اچھا مولانا بحث چل رہی تھی ہماری مطلق اور مقید کی بھئی۔
میں نے بتلایا تھا مطلق کس کو کہتے ہیں جو صرف ذات پر دلالت کرے اس میں کوئی وصف ملحوظ نہ ہو، یعنی کسی وصف کے ساتھ وہ مقید نہ ہو۔ جیسے مولانا میں کہتا ہوں رجل، بھئی یہ مطلق ہے، اس کے ساتھ کوئی وصف وغیرہ کوئی قید ذکر نہیں۔ اور مقید وہ ہے جو کسی وصف کے ساتھ موصوف ہو، جو کسی قید کے ساتھ مقید ہو، مثلاً میں کہتا ہوں رجل شریف، اب یہ رجل مقید ہے کس صفت کے ساتھ؟ شریف صفت کے ساتھ۔
اور ان دونوں کا میں نے حکم بتلایا تھا مولانا کہ المطلق يجري على إطلاقه والمقيد يجري على تقييده، مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہو گا اور مقید اپنی تقیید پر جاری ہو گا۔ یعنی ہمارے نزدیک مطلق پر وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کرنا اگر ممکن ہو تو اس پر عمل وصفِ اطلاق کے ساتھ ہی کیا جائے گا، اس کو کسی قید کے ساتھ مقید نہیں کیا جائے گا۔
سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ مثلاً کتاب اللہ میں ایک چیز مطلق آئی ہے اب اگر اپ اس کو خبرِ واحد یا قیاس کے ساتھ مقید کرتے ہیں، تو کتاب اللہ میں تو مطلق تھی، آپ نے خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ اس کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا، تو گویا آپ نے اس کے وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا خبرِ واحد یا قیاس کے ساتھ۔ اور خبرِ واحد اور قیاس ظنی ہیں اور کتاب اللہ قطعی ہے، اور قطعی کو ظنی کے ساتھ منسوخ نہیں کیا جاتا۔ تو جب تک وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل ممکن ہے اس پر وصفِ اطلاق کے ساتھ عمل کیا جائے گا۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مقید کرنا جائز ہے بھئی، خبرِ واحد کے ساتھ مطلق کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس کی دو مثالیں ہم پڑھ چکے ہیں بھئی۔
آج تیسری مثال پڑھیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: وكذلك قوله تعالى: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ مطلق في مسمى الطواف بالبيت، فلا يزاد عليه شرط الوضوء بالخبر بل يعمل به على وجه لا يتغير به حكم الكتاب، بأن يكون مطلق الطواف فرضا بحكم الكتاب والوضوء واجبا بحكم الخبر، فيجبر النقصان اللازم بترك الوضوء الواجب بالدم.
بھئی کتاب اللہ کے اندر حج کے ذکر میں، حج کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ اور چاہیے کہ طواف کریں پرانے گھر کا۔ عتیق کا کیا معنیٰ؟ پرانا گھر، چونکہ یہ پہلا گھر تھا بیت اللہ زمین پر جو اللہ کے لیے بنایا گیا اس لیے اس کو بیت عتیق کہتے ہیں بھئی۔ اور اب اس بات میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا تو اتفاق ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے مولانا طوافِ زیارت کے بارے میں۔ طوافِ زیارت وہ طواف ہے جو حج میں فرض ہے مولانا، حج میں، حج کا رکن ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ طوافِ زیارت فرض ہے حج میں، اگر طوافِ زیارت نہیں کیا تو حج ہی نہیں ہو گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جیسے نماز میں مولانا رکوع، سجدہ وغیرہ کیا ہیں؟ فرض ہیں، فرض نہ ادا کیا تو نماز ہی نہ ہوئی۔ تو یہ بھی حج میں فرض ہے۔
