فَصْلٌ فِي الْمُشْتَرَكِ وَالْمُؤَوَّلِ. اَلْمُشْتَرِكُ مَا وُضِعَ لِمَعْنَيَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ أَوْ لِمَعَانٍ مُخْتَلِفَةِ الْحَقَائِقِ، مِثَالُهُ: قَوْلُنَا جَارِيَةٌ، فَإِنَّهَا تَتَنَاوَلُ الْأَمَةَ وَالسَّفِينَةَ، وَالْمُشْتَرِي فَإِنَّهُ يَتَنَاوَلُ قَابِلَ عَقْدِ الْبَيْعِ وَكَوْكَبَ السَّمَاءِ.
یہاں سے مولانا مشترک اور مؤول کو بیان کریں گے بھئی۔
میں وہ جو ہم نے شروع میں پڑھا تھا بھئی، وضع کے اعتبار سے لفظ کی کتنی قسمیں ہیں؟ چار قسمیں ہیں: خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ تو خاص اور عام کی بحث گزر چکی، اب مشترک اور مؤول کے بارے میں اپ کو بتلائیں گے بھئی۔
فَصْلٌ فِي الْمُشْتَرَكِ وَالْمُؤَوَّلِ، یہ فصل ہے مشترک اور مؤول کے بارے میں۔
اَلْمُشْتَرِكُ مَا وُضِعَ لِمَعْنَيَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، مشترک وہ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو دو مختلف معانی کے لیے، جن کی حقیقتیں کیا ہوں؟ مختلف ہوں۔ أَوْ لِمَعَانٍ مُخْتَلِفَةِ الْحَقَائِقِ، یا ایسے کئی معانی کے لیے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں۔ مِثَالُهُ، اس کی مثال، قَوْلُنَا، ہمارا یہ کہنا، جَارِيَةٌ، جاریہ کیا ہے اس کی مثال ہے، فَإِنَّهَا تَتَنَاوَلُ الْأَمَةَ وَالسَّفِينَةَ، اس لیے کہ یہ شامل ہے باندی کو بھی اور کشتی کو بھی۔
بھئی، مشترک اس کو کہتے ہیں جس کو دو مختلف معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو، یا کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو مولانا، اور ان معانی کی حقیقتیں الگ الگ ہوں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ دو معانی کے لیے وضع کیا، لیکن ان معانی کی حقیقتیں کیا ہیں؟ الگ الگ، یا کئی معانی کے لیے وضع کیا، لیکن ان معانی کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ مثال مولانا جیسے جاریہ کی دی، جاریہ۔ جاریہ باندی کو بھی کہتے ہیں اور کشتی کو بھی کہتے ہیں۔ باندی کے لیے الگ وضع ہوا یہ لفظ اور کشتی کے لیے الگ وضع ہوا، باندی کو بھی کیا کہا؟ جاریہ، کشتی کو بھی کیا نام رکھا؟ جاریہ۔ تو جاریہ کا لفظ دو مختلف معانی کے لیے وضع ہے بھئی، اور وہ مختلف ہیں کس اعتبار سے؟ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، باندی کی حقیقت اور کشتی کی حقیقت اور ہے بھئی۔
اسی طرح مشتری کا لفظ ہے، مشتری مولانا کس کو کہتے ہیں؟ خریدار، اور اسی طرح مشتری آسمان کے ایک سیارہ ہے اس کا نام بھی مشتری ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مشتری کا لفظ اس سیارے کے لیے الگ وضع ہوا اور اس خرید بیع کو قبول کرنے والے کے لیے الگ وضع ہوا، تو یہ لفظ کیا ہوا؟ مشترک ہوا، کیا ہوا؟ مشترک ہوا۔
مشکل بات تو کوئی نہیں، سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بات؟
اسی طرح مولانا بائن ہم کہتے ہیں، یہ بائن بھی مشترک ہے، اس لیے کہ اگر یہ بان یبین بینا سے ہو، تو اس بین کہتے ہیں جدائی کو، تو بائن کا معنی ہوا جدا، بائن کا معنی جدا۔ اور اگر یہ بان یبین بیانا سے ہو، تو بیان کا معنی کیا ہے؟ بیان کرنا، ظاہر کرنا، ظاہر ہونا، کسی چیز کا ظاہر ہونا۔ تو یہ بمعنی بائن بمعنی ظہور کے ہوا، کس معنی میں ہوا؟ ظہور۔ تو بائن اگر بین سے ہو تو اس کا معنی ہے جدائی کے، جدا کے، اور اگر یہ بیان سے ہو تو اس کا کیا معنی؟ ظاہر کے، کیا معنی؟ ظاہر کے۔ بیان سے بیان کو بھی بیان کیوں کہتے ہیں؟ اس سے دل کی بات ظاہر ہو جاتی ہے، سمجھ میں آیا؟ جب اپ کوئی چیز بیان کریں گے، کلام کریں گے، تو کیا ہوگی دل کی بات؟ ہاں، تو بیان میں بیان ظہور کو کہتے ہیں بھئی۔
سمجھ میں آئی سب کو بات بھئی؟
