فصلٌ فی المطلقِ والمقیدِ۔
یہ فصل ہے مولانا مطلق اور مقید کے بارے میں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے مولانا کہ بحث چل رہی ہے وضع کے اعتبار سے بھئی، تو وضع کے اعتبار سے کتنی قسمیں تھیں لفظ کی؟ چار: خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ تو ابھی خاص اور عام کا ذکر ہوا ہے، ابھی مشترک اور مؤول باقی ہیں، درمیان میں یہ مصنف مطلق اور مقید کو کیوں لے آئے بھئی؟
سوال سمجھ میں آیا بھئی، کیوں لے آئے؟ تو جواب یہ ہے مولانا کہ یہ مطلق اور مقید خاص کی قسمیں ہیں، خاص کی قسمیں ہیں۔ اس لیے خاص اور عام کے فوراً بعد کس کا ذکر کر دیا؟ مطلق اور مقید کا ذکر کیا، مشترک اور مؤول کا ابھی ذکر نہیں کیا۔
تو خاص اور عام چونکہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں، ان کو اکٹھا ذکر کیا بھئی، پھر فوراً ہی آگے خاص کی قسمیں بتا رہے ہیں۔
اور نیز مولانا! مطلق اور مقید کی چونکہ ان کے احکام کثیر ہیں بھئی، احکام کثیر ہیں اور ان کی ابحاث ہیں مستقل ابحاث مولانا، اس لیے الگ فصل بنائی کہ ان کے احکام کیا ہیں؟ کثیر ہیں اور ان کی ابحاث کیا ہیں؟ مستقل ابحاث ہیں ان کی، تو ان کو باقاعدہ الگ فصل لا کر ان کو ذکر کیا۔
مطلق کسے کہتے ہیں؟ مقید کسے کہتے ہیں مولانا؟
یاد رکھو! مطلق وہ ہوتا ہے جو صرف ذات پر دلالت کرے، اس میں کوئی وصف ملحوظ نہ ہو بھئی۔ مطلق وہ ہے جو صرف ذات پہ دلالت کرے، اس میں کوئی وصف ملحوظ نہ ہو۔ یعنی وہ کسی وصف کے ساتھ موصوف نہ ہو، یعنی وہ کسی وصف کے ساتھ موصوف نہ ہو، کسی قید کے ساتھ مقید نہ ہو۔
جیسے رجلٌ، جیسے حیوانٌ۔
سمجھ میں آرہی ہے بات سب کو؟ مطلق کسے کہتے ہیں؟ جو صرف کس پر دلالت کرے؟ ذات پر دلالت کرے، اس میں کوئی اور وصف ملحوظ نہ ہو۔ یعنی کسی وصف کے ساتھ وہ موصوف نہ ہو رہا ہو، کسی قید کے ساتھ وہ مقید نہ ہو رہا ہو۔ اب بتائیے! رجل کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ ذات پہ، کوئی صفت ہے ساتھ؟ نہیں، کوئی قید ہے؟ نہیں۔ حیوان، صرف کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ ذات پر، اس میں کوئی وصف ہے؟ نہیں، اس کے ساتھ کوئی وصف نہیں، کوئی قید نہیں۔
اور مقید وہ ہوتا ہے جو ذات کے ساتھ ساتھ وصفِ زائد پر دلالت کرے۔ جو ذات کے ساتھ ساتھ وصفِ زائد پر دلالت کرے، یعنی ذات کے ساتھ وہاں وصف بھی ملحوظ ہو۔ یعنی ذات کے ساتھ وہاں وصف بھی ملحوظ ہو۔
یعنی وہ موصوف ہو کسی وصف کے ساتھ، یا مقید ہو کسی قید کے ساتھ۔ یعنی وہ موصوف ہو کسی وصف کے ساتھ اور مقید ہو کسی قید کے ساتھ۔
جیسے مولانا! رجلٌ شریفٌ۔ رجلٌ... اب کیا ہوا مولانا؟ دیکھو پہلے رجل کیا تھا؟ مطلق تھا، اس میں کوئی وصف نہیں تھا۔ اب کیا ہوا؟ یہ مقید ہو گیا صفت کے ساتھ: رجلٌ شریفٌ۔ اب اس کا اطلاق ہر آدمی پہ نہیں ہو سکتا، صرف اس پہ ہوگا جس میں شرافت والی صفت پائی جائے۔ یا جیسے حیوانٌ ناطقٌ مولانا! پہلے حیوان مطلق تھا، ہر حیوان کو کہہ سکتے تھے، لیکن اب یہ مقید ہے کس کے ساتھ؟ ناطق کے ساتھ۔ صرف کس کو کہیں گے؟ انسان کو کہیں گے، جو ناطق ہوگا مولانا، غیر ناطق کو نہیں کہیں گے۔ تو یہ مقید ہے، صفت بھی کیا ہوتی ہے مولانا؟ قید ہوتی ہے، دیکھو قید آنے کی وجہ سے اس کا دائرۂ دلالت کم ہوا مولانا، خاص اب اوصاف کے ساتھ لحاظ رکھا جائے گا، بغیر اوصاف کے نہیں۔
اچھا جی! اب مطلق کا حکم کیا ہے؟ یاد رکھو بھئی!
