حقیقت اور مجاز کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ میں نے بتلایا تھا کہ لفظ کو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ حقیقت۔ اور اگر لفظ کو اپنے معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مجاز۔
اور حقیقت اور مجاز کا حکم یہ ہے ہمارے نزدیک کہ حقیقت اور مجاز دونوں جمع نہیں ہو سکتے اس طور پر کہ ایک ہی لفظ سے ایک ہی وقت میں اس کے حقیقی معنی کا بھی ارادہ کیا جائے اور مجازی معنی کا بھی ارادہ کیا جائے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حقیقت اور مجاز جمع ہو سکتے ہیں بھئی۔
اور اس پر کئی مثالیں گزری تھیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ کئی مثالیں گزری تھیں جیسے آیت ملامست ذکر ہوئی بھئی۔ آیت ملامست کے اندر مولانا ملامست کا حقیقی معنی ہے لمس بالید اور اس کا مجازی معنی ہے جماع۔ تو ہم اس کا کون سا معنی لیتے ہیں؟ جماع کا معنی اس سے مراد لیتے ہیں اور جماع کا معنی مراد لیتے ہیں۔ تو اب لمس بالید اس سے مراد نہیں ہوگا، لہٰذا مجامعت سے تو طہارت زائل ہوگی لیکن لمس بالید کے ساتھ طہارت زائل نہیں ہوگی۔
اسی طرح مولانا مولیٰ کا لفظ میں نے بتایا معتق کو بھی کہتے ہیں اور معتق المعتق کو بھی کہتے ہیں لیکن معتق ہے اس کا حقیقی معنی، معتق المعتق ہے اس کا مجازی معنی۔ اور جب مجازی معنی مراد لے لیا گیا تو پھر اب، حقیقی معنی مراد لے لیا گیا تو مجازی معنی مراد نہیں ہوگا۔
اسی طرح مولانا آباء کا لفظ آیا تھا، اب حقیقت میں باپ کو کہتے ہیں، مجازاً دادا، پردادا، نانا، پرنانا وغیرہ کو بھی کہہ دیتے ہیں۔ تو جب اس سے حقیقی معنی مراد لے لیا گیا تو مجازی معنی کا ارادہ کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔
اسی طرح مولانا باکرہ کا مولانا حقیقی معنی کیا ہے؟ وہ جس کے ساتھ وطی نہ ہوئی ہو، جماع نہ ہوا ہو اور اس کا مجازی معنی کیا ہے؟ شادی شدہ نہ ہو۔ اور جب اس سے حقیقی معنی مراد لے لیا گیا تو پھر مجازی معنی ساقط ہو جائے گا۔
اسی طرح مولانا نکاح ہے، نکاح کا حقیقی معنی ہے عقد اور مجازی معنی ہے وطی۔ اور جب ایک شخص نے قسم اٹھائی اور وہاں کیا کہتا ہے کہ میں واللہ لا انکح فلانة، میں فلانی سے نکاح نہیں کروں گا، تو یہاں مراد کیا لیا ہے؟ حقیقی معنی، کیونکہ الحقیقة اولٰی من المجاز، حقیقی معنی عقد مراد لیا گیا۔ اور جب عقد مراد لے لیا تو اب اس سے یہاں پر مجازی معنی یعنی وطی مراد نہیں، تو لہٰذا اس کی قسم کا معنی یہ ہے کہ فلاں عورت سے وہ عقد نہیں کرے گا۔ اب اگر اس نے عقد کیا تو حانث ہوگا، اگر اس نے وطی کر لی بطریق زنا کے تو اس صورت میں حانث نہیں ہوگا۔
اب اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا، احناف نے کیا کہا؟ کہ جمع بین الحقیقة والمجاز جائز نہیں ہے۔ اس پر شوافع اعتراض کرتے ہیں، ہم آپ کو کئی مثالیں دکھاتے ہیں جہاں آپ نے حقیقت اور مجاز دونوں کو جمع کیا ہے۔