اب اس طواف کے اندر مولانا وضو کرنے، وضو کا کیا حکم ہے؟ کیا وضو فرض ہے، وضو کے ساتھ کرنا ضروری ہے، شرط ہے اس کے لیے؟ یا وضو اس کے لیے فرض نہیں ہے مولانا؟ تو ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک وضو کرنا فرض نہیں ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو کرنا اس کے لیے فرض ہے، وضو ہونا چاہیے۔
دلیل ان کی، دلیل ان کی حدیث ہے مولانا۔ حدیث میں آتا ہے بھئی: الطواف بالبيت الصلاة۔ حدیث میں آتا ہے: الطواف بالبيت الصلاة، کہ بیت اللہ کا طواف جو ہے وہ نماز ہے۔ حدیث میں آتا ہے بیت اللہ کا طواف نماز ہے یعنی نماز کی طرح ہے، جیسے نماز، نماز کی طرح ہے۔ کہ معلوم ہوا اس سے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے نماز کے لیے وضو شرط ہے، فرض ہے، اسی طرح مولانا طواف کے لیے بھی کیا ہے؟ جیسے نماز کے لیے وضو شرط اور فرض ہے اسی طرح طواف کے لیے بھی کیا ہے وضو؟ شرط ہے اور فرض ہے مولانا، فرض۔
اور دلیل ان کی یہ خبرِ واحد ہے: الطواف بالبيت الصلاة، کہ بیت اللہ کے یہ جو طواف ہے وہ کیا ہے؟ نماز ہے، یعنی نماز کی طرح ہے۔ ہم کہتے ہیں بھئی کتاب اللہ کے اندر آیا ہے: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ کہ چاہیے کہ طواف کریں کس کا؟ پرانے گھر کا۔ یہاں مطلق طواف کا ذکر آیا مولانا، وضو کا ذکر ہے؟ نہیں۔ معلوم ہوا مطلق طواف کرنا فرض ہے، چاہے وضو کے ساتھ ہو چاہے بغیر وضو کے ہو۔ دونوں صورتوں میں طواف تو ہو گا۔
تو یہ مطلق ہے مولانا، اب اگر ہم اس پر وضو کی قید بڑھا دیں تو ہم نے کیا کر دیا مولانا؟ مطلق کے وصفِ اطلاق کو گویا کہ فوت کر دیا، منسوخ کر دیا اور اس کو ظنی کے ساتھ خبرِ واحد کے ساتھ منسوخ کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ کتاب اللہ کا حکم ہے بھئی۔
اب کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں بھئی آپ کو بتلایا تھا ہم نے کہ اگر کتاب اللہ پر عمل ہو سکے اس میں بغیر کوئی تبدیلی کیے، کتاب اللہ پر عمل ہو اور خبرِ واحد پر عمل ہو اور کتاب اللہ کے مطلق میں بغیر تبدیلی کیے تو تطبیق کی جائے گی، دونوں پر عمل کیا جائے گا۔ اور یہاں بھی تطبیق ممکن تھی، دونوں پر عمل ممکن تھا۔ کس طرح؟ کہ جو کتاب اللہ سے ثابت ہے اسے ہم نے فرض قرار دیا، یعنی یہ طواف کرنا فرض ہے مولانا۔ اور جو حدیث سے ثابت ہے اسے ہم نے واجب قرار دے دیا۔ معلوم ہوا وضو کرنا اس کے لیے کیا ہے؟ واجب ہے۔ تو دونوں اپنے اپنے مقام پر برقرار ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اور اس کے بارے میں میں نے آپ کو وہ بھی بتلایا تھا علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً کا قول بھئی۔ صاحبِ کتاب نے کیا بتلایا تھا کہ مطلق پر خبرِ واحد اور قیاس کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں، خبرِ واحد کے ساتھ اس پر مطلق پر زیادتی کرنا جائز نہیں؟ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یوں نہ کہو کہ زیادتی کرنا جائز نہیں، زیادتی تو ابھی بھی ہو رہی ہے مولانا، ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی؟ آپ نے اگرچہ واجب قرار دے دیا لیکن زیادتی تو ہو گئی یا نہیں ہو گئی اگرچہ بصورتِ واجب کی کیوں نہ ہوئی؟ کہتے ہیں تعبیر تھوڑی سی بدل لو، لفظ تھوڑے سے بدل لو، بات وہی ہے جو صاحبِ کتاب کہہ رہے ہیں لیکن لفظ تھوڑے سے یوں کہو کہ فرض اور شرط کے درجے میں زیادتی جائز نہیں، واجب اور سنت کے درجے میں زیادتی جائز ہے، اور ہم نے بھی واجب کے درجے میں زیادتی کی ہے یا سنت کے درجے میں زیادتی کی ہے، فرض اور شرط کے درجے میں نہیں کی مولانا، تو درجہ پھر بھی اس سے کم ہی رہا مولانا۔
