Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-023

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 21 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 120
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
مولانا کل مسئلہ ہم نے شروع کیا تھا بھئی شوافح کے دو اعتراضات ذکر ہوئے تھے بھئی۔ شوافح نے کیا اعتراض کیا تھا کہ اے احناف تم کیا کہتے ہو کہ مطلق المطلق یجری علی اطلاقہ، مطلق اپنے اطلاق پر باقی رہے گا۔ ہاں ہم تمہیں دکھاتے ہیں کہ تم نے خود ہی اپنے ضابطے کو توڑ دیا، اس قانون کو توڑ دیا بھئی۔ آپ نے کہا تھا خبرِ واحد کے ذریعے اس پر زیادتی کرنا جائز نہیں، ہم دکھاتے ہیں آپ مطلق پر خبرِ واحد کے ذریعے کیا کر رہے ہیں؟ زیادتی کر رہے ہیں بھئی۔ تو دو اعتراضات ذکر کریں گے بھئی۔ تو پہلا اعتراض انہوں نے یہ کیا کہ کتاب اللہ میں مسحِ رأس مطلق آیا ہے، مطلق بعضِ رأس کا ذکر آیا ہے۔ اور آپ نے اس کو خبرِ واحد کے ذریعے مقدارِ ناصیہ سے کیا کر دیا ہے؟ مقید۔ آیت میں آیا ہے مولانا "وامسحوا برؤوسکم" مولانا۔ مسح کے مفعول پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ با۔ یعنی یوں کہو مسح متعدی ہے بواسطةِ حرفِ جر کے۔ اور یہ مسح کبھی متعدی ہوتا ہے بواسطةِ حرفِ جر کے اور کبھی بغیر واسطةِ حرفِ جر کے۔ اور جب یہ بواسطةِ حرفِ جر کے متعدی ہو تو ممصوح کا بعض مراد ہوتا ہے، اور جب یہ بغیر واسطے کے متعدی ہو تو پھر ممصوح کا کل مراد ہوتا ہے۔ مثلاً کہا جائے، اگر ہوتا "وامسحوا رؤوسکم" بغیر با کے، تو کیا معنی ہوتا؟ اپنے سارے سر کا مسح کرو۔ اور یہاں آئی ہے با "وامسحوا برؤوسکم" مولانا، تو اس کا کیا معنی ہے؟ مسح کرو اپنے بعضِ رأس کا۔ تو شوافح کہتے ہیں کہ یہاں بعضِ رأس آیا اور یہ بعضِ رأس مطلق ہے، کیا ہے؟ مطلق ہے مولانا۔ تو مطلق ہے۔ لیکن تم نے اے احناف اس کو مقید کر دیا خبرِ واحد کے ذریعے کس سے؟ مقدارِ ناصیہ کے ساتھ مقید کر دیا۔ وہ خبرِ واحد کیا ہے؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، ان کی حدیث آتی ہے: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم أتی سباطة قوم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے والی جگہ پر تشریف لائے "فبال وتوضأ" آپ نے پیشاب فرمایا اور پھر پیشاب فرمایا اور وضو فرمایا "ومسح علی الناصیة" اور مسح فرمایا کس پر؟ ناصیہ۔ میں نے بتایا تھا ناصیہ کس کو کہتے ہیں؟ پیشانی کو، لیکن یہاں کیا مراد ہے احمد؟ سر کا اگلا حصے کو بھی کہہ دیتے ہیں بھئی جو پیشانی کے برابر ہو، یہ تقریباً ربعِ رأس کے برابر بنتا ہے۔ اور حضور نے مسح فرمایا "علی الناصیة" پیشانی پر "وعلی خفیه" اور اپنے موزوں پر "وعلی العمامة" اور پگڑی پر بھئی، پگڑی پر مسح فرمایا بھئی۔ دوسرا اعتراض یہ کیا انہوں نے کہ کتاب اللہ میں ذکر ہوا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تین طلاقیں دینے سے حرمتِ غلیظہ آ گئی، تو اب قرآن کا حکم ہے کیا؟ "فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غیره" تو یہ حلال نہیں ہے بیوی اس کے بعد اس مرد کے لیے یہاں تک کہ یہ کیا کر لے؟ نکاح کر لے کسی اور کسی اور، تو یہاں جب کسی اور شخص سے نکاح کر لے گی تو اب وہ حرمتِ غلیظہ ختم ہو گئی، اب دوبارہ پہلا شوہر بھی اس کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ نکاح کر سکتا ہے۔ تو حرمتِ غلیظہ کس سے ختم ہوگی؟ نکاح سے ختم ہوگی، مطلق نکاح کا ذکر آیا۔ لیکن اے احناف تم نے اس کو مقید کر دیا جماع کی قید کے ساتھ کہ نکاح بھی کرے اور وہ دوسرا شوہر کیا کرے؟ جماع بھی کرے، اور یہ قید آپ نے بڑھائی کس کے ذریعے؟ حدیثِ امرأةِ رفاعہ کے ذریعے، حضرت رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی کے جو حدیث آتی ہے اس کے ذریعے یہ قید بڑھائی اور وہ خبرِ واحد ہے، تو آپ نے خبرِ واحد کے ذریعے کتاب اللہ کے مطلق کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا۔ حدیثِ امرأةِ رفاعہ کیا ہے بھئی؟ حضرت رفاعہ رضی اللہ تعالی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ امرأةِ رفاعہ حضور علیہ السلام کے پاس آئیں بھئی۔ اور آ کر کہا کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟ حضرت رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے طلاق دی تھی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر کے ساتھ نکاح کر لیا تھا اور انہوں نے تو ان سے نکاح کیا تھا۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ذکر کیا کہ کہ وہ تو جماع پر قادر نہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم واپس رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ تو حضور نے فرمایا: "لا حتى تذوقي من عسيلته ويزوق هو من عسيلتك" یہاں نہیں جب تک کہ تو نہ چکھ لے اس کے شہد میں سے اور وہ نہ چکھ لے تیرے شہد میں سے۔ شہد چکھنا سے چکھنے سے مراد کیا ہے؟ لذت اٹھانا، اور یہ کنایہ ہے مولانا کس چیز سے؟ جماع سے، جب تک کہ وہ جماع نہ ہو جائے اس وقت تک پہلے شوہر کے لیے تم حلال نہیں۔ تو اس حدیث سے پتہ چلا تھا کہ بغیر جماع کے عورت اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں۔ تو چنانچہ کتاب اللہ میں مطلق تھا لیکن اس حدیث کی وجہ سے آپ نے بھی یہ قید بڑھا دی اور اس مطلق کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا، کتاب اللہ میں مطلق نکاح سے ختم ہوتی تھی حرمتِ غلیظہ، حرمتِ غلیظہ مطلق کس سے ختم ہوتی تھی؟ نکاح سے، لیکن آپ نے مقید کر دیا کس کے ساتھ؟ جماع کی قید کے ساتھ بھئی۔ جواب دیا تھا مولانا پہلے مسئلے کا کہ آپ نے کیا کہا کہ کتاب اللہ بعضِ رأس کے بارے میں مطلق ہے؟ کہ مطلق بعضِ رأس کا مسح کرو، احناف کہتے ہیں نہیں یہ مطلق ہے ہی نہیں بلکہ یہ مجمل ہے۔ بلکہ یہ کیا ہے؟ مجمل ہے۔ مجمل اسے کہتے ہیں کہ جس کا معنیٰ تو معلوم ہو لیکن اس کی مراد معلوم نہ ہو۔ معنیٰ تو معلوم ہے بعضِ رأس کا کیا معنیٰ؟ کچھ سر، کچھ حصے پر۔ لیکن کتنا حصہ ہے؟ وہ مراد اس کیا مراد ہے بعضِ رأس سے کتنا حصہ؟ وہ معلوم نہیں، اور مجمل کے لیے خبرِ واحد بیان بن سکتی ہے، مجمل کے لیے بیان چاہیے مولانا، کیا مراد ہے اس سے؟ تو خبرِ واحد اس کے لیے کیا بن جاتی ہے؟ بیان، اور بیان کر دیتی ہے کہ کیا مراد ہے اس سے۔ چنانچہ حدیث اس کے لیے بیان بن گئی اور حدیث سے مقدارِ ناصیہ ثابت ہوئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ مصنف تقریر ذرا دوسرے انداز میں کرتے ہیں۔ مصنف کیا فرماتے ہیں؟ مجمل بتلاتے ہیں یہ مطلق کیوں نہیں ہے؟ مجمل کیوں ہے؟ فرق وہ بھی سمجھ میں آ جائے گا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ یہ آیت مطلق نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجمل ہے، مجمل ہے۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مطلق کا حکم یہ ہے کہ اس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو کیا کہا جاتا ہے؟ کہ اس شخص نے مامور بہِ کو ادا کر دیا ہے ادا کر دیا ہے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں۔ اس مطلق کے اس کے کسی بعضِ رأس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ فرض ادا کیا ہے۔ کیسے دیکھو مطلق کا کیا حکم بیان ہوا؟ کہ اس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو کیا کہا جاتا ہے کہ اس نے مامور بہِ کو ادا کر لیا۔ مثلاً مولانا کفارہِ ظہار کیا ذکر ہوا؟ کفارہِ یمین کیا ذکر ہوا؟ تحریرِ رقبة، اب تحریرِ رقبة مطلق ہے، اس کے جس فرد پر بھی عمل کر لو بس تحریرِ رقبة پائی جانی چاہیے مثلاً چھوٹا غلام آزاد کرے، صغیر کو آزاد کیا، بڑا غلام آزاد کیا تب بھی تحریرِ رقبة، مسلمان کو آزاد کیا تب بھی تحریرِ رقبة، کافر کو آزاد کیا تب بھی تحریرِ رقبة، غلام کو آزاد کیا تب بھی تحریرِ رقبة، باندی کو آزاد کیا تب بھی تحریرِ رقبة، تو جس فرد پر بھی عمل کر لیا جائے کیا کہتے ہیں اسے؟ مامور بہِ کو ادا کر دیا یعنی تحریرِ رقبة کر دی۔ لیکن یہاں پر ایسا نہیں کہ تحریرِ رقبة کر دی اور تحریرِ رقبة کیا تھی اس میں؟ ضروری تھی بھئی۔ تو یہاں پر ایسا نہیں مولانا، یہاں مطلق کے کسی بھی فرد پر کوئی شخص عمل کر لے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے مامور بہِ کو ادا کیا ہے، اس نے فرض کو ادا کیا ہے۔ مثلاً ایک شخص ثلث پر کیا کرتا ہے؟ مسح کرتا ہے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے فرض ادا کیا ہے یعنی یہ ثلث کیا ہے؟ فرض ہے۔ دوسرا کیا کرتا ہے مولانا؟ نصف پہ مسح کرتا ہے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ اس نے فرض ادا کیا ہے یعنی یہ نصف کیا ہے؟ یہ تو اس طرح تو مولانا خمس بھی فرض ہوا، ثلث بھی فرض ہوا اور سدس بھی فرض ہوا، ثلثین بھی فرض ہوا۔ جتنے پہ عمل کر لے گا یہ کہنا لازم آئے گا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ فرض کو ادا کیا، معلوم ہوا یہ جو اس نے ادا یہ کیا ہے؟ فرض ہے، حتیٰ کہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہ نہیں فرماتے کہ جس بعض پر بھی عمل کر لیا جائے وہ کیا ہے؟ فرض ہے، وہ بھی فرماتے ہیں کہ بعضِ رأس کا جو ادنیٰ فرد ہے، بعضِ رأس کم سے کم کچھ سر کس کو کہیں گے؟ تین بالوں کو، کس کو کہیں گے؟ لہذا تین بال وہ بھی کہتے ہیں فرض ہیں ان پر مسح کرنا اور اس سے زائد سنت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کے ہاں مطلق جو ہے اپنے تمام افراد پر صادق آتا ہے اور یہاں پر ہر فرد کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا مولانا۔ مثلاً ربع نصف، ثلث، خمس، سدس، ان میں سے ہر ایک کو فرض قرار دیا جا سکتا ہے؟ ان میں سے ہر ایک کو فرض قرار نہیں دیا جا سکتا۔ معلوم ہوا یہ مجمل ہے مولانا۔ مطلق، فرق سمجھ میں بھی آیا یا ویسے ہی سر ہلا رہے ہیں؟ جی؟ جی استاد جی۔ بھئی مطلق کا حکم یہ ہے اس کے کسی بھی فرد پر عمل کر لیا جائے تو کیا کہا جاتا ہے کہ اس نے مامور بہِ کو ادا کر دیا ہے، ادا کر دیا ہے۔ اور مطلق اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آتا ہے۔ تمام افراد پر، جیسے وہاں تحریرِ رقبة، بچے کو آزاد کیا غلام کو پھر بھی تحریرِ رقبة، بڑے کو آزاد کیا پھر بھی تحریرِ رقبة، کافر کو کیا تحریرِ رقبة، مسلمان کو آزاد کیا تحریرِ رقبة، غلام کو آزاد کیا تو بھی تحریرِ رقبة، باندی کو آزاد کیا تو بھی تحریرِ رقبة ہے۔ لیکن یہاں مامور بہِ کیا ہے؟ فرض، فرض۔ سر پر مسح کیا ہے مولانا؟ فرض ہے، تو یہاں ہر ایک کو فرض نہیں قرار دیا جا سکتا، ثلث فرض ہے، نصف فرض ہے، ثلثین فرض ہے، یہ بات بنتی ہے مولانا؟ ہر ایک پر برابری کے ساتھ فرض ہونا صادق آ رہا ہے؟ ہر ایک برابری کے ساتھ، اگر ثلث فرض ہے تو نصف کو نہیں کہیں گے، نصف نصف فرض نہیں، اگر نصف فرض ہے تو پھر ثلث فرض نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ تو دیکھیے: "قلنا" جواب دوبارہ دیکھیے: "إن الكتاب ليس بمطلق في باب المسح" کہ کتاب اللہ مسح کے باب میں مطلق نہیں ہے، "فإن حكم المطلق" اس لیے کہ حکم مطلق کا یہ ہے "أن يكون الآتي بأي فرد كان آتيا بالمأمور به" کہ ادا کرنے والا کسی بھی فرد کو وہ ادا کرنے والا ہوتا ہے کس کو؟ مامور بہِ کو، "والآتي بأي بعض كان هاهنا ليس بآت بالمأمور به" اور یہاں پر کسی بھی بعض کو ادا کرنے والا "ليس بآت بالمأمور به" وہ مامور بہِ کو ادا کرنے والا نہیں، "فإنه لو مسح على النصف أو على الثلثين لا يكون الكل فرضا" اس لیے کہ اگر اس نے مسح کیا نصف پر یا دو ثلث پر تو سارے کے سارے تمام، سارا کا سارا ممصوح فرض نہیں ہوگا۔ سارے ممصوح، اگر آپ یہ کہتے ہیں اس نے فرض ادا کیا ہے، ایک نے کتنے پر کیا مسح؟ نصف پر، دوسرے نے کتنے پر کیا؟ ثلثین پر، سارے، تو اگر یہ کہیں اس نے مامور بہِ کو ادا کیا ہے یعنی اس نے کس کو ادا کیا ہے؟ فرض کو ادا کیا ہے، کس کو ادا کیا ہے؟ ایک نے نصف پہ مسح کیا، آپ نے کہا اس نے فرض ادا کیا معلوم ہوا فرض کتنا؟ نصف، دوسرے نے کتنے پر مسح کیا؟ ثلثین پر، آپ نے کیا کہا؟ اس نے فرض ادا کیا معلوم ہوا ثلثین کیا؟ فرض، تو فرض یا تو نصف ہو سکتا ہے یا ثلثین، سارے افراد فرض نہیں، کوئی ایک فرد ہوگا۔ معلوم ہوا یہ مطلق ہے نہیں۔ "فإنه لو مسح" اچھا، "وبه فارق المطلق المجمل" اور اس وجہ سے جو ہم نے فرق بیان کیا جدا ہو گیا مطلق کس سے؟ مجمل سے جدا ہو گیا، پتہ چلا یہ مجمل ہے مطلق نہیں جس کا معنیٰ تو معلوم ہے لیکن اس کی مراد معلوم نہیں اور اس کے لیے حدیث بیان بن گئی۔ اس پر اشکال ہوا مولانا کہ حضور نے ناصیہ پر مسح کیا، تو اور ناصیہ کس کو کہتے ہیں؟ سر کا اگلے حصے کو، سر کے،वैसे تو پیشانی ہے اور اگلے حصے کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اس کی پیشانی کے برابر اس کو بھی مجازاً کیا کہتے ہیں؟ ناصیہ، تو سر کے اگلے حصے کے فرض قرار دینا اے احناف! آپ نے تو ناصیہ کو فرض نہیں قرار دیا، مقدارِ ناصیہ کو فرض قرار دیا کہ اتنی مقدار میں کر لو جس طرف سے بھی تو یہ قید بڑھائی ہے حدیث سے، اور حدیث سے ثابت ہوا صرف ناصیہ، لیکن آپ نے ناصیہ نہیں بلکہ کس کو ثابت کیا؟ مقدار، جواب احناف دیتے ہیں کہ بھئی محل تو قرآن سے معلوم ہو چکا تھا کہ مسح کرنا ہے لیکن کہاں پر کرنا ہے؟ سر پر، ہاں مقدار پتہ نہیں تھی کہ اس بعضِ رأس سے کیا مراد ہے؟ کتنی مقدار ہے؟ تو حدیث سے کس چیز کا پتہ چل گیا؟ تو حدیث نے اس مقدار کو بیان کر دیا کہ کتنی مقدار ہے؟ ناصیہ کی مقدار ہے، اب وہ ناصیہ کی مقدار مسح کر لیں چاہے سر کے اگلے حصے میں، درمیان والے میں بھی، آخر والے حصے میں، ایک طرف ہو اس دوسری طرف ہو، بس اتنی مقدار ادا کر لے گا تو فرض کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ "وأما قيد الدخول فقد قال" جی یہاں سے جواب دے رہے ہیں دوسرے اعتراض کا بھئی، دوسرا اعتراض کیا کیا تھا؟ کہ کتاب اللہ میں مطلق آیا ہے کہ نکاح سے حرمتِ غلیظہ ختم ہو جائے گی اور اے احناف! آپ نے کس چیز کی قید اس پر بڑھا دی؟ جماع کی قید بڑھا دی، کس کے ذریعے؟ حدیثِ امرأةِ رفاعہ کے ذریعے وہ قید بڑھا دی بھئی، تو یہ مطلق کو مقید کر دیا۔ اس سے پہلے ایک تمحید سمجھ لیں مولانا، ایک ہوتا ہے اعادہ اور ایک ہے تاسیس و افادہ۔ ایک ہے اعادہ اور ایک ہے تاسیس و افادہ۔ جلدی لکھو بھئی جلدی۔ اعادہ کسے کہتے ہیں؟ اگر ایک لفظ سے وہی معنیٰ حاصل ہوں جو دوسرے لفظ سے بھی حاصل ہوئے ہیں تو اسے اعادہ کہتے ہیں۔ اگر ایک لفظ سے وہی معنیٰ حاصل ہوں جو دوسرے لفظ سے حاصل ہوئے تو اسے کہتے ہیں اعادہ۔ اور اگر نیا معنیٰ حاصل ہو تو اسے کہتے ہیں تاسیس و افادہ۔ تو اسے کہتے ہیں تاسیس و افادہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسے کہتے ہیں تاسیس اور افادہ۔ دیکھو بھئی، ایک لفظ سے ایک معنیٰ حاصل ہوا، دوسرے لفظ سے بھی وہی معنیٰ آپ لیں تو یہ کیا کہلائے گا؟ وہی معنیٰ لیں، اعادہ ہے۔ اور اگر دوسرے لفظ سے نیا معنیٰ لیں تو پھر یہ کیا ہے؟ تاسیس یا کیا کہتے ہیں اس کو؟ افادہ، اور یاد رکھو تاسیس و افادہ اولیٰ ہے اعادہ سے۔ تاسیس و افادہ اولیٰ ہے اعادہ سے۔ آپ بتلائیے مولانا، ایک معنیٰ ایک لفظ سے پہلے حاصل ہو چکا ہے، دوسرے لفظ سے بھی وہی معنیٰ لیا جائے یہ بہتر ہے یا نیا معنیٰ لیا جائے وہ بہتر ہے؟ نیا معنیٰ تاکہ نیا فائدہ حاصل ہو، کیا ہو؟ یہ بات اب اعادہ سمجھ میں آ گیا؟ تاسیس اور افادہ سمجھ یہ تو کیا ہوگا؟ بھئی عقد کا پتہ تو کس سے چل چکا؟ زوج سے۔ تو تنکح سے کیا کرو؟ اس سے بھی اگر ہم عقد کا معنی لے لیں تو یہ کیا ہے؟ اعادہ اور نکاح کا ایک معنی کیا آتا ہے؟ وطی۔ تو اب اگر اس سے وطی اور جماع مراد لیا جائے تو پھر یہ کیا ہے؟ تاسیس اور افادہ ہے۔ تو اور تاسی تاسیس اور افادہ اولیٰ ہے کس سے؟ اعادہ سے۔ لہذا یہ تنکح سے ہم کیا مراد لیتے ہیں؟ وطی مراد لیتے ہیں۔ کیا مراد لیتے ہیں؟ وطی مراد لیتے ہیں، کیونکہ افادہ اولیٰ ہے۔ یہ جماع کی قید کہاں سے معلوم ہوئے؟ قرآن ہی سے۔ یہ تنکح کا معنی یہ یہاں تک کہ جماع کر لے اس کے ساتھ ایک اور خاوند۔ سمجھ میں آیا؟ زوج نے کس پہ دلالت کی تھی؟ عقد پہ۔ اب تنکح سے بھی مراد عقد لے لیں، تو پھر کیا لازم آئے گا؟ پھر تو اعادہ ہوا۔ اور اگر اس سے مراد وطی لے لیں، تو پھر کیا ہے؟ تاسیس۔ اور احتمال دونوں کے ہیں، تو اولیٰ کیا ہے اس سے کیا مراد لیا جائے؟ تاسیس اور وطی مراد لی جائے تاکہ تاسیس اور افادہ آ جائے، نیا فائدہ حاصل ہو جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ قید ہم نے خبر واحد سے بڑھائی ہے یا یہ قید قرآن ہی میں موجود ہے؟ قرآن ہی میں موجود ہے۔ لہذا آپ کا سوال ہی ختم ہوا، اشکال ہی ختم ہو گیا۔ یہ ایک جواب۔ ہاں اس پہ اشکال ہوتا ہے۔ آپ نے اے احناف کیا کیا؟ تنکح، نکاح سے کیا مراد لیا؟ وطی مراد لی۔ کہتے ہیں یہاں پر نکاح سے وطی مراد نہیں لے سکتے۔ شوافع کہتے ہیں کہ یہاں پر نکاح سے وطی مراد کیوں نہیں مراد لے سکتے وطی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ تنکح کا صیغہ آیا، تنکح مونث کا صیغہ ہے، نکاح کی اسناد کس کی طرف ہو رہی ہے؟ عورت کی طرف، کس کی طرف؟ عورت کی طرف۔ عورت، معنی کیا ہو جائے گا؟ وطی کرے عورت۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ وطی تو کون کرتا ہے؟ مرد کرتا ہے۔ وطی کون کرتا ہے؟ مرد کرتا ہے۔ تو تنکح کے اندر جو اسناد عورت کی طرف ہوا یہ مانع ہے، یہاں پر آپ وطی سے مراد نہیں لے سکتے، کیونکہ وطی کرنے والا کون؟ مرد ہے۔ جواب یہ کہ مولانا مجاز کے قبیل سے ہے اور مجازاً عورت کی طرف وطی کی نسبت کر دی۔ اور کیوں کی عورت کی طرف نسبت؟ اس لیے کہ عورت وطی کر وطی کی قدرت دینے والی ہے۔ وہ قدرت دے گی تو مرد وطی کر سکتا ہے، وہ قدرت نہیں دیتی تو وہ وطی نہیں کر سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں عورت کی طرف اسناد کیوں ہوا؟ یہ کس قبیل سے ہے مولانا؟ مجاز کے قبیل سے ہے مولانا۔ اور کیوں کی گئی نسبت نکاح کی وطی کی عورت کی طرف؟ کیونکہ وہ وطی کی کیا کرنے والی ہے؟ قدرت دینے والی ہے، قدرت دینے والی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ مجاز کے قبیل۔ جیسے مولانا "الزانیۃ" کا لفظ، الزانیۃ، زنا کرنے والی عورت، زنا کس کو کہتے ہیں؟ وطیِ حرام کو کہتے ہیں۔ تو دیکھو، الزانیۃ میں وطیِ حرام کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ عورت کی طرف، حالانکہ وطی کرنے والا تو کون ہوتا ہے؟ مرد۔ کیوں نسبت کی گئی؟ اسی لیے نسبت کی گئی، کیونکہ عورت کیا ہے؟ وطی کی قدرت دینے والی ہے، تو گویا وہ وطی کرنے والی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اعتراض بھی اور جواب بھی گزر گیا۔ اب دوسرا جواب سنو مولانا۔ دوسرا جواب یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ حدیث امراۃ رفاعہ کیا ہے؟ خبرِ واحد۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ خبر واحد ہے ہی نہیں۔ بلکہ علماء نے اس کو کیا قرار دیا ہے؟ خبرِ مشہور قرار دیا ہے، یہ خبر مشہور ہے اور خبر مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادی جائز ہے۔ خبر واحد کے ذریعے تو زیادی جائز نہیں، لیکن خبر مشہور کے ذریعے زیادی مطلق کو مقید کرنا جائز ہے۔ تو اگر حدیث سے بھی بڑھائی جائے، تو یہ حدیث خبر مشہور ہے اور خبر مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادی کرنا جائز ہے۔ جواب سمجھ میں آیا؟ یاد رکھو، حدیث عند الفقہاء، فقہاء کے نزدیک حدیث تین قسم پر ہے۔ فقہاء کے نزدیک حدیث تین قسم پر ہے۔ خبر متواتر، خبر مشہور اور خبر واحد۔ خبر متواتر، خبر مشہور اور خبر واحد۔ خبر متواتر وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے کثیر افراد ہوں، اتنے کثیر افراد ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے۔ سمجھ میں آئی تعریف؟ خبر متواتر کس کو کہتے ہیں؟ یعنی وہ ایسی حدیث ہے کہ ہر ہر زمانے میں اتنے اتنے لوگ اس کو روایت کر رہے ہیں کہ عقل یہ تسلیم ہی نہیں کرتی کہ اتنے لوگ کبھی جھوٹ پر جمع ہو جائیں۔ یہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے، معلوم ہوا یہ حدیث کیا ہے؟ قطعی ہے، قطعی ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ ہر لحاظ ہر حال میں یہ سچی خبر ہے بھئی۔ اور دوسری ہے مولانا خبر مشہور۔ خبر مشہور وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے بعد جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے بعد کسی بھی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں، تین سے کم نہ ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی خبر مشہور کسے کہتے ہیں بھئی؟ صحابہ کی بات نہیں کر رہا، صحابی چاہے ایک بھی ہو مولانا، صحابی کیا ہے؟ چاہے ایک بھی ہو، ہمارے نزدیک معتمد ہے مولانا۔ ہاں! بعد کے کسی زمانے میں بھی اس کے روایت کرنے والے تین سے کم، تابعین بھی کم از کم تین ہوں یا تین سے زیادہ، تبع تابعین بھی کم از کم تین یا تین سے زیادہ، اسی طرح بعد کے کسی زمانے میں بھی تین سے کم نہ ہوں، تو یہ کیا کہلاتی ہے؟ خبر مشہور۔ اور خبر واحد، اور اگر کسی صحابہ کے بعد اور اگر صحابہ کے بعد کسی زمانے میں روایت کرنے والے تین سے کم ہوں یعنی دو یا ایک ہوں، یعنی دو یا ایک ہوں، تو پھر اسے خبر واحد کہتے ہیں، تو پھر اسے خبر واحد یا خبر آحاد کہتے ہیں، تو پھر اسے خبر واحد یا خبر آحاد کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ خبر متواتر جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، کہ اتنے لوگ کبھی بھی جھوٹ پر جمع نہ ہوں، معلوم ہوا یہ خبر ہر حال میں سچی ہے۔ اور خبر مشہور کیا ہے کہ جس کے راوی صحابہ کے بعد تابعین، تبع تابعین یا بعد کے کسی زمانے میں بھی تین سے کم کم سے کم اگر کسی زمانے میں ہوں تو تین ہوں، اس سے کم نہ ہوں، اس سے زیادہ۔ اور پھر خبر واحد ہے جس کے روایت کرنے والے صحابہ کے زمانے کے بعد کسی زمانے میں بھی مثلاً تابعین صرف دو ہیں یا ایک ہے یا تبع تابعین صرف اس کو روایت کرنے والے دو ہیں یا ایک ہے، تو پھر یہ کیا کہلائے گی؟ خبر واحد یا خبر آحاد کہلائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ خبر آحاد کہلائے گی، خبر آحاد کہلائے گی بھئی۔ تو کتاب اللہ پر خبر واحد کے ذریعے زیادی تو جائز نہیں، لیکن خبر مشہور کے ذریعے کیا کی جا سکتی ہے؟ زیادی کی جا سکتی ہے۔ جی، دیکھیے مولانا۔ "وَأَمَّا قَيْدُ الدُّخُولِ فَقَدْ قَالَ الْبَعْضُ" اور باقی جو جو جماع کی قید ہے تو تحقیق کہا ہے بعض علماء نے، بعض فقہاء نے، "إِنَّ النِّكَاحَ فِي النَّصِّ حُمِلَ عَلَى الْوَطْءِ" کہ نکاح جو ہے نص کے اندر یعنی آیت کے اندر، وہ محمول ہے کس پر؟ وطی پر۔ "إِذِ الْعَقْدُ مُسْتَفَادٌ مِنْ لَفْظِ الزَّوْجِ" اس لیے کہ عقد تو عقد کا معنی تو حاصل ہو رہا ہے زوج کے لفظ سے، زوج کے لفظ سے کیا معنی حاصل ہو رہا ہے؟ عقد۔ زوج کہتے ہی کس کو ہیں جس نے کیا کیا ہو؟ عقد۔ "وَبِهَذَا يَزُولُ السُّؤَالُ" اور اس وجہ سے سوال کیا ہو جاتا ہے؟ زائل ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ قید ہم نے حدیث سے، خبر واحد سے نہیں بڑھائی بلکہ کس سے بڑھائی ہے، کس سے معلوم ہوئی یہ قید؟ قرآن ہی سے معلوم ہوئی۔ "وَقَالَ الْبَعْضُ" اور بعض علم ہمارے فقہاء فرماتے ہیں "قَيْدُ الدُّخُولِ ثَبَتَ بِالْخَبَرِ" کہ یہ دخول کی قید کس سے ثابت ہے؟ خبر ہی کے ذریعے ثابت ہے "وَجَعَلُوهُ مِنَ الْمَشَاهِيرِ" اور قرار دیا ہے اس کو کس میں سے؟ خبر مشہور میں سے قرار دیا ہے، "فَلَا يَلْزَمُهُمْ تَقْيِيدُ الْكِتَابِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ" تو ان پر لازم نہیں آتا مقید کرنا کتاب اللہ کو خبر واحد کے ساتھ۔ چلیے مولانا، هذا هو الكلام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 23 of 123