مثلاً ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا۔ اب یہ قدم رکھنا، ایک اس کا حقیقی معنی ہے، ایک اس کا مجازی معنی ہے۔ حقیقی معنی کیا ہے کہ ننگے پاؤں مولانا اپنا قدم اس کے گھر رکھے۔ سمجھ میں آیا؟ حقیقتاً مولانا اپنا قدم کیا کرے اس کے گھر میں رکھے، ننگے پاؤں۔ اور مجازی معنی کیا ہے اس کا مولانا؟ جوتے پہن کر قدم رکھے یا مولانا کسی سواری کے ساتھ اس میں داخل ہو جائے، تو بھی کیا کہا جاتا ہے؟ اس نے اس کے گھر قدم رکھا۔ تو حقیقی معنی کیا ہے؟ ننگے پاؤں رکھنا، اور مجازی معنی کیا ہے؟ جوتے پہن کر یا سواری کے ساتھ جانا اندر۔
اب ایک جب اس نے کیا کھائی؟ میں فلاں کے گھر قدم نہیں رکھوں گا، اے احناف! آپ چاہے وہ ننگے پاؤں قدم رکھے، چاہے جوتوں کے ساتھ قدم رکھے، چاہے سواری کے ساتھ اندر داخل ہو، آپ تینوں صورتوں میں کیا کہتے ہیں؟ قسم ٹوٹ گئی۔ تو آپ نے حقیقی معنی ننگے پاؤں والا بھی مراد لے لیا اور مجازی معنی جوتے کے ساتھ یا سواری والا معنی بھی مراد لے لیا، تو یہ جمع بین الحقیقة والمجاز ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟
اسی طرح مولانا دوسرے کوئی شخص یہ کہتا ہے، کسی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں زید کے گھر نہیں ٹھہروں گا، اور زید کا گھر، زید کا گھر حقیقتاً کون سا ہے جس کا زید مالک ہو، جس کا زید کیا ہو؟ مالک ہو۔ تو زید کا گھر مولانا جب زید اس کا مالک ہو تب یہ حقیقت ہے، تب کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ اور ایک وہ گھر ہے جو زید نے کرائے پر لیا ہے اس میں رہ رہا ہے، یا مولانا آپ کا ساتھی ہے زید، اس نے کچھ دنوں کے لیے آپ سے مکان لے لیا، اس میں عاریتاً رہ رہا ہے۔ عاریتاً کیا ہے؟ استعمال کے لیے کسی سے مانگ کر کوئی چیز لینا مولانا استعمال کے لیے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے بھئی، ایک دوسرے ساتھی سے کوئی چیز استعمال کے لیے لے لیتے ہیں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عاریت۔ تو اب وہ گھر زید نے کرائے پر لے لیا ہے، یہ بھی زید کا گھر ہے لیکن حقیقتاً یا مجازاً؟ اس کو بھی زید کا گھر کہیں گے لیکن مجازاً کہیں گے، یہ حقیقتاً زید کا گھر نہیں ہے۔ اسی طرح یا زید نے عاریتاً آپ سے گھر لیا ہے اور اس میں رہ رہا ہے، تو بھی کہیں گے یہ زید کا گھر ہے لیکن حقیقتاً نہیں ہے، یہ اس کا گھر بلکہ کیا ہے؟ مجازاً ہے۔ سمجھ میں آیا؟
تو اے احناف! ایک شخص مثلاً قسم اٹھاتا ہے کہ میں زید کے گھر رہائش نہیں رکھوں گا، اس کے گھر نہیں ٹھہروں گا، تو اب اس کا حقیقی معنی زید کے گھر حقیقی گھر کون سا ہے جس کا زید مالک ہو، اور مجازی معنی کیا ہے کہ زید نے جس کو کرائے پر لیا ہو یا زید نے جس کو عاریتاً لیا ہو وہ بھی زید کا گھر لیکن حقیقتاً نہیں بلکہ مجازاً ہے۔