تو دیکھا، مِثَالُهُ، مشترک کی مثال ہمارا یہ کہنا، جَارِيَةٌ فَإِنَّهَا تَتَنَاوَلُ الْأَمَةَ وَالسَّفِينَةَ، اس لیے کہ یہ لفظ مولانا شامل ہے، جاریہ شامل ہے امہ کو بھی، باندی کو بھی، وَالسَّفِينَةَ، اور کشتی، باندی کو بھی کیا کہتے ہیں؟ جاریہ، اس کے لیے الگ وضع ہوا، اور کشتی کو بھی کیا کہتے ہیں؟ جاریہ، اس کے لیے الگ وضع ہوا۔
جیسے مولانا لفظِ زید ہے، دو آدمیوں کا نام زید ہے، ایک کے لیے الگ وضع، وضع بتا رہا ہوں جیسے وضع الگ ہوئی، دوسرے کے لیے، دونوں کا اکٹھا ہی نام رکھا تھا زید؟ نہیں، ایک کے لیے ایک وقت میں رکھا تھا تو دوسرے کے لیے، تو یہاں پر بھی دونوں کا اکٹھا نام نہیں جاریہ رکھا، ایک کا نام ایک کے لیے وضع کیا ایک الگ اور دوسرے کے لیے وضع کیا الگ وضع کیا، الگ وضع ہوا۔
وَالْمُشْتَرِي، اور مشتری مولانا، فَإِنَّهُ يَتَنَاوَلُ، اس لیے کہ یہ جب یہ مشتری جو ہے شامل ہے، کس کو شامل ہے؟ قَابِلَ عَقْدِ الْبَيْعِ، قابل، قبول کرنے والا، عقدِ بیع کو قبول کرنے والے کو بھی شامل ہے، وَكَوْكَبَ السَّمَاءِ، اور آسمان کے ایک سیارے کو بھی شامل ہے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟
ستارے اور سیارے میں فرق جانتے ہو؟ سیارہ وہ ہے جو سورج کے گرد گھومتا ہے، یہ چمکتا، چلیے یہ اب کہاں سے کون سی بات آ گئی؟
تو بس یہ آسمان کے ایک ستارے کا نام ہے۔ وَقَوْلُنَا بَائِنٌ، اور ہمارا یہ بائن کہنا، فَإِنَّهُ يَحْتَمِلُ الْبَيْنَ وَالْبَيَانَ، یہ احتمال جدائی کا بھی رکھتا ہے، بین، جدائی، فرقت، کا احتمال بھی رکھتا ہے، یعنی جدا کے معنی میں ہوا، وَالْبَيَانَ، اور بیان کا کیا معنی؟ ظہور، ظہور کے معنی کا احتمال بھی۔ تو بائن کا معنی جدا کے بھی ہو سکتے ہیں اور بائن کا معنی ظاہر کے بھی ہو سکتے ہیں۔
مصنف نے تین مثالیں ذکر کی مولانا مشترک کی: ایک جاریہ، ایک مشتری اور ایک بائن۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ مشترک جیسے جواہر میں جاری ہوتا ہے، اسی طرح اعراض میں بھی جاری ہوتا ہے۔ جوہر اور عرض جانتے ہو بھئی؟ جوہر اس کو کہتے ہیں جس کا اپنا وجود ہو مولانا، اپنے وجود میں کسی اور کا محتاج نہ ہو، خود قائم رہ سکے، خود قائم۔ مثلاً زید ہے، زید کی اپنی ذات ہے مولانا، اپنے وجود میں کسی اور کا محتاج ہے؟ نہیں، یرحمک اللہ۔ اور ایک ہے بہادری، بھئی بہادری کا کوئی علیحدہ اپنا وجود ہے؟ جب بھی ہوگی زید کے ساتھ یا کسی کے ساتھ قائم ہوگی، تو اس کے لیے کوئی محل چاہیے، کیا چاہیے؟ محل، یہ وصف ہے مولانا، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں، یہ جیسے مولانا سفیدی ہے، سفیدی کا الگ اپنا کوئی وجود نہیں، جب بھی یہ قائم ہوگی کسی ذات کے ساتھ قائم ہوگی، جیسے آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں یہ سفیدی کس کے ساتھ قائم ہے؟ دیوار کے ساتھ قائم ہے۔
تو محل ہے تو سفیدی بھی ہے، محل نہیں تو سفیدی بھی الگ، زید ہے تو بہادری ہے، زید نہیں تو بہادری بھی نہیں، تو اس کو کہتے ہیں عرض بھئی، کیا کہتے ہیں؟ عرض۔ تو جوہر وہ ذات ہوگی اور عرض وہ وصف ہوگا، وصف جو موصوف کا محتاج ہوگا، کسی کے ساتھ قائم ہونا چاہے گا۔ تو مصنف نے تین مثالیں ذکر کیں: ایک جاریہ اور ایک مشتری، یہ اعیان کی قبیل سے ہیں، جوہر کی قبیل سے ہیں مولانا، ان کا اپنا الگ وجود، اپنے وجود میں غیر کے محتاج نہیں، اور ایک کیا ہے مولانا؟ بائن بھئی، بائن۔ بائن جدا، جدا جدا کس کو کہیں گے مولانا؟ جی؟ جدا ہوں، بھئی کوئی جدا ہونے والا ہوگا تو جدائی پائی جائے گی، بغیر جدا ہونے والے کے جدائی ہو سکتی ہے؟ نہیں ہو سکتی۔
سمجھ میں آیا؟ اور اسی طرح ظہور، بیان ظہور ہے مولانا، ظاہر ہونا، ظاہر ہونا، کوئی چیز ظاہر ہوگی تو ظہور پایا جائے گا، کوئی چیز ظاہر نہیں تو ظہور بھی، اس کا الگ اپنا کوئی وجود، کوئی ذات اس کے ساتھ متصف ہوگی بھئی، سمجھ میں آئی؟
تو بائن یہ مثال ہے کس کی؟ عرض کی بھئی، عرض کی مثال ہے۔