دیکھیے! کتاب میں خود آرہا ہے مولانا: فصلٌ فی المطلقِ والمقیدِ، یہ فصل ہے مولانا مطلق اور مقید کے بارے میں۔ ذہب اصحابنا، گئے ہیں ہمارے اصحاب، یعنی ہمارے فقہاء، یعنی کس کے فقہاء مولانا؟ احناف کے۔ ہمارے فقہاء، احناف کے فقہاء گئے ہیں الیٰ اس بات کی طرف کہ ان المطلق، یہ حکم شروع ہو گیا، کہ ان المطلق من کتاب اللہ تعالیٰ، کہ کتاب اللہ کے جو مطلق ہیں مولانا کتاب اللہ میں سے، اذا امکن العمل باطلاقہ، جب تک ممکن ہو عمل اس کے اطلاق پر، اس کے اطلاق کے ساتھ اس پر عمل جب تک ممکن ہو عمل اس کے اطلاق کے ساتھ، فالزیادۃ علیہ بخبر الواحد والقیاس لا یجوز، تو اس پر زیادی کرنا خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ جائز نہیں ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ بھئی دیکھو! مطلق پر جب تک وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا ممکن ہو، اس کو مقید نہیں کیا جائے گا۔ بھئی خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ اپ زیادی کریں گے تو اس کا وصفِ اطلاق کیا ہو جائے گا؟ فوت ہو جائے گا، یہ تو کیا بن جائے گا؟ مقید بن جائے گا، تو آپ نے وصفِ اطلاق کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر دیا، کیا کر دیا؟ بھئی کتاب اللہ میں تو ایک چیز مطلق آئی تھی، مقید آئی تھی؟ نہیں، اور جب تک اطلاق کے ساتھ عمل ممکن ہے اس کو خبرِ واحد یا قیاس کے ساتھ مقید... کیونکہ اگر آپ مقید کریں گے تو کتاب اللہ ہے قطعی، اور یہ قسم کس کی ہے مطلق مقید؟ خاص کی، تو جو خاص کا حکم ہے وہی اس کا حکم، اور خاص کیا ہوتا ہے مولانا؟ قطعی، تو یہ مطلق کیا ہے؟ اس پر وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا کیا ہے؟ قطعی ہے، وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا قطعی ہے، اب اگر آپ اس پر خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ زیادی کر دیتے ہیں جو ظنی ہیں، جو کیا ہیں؟ تو دیکھو کہ اس کے وصفِ اطلاق کو آپ نے گویا ختم کر دیا، منسوخ کر دیا کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ، اور قطعی کو ظنی کے ساتھ منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
حکم سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ کیا حکم ہوا بھئی مطلق کا؟ جب تک وصفِ اطلاق کے ساتھ اس پر عمل ممکن ہے، اس پر خبرِ واحد یا قیاس کے ساتھ... اس کے ساتھ اس کو مقید... اس کے ساتھ اس پر زیادی نہیں کی جائے گی، ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کتاب اللہ کے سے جو وصفِ اطلاق ثابت ہو رہا ہے، اس وصفِ اطلاق کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ منسوخ کر رہے ہیں، اور وہ تھا قطعی، اور خبرِ واحد اور قیاس ہے ظنی، اور ظنی کے ساتھ قطعی کو منسوخ کرنا جائز نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ با الفاظِ دیگر، آسان لفظوں میں ضابطہ یاد رکھو، اسی طرح مقید: المطلق یجری علیٰ اطلاقہ، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوگا۔ المطلق یجری علیٰ اطلاقہ۔
اور اسی طرح مقید ہے: المقید یجری علیٰ تقییدہ۔
المطلق یجری علیٰ اطلاقہ و المقید یجری علیٰ تقییدہ۔
جلدی جلدی لکھو بھئی، آپ بہت آہستہ لکھتے ہیں آپ لوگ۔
المطلق یجری علیٰ اطلاقہ، کیا معنی مولانا؟ مطلق جاری ہوگا اپنے اطلاق پر، اور مقید جاری ہوگا اپنی تقیید پر، قید کے ساتھ ہی اس پر عمل کیا جائے گا، اور مطلق پر جب تک وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا ممکن ہے، تو وصفِ اطلاق کے ساتھ ہی اس پر کیا کیا جائے گا؟ عمل کیا جائے گا، اس کو خبرِ واحد یا قیاس کے ساتھ مقید نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے مثالیں آئیں گی، آپ کو بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی۔
جبھی تو کہتے ہیں: اذا امکن العمل باطلاقہ، جب تک ممکن ہو عمل کرنا وصفِ اطلاق کے ساتھ، فالزیادۃ علیہ بخبر الواحد والقیاس لا یجوز، تو زیادی کرنا اس پر خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ جائز نہیں۔
مثالہ فی قولہ تعالیٰ، اس کی مثال اللہ کے اس قول میں ہے: فاغسلوا وجوہکم۔
جی، بھئی قرآن میں آیتِ وضو ہے، کس طرح ہے بھئی؟ اذا قمتم الی الصلاۃ فاغسلوا وجوہکم و ایدیکم الی المرافق وامسحوا برؤوسکم و ارجلکم الی الکعبین۔ کہ جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو تو دھو لو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کوہنیوں تک، اور مسح کرو اپنے سروں کا، اور دھو لو اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت بھئی، ٹخنوں سمیت۔ تو دیکھو! ہمارے نزدیک وضو کے فرائض کتنے ہوئے؟ چار: چہرے کا دھونا، ہاتھوں کا کوہنیوں سمیت دھونا، سر کا مسح کرنا، اور پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا، یہ فرض ہیں ہمارے نزدیک چار، چار۔
اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مولانا! آگے آرہا ہے، نیت اور ترتیب، ان کے نزدیک نیت کرنا بھی فرض ہے وضو میں، نیت کی تو وضو ہوگا، نیت نہ کی تو وضو نہیں ہوگا۔ اسی طرح ترتیب سے کرنا، ترتیب سے کرنا یہ بھی کیا ہے؟ ان کے نزدیک فرض ہے، کہ جس طرح کتاب کے اندر کتاب اللہ میں پہلے چہرے کا ذکر ہے، پھر ہاتھوں کا ذکر ہے، پھر سر کے مسح کا ذکر ہے، پھر پاؤں کے دھونے کا ذکر ہے، یہ بھی ان کے نزدیک کیا ہے؟ فرض ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فرض ہے۔
تو دیکھیے! امامِ شافعی رحمہ اللہ... تو یہ نیت کہاں سے ثابت کی؟ انہوں نے حدیث سے ثابت کی خبرِ واحد سے۔ ترتیب انہوں نے کہاں سے ثابت کی؟ حدیث سے ثابت کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث سے ثابت کی۔ جیسے حدیث میں آتا ہے: انما الاعمال بالنیات، اعمال کا دارومدار کس پر ہے؟ نیتوں پر ہے بھئی، نیتوں پر ہے، تو معلوم ہوا نیت بھی کیا ہے؟ اور وضو بھی ایک عمل ہے، معلوم ہوا اس کے اندر نیت کرنا فرض، جی۔