تو اب یہاں پر آپ حقیقت اور مجاز دونوں کو جمع کرتے ہیں، اب وہ شخص چاہے زید کے اپنے حقیقی گھر جس کا مالک ہے اس میں ٹھہرے آپ پھر بھی کہتے ہیں یہ حانث ہو جائے گا، زید نے کرائے پر گھر لیا ہوا ہے اس میں یہ اس میں یہ ٹھہر جائے پھر بھی آپ کہتے ہیں یہ حانث ہو جائے گا، یا زید نے عاریتاً مکان لیا ہوا ہے اس میں یہ ٹھہرے آپ پھر بھی کیا کہتے ہیں کہ یہ حانث ہو جائے گا۔ تو دیکھو آپ تینوں صورتوں میں حقیقت کی صورت میں بھی قسم ٹوٹنے کا حکم لگا رہے ہیں، مجازی معنی کی صورت میں بھی کیا کر رہے ہیں؟ قسم کے ٹوٹنے کا، تو یہ آپ نے جمع بین الحقیقة والمجاز کر دیا بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ اس نے تو کہا تھا میں زید کے گھر قدم نہیں رکھوں گا اور زید کا گھر ایک حقیقی معنی، ایک مجازی معنی، اور آپ نے دونوں کو جمع کر دیا، چاہے اس کے حقیقی گھر میں قدم رکھے، چاہے اس کے کرائے والے یا اس کے عاریتاً گھر کے اندر کیا کر دے وہ جا کر ٹھہرے، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ تو یہ آپ نے کیا کیا مولانا؟ جمع بین الحقیقة والمجاز کیا۔
اسی طرح ایک شخص ہے وہ کہتا ہے عبدی حر یوماً یقدم فلان، میرا غلام آزاد ہوگا اس دن جس دن فلاں آئے گا۔ مثلاً زید آئے گا تو میرا، جس دن زید آئے گا تو میرا غلام آزاد ہے، یوم کا لفظ استعمال کیا۔ دن، اور دن کا حقیقی معنی ہے، حقیقی معنی کس کو کہتے ہیں؟ یہ جس میں، کس کو کہتے ہیں؟ صبح صادق سے لے کر، صبح سے لے کر شام تک کا جو وقت ہے اس کو یوم کہتے ہیں، لیکن مجازاً رات کو بھی یوم کہہ دیتے ہیں۔ رات کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ تو یوم کا حقیقی معنی ہے دن، اور رات دن اور یوم کا مجازی معنی کیا ہے؟ رات۔ تو اب آپ اے احناف! یہاں یا تو حقیقی معنی مراد ہونا چاہیے یعنی دن مراد ہونا چاہیے یا مجازی معنی مراد ہونا چاہیے کیونکہ آپ کہتے ہیں جمع بین الحقیقة والمجاز جائز نہیں، لیکن اے احناف! آپ چاہے کہتے ہیں کہ اس نے کیا کہا تھا؟ جس دن، جس یوم میں زید آیا میرا غلام آزاد ہے۔ آپ کہتے ہیں چاہے وہ زید دن کو آ جائے، چاہے رات کو آ جائے دونوں صورتوں میں غلام کیا ہے؟ آزاد ہے۔
دونوں صورتوں میں آزاد ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ آپ نے کیا کر لیا؟ جمع بین الحقیقة والمجاز، حقیقی معنی دن کا بھی لے لیا اور مجازی معنی رات کا بھی لے لیا، زید چاہے دن کو آئے چاہے رات کو آئے آپ کیا حکم لگاتے ہیں کہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔
جواب اس کے ہم دیں گے مولانا، پہلے اعتراضات پڑھ لیجیے۔
