کل مولانا مسئلہ ہم نے پڑھا تھا بھئی!
قرآن میں اللہ تعالی۔۔۔ یہ ماء زعفران کا مسئلہ مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ماء زعفران کا مسئلہ۔
قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا" اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ پاک مٹی سے تیمم کر لو۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ پانی نہ ہو، آیت میں کیا ہے اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی، پانی نہ ہو پھر تو ظاہری بات ہے کیا کیا جائے گا؟ تیمم۔ لیکن اگر ایسا پانی اور پانی تو نہیں لیکن ایسا پانی موجود ہے جس کا ایک وصف تبدیل ہوا ہے، اس میں کوئی پاک چیز ملی ہے اور اس کا ایک وصف تبدیل، تو رنگ، بو اور ذائقے میں سے ایک چیز تبدیل ہو گئی، مثلاً زعفران مل گیا بھئی! تو اب ایک وصف تبدیل ہو گیا پانی کا۔ اب اس پانی کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے یا مولانا اب بھی کیا کیا جائے گا؟ اس پانی سے وضو جائز نہیں اور اس کے بجائے کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا۔ اس میں اختلاف ہے۔
احناف کہتے ہیں مولانا! کہ اس پانی کے ہوتے ہوئے تیمم جائز نہیں، بلکہ اسی پانی سے کیا کیا جائے گا؟ وضو کیا جائے گا۔
شوافع کہتے ہیں کہ اس پانی۔۔۔ جی! یہی بات ہے؟ اور شوافع کہتے ہیں کہ اس پانی سے وضو جائز نہیں، لہذا اب اس پانی کے ہوتے ہوئے اس سے وضو نہیں کر سکتے بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم کرنا پڑے گا۔
احناف کی دلیل یہ ذکر ہوئی، احناف دلیل دیتے ہیں کہ بھئی! آیت کیا آئی ہے: "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً" اگر تم پانی نہ پاؤ، یہاں "ماء" مطلق ذکر ہوا۔ "ماء" کیا ہے؟ مطلق ذکر ہوا، اس کے ساتھ کوئی قید نہیں اور ضابطہ ہے: "المطلق يجري على إطلاقه" مطلق اپنے وصفِ اطلاق پر جاری ہو گا۔ اور یہ جو ماء زعفران ہے اس کا اگرچہ ایک وصف تبدیل ہو چکا ہے لیکن یہ پھر بھی پانی ہی ہے، کیا ہے؟ پانی ہی ہے۔ ماء زعفران، زعفران کی قید سے کوئی اس کی حقیقت نہیں بدلی بلکہ اس اضافت نے مولانا اس کے نام کو اور پختہ کر دیا، اور کیا کر دیا؟ یہ اب بھی پانی ہے تو یہ ماء مطلق میں داخل ہے اور آیت میں تھا کہ جب تم ماء مطلق کو نہ پاؤ تب کیا کرو؟ تیمم، اور یہاں تو ماء مطلق کو ہم پا رہے ہیں، لہذا اس صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ وضو ہی کرنا پڑے گا۔
شوافع کہتے ہیں مولانا! شوافع کہتے ہیں کہ یہاں پر قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا" طہور کہتے ہیں مولانا جو خود بھی پاک ہو اور دوسرے کو بھی پاک کرے، اور ہم نے نازل کیا آسمان سے ایسا پانی طہورًا جو کیا ہے؟ پاک ہے، پاک کرنے والا ہے۔ تو کہتے ہیں یہاں پر بھی ماء سے کیا مراد ہے؟ ماء طاہر، اور ماء طاہر طاہر و مطہر یعنی پاک کرنے والا، اور پاک کرنے والا پانی وہ ہے جس کے بارے میں اللہ نے کیا فرمایا: "أَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ" کہ اس کو ہم نے آسمان سے، معلوم ہوا پاک پانی پاک کرنے والا پانی وہ ہے جو منزل من السماء کی صفت پر باقی ہو، آسمان سے نازل ہونے والے پانی کی صفت پر باقی ہو۔ اور آسمان سے نازل ہونے والا پانی یعنی بارش جو ہے، اس کی کیا وصف ہے؟ کہ اس کے نہ رنگ میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے نہ بو میں اور نہ ذائقے میں، تینوں اوصاف میں سے کسی ایک، تینوں میں سے کسی ایک وصف میں بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا ماء طہور وہ ہے جو منزل من السماء کی صفت پر ہو، پاک کرنے والا پانی وہ ہے جو کس صفت پر ہو؟ سماء کی صفت پر ہو۔ اور یہ جو ماء زعفران ہے یہ تو منزل من السماء کی صفت پر باقی نہیں، اس کا تو ایک وصف تبدیل ہو چکا ہے، ایک وصف تبدیل ہو چکا۔ تو لہذا اب اس صورت میں اس سے، اس کے ہوتے ہوئے بھی مولانا، وہ ماء جو منزل من السماء کی صفت پر ہو وہ نہیں ہے۔ ماء زعفران تو موجود ہے، لیکن اللہ نے کیا فرمایا ہے؟ "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً" اس ماء سے کون سا پانی مراد ہے جو منزل من السماء کی صفت پر ہو، تو اگر تم منزل من السماء کی صفت والا پانی نہ پاؤ تو کیا کر لو؟ تیمم کر لو۔ اور یہ پانی جس کا ایک وصف تبدیل ہو گیا ہے یہ بھی منزل من السماء والے پانی کی صفت پر باقی نہیں، تو منزل من السماء کی صفت والا پانی نہیں پایا گیا، اور جب آیت میں ہے جب وہ پانی نہ پایا جائے تو پھر کیا کر لو؟ تو وہ پانی اب نہیں پایا گیا تو اب کیا کرنا پڑے گا؟ تیمم کرنا پڑے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو آیت میں "ماء" آیا اس سے کون سا ماء مراد ہے؟ جو منزل من السماء۔
احناف جواب دیتے ہیں شوافع کی دلیل کا کہ بھئی آیت میں ماء مطلق آیا ہے اور اس کو منزل من السماء کی صفت اس کے ساتھ بڑھانا، یہ تو اس کو مقید کرنا ہے۔ تو آپ اپنے قیاس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ کتاب اللہ کے مطلق کو کیا کر رہے ہیں؟ مقید کر رہے ہیں۔ حالانکہ ضابطہ ہے: "المطلق يجري على إطلاقه والمقيد يجري على تقييده"، تو لہذا اس کو، اس مطلق کو مقید کرنا اور یہ مطلق ہے قطعی اور آپ اس کو مقید کر رہے ہیں اپنے قیاس کے ساتھ، تو قیاس کیا ہے؟ ظنی، اور قطعی کو ظنی کے ساتھ منسوخ کرنا جائز نہیں، منسوخ کرنا جائز نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ انہوں نے قیاس ہی کیا نا، کہ ماء طہور وہ ہے جو کس صفت پر ہو؟ آیت میں یہ تھا کہ ماء طہور صرف وہ ہے جو کس سے ہو منزل من السماء کی صفت پر ہو؟ یہ تو بات نہیں ہے، یہ تو انہوں نے خود قیاس کیا ہے کہ آیت میں چونکہ اس طرح ذکر ہو رہا ہے معلوم ہوا قیاس انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ کیا ہے؟ وہ پانی ہو گا۔ تو اپنے قیاس کے ساتھ آپ اس کو مقید کر رہے ہیں اور قیاس کے ساتھ ظنی کو جو کہ ظنی ہے، اس کے ساتھ آپ قطعی کے وصفِ اطلاق کو کیا کر رہے ہیں؟ منسوخ کر رہے ہیں، اور یہ منسوخ اس کے ساتھ کرنا جائز نہیں۔۔۔