تو لہذا تین مثالیں لا کر بتلا دیا کہ یہ جس طرح مشترک اعیان میں جاری ہوتا ہے، جواہر میں جاری ہوتا ہے، اسی طرح اوصاف یا اعراض میں بھی جاری ہوتا ہے۔
وَحُكْمُ الْمُشْتَرَكِ، یہاں سے بتلا رہے ہیں حکم بھئی۔
وَحُكْمُ الْمُشْتَرَكِ أَنَّهُ إِذَا تَعَيَّنَ الْوَاحِدُ مُرَادًا بِهِ سَقَطَ اعْتِبَارُ إِرَادَةِ غَيْرِهِ. بھئی مشترک کے یہ دو معنی ہوں گے، وہ جن کی حقیقتیں مختلف ہوں گی یا دو سے زیادہ ہوں گے، کئی معانی کے لیے ایک لفظ وضع ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ جیسے عین کا لفظ ہے، یہ عین مولانا سونے کو بھی کہتے ہیں، عین ذات کو بھی کہتے ہیں، عین چشمے کو بھی کہتے ہیں، عین گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں، تو کئی معانی اس کے آتے ہیں، تو یہ مشترک ہوا، یہ کیا ہوا؟ مشترک ہوا۔
اب مشترک سے ایک وقت میں ایک ہی معنی مراد لے سکتے ہیں عند الاحناف، باقی معانی مراد نہیں لے سکتے، باقی معانی مراد نہیں لے سکتے۔
آپ نے جاریہ کا لفظ استعمال کیا، تو یا تو اس سے مولانا باندی مراد ہوگی یا اس سے کیا مراد ہوگی؟ کشتی۔ ایک ہی وقت میں آپ اس سے باندی کا بھی ارادہ کریں اور کشتی کا بھی ارادہ کریں، یہ عند الاحناف جائز نہیں۔ اسی طرح آپ نے مشتری کہا، یا تو اس سے وہ آسمان کا ستارہ مراد ہوگا یا اس سے کیا مراد ہوگا؟ عقد کو قبول کرنے والا، دو ایک ہی وقت میں عند الاحناف دونوں مراد نہیں ہو سکتے۔ بائن کہا آپ نے، اس سے یا تو جدائی مراد ہوگی یا ظاہر مراد ہوگا مولانا، ایک ہی وقت میں دونوں معنی مراد، یعنی عمومِ مشترک جائز نہیں عند الاحناف بھئی۔ عمومِ مشترک کا کیا معنی بھئی؟ مشترک کے تمام معانی کا ایک ہی وقت میں ارادہ کر لیا جائے۔
عمومِ مشترک کس کو کہتے ہیں کہ مشترک کے، ایک ہی وقت میں مشترک کے تمام معانی کا ارادہ کیا جائے بھئی، یہ جائز نہیں۔ تو عند الاحناف مولانا عمومِ مشترک جائز نہیں، جب ایک معنی کا ارادہ کر لیا گیا تو پھر دوسرے معنی کا احتمال کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عمومِ مشترک جائز ہے بھئی، ایک ہی وقت میں مشترک کے کئی معانی کا ارادہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ان معانی وہ معانی آپس میں ضد نہ ہوں ایک دوسرے کی، ضد ہوئے پھر تو ارادہ نہیں ہو سکتا، پھر تو لازمی بات، ہاں ضد نہ ہوں تو پھر مشترک کے کئی معانی ایک ہی وقت میں مراد مراد ہو سکتے ہیں ان کے نزدیک، ہمارے نزدیک نہیں، تو احناف کے نزدیک عمومِ مشترک جائز نہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عمومِ مشترک جائز ہے بشرطیکہ وہ معانی آپس میں ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں۔
جی، وَحُكْمُ الْمُشْتَرَكِ، اور مشترک کا حکم یہ ہے کہ أَنَّهُ إِذَا تَعَيَّنَ الْوَاحِدُ، کہ جب متعین ہو جائے کوئی ایک، مُرَادًا بِهِ، اس حال میں کہ وہ اس سے مراد ہو، یعنی جب ایک کا ارادہ کر لیا جائے، سَقَطَ اعْتِبَارُ إِرَادَةِ غَيْرِهِ، تو اس کے غیر کے ارادے کا اعتبار کیا ہو جائے گا؟ ساقط، غیر کا ارادہ وہاں پر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
وَلِهَذَا، اور اسی وجہ سے کہ ہمارے نزدیک عمومِ مشترک جائز نہیں، ایک معنی مراد لے لیا تو دوسرے معنی کا ارادہ کرنا یہ ساقط ہو جائے گا، اسی وجہ سے أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ، اجماع کیا ہے علماء نے، رحمہم اللہ تعالیٰ، علماء فقہاء نے کہ عَلَى أَنَّ لَفْظَ الزَّلَّ الْقُرُوءِ، لفظِ القروء، الْمَذْكُورِ فِي كِتَابِ اللّٰهِ تَعَالَى، بھئی وہ جو قروء لفظ آیا تھا بھئی، وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ، تین قروء تک بھئی، اور قروء کا لفظ مشترک تھا مولانا، یہ طہر کو بھی کہتے ہیں اور یہ حیض کو بھی کہتے ہیں۔