ولئن قال اور اگر کہ یہ کہا مولانا یعنی کسی معترض نے یہ کہا، کسی شخص نے یہ کہا، اذا حلف کہ جب قسم اٹھائی کسی قسم کھانے والے نے کہ لا یضع قدمہ فی دار فلان کہ وہ نہیں رکھے گا اپنے قدم کو فلاں کے گھر میں، یحنث تو حانث ہو جائے گا لو دخلہا حافیاً او متنعلاً او راکباً اگر وہ داخل ہو، حافیاً کیا؟ ننگے پاؤں، او متنعلاً اس حال میں کہ وہ ننگے پاؤں ہو، او متنعلاً یا اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ جوتے پہنے ہوئے ہو، او راکباً یا اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ سوار ہو۔ سمجھ میں آیا؟
آخر میں آئے گا مولانا ایک ڈیڑھ سطر، ایک اگلی سطر کے آخر میں، وذلک جمع بین الحقیقة والمجاز یہ کیا ہے؟ جمع بین الحقیقة والمجاز ہے۔ درمیان میں ایک اور صورت بھی اسی کی ذکر کر رہے ہیں، وکذلک لو حلف لا یسکن دار فلان اسی طرح اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ فلاں کے گھر نہیں رہے گا تو یحنث وہ حانث ہو جائے گا، یعنی احناف کہتے ہیں، احناف کے نزدیک کیا ہو جاتا ہے؟ ہاں تو وہ حانث ہو جاتا ہے لو کانت الدار ملکاً لفلان کہ اگر وہ گھر کیا ہو فلاں کے لیے ملکیت ہو تب بھی حانث ہو جائے گا، او کانت باجرة او عاریة یا اجرت یعنی کرائے پر تھا او عاریة یا عاریتاً تھا تب بھی کیا ہو جاتا ہے وہ؟ حانث ہو جاتا ہے، وذلک جمع بین الحقیقة والمجاز اور یہ تو جمع بین الحقیقة والمجاز ہے، وکذلک لو قال عبده حر یوماً یقدم فلان اسی طرح اگر کسی نے کہا کہ اس کا غلام آزاد ہے اس جس دن کہ فلاں آئے گا، فقدم فلان اب یوم کا ایک حقیقی معنی کیا ہے؟ دن، نہار، اور یوم کا ایک مجازی معنی کیا؟ لیل، فقدم فلان لیلاً او نہاراً یحنث، آپ کیا کہتے ہیں کہ فلاں کیا آیا؟ لیل رات میں آیا یا دن میں آیا، جب بھی آ گیا یحنث تو یہ کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا یعنی غلام اس کا کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا، قلنا سے جواب دے رہے ہیں مولانا۔
کہتے ہیں بھئی یہاں جمع بین الحقیقة والمجاز نہیں ہے مولانا، بلکہ یہاں عموم مجاز ہے۔ یہاں کیا ہے؟ عموم مجاز ہے۔
عموم مجاز۔
صورتیں بتلائیں کہ اے احناف دیکھو! آپ کہتے ہیں کسی نے کہا میں فلاں کے گھر اگر میں نے قدم رکھا اس کے گھر قدم واللہ میں قدم نہیں رکھوں گا، آپ کہتے ہیں وہ چاہے ننگے پاؤں رکھے، چاہے جوتے پہن کے رکھے، چاہے سواری کے ساتھ رکھے آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ کیا ہوا؟ حانث۔ اسی طرح کسی نے کہا فلاں کے گھر میں نہیں ٹھہروں گا، آپ کہتے ہیں چاہے وہ اس کے گھر ملکیت ہو یا کرائے پر ہو یا عاریت ہو تینوں صورتوں میں آپ کہتے ہیں اگر ٹھہر جائے تو کیا ہو جائے گا؟ حانث۔
اسی طرح اگر کہتا ہے مولانا کہ اس کا غلام آزاد ہے جس دن کہ کون آیا؟ زید یوم جس یوم میں آیا، اور یہاں پر چاہے وہ رات کو آیا اور دن کو آیا دونوں معنی مراد لیے تو آپ نے کیا کر دیا؟ جمع بین الحقیقة والمجاز، تو ہم جواب کیا دیتے ہیں مولانا؟ کہ یہاں جمع بین الحقیقة والمجاز نہیں ضابطہ تو وہی ہے، جمع حقیقت اور مجاز تو جمع ہو ہی نہیں سکتے کبھی بھی، سمجھ میں آیا؟ کبھی جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔
تو یہاں عموم مجاز ہے، عموم مجاز کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کہ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی کر لیا جائے، ایسا عام مجازی معنی لیا مراد دیا جائے جو حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو جائے۔
یہ بھی مجاز ہے مولانا، یہ بھی کیا ہے؟ یہ بھی مجاز ہے، لکھو بھئی جلدی جلدی لکھو۔
عموم مجاز یہ ہے کہ لفظ کا کوئی ایسا عام مجازی معنی، کہ لفظ کا، کہ لفظ سے، کہ لفظ سے کوئی ایسا عام مجازی معنی مراد لے لیا جائے، کہ لفظ سے کوئی ایسا عام مجازی معنی مراد لے لیا جائے، جو حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو جائے، جو حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو جائے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
عموم مجاز کس کو کہتے ہیں مولانا؟ لفظ کا کوئی ایسا مجازی معنی مراد لے لیا جائے جو حقیقت اور مجاز دونوں کو شامل ہو۔
تو کون سا معنی ہم نے مراد لیا؟ حقیقی یا مجازی؟ ایک ہی معنی تو مراد لیا مجازی معنی، ہاں ایسا مجازی معنی مراد لیا جس میں اتنا عموم تھا کہ حقیقت بھی خود بخود اس میں داخل ہو گئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
جیسے مولانا فلاں نے کیا کہا تھا؟ واللہ میں زید کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا، اور قدم رکھنے کا حقیقی معنی کیا کیا آپ نے؟ ننگے پاؤں قدم رکھے، اور مجازی معنی کیا ہے؟ جوتے کے ساتھ رکھے یا سواری کے ساتھ۔
تو اب ہم نے اس کا مجازی معنی کیا، کیا؟ کہ وضع قدم سے مراد ہے داخل ہونا، کیا مراد ہے؟ معنی یہ ہے میں زید کے گھر داخل نہیں ہوں گا، اب یہ اس کا حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی معنی مراد ہے مولانا۔
جی، تو وضع قدم مولانا اس سے کون سا معنی ہم نے مراد دیا؟ مجازی معنی، کون سا مجازی معنی؟ داخل ہونا، داخل ہونا۔ کیونکہ عرف کے اندر جب کوئی شخص یوں کہتا ہے کہ میں فلاں کے گھر قدم نہیں رکھوں گا تو لوگ کیا مراد لیتے ہیں؟ اس کے کہنے کا کیا مطلب ہے؟ میں اس کے گھر میں داخل نہیں ہوں گا، یہ معنی نہیں ہوتا، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کے یہ کہنے کا مطلب ہے ننگے پاؤں میں قدم نہیں رکھوں گا، یہ کوئی سمجھتا ہے؟ کیا سمجھتے ہیں؟ میں کیا، مثلاً آپ کو کہتا ہوں بھئی میں آپ کے فلاں کے کمرے میں، میں قدم نہیں رکھوں گا، کیا معنی؟ مطلب میں جاؤں گا نہیں وہاں، داخل نہیں ہوں گا مولانا، سمجھ میں آیا؟ اب یہ داخل ہونا یہ وضع قدم کا حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی معنی ہے، لیکن یہ ایسا مجازی معنی ہے جس میں اتنا عموم ہے جو حقیقت کو بھی شامل ہوا اور مجاز کو بھی۔
