Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

أصول الشاشي · dars-019

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 20 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 128
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی، مسئلہ مختصرا ًلکھ لیجیے بس۔ مشکل مسئلہ ہے، لمبا ہے، بس اشارات لکھ لیجیے تاکہ پھر بعد میں تکرار میں آسانی ہو بھئی۔ آیت، جی، نشان لگائیے۔ اگے لکھیے صورتِ مسئلہ، پھر نشان لگائیے۔ اگے ہوگا مذاہب، مذاہب، جی۔ پھر لکھیے دلیلِ احناف، دلیلِ احناف۔ اگے لکھیے دلیلِ شوافع۔ اگے جواب از طرفِ احناف۔ اگے ہوگا اعتراضِ شوافع۔ جواب از احناف، جواب از طرفِ احناف مع اقسام، اسی کے ساتھ آئے گا جواب از احناف مع اقسامِ اضافت۔ اشکال، اگے اشکال علیٰ قولِ الاحناف، جواب از جواب از احناف، جزئی مسئلہ، جزئی مسئلہ۔ یہ مسئلہ اس ترتیب سے سمجھ میں آیا بھئی؟ سب سے پہلے آیت ذکر کریں کریں گے، اس کے بعد مولانا صورتِ مسئلہ ذکر ہوگی، اس کے بعد مولانا مذاہب بیان ہوں گے، ہمارا کیا مذہب ہے، امامِ شافعی رحمہ اللہ کا کیا مذہب ہے اور اس کے بعد احناف کی دلیل ذکر ہوگی، اس کے بعد شوافع کی دلیل ذکر ہوگی، پھر شوافع کی دلیل کا ہم جواب دیں گے، اس کے بعد شوافع کا ایک اعتراض ذکر ہوگا احناف پر اور احناف اس کا جواب دیں گے اور اسی جواب کے ضمن میں اضافت کی قسمیں بیان ہوں گی اور پھر اس کے بعد مولانا احناف کے قول پر ہونے والا ایک اشکال ذکر کیا جائے گا، پھر اس اشکال کا جواب ذکر کیا جائے گا اور پھر آخر میں کیا ہوگا ایک جزئی مسئلہ ذکر ہوگا، یہ خلاصہٴ سبق ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ جی۔ دیکھیے، سب سے پہلے آیت کا ذکر بھئی، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا، اگر تم پانی نہ پاؤ، اشارات لکھو بھئی، سارا سبق لکھنا مشکل ہے، وقت بھی تھوڑا ہے۔ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا، اگر پانی نہ پاؤ تم تو پھر کیا کرو؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی، پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ یہ آیت آئی ہے قرآن میں بھئی، یہ حکم آیا ہے کہ جب پانی نہ ملے تو کیا کر لو مولانا؟ پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ صورتِ یہ، تو یہ تو مولانا، صورتِ یہ ہے، صورتِ مسئلہ، یہ بات تو بالکل واضح ہو گئی، جب پانی نہ ملے تو کیا کیا جائے گا مولانا؟ تیمم کیا جائے گا۔ اب ایسا پانی ہمارے پاس موجود ہو جس میں کوئی پاک چیز مل جائے، مل گئی ہو اور اس کی وجہ سے اس کے تین اوصاف جو ہیں رنگ، بو، مزہ، رنگ، بو، ذائقہ، ان میں سے کوئی ایک وصف بدل گیا ہو تو کیا اس پانی کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے؟ اسی کے ساتھ وضو کیا جائے گا یا اس پانی کے ساتھ وضو کرنا جائز نہیں، اس کی موجودگی میں اس کے ہوتے ہوئے کیا کریں گے؟ تیمم کریں گے، اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ صورتِ مسئلہ کیا ہے مولانا؟ پانی نہ ہو تو پھر تو کیا کیا جائے گا؟ تیمم، لیکن اگر ایسا پانی موجود ہے جس میں کوئی پاک چیز مل گئی مثلاً زعفران مل گیا یا مولانا صابن مل گیا یا اشنان گھاس ہے وہ مل گئی، پانی کا ایک وصف تبدیل ہو گیا مولانا، تین اوصاف میں سے، کون سے تین اوصاف ہیں پانی کے؟ رنگ، بو اور ذائقہ، تو اب ایسا پانی آپ کے پاس موجود ہے جس میں ایک پاک چیز ملی ہے اور اس کا ایک وصف تبدیل ہو چکا ہے تو کیا اب اس پاک اس پانی کے ساتھ جس کا ایک وصف تبدیل ہو گیا، کیا اس کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے یا اب کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا، اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ تو مذہب، احناف کہتے ہیں اس پانی کے ساتھ وضو کرنا جائز ہے۔ اس پانی کے ہوتے ہوئے تیمم نہیں کیا جائے گا بلکہ کیا کیا جائے گا اس سے؟ وضو کیا جائے گا۔ شوافع کہتے ہیں نہیں، یا شوافع کا مذہب، وہ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس پانی سے وضو کرنا جائز نہیں بلکہ اب کیا کیا جائے گا؟ تیمم، اور تو کوئی پانی ہے نہیں تو اب کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا بھئی، تیمم کیا جائے گا۔ احناف کی دلیل مولانا، احناف کہتے ہیں کہ کتاب اللہ میں مطلق آیا ہے۔ کیا آیا ہے؟ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً، اگر تم پانی نہ پاؤ، مطلق ماء ذکر ہوا مولانا، کیا ذکر ہوا؟ مطلق ماء ذکر ہوا بھئی، مطلق ماء، مطلق ماء۔ مطلق ماء وہ ہے جس پر پانی جس کی طرف ذہن فوراً چلا جائے اور اس پر پانی کا لفظ بولا جائے بھئی، کیا لفظ بولا جائے؟ ماء کا لفظ بولا جائے، تو آیت میں مطلق ماء ذکر ہوا ہے اور یہ ماءِ زعفران بھی مطلق ماء ہے، یہ کیا ہے؟ ماء ہے مولانا، ماء الزعفران، یہ بھی کیا ہے؟ مطلق ماء ہے، اضافت کی وجہ سے اس سے لفظِ ماء ختم نہیں ہوا بلکہ ثابت ہے بھئی اور پختہ ہو گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا مطلق ماء، آیت میں تو تھا کہ جب مطلق ماء نہ پاؤ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا تو پھر کیا کرو پاک مٹی سے، اور یہ مطلق ماء تو ابھی بھی ہمارے پاس کیا ہے؟ موجود ہے اور جب مطلق ماء موجود ہو تو پھر شرط پوری نہیں، جب شرط پوری نہیں تو مشروط تیمم کی اجازت بھی نہیں، شرط تو یہ تھی پانی نہ پاؤ اور یہاں کیا ہے؟ یہاں تو پانی، مطلق ماء کیا ہے؟ پایا جا رہا ہے تو لہٰذا تیمم کرنا جائز نہیں، یہ دلیل ہوئی احناف کی۔ شوافع کی دلیل مولانا، شوافع کہتے ہیں کہ یہاں ماء سے مراد کیا ہے؟ ماءِ طاہر مراد ہے۔ بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا، ہم نے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا طہوراً جو کیا ہے؟ پاک کرنے والا ہے۔ کیا ہے؟ پاک کرنے والا ہے۔ معلوم ہوا پاک کرنے والا پانی وہ ہے جو منزل من السماء کی صفت پر ہو۔ کیا فرما رہے ہیں اللہ؟ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ، اللہ جل جلالہُ کیا فرما رہے ہیں؟ وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، آسمان سے ہم نے ایسا پانی نازل کیا جو کیا ہے؟ پاک کرنے والا ہے، تو پاک کرنے والا پانی کہتے ہیں کون سا ہوگا؟ جو کس صفت پر ہو؟ کون سا وصف ہو؟ وہ منزل من السماء کے وصف پر باقی ہو بھئی، منزل من السماء، بھئی بارش کا پانی جو نازل ہوتا ہے اس کی صفت بھئی، اس میں نہ رنگ میں کوئی تبدیلی، نہ بو میں کوئی تبدیلی اور نہ ذائقے میں تبدیلی، معلوم ہوا کہتے ہیں ماءِ طاہر، ماءِ طہور وہ ہے مولانا جس کے تین اوصاف میں سے کوئی ایک بھی نہ بدلا ہو۔ تین اوصاف میں سے، تو آیت میں آیا ہے کہ جب تم پانی نہ پاؤ یعنی پاک کرنے والا پانی نہ پاؤ تو پھر کیا کر لو؟ تیمم، تو یہاں ماء سے مراد عام پانی نہیں ہے بلکہ وہ پانی مراد ہے جو منزل من السماء کی صفت پر ہو مولانا، اور منزل من السماء یعنی بارش کا پانی، اس کی کیا صفت ہے؟ اس کے نہ رنگ میں کوئی تبدیلی، نہ ذائقے میں کوئی تبدیلی اور نہ بو میں کوئی تبدیلی ہے مولانا، اور یہ ماءِ زعفران، ماءِ صابن، ماءِ اشنان، اس میں کیا ہے؟ ایک وصف تبدیل ہو چکا تو یہ منزل من السماء کے وصف پر باقی نہیں، یہ ماء باقی نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شوافع کی دلیل سمجھ میں آئی؟ احناف جواب دیتے ہیں، وہی جواب جس کا باب چل رہا ہے مطلق کہ المطلق يجري على إطلاقه والمقيد يجري على تقييده، آیت میں فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً، ماءِ مطلق بیان ہوا ہے اور منزل من السماء کی صفت بڑھا کر آپ اس کو کیا کر رہے ہیں؟ مقید کر رہے ہیں اور مطلق کو مقید کرنا قیاس کے ساتھ جائز نہیں، قیاس کے ساتھ جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ جواب سمجھ میں آیا اعتراض، جواب جو دیا احناف نے؟ کہ آیت میں کیا ہے؟ ماءِ مطلق، اور آپ اس کو کیا کر رہے ہیں قیاس کے ذریعے؟ مقید کر رہے ہیں کہ وہ جو منزل من السماء کی صفت پر ہو اور منزل من السماء کی صفت پر کیا ہوگا؟ جس کا نہ رنگ تبدیل، نہ بو تبدیل اور نہ ذائقہ تبدیل بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ رنگ بو ذائقہ نہیں تبدیل، تو احناف یہ جواب دیتے ہیں بھئی کہ المطلق يجري على إطلاقه، یہ تو مطلق ہے مولانا، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً، جب تم ماءِ مطلق نہ پاؤ، تو المطلق يجري على إطلاقه، إطلاقه۔ اس پر شوافع اعتراض کرتے ہیں، ہم نے کیا کہا مولانا؟ ماءِ زعفران کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہے، ماءِ صابن کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہے، ماءِ اشنان کیا ہے؟ ماءِ مطلق ہے، کہتے ہیں بھئی آپ خود ہی اپنے ضابطے کو توڑ رہے ہیں۔ آپ نے کیا کہا؟ ماءِ مطلق کے ساتھ وضو کریں گے، ماءِ مطلق جب نہ پاؤ اور یہ ماءِ زعفران، ماءِ صابن وغیرہ تو ماءِ مطلق ہے ہی نہیں، یہ تو مقید ہے مولانا، زعفران کی قید کے ساتھ، صابن کی قید کے ساتھ اور کس قید کے ساتھ؟ اشنان کی قید کے ساتھ، کیونکہ مضاف الیہ قید ہوتا ہے کس کے لیے؟ مضاف کے لیے، مضاف الیہ قید ہوتا ہے مضاف کے لیے، تو یہ تو ماءِ مقید ہوا مولانا، ماءِ مطلق ہے ہی نہیں۔ تو ماءِ مطلق نہ پایا گیا، لہٰذا اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ جی تیمم، یہ پانی ہو بھی تو پھر یہ تو ماءِ مقید ہے، ماءِ مطلق تو موجود نہیں، جب ماءِ مطلق موجود نہیں تو کیا کرنا چاہیے؟ تیمم کرنا چاہیے وہ کہتے ہیں۔ یہ مقید ہے مولانا، مطلق نہیں، اور اگر یہ اگر آپ اس کو مطلق کہتے ہیں کہ ماءِ زعفران مطلق ہے، ماءِ اشنان مطلق ہے، ماءِ صابن کیا ہے؟ مطلق ہے، پھر تو ماء الورد کو بھی مطلق کہنا چاہیے، ماء الورد مولانا، عرقِ گلاب، اسی طرح ماء المرق، ماء الورد میں بھی مضاف، مضاف الیہ ہے، ماء المرق شوربے کو کہتے ہیں مولانا، شوربے سے بھی وضو جائز ہونا چاہیے بھئی کیونکہ اس پہ بھی کیا ہے؟ ماء مضاف ہے اور مرق کیا ہے؟ مضاف الیہ، جیسے ماء الزعفران میں ماء مضاف ہے اور زعفران کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو جب ماءِ زعفران سے آپ وضو جائز قرار دے رہے ہیں حالانکہ وہ مقید ہے تو ماء المرق اور ماء الورد کے ساتھ بھی وضو کو کیا قرار دینا چاہیے؟ جائز قرار دینا چاہیے۔ احناف جواب دیتے ہیں بھئی، کہ اضافت دو قسم پر ہے بھئی، ایک اضافتِ تقیید اور ایک اضافتِ تعریف، اضافت دو قسم پر ہے، ایک اضافتِ تقیید اور ایک اضافتِ تعریف، اضافتِ تقیید وہ ہے جس میں اضافت کی وجہ سے مطلق کی حقیقت ہی بدل جائے، اس کی طبیعت ہی بدل جائے، جیسے مولانا ماء جب ماء المرق ہے مولانا، تو یہاں اضافت کی وجہ سے مطلق کی حقیقت ہی بدل گئی، ماء المرق کس کو کہتے ہیں؟ شوربے کو کہتے ہیں، حقیقت بدلی یا نہیں بدلی؟ الگ چیز ہے بالکل مولانا، اسی طرح ماء الورد، اس میں بھی کیا ہے اضافت کی وجہ سے؟ حقیقت ہی بدل گئی، حقیقت بدل گئی، حقیقت ہی بدل گئی۔ اور ایک ہے اضافتِ تعریف، جو تعریف کیا؟ پہچان، یعنی جو صرف پہچان کے لیے ہوتی ہے، وضاحت کے لیے ہوتی ہے مولانا، جیسے آپ کہتے ہیں ماء البئر، کنویں کا پانی، اب کوئی مولانا حقیقت بدلی پانی کی؟ یہ صرف پہچان کے لیے ہے کہ یہ تخصیص آ گئی کہ یہ دوسرا نہر کا پانی نہیں، دریا کا پانی نہیں بلکہ کون سا پانی ہے؟ کنویں کا پانی، یا آپ کہتے ہیں ماء العين، چشمے کا پانی، کیا معنی؟ یعنی دریا کا پانی نہیں، کنویں کا پانی نہیں بلکہ ماء لے آ، پانی لے آ اور وہ اٹھا کر کیا لے آئے؟ ماء المرق لے آئے، شوربہ اٹھا کر لے آئے۔ تو کیا آپ سمجھیں گے اس نے حکم کی تعمیل کی ہے؟ نہیں بھئی، حکم کی تعمیل نہیں، معلوم ہوا یہ اضافت صرف پہچان کے لیے ہے، اس چیز کی حقیقت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ پھر اشکال ہوتا ہے مولانا، احناف پر بھئی! آپ نے کیا کہا اے احناف! آیت میں: ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً“، یہ ماء سے کیا مراد ہے؟ ماءِ مطلق۔ تو ماءِ مطلق تو شامل ہوا ماءِ طاہر کو بھی، ماءِ نجس کو بھی۔ پاک پانی، وہ بھی پانی ہے، نجس پانی، وہ بھی کیا ہے؟ پانی ہے بھئی، تھوڑی سی نجاست گر گئی ہے، ہے تو ماء، حقیقت بدلی ہے اس کی کوئی؟ وہ بھی ماء ہے، یہ بھی ماء۔ تو لہذا اگر نجس پانی موجود ہو، معلوم ہوا پھر بھی تیمم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسی سے کیا کیا جائے گا؟ بھئی، آیت میں تو آیا ماءِ مطلق جب نہ پاؤ تو پھر کیا کرو؟ تیمم کرو، اور ماءِ مطلق کا اطلاق تو کس پر ہوا؟ ماءِ طاہر کو بھی شامل ہوا یہ اور ماءِ نجس کو بھی شامل ہوا۔ وہ بھی ماء ہے مولانا، تو ماءِ نجس کے ہوتے ہوئے بھی کیا کرنا آپ کو، اے احناف! کیا کہنا چاہیے؟ کہ تیمم جائز نہیں ہے، ماءِ مطلق موجود ہے، اس سے کیا کرو؟ وضو۔ حالانکہ آپ اس وقت آپ بھی کہتے ہیں کہ اس سے وضو جائز نہیں بلکہ کیا کیا جائے گا؟ تیمم کیا جائے گا۔ تو احناف جواب دیتے ہیں بھئی کہ بھئی! آیتِ وضو کے بعد آگے مزید اللہ فرماتے ہیں: ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“، لیکن اللہ چاہتے ہیں کہ تمہیں کیا کر دیں؟ پاک کر دیں۔ ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“، اللہ چاہتے ہیں کہ آپ کو پاک کر دیں، معلوم ہوا وضو کا مقصد کیا ہے؟ پاکی کو حاصل کرنا ہے، اور یہ پاکی ماءِ طاہر سے حاصل ہو سکتی ہے لیکن ماءِ نجس سے یہ پاکی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے آیت میں ماءِ مطلق طاہر مراد ہے، ماءِ مطلق نجس مراد نہیں ہے، ماءِ مطلق نجس مراد نہیں ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا تھا؟ کہ آپ نے کہا کہ بھئی ماءِ مطلق نہ ہو تو پھر تیمم کیا جائے گا، تو ماءِ مطلق سے تو شامل ہوا ماءِ طاہر کو بھی اور ماءِ نجس کو بھی، تو نجس بھی جب پانی موجود ہے تو پھر بھی تیمم کا حکم نہیں دیا جا سکے جانا چاہیے بلکہ کیا کرنا چاہیے؟ وضو اسی سے کرنا چاہیے۔ تو احناف کیا کہتے ہیں؟ اللہ آگے خود فرما رہے ہیں، جواب دے رہے ہیں احناف بھئی: ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“، کہ اللہ کیا ارادہ کرتے ہیں بھئی یہ؟ کہ تمہیں پاک کریں، اور پاکی کس کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے؟ پاک پانی سے حاصل ہو سکتی ہے، نجس پانی سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو معلوم ہوا ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً“ میں ماءِ مطلق سے کون سا ماءِ مطلق مراد ہے؟ جو طاہر ہو، کہ ماءِ مطلق طاہر نہ پاؤ تو پھر تم کیا کر لو؟ تیمم کر لو، کیونکہ مقصد کیا ہے؟ پاکی حاصل کرنا، اور وہ ماءِ مطلق طاہر سے حاصل ہو سکتی ہے، ماءِ مطلق نجس سے نہیں ہو سکتی، لہذا وہ اس کو شامل نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ پھر اس سے ایک جزئی مسئلہ بھی معلوم ہوا مولانا، جزئی مسئلہ۔ جزئی مسئلہ: ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“، لیکن اللہ کیا ارادہ کرتے ہیں کہ تمہیں... بھئی، قرآن میں کس طرح آتا ہے؟ ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا“، جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو تو کیا کر لو؟ وضو کر لو، اپنے چہروں کو دھو لو، بھئی پورا وضو کا آگے ذکر آ رہا ہے۔ جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو تو وضو کر لو، تو ”فَاغْسِلُوا“ آیا، امر کے صیغے آ رہے ہیں معلوم ہو، اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، کسی چیز کو دوسرے پر واجب کرنے، معلوم ہوا کہ جب بھی نماز کے لیے اٹھو گے وضو کا کرنا واجب ہے، فرض ہے مولانا، آیت سے تو یہی بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ لیکن ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“ نے بتلا دیا کہ اس وضو کے فرض کرنے کا مقصد کیا ہے؟ انسان کو پاک کرنا ہے، معلوم ہوا اگر وہ پہلے سے ہی پاک ہے، پہلے سے ہی وضو میں ہے تو اب اس پر وضو کا کرنا فرض دوبارہ... مثلاً آپ نے وضو کیا، ایک نماز پڑھ لی، اب اس ایک نماز کے پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا وقت آیا، پھر وہ آیت متوجہ ہوئی: ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ“، جب تم نماز کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرو تو کیا کر لو؟ وضو کر لو، اور اب آپ ہی کیا ارادہ کر رہے ہیں؟ نماز کے لیے اٹھنے کا، لیکن آپ پاکی کی حالت میں ہیں تو اب آپ پر دوبارہ وضو کرنا واجب نہیں، کیوں واجب نہیں؟ کیونکہ وضو کا مقصد کیا تھا یا حکم دینے کا مقصد کیا تھا؟ کہ اللہ آپ کو پاک کرنا چاہتے ہیں، اور پاکی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب پہلے کوئی حدث لاحق ہو، جب حدث لاحق ہی نہیں، پاک ہیں، پاکی پہلے سے ہی حاصل ہے تو اب وضو بھی واجب نہیں مولانا، سمجھ میں آیا؟ ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ تحصیلِ حاصل، اور تحصیلِ حاصل کیا ہے؟ محال ہے کہ اس پہلے سے ہی حاصل ہے، اس کو حاصل کرنا کیا ہے؟ ایک چیز پہلے ہی حاصل ہے، پھر کیا حاصل کرنا! جزئی مسئلہ سمجھ میں آیا؟ کہ اس سے ایک جزئی مس... ”وَلٰكِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ“ سے ایک جزئی مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ اراد... کہ اس وضو کے حکم دینے کا مقصد کیا ہے؟ کہ انسان کیا ہو جائے؟ پاک ہو جائے، معلوم ہوا وضو نماز کے لیے جب اٹھنے کا ارادہ کرے گا وضو واجب ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے کیا لاحق ہو؟ حدث لاحق ہو، کیونکہ وضو کا مقصد کیا ہے؟ پاک کرنا، اور اگر کوئی شخص پہلے سے اس کو حدث لاحق ہی نہیں ہے، وضو میں کی حالت میں ہے تو اب اس صورت میں اس پر وضو کا کرنا واجب نہیں، ضروری نہیں ہے، کر لے تو مستحب ہے، بہتر ہے، لیکن ضروری نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چلیے مولانا، هذا هو المرام واللّه اعلم بحقيقة الكلام۔
123 approved lectures · 19 of 123