اور تو جب ایک معنی مراد لے لیا تو دوسرے معنی کا اعتبار کیا ہو جائے گا؟ ساقط، اس کا ارادہ نہیں، تو اب جب اگر طہر کا ارادہ کر لیا جیسے کہ شوافع نے کیا، تو پھر وہ حیض کا ارادہ نہیں کر سکتے، اور جب اگر حیض کا ارادہ کر لیا جیسے کہ احناف نے کیا، تو طہر کا ارادہ کیا ہو جائے گا؟ وہ اس سے مراد نہیں ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ نہیں ہوگا۔
اس لیے اسی وجہ سے اجماع کیا ہے مولانا علماء رحمہم اللہ نے کہ لفظِ قروء جو مذکور ہے کتاب اللہ کے اندر، مَحْمُولٌ إِمَّا عَلَى الْحَيْضِيَّاتِ، تو وہ محمول ہے حیض پر، كَمَا هُوَ مَذْهَبُنَا، جیسے کہ ہمارا مذہب ہے، أَوْ عَلَى الطُّهْرِ، یا وہ محمول ہوگا، محمول ہے طہر پر، كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى، جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی، تو چونکہ یہ دو معانی ضدین ہیں ایک دوسرے کی، کیا ہیں؟ طہر اور حیض کیا ہیں ایک دوسرے کی؟ ضد ہیں، ضد نہ ہوتے تو وہ عمومِ مشترک کے جواز کے قائل ہیں، اور یہ ضد ہیں تو یہاں وہ بھی کہتے ہیں کہ یا تو طہر مراد ہے یا حیض، اور ان کے نزدیک کیا مراد ہے؟ طہر، جب طہر انہوں نے مراد لے لیا تو حیض کے ارادہ کیا ہوا؟ ساقط ہوا، اس کا اعتبار نہیں۔
وَقَالَ مُحَمَّدٌ، اسی وجہ سے کہتے ہیں امام محمد فرماتے ہیں، قَالَ کا عطف أجمع پر ہے، وَلِهَذَا أجمع، وَلِهَذَا اوپر کیا آیا تھا؟ وَلِهَذَا أجمع، ہاں، أجمع العلماء کی جگہ پر یہ آ جائے گا، وَلِهَذَا قَالَ مُحَمَّدٌ، اور اسی وجہ سے کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اگلا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں، اسی وجہ سے وہ یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک کیا ہے عمومِ مشترک جائز نہیں ہے، جائز نہیں۔
بھئی، مولىٰ کا لفظ یاد رکھو، معتق کو بھی کہتے ہیں اور معتق کو بھی کہتے ہیں، معتق، آزاد کرنے والا، معتق، جس کو آزاد کیا جائے۔
تو معتق کو بھی مولىٰ کہتے ہیں اور معتق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مولىٰ، یہ لفظ مشترک ہے مولانا، مشترک ہے۔
آپ مولانا دیکھو، ایک شخص ہے، زید غلام ہے، ایک شخص مالک ہے اس کا، اس نے زید کو آزاد کر دیا، تو یہ شخص زید کا کیا ہوا؟ مولىٰ ہوا، کیا ہوا؟ مولىٰ ہوا، کیونکہ زید کا کیا ہوا مولانا؟ معتق ہوا نا، آزاد کرنے والا، اور آزاد کرنے والا کیا کہلاتا ہے؟ معتق، اور زید بھی اس کا مولىٰ ہے مولانا، کیونکہ زید کیا ہے اس کا؟ معتق ہے، اس کا آزاد کردہ ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک شخص نے کس کو آزاد کیا ہے؟ زید کو، تو وہ شخص زید کا کیا بن گیا؟ مولىٰ، کیونکہ اس یہ وہ کیا ہے زید کا؟
معتق آزاد کیا اور اسفل نیچے جس کو اس نے کیا کیا؟ آزاد کیا۔ اب زید نے مولانا وصیت کی، "میرے مرنے کے بعد ایک لاکھ روپیہ میرے مولا کو دے دینا" اور زید مر گیا۔ اب مولانا، اب ہم کیا کریں گے بھئی؟
زید کا ایک مولا اعلیٰ بھی ہے، ایک مولا اسفل بھی ہے اور زید نے ایسا لفظ استعمال کیا جو مولائے اعلیٰ کو بھی شامل ہے اور مولائے اسفل کو بھی شامل ہے۔ تو آپ، کوئی دلیل چاہیے جس کے ذریعے ایک جانب کو ترجیح دے دی جائے کہ مولائے اعلیٰ مراد ہے یا مولائے اسفل؟ اور یہاں پر کوئی مرجح موجود نہیں، کوئی ترجیح دینے والی دلیل موجود نہیں۔ تو زید کی وصیت باطل ہو جائے گی۔
زید کی وصیت باطل۔ آپ یہ نہیں کر سکتے مولانا، کہ 50 ہزار مولائے اعلیٰ کو دے دیں اور 50 ہزار کس کو دے دیں؟ مولائے اسفل۔ کیوں؟ پھر تو آپ نے مولا کے دونوں معنیٰ مراد لے لیے مولانا، مولائے اعلیٰ بھی مراد لے لیا اور مولائے اسفل بھی اور یہ آپ نے عمومِ مشترک کر لیا اور عمومِ مشترک جائز ہے؟ نہیں۔ عمومِ مشترک جائز نہیں۔ ایک وقت میں ایک ہی معنیٰ مراد ہو گا، لیکن یہاں تو پتہ ہی نہیں چل رہا، کون سا مراد ہے؟ مولائے اعلیٰ مراد ہے یا مولائے اسفل؟ کوئی مرجح موجود نہیں اور ترجیح دینے والی کوئی چیز نہیں، تو اب جب ترجیح دینے والی کوئی چیز نہیں، تو دوسری صورت یہ تھی کہ کیا کیا جاتا؟ دونوں کو، لیکن دونوں کو دے دیں تو کیا خرابی لازم آتی ہے؟ عمومِ مشترک اور عمومِ مشترک جائز نہیں، تو لہٰذا اس صورت میں وصیت ہی باطل ہو جائے گی سرے سے۔ کیونکہ کوئی مرجح بھی موجود نہیں اور عمومِ مشترک بھی جائز نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