تو ننگے، اب وہ ننگے پاؤں قدم رکھتا ہے یہ بھی داخل ہونے میں آ گیا، جوتوں کے ساتھ رکھتا ہے یہ بھی داخل ہونے میں آ گیا، سواری کے ساتھ جاتا ہے یہ بھی کس میں ہو گیا؟ داخل ہونے میں، تینوں صورتوں میں کیا پایا جاتا ہے؟ داخل ہونا، اور اس نے تو کہا میں اس میں داخل نہیں ہوں گا۔ تو یہ ہے عموم مجاز، سمجھ میں آیا؟ تو یہ عموم مجاز جو ہے یہ بھی مجازی معنی ہم نے مراد لیا حقیقی معنی مراد نہیں، البتہ وہ وہ مجازی معنی اتنا عام ہے کہ اس میں حقیقت بھی آ گئی اور مجاز بھی داخل ہوا۔
قلنا: ہم جواب دیتے ہیں۔ وضع القدم استعارة مجازاً عن الدخول کہ وضع قدم مجاز بن گیا ہے دخول سے بحكم العرف عرف کے حکم سے۔ عرف کے حکم سے۔ عرف میں عام طور پر یہ حکم لگایا جاتا ہے کہ اس کا معنی داخل ہونا ہے۔
والدخول لا يتفاوت في الفصلين اور دخول مختلف نہیں ہوتا دونوں صورتوں میں بھئی۔ بھئی دخول میں کوئی فرق نہیں دونوں صورتوں میں بھئی، چاہے ننگے پاؤں قدم رکھا جائے یا کس کے ساتھ رکھا جائے؟ جوتے یا سواری کے ساتھ۔ حقیقی معنی مراد لے، چاہے وہ والا مجازی معنی مراد لے، دونوں صورتوں میں کیا پایا جائے گا؟ دخول، داخل ہونا پایا جائے گا۔ کوئی فرق ہے؟ ننگے پاؤں بھی قدم رکھے گا تو کیا پایا جائے گا؟ جوتے کے ساتھ رکھے گا یا سواری کے ساتھ تو بھی کیا پایا جائے گا؟ داخل ہونا، دونوں صورتوں میں مختلف نہیں ہے۔
اور پھر دوسرا اعتراض یہ تھا کہ کسی نے کہا: میں فلاں کے گھر نہیں ٹھہروں گا، اب فلاں کا گھر حقیقتاً وہ ہے جس کا مالک ہو۔۔
مجازاً وہ گھر ہے جو اس نے کرائے پر لیا ہو یا عاریتاً لیا ہو۔ اور آپ نے دونوں مراد لیے تھے۔ ہم کہتے ہیں یہاں بھی عموم مجاز ہے بھئی۔ کیا معنی اس کا؟ رہائشی گھر۔ کیا ہے؟ رہائشی گھر، مولانا! اب یہ عام ہے چاہے کرائے پر لیا ہو، چاہے خود مالک ہو، چاہے عاریتاً ہو، سب اس میں آگئے جس میں اس کی رہائش ہو۔ چاہے وہ اس کا مالک ہو، چاہے اس نے کرائے پر لیا ہو، تو دارِ فلاں سے کیا مراد ہوا؟ رہائشی گھر مراد ہوئی۔
"ودار فلان صار مجازاً عن دار مسکونة له" اور دارِ فلاں یہ مجاز بن گیا ہے ایسے گھر سے "مسکونة له" جس میں اس کی کیا ہو؟ سکونت ہو، جس میں اس کی رہائش ہو۔ "وذالك لا يتفاوت بين أن يكون ملكاً له أو كانت بأجرة له" اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے، رہائش یہ رہائشی گھر ہونے میں کوئی، رہائش ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے اس میں کہ وہ اس کا اس کی ملکیت ہو یا کس کے ساتھ ہو؟ اجرت کے ساتھ ہو۔ اپنی ملکیت ہو پھر بھی رہائش ہے تو اس پر صادق آئے گا، کرائے پر ہو تو پھر بھی اس پر، رہ رہا ہو تو کیا صادق آئے گا؟ رہائش بھئی! سمجھ میں آرہا ہے بھئی دونوں میں کوئی فرق؟ نہیں، رہائش ہے چاہے اب مالک ہے تو بھی اس کے لیے کیا ہے، اس میں رہ رہا ہے تو کیا ہے؟ رہائش۔ کرائے پر لیا ہے، جب اس میں رہ رہا ہے تو اس کے لیے کیا ہے؟ رہائش گاہ ہے بھئی، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
