کا؟ مملوک۔ اور جیسے ہی ملک میں آیا، فوراً آزاد ہو گیا۔
بیٹا کیا ہو گیا فوراً؟ کیوں؟ حدیث میں آتا ہے مولانا: "من ملك ذا رحم محرم عتق عليه"۔ جو بھی شخص مالک بنا، کس کا مالک بنا؟ ذو رحم کا، قریبی رشتہ دار، ذو رحم کس کو کہتے ہیں؟ رشتہ دار، قریبی رشتہ دار۔
محرم، ایسا قریبی رشتہ دار جو محرم بھی ہو۔ محرم کس کو کہتے ہیں؟ جس سے نکاح حرام ہو مولانا۔ جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا "عتق عليه"، وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ کیا ہو جائے گا؟
تو دیکھو، یہاں جیسے ہی وہ بیٹا باپ کی ملک میں آیا، فوراً خود بخود کیا ہو گیا؟ تو پہلے ملکیت آئے گی، تو پھر آزاد ہوگا، ورنہ حدیث میں نہیں آ رہا، جو مالک بنا تو وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ معلوم ہوا باپ ہے، اور کیا ہو گیا بیٹے کا؟ مالک بنا، فوراً پھر وہ کیا ہو گیا؟ تو دیکھو بیٹا بھی ہے اور مملوک ہونا بھی آ گیا۔ آیا یا نہیں آیا مولانا؟ چاہے ایک لمحے کے لیے کیوں نہ آیا ہو۔ ہوا یا نہیں بھئی؟ تو منافات ہوئی ان دونوں میں؟ منافات نہیں ہوئی۔
"بخلاف قوله هذا ابني" بخلاف اس قائل کے قول "هذا ابني" کے، "فإن البنوة لا تنافي ثبوت الملك للأب" اس لیے کہ بیٹا ہونا، بنوت کا کیا معنی؟ بیٹا ہونا، "لا تنافي" وہ منافی نہیں ہے "ثبوت الملك للأب" باپ کے لیے ملکیت کے ثبوت کے منافی نہیں ہے۔ "بل يثبت الملك له" بلکہ باپ کے لیے ملکیت ثابت ہوگی "ثم يعتق عليه" پھر اس پر کیا آ جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔
بات سب کو سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ اچھی طرح؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