پھر شوافع اعتراض کرتے ہیں احناف پر کہ آپ نے کیا کہا؟ ماء زعفران کہ آیت میں ماء سے کیا مراد ہے؟ ماءِ مطلق۔ اور یہ تو ماءِ زعفران ہے یہ تو ماءِ مطلق نہیں، اس کے ساتھ زعفران یہ مضاف الیہ ہے زعفران اس کے لیے، وہ اور مضاف الیہ مضاف کے لیے کیا ہوتا ہے؟ قید ہوتا ہے، تو یہ مقید ہوا یہ تو مطلق ہے ہی نہیں۔ اگر اس ماءِ زعفران کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے تم اس کو مطلق کہتے ہو مقید نہیں کہتے، پھر تو ماء، ماء الورد کے ساتھ عرقِ گلاب کے ساتھ بھی وضو کرنا جائز، وہاں بھی ورد کی قید ہے۔ وہاں ورد مضاف الیہ ہے۔ اور ماء المرق وغیرہ کے ساتھ بھی وضو کرنا، وہاں المرق کیا ہے؟ شوربہ۔ کیونکہ وہاں پر بھی ماء مضاف ہے اور المرق کیا ہے؟ مضاف الیہ۔ تو جب ماء الزعفران یہ مضاف مضاف الیہ اس مضاف کو آپ مطلق کہہ رہے ہیں تو وہاں اس مضاف کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ مطلق کہنا چاہیے، تو لہذا اس کے ساتھ بھی کیا ہونا چاہیے؟ وضو ہونا چاہیے جائز۔
احناف جواب دیتے ہیں کہ بھئی ماء الزعفران میں بھی اضافت ہے، ماء الورد اور ماء المرق میں بھی اضافت ہے لیکن یہ ایک قسم کی اضافت نہیں ہے دونوں میں فرق ہے، اضافت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک اضافتِ تقیید ہے اور ایک اضافتِ تعریف ہے۔ اضافتِ تقیید میں اضافت کی وجہ سے مضاف کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے، اس کی طبیعت ہی بدل جاتی ہے، جیسے ماء الورد کہا تو حقیقت ہی بدل گئی اب پانی نہیں بلکہ کیا ہے؟ عرقِ گلاب، وہ الگ چیز ہے مولانا۔ اسی طرح ماء المرق، ماء کی اضافت کس کی طرف ہو گئی؟ مرق کی طرف، اس اضافت کی وجہ سے حقیقت ہی بدل گئی، شوربہ الگ چیز ہے، پانی الگ چیز ہے مولانا، حقیقت ہی الگ الگ ہے۔ اور ایک ہے اضافتِ تعریف جو صرف پہچان کے لیے ہوتی ہے، صرف تخصیص کا فائدہ دیتی ہے، جیسے آپ کہتے ہیں ماء البئر کنویں کا پانی، ماء العين چشمے کا پانی، یہاں اور جیسے ماء الزعفران ہے یہ بھی اسی قبیل سے ہے، تو ماء البئر میں بھی اضافت ہے لیکن اس اضافت کی وجہ سے مضاف یعنی ماء کی حقیقت بدلی؟ وہ اپنی طبیعت سے خارج ہوا؟ اس کی حقیقت اب بھی وہی پانی کا پانی ہی ہے۔ ہاں بئر نے آ کر تھوڑی تخصیص پیدا کر دی، یہ بتلا دیا کہ یہ کنویں کا پانی ہے چشمے یا دریا کا پانی نہیں۔ اسی طرح ماء العين کہا تو یہ چشمے کا پانی ہے، کنویں کا یا دریا کا نہیں۔ تو صرف تخصیص آ گئی کوئی حقیقت نہیں، اور ماء الزعفران بھی اسی قبیل سے ہے، وہاں پر بھی اضافت صرف کس لیے ہے؟ تعریف اور پہچان کے لیے ہے، پہچان کے لیے ہے، پانی کی اس سے کوئی حقیقت بدلی نہیں۔ چنانچہ لغت میں بھی ماء الزعفران پر ماء کا اطلاق ہوتا ہے۔ کس کا اطلاق ہوتا ہے؟ ماء کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی سے کہے پانی لے کر آؤ اور وہ ماء الزعفران اٹھا کر لے آتا ہے جس کا ایک وصف بدل چکا ہے تو بھی اس کو خطا کار نہیں کہا جائے گا، یہ نہیں کہا جائے گا اس نے حکم کی تعمیل نہیں کی بلکہ کیا کہا جائے گا؟ یہ پانی لے آیا اس نے حکم کی کیا کر دی؟ تعمیل، معلوم ہوا یہ ماءِ مطلق ہے۔ یہ کیا ہے ماءِ مطلق ہے۔ جبکہ اس کے بجائے اگر کوئی ماء المرق شوربہ اٹھا، آپ نے پانی منگوایا وہ شوربہ اٹھا کر لے آیا تو آپ کیا کہیں گے؟ اس نے ٹھیک کام کیا؟ نہیں کیا ٹھیک، اس کو خطا کار کہا جائے گا، اور کہ اس نے حکم کی تعمیل نہیں کی۔
معلوم ہوا ماء الزعفران کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہے۔ اور آیت میں تو تھا کہ ماءِ مطلق نہ پاؤ تو پھر تیمم کرو، اور یہاں تو ماءِ مطلق ہمارے پاس موجود ہے لہذا اسی سے کیا کیا جائے گا؟ وضو کیا جائے گا۔
پھر احناف پر ایک اشکال ہوا۔ اشکال یہ کہ ماءِ مطلق مطلقاً پانی ہونا چاہیے۔ یہ تو شامل ہے ماءِ طاہر کو بھی اور ماءِ نجس کو بھی شامل ہے۔ وہ بھی پانی ہے مولانا! پاک بھی پانی ہے اور نجس بھی کیا ہے؟ وہ بھی پانی ہے۔ تو ماءِ مطلق ماء دونوں کو، یہ بھی پانی وہ بھی پانی، ماء بولیں گے دونوں کو شامل، طاہر کو بھی شامل اور نجس نجس، بھئی نجس پانی پڑا ہے اس میں ایک قطرہ مولانا نجاست کا گر گیا ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ یہ پانی ہے یا پانی نہیں؟ پانی ہے۔ تب پاک پانی پڑا ہو آپ کیا کہیں گے؟ یہ کیا ہے؟ پانی ہے۔ تو ماءِ مطلق تو ماءِ طاہر کو بھی شامل ماءِ نجس کو بھی شامل بھئی! تو معلوم ہوا نجس پانی اگر موجود ہے تو بھی، تو پھر اس سے وضو جائز ہونا چاہیے۔ تیمم اس وقت جائز نہیں، اس لیے کہ قرآن میں کیا آیا ہے؟ ماءِ مطلق جب تم نہ پاؤ تب کیا کرو؟ اور ماءِ نجس بھی کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہے، اور وہ تو آپ کے پاس مثلاً وہ صرف وہ موجود ہے، تو ماءِ مطلق کا معدوم ہونا، ماءِ مطلق کیا ہے؟ موجود ہے، اور آیت میں کیا تھا؟ اگر موجود نہ ہو پھر کیا کرو؟ تو لہذا اس صورت میں معلوم ہوا تیمم کرنا جائز نہیں ہو گا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ جواب یہ مولانا! جواب احناف دیتے ہیں کہ آیت میں ماءِ مطلق سے مراد ماءِ مطلقِ طاہر ہے۔ کیا مراد ہے؟ کیوں؟ دلیل کیا ہے؟ آگے اللہ خود آگے فرماتے ہیں: "وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ" آیتِ وضو کے بعد کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کیا ارادہ کرتے ہیں کہ تمہیں پاک کر دیں، معلوم ہوا وضو کرنے کا مقصد کیا ہے؟ پاکی حاصل کرنا، اور ماءِ نجس پاکی کا فائدہ دیتا ہے؟ نہیں، یہ پاکی کا فائدہ ہی نہیں دیتا لہذا یہ معلوم ہوا آیت میں "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً" سے مراد ماءِ مطلقِ طاہر مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ماءِ مطلقِ طاہر مراد ہے۔