"والیوم" اور باقی جو آپ نے کہا کہ کسی نے قسم کھائی، کسی نے کہا اس کا غلام آزاد ہے "يوم يقدم فلان" جس دن کہ فلاں "يقدم فلان" جس دن کہ فلاں آئے گا۔ آپ نے کیا کہا؟ "یوم" کا حقیقی معنی "نہار"، "یوم" کا مجازی معنی "لیل"، اور آپ اس سے دونوں معنی مراد لیتے ہیں۔ اب فلاں چاہے "لیل" میں آئے، چاہے "نہار" میں آئے، دونوں صورتوں میں آپ کیا حکم لگاتے ہیں؟ غلام آزاد ہے، یہ تو آپ نے کیا کیا؟ "جمع بين الحقيقة والمجاز"۔
کہتے ہیں بھئی! بات دراصل یہ ہے کہ یہاں "یوم" کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ ایسے "یوم" کی اضافت ہو رہی ہے فعل کی طرف۔ "یوم" کی اضافت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ فعل کی طرف ہو رہی ہے۔ اور "یوم" کی جب اضافت فعل کی طرف ہو تو کبھی وہ اس سے تو پھر اس فعل کو دیکھا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ فعل کو دیکھا جائے گا اور اس کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔
اگر "یوم" کی اضافت فعلِ ممتد کی طرف ہو تو اور معنی "یوم" کا، اور "یوم" کی اضافت فعلِ غیرِ ممتد کی طرف ہو تو اس کا اور معنی ہے بھئی۔ یاد رکھو، فعل دو قسم پر ہے: ایک ممتد، ایک غیرِ ممتد۔ ممتد، فعلِ ممتد وہ ہے جس میں امتداد ہو مولانا، طول ہو، طول ہو۔ طول ہو۔
اور فعلِ غیرِ ممتد وہ ہے جس میں امتداد یعنی طول نہ ہو، آنًا فأنًا ہو جائے، جس میں طول نہ ہو، امتداد نہ ہو، آنًا فأنًا ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فعل کتنی قسم پر ہے؟ دو۔ ایک فعلِ ممتد ہے، وہ فعل جس میں امتداد ہو، طول ہو۔ ایک فعلِ غیرِ ممتد، وہ جس میں طول نہ ہو، آنًا فأنًا ہو جائے۔
مثلاً مولانا! رکوب، سوار ہونا ایک فعل ہے اور اس کے اندر امتداد ہے۔ آپ سارا دن سوار رہیں بھئی گاڑی پر، طول آیا یا نہیں آیا مولانا اس فعل میں؟ لبس، کپڑے پہننا ایک فعل ہے، اس میں امتداد ہے۔ سارا دن کیا ہوں گے؟ کپڑے، آپ نے کیا پہنا ہے مثلاً؟ کوٹ پہن لیا تو کیا کیا؟ سارا دن لبس کا فعل ہے بھئی، آپ نے کیا کیا ہوا ہے کوٹ کو؟ پہنا ہوا ہے۔ تو یہ ہے فعلِ ممتد۔
اور ایک ہے فعلِ غیرِ ممتد جو آنًا فأنًا ہو جائے، جیسے داخل ہونا اور آنا۔ داخل ہونا، آنا، نکلنا وغیرہ۔ بھئی! آپ کمرے کے باہر کھڑے ہیں، آپ ایک قدم اندر رکھتے ہیں، پہلے میں کیا کہوں گا؟ آپ اندر ہیں یا باہر ہیں؟ باہر ہیں۔ آپ دو قدم چلے تو اندر آگئے۔ اب میں کیا کہوں گا؟ باہر ہیں، اندر ہیں؟ اندر ہیں۔ تو دیکھو دخول پایا گیا اور اس دخول کے اندر امتداد ہے؟ نہیں، آنًا فأنًا ہوا مولانا، کیا ہوا؟ آنًا فأنًا ہوا، فوراً ہو گیا بھئی۔