یہ تھیں صورتیں مسئلہ۔
اب جو کتاب میں ذکر ہوئی، یہ میں نے آپ کو سمجھانے کے لیے زید کی مثال بنائی۔ زيد کا قبیلہ ہے، زيد کا خاندان ہے۔ کتاب میں قبیلے یا خاندان کا ذکر آ رہا ہے، ٹھیک ہے؟ وہی بات ہے، خاندان کے طور پر ذکر کر رہے ہیں، میں نے صرف زید کو ذکر کیا تھا۔ زید کا قبیلہ ہے، اس اور قبیلے میں تو بہت سے افراد ہوں گے۔ تو یقیناً ان میں سے کیا ہیں؟ کچھ غلام تھے، ان کو بعض لوگوں نے آزاد کیا۔ تو جنہوں نے آزاد کیا، وہ بنو زید کے کیا ہوئے؟ قبیلۂ زید کے کیا ہوئے؟ معتقین ہوئے، تو وہ موالی ہوئے۔ مولا کی جمع کیا آتی ہے؟ موالی۔ اور زید کے قبیلے میں یا خاندان میں کئی افراد غلام نہیں تھے، خود بڑے مالدار تھے، انہوں نے بھی غلاموں کو آزاد کیا، تو وہ بھی بنو زید کے کیا بن گئے؟ موالی۔ تو کچھ موالی یہ اعلیٰ ہیں، کچھ موالی یہ اسفل ہیں۔ ایک شخص نے وصیت کی، کسی اور شخص نے وصیت کی کہ "میرے مرنے کے بعد قبیلۂ زید جو ہے، بنو زید جو ہے، اس کے موالی کو ایک لاکھ روپیہ دے دینا۔"
اور وہ شخص یہ بتلائے بغیر مر گیا کہ موالیٔ اعلیٰ مراد ہیں یا موالیٔ اسفل مراد ہیں؟ اور زید کے قبیلے کے تو موالیٔ اعلیٰ بھی ہیں اور موالیٔ اسفل بھی مراد۔ اب کوئی مرجح یہاں موجود نہیں۔ کس کو ہم دیں؟ ترجیح دینے والی کوئی دلیل نہیں۔ تو اور مولانا دونوں کو بھی نہیں دے سکتے، ورنہ تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ عمومِ مشترک لازم آئے گا اور عمومِ مشترک تو عند الاحناف جائز نہیں، لہٰذا اس کی وصیت کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔
اور اسی بناء پر، کس بناء پر؟ کہ عمومِ مشترک جائز نہیں۔ قال محمد رحمه الله، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إذا أوصى، کہ جب وصیت کی کسی شخص نے، لموالي بني فلان، کس کے لیے؟ بنو فلاں کے موالی کے لیے۔ بھئی بنو فلاں، فلاں کنایہ ہوتا ہے کسی نام سے، مثلاً زید کے، بنو زید کے موالی کے لیے۔ ولبني فلان موال من أعلى وموال من أسفل، اور بنو فلاں کے موالیٔ اعلیٰ بھی ہیں اور موالیٔ اسفل بھی ہیں۔ فمات، پس وہ موصی، وصیت کرنے والا مر گیا۔ بطلت الوصية في حق الفريقين، تو وصیت باطل ہو جائے گی دونوں فریقین کے حق میں۔ لاستحالة الجمع بينهما، کیونکہ جمع کرنا دونوں کا محال ہے، دونوں کا جمع کرنا محال۔ دونوں کو نہیں دے سکتے، موالیٔ اعلیٰ اور موالیٔ اسفل دونوں کو، کیوں نہیں دے سکتے دونوں کو؟ کیونکہ عمومِ مشترک ہمارے نزدیک جائز نہیں۔ وعدم الرجحان، اور رجحان کے نہ ہونے کی وجہ سے۔
کسی راجح کے نہ ہونے کہ دلیلِ مرجح نہیں پایا گیا، کوئی دلیل ایسی نہیں جو ترجیح دے دے جس سے ہمیں پتہ چل جائے کہ موالیٔ اعلیٰ مراد ہیں یا موالیٔ اسفل۔ تو جب مرجح بھی نہیں موجود اور مولانا، عمومِ مجاز بھی نہیں، عمومِ مشترک بھی نہیں جائز، تو اب مولانا وصیت ہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے سب کو؟ جی۔
تو یہاں مولانا، عدمِ رجحان، راجح ہونا بھی نہیں پایا گیا، رجحان بھی نہیں ہے مولانا اور جمع کرنا بھی محال ہے۔ وقال أبو حنيفة، یہ ایک اور مسئلہ ذکر کر رہے ہیں اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ اسی لیے فرماتے ہیں:
بھئی، مسئلۂ ظہار آپ نے پڑھا تھا۔ ظہار کس کو کہتے تھے؟ سمجھ میں آیا؟