تو کتاب اللہ میں مطلق آیا ہے اس کو ہم نے کیا قرار دیا طواف کو؟ فرض، اور چونکہ اور حدیث سے خبرِ واحد سے جو ثابت ہوا اس کو ہم نے کیا قرار دیا؟ واجب قرار دیا۔
چنانچہ جیسے مولانا نماز میں کوئی واجب چھوٹ جائے تو پھر اس کا جَبیرہ کیا ہے، اس کی تلافی کس کے ساتھ کی جاتی ہے؟ سجدہ سہو سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو فرض اگر چھوٹ جائے پھر تو وہ عبادت ہی ادا نہیں ہوتی، لیکن اگر واجب چھوٹ جائے تو پھر کیا کیا جاتا ہے اس کی تلافی کی جاتی ہے۔ تو نماز میں جیسے واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کیا جاتا ہے، حج میں اب اگر کوئی واجب چھوٹ جائے تو پھر دم دینا پڑے گا بھئی۔ دم کہتے ہیں قربانی، ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی بھئی آپ کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک جانور کی قربانی। تو اب اگر طوافِ زیارت تو فرض ہے یہ تو کرنا ہی پڑے گا اور وضو وضو واجب ہے، لیکن اگر اس کے بغیر کر لیا مولانا تو اس صورت میں پھر دم دینا پڑے گا کہ قربانی کرنا پڑے گی، ایک جانور کی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
وكذلك قوله تعالى، اور اسی طرح اللہ کا قول ہے مولانا: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ اور چاہیے کہ طواف کریں پرانے گھر کا، یہ اللہ کا یہ قول جو ہے اللہ کا مطلق، کیا ہے؟ مطلق ہے۔ في مسمى الطواف بالبيت، مسمّٰی کا معنیٰ ہے مفہوم و معنیٰ۔ مسمّٰی کیا معنیٰ؟ مفہوم اور معنیٰ۔ في مسمى الطواف بالبيت، طوافِ بیت اللہ کے مفہوم میں، طوافِ بیت اللہ کے معنیٰ میں یہ آیت کیا ہے؟ مطلق ہے۔ بھئی طواف کہتے ہیں چکر لگانا، کسی چیز کے گرد۔ تو طوافِ بیت اللہ کیا ہوا؟ بیت اللہ کے گرد؟ تو آیت میں صرف بیت اللہ کے گرد چکر لگانے کا ذکر ہے مولانا، مطلق ہے اس بارے میں، سمجھ میں آیا؟ اس میں وضو کا کوئی ذکر نہیں۔
تو یہ آیت مطلق ہے مولانا طوافِ بیت اللہ کے مفہوم کے اندر، طوافِ بیت اللہ کے معنیٰ میں، فلا يزاد عليه شرط الوضوء، لہٰذا اس پر زیادہ نہیں کی جائے گی وضو کی شرط، بالخبر، کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد کے ساتھ۔ بل يعمل به، بلکہ عمل کیا جائے گا اس خبرِ واحد پر، على وجه، ایسے طریقے پر، لا يتغير به حكم الكتاب، کہ جس سے کتاب اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی نہ ہو، بأن يكون، بنِیں صورت مولانا، مطلق الطواف فرضا، مطلقِ طواف کیا ہو گا؟ فرض ہو گا، بحكم الكتاب، کتاب اللہ کے حکم سے، والوضوء واجبا، اور وضو واجب ہو گا، بحكم الخبر، خبر کے حکم سے۔ فيجبر النقصان اللازم، پس تلافی کی جائے گی اس نقصان کی، اللازم، جو لازم آیا، بترك الوضوء، وضو کے، پس وہ نقصان جو وضو کے چھوڑنے سے لازم آیا ہے اس کی تلافی کی، آخر سے ترجمہ کرو: وہ وضو جو واجب ہے اس کے چھوڑنے سے جو نقصان لازم آیا اس کی تلافی کی جائے گی، بالدم، کس کے ساتھ؟ دم کے ساتھ بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