اچھا! اور پھر ترتیب کہاں سے؟ ترتیب بھی ایک حدیث سے انہوں نے ثابت کی کہ حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ وضو فرمایا اور وضو فرمانے کے بعد آپ فرمانے لگے کہ اللہ نماز کو قبول نہیں فرماتے مگر اسی کے ساتھ، یعنی اسی طرح کے وضو کے ساتھ۔ اس طرح وضو کرو گے تو اللہ نماز قبول فرمائیں گے ورنہ نہیں، اور کہتے ہیں وہ وضو، وہ وضو ترتیب سے تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیا تھا؟ معلوم ہوا بغیر ترتیب کے بھی وضو کر لو گے تو وہ قبول نہیں، وہ... تو معلوم ہوا نیت بھی فرض ہے وضو میں اور ترتیب بھی کیا ہے؟ فرض ہے۔
جی، نیت اور ترتیب نظر آیا آپ کو عبارت میں بھئی؟ آگے آرہا ہے والموالاۃ، موالات کہتے ہیں پے در پے کرنا مولانا، پے در پے کرنا، یعنی ایک عضو ابھی خشک نہ ہوا ہو کہ دوسرا عضو بھی دھو لو بھئی، یہ نہیں کہ ایک خشک ہو جائے پھر دھو ہو۔ امامِ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پے در پے کرنا بھی فرض ہے، یہ کس کے نزدیک فرض ہے؟ امامِ مالک رحمہ اللہ، نیت اور ترتیب تھی امامِ شافعی رحمہ اللہ، اور موالات کس کے نزدیک فرض بھئی؟ امامِ مالک رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حدیث میں آتا ہے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا مسجد میں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اس کے پاؤں پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی تھی بھئی، بھئی وضو کر لیں... تو جس جگہ پر اگر پانی نہ لگا ہو وہ ذرا الگ نظر آرہی تھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ پتہ چل رہا تھا اس جگہ پر پانی لگا ہی نہیں ہے پاؤں کے، تو حضور نے کیا فرمایا کہ: جاؤ بھئی، جا کر اس شخص سے، دوبارہ وضو کرو اور دوبارہ کیا کرو؟ نماز پڑھو بھئی، آپ کی وضو بھی نہیں ہوا، نماز بھی... تو امامِ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: معلوم ہوا پے در پے دھونا فرض ہے، ایک عضو خشک ہونے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟ دوسرا عضو دھونا، اس لیے کہ اگر پے در پے دھونا فرض نہ ہوتا تو حضور علیہ السلام صرف یہ فرماتے: یہ جو جگہ خشک رہ گئی ہے، یہ دھو لو جا کر۔ لیکن حضور نے کیا فرمایا: دوبارہ وضو کرو، کیوں سارے کا؟ کیونکہ باقی اعضاء خشک ہو چکے تھے اور اس وضو میں شرط ہے، کیا؟ معلوم ہوا شرط ہے، فرض ہے کیا؟ کہ ایک عضو کے خشک ہونے سے پہلے کیا کر لو؟ تو اس سے... اس حدیث سے انہوں نے کیا کیا؟ معلوم ہوا کہ پے در پے دھونا بھی فرض ہے، ثابت کیا۔
اچھا! اور بسم اللہ کے بارے میں یہ... امام داؤد ظاہری گزرے ہیں مولانا ایک، امام داؤد ظاہری، وہ فرماتے ہیں: وضو میں بسم اللہ کا پڑھنا فرض ہے، جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وضو نہیں ہوا۔ حدیث کیا ہے مولانا؟ حدیث ہے: لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ، اس شخص کا وضو ہی نہیں ہے جس نے اللہ کا نام نہ لیا اس پر، یعنی بسم اللہ کو نہ پڑھا۔ وضو کے شروع میں جس نے بسم اللہ نہ پڑھی، وہ فرماتے ہیں اس کا وضو ہی نہیں، اب تو دیکھیے مولانا! امامِ شافعی رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کے... ہم کہتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کتاب اللہ میں مطلق دھونے کا حکم آیا ہے، کتاب اللہ میں نیت کا ذکر ہے؟ نہیں، ترتیب کا ذکر ہے؟ نہیں، موالات پے در پے دھونے کا ذکر ہے؟ نہیں، اسی طرح مولانا! بسم اللہ کا ذکر ہے؟ تسمیہ کا ذکر ہے؟ نہیں، تو ہم کہتے ہیں کتاب اللہ میں مطلق آیا ہے اور آپ خبرِ واحد کے ذریعے اس کو کیا کر رہے ہیں؟ مقید کر رہے ہیں، تو گویا آپ کتاب... اور اس پر عمل کرنا بھی ممکن ہے، وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ کس... سمجھ میں آیا؟ وہ عمل ہو سکتا ہے بھئی، بغیر نیت کے کرو یا نیت کے ساتھ کرو جیسے مرضی، ترتیب سے کرو بغیر ترتیب کے کرو، اور پے در پے کرو یا پے در پے نہ کرو، ایک عضو خشک ہو جائے پھر دوسرا دھو لو ہمارے نزدیک پھر بھی صحیح ہے، بسم اللہ پڑھو یا نہ پڑھو دونوں ٹھیک ہیں بھئی، وضو ہو جائے گا بھئی دونوں صورتوں میں، تو ہم کہتے ہیں کتاب اللہ میں مطلق آیا اور اس مطلق پر عمل ممکن ہے، اب اگر آپ اس پر بسم اللہ کی یا موالات کی یا نیت اور ترتیب کو بڑھا دیتے ہیں تو یہ آپ نے زیادی کی کس پر؟ کتاب اللہ کے مطلق پر، تو گویا آپ نے اس کے وصفِ اطلاق کو کیا کر دیا؟ فوت کر دیا، یعنی اس کو منسوخ کر دیا، اور کتاب اللہ کے وصفِ اطلاق کو منسوخ کرنا کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد کے ساتھ جائز نہیں۔
تو پھر کیا کریں؟ کہتے ہیں بھئی! اگر بتلایا تھا اگر دونوں پر عمل ممکن ہو تو کیا کیا جائے گا؟ دونوں پر عمل کیا جائے گا، اور یہاں ممکن تھا دونوں پر عمل کرنا کہ کتاب اللہ پر بھی عمل ہو جائے اور حدیث پر بھی، کس طرح؟ کہ جو چیز کتاب اللہ سے ثابت ہوئی ہے وہ فرض ہے، اور جو حدیث سے ثابت ہوئی ہے وہ سنت ہے، تو نیت کرنا سنت ہو گئی، ترتیب سے کرنا سنت ہو گئی، پے در پے کرنا سنت ہو گئی، بسم اللہ کا پڑھنا سنت ہو گئی بھئی، ٹھیک ہے۔ فرائض وہی چار، اور یہ باقی چیزیں کیا ہو گئیں؟ سنت ہو گئیں، تو دیکھو کتاب اللہ پر بھی عمل ہوا اور حدیث پر بھی عمل ہوا، اور کتاب اللہ کا وصفِ اطلاق بھی اپنی جگہ پر باقی ہے کہ فرض یہی چار ہیں، صرف ان چار کو بھی کر لو تو کیا ہو جائے گا؟ وضو ہو جائے گا، البتہ ہاں، پھر باقی سنتیں چھوٹ جائیں گی، لیکن وضو کم از کم فرض ادا ہو جائے گا، وضو ہو جائے گا بھئی۔
مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟
اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اشکال یہ ہے کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ المطلق یجری علیٰ اطلاقہ، مطلق جاری ہوگا کس پر؟ وصفِ اطلاق پر، اور یہ تو زیادی پھر بھی آپ نے کہا نیت، ترتیب، موالات اور تسمیہ سنت ہیں، تو زیادی آئی یا نہیں آئی؟ زیادی تو پھر بھی آئی، چاہے سنت کی صورت میں کیوں نہیں ہے، زیادی ہے یا نہیں؟ تو یہ تعبیر کتاب میں جو کی گئی، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتہً واسعۃً، وہ فرماتے ہیں: یوں نہ کہو کہ مطلق پر خبرِ واحد کے ساتھ یا قیاس کے ساتھ زیادی کرنا جائز...