نیز صاحبِ کتاب آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ "وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ" اس سے ایک جزئی مسئلہ بھی معلوم ہو گیا، جزئی مسئلہ یہ کہ آیت ہے: "إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ" جب بھی تم ارادہ کرو نماز کے لیے اٹھنے کا تو کیا کر لو؟ وضو کر لو، کیا کر لو؟ وضو۔ "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ" آگے پورے وضو کا ذکر ہے۔ تو وضو کر لو۔ معلوم ہوتا ہے اس آیت سے یہاں تو امر آ رہا ہے وضو کر لو "فَاغْسِلُوا" دھو لو اپنے چہروں کو، اپنے ہاتھوں کو، مسح کر لو اور اپنے سر کا مسح کر لو اور اپنے پاؤں کو دھو لو۔ امر، امر آ رہا ہے اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ آگے آئے گا مولانا بتلائیں گے آپ کو کہ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، کسی چیز کو دوسرے پر واجب، معلوم ہوا جب بھی آپ نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کریں، جب بھی نماز پڑھنے کا ارادہ کریں آپ پر وضو کرنا واجب ہے۔ آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے، لیکن کہتے ہیں "وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ" نے بتلا دیا کہ نماز کے لیے جب بھی اٹھو تب وضو کرنا واجب نہیں، یہ اس وقت واجب ہے جب آپ بے وضو ہوں۔ جب آپ کیا ہوں؟ بے وضو، جب حدث ہو پھر، کیوں؟ اس وضو کا مقصد آگے بتلا دیا اللہ نے: "وَلَٰكِن يُرِيدُ" یہ کیوں دے رہے ہیں اللہ حکم وضو کرنے کا؟ کہ اللہ آپ کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ پاک کرنا چاہتے ہیں، اور پاک کرنا اسی صورت میں ہو گا جبکہ جب اس سے پہلے کیا پایا جائے؟ حدث پایا جائے۔ کیا پایا جائے؟ ناپاکی کی حالت پائی جائے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اگر ایک آدمی پہلے سے ہی پاک ہے، پہلے سے ہی اس کا وضو ہے، اب وہ نماز، ایک نماز کے لیے اس نے وضو کر لیا، اس نے نماز پڑھ لی، اگلی نماز کا وقت آیا اس کا ابھی تک وضو ہے، اب پھر وہ آیت متوجہ ہوئی، نماز کے لیے اٹھنے لگا تو آیت کیا تھی: "إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ" جب تو نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو کیا کرو؟ وضو کرو، تو اس لیے پھر اٹھنے کا ارادہ کر رہا ہے اس پر کیا واجب ہونا چاہیے؟ وضو، لیکن وضو کا مقصد کیا تھا؟ پاکی حاصل کرنا، اور پاکی کب حاصل ہو سکتی ہے؟ جبکہ پہلے سے کیا ہو؟ ناپاک ہو، حدث ہو، اور یہ تو اس وقت کیا ہے؟ پاک ہے، معلوم ہوا اب اس پر وضو کا کرنا واجب نہیں، اگر اس حصے کو نہیں ملاؤ گے پھر تو کیا ثابت ہو گا؟ پاک ہو یا ناپاک ہو، بس جب اٹھنے کا ارادہ کرو پھر کیا کرو؟ وضو کرو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
دیکھیے بھئی کتاب!
