Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 102
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گذشتہ سبق میں مولانا مؤول کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا بھئی۔ مؤول کس کو کہتے ہیں کہ جب مشترک کے کسی ایک معنیٰ کو غالب رائے کے ساتھ ترجیح دے دی جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ مؤول بن جاتا ہے، مؤول بن جاتا ہے۔ غالب رائے کے ساتھ یعنی غالبِ ظن کے ساتھ اور یعنی یہ غالبِ ظن کہاں سے آیا؟ دلیل سے آیا، کس سے؟ دلیل سے آیا یعنی خبرِ واحد تھی اس سے غالب گمان بن گیا کہ یہی مراد ہے یا قیاس تھا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس سے یہی مراد ہے یا مولانا کوئی قرینہ تھا جس سے پتہ چل گیا کہ اس سے جس سے غالب گمان یہ بن گیا کہ اس سے یہ مراد ہے۔ تو وہ ایک معنیٰ جب راجح ہو گیا تو اب یہ مشترک کیا کہلائے گا؟ مؤول کہلائے گا اور مؤول کا حکم بتلایا تھا کہ اس پر عمل کرنا واجب مگر ساتھ غلطی کا بھی احتمال ہے، احتمال ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص نے بیع کی کسی کے ساتھ اور ثمن کو مطلق چھوڑ دیا اور شہر میں مختلف کرنسیوں چلتی ہیں اور ان سب کی مالیت برابر ہے۔ مثلاً اس نے روپے کہا اور روپے شہر میں کئی قسم کے چلتے ہیں پاکستانی بھی ہے، ہندوستانی بھی ہے، کسی اور ملک مثلاً نیپال وغیرہ کا بھی ہے اور سب کی مالیت برابر ہے تو پھر کون سی کرنسی مراد لی جائے گی؟ غالب کرنسی، غالب جو اس شہر میں رائج ہے مولانا زیادہ جو چلتی ہے۔ لیکن اگر نقود مختلف ہوئے مولانا یعنی ان کی مالیت مختلف ہوئی پاکستانی روپیہ بھی ہے، ہندوستانی بھی ہے مثلاً نیپال کا بھی ہے لیکن مالیت مختلف ہے بھئی ایک پاکستانی کتنے ہندوستانی کے برابر؟ مثلاً دو کے برابر اور کتنے نیپالی کے برابر؟ پانچ کے برابر مثلاً تو اب مالیت ہر ایک کی مختلف ہے جیسے ڈالر نہیں ہے مولانا آپ ایک ایک ڈالر کتنے روپے کے بدلے؟ 60 کے بدلے اسی طرح تو مالیت اگر ان کی مختلف ہے۔ تو اگر مالیت مختلف ہوئی تو بیع فاسد ہو جائے گی کیونکہ یہاں پر جمع کرنا محال کیونکہ ایک کو جمع کرنا محال کیونکہ عمومِ مشترک لازم آئے گا اور عمومِ مشترک تو جائز نہیں اور کسی ایک کو ترجیح بھی نہیں دے سکتے کیونکہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، موجود نہیں۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ یہ جو ہم قروء کو حیض پر محمول کرتے ہیں آیت میں اور آیت حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ میں نکاح کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ وطی پر اور کنایات کو ہم محمول کرتے ہیں کس پر؟ طلاق پر کس دوران؟ جبکہ کب بولے جائیں؟ مذاکرۂ طلاق میں تو اس میں دوسرا بھی احتمال تھا لیکن جب مذاکرۂ طلاق میں بولے گئے تو اب ہم دوسرے احتمال کو نہیں دیکھیں گے بلکہ کس کو ترجیح دے دیں گے؟ طلاق کو ترجیح دیں گے تو یہ سارے اسی قبیل سے ہیں یعنی مؤول کی قبیل سے ہیں بھئی یہاں بھی ترجیح دی گئی ہے تاویل کے طریقہ پر۔ اور یہ بتلایا تھا کہ دینِ مانع جو ہو وہ دین جو مانع ہو زکوٰۃ سے اس کو کس کی طرف پھیریں گے؟ اس مال کی طرف جس کے ساتھ ادا کرنا اور میں نے ضابطہ بتلایا تھا کہ وہ مال جو مستغرق بالدین ہو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ اب مثلاً مولانا صورت یہ ہے کہ دینِ مانع من الزکوٰۃ مثلاً آپ کے پاس کیا ہے مولانا؟ 