نہیں یوں نہ کہو
یوں کہو۔ ذرا الفاظ بدل لو۔ پھر تعبیر بہترین ہو جائے گی۔
کہ مطلق پر خبرِ واحد کے ساتھ فرض اور شرط کے طور پر زیادتی جائز نہیں، سنت اور واجب کے طور پر زیادتی جائز ہے۔
کیا فرمایا؟
کہ مطلق پر فرض اور شرط کے طور پر زیادتی جائز نہیں، اور سنت اور واجب کے طور پر زیادتی جائز ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو زیادتی تو ابھی بھی ہو رہی ہے، لیکن سنت کے طور پر ہو رہی ہے۔ تو سنت کے طور پر کسی چیز کو زیادہ کر دو، بڑھا دو، ٹھیک ہے۔ واجب کے طور پر بڑھا دو، بڑھا دو بھئی۔ لیکن فرض کے طور پر نہیں بڑھا سکتے۔ کتاب اللہ سے تو کیا ثابت ہو رہا ہے؟ تو ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ برقرار رہے گا، مولانا، سمجھ میں آیا؟
ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ برقرار رہے گا۔
مثالہٗ فی قَولِہٖ تَعَالٰی، اس مطلق کی مثال مولانا اللہ کے اس قول میں ہے: فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ، تم دھو اپنے چہروں کو۔ فَالمَأمُوْرُ بِہِ ہُوَ الغَسْلُ عَلَی الإِطْلَاقِ، مامور بہ جس کا حکم دیا گیا ہے، کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ ہُوَ الغَسْلُ، وہ کیا ہے؟ دھونا ہے، عَلَی الإِطْلَاقِ، کس طور پر؟ مطلق طور پر۔ مطلق طور پر صرف دھونا فرض ہے۔ فَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ شَرْطُ النِّيَّۃِ، لہذا اس پر زیادہ نہیں کی جائے گی نیت کی شرط، وَالتَّرْتِیْبِ وَالْمُوَالَاتِ وَالتَّسْمِیَةِ، اور ترتیب کی شرط، اور موالات کی شرط، اور تسمیہ کی شرط، بِالْخَبَرِ، کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد کے ساتھ۔ وَلٰكِنْ يُّعْمَلُ بِالْخَبَرِ، لیکن عمل کیا جائے گا خبر پر، عَلٰی وَجْہٍ، ایسے طریقے پر، لَا يَتَغَیَّرُ بِہٖ حُكْمُ الْكِتَابِ، کہ اس سے بدلے نہ کتاب اللہ کا حکم۔
اب کتاب اللہ کا حکم بھی برقرار۔ ہم نے کیا کہا؟ جو کتاب سے ثابت وہ کیا ہیں؟ فرض۔ فرض نہیں بڑھا سکتے۔ شرط اس پر کوئی آپ بڑھا نہیں سکتے۔ ہاں واجب کے طور پر کوئی چیز بڑھا دیں، وہ فرض اور یہ کیا؟ واجب۔ یا وہ سنت کے طور پر بڑھا دیں، وہ فرض اور یہ کیا؟ سنت۔ یہ کر سکتے ہیں بھئی۔
فَيُقَالُ اَلْغَسْلُ الْمُطْلَقُ فَرْضٌ، پس کہا جائے گا غسلِ مطلق فرض ہے، بِحُكْمِ الْكِتَابِ، کس کے حکم سے؟ کتاب اللہ کے حکم سے۔ وَالنِّيَّۃُ سُنَّةٌ بِحُكْمِ الْخَبَرِ، اور نیت کیا ہے؟ سنت ہے، کس کے حکم سے؟ خبر کے حکم سے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھی طرح؟
تو دیکھو، یہاں چار باتیں۔ خلاصۂ کلام یہ، سب سے پہلے ایک اعتراض ذکر ہوا کہ مطلق، مقید کو یہاں کیوں لائے؟ میں نے کیا بتلایا؟ کیونکہ یہ خاص کی قسمیں ہیں، تو لہذا خاص کے بعد ان کو ذکر کیا، مشترک، مؤول کو ذکر نہیں کیا۔ اور ان کے ابحاث کثیر ہیں، مولانا، مستقل مباحث ہیں ان کے، اس لیے ان کو الگ فصل میں ذکر کیا۔ پھر اس کے بعد مطلق کی تعریف میں نے ذکر کی۔ مطلق کسے کہتے ہیں؟ جس میں صرف ذات ملحوظ ہو اور اوصاف ملحوظ نہ ہوں، جو صرف ذات پر دلالت کرے۔ اور پھر میں نے مقید کی تعریف کی کہ مقید کس کو کہتے ہیں؟ جس میں ذات کے ساتھ ساتھ اوصاف بھی ملحوظ ہوں، مولانا۔ پھر اس کے بعد مطلق کا حکم بیان ہوا کہ مطلق کے وصف پر جب تک وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا ممکن ہو، اس کو مقید نہیں کیا جائے گا، کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ۔ اور پھر اس کی مثال ذکر کی: فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ، یہ پوری آیت جو ہے، اس کے اندر صرف دھونے اور مسح کے بارے میں آیا ہے۔ تو یہ مطلق ہے، مولانا۔ دھونے اور مسح کے بارے میں کیا ہے؟ مطلق ہے۔ لہذا اس پر کس چیز کو زیادہ نہیں کیا جائے گا؟ نیت، ترتیب، جو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، وہ کہتے ہیں یہ تینوں بھی فرض ہیں۔ اور امام مالک رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ موالات بھی فرض ہے۔ اور امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ تسمیہ بھی فرض ہے۔ تو ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ چیزیں خبرِ واحد سے ثابت ہیں، لہذا ایک ہاں ایسی صورت ہے دونوں پہ عمل ہو سکتا ہے۔ جو کتاب سے ثابت ہے وہ کیا ہے؟ فرض، اور جو حدیث سے ثابت ہے وہ کیا ہے؟ سنت۔ تو کتاب اللہ کا وصفِ اطلاق ابھی بھی اپنی جگہ باقی۔ وہاں مطلق دھونے کا ذکر تھا اور مسح کا ذکر تھا، تو فرض بھی مطلق دھونا اور مسح کرنا ہے۔ اور جو حدیث سے ثابت ہوا وہ کیا ہے؟ سنت۔