"وَعَلَى هَذَا قُلْنَا" اور اسی بنا پر ہم کہتے ہیں، یعنی یہ جو ہم نے کہا نا ضابطہ بیان کیا: "المطلق يجري على إطلاقه"، اسی بنا پر ہم کہتے ہیں: "يجوز التوضؤ بماء الزعفران" جائز ہے مولانا وضو کرنا کس کے ساتھ؟ زعفران کے پانی کے ساتھ، "وَبِكُلِّ مَاءٍ خَالَطَهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ" اور ہر ایسا پانی "خَالَطَهُ شَيْءٌ طَاهِرٌ" کہ مل گئی ہو اس کے ساتھ کوئی پاک چیز "فَغَيَّرَ أَحَدَ أَوْصَافِهِ" پس بدل دیا اس نے اس اوصاف میں سے کوئی ایک، ان سے وضو جائز ہے۔ کیوں؟ "لِأَنَّ شَرْطَ الْمَصِيرِ إِلَى التَّيَمُّمِ عَدَمُ مُطْلَقِ الْمَاءِ" اس لیے مصیر کا معنی رجوع کرنا، تیمم کی طرف رجوع کرنے کی شرط کیا ہے؟ ماءِ مطلق کا معدوم ہونا ہے، ماءِ مطلق کا نہ ہونا، جب ماءِ مطلق نہ ہو گا پھر رجوع کیا جائے گا کس کی طرف؟ تیمم۔ "وَهَذَا قَدْ بَقِيَ مَاءً" اور یہ جو ماءِ زعفران ہے تحقیق۔۔۔
باقی ہے پانی ہو کر مطلقا، اس حال میں کہ یہ کیا ہے؟ مطلق، یہ ابھی بھی مطلق ماءِ مطلق ہو کر باقی ہے یعنی یہ بھی کیا ہے ماءِ مطلق ہے۔ اس سے اس کی کوئی حقیقت بدلی نہیں زعفران کے ملنے سے۔
فَإِنَّ قَيْدَ الْإِضَافَةِ مَا أَزَالَ عَنْهُ اسْمَ الْمَاءِ، اس لیے کہ اضافت کی جو قید آئی ماءُ الزَّعْفَرَانِ، زعفران کیا آیا مضاف الیہ، تو یہ جو اضافت ہوئی اضافت کی قید آئی مَا أَزَالَ عَنْهُ اسْمَ الْمَاءِ اس نے اس پانی سے ما پانی کے لفظ اسم کو دور نہیں کیا، ما کے اسم کو زائل نہیں کیا بَلْ قَرَّرَهُ بلکہ اس کو کیا کیا ہے؟ پختہ کیا ہے یا ثابت کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ثابت کیا ہے۔ فَيَدْخُلُ تَحْتَ حُكْمِ مُطْلَقِ الْمَاءِ.