تو اپنی بیوی کو تشبیہ دینا محرماتِ ابدیہ میں سے کسی سے، کسی کے ساتھ یا اس کے ایسے عضو کے ساتھ جس کی طرف دیکھنا حرام۔ اب ایک شخص ہے، وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے: "أنْتِ عَلَيَّ كَأُمِّي" (تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے)۔
تو مجھ پر میری ماں کے مثل ہے۔ اب مثل، مثل ہونا دو اعتبار سے ہو سکتا ہے۔ یا تو اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میری ماں جیسے میرے نزدیک محترم اور عزت والی ہے، تو بھی اسی طرح میرے نزدیک بڑی محترم اور عزت والی ہے۔ یا دوسرا معنیٰ یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے، تو بھی اب سے مجھ پر حرام ہے۔ تو یہاں پر مولانا،
یہ لفظ جو ہے "أنْتِ عَلَيَّ كَأُمِّي"، یہ مشترک ہے مولانا، حرمت کا احتمال بھی رکھتا ہے اور عزت کا احتمال بھی رکھتا ہے۔ لہٰذا اس لفظ کے کہنے والے کو مظاہر (ظہار کرنے والا) نہیں کہا جائے گا۔
اس لفظ کے کہنے والے کو ظہار کرنے والا، کیونکہ اس میں دوسرا احتمال بھی آ گیا مولانا، عزت کا بھی احتمال ساتھ آ گیا۔ تو لہٰذا اب کوئی مرجح چاہیے، پتہ چلے کہ اس نے اس سے کس چیز کا اور اس کا ارادہ کس سے، اس کا پتہ کس سے چلے گا؟ اس کی نیت سے۔ تو صرف ان لفظوں کی وجہ سے ہم اس پر یہ حکم نہیں لگائیں گے کہ یہ ظہار کرنے والا ہے، جب تک کہ اس کی نیت معلوم نہ ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
وقال أبو حنيفة رحمه الله تعالى، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إذا قال لزوجته، جب کہا ایک شخص نے اپنی بیوی سے: أنت علي مثل أمي، تو مجھ پر میری ماں کے مثل ہے۔ لا يكون مظاهراً، تو وہ ظہار کرنے والا نہیں ہو گا۔ لأن اللفظ مشترک بين الكرامة والحرمة، اس لیے کہ یہ لفظ جو ہے "أنت علي مثل أمي" کا، یہ مشترک ہے بین الکرامۃ، کس میں؟ عزت میں، والحرمۃ، اور حرام ہونے میں۔ فلا يترجح جهت الحرمة، تو ترجیح نہیں پائے گی حرمت کی جہت، إلا بالنية، مگر کس کے ساتھ؟ نیت کے ساتھ۔ نیت، تو اس کے لیے مرجح چاہیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ لفظ مشترک ہے مولانا، حرمت کو بھی شامل ہے اور عزت کو بھی شامل ہے، دونوں کو شامل۔
وعلى هذا قلنا،
جی، یہ تیسرا مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ہمارے نزدیک چونکہ مشترک، عمومِ مشترک جائز نہیں، اسی بناء پر ہم یہ کہتے ہیں، بھئی دیکھو مسئلہ یہ،
کہ محرم کے لیے یاد رکھو جو احرام باندھے بھئی، اس کے لیے بحری شکار کرنا بالاتفاق حلال ہے۔ سمندر میں آپ جا رہے ہیں مولانا، احرام باندھ لیا ہے حج کا، سب، تو اب آپ کیا کرتے ہیں؟ مچھلی وغیرہ کا شکار کرتے ہیں، یہ شکار کرنا کیا ہے آپ کے لیے؟ جائز ہے۔ دلیل کیا ہے؟ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: "أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ" (تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کر دیا گیا ہے)۔ معلوم ہوا محرم کے لیے کیا ہے مولانا؟ حلال ہے۔
لیکن خشکی کا شکار اس کے لیے منع ہے محرم کے لیے۔ اس کی کیا دلیل ہے؟
"وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا"
تو "وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ"، حرام کر دیا گیا ہے تمہارے لیے خشکی کا شکار، "مَا دُمْتُمْ حُرُمًا"، جب تک تم حالتِ احرام میں ہو۔ جب تک حالتِ احرام میں ہو، کیا ہے خشکی کا شکار کرنا؟ اب ایک شخص شکار کر لیتا ہے حالتِ احرام میں ہے، تو اس صورت میں مولانا، اس کو کیا ہے؟ جی؟
اس، تو اس کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: "فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ"، تو بدلہ ہے مثل اس کے جو اس نے قتل کیا من النعم (جانور میں سے)۔
جس طرح کا جانور قتل کیا ہے، اسی طرح کا بدلہ دینا اس پر، بدلہ دینا اس پر کیا ہے؟ واجب ہے، اسی کے بدلے دینا پڑے، اس کے مثل بدلہ دینا پڑے گا۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔
کہ خشکی کا شکار کرنا محرم کے لیے کیا تھا؟ حرام۔ اس نے کیا کر لیا؟ شکار کر لیا۔ شکار کر لیا ہے، تو اللہ کیا فرماتے ہیں، اگر کوئی کر لے تو کیا ہے؟ "فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ"، تو بدلہ ہے مثل اس کے جو اس نے قتل کیا من النعم (کس میں سے؟ جانور میں سے)، اسی کے مثل اس کو دینا پڑے گا بھئی۔
اب مثلاً اس نے،
شکار کیا تھا، ہرن شکار کیا، تو ہرن کے مثل جانور کی قربانی دینا پڑے گی اور وہ کیا؟ بکری قربان کرے گا بھئی۔ اور مثلاً اگر اس نے نیل گائے کے شکار کر لیا، تو اس صورت میں اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ اس کے مثل کیا ہے؟ گائے ہے، پالتو گائے جو ہے، تو اس گائے کی قربانی کرنا پڑے گی۔ اگر وہ بڑا شکاری تھا، اس نے کس کو شکار کر لیا؟ شتر مرغ کو شکار کر لیا، تو اس کو اس کا مثل دینا پڑے گا، یعنی کہ ایک اونٹ ذبح کرنا پڑے گا۔
سمجھ میں آیا؟ ایک اونٹ ہو کہ قربانی دینا پڑے گی بھئی۔
تو اسی کا مثل دینا پڑے گا۔
اب یہاں مثل کا لفظ آیا، یہ شامل ہے مثلِ صوری کو بھی اور مثلِ معنوی کو بھی۔ مثلِ صوری تو جو صورتاً اسی کی طرح ہو، جیسے ہرن کا شکار کیا، تو کیا دینا پڑے؟ کس کی قربانی کرنا پڑے گی؟ بکری کی، نیل گائے کا کیا، تو کیا کرنی پڑے گی؟ گائے کی قربانی، اگر شتر مرغ کا کیا تو؟ یہ سارے کیا ہیں؟ مثلِ صوری، صورتاً اس کے مثل ہیں۔ اور ایک ہے مثلِ معنوی، کہ صورتاً تو اس کے مثل نہ ہوں، لیکن معنیٰ کے اعتبار سے اس کے مثل ہوں، یعنی قیمت۔
قیمت جو ہے مثلاً، اگر جانور کے بجائے کیا دیتا ہے؟ اس کی قیمت دیتا ہے، تو یہ صورتاً تو اس کے مثل نہیں، لیکن معناً کیا ہے اس کے؟ مثل ہے، معناً اس کے مثل ہے۔
سمجھ میں آیا؟
اب،
ہرن شکار کیا، امامِ شافعی، ائمۂ ثلاثہ کیا فرماتے ہیں مولانا؟ کیا دینے، قربانی کس چیز کی کرنا پڑے گی؟ بکری کی، اگر نیل گائے کر لی شکار، تو کس چیز کی قربانی دینا پڑے گی؟ گائے کی، اور اگر مولانا شتر مرغ شکار کر لیا، تو کس کی قربانی کرنا پڑے گی؟ اونٹ کی، مثلاً اسی طرح اگر خرگوش شکار کر لیا، تو بکری کے بچے کی قربانی کرنا پڑے گی، یہ اس پر واجب ہو گئی بھئی۔
لیکن اگر وہ شکار کر لیتا ہے مولانا، کبوتر کو یا چڑیا کو، اب چڑیا اور کبوتر، اس کا،
پالتو جانوروں میں ایسا مثل نہیں جس کی قربانی دی جاتی ہو۔
پالتو جانوروں میں کوئی ہے جس کی، جو ان کے برابر ہو اور اس کی قربانی کی جاتی ہو؟ تو نہیں، تو یہاں پر ان کا مثل نہیں، تو وہاں، وہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ، کہ بکری، نیل گائے وغیرہ، شتر مرغ، وہاں مثلِ صوری دینا پڑے گا، جہاں مثلِ صوری ممکن ہو، کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ صوری، اور جہاں مثلِ صوری ممکن نہ ہو، جیسے کبوتر اور چڑیا وغیرہ، تو وہاں کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی، یعنی ان کی قیمت دینا پڑے گی۔
ان کی، قیمت دینا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اللہ نے تو فرمایا تھا اس کے مثل دینا پڑے گا جو جانور، اب یہ مثل شامل ہے مثلِ صوری کو بھی اور مثلِ، اور ائمۂ ثلاثہ فرماتے ہیں، جہاں مثلِ صوری ممکن ہے وہاں مثلِ صوری دینا پڑے گا اور جہاں مثلِ صوری ممکن نہیں وہاں پھر کیا کرنا پڑے گا؟ مثلِ معنوی، یعنی اس کی قیمت دینا پڑے گی، تو دیکھو یہ مثل کا لفظ ہاں، مشترک تھا، مثلِ صوری کو بھی شامل اور مثلِ معنوی کو بھی شامل اور ائمۂ ثلاثہ نے اور ساتھ ساتھ ہمارے امام محمد رحمہ اللہ ان کا قول بھی یہی ہے جو ائمۂ ثلاثہ کا ہے۔ تو ائمۂ ثلاثہ اور امام محمد رحمہ اللہ، یہ فرماتے ہیں کہ مثلِ صوری ممکن ہو تو مثلِ صوری دیں گے، اگر مثلِ صوری ممکن نہ ہو جیسے کبوتر اور چڑیا وغیرہ، تو پھر کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی دینا پڑے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ عمومِ مشترک جائز نہیں ہے، عمومِ مشترک جائز نہیں ہے۔