اس پہ اشکال آپ کے ذہن میں آیا، بھئی زیادتی تو پھر بھی ہو گئی۔ تو میں نے بتلایا علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ بھئی صرف تعبیر تھوڑی سی بدل لو، بات وہی ہے جو ذکر کی ہے صاحبِ کتاب نے، لیکن تعبیر بدل لو۔ کیسے بدل لو؟ صاحبِ کتاب نے کہا کہ خبرِ واحد اور قیاس سے زیادتی جائز ہی نہیں۔ آپ یوں نہ کہو، آپ یوں کہو کہ بطورِ فرض اور بطورِ شرط کے زیادتی جائز نہیں، لیکن بطورِ واجب اور بطورِ سنت کے زیادتی جائز ہے۔ لیکن واجب اور سنت کا درجہ تو فرض سے کم ہے، مولانا۔ تو یہ بھی گویا اسی طرح ہے کہ گویا ہم نے زیادتی نہیں کی۔ وہ اطلاق اپنی جگہ پر باقی ہے، مولانا۔ اطلاق، فرضیت اپنی جگہ پر باقی ہے، وہی چار چیزیں فرض ہیں۔ خلاصۂ بحث آ گیا سمجھ میں بھئی؟
دیکھیے بھئی، آگے ایک اور مثال: وَكَذٰلِكَ قُلْنَا فِيْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی، اسی طرح ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں بھئی: اَلزَّانِیَةُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، زنا کرنے والا مرد، زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد بھئی، فَاجْلِدُوْا، پس کوڑے لگاؤ، كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا، ان میں سے ہر ایک کو، کتنے کوڑے؟ مِائَةَ جَلْدَةٍ، سو کوڑے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے، سنا ہے فقہ میں آپ نے کہ اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہوں تو ان کو رجم کیا جائے گا۔ اور اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو پھر کیا کیا جائے گا؟ سو سو کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کوڑے لگائے جائیں گے۔ کوڑے لگائے جائیں گے۔
اچھا، تو یہاں پر مولانا کتاب اللہ میں مطلق کوڑے لگانے کا ذکر ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک حدیث آتی ہے، مولانا۔ امام شافعی رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ سو کوڑے بھی لگائیں گے، ایک سال کے لیے جلا وطن بھی کریں گے۔ کیا کریں گے ایک سال کے لیے؟ ان کے اپنے شہر، وطن سے نکال دیا جائے گا ایک سال تک، یہاں تم نہیں آ سکتے بھئی۔ یہ بھی سزا کا حصہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ حد کا حصہ ہے۔ یاد رکھو، مولانا سزائیں دو قسم پر ہیں۔ ایک ہوتی ہے حد، ایک ہوتی ہے تعزیر۔ حد وہ ہوتی ہے جو من جانب اللہ مقرر ہو، کسی انسان کو اس میں تبدیلی کرنے کا حق نہیں۔ جیسے یہ سو کوڑے، یہ کس کی جانب سے مقرر ہیں؟ اللہ کی جانب سے۔ جیسے رجم کرنا، یہ کس کی جانب سے مقرر ہے؟ اللہ کی طرف سے۔ جیسے چور کا ہاتھ کاٹنا، یہ کس کی طرف سے مقرر ہے؟ اللہ کی طرف سے۔ کسی قاضی کو حق نہیں ہے کہ وہ اس کے اندر تبدیلی کرے، سمجھ میں آیا؟ قاضی کے پاس مسئلہ پہنچ گیا، ثابت ہو گیا، اب ہزارہا سفارشیں آ جائیں، نہیں مولانا، مسئلے کو بدلا نہیں جا سکتا، کیونکہ یہ سزا کس کی طرف سے مقرر ہے؟ اللہ کی طرف سے مقرر ہے، سمجھ میں آیا؟ تو جو سزا اللہ کی طرف سے مقرر ہو، وہ حد کہلاتی ہے، اور کل حدود چھ ہیں بھئی، جیسے آپ نے فقہ میں پڑھا ہو گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فقہ میں یہ ڈاکو کی حد ہے، یہ سمجھ میں آیا؟ اسی طرح شراب کی حد ہے، وغیرہ۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔
اور دوسری سزا تعزیر کہلاتی ہے، جو اللہ کی طرف، شریعت کی طرف سے مقرر نہیں۔ اور کوئی جرم کر لیتا ہے، ان کی قاضی تعزیر دے گا، سزا مولانا۔ اپنی طرف سے جو بھی مناسب سمجھے، وہ سزا دے دے گا۔ سو کوڑے، 30 کوڑے، 40 کوڑے، 50 کوڑے، جتنی دینا چاہے دے سکتا ہے، لیکن حد سے کم ہونی چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ، تو کم سے کم حد ہے 80 کوڑے، تو قاضی بھی زیادہ سے زیادہ تعزیر 79 کوڑے تک دے سکتا ہے۔ حد سے کیا ہونی چاہیے تعزیر تھوڑی سی؟ کم ہونی چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، اس تعزیر میں قاضی کو گنجائش ہے، کمی بیشی کر سکتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جتنی دینا چاہے دے سکتا ہے۔ لیکن حد کے اندر کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ کوئی شخص نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ کس کی جانب سے مقرر ہے؟ اللہ کی جانب سے۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر شادی شدہ اگر زنا کریں بھئی، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ سو کوڑے بھی اور ایک سال کے لیے جلا وطنی بھی کیا جائے گا۔ دلیل کیا ہے؟ دلیل حدیث ہے، دیکھیے ایک دو سطروں کے بعد آ رہی ہے: قَالَ، حضور علیہ السلام نے فرمایا: اَلْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ، یعنی عُقُوْبَةُ زِنَا الْبِكْرِ، مضاف یہاں محذوف ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ عُقُوْبَةُ زِنَا الْبِكْرِ بِالْبِكْرِ، بكر غیر شادی شدہ، غیر شادی شدہ کے زنا کس کے ساتھ؟ غیر شادی شدہ کے ساتھ، اس کی سزا کیا ہے؟ جَلْدُ مِائَةٍ، یہ کتنی ہے مولانا؟ سو کوڑے ہیں، وَتَغْرِيْبُ عَامٍ، اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ تغریب کہتے ہیں جلا وطنی کو۔