40 ہزار روپے بھی ہیں، 40 بکریاں بھی ہیں چرنے والی، اسی طرح تجارت کا سامان بھی ہے۔ اب آپ پر قرضہ آیا مثلاً کتنا قرضہ آیا آپ پر؟ ایک لاکھ روپے، کتنا قرضہ ہے؟ ایک لاکھ روپے تو سب سے پہلے کس کو کس کی طرف اس کو پھیرا جائے گا؟ اسان کس سے ادا کرنا؟ روپے کے ساتھ تو سب سے پہلے روپے کی طرف ہم جائیں گے اور روپے تو آپ کے پاس کتنے؟ 40 ہزار تو ان کا تو احاطہ کر لیا اس نے۔ اس کے بعد ہم کس کی طرف جائیں گے؟ مالِ تجارت کی طرف جائیں گے ان بکریوں کی طرف ابھی نہیں کہ مالِ تجارت کی طرف اس لیے کہ مالِ تجارت ہوتا ہی بیچنے کے لیے ہے۔ تو پہلے کے اندر ادائیگی آسان تھی کہ بغیر بیچے ہی ادا ہو جاتا تھا اور دوسرے کے اندر بیچنا تو پڑتا ہے بکریوں کو بھی بیچنا پڑے گا اور سامانِ تجارت کو بھی لیکن فرق یہ ہے کہ سامانِ تجارت ہوتا ہی تو پھر اس کی طرف جائیں گے اور سامانِ تجارت بھی کتنا ہے آپ کے پاس؟ 40 ہزار کا ہے مثلاً وہ بھی کس میں آ گیا؟ مستغرق بالدین ہو گیا اور ابھی بھی کتنا باقی ہے؟ اب یہ 20 ہم کس کی طرف لے جائیں گے؟ بکریوں کی طرف لے جائیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ اس پر تفریع کی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے کہ ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا کہ میں تجھے مہر میں کیا دوں گا؟ نصاب دوں گا تو نصاب مہر مقرر ہوا۔ اب مولانا اس شخص کے پاس دو قسم کے نصاب ہیں ایک نصاب کس میں سے ہے؟ دراہم و دنانیر میں سے ہے اور دوسرا نصاب کس میں سے ہے؟ بھیڑ بکریوں میں سے اور ان پر سال گزر جاتا ہے اب یہ مہر اس پر کیا تھا؟ دین ہے اس پر کیا ہے؟ دین ہے اور یہ دین کیا کر رہا ہے؟ احاطہ کر رہا ہے کس چیز کا؟ یہ دین بھی نصاب اور اس شخص کے پاس دو قسم کے نصاب تو اب اس کو کس کی طرف پھیرا جائے گا اس دین کو؟ جس کے ساتھ ادائیگی آسان اور وہ کون سا ہے؟ روپے تو لہٰذا وہ روپے کیا ہوں گے؟ مستغرق بالدین شمار ہوں گے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اور جو بکریاں ہیں وہ مستغرق بالدین نہیں لہٰذا ان میں کیا سال کے گزرنے کے بعد کیا ادا کی جائے گی اس میں سے؟ زکوٰۃ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر مشترک کے کسی ایک معنیٰ کو ترجیح دی جائے کس کی وجہ سے؟ متکلم کی طرف سے کوئی بیان آنے کی وجہ سے تو پھر یہ کیا کہلائے گا؟ مفسر کہلائے گا کہ اس کے کئی معانی مشترک میں کئی معانی کا احتمال تھا لیکن متکلم نے خود ہی بتلا دیا کہ یہ جو میں مشترک استعمال کر رہا ہوں اس سے کون سا معنیٰ مراد ہے۔ تو یہ کیا کہلائے گا؟ مفسر کہلائے گا اور مفسر جو ہے وہ قطعی ہوتا ہے اس میں غلطی کا احتمال نہیں۔ مثلاً ایک شخص نے کہا لفلان علي عشرة دراهم فلاں کے مجھ پر کتنے دراہم ہیں؟ دراہم، اب یہ دراہم مشترک تھے بخارٰى کے بھی ہو سکتے ہیں مثلاً سمرقند کے بھی، کسی اور جگہ کے بھی ہو سکتے ہیں۔ تو لیکن جس نے یہ مشترک پر تکلم کیا تھا اسی نے ساتھ کیا کہہ دیا ہے؟ من بخارى، من نقد بخارى، تو تفسیر بیان کر دی کہ یہ جو میں مشترک بول رہا ہوں اس سے مراد کیا ہے؟ کون سی نقدی مراد ہے؟ بخارٰى کی نقدی مراد ہے۔ اب مولانا اور نقدیوں کا احتمال ہے؟ نہیں، بتلا دیا اس نے خود تفسیر کر کے بتلا دیا کہ یہ والا معنیٰ اس کا مراد ہے۔ تو اب اس میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں، پہلے تو آپ دلیل کی وجہ سے کیا کرتے تھے؟ ایک معنیٰ کو ترجیح دیتے تھے اور اس میں غلطی کا بھی امکان تھا کیونکہ ترجیح آپ دے رہے تھے متکلم نہیں، اور اب تو ترجیح دینے والا کون ہے؟ متکلم ہے تو اب اس میں غلطی کا احتمال نہیں تو یہ مفسر کہلائے گا اور یہ قطعی ہے اس میں غلطی کا احتمال نہیں، تو لہٰذا اب مفسر اور مؤول میں مقابلہ آ جائے تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ مفسر ترجیح پائے گا کیونکہ وہ قطعی اور مؤول میں تو غلطی کا بھی احتمال، وہ ظنی ہے اور قطعی کیا ہوتا ہے؟ وہ ظنی پر ترجیح پا جائے گا بھئی۔ فصل في الحقيقة والمجاز، یہ فصل ہے مولانا حقیقت اور مجاز کے بارے میں۔ بھئی سب سے پہلی تقسیم ہم نے پڑھی وضع کے اعتبار سے لفظ کی کتنی قسمیں؟ چار: خاص، عام، مشترک اور مؤول، وہ چاروں گزر گئے۔ اب مولانا اگلی تقسیم کیا تھی؟ استعمال کے اعتبار سے کہ لفظ کس معنیٰ جس معنیٰ کے لیے استعمال ہو رہا ہے اس اعتبار سے بھی کتنی قسمیں تھیں؟ چار، کون کون سی؟ حقیقت، مجاز، صریح اور کنایہ، چار قسمیں۔ تو آج ہم حقیقت اور مجاز کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ اگر یاد رکھو لفظ کو استعمال کیا جائے اسی معنیٰ کے لیے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا تو اس کو کہتے ہیں حقیقت۔ اور اگر لفظ کو اس معنیٰ کے لیے استعمال نہ کیا جائے جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا تو یہ مجاز کہلاتا ہے۔ لفظ کو اسی معنیٰ کے لیے استعمال کرنا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا یہ کیا ہے؟ استعمال کیا جائے تو یہ کیا ہے؟ حقیقت، اور لفظ کو اگر آپ نے استعمال کیا ایسے معنیٰ کے لیے جس کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا تھا تو یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہو: اگر لفظ کو معنیٰ موضوع لہ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ حقیقت، اگر لفظ کو معنیٰ غیر موضوع لہ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ حقیقت کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنیٰ موضوع لہ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ اور اگر لفظ کو معنیٰ غیر موضوع لہ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ کیا ہے؟ مجاز۔ مثلاً مولانا دیکھیے اسد، اسد کا لفظ، اسد شیر کے لیے وضع ہے، ایک جنگلی درندہ ہے اس کے لیے وضع ہے لغت میں، لیکن کبھی کبھی بہادر آدمی کو بھی شیر کہہ دیتے ہیں اس کو بھی اسد کہہ دیتے ہیں۔ تو اسد کا اسد وضع کس کے لیے ہے؟ شیر، تو لفظِ اسد بولا جائے اور اس سے معنیٰ بھی کیا اس کا کیا جائے؟ شیر کا، تو شیر مراد ہو تو پھر یہ کیا ہے؟ حقیقت، اور اگر اس سے کیا مراد لیا جائے؟ بہادر آدمی، تو پھر یہ کیا ہے؟ مجاز ہے، مجاز ہے۔ دیکھیے مولانا، فصل في الحقيقة والمجاز، یہ فصل ہے مولانا حقیقت اور مجاز کے بارے میں۔ كل لفظ وضعه واضع اللغة بإزاء شيء فهو حقيقة له، ہر وہ لفظ جس کو وضع کیا ہو واضعِ لغت نے، لغت کے وضع کرنے والے نے بإزاء شيء، کسی چیز کے مقابلے میں یعنی کسی معنیٰ کے اسد کو کس چیز کے مقابلے میں وضع کیا گیا تھا؟ کس چیز کے لیے وضع کیا گیا تھا؟ شیر کے لیے، فهو حقيقة له، تو اس سے فهو حقيقة له، تو یہ معنیٰ اس کے لیے کیا ہے؟ حقیقت ہے۔ تو یہ لفظ فهو، ھو ضمیر راجع ہے لفظ کو، له کی ھا ضمیر راجع ہے کس کو؟ شے کو، تو یہ لفظ اس معنیٰ کے لیے حقیقت ہے۔ یہ لفظ اس معنیٰ کے لیے اسی معنیٰ میں استعمال ہو تو کیا کہلائے گا؟ حقیقت۔ ولو استعمل في غيره، اگر اس کے غیر میں استعمال ہو، يكون مجازاً لا حقيقة، تو پھر یہ مجاز ہوگا حقیقت نہیں، ثم مع ال پھر یہاں سے حکم بتلا رہے ہیں، ثم الحقيقة مع المجاز، حکم یہ مولانا کہ حقیقت اور مجاز جمع نہیں ہو سکتے کہ ایک لفظ سے ایک حالت میں دونوں کا دونوں مراد ہوں بھئی۔ آپ نے اسد کا لفظ بولا اس سے ایک ہی وقت میں شیر بھی مراد ہو اور بہادر آدمی بھی مراد ہو یہ ایسا نہیں، یا اس سے مراد شیر ہوگا یا اس سے کیا مراد ہوگا؟ بہادر آدمی، تو حقیقت اور مجاز دونوں جمع نہیں ہو سکتے ایک ہی وقت میں ایک لفظ سے۔ ثم الحقيقة مع المجاز لا يجتمعان، پھر حقیقت مجاز کے ساتھ یہ دونوں جمع نہیں ہوتے، إرادة من لفظ واحد، ارادہ کرتے ہوئے ایک ہی لفظ سے، في حالة واحدة، کس میں؟ ایک ہی حالت میں، ولهذا قلنا، اب مولانا کچھ مسائل ذکر کریں گے بھئی جہاں آپ کو بتلائیں گے کہ جب ایک معنیٰ حقیقت مراد ہو گئے تو مجاز مراد نہیں ہو سکتا اور اگر سمجھ میں آیا؟ ایک معنیٰ مراد ہوگا بھئی دیکھیے۔ حضور علیہ السلام کی حدیثِ مبارکہ ہے: لا تبيعوا الدرهم بالدرهمين ولا الصاع بالصاعين، نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہم کے بدلے، ولا الصاع بالصاعين، اور نہ بیچو ایک صاع کو دو صاع کے بدلے، دو صاع کے بدلے۔ اب صاع کہتے ہیں کس کو کہتے ہیں؟ حقیقت میں، اس کو وضع کس لیے کیا گیا ہے؟ وضع کیا گیا ہے لکڑی کا ایک برتن ہے مولانا پیمانہ ہے جس کے ساتھ گندم وغیرہ کو کیا کیا جاتا ہے؟ ماپا جاتا ہے اور بیچا جاتا ہے۔ دیہات میں رہنے والے جانتے ہوں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کہ لکڑی کا ایک برتن ہوتا ہے بنا ہوتا ہے خاص مقدار ہوتی ہے اس میں گندم کی اس کو کیا کہتے ہیں؟ صاع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صاع۔ تو اب یہ اس لکڑی کا برتن یہ اس کا کیا ہے؟ معنیٰ حقیقی ہے، اس کا معنیٰ اور ایک اس کا مجازی معنیٰ ہے کہ صاع سے وہ لکڑی کا برتن نہیں مراد بلکہ ما في الصاع اس لکڑی کے برتن میں جو چیز ہے وہ مراد یعنی مظروف مراد ہے، ظرف نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ مظروف، تو صاع کا حقیقی معنیٰ ہے ظرف وہ لکڑی کا برتن اور مجازی معنیٰ کیا ہے؟ مظروف وہ جو اس لکڑی کے برتن میں چیز موجود ہے، چیز موجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اب حدیث میں آیا ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں نہ بیچو، یہاں بالاتفاق صاع سے کیا مراد ہے؟ مظروف مراد ہے یعنی کوئی ماپی جانے والی چیز ہو وہ ایک صاع ہو ایک طرف مثلاً ایک طرف ایک صاع گندم ہے دوسری طرف دو صاع گندم ہے تو یہ بھی تو اس ایک صاع گندم کو دو صاع گندم کے بدلے نہ، آپ کی گندم ذرا اعلیٰ، دوسرے کی گندم ذرا ادنیٰ، اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صاع میری والی اعلیٰ گندم لے لو اور اپنی والی ادنیٰ دو صاع مجھے دے دو، یہ جائز نہیں ہے مولانا، یہ جائز نہیں ہے ورنہ سود لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ سود لازم آئے گا مساوات ہونی چاہیے برابری دونوں طرف ایک ہی جنس ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب یہاں صاع سے مراد بالاتفاق کیا مراد ہے؟ مظروف مراد ہے یعنی وہ ماپی جانے والی چیز مراد ہے کہ جو چیزیں ماپی جاتی ہیں ان میں سے ان کو ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں نہ بیچو بلکہ کس طرح بیچو؟ برابری کے ساتھ بیچو، ایک صاع کے بدلے کتنا بیچو؟ ایک صاع ہی بیچو بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہاں صاع سے مراد مجازی معنیٰ مراد ہو گئے اور جب مجازی معنیٰ مراد لے لیے تو اب حقیقی معنیٰ مراد نہیں لے سکتے کیونکہ حقیقت اور مجاز جمع نہیں، تو جب صاع سے مظروف مراد ہو گیا تو اب ظرف مراد نہیں، لہٰذا جب ظرف مراد نہیں تو ایک لکڑی کا پیمانہ میرے پاس ہے دو آپ کے پاس ہیں میں آپ کو کہتا ہوں یہ میرا والا لے لو یہ نیا ہے اور آپ کے پاس ذرا پرانے ہیں یہ پیمانے یہ مجھے دے دو تو یہ جائز ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیونکہ حدیث میں منع آیا تھا ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں نہ بیچو اور وہاں صاع سے کون سا معنیٰ لے لیا؟ حقیقی یا مجازی؟ مجازی معنیٰ مظروف کا جب مجازی معنیٰ لے لیا تو اب حقیقی معنیٰ مراد نہیں، اور حقیقی معنیٰ اس کا کیا تھا؟ ظرف وہ لکڑی کا، تو لکڑی کا برتن اب اس سے مراد نہیں ہو سکتا لہٰذا لکڑی کا ایک برتن دو کے بدلے بیچنا کیا ہو جائے گا؟ وہ نہیں اس کی ممانعت نہ ثابت ہوئی بھئی۔ ولهذا قلنا، اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں لما أريد، جب ارادہ کر لیا گیا ما، اس چیز کا يدخل في الصاع، جو صاع میں کیا ہوتی ہے؟ داخل ہوتی ہے، یعنی اس میں آتی ہے تو وہ کیا ہے مولانا؟ مظروف بھئی جو چیز صاع میں ہو، جب اس کا ارادہ کر لیا گیا بقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ: لا تبيعوا الدرهم بالدرهمين، نہ بیچو تم ایک درہم کو دو درہم کے بدلے ولا الصاع بالصاعين، اور نہ بیچو ایک صاع کو دو صاع کے بدلے میں، جب اس سے کیا ارادہ کر لیا گیا؟ ما یدخل فی الصاع کا، یعنی مظروف کا ارادہ کر لیا گیا۔ فسقط اعتبار نفس الصاع، تو ساقط ہو گیا نفس صاع کا اعتبار۔ نفس صاع، نفس لکڑی کا پیمانہ وہ مراد نہیں ہو گا۔ حتی جاز بیع الواحد منہ بالاثنين بالاثنين، یہاں تک کہ جائز ہو جائے گا اس پیمانے میں سے ایک کا بیچنا بالاثنين، کتنے کے بدلے؟ دو کے بدلے۔ ولما اريد الوقاع من آية الملامسة سقط اعتبار إرادة المس باليد۔ اسی طرح مولانا اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں بھئی: او لامستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا اور یا تم عورتوں سے جماع کر لو، فلم تجدوا ماء پس پھر تم پانی نہ پاؤ، فتيمموا صعيدا طيبا تو تیمم کر لو کس سے؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی۔ اب ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے اور وہ ہے ہاتھ سے چھونا۔ لمس کس کو کہتے ہیں؟ ہاتھ سے چھونا۔ تو ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے ہاتھ سے چھونا اور ایک اس کا مجازی معنی ہے جماع بھئی۔ کیا معنی ہے؟ جماع۔ تو ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے اور وہ ہاتھ سے چھونا اور ایک مجازی معنی ہے کیا؟ جماع، جماع کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ تو یہاں پر مولانا، اس بات میں امام شافعی رحمہ اللہ اور ہمارا تو اتفاق ہے کہ یہاں ملامست سے کیا مراد ہے؟ جماع مراد ہے۔ او لامستم النساء یا تم لوگ کیا کر لو؟ عورتوں سے جماع کر لو، فلم تجدوا ماء پھر تم پانی نہ پاؤ تو کیا کر لو؟ پاک مٹی سے معلوم ایک جنبی بھی ہے مولانا وضو میں پانی نہیں ملتا تو بھی تیمم کریں گے، جنبی ہے ایک شخص اس کو پانی نہیں ملتا تو پھر وہ بھی کیا کرے گا؟ وہ بھی تیمم کرے گا، جو وضو والے کے لیے تیمم تھا غسل کے لیے بھی وہی تیمم کرے گا۔ اب اس بات، اس آیت سے ہمارے نزدیک جماع مراد ہے۔ لامستم سے کیا مراد ہے اس آیت میں؟ جماع۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے جماع کا معنی مراد لیتے ہیں، چنانچہ جنبی کے لیے تیمم کا اثبات وہ اسی آیت سے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی جنبی کیا کرے گا پھر؟ تیمم کرے گا، کہاں سے انہوں نے دلیل پکڑی؟ انہوں نے بھی اسی آیت سے۔ تو معلوم ہوا ہم بھی جماع مراد لیتے ہیں اور وہ بھی کیا مراد لیتے ہیں؟ جماع۔ اور جماع اس کا حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی معنی۔ تو جب مجازی معنی مراد لے لیے تو اب حقیقی معنی مراد نہیں۔ لہذا اگر ایک باوضو شخص عورت کو ہاتھ لگا دے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اس کو اب دوبارہ اور پھر اس پر وضو واجب نہیں ہو گا کہ وہ پھر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے جا کر؟ تیمم کرے۔ تو ایک باوضو شخص اگر عورت کو ہاتھ لگائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ہم نے اس سے کیا مراد لے لیے؟ جماع۔ اور جب جماع مراد لے لیا مجازی معنی تو حقیقی معنی یعنی لمس بالید مراد نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اس سے مجازی معنی بھی ساتھ حقیقی معنی بھی مراد لیتے ہیں اور کیا کہتے ہیں کہ ہاتھ سے کسی عورت کو چھو لیا کسی نے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو شوافع کے ہاں مولانا، عورت کو ہاتھ باوضو ہیں آپ ہاتھ لگ جائے بس فوراً کیا ہوا؟ آپ کا وضو ٹوٹ گیا۔ چنانچہ آپ بھئی، اللہ سب کو حج پر لے کر جائے بھئی بار بار۔ حج پر جائیں گے وہاں آپ دیکھیں گے بھئی، شوافع کی جو عورتیں ہیں انہوں نے ہاتھوں پر بھی دستانے چڑھائے ہوتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ حج ہے، ہجوم ہے اور تو وہاں وضو کرنا بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے بھئی اتنے ہجوم کے اندر آدمی جائے اور وضو کرے۔ تو پھر ذرا کسی کا ہاتھ لگ جائے گا کیا ہو گا؟ وضو، ان کا حکم لگا دیتے ہیں فوراً وضو ٹوٹ گیا بھئی۔ کوئی چیز پکڑا بھی رہی اپنے خاوند کو ہاتھ لگ گیا فوراً وضو ٹوٹ گیا۔ احناف کے ہاں بڑی آسانی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں بھئی: أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا اور یا تم عورتوں سے جماع کر لو، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً پس پھر تم پانی نہ پاؤ، فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا تو تیمم کر لو کس سے؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی۔ اب ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے اور وہ ہے ہاتھ سے چھونا۔ لمس کس کو کہتے ہیں؟ ہاتھ سے چھونا۔ تو ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے ہاتھ سے چھونا اور ایک اس کا مجازی معنی ہے جماع بھئی۔ کیا معنی ہے؟ جماع۔ تو ملامست کا ایک حقیقی معنی ہے اور وہ ہاتھ سے چھونا اور ایک مجازی معنی ہے کیا؟ جماع، جماع کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ تو یہاں پر مولانا، اس بات میں امام شافعی رحمہ اللہ اور ہمارا تو اتفاق ہے کہ یہاں ملامست سے کیا مراد ہے؟ جماع مراد ہے۔ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ یا تم لوگ کیا کر لو؟ عورتوں سے جماع کر لو، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً پھر تم پانی نہ پاؤ تو کیا کر لو؟ پاک مٹی سے معلوم ایک جنبی بھی ہے مولانا وضو میں پانی نہیں ملتا تو بھی تیمم کریں گے، جنبی ہے ایک شخص اس کو پانی نہیں ملتا تو پھر وہ بھی کیا کرے گا؟ وہ بھی تیمم کرے گا، جو وضو والے کے لیے تیمم تھا غسل کے لیے بھی وہی تیمم کرے گا۔ اب اس بات، اس آیت سے ہمارے نزدیک جماع مراد ہے۔ لامستم سے کیا مراد ہے اس آیت میں؟ جماع۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسے جماع کا معنی مراد لیتے ہیں، چنانچہ جنبی کے لیے تیمم کا اثبات وہ اسی آیت سے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی جنبی کیا کرے گا پھر؟ تیمم کرے گا، کہاں سے انہوں نے دلیل پکڑی؟ انہوں نے بھی اسی آیت سے۔ تو معلوم ہوا ہم بھی جماع مراد لیتے ہیں اور وہ بھی کیا مراد لیتے ہیں؟ جماع۔ اور جماع اس کا حقیقی معنی ہے یا مجازی معنی؟ مجازی معنی۔ تو جب مجازی معنی مراد لے لیے تو اب حقیقی معنی مراد نہیں۔ لہذا اگر ایک باوضو شخص عورت کو ہاتھ لگا دے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اس کو اب دوبارہ اور پھر اس پر وضو واجب نہیں ہو گا کہ وہ پھر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے جا کر؟ تیمم کرے۔ تو ایک باوضو شخص اگر عورت کو ہاتھ لگائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ہم نے اس سے کیا مراد لے لیے؟ جماع۔ اور جب جماع مراد لے لیا مجازی معنی تو حقیقی معنی یعنی لمس بالید مراد نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اس سے مجازی معنی بھی ساتھ حقیقی معنی بھی مراد لیتے ہیں اور کیا کہتے ہیں کہ ہاتھ سے کسی عورت کو چھو لیا کسی نے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو شوافع کے ہاں مولانا، عورت کو ہاتھ باوضو ہیں آپ ہاتھ لگ جائے بس فوراً کیا ہوا؟ آپ کا وضو ٹوٹ گیا۔ چنانچہ آپ بھئی، اللہ سب کو حج پر لے کر جائے بھئی بار بار۔ حج پر جائیں گے وہاں آپ دیکھیں گے بھئی، شوافع کی جو عورتیں ہیں انہوں نے ہاتھوں پر بھی دستانے چڑھائے ہوتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ حج ہے، ہجوم ہے اور تو وہاں وضو کرنا بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے بھئی اتنے ہجوم کے اندر آدمی جائے اور وضو کرے۔ تو پھر ذرا کسی کا ہاتھ لگ جائے گا کیا ہو گا؟ وضو، ان کا حکم لگا دیتے ہیں فوراً وضو ٹوٹ گیا بھئی۔ کوئی چیز پکڑا بھی رہی اپنے خاوند کو ہاتھ لگ گیا فوراً وضو ٹوٹ گیا۔ احناف کے ہاں بڑی آسانی ہے۔ سمجھ میں آیا؟
123 approved lectures · 26 of 123