جی، وكذلك، یہ مولانا چوتھی مثال ہے مطلق کی، کہ جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ مطلق پر وصفِ اطلاق کے ساتھ ان کا قول ذکر، دیکھیں۔ وكذلك قوله تعالى، اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: ﴿وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ تم رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ اور یہ اللہ کا یہ قول تم رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ، مطلق، یہ کیا ہے؟ مطلق ہے، في مسمى الركوع، رکوع کے مفہوم میں بھئی۔
مسئلہ یہ ہے مولانا کہ رکوع، سجدہ وغیرہ تو فرض ہیں بھئی۔ آپ یہ تعدیلِ ارکان جو ہے وہ بھی فرض ہے یا اس کا کیا حکم ہے؟ احناف اور شوافع کا اختلاف ہے۔ تعدیلِ ارکان کہتے ہیں مولانا ارکان کو اطمینان سے ادا کرنا کہ اعضا ساکن ہو جائیں اپنی جگہ پر بھئی۔ سجدہ کر رہے ہیں آپ، تو اطمینان سے سجدہ کریں۔ سجدے سے سر اٹھائیں، جلسہ کریں، اطمینان سے جلسہ، جب سب اعضا اپنی جگہ پر پہنچ جائیں، ساکن ہو جائیں، پھر اگلا سجدہ کیا جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو کہتے ہیں اطمینان سے کرنا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا تیز تیز پڑھتے ہیں بھئی، تیزی سے مولانا تعدیل کے بغیر نماز پڑھنا صحیح نہیں بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تعدیلِ ارکان کیا ہے؟ فرض ہے۔ دلیل کیا ہے؟ دلیل ان کی حدیث ہے خبرِ واحد بھئی۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی آئے حضرت خلاد بن رافع رضی اللہ تعالیٰ، ایک دیہاتی صحابی تھے۔ حضرت خلاد بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے بھئی اور وہ مسجدِ نبوی میں انہوں نے نماز پڑھی کوئی بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ آئے، تیز تیز نماز پڑھی بھئی بغیر تعدیل کے۔ نماز سے فارغ ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، تو حضور علیہ السلام نے آ کر بیٹھے تو حضور نے حکم دیا: قم فصل فإنك لم تصل، کھڑے ہو جاؤ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی بھئی۔ پھر گئے بھئی، پھر جا کر مولانا نماز پڑھی بھئی، اسی طرح پڑھی پھر تیز تیز۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، بیٹھے۔ حضور نے پھر فرمایا: قم فصل فإنك لم تصل، کھڑے ہو جاؤ جاؤ نماز پڑھو بھئی، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔
پھر گئے مولانا، پھر نماز اسی طرح پھر ادا کر کے آ گئے۔ سادہ آدمی تھے، سمجھ میں نہیں آیا حضور کیوں فرما رہے ہیں۔ صحابہ عجیب لوگ ہیں مولانا، عجیب لوگ، انسان حیران ہو جائے۔ الحمد للہ، الحمد للہ، ہم سب کو صحابہ سے بڑی محبت ہے، آپ کو اور ہم سب کو کیا صحابہ سے؟ الحمد للہ، اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت عطا کی ہے بھئی، بہت بڑی نعمت ہے، بہت بڑی نعمت۔
تو پھر گئے، پھر اسی طرح نماز پڑھ کے آ گئے۔ پھر تیسری مرتبہ جب، پھر حضور نے فرمایا: قم فصل فإنك لم تصل، پریشان ہوئے۔ تو پھر اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے سکھلا دیجیے۔ غلطیاں انہیں اپنی سمجھ میں نہیں آئیں کہ میں نے کیا غلطی کی ہے، کس طرح میں نماز ادا کروں آپ مجھے بتلا دیجیے۔ میں تو نہیں جانتا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ طویل ہے بس حضور نے پھر نماز بتلایا انہیں بھئی، کہ جب نماز کے لیے اٹھو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قراءت نماز کی نیت باندھو، پھر قراءت وغیرہ کرو، پھر جب رکوع کرو تو اطمینان سے رکوع کرو، قومہ کرو تو اطمینان سے قومہ کرو، سجدہ کرو پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر جب اطمینان سے کر لو پھر جلسہ کرو، اطمینان سے جلسہ کرو۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اطمینان سے ادا کرنے کا حکم دیا، تعدیلِ ارکان کا حکم دیا بھئی۔ اور چونکہ انہوں نے تعدیلِ ارکان نہیں کی تھی تو حضور نے کیا فرمایا تھا: فإنك لم تصل، تو نے نماز ہی نہیں پڑھی، حضور نے نماز ہی کی نفی فرما دی، معلوم ہوا تعدیلِ ارکان نماز میں فرض ہے مولانا۔ تعدیلِ ارکان کیا ہے نماز میں؟ یہ ہے دلیل امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃً، اور یہی قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی بھئی، وہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ وہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ تعدیلِ ارکان فرض ہے۔
ہم کہتے ہیں بھئی کتاب اللہ کے اندر مطلق آیا ہے، کتاب اللہ میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ اور رکوع کرو تم رکوع کرنے والوں کے ساتھ، اس سے مراد نماز ہے، رکوع سے کیا مراد ہے؟ نماز، جز بول کر کیا مراد ہے؟ کل مراد۔ تو نماز مراد۔ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ اور یہاں پر تعدیل کا کوئی ذکر ہے کہ اطمینان سے رکوع کرو؟ تو یہ مطلق ہے مولانا رکوع کے بارے میں، رکوع کے معنیٰ میں یہ آیت مطلق ہے، رکوع کا کیا معنیٰ آتا ہے؟ رکوع کا معنیٰ ہوتا ہے جھکنا۔ تو یہاں بھی صرف رکوع کا ذکر ہے جھکنے کا ذکر، یہاں تعدیل
کا کوئی ذکر نہیں، تعدیل کا ذکر نہیں۔
جب تعدیل کا، تو اب یہ مطلق ہے۔ اب اگر خبر واحد کے ذریعے اس پر تعدیلِ ارکان کی زیادی کریں گے تو پھر آپ نے گویا مطلق کے وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا۔ کس کے ساتھ؟ جو قطعی تھا اس کو منسوخ کر دیا کس کے ساتھ؟ ظنی کے ساتھ، اور قطعی کو ظنی کے ذریعے منسوخ کرنا جائز نہیں۔
لہٰذا، اب اگر تطبیق کی کوئی صورت ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا اور یہاں تطبیق ممکن تھی۔ وہ اس طرح کہ رکوع ثابت ہے کتاب اللہ سے، رکوع وغیرہ، تو ان کو کیا قرار دیں گے؟ کیا قرار دیا ہم نے؟ فرض۔
اور تعدیل ارکان ثابت ہے خبر واحد سے تو اس کو ہم نے کیا قرار دیا؟ واجب قرار دے دیا بھئی۔
سمجھ میں آیا مسئلہ بھئی؟
وکذلک قوله تعالى واركعوا مع الراكعين مطلق في مسمى الركوع، اسی طرح اللہ کا قول اور رکوع کرو تم رکوع کرنے والوں کے ساتھ، یہ مطلق ہے فی مسمى الركوع، طواف بالبیت کے مفہوم میں اور رکوع کے معنیٰ میں اور رکوع کے مفہوم میں، یعنی اس میں مطلق رکوع کا ذکر ہے یعنی جھکنے کا۔ فلا يزاد عليه شرط التعديل، تو اس پر تعدیل کی شرط نہیں بڑھائی جائے گی بحكم الخبر، خبر واحد کے حکم سے، ولكن يعمل بالخبر على وجه، لیکن عمل کیا جائے گا خبر واحد پر ایسے طریقے پر لا يتغير به حكم الكتاب، کہ اس سے کتاب اللہ کے حکم میں نہ بدلے۔ فيكون مطلق الركوع فرضا بحكم الكتاب، پس مطلق رکوع فرض ہو گا کتاب اللہ کے حکم سے، والتعديل واجبا بحكم الخبر، اور تعدیل واجب ہو گی خبر کے حکم سے۔
مسئلہ سمجھ میں آ گیا سب کو بھئی؟
سمجھ میں آیا بھئی، تعدیل ارکان بڑی ضروری ہے یاد رکھو مولانا!