تو اَلْبِكْرُ بِالْبِكْرِ اصل عبارت کس طرح ہے مولانا؟ عُقُوْبَةُ زِنَا الْبِكْرِ بِالْبِكْرِ۔ اور بكر کس کو کہتے ہیں؟ غیر شادی شدہ، چاہے مرد ہو چاہے عورت۔ اس کی سزا، اس کے اس کے زنا کی سزا کیا ہے؟ سو کوڑے ہیں اور تو کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا، حدیث میں آیا، جلا وطنی کا بھی ذکر ہے۔ معلوم ہوا جلا وطن بھی کیا جائے گا، یہ حد کا حصہ ہے۔ یہ جلا وطن کرنا کیا ہے؟ حد کا حصہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا، یہ سزا دی جائیں گی اسی طرح بھئی۔
ہم کہتے ہیں نہیں، کتاب اللہ میں مطلق آیا ہے: فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، ہر ایک کو کتنے کوڑے لگا دو؟ سو کوڑے لگاؤ۔ وہاں تغریب کا ذکر ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا حد صرف سو کوڑے لگانا ہے۔ یہ جو تغریب ہے، اگر ہم اس کی بھی لگا دیں مولانا قید، تو پھر تو کتاب اللہ کے مطلق کو کیا کرنا لازم آئے گا؟ مقید کرنا لازم آئے گا، کس کے ساتھ؟ تغریب کے ساتھ۔ تو اس کا وصفِ اطلاق کیا ہو جائے گا؟ فوت ہو جائے گا۔ اور کتاب اللہ کے مطلق کو خبرِ واحد کے ساتھ مقید کرنا جائز نہیں، کیونکہ اَلْمُطْلَقُ يَجْرِيْ عَلٰی إِطْلَاقِہٖ، یہ قانون یاد کرو، اَلْمُطْلَقُ يَجْرِيْ عَلٰی إِطْلَاقِہٖ، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا بھئی۔
ہاں، ہم یوں کرتے ہیں ایسی صورت نکالتے ہیں کہ دونوں پہ عمل ہو جائے۔ کس طرح؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو ایک سال کی جلا وطنی ہے، یہ تعزیر ہے، اور جو حدیث میں، اور سو کوڑے یہ حد ہے۔ یہ کیا ہے؟ حد ہے۔ اور تعزیر جو جلا وطنی، اور جو تغریب کا ذکر ہے، یہ کیا ہے؟ تعزیر ہے۔ قاضی اگر دیکھتا ہے کہ اگر میں نے سو، سو کوڑے تو اس نے لگوانے ہی لگوانے ہیں، حد یہ ہے۔ لیکن اگر وہ دیکھتا ہے کہ سو کوڑوں سے بات نہیں بنتی بھئی، یہ لوگ باز آنے والے زنا سے نہیں، سو کوڑے کھا کر بھی یہ زنا سے باز نہیں آئیں گے، لوگوں کو عبرت نہیں ہو گی، تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ تعزیر کے طور پر ایک سال کی جلا وطنی بھی کر سکتا ہے۔ اس کی اس کو شرعاً اجازت ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو، اب دونوں پہ عمل ہوا۔ تو اب یہ قاضی کی مرضی ہے، ایک سال کی جلا وطنی کرے اس کی یا جلا وطنی نہ کرے۔ لیکن وہ جو سو کوڑے، تو حد کتنی ہے صرف؟ سو کوڑے۔ اور تعزیر حد کا حصہ ہے؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرما رہے تھے؟ وہ حد کا حصہ ہے۔ ہم کہتے ہیں حصہ نہیں۔
سمجھ میں آیا؟ مصلحت قاضی اس میں سمجھتا ہے کہ اگر میں نے جلا وطن نہ کیا تو لوگوں کو کوئی عبرت نہیں ہو گی۔ تو بطورِ سیاست کے وہ ایک سال کی جلا وطنی کی سزا بھی دے سکتا ہے، دے سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو تعزیر میں گنجائش قاضی کو ہوتی ہے، جو بھی سزا، تعزیر میں قتل کرنا بھی جائز ہے، مولانا۔ قاضی دیکھتا ہے شہر میں ملاوٹ بہت زیادہ ہو گئی، لوگ مان ہی نہیں رہے۔ کوڑے لگتے ہیں، کسی کو عبرت ہی نہیں ہوتی، تو قاضی دو چار کو لٹکا بھی سکتا ہے، مولانا۔ تاکہ سب کو عبرت ہو جائے، باز آ جائیں۔ اور کوئی ایسا جرم ہے، مولانا، لوگ باز نہیں آتے، تو قاضی کیا کر سکتا ہے؟ ذرا سخت سزا بھی مطلب دے سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تاکہ لوگوں کو عبرت ہو جائے، لوگ ٹھیک ہو جائیں۔
جی؟
نہیں، نہیں، دے سکتا ہے بھئی، دے سکتا ہے بھئی۔ فساد بہت بڑھ گیا ہے، کوئی ملاوٹ سے باز نہیں آ رہا، مولانا۔ ایک کو لٹکا دو ادھر بھئی، انارکلی میں لٹکا دو۔ ایک کو ادھر دوسری طرف لٹکا دو، مولانا، دوسرے کنارے والے، وہ بھی دیکھیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ایسی عبرت ہو جائے گی، انشاء اللہ، لاہور والے باز نہیں آتے، مولانا، برائیوں سے باز نہیں آتے۔ انشاء اللہ، آپ کی حکومت آئے، ایک دو چار کو لٹکا دیں، مولانا، ان جرائم پر۔ لوگ پیسے دبا لیتے ہیں، دوسرے کے دیتے ہی نہیں ہیں۔ عجیب عجیب جرائم ہیں، انسان حیران ہوتا ہے۔ تو ذرا عبرت ناک قسم کی کوئی، ایک دو چار کو سزائیں ذرا دے دو، مولانا۔ ملاوٹ کر رہا ہے بار بار بھئی۔ ملاوٹ سے تو کتنا فساد، ہر چیز میں خرابی آئے گی بھئی۔ تو ایک آدھ کو آپ لٹکا دیں، دو کو لٹکا دیں۔ انشاء اللہ آپ کو قاضی بنائیں گے، مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ انشاء اللہ۔ تو یہ آپ یاد رکھیں، یہ بحث بھئی۔