تو ایک قدم اٹھائیں باہر، ایک قدم اٹھائیں اندر۔ تو یہ دخول اور خروج یہ فعل ہیں لیکن ان میں امتداد نہیں، اسی طرح آنا، آنا، یہ بھی ایسا فعل ہے جس میں امتداد نہیں، طول نہیں۔ طول نہیں۔ کب؟ کہتے ہیں فلاں آگیا، کب کہتے ہیں فلاں آگیا؟ جیسے ہی پہلی نظر پڑتی ہے آپ کی، آپ کیا کہتے ہیں؟ زید آگیا۔ اس میں امتداد ہے یا نہیں مولانا؟ یا سمجھ میں آرہی ہے بات سب کو؟ بھئی! آپ سے کوئی پوچھے زید آیا ہے یا نہیں آیا؟ آپ کہہ رہے ہیں نہیں آیا، نہیں آیا بھئی ابھی تک نہیں آیا۔ جیسے ہی پہلی نظر پڑتی ہے، اگلے لمحے میں آپ کیا کہہ دیتے ہیں؟ آگیا، قدوم ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ قدوم ہو گیا مولانا! سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہے آنی فعل، کیا ہے؟ آنی فعل، غیرِ ممتد ہے بھئی، غیرِ ممتد۔
اور جب "یوم" کی اضافت فعلِ ممتد کی طرف ہو تو اس سے "نہار" مراد ہوتا ہے۔ کیا مراد ہوتا ہے؟ کس کی طرف اضافت ہو؟ فعلِ ممتد کی طرف جب اضافت ہو، اور جب اس کی اضافت فعلِ غیرِ ممتد کی طرف ہو تو "یوم" مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وقت کے معنی میں ہوتا ہے، کس کے معنی میں؟ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔
اب مولانا! کیا ضابطہ ہوا؟ "یوم" کی اضافت فعلِ ممتد کی طرف ہو تو یہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ نہار کے معنی میں، اور اگر اس کی اضافت کس کی طرف ہو؟ غیرِ ممتد کی طرف، تو یہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ مطلقِ وقت کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور یہاں "یوم" کی اضافت ہو رہی ہے قدوم کی طرف، اور قدوم فعل ممتد ہے یا غیرِ ممتد ہے؟ جی؟ غیرِ ممتد، تو "یوم" کی اضافت ہوئی فعلِ غیرِ ممتد کی طرف، تو یہ کس معنی میں ہوا؟ مطلقِ وقت، تو یہاں وقت مراد ہے بس۔ "میرا غلام آزاد ہے جس وقت زید آگیا"، اب چاہے وہ رات کو آئے تو بھی وقت ہے، دن کو آئے تو بھی وقت ہے، سب کو شامل ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے۔
"واليوم في مسألة القدوم عبارة عن مطلق الوقت" اور "یوم" مسئلہ قدوم کے اندر وہ عبارت ہے کس چیز سے؟ مطلقِ وقت سے۔ "لأن اليوم إذا أضيف إلى فعل لا يمتد" اس لیے کہ "یوم" کی جب اضافت کی جائے ایسے فعل کی طرف "لا يمتد" جس میں امتداد نہ پایا جائے، "يكون عبارة عن مطلق الوقت" تو پھر یہ "یوم" عبارت ہوگا کس چیز سے؟ مطلقِ وقت سے، "كما عرف" جیسا کہ جانا گیا ہے۔ "فكان الحنث بهذا الطريق" تو حانث ہونا اس طریقے پر ہوگا، یعنی ایک عام معنی لے لیا "یوم" کا مولانا، جو وقت، جو دن کو بھی شامل ہے اور رات کو بھی شامل ہے۔ تو حانث ہونا اس طریقے پر ہوگا یعنی عمومِ مجاز کے طریقے پر ہوگا، "لا بطريق الجمع بين الحقيقة والمجاز" جمع بین الحقیقة والمجاز کے طریقے پر نہیں ہوگا۔
چلیے مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