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں واجب کا قول، سمجھ میں آیا؟
امام ابو حنیفہ اس بارے میں فرماتے ہیں اخشى ان لا تجوز صلاته، کہ مجھے خوف ہے کہ اس کی نماز ہی جائز، جائز نہ ہو جو تعدیل ارکان نہیں کرتا مجھے خوف ہے اس کی نماز ہی جائز نہ ہو، یعنی ہو ہی نہ بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو تعدیل ارکان اطمینان سے ادا کرنا ارکانِ نماز کو نہایت ضروری ہے مولانا، نہایت ضروری ہے، والناس عنه غافلون۔
لوگ غفلت میں ہیں اس سے بھئی بہت زیادہ۔
اس پر ایک اشکال ہوتا ہے بھئی۔
اشکال یہ کہ بھئی واجب اگر چھوٹ جائے تو نماز میں آپ کیا حکم لگاتے ہیں؟ سجدہ سہو کا۔
لیکن اے احناف عجیب بات ہے ایک شخص تعدیل ارکان نہیں کرتا آپ پھر بھی کہتے ہیں کہ اس کے لیے سجدہ سہو واجب نہیں بھئی۔
حالانکہ جو تعدیل ارکان نہ کرے اس پر کیا ضروری ہونا چاہیے بھئی؟ سجدہ سہو، آپ کہتے ہیں اس کے لیے نہیں۔ کیا وجہ؟
اشکال سمجھ میں آیا؟ جواب یہ مولانا کہ واجب دو قسم پر ہے، ایک واجب لعینہٖ ہے ایک واجب لغیرہٖ ہے۔
واجب لعینہٖ وہ ہے جس کی اپنی کوئی ذات ہو مولانا، اپنا کوئی وجود ہو، جیسے سجدہ ہے مولانا۔
سجدہ ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے۔
رکوع ہے مولانا، رکوع کی اپنی ذات ہے، ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے۔ جلسہ ہے مولانا، قومہ ہے، یہ ساری چیزیں کیا ہیں مولانا؟
ان کا اپنا وجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟
تو وہ واجب جس کا اپنا کوئی وجود ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ واجب لعینہٖ۔
جبکہ تعدیل ارکان ایسا واجب ہے جس کا اپنا کوئی وجود نہیں۔ علیحدہ، یعنی اپنا علیحدہ کوئی وجود نہیں ہے۔
اسی جلسے ہی کو آپ نے اس کو اطمینان سے کیا تو تعدیل آ گئی بھئی۔
کوئی الگ تعدیل ہے مولانا؟
جلسے کے بغیر ہو جائے، یا قومے میں ہو جائے گی؟
بائی قومہ تو ہے ایک حالت خاص، لیکن اسی قومے کو اطمینان سے کیا تو کیا کہیں گے؟ تعدیل، کوئی الگ تعدیل الگ چیز ہے؟ کوئی الگ چیز، تو یہ واجب لغیرہٖ ہوا اور سجدہ سہو واجب ہوا کرتا ہے واجب لعینہٖ کے چھوڑنے کی وجہ سے واجب لغیرہٖ کے چھوڑنے کی وجہ سے نہیں، اس کا اپنا کوئی علیحدہ وجود نہیں لہذا اس میں سجدہ سہو بھی نہیں آئے گا بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا سب کو؟
اشکال و جواب بھی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
جی، سب کو؟
چلیے مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