انشاء اللہ، ایسے ٹھیک ہو جائیں گے، ایسے ٹھیک ہو جائیں گے، مدتوں تک خیال بھی نہیں آئے گا کہ ملاوٹ کرنی ہے بھئی۔ طالبان نے شرعی حدود نافذ کی تھیں، مولانا۔ شرعی حدود۔ وہاں کے رہنے والے خود واقعات سناتے ہیں، ایسے ایسے واقعات انسان حیران رہ جاتا ہے۔ حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے، یہ کیسی بات ہے۔
افغانستان ایسا علاقہ تھا کہ جس میں آپ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک بخیریت دن میں بھی جانا مشکل ہوتا تھا، نہیں جا سکتے تھے آپ۔ جس کے پاس اسلحہ ہے، جہاں مرضی آپ کو کھڑا کر کے لوٹ لے۔ یہ حالت تھی، مولانا، یہ حالت تھی۔ آپ ہوٹل میں بیٹھے، مثلاً چائے پی رہے ہیں۔ ایک آدمی بڑے اطمینان سے آئے گا، کلاشنکوف لٹکائی ہوئی ہے۔ آپ کے پاس میز پر آ کر بیٹھ جائے گا، کرسی پر۔ اور آپ کو کہے گا: بھئی یہ اپنی گھڑی مجھے دے دو۔ بڑے اطمینان سے کہے گا۔ آپ کہیں گے، اسلحہ اس کے پاس ہے۔ آپ اس کو کہتے ہیں: بھئی مجھ سے نہ لو مال، میں غریب آدمی ہوں۔ وہ فوراً بندوق اتارتا اور اس کو وہی گولی مار دیتا۔ وہ کہتا: بھئی معاف کر دو، غلطی ہو گئی، بندوق مارنے لگا ہے۔ لو بھئی، سب کچھ لے لو، مارو تو نہ مجھے۔ وہ کہتا: نہیں، تو نے انکار کیوں کیا پہلی دفعہ؟ ایک سیکنڈ کے لیے بھی تو نے انکار کیا، تیری جرات کیسے ہوئی میرے سامنے انکار کرے؟ ختم کر دیتا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، مولانا۔
لیکن پھر جب اسلامی حدود آئیں، مولانا، اسلامی حدود آئیں، مولانا، اسلامی سزائیں آئیں، مولانا۔ جرمنی اور فرانس والے طالبان کو اپنے علاقے میں لے کر گئے، ان سے باقاعدہ میٹنگ کی اور پوچھا کہ کیا بات ہے، یہ آپ کے علاقے میں اتنا امن کیسے ہے؟ پوری دنیا میں اتنا امن نہیں ہے جتنا امن آپ کے علاقے میں ہے بھئی۔ ہمارے پاس جدید ترین ہیلی کاپٹر ہیں، جدید ترین پولیس ہے، اس کے ہم ٹریننگ دیتے ہیں، فلاں کرتے ہیں، اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، گاڑیاں دیتے ہیں اور اسلحہ دیتے ہیں، سب کچھ کرتے ہیں، وائرلیس ہیں، کمپیوٹر ہیں، لیکن ہم جرائم پر نہیں قابو پا سکتے بھئی۔ تو وہ کہتے: بھئی ہمارا کمال نہیں ہے، یہ شریعت کا کمال ہے۔ ہمارا کیا کمال ہے؟ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، گاڑیاں بھی نہیں ہیں، کچھ بھی نہیں ہے، لیکن شریعت کا کمال ہے۔ کوئی بھی شخص، اسے پتہ ہے کہ مجھے سزا ضرور ملنی ہے اگر میں نے جرم کیا بھئی۔ ایسا باز آ جاتا کہ پھر جرم کا سوچتا بھی نہیں تھا۔
وہ افغانستان جہاں آپ ایک کلو میٹر کا سفر سکون سے، پتہ نہیں ہے میں زندہ نکلوں گا اس علاقے سے یا زندہ نہیں نکلوں گا، چند کلو میٹر چلنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ جب شریعت آئی، مولانا، اتنا امن، اتنا امن۔ عورت تو دن کو بھی نہیں نکل سکتی تھی بھئی۔ لیکن اتنا امن ہو گیا، خود وہاں کے بڑے بڑے امیر المؤمنین وغیرہ اور ان لوگوں اور گورنر جو ہیں، مولانا، راتوں کو چکر لگا رہے ہیں۔ خبردار، کہیں کوئی خلافِ شریعت بات نظر آئے، وہیں پر سزا دیتے تھے۔ راتوں کو، مولانا، ایک دیہات سے تنہا عورت نکلتی تھی، دوسرے دیہات تک جاتی تھی، ایک کلو میٹر، دو کلو میٹر، تین کلو میٹر تک۔ کسی کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ اس کی طرف میلی نظر سے آنکھ اٹھا کر دیکھ لے، مولانا۔
قندھار کے گورنر لکھتے تھے، مولانا، اخباروں میں بھی آیا کہ وہ چکر لگا رہے تھے، دیکھا رات کا وقت ہے، ایک عورت جا رہی ہے، سر پہ اس نے گٹھڑی اٹھائی ہوئی ہے، ایک دیہات سے دوسرے دیہات کی طرف تنہا جا رہی ہے۔ گورنرِ قندھار کہتے ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا اس طرح اکیلے رات کو جاتے ہوئے، میں نے گاڑی روکی ایک طرف اور میں سجدے میں گر گیا کہ اے اللہ، شکر ہے تو نے ہمیں اتنی توفیق عطا فرما دی کہ آج وہ وقت تھا کہ دن کو بھی عورت نہیں نکل سکتی تھی، آج یہ وقت ہے کہ رات کی تاریکی میں اکیلی جا رہی ہے اور اس کو کسی کا خوف نہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ شریعت کے۔ فرانس اور جرمنی وغیرہ والوں نے باقاعدہ بلا کر لے کر جاتے تھے، مولانا، کہ آپ ہمیں بتائیں، یہ کیسے امن آیا آپ کے علاقے میں؟ شریعت کی سزاؤں سے، مولانا، ایسا امن آتا ہے، ایسا امن کہ انسان سوچ نہیں سکتا۔