عمومِ مشترک، ایک معنیٰ مراد لے سکتے ہیں، ایک میں ان کے لیے بعد کے لیے مثلِ صوری آپ مانتے ہیں، بعد کے لیے مثلِ، یہ تو آپ نے کیا کر لیا؟ عمومِ مشترک کر لیا، مثل کے دو معنیٰ آ رہے تھے، مثلِ معنوی اور مثلِ، اور آپ نے دونوں مراد لے لیے، تو یہ کیا ہے؟ عمومِ مشترک۔
عمومِ مشترک نہیں لیں گے، ایک معنیٰ مراد لیں گے اور،
کبوتر اور چڑیا میں تو بالاتفاق کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی، وہاں مثلِ صوری ممکن ہے؟ تو یہاں تو لینا ہی مثلِ معنوی مراد پڑے گا، مراد لینا پڑے گا اور جب مثلِ معنوی یہاں پر بالاتفاق آ گیا، تو باقی سب میں بھی کیا دینا پڑے گا؟ مثلِ معنوی ہی دینا پڑے گا، مثلِ صوری نہیں، کیونکہ یہاں پر تو مثلِ صوری ممکن ہی نہیں ہے، ممکن ہی نہیں ہے، لینا ہی کیا پڑے گا؟ مثلِ معنوی، جب یہاں مثلِ معنوی لے لیا، تو باقیوں میں بھی کیا لینا پڑے گا؟ چاہے مثلِ صوری ممکن ہو، لیکن وہ مثلِ صوری مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ ایک مراد کے اعتبار سے متعین ہو چکا ہے ایک معنیٰ، تو دوسرے کو مراد نہیں لے سکتے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اچھی طرح مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
وعلى هذا قلنا، اور اسی بناء پر ہم کہتے ہیں: لا يجب النظير في جزاء الصيد، کہ اسی کے مثل واجب نہیں ہو گا شکار کے بدلے میں، شکار کے بدلے میں اسی کی نظیر واجب نہیں ہو گی۔
یعنی جو اسی کی طرح ہو خلقت کے اعتبار سے، یعنی مثلِ صوری،
مثلِ صوری واجب، احناف کے نزدیک مثلِ صوری نہیں آئے گا بلکہ کیا آئے گا؟ معنوی آئے گا۔ کیوں؟ لقوله تعالى، بوجہ اللہ کے اس قول کے: "فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ"، پس بدلہ اسی کے مثل، بدلہ ہے اسی کے مثل جو اس نے قتل کیا ہے من النعم (کس میں سے؟ جانور)، لأن المثل مشترک بين المثل صورة وبين المثل معنى، اس لیے کہ مثل کا لفظ مشترک ہے کس کے درمیان؟ مثلِ صوری میں اور مثلِ، جی۔
مشترک ہے مثل کے درمیان باعمالِ صورت کے اور مثل کے درمیان باعمالِ معنیٰ کے، یعنی مثلِ صوری میں اور مثلِ معنوی میں مشترک ہے۔ وهو القيمة، اور مثلِ معنوی وہ کیا ہے مولانا؟ قیمت ہے،
وهو قيمة اور مثل معنوی وہ کیا ہے مولانا؟ قيمة ہے، وقد اريد المثل من حيث المعنى بهذا النص في قتل الحما حمام والعصفور مثل اور تحقیق ارادہ کیا گیا ہے مثل کا کس اعتبار سے؟ من حيث المعنى معنٰی کے اعتبار سے، معنٰی کے اعتبار سے مثل یعنی مثل معنوی کا ارادہ کیا گیا ہے بهذا النص اس نص، اس آیت سے کس میں؟ في قتل الحمام والعصفور کبوتر اور چڑیا کے، کبوتر اور چڑیا کے قتل میں، تو اس میں کس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے؟ مثل معنوی کا، تو چڑیا، کبوتر ونحوهما ان جیسی چیزوں میں بالاتفاق بھئی، فلا يراد المثل من حيث الصورة لہٰذا اب ارادہ نہیں کیا جائے گا مثل صوری کا، مثل صوری کا ارادہ نہیں کیا جائے گا، إذ لا عموم للمشترك أصلا اس لیے کہ مشترک کے لیے عموم عمومِ مشترک کے لیے عموم نہیں ہے أصلا مولانا، أصلا أي قطعا قطعی طور پر، کبھی بھی۔ فيسقط اعتبار الصورة لہٰذا صورت کا اعتبار ساقط ہو جائے گا یعنی مثل صوری کا اعتبار کیا ہو جائے گا؟ ساقط
ہو جائے گا۔
لِاسْتِحَالَةِ الْجَمْعِ، اس لیے کہ جمع، بوجہ جمع کے محال ہونے کے دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ مثلِ صوری کو بھی اور مثلِ... کیونکہ اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ عمومِ مشترک اور عمومِ مشترک تو ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ چلیں مولانا، ھٰذا ھو المرام۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