تو لہذا یہ داخل ہو جائے گا ماءِ زعفران وغیرہ مطلقِ ماء کے حکم میں۔ یہ بھی کس حکم میں آ جائے گا؟ مطلقِ ماء کے حکم میں رہے گا باقی، اور مطلقِ ماء کے ہوتے ہوئے تیمم کرنا جائز ہے؟ تو اس کے ہوتے ہوئے بھی تیمم کرنا جائز نہیں۔
وَكَانَ شَرْطُ بَقَائِهِ عَلَى صِفَةِ الْمُنَزَّلِ مِنَ السَّمَاءِ قَيْدًا لِهَذَا الْمُطْلَقِ، یہ وہ الشوافع کے اعتراض الشوافع نے جو قید بڑھائی تھی کہ ماء یہاں آیت میں ماء سے کون سا ماء مراد ہے؟ ماءِ منزل من ماءِ منزل من السماء کی صفت پر ہو، کہتے ہیں یہ قید بڑھانا یہ تو کیا یہ تو مطلق کو کیا کرنا ہے؟ مقید کرنا ہے، یہ صحیح نہیں۔ وَكَانَ شَرْطُ بَقَائِهِ عَلَى صِفَةِ الْمُنَزَّلِ مِنَ السَّمَاءِ قَيْدًا لِهَذَا الْمُطْلَقِ اور شرط لگانا کہ یہ پانی باقی ہو کس پر؟ اس پانی کے باقی ہونے کی شرط لگانا کس چیز پر باقی ہونے کی شرط؟ عَلَى صِفَةِ الْمُنَزَّلِ مِنَ السَّمَاءِ منزل من السماء ہونے کی صفت پر باقی رہنے کی شرط لگانا قَيْدًا لِهَذَا الْمُطْلَقِ یہ تو کیا ہوگی؟ قید ہے کس کے لیے؟ اس مطلق کے لیے، اور یہ قیاس کے ذریعے جائز نہیں بھئی۔
وَبِهِ يَخْرُجُ حُكْمُ مَاءِ الزَّعْفَرَانِ وَالصَّابُونِ وَالْأُشْنَانِ وَأَمْثَالِهِ، اور اسی سے جانا جائے گا نکلے گا کس کا حکم مولانا؟ اسی مسئلے سے نکلے گا کیا مولانا؟ ہاں۔ یا نکالا جائے گا يُخَرَّجُ نکالا جائے گا ماءِ زعفران کا حکم بھی، والصابون صابون کا حکم بھی، ماءِ صابون کا حکم بھی، والأشنان اور ماءِ اشنان اشنان گھاس ہے خاص، اس کے پانی کا حکم بھی، وأمثاله اور اس جیسی اور پاک چیزوں کا جو پانی ہے اس کا حکم۔ جی۔
وَخَرَجَ عَنْ هَذِهِ الْقَضِيَّةِ الْمَاءُ النَّجِسُ، یہ وہ اشکال کا جواب کہ بھئی ماءِ مطلق میں تو کون داخل ہو رہا ہے پھر ماءِ نجس؟ کہتے ہیں اور نکل جاتا ہے اس حکم سے کیا نکل جاتا ہے؟ الماء النجس ماءِ نجس نکل جائے گا بِقَوْلِهِ تَعَالَى بسبب اللہ کے اس قول کے: وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ لیکن اللہ ارادہ کرتے ہیں کہ آپ کو پاک کر دیں۔ وَالنَّجِسُ لَا يُفِيدُ الطَّهَارَةَ اور حال یہ ہے کہ ماءِ نجس وہ جو ہے وہ فائدہ نہیں دیتا کس چیز کا؟ پاکی کا فائدہ، وہ تو نجس نکل گیا اللہ کے اس قول کی وجہ سے کیونکہ نجس کیا ہے؟ پانی پاکی کا فائدہ نہیں دیتا۔
اب وہ جزئی مسئلہ بتلا رہے ہیں: وَبِهَذِهِ الْإِشَارَةِ عُلِمَ اور اس اشارے کے ذریعے جان لیا گیا یہ جو اشارة النص آیا اور اس اشارے کے اس میں اشارہ آ گیا وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ میں کیا آ گیا؟ اشارہ، اس کے ذریعے جان لیا گیا أَنَّ الْحَدَثَ شَرْطٌ کہ حدث کا ہونا شرط ہے لِوُجُوبِ الْوُضُوءِ وضو کے واجب ہونے کے لیے، فَإِنَّ تَحْصِيلَ الطَّهَارَةِ بِدُونِ وُجُودِ الْحَدَثِ مُحَالٌ اس لیے کہ طہارت کا حاصل کرنا بغیر حدث کے پائے جانے کے یہ کیا ہے؟ محال ہے، حدث ہوگا پھر وضو سے کیا ہوگی؟ پاکی حاصل ہوگی۔ اگر پہلے سے ہی پاکی ہے تو پھر تو کیا ہے؟ یہ تحصيل حاصل ہو جائے گا جو کہ محال ہے۔
چلیے مولانا هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