وہاں کے خود بتاتے ہیں رہنے والے، کہتے ہیں ایک، بعض نے بتایا، کہتے ہیں ہمارے علاقے میں ایک ڈاکو تھا بڑا زبردست، مشہور ڈاکو تھا بھئی۔ کسی کے پاس مال ہوتا، وہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہ وہاں سے نکل جائے بھئی۔ اس کی پوری پارٹی ہوتی، ہر ایک سے لوٹ مار کرتے، سب کچھ لوٹ کے لے جاتے۔ بعد میں جب طالبان کا زمانہ آیا، ایک شخص کہتا ہے: میں نے خود دیکھا اس
ڈاکو کو، ایک شخص بڑا مال لے کر جا رہا تھا، ڈاکو دور ایک طرف کھڑا ہوا ہے اور کسی سے بات کرتے ہوئے یا غالباً اس مال والے کو ہی کہا: افسوس، طالبان کا زمانہ ہے ورنہ تو اس طرح آرام سے میرے علاقے سے گزر کر نہ جاتا بھئی! کہ جرات نہیں تھی اس کو، پتہ تھا اگر میں نے اب کچھ کیا تو میری خیر نہیں، میرا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹا جائے گا۔ تو چور چوری کرنے والا ہزار بار سوچتا تھا، اپنے ہاتھ کو دیکھتا تھا کہ پکڑا گیا تو میری خیر نہیں، میرا یہ ہاتھ جائے گا۔ ڈاکو ہزار بار سوچتا تھا اگر میں نے کچھ کیا تو میرا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ! عجیب بھئی عجیب!
جی! بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ کہاں سے بات چل رہی تھی؟
تو شریعت کی سزائیں تو بڑی متوسط درجے کی ہیں۔ تو قاضی ان سے بعض اوقات اگر سیاسۃً کیا کر سکتا ہے؟ ان پر زائد بھی دے سکتا ہے جب لوگ باز نہ آئیں بھئی۔
جی! تو اللہ فرماتے ہیں... ”وَكَذٰلِكَ قُلْنَا“، اسی طرح ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں: ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي“، زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد، ”فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا“، پس کوڑے لگاؤ تم ان میں سے ہر ایک کو، ”مِائَةَ جَلْدَةٍ“، سو کوڑے۔ ”إِنَّ الْكِتَابَ“، یہ ”قُلْنَا“ کا مقولہ ہے۔ ہم کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں، کیا کہتے ہیں؟ کہ ”إِنَّ الْكِتَابَ جَعَلَ“، کہ اللہ نے بنایا ہے، کتاب نے بنایا ہے سو کوڑوں کو ”حَدًّابِلِلسَّزَاءِ“، کیا بنایا ہے زنا کے لیے؟ حد بنایا ہے، ”فَلَا يُزَادُ عَلَيْهِ التَّغْرِيبُ حَدًّا“، تو اس پر تغریب، جلاوطنی کو زیادہ نہیں کیا جائے گا بطورِ حد کے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، حضور کے اس قول کی وجہ سے۔ حضور کے اس قول کی وجہ سے اب جلاوطنی کی زیادتی ہم نہیں کریں گے، حضور کے قول میں تو زیادتی آ رہی ہے بھئی دیکھیے، کیا؟ حضور نے فرمایا: ”اَلْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ“، کہ غیر شادی شدہ کے غیر شادی شدہ کے ساتھ زنا کی سزا کیا ہے؟ ”جَلْدُ مِائَةٍ“، سو کوڑے ہیں، ”وَتَغْرِيبُ عَامٍ“، اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ تو حضور کے اس قول کی وجہ سے بطورِ حد کے زیادتی نہیں کی جائے گی تغریب کی حد پر، سو کوڑوں پر۔
”بَلْ يُعْمَلُ بِالْخَبَرِ“، بلکہ عمل کیا جائے گا خبر یعنی حدیث پر، ”عَلٰى وَجْهٍ“، ایسے طریقے پر، ”كَيْ لَا يَتَغَيَّرَ بِهِ حُكْمُ الْكِتَابِ“، کہ جس سے کتاب اللہ کا حکم نہ بدلے، ”فَيَكُونُ الْجَلْدُ حَدًّا شَرْعِيًّا بِحُكْمِ الْكِتَابِ“، پس کوڑے لگانا وہ حدِ شرعی ہوگی کس کے حکم سے؟ کتاب اللہ کے حکم سے، ”وَالتَّغْرِيبُ مَشْرُوعًا“، اور تغریب کیا ہوگی؟ مشروع ہوگی، جائز ہوگی، ”سِيَاسَةً أَيْ مَصْلَحَةً“، کس کی بنا پر؟ سیاست کی بنا پر، مصلحت کی بنا پر، مراد مصلحت۔ ”بِحُكْمِ الْخَبَرِ“، کس کے حکم سے؟ خبر کے حکم سے بھئی۔
مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ دیکھو، عجیب بات ہے بھئی قرآن کی فصاحت و بلاغت! جہاں زنا کا ذکر آیا، اللہ فرماتے ہیں: ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي“، زانیہ کو مقدم کیا، زانی مرد کے ذکر کو کیا کیا؟ مؤخر۔ اور جہاں چوری کا ذکر آتا ہے، وہاں ہے: ”وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ“، وہاں سارق مرد کو مقدم کیا، سارِقہ اور چوری کرنے والی عورت کے ذکر کو مؤخر۔ کیوں؟ وجہ یہ مولانا کہ ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي“، زنا کا سبب کیا ہے؟ شہوت ہے، اور شہوت عورتوں میں زیادہ، اس لیے یہاں پر زانیہ کو مقدم کیا۔ اور وہاں سارق، سرقہ چوری کے اندر جرات چاہیے مولانا، اور جرات کس میں زیادہ؟ مرد میں زیادہ، تو ”السَّارِقُ“ وہاں سارق کو کیا کیا؟ مقدم کیا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
چلیے مولانا، هذا هو المرام واللّه اعلم بحقيقة الكلام بھئی۔ سبق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چلیے جی!